Baaghi TV

Category: کشمیر

  • بھارتی یوم آزادی پر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ

    بھارتی یوم آزادی پر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ

    بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر وادی میں یومِ سیاہ منایا جا رہا ہے۔ کشمیریوں کی کُل جماعتی حریت کانفرنس کی کال پر وادی بھر میں مکمل ہڑتال کی گئی ہے، جس کے باعث کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر بند ہیں۔ کشمیری عوام نے بھارتی تسلط کے خلاف اپنی یکجہتی اور احتجاج کے طور پر یہ دن منایا ہے۔

    دوسری جانب، مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی بھاری نفری کے باوجود، عوام نے یومِ آزادی پاکستان پر دلی مبارکباد دی ہے۔ وادی کے مختلف علاقوں میں پاکستانی پرچم اور یومِ آزادی کی خوشیاں منانے والے پوسٹرز نظر آئے، جن پر قائدِاعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تصاویر آویزاں کی گئیں۔مزید برآں، کئی مقامات پر یومِ تشکر کے پوسٹرز بھی لگائے گئے، جن پر آپریشن بنیان مرصوص کا ذکر بھی شامل تھا، جو کشمیری آزادی کی جدوجہد کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ آپریشن بھارتی فورسز کے خلاف کشمیریوں کی مزاحمت کی نمائندگی کرتا ہے۔

    کشمیری عوام کی اس تحریک نے بھارت کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں اور فوجی محاصرے کے باوجود ان کی آزادی کی خواہش کو ظاہر کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں یہ دن یومِ سیاہ کے طور پر منایا جانا کشمیریوں کی قربانیوں اور جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کے مترادف ہے۔یہ صورتحال کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی تحریک میں ایک اہم سنگ میل تصور کی جا رہی ہے، جس سے عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کی طرف مبذول کرانے کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • آخر بھارتی حکومت جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ کب واپس دے گی،فاروق عبداللہ

    آخر بھارتی حکومت جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ کب واپس دے گی،فاروق عبداللہ

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلی اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ آخر بھارتی حکومت جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ کب واپس دے گی۔ سری نگر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کا جشن منانے کے لیے مودی سرکار کے پاس کچھ نہیں ہے۔ بی جے پی نے 6 سال میں مقبوضہ کشمیر کی بہتری کے لیے کچھ نہیں کیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی قیمتوں پر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکے اور لڑکیاں بے روزگار ہیں، قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے جب کہ امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔ کیا بی جے پی کا یہی کارنامہ ہے۔ فاروق عبداللہ نے مزید کہا کہ انہیں کشمیر میں امن آتا نظر نہیں آرہا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم ایک بے وقوف دنیا میں یہ سوچ کر رہ رہے ہیں کہ امن راتوں رات آ جائے گا۔ ہمارا ایک مضبوط پڑوسی ہے، چاہے وہ چین ہو یا پاکستان۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کوئی راستہ نہیں ہے۔ بالآخر دونوں ملکوں کے ساتھ مذاکرات کرنا ہوں گے۔ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مودی حکومت نے کہا تھا کہ جیسے ہی انتخابات ہوں گے اور حکومت بنے گی مقبوضہ کشمیر کا درجہ بحال ہو جائے گا لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اب مرکز والے کہہ رہے ہیں کہ وہ دو خالی اسمبلی سیٹوں پر الیکشن کرائیں گے لیکن راجیہ سبھا کی چار سیٹوں کا کیا ہوگا، وہ عوام کو ایوانوں میں جانے اور اپنے مسائل بتانے کے حق سے کیوں محروم کر رہے ہیں۔ 

  • مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے 6 سال، آج یوم استحصال منایا جارہا ہے

    مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے 6 سال، آج یوم استحصال منایا جارہا ہے

    مودی سرکار کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کے واقعے کے خلاف آج یوم استحصال کشمیر منایا جا رہا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر کے لیے بھارتی آئین میں خصوصی شقیں ختم کرنے کے غیر آئینی بھارتی اقدام کو آج 6 سال بیت گئے دنیا بھرمیں بسنے والے کشمیری آج کا دن یوم استحصال کشمیر کے طورپر مناتے ہیں،5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370اور 35A کا خاتمہ کر کے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کرتے ہوئے مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کر دیا تھا۔

