Baaghi TV

Category: خواتین

  • کھانا پکانے کی چند اہم ہدایات

    کھانا پکانے کی چند اہم ہدایات

    کھانا پکانے کی ہدایات
    (1)تیل
    سب سے اعلی تجویز کردہ تیل میں کارن آئل، سن فلاور آئل یا سویابین آئل ہے۔ عام زیتون کا تیل بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم انتہائی خالص زیتون کا تیل نہ صرف مہنگاہے بلکہ یہ پاکستانی کھانوں کے لئے موزوں بھی نہیں ہے۔ یہ صرف سلاد کی ڈریسنگ یا فوری تلنے کے عمل کے لئے بہت اچھا ہے۔
    (2)گھی ……
    گھی میں دیسی گھی تجویزکیا جا تا ہے کیونکہ بناسپتی گھی میں موجود ہائیڈرو جنیٹڈ اور آپ کی صحت کے لئے انتہائی مضرہے۔

    (3)چاول……
    باسمتی چاولوں کودو سے تین مرتبہ دھوئیں اور کم از کم آدھے گھنٹے کے لئے پانی میں بھگوئے رکھیں۔ سیلا چاول ایک گھنٹہ کے لئے بھگوئے رکھیں۔

    (4) مونوسوڈیم گلوٹامیٹ (MSG)……
    جسے چائنا نمک یا اجینوموتو بھی کہا جاتا ہے۔ یہ نمک کی طرح کا پاؤڈر گلوٹامیک ایسڈ کا ہوتا ہے جو امینو ایسڈخاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ جاپانی اور چینی کھانوں میں ذائقوں کوبڑھانے کے لئے بہت مقبول اور مشہور ہے۔ اب پاکستانی کھانوں خصوصاً باربی کیو میں بھی یہ وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے بعض لوگوں کو (MSG)سے الرجی کی شکایت بھی ہوجاتی ہے جس کے باعث سردرد، سر چکرانے کے ساتھ قے بھی آ جاتی ہے۔یہ بچوں اوربڑوں کے لئے خاصا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ (MSG) کی حمایت میں بہت سی دلیلیں بھی دی جاتی ہیں کہ یہ بے ضرر ہے تاہم میں یہ سمجھتا ہوں کہ MSG کا استعمال کسی کھانے میں بھی نہیں کیا جانا چاہئے۔

    (5) کچھ کھانے تیار کرنے کے لئے زیادہ گھی یا تیل درکار ہوتاہے ڈش تیار کرنے کے بعد فالتو آئل نکل دینا چاہئے۔

    (6) مصالحوں یا نباتات کی مقدار علاقوں اور موسموں کے مطابق ہوتی ہے۔ برائے مہربانی آپ مصالحوں کا استعمال اپنی ضرورت اور ذائقے کے مطابق کریں۔ اسی طرح نمک کا استعمال بھی حسب ِ ضرورت کریں۔

    (7) کسی بھی ڈش کے لئے مصالحہ تیار کرتے ہوئے اس کے مصالحے کو جلنے یا برتن سے چپکنے سے بچانے کے لئے آپ تھوڑا سا پانی بھی استعمال کرسکتے ہیں اگر ضروری ہو تو پانی ایک سے زائدبار بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    (8)اگر غلطی سے کسی ڈش میں نمک کی مقدار زیادہ ہوجائے تو آپ ایک یا دو پیڑے آٹے کے شامل کردیں جو نمک کی زائد مقدار کو جذب کرلے گا۔

    (9) اگر آ پ مصالحوں کا تیزذائقہ لینا چاہتے ہیں تو ثابت یا پسے ہوئے مصالحے کو توے پر یا نان سٹک برتن میں بھون لیں۔ ا س بات کو یقینی بنائیں کہ وہ جلیں نہیں۔ مصالحوں کو اکٹھا نہ بھونیں کیونکہ کچھ مصالحے جلد پک جاتے ہیں۔

    (10)دالیں پکنے میں نسبتاً کم وقت لیتی ہیں اگر انہیں پکنے سے ایک گھنٹہ قبل پانی میں بھگو دیا جائے۔ پھلیوں کے لئے رات بھر بھگونا تجویز کیا جاتا ہے-

    (11)گوشت کومصالحہ لگا کر رکھنے کے لئے دھاتی برتن کے استعمال سے گریز کریں کیونکہ سرکہ یا لیموں اس عمل میں اپنی تیزابی خاصیت کی وجہ سے ری ایکشن کرسکتے ہیں۔ گلاس، چائنہ یا فوڈ گریڈ اسٹین لیس سٹیل کے برتن اس مقصد کے لئے بہترین ہیں۔

