Baaghi TV

Category: خواتین

  • وزیراعلیٰ پنجاب  عثمان بزدار کا ماضی کی معروف اداکارہ نیلو بیگم کے انتقال پر افسوس کا اظہار

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا ماضی کی معروف اداکارہ نیلو بیگم کے انتقال پر افسوس کا اظہار

    لاہور31جنوری:
    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا ماضی کی معروف اداکارہ نیلو بیگم کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار, مرحومہ کے بیٹے شان اور سوگوار اہل خانہ سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت

    انکا کہنا ہے کہ نیلو بیگم فن اداکاری میں منفرد مقام رکھتی تھیں. نیلو بیگم کی یاد گار فلمیں آج بھی پرستار نہیں بھولے ۔ نیلو بیگم نے لازوال کرداروں سے فلموں کو امر کیا۔ نیلو بیگم نے فلم ”زرقا“ میں جاندار اداکاری کی۔نیلو بیگم کے انتقال سے فلم انڈسٹری کا ایک سنہری دور اختتام پذیر ہوا ۔

  • خواتین کی ووٹ رجسٹریشن کے لئے خصوصی اقدامات، انتخابی عمل میں شرکت یقینی

    خواتین کی ووٹ رجسٹریشن کے لئے خصوصی اقدامات، انتخابی عمل میں شرکت یقینی

    عبدالقادر ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر پشاورنےخواتین کی ووٹ رجسٹریشن کے لئے خصوصی اقدامات اٹھانے کی ہدایات دی ہے۔
    ان خیالات کا اظہار انہوں نے یو آر ڈی او کے تعاون سے ڈسٹرکٹ ووٹرز ایجوکیشن کمیٹی کے منعقد اجلاس میں کیا اس موقع پر ڈسٹرکٹ ووٹر ایجوکیشن کمیٹی کے فوکل پرسن شاہد وسیم ، یو آرڈی او کی پروجیکٹ منیجر راشد خان، شیراز احمد ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر نادرا ساجد صاحب، اور الیکشن آفیسر اصغر صاحب ، اکبر خان موجود تھے۔ اس کے علاوہ کثیر تعداد میں خواتین اور سول سوسائٹیز کے نمائندوں نے شرکت کی اجلا س میں خواجہ سرا اور معذور افراد بھی موجود رہے اس موقع پر ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نے بتایا کہ خواتین کی انتخابی عمل میں شرکت کو یقینی بنانے کے لئے خصوصی اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔نادرا اور سو ل سوسائٹی کی تعاون سے خواتین کی بطور ووٹر رجسٹریشن کرائی جارہی ہے تاکہ آئندہ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن کی شرح کو بڑھایا جائے۔ معاشرے کے تمام افراد بلخصوص خواتین ، خواجہ سراء اور معذور افراد کی سیاسی اور انتخابی عمل میں شرکت کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ آخرمیں ڈسٹرکٹ ووٹرز ایجوکیشن کمیٹی کے فوکل پرسن شاہد وسیم نے آنے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور یہ عزم کیا کہ نادرا اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر خواتین کی انتخابی عمل میں شرکت کو یقینی بنائی جائی گی

  • سیدہ کوثر کے عنقریب پبلش ہونے والے مجموعہ کلام کا نام “عشقِ لا ہوتی” منتخب کیا گیا ہے

    سیدہ کوثر کے عنقریب پبلش ہونے والے مجموعہ کلام کا نام “عشقِ لا ہوتی” منتخب کیا گیا ہے