    بھارتی سرکار کے 5 اگست 2019 کے اس غیر آئینی اور ظالمانہ اقدام پر پوری دنیا میں بسنے والے کشمیری سراپا احتجاج ہیں آج کنٹرول لائن کے دونوں اطرف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری بھارت کے خلاف جلسے جلوس اور ریلیاں منعقد کر کے بھارتی اقدام کی مذمت کرتے ہیں،6 سال گزرنے کے باوجود آج بھی کشمیری عوام نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور دنیا بھر میں آج کے روز احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں اور بھارت کے مکرو ہ چہرے کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کرتے ہیں۔

    کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی مکمل آزادی تک وہ اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھیں گےدوسری جانب کُل جماعتی حریت کانفرنس نے آج یوم سیاہ منانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یوم سیاہ سے دنیا کو پیغام دیا جائے گا کہ بھارت نے کشمیر پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے۔

    اسلام آباد میں دفتر خارجہ سے ڈی چوک تک یوم استحصال کشمیر ریلی نکالی گئی، جس میں سینئر حکام اور سول سوسائٹی کی کثیر تعداد نے شرکت کی، اس موقع پر تحریک آزادی کشمیر کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ڈی چوک پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت آزادی کے بعد سے خود کو سیکولر ملک کے طور پر پیش کرتا رہا ہے جبکہ سچ یہ ہے کہ انڈیا ہمیشہ سے ایک ہندو ملک رہا ہے، اس کے علاوہ عالمی ماہر قانون کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کو ناصرف ختم کیا جا رہا ہے بلکہ ان کے انسانی حقوق اور خطے کے امن کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے۔

    کانگریس کے ایم پی کا کہنا ہے کہ انڈیا کے آئینی تاریخ میں یہ ایک سیاہ دن ہوگا جس سے آنے والی نسلوں کو یہ احساس ہوگا کہ آج کتنی بڑی غلطی کی گئی ہے، یہ ہندوستان کے آئین، جمہوریت، سیکولرازم اور وفاق پر بہت بڑا حملہ ہے۔

    افواج پاکستان کشمیریوں کےحقِ خودارادیت کی جدوجہد کی حمایت

    یومِ استحصال کے موقع پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ افواج پاکستان کشمیریوں کےحقِ خودارادیت کی جدوجہد کی حمایت کرتی ہیں۔

    مسلح افواج ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ، چیف آف نیول اسٹاف، چیف آف ائیر اسٹاف کی جانب سے بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام سے یکجہتی کا اعادہ کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کشمیریوں کی جدوجہد بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہے، بھارتی سکیورٹی فورسز کا مقبوضہ کشمیر پر قبضہ بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے مقبوضہ کشمیر کی آبادی کا تناسب بدلنے کی کوششیں بھی بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں، بھارت کے جابرانہ اقدامات، اشتعال انگیز بیانات خطے میں عدم استحکام بڑھا رہے ہیں، بھارتی جارحانہ اقدامات خطے میں انسانی المیے کو طول دے رہے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق جنوبی ایشیا میں امن کا قیام جموں و کشمیر کے منصفانہ اور پر امن حل کے بغیر ممکن نہیں، جموں و کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہو،مسلح افواج مقبوضہ جموں کشمیر کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہیں، مسلح افواج کشمیریوں کی حق و آزادی کی جائز جدوجہد میں شانہ بشانہ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہیں۔

    وزیراعظم کا یومِ استحصال پر پیغام

    وزیراعظم شہباز شریف نے یوم استحصال پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ قوم کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتی ہے، بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات کی مذمت کرتے ہیں،بھارتی اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، بھارت مقبوضہ کشمیر کا آبادیاتی و سیاسی ڈھانچہ تبدیل کرنے کی سازش کر رہا ہے، یومِ استحصال بھارتی بربریت اور امن دشمنی کی سنگین یاد دہانی ہے،بھارت کا کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق اور شناخت سے انکار علاقائی عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔

    صدر مملکت کا یومِ استحصال کشمیر پر پیغام

    صدر آصف علی زرداری نے یوم استحصال کشمیر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، بھارتی اقدام کا مقصد کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو کمزور کرنا تھا، بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادیاتی ساخت اور سیاسی نقشے کو بدلنے کے لیے متعدد اقدامات کیے من مانی حلقہ بندیاں، غیر کشمیریوں کو ووٹر لسٹ میں شامل کرنا بھارتی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، 5 اگست 2019 کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جبر و استبداد میں اضافہ کر دیا۔

    صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ کشمیری عوام کو اپنے ہی وطن میں بے اختیار بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، مقبوضہ کشمیر کے عوام دھمکیوں، بلاجواز گرفتاریوں اور محاصروں کا شکار ہیں،پاکستان کشمیریوں کے جائز حقوق کے حصول تک سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

  • پونچھ : قابض بھارتی فورسز نے مزید دو کشمیری نوجوان شہید کر دیے

    پونچھ : قابض بھارتی فورسز نے مزید دو کشمیری نوجوان شہید کر دیے

    بھارت کے غیرقانونی زیرِقبضہ جموں کشمیر کے ضلع پونچھ میں قابض بھارتی فورسز نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں مزید دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فورسز اہلکاروں نے نوجوانوں کو ضلع پونچھ کے کسیلیان میں محاصر ے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک جعلی مقابلے میں شہید کیا ۔ بھارتی فورسز نے ضلع کے دیگر علاقوں میں بھی تلاشی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔آخری اطلاعات تک آپریشن جاری تھا۔یاد رہے کہ بھارتی فوجیوں نے پیر کے روز سرینگر کے علاقے داچھی گام میں تین نوجوانوں کو شہید کر دیا تھا۔

    غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرِقبضہ جموں کشمیر میں قابض بھارتی فورسز نے ضلع کٹھوعہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض بھارتی فوج اور پیراملٹری فورسز کے اہلکاروں نے ضلع کے علاقے راجباغ کا محاصرہ کرکے تلاشی کی کارروائی شروع کی ہے۔فورسز اہلکاروں نے علاقے کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو بند کر دیا اور لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگائی ۔دریں اثناء بھارتی فورسز نے ضلع راجوری کے مختلف علاقوں میں بھی محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں شروع کی ہیں۔ آخری اطلاعات آنے تک ان علاقوں میں فوجی آپریشن جاری تھے۔

  • جموں : دہائیوں پرانے کیس میں دو کشمیریوں کو عمرقید کی سزا

    جموں : دہائیوں پرانے کیس میں دو کشمیریوں کو عمرقید کی سزا

    بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں جموں کی ایک عدالت نے دہائیوں پرانے ایک جھوٹے مقدمے میں دو کشمیریوں کو عمرقید کی سزا سنائی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پرنسپل سیشن جج رام بن دیپک سیٹھی نے محمد ممتاز اور فاروق احمد کو 20 سال سے زائد عرصہ قبل درج کئے گئے اغوا اور قتل کے جھوٹے مقدمے میں عمرقید کی سزا سنائی۔ جج نے اپنے فیصلے میں تسلیم کیا کہ کیس کے بارے میں معلوم ہونے پر دونوں افراد رضاکارانہ طور پر خود عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اُنہوں نے خود کو عدالت کے رحم و کرم پر بھی چھوڑ دیا تھا۔اس اعتراف کے باوجود ، عدالت نے دونوں کو مجریہ ہند کی دفعہ 302 کے تحت عمرقید اور دفعہ 364 کے تحت دس سال قید کی سزا سنائی۔قانونی ماہرین نے عدالتی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی قانونی اور عسکری اداروں کی جانب سے کشمیری نوجوانوں کو قانون کی آڑ میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے طویل عرصے سے زیرالتوا مقدمات سیاسی اختلاف پر کشمیریوں کو سزا دینے اور آزادی پسند جذبات کو کچلنے کیلئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ بھارتی عدلیہ اورمودی کی ہندوتو حکومت کے درمیان گہرے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتا ہے، جس کا مقصد مقبوضہ علاقے میں آزادی پسند کشمیریوں کی آواز کو خاموش کرنا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں یوم شہدا کی تقریب کی اجازت سے انکار ،عمر عبداللہ کی نظر بندی

    مقبوضہ کشمیر میں یوم شہدا کی تقریب کی اجازت سے انکار ،عمر عبداللہ کی نظر بندی

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مودی کے نمائیندہ لیفٹیننٹ گورنر نے برطانوی تسلط میں مہاراجہ ہری سنگھ کی آمرانہ حکومت کے خلاف لڑائی میں مارے جانے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ‘یوم شہدا’ تقریب کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور یوم شہداء کشمیر منانے سے روکنے کیلئے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو بھی دہلی سے واپس آنے کے فوراً بعد ان کے گھر میں نظر بند کر دیا۔ ان کے ساتھ ساتھ ان کی حکومت کے کئی وزراء، ایم ایل ایز اور حکمران جماعت اور اپوزیشن کے سرکردہ رہنماؤں کو یوم شہداء کشمیر منانے سے روکنے کے لیے گھروں میں نظر بند کر دیا گیا۔

