Baaghi TV

Category: کشمیر

  • بھارت کا پیگاسس کے ذریعے 25 کشمیری رہنماؤں اور صحافیوں کی جاسوسی کا انکشاف

    بھارت کا پیگاسس کے ذریعے 25 کشمیری رہنماؤں اور صحافیوں کی جاسوسی کا انکشاف

    بھارت کی جانب سے اسرائیلی سافٹ ویئر پیگاسس کے ذریعے 25 کشمیری رہنماؤں اور صحافیوں کی جاسوسی کرانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی:بھارتی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ مودی سرکار نے اسرائیلی سافٹ ویئر پیگاسس کے ذریعے ان 25 کشمیری رہنماؤں کی بھی جاسوسی کی جو دہلی کی سرکاری پالیسی کو تسلیم نہیں کرتے یہ عمل 2017ء سے 2019ء تک جاری رہا اور اس عمل میں بھارت کی ایک ایسی ایجنسی ملوث تھی جو اسرائیل کے این ایس او گروپ کی خدمات حاصل کرتی ہے۔

    بھارتی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما سید علی شاہ گیلانی کے خاندان کے 4 افراد کے فونز کو ہدف بنایا گیا ان افراد میں سید علی گیلانی کے داماد، صحافی افتخار گیلانی اور ان کے سائنسدان بیٹے نسیم گیلانی بھی شامل تھے۔

    یہی نہیں بلکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کا فون بھی نشانے پر تھا اور ان کے ڈرائیور اور انسانی حقوق کے رہنما وقار بھٹی کے فون کو بھی ہدف بنایا گیا حریت پسند رہنما بلال لون اور ایس اے آر گیلانی کے فون کا بھی اسرائیلی سافٹ ویئر کے ذریعے تجزیہ کیا گیا۔

    مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی کے خاندان کے 2 افراد کے فونز کی بھی جاسوسی کی گئی یہ اقدام ایسے وقت کیا گیا جب محبوبہ مفتی مقبوضہ وادی کی وزیرِ اعلیٰ اور بی جے پی کی اتحادی تھیں۔

    ان کے علاوہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے متعدد دیگر سیاست دان ، انسانی حقوق کے کارکن ، صحافیوں اور کاروباری شخصیات بھی اس فہرست میں شامل ہیں جن کے فون کی پیگاسس کے ذریعے جاسوسی کی گئی۔

  • آزاد کشمیر انتخابات تحریر :  محمد حماد

    آزاد کشمیر انتخابات تحریر : محمد حماد


    آزاد کشمیر کی عوام ۲۵ جولائی بروز اتوار آزاد کشمیر کی گیارہویں قانون ساز اسمبلی کے ممبران کا انتخاب کرے گی۔ ان انتخابات میں ۳.۲ ملین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جن میں ۱.۷۵ ملین مرد ووٹرز جبکہ ۱.۴۶ ملین خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ ۳۲ سے زائد سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ آزاد امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں جن کے مابین کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

    وزیراعظم عمران خان، بلاول بھٹو، مریم نواز سمیت تمام جماعتوں کے مرکزی قائدین نے انتخابات میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے خود انتخابی مہم چلائی اور جلسوں سے دھواں دار خطابات کئے۔ ان جوشیلی تقریروں نے نہ صرف انتخابی ماحول کو مزید گرمایا بلکہ انتخابی وعدوں نے عوام میں ایک نئی امید کو بھی جنم دیا کہ شاید توقعات کے برعکس اس بار یہ وعدے عملی شکل بھی اختیار کریں۔

    انتخابی وعدوں کے ساتھ ساتھ تقاریر میں ایک افسوسناک چیز بھی دیکھنے میں آئی۔ ایک بار پھر مودی کے یار اور غداری کے نعرے انتخابی جلسوں کی زینت بنے۔ سرحد پار کشمیریوں کی آواز بننے اور انھیں اتحاد و اتفاق کا پیغام دینے کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے کشمیر کا سودا کرنے اور کشمیر بیچنے کے الزامات لگائے گئے جو انتہائی افسوسناک ہے۔ سیاسی قیادت کو چاہئے کہ زاتی و سیاسی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دے کیونکہ خدانخواستہ ملک کو کوئی نقصان پہنچا تو یہ سیاست بھی نہیں رہے گی۔