    سیدہ کوثر کے عنقریب پبلش ہونے والے مجموعہ کلام کا نام “عشقِ لا ہوتی” منتخب کیا گیا ہے
    دھنک لندن ویلفئیرفاؤنڈیشن کی چئیر پرسن ،منفرد لب و لہجہ کی مالک، نوجوان نسل کی نمائیندہ شاعرہ سیدہ کوثر کی عنقریب پبلش ہونے والی شاعری کی کتاب کا نام اناؤنس کر دیا گیا ہے
    ان کے کلام پہ مشتمل عنقریب پبلش ہونے والی کتاب کانام انہی کی مانند بہت منفرد و اعلی ہے
    “عشِق لا ہوتی “ نام کی تقریبِ رونمائی میں خطاب کرتے ہوئے سیدہ کوثر نے کہا کہ نام کے انتخاب میں پچھلے ایک سال سے سبھی دوستوں ،احباب اور اساتذہ اکرام سے تجاویز و مشورہ جات کئے جارہے تھے ۔اب اللہ پاک کے کرم سے سب کی مشترک اور متفقہ رائے سے “عشقِ لاہوتی” نام منتخب کیا گیا ھے انھوں نے مزید بتایا کہ اس نام میں میرے بزرگوں اور پرکھوں کی رضا بھی شامل ہے۔ صحافی طاہر ملک سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ مجھے اردو ادب میں نہائیت منجھے ہوئے اساتذہ اکرام کی راہنمائی اور عظیم ہستیوں کی سرپرستی حاصل ہے۔
    “ عشقِ لا ہوتی” کتاب کی پبلشنگ کے حوالے سے ان کا کہنا ھے کہ کتاب کی پبلشنگ کا کام بہت تحمل اور منظم طریقے سے ہو رہا ہے بہت جلد میں اپنے مداحوں کو خوش خبری سنانے والی ہوں۔ عشقِ لاہوتی کتاب ہر لحاظ سے اپنے اسلوب بیان اور مضامین کے حوالے سے منفرد ہوگی اس میں عورتوں کی حساسیت کے ساتھ ساتھ انسانی جذبات و محسوسات کی عکاسی بھی نہایت عمدگی سے کی گئی ہے یقیننا مداح اس کتاب کو پڑھ کر خوش ہونگے سیدہ کوثر کی کتاب “عشقِ لا ہوتی” اردو ادب کی کتب میں ایک بہترین اضافہ ہوگی۔

  • ساہیوال:موت کے سوداگروں کا عبرتناک انجام،جان کر آپ بھی خوفزدہ ہوجائیں

    ساہیوال:موت کے سوداگروں کا عبرتناک انجام،جان کر آپ بھی خوفزدہ ہوجائیں

    ساہیوال:پولیس تھانہ غلہ منڈی کی زبردست کاروائی،موت کے سوداگر گرفتار، منشیات کی بھاری مقدار برآمد
    تفصیلات کے مطابق تھانہ غلہ منڈی کی حدود میں وہاں کی پولیس ایس ایچ او اے ڈی شاہین کی زیرنگرانی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے گذشتہ روز اسی سلسلہ میں محلہ نور پارک اور شریف کالونی میں کامیاب ریڈ کرکے دو بدنام زمانہ منشیات فروشوں جمشید شیخ سکنہ ڈسپنسری روڈ اور مسماۃ صابراں بی بی سکنہ شریف کالونی کو چرس فروخت کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کرکے انکے پاس سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کرلی،ملزمان سے برآمد ہونے والی چرس کا وزن ساڑھے چھ کلو (6660 گرام) بنتا ہے،ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید کاروائی کا آغاز کردیا گیا ہے،
    اہل علاقہ نے پولیس تھانہ غلہ منڈی کی اس کاروائی پر ایس ایچ او اور انکی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا ہے

  • اسکاٹ لینڈ خواتین کو مخصوص ایام میں استعمال ہونے والی اشیا مفت فراہم کرنے والا پہلا ملک بن گیا

    اسکاٹ لینڈ خواتین کو مخصوص ایام میں استعمال ہونے والی اشیا مفت فراہم کرنے والا پہلا ملک بن گیا

    برطانیہ میں واقع اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ نے ملک بھر کی خواتین کو مخصوص ایام میں استعمال ہونے والی ہر طرح کی اشیا مفت فراہم کرنے کا بل منظور کرلیا اور وہ "غربت” کے خلاف ایسا قدم اٹھانے والی دنیا کی پہلی قوم بن گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسکاٹ لینڈ کے پارلیمنٹ نے 24 نومبر کو ’دی پیرڈ پراڈکٹس اسکاٹ لینڈ بل‘ کو کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

    پیرڈ پروڈکٹ (مفت فراہمی) اسکاٹ لینڈ بل متفقہ طور پر منظور ہوا ، اور اسکاٹ لینڈ کے پہلے وزیر نکولا اسٹارجن نے اسے "خواتین اور لڑکیوں کے لئے ایک اہم پالیسی” قرار دیا۔