    (12)تمام تراکیب میں چکن بغیر سکن کے استعمال کیا جاتا ہے تاوقتیکہ اسے دوسرے طریقے سے پکانا مقصودہو۔ جہاں چکن بغیر ہڈی کے پکانا مقصود ہ اس کی ترکیب الگ ہوتی ہے۔ مٹن اور بیف کے لئے بھی یہی طریقہ ہوگا۔

    پاکستانی کھانے پکانے کے تین اہم طر یقہ کار

  • پاکستانی کھانے پکانے کے تین اہم طر یقہ کار

    پاکستانی کھانے پکانے کے تین اہم طر یقہ کار

    پاکستانی کھانے پکانے کے تین اہم طر یقہ کار

    (1)بھُنائی (2)تڑکا (3)دم

    یہ ہمارے کھانوں کی روح ہیں۔
    (1)بھُنائی:
    بھُنائی ہمارے کھانوں کے پکانے میں ایک اہم جزو ہے۔ بھُنائی کا طریقہ کار زیادہ ترسبزیوں اور گوشت کی ڈشز تیار کرنے میں استعمال ہوتاہے۔ بھُنائی کا مقصد پکے ہوئے کھانے میں موجود اضافی رطوبت کو ختم کرنے اور سبزی یا گوشت کو مصالحوں کے ساتھ کوکنگ آئل میں بھون کرذائقے میں اضافہ کرنا ہے۔ بھوننے سے اضافی رطوبت خشک ہو جاتی ہے اور سبزی اور گوشت میں موجود آئل اور مصالحے اندر تک جذب ہو کرذائقہ بڑھاتے ہیں۔ بھُنائی ایک دفعہ گوشت کے نرم ہونے تک کی جاتی ہے اس کے بعد ہلکی اور درمیانی آنچ پر اسے بھونا جاتا ہے۔ بھونتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ تیل کی مقدار مناسب ہو تاکہ گوشت پیندے کے ساتھ نہ چپک جائے۔ بعض اوقات بھُنائی کے لئے زیادہ آئل استعمال کیا جاتا ہے جو بعد میں نکال دیاجاتا ہے۔

    زیادہ تر گوشت اور سبزیوں کی ڈشز بھُنائی کے بعد مکمل ہوجاتی ہیں اور اس کے بعد سجاوٹ کے ساتھ پیش کرنا ہی باقی رہ جاتا ہے۔ تاہم گاڑھے شوربے والے سالن میں بھُنائی کاطریقہ کار ذرا سا مختلف ہے۔ جب گوشت 80 فیصد پک جائے تو بھُنائی ہو جاتی ہے اس کے بعد پانی شامل کیاجاتا ہے اور مکمل تیار ہونے تک پکایا جاتا ہے۔ آلو گوشت کی صورت میں بھُنائی کے بعد آلو اورپانی شامل کیا جاتا ہے۔ جتنی دیر میں آلوپکتے ہیں ساتھ ہی گوشت بھی گل چکا ہوتا ہے۔

    بھُنائی برصغیر کا روایتی طریقہ کار ہے جبکہ دوسرے ممالک میں جہاں سالن کھائے جاتے ہیں یہ طریقہ اتنا معروف اور مقبول نہیں ہے۔ حتیٰ کہ پاکستانی عورتوں میں یہ طریقہ کار عام ہے لیکن چونکہ یہ بہت زیادہ وقت لیتاہے اس لئے یہ پیشہ ور باورچیوں میں عام نہیں۔ چونکہ غیرملکی شیف ہمارا کھانے پکانے کا طریقہ کار انہی پیشہ ور بارچیوں سے سیکھتے ہیں لہٰذ اوہ بھُنائی کی اس مہارت سے مکمل آگاہ نہیں ہیں اسی وجہ سے دنیا کے زیادہ تر لوگ پاکستان کے روایتی کھانوں کے حقیقی ذائقے اور لذت سے محروم رہ جاتے ہیں۔

    (2) تڑکا:
    تڑکا برصغیر میں کھانے پکانے میں عام استعمال ہوتا ہے۔ تیل یا گھی کی تھوڑی سی مقدار گرم کرنے کے بعد اس میں پیاز، ادرک، لہسن، ثابت یا پستے ہوئے مصالحوں کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے۔ یہ عمل صرف چند منٹ لیتاہے۔ گرم تیل مصالحوں کے ساتھ پہلے سے پکی ہوئی ڈشز مثلاً دال وغیرہ میں فوراً شامل کردیاجاتاہے۔ تڑکے کا یہ عمل نہ صرف دال میں مصالحوں کی خوشبو شامل کردیتاہے بلکہ اس کے ذائقہ کو بھی بڑھا دیتا ہے۔