    بہرحال اب فیصلہ عوام کے اپنے ہاتھ میں ہے کہ وہ کن امیدواروں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ہمیں دعاگو رہنا چاہئے کہ آزاد کشمیر کے لوگ بہترین نمائندوں کا انتخاب کریں اور انتخابی جلسوں میں کئے گئے وعصے حقیقت کا روپ دھاڑیں۔


    Muhammad Hammad

    Muhammad Hammad is a writer ,blogger,freelance Journalist, influencer ,Find out more about his work on  Twitter  account 

     


  • کشمیر پر اقوام متحدہ کی خاموشی  تحریر: محمد عدیل علی خان

    کشمیر پر اقوام متحدہ کی خاموشی تحریر: محمد عدیل علی خان

    اقوام متحدہ کو چائنہ میں مسلمانوں پر ظلم نظر آتا ہے جو صرف پروپیگنڈا ہے اصل ظلم اقوام متحدہ کو نظر نہیں آتا کشمیر 700 دنوں سے کرفیو میں پڑا ہوا ہے اقوام متحدہ یہاں پر جائزہ لینے کے لئے کیوں نہیں آتا کشمیری ماؤں کی عزتیں لیلام ہو رہی ہے …وہ نظر نہیں آتا کشمیر میں بھارتی فوج نے ماؤں بیٹیوں کے ساتھ جو ظالمانہ سلوک کر رہی ہے وہ دنیا کو نظر کیوں نہیں آتا جب ان کے بیٹوں کو انکے سامنے زبح کیا جاتا ہے جب انکی بیٹیوں کی انکے سامنے عصمت دری کی جاتی ہے انکا بہت ہی گندے طریقے سے ریپ کیا جاتا ہے کہاں مر گئی اقوام متحدہ‏کشمیر میں انسانی حقوق کی وہ خلاف ورزی کی جا رہی کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے ہم پاکستانی کیا کرتے سوتے سوتے ہیش ٹیگ چلا دیتے ہیں ان کی اہمیت ہماری نظر میں اتنی ہے لیکن کشمیری پاکستان کو کس نگاح سے دیکھتے ہیں وہ میں آپ کو بتاتا ہوں…..!‏میری ملاقات اسلام آباد میں ایک کشمیری بھائی سے ہوئی میں جب ان سے ملا تو ان کے چہرے پے وہ خوشی نہیں تھی جو ایک پاکستانی کو دیکھ کر ہونی چاہئیں جب میں نے ان سے اس اداسی کا سبب پوچھا کہ بھائی آپ پاکستان میں ہے آپ کو خوش ہونا چاہیے لیکن آپ اداس ہے تو اس کشمیری بھائی نے کہا کہ‏عدیل بھائی جب پاکستان کی طرف ہجرت کا سوچتے ہیں تو ہماری مائیں ہمیں ایک ہی نصیحت کرتی ہیں بیٹا جب تم پاکستان کی سرزمین پر پہنچا پہلے سیدھا پاؤں اور پھر الٹا پاؤں رکھنا اور وہ دعا پڑھنا جو مسجد میں داخل ہوتے وقت پڑھتے ہیں اور پھر شکرانے کے نوافل ادا کرنا پاکستان کی مٹی پر‏اس نے کہا عدیل بھائی جب پاکستان میں گوما تو مجھے محسوس ہوا کہ میں ابھی بھی ہندوستان میں ہو ہر طرف ہندوستان گانے ہندوستانی سقافت ہی نظر آئی پاکستان اور ہندوستان میں مجھےکوئی فرق محسوس ہی نہیں ہوا عدیل بھائی ہم وہاں پر ہندوستان سے آزادی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور یہاں پر‏ہندوستانی کلچر ہندوستان لوگوں سے محبت..عدیل بھائی اس سے ہمیں یہ چیز سمجھ آتی کہ ہماری قربانیاں رائیگاں جائی گی پاکستان سے ہم کشمیری اتنی محبت کرتے ہیں لیکن پاکستانی اب بھی ہندوستانی کلچر کو اپنانے میں لگے ہوئے ہیں اس سے بہتر ہے کہ ہم بھی آزادی کی لڑائی لڑنا چھوڑ دیں‏یہ باتیں کر کے وہ کشمیری بھائی تو چلا گیا لیکن مجھے سوچ میں ڈال کر چلا گیا جب تک وہ کشمیری بھائی میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوا تب تک میں نے شرم سے سر نہیں اٹھایا یہ ملاقات یہی ختم ہوئی ہمیں کشمیری بھائیوں کا مسئلہ اب عالمی عدالت میں پورے پاکستان کی عوام نے اٹھانا ہے کب تک‏وزیر اعظم پاکستان اقوام متحدہ میں صرف تقریریں کرتا رہے گا اب بھی وقت ہے پاکستانیوں سنبھلنے کا…….