    اس سے قبل رواں برس فروری میں بھی مذکورہ بل کو پارلیمنٹ میں قانون سازی کے لیے منظور کرلیا گیا تھا، جس کے بعد اس پر پارلیمنٹ میں بحث شروع ہوئی۔

    مذکورہ بل کو قانون میں تبدیل کرنے کے لیے اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ میں اس پر 4 مراحل میں بحث کی گئی اور آخری مرحلے کی بحث کا اختتام 24 نومبر کو بل کی منظوری کے ساتھ ہوا۔

    بل منظور ہوجانے کے بعد اب اسکاٹ لینڈ دنیا کا وہ پہلا ملک بن گیا جہاں تمام عمر کی خواتین کو مخصوص ایام کے دوران ضرورت میں آنے والی تمام چیزیں مفت فراہم کی جائیں گی۔

    بحث کے دوران ، بل کے تجویز کنندہ ، سکاٹش لیبر کی رکن پارلیمنٹ مونیکا لینن ، نے کہا: "کسی کو بھی اس کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ان کا اگلا ٹیمپون ، پیڈ یا دوبارہ پریوست آ رہا ہے۔

    انہوں نے کہا ، "اسکاٹ لینڈ تاریخ میں غربت میں مبتلا ہونے والا آخری ملک نہیں ہوگا ، لیکن ہمارے پاس پہلی بار ہونے کا موقع ہے۔”

    خواتین کے حیض میں استعمال ہونے والی ہر طرح کی چیزوں کی مفت فراہمی کے لیے حکومت سرکاری دفاتر، عمارتوں اور اہم اسٹورز پر ان کی مفت فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

    تقریبا 55 لاکھ کی آبادی والا اسکاٹ لینڈ اس وقت دنیا کا وہ واحد ملک بھی ہے جہاں اسکول و کالجز کی طالبات کو حیض کے دوران استعمال ہونے والی تمام اشیا مفت فراہم کر رہا ہے۔

    2018 میں ، اسکاٹ لینڈ پہلا ملک بن گیا تھا جس نے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مفت سینیٹری کی مصنوعات فراہم کیں۔

    علاوہ ازیں اسکاٹ لینڈ میں نجی ریسٹورانٹس، ڈانس و نائٹ کلبز، بڑے شاپنگ مالز، اسپورٹس و فٹنیس کلبز سمیت کئی طرح کے ادارے اپنے دفاتر میں خواتین کی واش رومز میں حیض کے استعمال کی اشیا کی مفت فراہمی بھی کر رہے ہیں۔

    حکومتی اندازوں کے مطابق خواتین کو اشیا کی مفت فراہمی کے بعد حکومت پر سالانہ تقریبا 3 کروڑ 20 لاکھ امریکی ڈالر یعنی پاکستانی تقریبا 4 ارب روپے تک کے اخراجات آئیں گے۔

    چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے حوالہ سے اقدامات کی ضرورت ہے بیگم ثمینہ علوی

    نئے قانون کے مطابق خواتین ضرورت کے مطابق اپنے خصوصی ایام کے موقع پر اپنی من پسند چیز کو مفت حاصل کر سکیں گی اور خواتین کو ’پیڈز کے علاوہ ٹاول اور ٹیمپون‘ بھی مفت مل سکیں گے۔

    ٹیمپون ایک خاص طرح کا آلہ ہے جسے خواتین ’پیڈز‘ کے متبادل کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔

    اسکاٹ لینڈ میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بعض تنظیموں کے مطابق وہاں ہر خاتون حیض کی اشیا پر ماہانہ 13 پاؤنڈ یعنی پاکستانی تقریبا ڈھائی ہزار روپے خرچ کرتی ہے۔

    فلاحی تنظیموں کے مطابق بھاری اخراجات کے باعث اسکاٹ لینڈ کی کئی خواتین ایام خصوصی کے موقع پر استعمال ہونے والی اشیا نہیں خرید سکتیں، جس وجہ سے ان کی صحت متاثر ہوتی ہے۔

    برطانیہ میں سینیٹری پروڈکٹ پر 5٪ ٹیکس عائد کیا جاتا ہے ، جو عہدے داروں نے یورپی یونین (EU) کے قوانین پر الزام عائد کیا ہے جس سے بعض مصنوعات پر ٹیکس کی شرح مقرر کی جاتی ہے۔