    وزیراعلی عمر عبداللہ نے اپنی نظر بندی کو جموں و کشمیر میں غیر منتخب لوگوں کا ظلم قرار دیا۔ انہوں نے اپنے گھر کے باہر پولیس کی ایک بڑی نفری اور مین گیٹ کے باہر کھڑی بکتر بند گاڑیوں کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد تصاویر شیئر کیں۔ لیفٹیننٹ گورنر کا نام لیے بغیر وزیراعلی عمر عبداللہ نے ایک پوسٹ میں کہا کہ غیر منتخب حکومت نے منتخب حکومت کو بند کر دیا۔ نئی دہلی کے غیر منتخب امیدواروں نے جموں و کشمیر کے عوام کے منتخب نمائندوں کو بند کر دیا۔ انہوں نے پابندیوں اور گھروں میں نظربندیوں کی شدید مذمت کی اور کشمیر کے 1931 کے شہداء کو ’’جلیانوالہ باغ‘‘ کے شہداء کے برابر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 13 جولائی کا قتل عام ہمارا جلیانوالہ باغ ہے جن لوگوں نے اپنی جانیں قربان کی انہوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد کیا، کشمیر پر انگریزوں کی بالادستی کے تحت حکومت کی جا رہی تھی کتنی شرم کی بات ہے کہ برطانوی راج کے خلاف ہر طرح سے لڑنے والے حقیقی ہیروز کو آج صرف اس لیے ولن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ وہ مسلمان تھے۔ ہمیں ان کی قبروں پر جانے کا موقع نہیں دیا جارہا لیکن ہم ان کی قبروں کو نہیں بھولیں گے۔

  • مقبوضہ کشمیر : یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر 13 جولائی کو مکمل ہڑتال کی کال

    مقبوضہ کشمیر : یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر 13 جولائی کو مکمل ہڑتال کی کال

    مقبوضہ جموں کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے 13 جولائی (بروز اتوار) کو "یوم شہدائے کشمیر” کے موقع پر مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تمام آزادی پسند رہنماﺅں اور تنظیموں نے ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کی فوجیوں کے ہاتھوں 13 جولائی 1931ء کو شہید ہونیوالے 22 کشمیریوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ہڑتال کی کال کی حمایت کی ہے ۔ حریت کانفرنس کے ترجمان عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کشمیری عوام سے شہداء کی روح کے ایصالِ ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی غرض سے مزار شہداء نقشبند صاحب سرینگر کی طرف مارچ کی بھی اپیل کی ہے ۔حریت ترجمان نے کہا کہ کشمیری شہداء کی قربانیوں کو ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور بھارتی تسلط سے جموں کشمیر کی آزادی تک شہداء کے مشن کو ہر قیمت پر جاری رکھا جائے گا۔

    یاد رہے کہ 13 جولائی 1931ء کو شہید ہونے والے یہ افراد ان ہزاروں لوگوں میں شامل تھے جو عبدالقدیر نامی ایک شخص کے خلاف مقدمے کی سماعت کے موقع پر سرینگر سینٹرل جیل کے باہر جمع ہوئے تھے جس نے کشمیری عوام کو ڈوگرہ حکمرانی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا کہا تھا۔ نمازِ ظہر کے وقت ایک کشمیری نوجوان نے جب اذان دینا شروع کی تو مہاراجہ کے فوجیوں نے اسے گولی مارکر شہید کر دیا۔اس کے بعد دوسرا شخص اذان پوری کرنے کےلئے کھڑا ہوا تو اسے بھی شہید کر دیا گیا۔ یوں اذان مکمل ہونے تک 22 کشمیریوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔

  • آزاد کشمیر کا 3 کھرب 10 ارب سے زائد کا بجٹ پیش

    آزاد کشمیر کا 3 کھرب 10 ارب سے زائد کا بجٹ پیش

    آزادکشمیر حکومت کی جانب سے مالی سال 26-2025 کے لیے تین کھرب 10 ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ پیش کیا جا رہا ہے جو گزشتہ سال کی نسبت 30 فیصد زیادہ ہے۔