    Twitter.https://twitter.com/iAdeelalikhan?s=09

  • آزاد کشمیر الیکشن مہم میں وزراء کی شرکت، شیری رحمان نے اٹھائے سوال

    آزاد کشمیر الیکشن مہم میں وزراء کی شرکت، شیری رحمان نے اٹھائے سوال

    آزاد کشمیر الیکشن مہم میں وزراء کی شرکت، شیری رحمان نے اٹھائے سوال
    وفاقی وزیر کی الیکشن کمیشن کے حکم کے باوجود کشمیر انتخابات میں شرکت پرنائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے ردعمل دیا ہے

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر الیکشن کمیشن کے حکم کی دھجیاں اڑا رہے، آزاد کشمیر سے نکل جانے کے حکم کے باوجود جلسوں میں شرکت کرتے رہے، وفاقی وزیر امور کشمیر الیکشن کمیشن اور انتخابی عمل کی توہین کی، الیکشن کمیشن کے حکم کے بعد ان کو کشمیر سے نکل جانا چاہئے تھا، پابندی کے باوجود وزیر کی جلسوں میں شرکت الیکشن کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے، انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر وزیراعظم خاموش رہے، وزیراعظم نے چیف الیکشن کمیشنر کے خط کا جواب تک نہیں دیا، کیا یہ ہے نئے پاکستان میں الیکشن کا معیار؟ کشمیر الیکشن وفاقی حکومت کے لئے عام انتخابات کا ٹیسٹ کیس ہوگا، وفاقی حکومت کشمیر انتخابات کو متنازعہ بنا رہی ہے،

    دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ نے کہا ہے کہ 25جولائی کا دن کشمیر میں تیر کی فتح کا دن ہوگا،پیپلزپارٹی نے کشمیر کے حقیقی نمائندوں کو ٹکٹ دئیے،کشمیری عوام بھاری تعداد میں پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دیں گے،کشمیری عمران خان کے نئے پاکستان سے سبق حاصل کریں،پی ٹی آئی الیکشن میں خرید و فروخت کی منڈی لگاکر کشمیر کاز کو نقصان پہنچا رہی ہے

  • عید کے ایام میں بھی بھارتی فوج کے مظالم،دو کشمیری شہید

    عید کے ایام میں بھی بھارتی فوج کے مظالم،دو کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیر میں عید کے ایام میں بھارتی فوج کے مظالم جاری ہیں

    ضلع بارہمولہ کے سوپور کے وار پورہ علاقے میں بھارتی فوج نے دو کشمیری شہید کر دیئے، بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ عسکریت پسندوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات کے بعد ایس او جی سوپور سی آر پی ایف اور فوج کی 22 آر آر نے مشترکہ طور پر علاقے کا محاصرہ کیا۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انکاونٹر کے شروع ہوتے ہی علاقے میں موبائل انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ۔ جموں وکشمیر پولیس کے سرابراہ دلباغ سنگھ کے مطابق سوپور میں جاری انکاونٹر میں ایک اعلی کمانڈر سمیت ایک عسکریت پسند پھنسے ہونے کی خبر تھی۔

    بھارتی فوج نے دو کشمیریوں کو شہید کر دیا،اس حوالہ سے جموں و کشمیر پولیس کے ایک سینیئر پولیس افسر نے ساوتھ ایشین وائر کو نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ کورونا وائرس کے پیشِ نظر جموں و کشمیر میں عسکری مخالف کارروائیوں میں کمی آئی تھی۔ تاہم اب پابندیوں میں نرمی کے بعد جون مہینے کے آغاز سے ہی دوبارہ تیزی آئی ہے۔رواں برس کے پہلے پانچ مہینوں میں تقریبا 40 عسکری واقعات پیش آئے تھے ۔جون کی پہلی تاریخ سے اب تک (52 روز میں) 34 واقعات پیش آئے ہیں۔