    اب جب برطانیہ نے یورپی یونین چھوڑ دیا ہے ، برطانوی وزیر خزانہ رشی سنک نے کہا ہے کہ وہ جنوری 2021 میں "ٹیمپون ٹیکس” کو ختم کردیں گے۔

    جرائم پیشہ افراد کس طرح خواتین کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں ایسے لوگوں سے کیسے…

  • رنگ گورا کرنے والی 59 میں سے 57 کریموں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہوتے ہیں   زرتاج گُل

    رنگ گورا کرنے والی 59 میں سے 57 کریموں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہوتے ہیں زرتاج گُل

    موسمیاتی تبدیلی کی وزیر مملکت زرتاج گل نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں رنگ گورا کرنے والی 59 میں سے 57 کریموں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی: موسمیاتی تبدیلی کے وزیر مملکت ، زرتاج گل نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں رنگ گورا کرنے کی 57 مصنوعات جن میں کچھ بین الاقوامی برانڈز شامل ہیں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    پرو پاکستا نی نیوز ویب سائٹ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وزارت کے ذریعہ کرائے گئے ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ 59 میں سے 57 کریم میں مرکری کی سطح 1pbm سے زیادہ ہے جو تشویش کی بات ہے۔

    گل نے کہا کہ رنگت گورا کرنے والی مصنوعات کے تیار کنندگان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سال 2020 کے آخر تک مصنوعات سے پارہ یعنی مرکری کی سطح کو 1pbm تک کم کرے۔

    زرتاج گُل نے بتایا کہ حکومت جلد کی مصنوعات میں پارے اور دیگر نقصان دہ مادوں کے استعمال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے میڈیا پر بھی زور دیا کہ وہ رنگ گورا کرنے والی مصنوعات سے متعلق گمراہ کن اشتہاروں کی حوصلہ شکنی کریں۔

    پروپاکستانی سے موصولہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حکومت صنعتوں کو مرکری فری مصنوعات بنانے کی ترغیب دے رہی ہے اور مرکری کے استعمال سے متعلق قانون سازی کے سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز خصوصا سفید رنگ کی کریم بنانے والوں کو اعتماد میں لینا چاہتی ہے۔

    زرتاج گل نے کہا "ہم نے رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کے بہت سے مینوفیکچررز کے سی ای اوز سے ملاقات کی اور ان سے مصنوعات سے مرکری ختم کرنے کو کہا۔”

    زرتاج گل نے مزید کہا کہ رنگ گورا والی کریموں میں پارے کی ضرورت سے زیادہ مقدار خطرناک ہے۔

    گل نے یہ بھی بتایا کہ بین الاقوامی برانڈ ‘فیئر اینڈ لولی’ نے وزارت کی سفارش پر اپنا نام تبدیل کرکے ‘گلو اینڈ لولی’ رکھ دیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ماحولیاتی سہولت (جی ای ایف) حکومت کو مالی اعانت فراہم کررہی ہے تاکہ انسانی صحت اور ماحولیات کو مرکری اورمرکری کےمرکبات سے بچایا جاسکے۔


    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی اپنے ٹوئٹ میں زرتاج گُل نے بتایا کہ رنگ چٹا کرنے والی ہر وہ کریم جس میں پارے کی مقدار خطرناک شرح تک ہے، اس کے خلاف میری وزارت ایکشن لے رہی ہے، لائحہ عمل تیار کیا جا چکا ہے۔ ایسی ہر کریم کا غیر مناسب پرچار نہ صرف معاشرتی گراوٹ اور کم خود اعتمادی کا باعث ہے، بلکہ انسانی صحت کے لئے بھی انتہائی مضر ہے۔

    حریم شاہ کا خوبصورتی سے متعلق خصوصی پیغام

    آمنہ الیاس رنگ گورا کرنے والی کریموں کی تشہیر کرنے والی اداکاراؤں پر برہم

    آمنہ الیاس کا گہری رنگت کے حوالے سے ایک اہم پیغام

    سہانا خان کو رنگ پر تنقید کا سامنا ، سوشل میڈیا صارفین نے کالی چڑیل کہہ دیا

     

  • ملتان میں گھریلو تشدد کی روک تھام کے حوالے سے دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد

    ملتان میں گھریلو تشدد کی روک تھام کے حوالے سے دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد

    ملتان : ملتان میں گھریلو تشدد کی روک تھام کے حوالے سے دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ،خواتین پر تشدد کا ایک بڑا سبب ہے، تمام سٹیک ہولڈز مل بیٹھ کر مسئلہ حل کریں، مقررین

    باغی ٹی وی : خواتین سے صنفی امتیاز اور گھریلو تشدد کے حوالے سے سماجی کارکن لائبہ بنت شاکر میئو نے وائس آف پاکستان، وائیلینس اگینسٹ وویمن اور دوراندیش کے تعاون سے دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا جس میں تشدد کی روک تھام اور عوامی شعور اجاگر کرنے میں دلچسپی رکھنے والی خواتین نے شرکت کی-

    اس ورکشاپ کا اہتمام شنگریلا گارڈنز میں کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ گھریلو تشدد سے متاثرہ خواتین میں ان کے حقوق سے متعلق حساسیت اورآگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ خواتین کو جسمانی تشدد سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں اپنے بنیادی حقوق کے بارے میں علم ہوں-

    انہوں نے کہا کہ ناخواندگی اوراپنے حقوق سے لاعلمی خواتین پرتشدد کا ایک بڑا سبب ہے اورگھریلو تشددکے زیادہ ترواقعات ناخواندہ طبقے میں رونما ہوتے ہیں ۔

    مقررین نے مہذب پاکستان کو یقینی بنانے کیلئے سب کو تعلیم کی فراہمی کی ضرورت پرزوردیا اور کہا کہ ملکی ترقی اورخوشحالی کیلئے قومی امور کے تمام شعبوں میں خواتین کی شرکت ضروری ہے۔ گھریلو تشدد کی لعنت کو ختم کرنے کیلئے آگاہی ورکشاپس اور مضبوط قانون سازی کی ضرورت ہے۔

    سوالات و جواب کی نشست کے دوران رضاکاران نے گھریلو تشدد کے خاتمہ کیلئے پولیس ، سیاسی رہنماوںسمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بات چیت کی بھی تجویز پیش کی۔ ورکشاپ سے سلوت شفیع، لائبہ بنت شاکر میئو، عائشہ، میمونہ اور منزہ بٹ نے اظہار خیال کیا۔

    ضدی خواتین ناکام ہیں بقلم:سمعیہ راحیل قاضی

    خواتین پر تیزاب پھینک دیا

    خواتین اور بچے جنسی درندوں کی درندگی کا نشانہ کیوں بنتے ہیں!!! از قلم: محمد عبداللہ

  • چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے حوالہ سے اقدامات کی ضرورت ہے  بیگم ثمینہ علوی

    چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے حوالہ سے اقدامات کی ضرورت ہے بیگم ثمینہ علوی

    اسلام آباد: :صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی اہلیہ بیگم ثمینہ علوی نے کہا ہے کہ چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے حوالہ سے اقدامات کی ضرورت ہے، مرض سے آگاہی کیلئے سیمینارز منعقد کئے جائیں –

    باغی ٹی وی : چھاتی کے کینسر کی وجوہات میں موروثی منتقلی سمیت دیگر کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی کیلئے میڈیا کا کردار اہم ہے، این جی اوز بیماری سے متعلق ڈیٹابیس کی تیاری میں مدد دیں-

    اے پی پی کے مطابق چھاتی کے کینسر کے حوالہ سے شعور اجاگر کرنے کے بارے میں جمعرات کو یہاں ایوان صدر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بیگم ثمینہ علوی نے کہا کہ بریسٹ کینسر کے دو اہم مسائل میں خواتین کی آگاہی اور تشخیص شامل ہیں، یہ مرض قابل علاج ہے اور جلد، بروقت تشخیص سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ خواتین اس مرض پربات نہیں کرتیں اور چھاتی کاکینسر خاموشی سے انسانی جانیں لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار اس کی سنگینی کے مظہر ہیں اس لئے اس مرض کی آگاہی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین صحت، تعلیم، سفارتکار، حکومتی ادارے اور تمام شراکت دار آگاہی پیدا کریں۔ اس حوالہ سے تعلیمی اداروں اور دفاتر میں سیمینارز منعقد کئے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیہی خواتین اس بیماری کو نظر انداز کر دیتی ہیں اور شرم سے اس کا ذکر نہیں کرتیں-