    (3) دَم:
    دَم کا مطلب ہے کھانے کو دھیمی آنچ پر ڈھک کر بھاپ سے پکایا۔ گوشت یا دوسرے کھانے ان کے اپنے ہی پانی یا تھوڑا سا مزید پانی شامل کرکے پکایا جاتا ہے۔ دَ م اصل میں پانی کی زیادتی سے بچانا ہے اور مصالحوں کو گوشت،چاول یا سبزیوں میں بھرپور طریقے سے سرایت کرنے میں مدد دیتا ہے۔ دَم کا یہ عمل گوشت وغیرہ کو نرم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ عمل چاولوں کی ڈشزتیار کرنے میں بھی استعمال ہوتاہے۔ چاولوں کو دم اس طریقہ کار سے ان کی اضافی نمی ختم ہوجاتی ہے جس سے چاول پھول جاتے ہیں۔

  • ہمارا مذہب عورتوں کو بھرپور آزادی دیتا ہے ہمارے لئے وہی آزادی بہت ہے

    ہمارا مذہب عورتوں کو بھرپور آزادی دیتا ہے ہمارے لئے وہی آزادی بہت ہے

    آج ہمارے لئے بہت ہی فخر کا مقام تھا کہ آج ہم بتیس سال بعد اپنی عظیم تعلیمی درس گاہ میں گئے۔ عالمی یوم نسواں کے حوالے سے ہمیں آج کالج میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا۔ کسی بھی طالب علم کے لئے یہ ایک خصوصی اعزاز ہوتا ہے کہ وہ اپنی عملی زندگی میں اپنی درس گاہ میں بطور مہمان مدعو کیا جائے۔الحمدللہ! ہمارے نفاذ اردو مشن نے ہمیں اس فخر سے بھی نواز دیا۔

    یقیناً ہمارے اس فخر کا باعث گورنمنٹ سمن آباد کالج کی منتظم اعلی ڈاکٹر حلیمہ آفریدی ہیں جو ہماری بہت پیاری دوست ہیں ۔نفاذ اردو مشن میں ہماری ہمنوا ہیں۔ ہماری پوسٹ غور سے پڑھتی ہیں ۔ ہماری بہت حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ محترمہ ڈاکٹر حلیمہ آفریدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ انہوں نے پاکستان قومی زبان تحریک کے مشن سے متاثر ہو کر گزشتہ سال تقریب تقسیم اسناد (کانووکیشن) کی کاروائی اردو میں کرتی تھی۔

    لیکن فا طمہ قمر کے نفاذ اردو کے مسلسل پیغامات ملنے پر ہم نے اس تقریب کی کاروائی اردو میں کی۔ ہماری کوشش ہے کہ تمام مراسلت نفاذ اردو میں کی جائے۔ عالمی یوم نسواں کے حوالے سے ڈاکٹر حلیمہ آفریدی نے کہا کہ ہمارا مذہب عورتوں کو بھرپور ازادی دیتا ہے ہمارے لئے وہی ازادی بہت ہے۔ میں اج کچھ ہوں ایک مرد ‘ اپنے والد کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے ہوں۔جنہوں نے فاٹا جیسے پس ماندہ علاقے سے اپنی بچیوں کو اعلی تعلیم دلوائی۔

    عورت مرد کا محافظ ہے۔ پاکستان قومی زبان تحریک کی رہنما فا طمہ قمر نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج میری زندگی کا ایک انتہائی مسرت آمیز دن ہے۔ کہ میں اپنی مادر علمی میں ایک قومی رہنما کے طور پر مدعو کی گئ ہوں۔ ہمیں غلامی سے نفرت کا جذبہ ہمارے عظیم اساتذہ نے پیدا کیا ۔جنہوں نے ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو بیدار کیا۔

    ہمیں حق بات کہنے کی تعلیم دی۔ یہ ہمارے اساتذہ کی تعلیم و تربیت ہی کا اثر ہے کہ ہم نے پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے نفاذ اردو تحریک چلائی۔ ہمارا موقف ہے کہ پاکستان کی ترقی’ خوشحالی’ یکجہتی نفاذ اردو سے وابستہ ہے۔ انگریزی کو اختیاری حیثیت دی جائے۔جیسے پوری دنیا میں ہوتا ہے۔

    ہم نے طالبات سے کہا کہ اپ اس کالج کی دور حاضر کی طالبات ہیں ہم ماضی کی طالبہ ہیں۔ تو اپ نفاذ اردو مشن میں اپنی قدیم طلبہ کی ہم آواز بنیں۔ہم لوگ اپ کے مستقبل کے لئے چاہتے ہیں تاکہ اپ کے لئے دنیا کےدیگر ممالک کی طرح تعلیم حاصل کرنا آسان ہوجائے۔ عالمی یوم نسواں کے حوالے سے اسلام نے ہمیں جو حقوق دئیے ہیں وہ دنیا کے کسی مذہب نے نہیں دیا۔ اسلام نے عورت کو اس وقت اعلی مقام دیا جب اس کو زندہ درگور کیا جاتا تھا۔