  • کشمیر     تحریر : محمد حنظلہ شاہد

    کشمیر تحریر : محمد حنظلہ شاہد

    لفظ کشمیر سنتے ہی زہن میں غلامی کا تصّور نمایاں ہو جاتا ہے۔وادی کشمیر جو کے بہت عرصے سے غلامی کی زنجیر میں بندھی پڑی ہے۔اگر خوبصورتی کی بات کی جائے تو کہتے ہیں اگر زمین پر کوئی جنت ہے تو وہ ہے”کشمیر”مگر اس زمین کی جنت میں لوگوں کے ساتھ جہنم بھی زیادہ بدتر سلوک کیا جاتا ہے ۔کشمیر ایک متنا زعہ علاقہ ہے اس کا ایک حصہ پاکستان اور دوسرا حصہ بھارت کے قبضہ میں ہے اور باقی کچھ حصہ پاکستان نے ایک معاہدے کے تحت چینیوں کو حفاظت کے لیے دیا گیا ہے اور تھوڑا سا علاقہ گلگت بلتستان کے نام سے جانا جاتا ہے ۔تقاضا اور وقت کے فیصلے بهی کتنے انمول ہوتے ہیں نا!
    روایات اور تقاضہ اف!
    یُوں بھی کہہ سکتے ہیں کے کشمیریوں نے اپنی پوری زندگی ہی غلامی کی نظر کی ہے۔
    کبھی کبھی سکھوں کی غلامی، کبھی پٹھانوں کی غلامی،کبھی مہاجروں کی غلامی، بہرحال اس غلامی کے رواں دواں میں انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انسان مشکلات کا سامنا کر لیتا ہے مگر عزتوں کی پامالی جب کی جائے تو اس کا کفارا کوئی عمر بھر بھی نہیں پورا کر سکتا ۔خیر غلامی سے نکلنے کے لیے آزادی ضروری ہے اور آزادی کے لیے خود لڑنا پڑتا ہے،خود اٹھنا پڑتا ہے اور خود سے خود کو فتح کرنا پڑتا ہے۔
    "آزاد پنچھیو سے کوئی تو پوچھے
    آسمان پر اڑنے کا مزا کیسا ہے
    فقط اتنا ہی کہیں گے
    ایک آزاد اڑان عمر بھر کے سکون کے لیے کافی ہے۔”

  • چن شاہ کی زیرصدارت حلقہ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا

    چن شاہ کی زیرصدارت حلقہ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا

    پاکستان تحریک انصاف سٹی مظفرآباد کے صدرسید چن شاہ کی رہائش گاہ پرکارنرمیٹنگ کا انعقاد کیا گیا ہے.

    اس میٹنگ میں مہمان خصوصی نامزد امیدواراسمبلی خواجہ فاروق احمد کو سٹی میں الیکشن کے حوالے سے سٹی کہ عہدیداران نے وارڈ وائزالیکشن کمپین کے بارے میں بریف کیا گیا ہے، الیکشن کمپین کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا ہے.

    اس موقع پہ خواجہ فاروق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 25 جولائی تحریک انصاف کی جیت کا دن ہے، آزاد کشمیرمیں تحریک انصاف دو تہائی اکثریت سے حکومت بنائے گی، کارکنان اورعہدیدارعمران خان کا پیغام گھرگھر پہنچانے میں کردارادا کریں، الیکشن کمپین کو تیز کرنے کا کہا گیا ہے، الیکشن والے دن ووٹرزکو آمد و رفت کی سہولت فراہم کرنے پرغورکیا گیا ہے.