    بیگم ثمینہ علوی نے کہا کہ خاتون خاندان کا مرکز ہے اور اس کی صحت سے گھر خوشحال ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ خاندان میں مرض کی موجودگی سے چھاتی کے کینسر کا رسک بڑھ سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس کی بروقت تشخیص سے علاج ممکن ہے اس لئے چھاتی کے کینسر سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس کا علاج مہنگا ہے اور جو خواتین علاج کی استطاعت نہیں رکھتیں ان کے علاج کیلئے مخیر حضرات آگے آئیں اور فلاحی ادارے کام کریں تاکہ بروقت علاج کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    بیگم ثمینہ علوی نے چھاتی کے کینسر کے علاج کی سہولتیں فراہم کرنے والے اداروں کی کاوشوں کوقابل تعریف قرار دیا اور کہا کہ این جی اوز کا کردار بھی اہم ہے۔

    انہوں نے فلاحی اداروں اور مخیر حضرات کے تعاون کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب اس میں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔

    انہوں نے کہاکہ چھاتی کے کینسر کے علاج کیلئے خواتین کو دور دراز شہروں میں جانا پڑتا ہے اس لئے ہر ضلع کی سطح پر یاکم از کم ڈویژن کی سطح پر اس کے علاج کی سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہسپتال تک پہنچانے کیلئے کچھ ادارے شٹل سروس شروع کرنا چاہتے ہیں جو قابل تعریف اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھاتی کے کینسر کی آگاہی کے بارے میں میڈیا کا کردار اہم ہے۔

    انہوں نے اینکرز، میڈیا مالکان اور مارننگ شوز کے میزبانوں سمیت تمام مکتبہ ہائے فکر سے کہا کہ دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں میں بیماری کے حوالہ سے شعور اجاگر کریں۔ سوشل میڈیا صارفین بھی اپنے پیغامات میں کردار ادا کریں تاکہ قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔

    بیگم ثمینہ علوی نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کے باہمی رابطہ کو بہتر بنایا جائے اور گھر گھر آگاہی فراہم کی جائے۔ پنک ربن مہم کو کامیاب بنانے میں معاونت پر انہوں نے تمام شراکت داوں سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ پاکستان میں اعدادو شمار مرتب کرنے کیلئے این جی اوز معاونت کریں۔ مسلح افواج بھی ڈیٹابیس کیلئے حکومت کی معاونت کریں۔

    انہوں نے کہا کہ پی اے ایف کے تمام بیسزپر آگاہی سیمینارز منعقد کئے جائیں گے۔ چھاتی کے کینسر کی بیماری کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے میں تمام اداروں کا کردارقابل تحسین ہے۔ اجتماعی کوششوں سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس مہم کیلئے کوئی سرکاری خزانہ استعمال نہیں کیا گیا بلکہ تمام شراکت داروں کے تعاون سے یہ مہم چلائی جا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ خواتین معاشرے کا اہم ستون ہیں ان کی صحت کا تحفظ ہم سب کا مشترکہ فرض ہے۔

  • ضدی خواتین ناکام ہیںئی

    ضدی خواتین ناکام ہیںئی

    ضدی خواتین ناکام ہیں۔

    ضدی عورتیں اپنی شادیوں میں ،بلکہ رشتہ داروں کے ساتھ اپنے تعلقات میں بھی ناکام ہوجاتی ہیں۔

    ایسی خواتین جو لوگوں کے جذبات کا خیال نہیں رکھتیں، اور معاملات میں لچک نہیں رکھتیں ، ان کی شادیاں مکمل ناکام ہوجا تی ہیں ۔ بلکہ
    ان کی زندگیاں بہی ناکام ہو جاتی ہیں ۔ کیوں؟

    1- وہ اپنے شوہر کے ساتھ اپنی انا کی جنگ لڑتی رہتیں ہیں ، شوہر پر قابو پانے کی کوشش میں لگی رہتی ہیں۔ اس جنگ میں ہمیشہ وہ ہار جاتی ہیں،وہ کبھی یہ جنگ نہیں جیت سکتیں ۔ کیونکہ مرد ضد کرنے والی بیوی اور ضدی بہن کے سامنے اور زیادہ ضدی ہوجاتے ہیں ، اور وہ ایک نرم اور فرمانبردار عورت کے سامنے بہت زیادہ نرم ہو جاتے ہیں۔