    عورت کے محرم رشتے ہی اس کے محافظ ہیں۔کوئی عورت بھی معاشرے میں مقام اپنے محرم مردوں کے تعاون کے بغیر حاصل نہیں کرسکتی۔تحریک پاکستان میں بھی ان ہی خواتین نے ہی ملکی ترقی میں بے مثال کردار ادا کیا جنہوں نے اپنے گھریلو فرائص منصبی کو بہت عمدگی سے انجام دیا۔

    تحریک پاکستان میں علی برادران کی والدہ بی اماں’ محترمہ فا طمہ جناح’ بیگم رعنا لیاقت’ بیگم محمد علی ‘ بیگم سلمی تصدق حسین کا کردار دور جدید کی خواتین کے لئے روشن مثال ہیں یہ وہ خواتین ہیں جو اپنی تہذیب سے بھی جڑی ہوئی تھیں ۔اور روشن خیال بھی تھیں ۔ ہم میرا جسم ‘ میری مرضی کے نعرے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم نعرہ لگاتے ہیں ۔ جسم بھی اللہ کا’ مرضی بھی اللہ کی!
    ڈاکٹر حلیمہ افریدی نے سمن آباد کالج کی اعزازی شیلڈ اور خوبصورت تحفے سے بھی نوازا۔ تقریب کے اختتام پر پرتکلف چائے سے خاطر تواضع بھی کی۔

    ڈاکٹر حلیمہ آفریدی کالج کی تعمیر و ترقی طلباء کی فطری صلاحیتوں کو جلاء بخشنے کے لئےکالج میں نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کا انعقاد کرتی ہیں۔اپنی ماتحت عملے اور طالبات کی رہنمائی بہت شفقت سے کرتی ہیں۔ عالمی یوم نسواں پر ہمیں ہماری درسگاہ میں مدعو کرنے پر ہم ان کا تہہ دل سے ممنون ہیں۔ ان کی دائمی خوشیوں کے لئے دعا گو ہیں ۔
    فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • خواتین کے عالمی دن کے موقع پر گوگل کا خواتین کو منفرد انداز میں خراج تحسین

    خواتین کے عالمی دن کے موقع پر گوگل کا خواتین کو منفرد انداز میں خراج تحسین

    خواتین کے عالمی دن پر سرچ انجن گوگل اپنا ڈوڈل تبدیل کر کے خواتین کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔خواتین کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ڈوڈل میں مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کرنے والی خواتین کو دکھایا گیا ہے۔خواتین کے عالمی دن کو منائے جانے کا مقصد صنفی امتیاز کے خاتمے اور خواتین کے مساوی حقوق کے لیے کوششوں کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔

    گوگل کا ڈوڈل تعطیلات، واقعات، کامیابیوں کو یاد کرنے کا ایک منفرد انداز ہے جس کے تحت گوگل اپنے ہوم پیج پر ایک مخصوص لوگو کے ذریعہ پیغام دیتا ہے۔ تاہم آج خواتین کے عالمی دن کے موقع پر گوگل نے جو ڈوڈل تبدیل کیا ہے اس میں مختلف رنگوں نسل کی خواتین کی باہمی یکجہتی کو ظاہر کیا ہے جبکہ ڈوڈل کی ویڈیو میں خواتین کو دنیا کے مختلف شعبوں میں اپنا لوہا منواتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ جس کا مقصد خواتین کی سماجی، سیاسی اور اقتصادی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ پاکستان میں بھی اس حوالے سے تقاریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔سول سوسائٹی کی تنظیموں کی جانب سے خواتین کو درپیش مسائل اور چیلنجوں کو اجاگر کرنے کے لیے واکس، سیمینارز اور مباحثوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔

  • فاطمہ ثناء نے خواتین کے عالمی دن پر کون سا بڑا ایوارڈ جیت لیا

    فاطمہ ثناء نے خواتین کے عالمی دن پر کون سا بڑا ایوارڈ جیت لیا

    فاطمہ ثناء نے ‘ویمن ایمرجنگ کرکٹر آف دی ایئر’کا ایوارڈ جیت لیا، پاکستان کرکٹ ٹیم کی کھلاڑی فاطمہ ثناء نے ویمن ایمرجنگ کرکٹر آف دی ایئرکا ایوارڈ جیت لیا۔فاطمہ ثناء کے لیے اس ایوارڈ کا اعلان آج خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کیا اور بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان نے انہیں یہ ایوارڈ دیا۔

    کراچی میں پیدا ہونے والی 19 سالہ فاطمہ ثناء دائیں سے بیٹنگ اور میڈیم پیس بولنگ کرتی ہیں۔ انہوں نے 6 مئی 2019 کو جنوبی افریقا کی ویمن ٹیم کے خلاف میچ سے اپنا ڈیبو کیا جس کے بعد سے وہ 5 ایک روزہ اور چار ٹی 20 میچوں میں قومی ویمن ٹیم کی نمائندگی کر چکی ہیں