  • آزاد کشمیر انتخابات:امن و امان کیلئےمقامی پولیس، دیگرصوبوں سےسول آرمڈ فورسزاور فوج کو تعنیات کی جائے گا

    آزاد کشمیر انتخابات:امن و امان کیلئےمقامی پولیس، دیگرصوبوں سےسول آرمڈ فورسزاور فوج کو تعنیات کی جائے گا

    آزاد کشمیر کے انتخابات میں امن و امان کی صورتحال برقر رکھنے کے لیے تقریباً 43 ہزار 500 اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : میڈیا سے بات کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے چیف سیکریٹری شکیل قادر خان نے بتایا کہ آزادانہ شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابی عمل کے لیے انتظامیہ الیکشن کمیشن آزاد کمشیر کی ہدایات کے مطابق امن و امان برقر رکھنے کے علاوہ ووٹرز اور امیدواروں کو پُرامن ماحول فراہم کرنے پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔

    چیف سیکریٹری نے بتایا کہ امن و عامہ کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے آزاد کشمیر سے 5 ہزار 300 پولیس اہلکاروں، پنجاب پولیس سے 12 ہزار، خیبرپختونخوا سے 10 ہزار اور اسلام آباد پولیس سے ایک ہزار، فرنٹیئر کانسٹیبلری سے 400 جبکہ پاک فوج کے 6 سے 7 ہزار اور رینجرز کے 3 ہزار 200 اہکار طلب کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ 5 ہزار 123 پولنگ اسٹیشنز میں سے 826 کو حساس جبکہ ایک 209 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے انتہائی حساس پولنگ اسٹیشن پر 6 سیکیورٹی اہلکار، حساس پر 4 جبکہ نارمل پولنگ اسٹیشن پر 4 اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

    چیف سیکریٹری آزاد کشمیر نے بتایا کہ تمام حکومتی محکموں مثلاً کمیونکیشن اینڈ ورکس اور بجلی کو انتخابات کے سلسلے میں متعلقہ انتظامات کے لیے الرٹ رکھا گیا ہے جبکہ عید الاضحیٰ پر تمام سرکاری ملازمین کو صرف ایک روز کی چھٹی دی گئی ہے تمام پریزائیڈنگ افسران اور مجسٹریٹ کے علاوہ 250 افسران کو بھی مسجٹریٹ کے اختیارات دیے گئے ہیں تا کہ وہ موقع پر فیصلہ کرسکیں۔

    انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور انتظامی مشینری کو تمام ضروری مالی وسائل فراہم کردیےگئے ہیں سرکاری مشینری کے لیے الیکشن کمیشن کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق پر بھی مکمل طور پر عملدرآمد کیا جارہا ہے اس سلسلے میں سرکاری ملازمین کی تعیناتیوں، تبادلوں اور ترقیوں پر مکمل پابندی عائد ہے سوائے چند ضروری کیسز کے جس کے لیے کمیشن سے پیشگی اجازت لے لی گئی ہے جبکہ نئی تعیناتیوں کو بھی روک دیا گیا ہے۔

    چیف سیکرٹری کا مزید کہنا تھا کہ مرکزی اور ضلعی سطح پر معلومات وصول کرنے کے لیے کنٹرول رومز قائم کردیے گئے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ اہلکار پولنگ بوتھ میں نہیں بلکہ پولنگ اسٹیشنز کے احاطے میں تعینات کیے جائیں گے۔

  • مسئلہ کشمیر؛ دو جوہری مسلح ممالک کے مابین نیوکلیئر فلیش پوائنٹ    تحریر:  محمد بلال