    حکام کے مطابق مجوزہ بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے لیے 49 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم 261 ارب روپے رکھا گیا ہے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں وفاق کے برابر اضافے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے،سرکاری ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا یہ بجٹ آزادکشمیر کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ تصور کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے قبل اپوزیشن ارکان نے ایوان کے دروازے بند کر کے احتجاج کیا اور دھرنا دیا جس کی وجہ سے حکومتی اراکین ایوان میں داخل نہ ہو سکے اور اجلاس تاخیر کا شکار ہوا۔

    اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ حکومت نے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قواعد انضباط کار معطل کر کے آج ہی بجٹ منظور کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی وہ بھرپور مخالفت کرتے ہیں،وزیر خزانہ عبدالماجد خان نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ ایوان کے اندر آ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں، انہوں نے اپوزیشن کے اقدام کو غیر قانونی اور غیر پارلیمانی قرار دیا۔

  • دہلی میں کشمیری نوجوان کا وحشیانہ قتل، کشمیری مسلمانوں  پر ریاستی ظلم،تشدد جاری

    دہلی میں کشمیری نوجوان کا وحشیانہ قتل، کشمیری مسلمانوں پر ریاستی ظلم،تشدد جاری

    پہلگام کے واقعے کے بعد سے کشمیری مسلمانوں کے خلاف انتظامی قتل کا سلسلہ معمول بن گیا

    کشمیری مسلمان مقبوضہ وادی میں ہی نہیں، بلکہ پورے بھارت میں خوف کے سائے تلے زندگی گزار نے پر مجبورہیں،بھارتی پولیس کی پر تشدد کاروائیوں نے اور کشمیری نوجوان کی جان لے لی،حال ہی میں دہلی کے لجپت نگر میں 30 سالہ کشمیری نوجوان زبیر احمد کو بے دردی سے قتل کیا گیا،زبیر احمد بٹ کی تشدد زدہ لاش دہلی کے ایک عوامی پارک میں ملی،التجا مفتی کا کہنا ہے کہ زبیر احمد بٹ کا قتل کوئی معمہ نہیں، دہلی پولیس نے گرفتار کر کے وحشیانہ تشدد کیا،تیس سالہ زبیر اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کا واحد کفیل تھا، بے گناہ کشمیریوں کی جانوں کو بغیر ثبوت ختم کرنے کا یہ سلسلہ کب ختم ہوگا؟،

    جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے زبیر احمد بٹ کے واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا اور کہا کہ ذمہ داروں کو گرفتار کر کے انصاف فراہم کیا جائے،

  • بنیان مرصوص کی کامیابی،مقبوضہ کشمیر میں پاک فوج کے حق میں پوسٹر لگ گئے

    بنیان مرصوص کی کامیابی،مقبوضہ کشمیر میں پاک فوج کے حق میں پوسٹر لگ گئے

    بنیان مرصوص“ کی کامیابی، مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر پوسٹرز چسپاں کئے گئے ہیں

    مقبوضہ کشمیر میں جو پوسٹر لگائے گئے ہیں ان پر پاک فوج کے حق میں تحریر درج ہے، پوسٹر پر لکھا گیا ہے،بھارتی فوجی جارحیت کے خلاف پاکستان کا دندان شکن جواب،پاکستان نے کشمیریوں کے دل جیت لیے ہیں۔ پاک افواج انتہائی مبارکباد کی مستحق ہیں۔پیشہ وارانہ مہارت سے بھرپور طریقے سے لیس پاکستانی افواج نے بھارتی عسکری صلاحت کا پول کھول دیا۔کشمیری بھارتی تسلط سے آزادی تک ہرگز چین سے نہیں بیٹھیں گے، پاکستان نے بھارتی جارحیت کا اقوام متحدہ کے چارٹر 51 کے تحت جواب دیا اور اسکے توسیع پسندانہ عزائم خاک میں ملا دیے۔ خطے کے امن پسند ملکوں کو پاکستان کا مشکور ہونا چاہیے جس نے خطے پر فرقہ وارانہ بھارتی ایجنڈے اور جارحانہ تسلط اور بالادستی کا بی جے پی ، آر ایس ایس کا خواب چکناچور کر دیا ۔پاکستان نے فرقہ وارانہ بھارتی ایجنڈے کے آگے بند باندھ دیا اور خطے میں طاقت کے توازن کو متوازی کیا۔