  • عورت، عورت کی دشمن ہے  بقلم:عمران محمدی

    عورت، عورت کی دشمن ہے بقلم:عمران محمدی

    عورت، عورت کی دشمن ھے

    عام طور پر عورت کی طرف سے یہ شکایت ہے کہ مرد، عورت کا استحصال کرتا ہے حقوقِ نسواں کی تمام تنظیمیں بھی یہی کہتی ہیں
    اسی بنیاد پر مساوات مردوزن کا نعرہ لگایا جاتا ہے-

    جب بھی عورت کی مظلومیت کا تذکرہ ہوتا ہے تو عمومی تاثر یہی دیا جاتا ہے کہ عورت مرد کے ہاتھوں جبر کا شکار ہے ہمیں یہ تسلیم کرنے میں ذرا بھی تأمل نہیں ہے کہ کئی ایک واقعات ایسے موجود ہیں جہاں واقعی مرد کی طرف سے عورت پر ظلم ہوا ہے لیکن اس کے مقابلے میں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مرد کی عورت پر رحمدلی، شفقت اور ہمدردی کے واقعات اس سے کہیں زیادہ ہیں-

    چند مثالی ملاحظہ فرمائیں
    شادی کے بعد عورت کو سسر کی طرف سے اتنی پریشانی نہیں ہوتی جتنی ساس کی طرف سے ہوتی ہے اگر دس فیصد عورتیں سسر کی وجہ سے پریشان ہیں تو نوے فیصد عورتیں ساس کی طرف سے پریشان ہی اس کے برعکس بھی ایسے ہی ہے بہو سے سسر اتنا تنگ نہیں ہوتا جتنی ساس تنگ ہوتی ہے اور تناسب یہاں بھی وہی ہے

    غریب والدین کی بیٹی اگر ساتھ جہیز نہ لا سکے تو اسے سب سے زیادہ طعن و تشنیع کا سامنا اپنے خاوند، سسر، دیور، جیٹھ کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ ساس اور نندوں کے روپ میں وہ عورت ہی ہوتی ہے جو اس کا جینا حرام کررہی ہوتی ہے

    دوسری شادی تقریباً ہر مرد دوسری شادی کا خواہاں ہے کیونکہ فطری طور پر اس میں چار عورتوں کی طاقت ودیعت کردی گئی ہے
    لیکن سو میں سے ایک فیصد کی یہ خواہش پوری ہوتی ہے باقی ننانوے فیصد بوجوہ اپنی خواہش کی تکمیل نہیں کر پاتے دوسری شادی نہ کرپانے کی وجوہات میں سے ایک بہت بڑی وجہ خود عورت ہے-

    آدمی دوسری شادی کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں عبور کر لیتا ہے سب سے مشکل، پیچیدہ اور آخری رکاوٹ بیگمِ اول ہوتی ہے اور یہ ایسا سنگِ میل ثابت ہوتی ہے کہ جسے عبور کرتے ہوئے بڑے بڑے ناموروں کے پِتے پانی ہو جاتے ہیں جس کا نتیجہ مرد سمجھتا ہے کہ چونکہ پوری زندگی مجھے صرف ایک ہی شادی کی اجازت ھے لھذا ہر حال میں صرف کنواری سے شادی ہو گی-

    یوں لاکھوں مطلقہ، بیوہ اور مختلعہ عورتیں، عورت ہی کی خواہش کی بھینٹ چڑھ کر سہاگ کو ترستی رہتی ہیں صرف عورت اگر اس مسئلے میں اپنی اصلاح کر لے تو نسوانی زندگی کی 75 فیصد ٹینشنیں ختم ہو سکتی ہیں

    گاڑیوں اور بسوں میں سفر کرتے ہوئے بہت دفعہ پایا گیا ہے کہ مرد سیٹوں پر بیٹھے ہوں تو کھڑی عورت کو اپنی جگہ بٹھاتے ہیں اور خود کھڑے ہو جاتے ہیں
    لیکن
    آپ بہت کم ایسا پائیں گے کہ کبھی کسی عورت نے ایثار کرتے ہوئے اپنے سے کمزور کسی عورت کو اپنی جگہ بٹھایا ہوریل گاڑی میں دورانِ سفر ایسا مشاہدہ بآسانی کیا جا سکتا ہے چار افراد والی سیٹ پر تین عورتیں بیٹھ جائیں تو تقریباً ناممکن ہے کہ کسی چوتھی عورت کو ساتھ بیٹھنے کا موقعہ ملے