    مسئلہ کشمیر؛ دو جوہری مسلح ممالک کے مابین نیوکلیئر فلیش پوائنٹ تحریر: محمد بلال

    اس حقیقت سے ہر کوئی آشنا ہے کہ جنگ عظیم اول کے بعد مزید جنگوں کے خطرات سے بچنے کیلئے اور عالمی انصاف کی فراہمی کیلئے انسانی حقوق کے سب سے پہلے ادارے لیگ آف نیشنز کا قیام عمل میں لایا گیا چونکہ یہ ادارہ اپنے مقاصد پورے کرنے میں ناکامیاب رہا اور جنگ عظیم دوم کی وجہ بنا تو اِسے ختم کردیا گیا اور جنگ عظیم دوم کے بعد اقوام متحدہ کا قیام عمل میں لایا گیاجو ابھی تک اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق اس کی سیکیورٹی کونسل کی سب سے اہم ذمہ داری عالمی امن و انصاف کو یقینی بنانا اور دنیا کو جنگوں کی ہولناکیوں سے بچانے کے لئے اقدام کرنا ہے لیکن73سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل بھارت سے اپنی منظور کردہ متعدد قراردادوں کے باوجود عالمی قوانین کی پاسداری کروانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے اور اب بھی ناکام نظر آرہی ہے اور بھارت جب چاہے کشمیر میں ظلم و ستم کی نئی داستانیں قائم کررہا ہے۔ مسئلہ کشمیر اس وقت عالمی سطح پر ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور یہ دنیا کے امن کیلئے بھی ایک شدید خطرہ ہے، اگر یہ مسئلہ جلد از جلد حل نہ کیا گیا تو دنیا ایک بہت بڑی جوہری تباہی کا سامنا کرسکتی ہے۔یہ مسئلہ گزشتہ 73 سال سے دو ایٹمی قوتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان چلا آرہا ہے، تقسیم ہند کے وقت لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور ہندوگٹھ جوڑ اس مسئلے کی بنیاد بنا، کیونکہ کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتی تھی اور کشمیر ایک مسلم اکثریتی علاقہ بھی تھا لیکن اس کا الحاق پاکستان کے ساتھ کرنے نہ دیا گیا۔ کشمیریوں کی شروع سے ہی مذہبی، ثقافتی و سماجی ہم آہنگی موجودہ پاکستان کے لوگوں سے تھی اور جغرافیائی لحاظ سے بھی موجودہ پاکستان سے منسلک تھا یہی وجہ ہے کہ تقسیم ہند کے بعد کشمیریوں کی بڑی اکثریت نے پاکستان میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ کشمیریوں کے اس رجحان کو دیکھتے ہوے بھارت نے جموں میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیا جس کے ردعمل میں قبائلی مجاہدین کشمیری مسلمانوں کی مدد کو پہنچنا شروع ہوگئے اور جب بات ڈوگرا فوج و ہندوتوا شدت پسندوں کے بس سے باہر ہوگئی تو نہرو سرکار نے بھارتی فوج کو کشمیر میں داخل کردیا جس کے نتیجے میں پاک بھارت جنگ پھوٹ پڑی جس میں بھارتیوں کی زبردست پٹائی ہوئی تو نہرو سرکار فوراً اقوام متحدہ جا پہنچی۔ اقوام متحدہ کی ثالثی پر پاکستان نے جنگ بندی کردی اور معاملہ عالمی قوانین کے تحت اقوام متحدہ پر چھوڑ دیا۔ سیکیورٹی کونسل میں بھارت کو منہ کی کھانی پڑی اور معاملہ استصواب رائے کے زریعے حل کرنے کے فارمولے کے تحت طے پایا۔ اس ضمن میں سیکیورٹی کونسل نے متعدد قراردادیں پاس کیں لیکن ہٹ دھرم بھارت مختلف ہتھکنڈوں سے ٹال مٹول کرتا رہا۔ اسی دوران بھارت نے 1954 ء میں نام نہاد الیکشن کرواکر پٹ کشمیر اسمبلی سے بھارت کے ساتھ الحاق کی منظوری لیکر اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دے دیا جس کے جواب میں UNSC نے قرارداد 122 پاس کی جس میں نام نہاد کشمیر الیکشن اور نام نہاد اسمبلی کے قانون کو مسترد کرتے ہوئے استصواب رائے کے مطابق الحاق کا فیصلہ قائم رکھا۔1998ء کے پاک بھارت ایٹمی دھماکوں کے بعد اقوام متحدہ نے قرارداد 1172 کے ذریعے دونوں ممالک پر کشیدگی ختم کرنے اور تعلقات کی بہتری کے لئے زور دیا لیکن بھارت اپنی فطرت سے باز نہ آیا وقتی دکھاوا کرکے بھارت پاکستان میں دہشتگردانہ کاروائیوں کی سرپرستی کرتا رہا جس کی زندہ مثال کلبھوشن ہے اور حالیہ دنوں ڈجی آ ایس پی آرا اور وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس میں پش کیا گیا ڈوزئیر بھی بھارتی مداخلت کے شواہد ہیں پاکستان بارہا اقوامِ عالم کو یہ باور کروا رہا ہے کہ بھارت اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے خلاف فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے جو خطہ کو جوہری تباہی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ماضی میں بھی دونوں ممالک کے مابین چار ہولناک جنگیں ہوچکی ہیں اور گزشہ سال 27 فروری 2019 کو تازہ جھڑپ میں پاکستان نے بھارت کے دو جنگی طیارے MIG-21 مار گراۓ اور ایک پائلٹ ابھینندی کو گرفتار کیا بعد ازاں خطے میں امن کی خاطر جزبہ خیر سگالی کے تحت اسے رہا کر دیا گیا یہاں یاد رہے دونوں ممالک ہی ایٹمی قوت ہیں اور ممکنہ طور پر جنگ کی صورت دونوں ایٹمی ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کرسکتی ہیں ایسے میں یہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ سات دہائیوں سے لٹکے مسئلہ کشمیر کا حل اپنی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق کرے جسےبھارت مختلف ہتھکنڈو بشمول ڈیموگرافی کی تبدیل اور حیلے بہانوں کا استعمال کرکے ستر سالوں سے گریز کررہا ہے۔بھارت نے 5اگست 2019ء کو جو اقدام کیا وہ سراسر اقوام متحدہ کی تمام تر قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور آج بھارت کے اس غیر آئینی اقدام کو 2 سال ہونے کو ہیں لیکن اقوام متحدہ کی خاموشی جوں کی توں قائم ہے۔ بھارت سرکار نے 5اگست 2019ء سے کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر کہ عالمی انسانی حقوق کے علمبرداروں کے منہ پر تمانچہ مارا ہے۔ اگر ایسے میں اقوام متحدہ نے کوئی پیشرفت نہ کی تو دونوں ممالک کے درمیان ایک ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے جس کہ نتائج نا صرف جنوبی ایشاء بلکہ پوری دنیا پر مرتکب ہونگے۔