    نجومیوں، کاہنوں اور جادوگروں کے پاس مردوں سے زیادہ عورتیں جاتی ہیں اور ان میں سے بھی اکثریت کا مقصد کسی عورت ہی کی تباہی ہوتی ہے اپنے بیٹے یا بھائی کے لیے کسی لڑکی کا رشتہ مانگا نہ ملا تو اس پر جادو کروادیا کسی لڑکی کے خاوند کو تعویذ ڈلوا دیے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے میاں بیوی کے درمیان ناچاکی کا جادو کروادیا-

    طلاق دلانے میں کردار مانتا ہوں کہ طلاق کے بہت سے واقعات میں مرد ظلم کرتا دکھائی دیتا ہے مگر یہ تسلیم کیئے بغیر بھی کوئی چارہ نہیں ہے کہ عورت کو طلاق دلانے میں عورت کا ہاتھ بھی عموماً دیکھا گیا ہے بہت سی لڑکیوں کو خود اپنی نالائقی کی وجہ طلاق ہوتی ہے
    یاان کی ماں کی طرف سے غلط ہلا شیری کی بناء پر طلاق ہوتی ہے یا ان کے خاوند پر ان کی نندوں (خاوند کی بہنوں) یا ان کی ساس (خاوند کی ماں) کا پریشر ہوتا ہے یا خاوند کی کسی خفیہ آشنا (عورت) کا مطالبہ ہوتا ہے-

    زوجین کے مابین اختلاف کی صورت میں عموماً طرفین کے بڑے سیانے مردوں کی کوشش صلح صفائی کی ہی ہوتی ہے لیکن عورتوں کی باہمی نوک جھونک اور زبان سے نکلے ہوئے بعض جملے ایسے زہریلے ہوتے ہیں کہ جس کے سامنے مردوں کی پیش نہیں جاتی

    خلع کے بعد رجوع کی ریشومرد طلاق دے تو رجوع کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں جبکہ اگر عورت خلع لے تو پتھر پر ایسی لکیر کھینچتی ھے کہ الأمان الحفیظ آج طلاق کی ریشو بہت زیادہ ہے لیکن اگر یہی اختیار عورت کے پاس ہوتا تو شرح طلاق آسمان کو چھوتی نظر آتی-

    لھذا (عربی ادیبوں سے معذرت) آزادی نسواں کا نعرہ بلند کرنے والوں سے گزارش ہے کہ اس نعرے میں ایک لاحقہ شامل کرلیں
    اور یوں کہیں (آزادیءِ نسواں من النسواں)-

    عمران محمدی
    عفا اللہ عنہ

  • خواتین کے عالمی دن کے موقع پر وفاقی وزیر شبلی فراز کا پیغام

    خواتین کے عالمی دن کے موقع پر وفاقی وزیر شبلی فراز کا پیغام

    وفاقی وزیرشبلی فراز کاکہناہے کہ معاشرے کو مہذب بنانے کےلئے خواتین کو بااختیار بنانا لازم ہے، خواتین کو معاشرے میں طاقتور اور محفوظ بنانا ہمارا پختہ عزم ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے اپنے ٹوئٹ میں کہاہے کہ آج کا دن خواتین کے بلند مقام اور ان کی قابل ستائش خدمات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، دین اسلام نے خواتین کو بے مثال حقوق دیئے ہیں، آئین پاکستان خواتین کے حقوق کا ضامن ہے،پاکستان کی تعمیر و ترقی میں خواتین نے روشن کردار ادا کیا ہے۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ جس کا مقصد خواتین کی سماجی، سیاسی اور اقتصادی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ان بہادر خواتین کو خراج تحسین پیش کیا جائے گا جنہوں نے اپنے حقوق کے حصول کی جنگ لڑی، اس دن دنیا بھر میں مختلف ممالک کی ہزاروں تنظیمیں خواتین کی سماجی، سیاسی اور اقتصادی ترقی کے لیے کوششوں کو اجاگر کرنے کے لیے ریلیوں اور تقاریب کا اہتمام کریں گی۔پاکستان میں بھی اس حوالے سے تقاریب منقد کی گئی ہیں۔ سول سوسائٹی کی تنظیموں کی جانب سے خواتین کو درپیش مسائل اور چیلنجوں کو اجاگر کرنے کے لیے واکس، سیمینارز اور مباحثوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔

    خواتین کے عالمی دن کے موقع پر دنیا کے مختلف ممالک جن میں روس، ویت نام، چین اور بلغاریہ میں خواتین کے عالمی دن پر عام تعطیل ہوتی ہے، یہ دن خواتین کی ’’جدوجہد‘‘ کی علامت ہے۔
    1908 میں 15 ہزار محنت کش خواتین نے تنخواہوں میں اضافے، ووٹ کے حق اور کام کے طویل اوقات کار کے خلاف نیویارک شہر میں احتجاج کیا اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے آواز بلند کی۔ جن پر پولیس کی جانب سے وحشیانہ تشدد کیا گیا تھا تاہم خواتین نے اپنی جبری مشقت کے خلاف تحریک کو جاری رکھا تھا۔

  • پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے

    اسلام آباد: پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ جس کا مقصد خواتین کی سماجی، سیاسی اور اقتصادی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ان بہادر خواتین کو خراج تحسین پیش کیا جائے گا جنہوں نے اپنے حقوق کے حصول کی جنگ لڑی، اس دن دنیا بھر میں مختلف ممالک کی ہزاروں تنظیمیں خواتین کی سماجی، سیاسی اور اقتصادی ترقی کے لیے کوششوں کو اجاگر کرنے کے لیے ریلیوں اور تقاریب کا اہتمام کریں گی۔

    پاکستان میں بھی اس حوالے سے تقاریب منقد کی گئی ہیں۔ سول سوسائٹی کی تنظیموں کی جانب سے خواتین کو درپیش مسائل اور چیلنجوں کو اجاگر کرنے کے لیے واکس، سیمینارز اور مباحثوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔خواتین کے عالمی دن کے موقع پر دنیا کے مختلف ممالک جن میں روس، ویت نام، چین اور بلغاریہ میں خواتین کے عالمی دن پر عام تعطیل ہوتی ہے، یہ دن خواتین کی ’’جدوجہد‘‘ کی علامت ہے۔

    1908 میں 15 ہزار محنت کش خواتین نے تنخواہوں میں اضافے، ووٹ کے حق اور کام کے طویل اوقات کار کے خلاف نیویارک شہر میں احتجاج کیا اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے آواز بلند کی۔ جن پر پولیس کی جانب سے وحشیانہ تشدد کیا گیا تھا تاہم خواتین نے اپنی جبری مشقت کے خلاف تحریک کو جاری رکھا تھا۔

    خواتین کی مسلسل جدوجہد اور لازوال قربانیوں کے نتیجے میں 1910 میں کوپن ہیگن میں خواتین کی پہلی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں 17 سے زائد ممالک کی سو کے قریب خواتین نے شرکت کی۔اس کانفرنس میں عورتوں پر ہونے والے ظلم واستحصال کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا گیا۔

  • بہتر قوت مدافعت اور پُرسکون نیند کے لئے گھریلو مصالحوں سے تیارکردہ جادوؤئی مشروب

    بہتر قوت مدافعت اور پُرسکون نیند کے لئے گھریلو مصالحوں سے تیارکردہ جادوؤئی مشروب

    طبی ماہرین کے مطابق نیندکی کمی کے سبب وزن اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہونے لگتا ہے، پر سکون نیند نہ لینے کے سبب دماغی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے اور انسانی جسم میں موجود بیماریوں سے بچانے والا نظام ، قوت مدافعت کمزور پڑنے لگتا ہے جس کے سبب انسان کے متعدد بیماریوں میں گھرنے کے خدشات میں اضافہ ہوتا ہے۔

    طبی و غذائی ماہرین کی جانب سے رات سونے سے قبل اینٹی سیپٹک خصوصیات سے بھرپور مصالحے ہلدی سے بنا دودھ پینا تجویز کیا جاتا ہے اگراس ہلدی دودھ میں اگر چند اجزا مزید شامل کر لیے جائیں تو یہ نہ صرف ہلدی دودھ کا ذائقہ بڑھا دیتے ہیں بلکہ اس کے صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    قدرتی اجزا سے تیار کیے جانے والے اس مشروب کو ماہرین کی جانب سے ’مون شائن مِکس‘ کا نام دیا گیا ہے جس کے استعمال سے مجموعی صحت سمیت نیند میں بھی بہتری آ تی ہے۔

    ’ مون شائن مِکس ‘ بنانے کے لیے درکار اجزا مندرجہ ذیل ہیں:

    3 کھانے کے چمچ سونف کا پاؤڈر

    10 کھانے کے چمچ ہلدی

    2 کھانے کے چمچ لونگ پاؤڈر

    4 کھانے کے چمچ ادرک کا پاؤڈر

    3 کھانے کے چمچ لال گلاب کا ؤڈر

    2کھانے کے چمچ جائفل کا پاؤڈر

    2 کھانے کے چمچ دار چینی پاؤڈر

    5 کھانے کے چمچ ملٹھی پاؤڈر

    15 کھانے کے چمچ براؤن شکر یا پسا ہوا گُڑ لے لیں۔

    اب ان سب اجزا کو اچھی طرح ملا کر ایک ایئر ٹائٹ جار میں محفوظ کر لیں اور رات سونے سے قبل اس سفوف کا ایک چمچ ایک گلاس نیم گرم دودھ میں ملا کر پی لیں، اس دودھ یعنی کہ ’مون شائن مِکس‘ سے پر سکون نیند میں مدد ملے گی، قوت مدافعت میں بھی اضافہ ہوگا اور نظام ہاضمہ درست ہوگا۔
    <img class="alignnone size-full wp-image-319431" src="https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2021/03/WhatsApp-Image-2021-03-07-at-7.14.18-PM.jpeg" alt="" width="720" height="894" /

  • کیوی کے حیرت انگیز طبی فوائد

    کیوی کے حیرت انگیز طبی فوائد

    چیکو سے ملتا جلتا باہر سے خاکی اور اندر سے تروتازہ سبز رنگ کے گودے پر مشتمل رسیلا اور لذیذ ’کیوی پھل ‘ جو نہ صرف فروٹ سیلڈز کو آنکھوں کے کے لیے خوشنما بناتا ہے بلکہ کئی فوائد کا حامل ہے۔

    ذائقے میں یہ اسٹابیری سے ملتا جلتا ہوتا ہے، اس پھل کی ابتداء نیوزی لینڈ سے ہوئی ہے اسی لیے اس کا نام نیوزی لینڈ کے ایک ’کیوی‘ نامی پرندے سے منسوب کر کے ’ کیوی پھل‘ رکھا گیا ہے۔

    اکثر لوگ اس پھل کے بارے میں نہیں جانتے لیکن ماہرین صحت نے اس پھل کے کئی ایسے فائدے بتائے ہیں جو اس کی مقبولیت میں دس گنا تیزی کے ساتھ اضافہ کریں گے۔

    یہ اپنے اندر موجود غذائیت کے اعتبار سے مفید مانا جاتا ہے جو مغربی ممالک میں تو میٹھے کھانوں میں طویل عرصے سے استعمال ہورہا ہے اب باآسانی پاکستان میں بھی دستیاب ہے۔

    وٹامنز اور منرلز کا خزانہ: کیوی پھل میں وٹامن اے، بی 6، بی 12 ،ای کے ساتھ پوٹاشیئم ، کیلشئم، آئرن اور میگنیشیم کی کثیر مقدار موجود ہوتی ہے، جو جسم کے افعال درست رکھتے ہیں جس میں خون کی روانی، آئرن جذب کرنے کی صلاحیت، مضبوط ہڈیاں اور دانت، بہترین بصارت، اور تناؤ سے نکلنے کی صلاحیت شامل ہے۔

    وٹامن سی کا خزانہ: اگر آپ سمجھتے ہیں کہ صرف لیموں اور مالٹے جیسے ترش پھل ہی وٹامن ’سی‘ کا خزانہ ہیں تو آپ غلط ہیں، کیوی پھل کی 100 گرام مقدار میں ایک سو 54 فیصد وٹامن سی پایا جاتا ہے جو ترش پھلوں کے مقابلے دگنا ہے وٹامن سی طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے اور جسم سے زہریلے مادوں اور کینسر کا سبب بننے والے عناصر کے اخراج میں مدد دیتا ہے

    بے خوابی سے نجات: تائی پے میڈیکل یونیورسٹی کی مختلف تحقیقات کے مطابق کیوی پھل میں ایسے اجزا موجود ہیں جو بے خوابی کو ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں اس کے لیے سونے سے ایک گھنٹہ قبل 2 کیوی پھل کھانا مفید ثابت ہوتا ہے۔

    تروتازہ اور چمکدار جلد: کیوی میں الکلی کی خاصیتیں موجود ہیں جو مرچ مسالے والے کھانوں کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے، اس سے نہ صرف آپ بھرپور متحرک اور توانا رہیں گے بلکہ آپ کی جلد بھی چمکتی دمکتی اور ترو تازہ رہے گی کیوی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ جلد کو خراب ہونے سے بچاتے ہیں، بہتر نتائج کے لیے اس کے گودے کو چہرے پر ملنا بھی فائدہ مند ہے۔

    دل سمیت متعدد بیماریوں میں مفید: دل کی لیڈز یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق غذائی ریشوں سے بھرپور خوراک کھانے سے امراضِ قلب شریانوں کے مسائل کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ اس سے بلڈ پریشر، بلڈ شوگر اور کولیسٹرول بھی کم ہوتا ہے اس کے ساتھ یہ وزن کم کرنے کے لیے بھی مفید ہے۔

    نظام انہضام کے لئے مفید: کیوی پھل میں ایکٹینڈین نامی جز پایا جاتا ہے جس میں پروٹین ہضم کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے چناچہ یہ آنتوں کے مرض میں مبتلا افراد کو خاصہ آرام پہنچاتا ہے۔

    املی صحت کے لئے کیوں ضروری ہے؟

    وٹامن سی کیوں ضروری ہے؟