    @Bilal_1947

  • آزاد کشمیر کے الیکشن تحریر : سعدیہ ناز

    آزاد کشمیر کے الیکشن تحریر : سعدیہ ناز

    جب بھی الیکشن کی بات ہوتی ہے تو وہاں کا موسم بڑا گرم ہو جاتا ہے جہاں الیکشن ہو رہے ہوتے ہیں،سیاسی پارہ ہائی ہو جاتا ہے۔
    ساری سیاسی پارٹیاں بڑے جوش اور جذبے سے الیکشن کے دنگل میں اترتی ہیں، کارکنان سے لے کر پارٹی رہنماؤں تک سارے ہی لوگ الیکشن مہم کی تیاریوں میں مصروف ہوتے ہیں اور اپنی تیاری مکمل کر کے میدان میں اترتے ہیں.سب سیاسی پارٹیاں اپنی جیت کے دعوے کر رہی ہوتی ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے کیوں کہ حلقہ، شہر اور صوبے کے لوگ اس پارٹی کو جتواتے ہیں جس پارٹی نے وہاں کے لوگوں کے لیے کام کیا ہوتا ہے۔ اب عوام بھی اتنی بیوقوف نہیں رہی، پہلے کام پھر ووٹ.
    25 جولائی کو آزاد کشمیر میں ہونے والے ہیں الیکشن اور ساری سیاسی جماعتوں نے آزاد کشمیر میں ڈال لیے ہیں ڈیرے۔جلسے جلوس بڑے جوش و جذبے سے ہو رہے ہیں.
    اگر ہم مسلم لیگ ن کی بات کریں تو اس کی قیادت کر رہی ہیں مریم صفدر ،دیکھا جائے تو پچھلے کچھ عرصے سے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے۔لیکن مریم صفدر کی تقریروں سے لگتا ہے جیسے وہاں کسی اور جماعت کی حکومت ہے، تقریر میں وہی پرانے نعرے بازی، وہی پرانے وعدے جو کبھی وفا ہی نہیں ہوئے۔ جہاں پر آپ کی پہلے سے حکومت ہے وہاں آپ نے پہلے ہی کچھ نہیں کیا تو اب کیا کریں گے؟ آزاد کشمیر کے وزیراعلیٰ راجہ فاروق حیدر سے ہی پوچھ لیں انہوں نے اپنے حلقہ کے لوگوں کے لیے کیا کیا ہے؟ نا تو وہاں کوئی سڑک پکی ہوئی ہے،نا کوئی ایسا ہسپتال بنایا ہے جہاں غریب عوام کا مفت علاج ہو سکے اور نا ہی لوگوں کو صاف پانی پینے کو ملتا ہے۔ اب آپ خود سوچیں وہاں لوگ کیا ایسی پارٹی کو ووٹ دیں گے جس نے حکومت میں ہوتے ہوئے کوئی کام نہیں کیا۔ سب سے بڑی چیز کشمیر کی عوام پوچھتی ہے مسلم لیگ ن نے کشمیر کا مقدمہ اقوام متحدہ میں کیوں نہیں لڑا؟ کیوں خاموش بیٹھی رہی ؟ سب سے بڑی چیز جب نریندرا مودی میاں نواز شریف کی دعوتوں میں آتا تھا تو نواز شریف نے مودی سے مسئلہ کشمیر پر کیوں بات نہیں کی؟
    میرے خیال میں کشمیر کے لوگ باشعور ہیں انہیں پتا ہے انہیں کس جماعت کو ووٹ دینا ہے۔
    اگر ہم پاکستان پیپلز پارٹی کی بات کریں تو شاید اس جماعت کو آزاد کشمیر کے الیکشن میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے کیوں کہ چیئرمین بلاول زرداری آزاد کشمیر کے الیکشن کو چھوڑ کر امریکہ گئے ہوئے ہیں اور پیپلز پارٹی کی قیادت آصفہ زرداری نے سنبھالی ہوئی ہے.آصفہ زرداری جس کے بارے میں لوگوں کو لگتا ہے جیسے دوسری بینظیر بھٹو ہو۔لیکن میرے خیال میں کشمیر کے لوگ یہ نہیں دیکھیں گے سامنے بینظیر کی بیٹی ہے یا خود بینظیر ہے بلکہ وہ تو یہ دیکھیں گے کہ سامنے والی جماعت نے ہمارے لیے کیا کیا ہے۔اور جس جماعت کا چیئرمین خود امریکہ میں بیٹھا ہو اور بہن کو سیاسی مہم کے لیے بھیج دے میرے خیال میں کشمیر کی عوام اتنی بیوقوف نہیں.
    اور اگر ہم پاکستان تحریک انصاف کو دیکھیں جس نے 2018 میں عام انتخابات جیت کر حکومت بنائی ہے اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں جس طرح وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کا مقدمہ لڑا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ۔کشمیر کے لوگوں کے لیے اس سے بڑی چیز اور کیا ہو سکتی ہے۔ آزاد کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تو نہیں ہے لیکن وہاں کے لوگوں کو صحت انصاف کارڈ دیا گیا ،وہاں کے لوگوں کو احساس ایمرجنسی کیش پروگرام میں شامل کیا گیا۔حکومتی جماعت نے باقی صوبوں کی طرح آزاد کشمیر کو بھی ہر چیز میں شامل کیا. یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن بوکھلاہٹ کا شکار ہے کبھی جیت کے دعوے کر رہی ہے تو کبھی دھاندلی کا رونا شروع ہے ابھی سے۔مسلم لیگ ن کو بھی پتا کہ آزاد کشمیر کے لوگ بھی تبدیلی چاہتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے لوگ مسلم لیگ ن کی غلامی سے نجات چاہتے ہیں۔
    بہرحال کوئی بھی جیتے لیکن الیکشن کمیشن کو یہ یقین دہانی کرانی چاہیے کہ آزاد کشمیر کی الیکشن شفاف ہو ۔
    میرا تو ساری سیاسی جماعتوں کو مشورہ ہے کہ کوئی بھی جیتے کوئی بھی ہارے آپ لوگوں نے الیکشن کمیشن کے نتائج کو تسلیم کرنا ہے۔جیتنے اور ہارنے والا ایک دوسرے کو گلے لگا کر ایک اچھے سیاستدان اور اچھے پاکستانی شہری ہونے کا ثبوت دے۔کیوں کہ کوئی بھی جیتے آخرکار ہم ہیں تو سب ہی پاکستانی.
    @sadianaz123