    2- ایک ضدی عورت سوچتی ہے کہ وہ اپنی رائے پر اصرار کر کے جیت جائیگی ، اور وہ کسی بھی مخالفت کا سامنا کرلیگی ۔ جبکہ وہ یہ بھول جاتی ہے کہ یہ جنگ وہ اپنی ضد اور زبان سے جیت بہی جائے تو وہ اس دل سے محروم ہوجائیگی جو اسے پیار کرتا تھا اور اس کی فکر میں لگا رہتا تھا۔

    3- تمام ثقافتوں اور حکمتوں میں ایک آسان ، نرم ، ہمدرد ، صابرہ اور در گذر کرنے والی عورت کی تعریف کی گئی ہے ۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے ایک ایسی عورت کی تعریف کی ہے جو اپنے شوہر کا احترام کرتی ہے اور نرمی اور حکمت کے ساتھ بولتی ہے ، اور اس کے نتیجے میں وہ اس سے ہمیشہ محبت کرے گا اور اسے کبھی
    دور نہیں جائیگا۔

    4- وہ عورت جو اپنے شوہر کی بات مانے لیتی ہے اور طوفان کے گذرنے تک صبر کرلیتی ہے۔ وہ عقلمند عورت ہے ، اپنے کنبہ کو بکہرنے سے بچا لیتی ہے ۔ اور وہ عورت جو خشک چھڑی کی طرح بے لچک کھڑی ہوتی ہے وہ ٹوٹ جاتی ہے ، جسکا دوبارہ جڑنا ممکن نہیں ۔

    5- سمجھوتہ نہ کرنے والی عورت اپنی رائے سے چمٹی رہتی ہے۔ وہ مسلسل اپنی فتح کا وہم برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہے: اس زعم میں رہتی ہے کہ میں جیت گئی اور آپ ہار گئے ، میں ٹھیک ہوں اور آپ غلط ہیں۔ ایسی عورت دوسروں کو تباہ کرنے سے پہلے خود کو تباہ کر دیتی ہے۔ اور وہ دنیا اور آخرت میں غمزدہ اور مایوسی کی زندگی بسر کرتی ہے چونکہ اسے پیار اور محبت چاہئے جو ہارا ہوا مرد نہیں دے سکتا۔اسکی زبانی جیت حقیقت میں اسکی زندگی کی ہار تہی-

    ازدواجی مشاورت کے لمبے تجربات میں، میں نے دیکھا کہ ضدی خواتین کی زندگی ہمیشہ طلاق سے دو چار ہوتی ہے ۔ اور ان کی خاندانی اور معاشرتی زندگی ہمیشہ تلخیوں سے بہری رہتی ہے ۔

    7- ایک بدوی عرب عورت نے شادی کے دن اپنی بیٹی کو جو نصیحت کی تہی ، تمام کامیاب خواتین اسے ایک عورت کے لئے بہترین تحفہ سمجھتی ہیں۔ اسکی نصیحت تہی :
    ” تم اسکی لونڈی بن جائو …… اور یقینا بہت جلد وہ تمہارا غلام بن جائیگا” ۔
    "مرد مہربان، فیاض ہمدرد ہوتے ہیں ، لیکن ایک ضدی ، بے وقوف عورت انہیں دشمن بنا دیتی ہے۔”

    آخر میں ایک عقلمند شیخ رحمہ اللہ کا قول نقل کرتی ہوں:

    میں 27 سال تک ایک عدالت کا قاضی رہا ……… اور میں نے دیکھا کہ طلاق کے زیادہ تر واقعات مرد کے غصے اور عورت کے بے وقوفانہ ردعمل کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔
    دوسرے لفظوں میں ، عورت کی ضد مرد کو اس سے دس گنا زیادہ ضدی بناتی ہے۔

  • خواتین اور بچے جنسی درندوں کی درندگی کا نشانہ کیوں بنتے ہیں!!! از قلم: محمد عبداللہ

    خواتین اور بچے جنسی درندوں کی درندگی کا نشانہ کیوں بنتے ہیں!!! از قلم: محمد عبداللہ

    جانتے ہیں یہ مرد ریپسٹ کیسے بنتے ہیں ، خواتین اور بچے ان کی درندگی کا نشانہ کیوں بنتے ہیں؟؟
    تحریر: محمد عبداللہ

    جنسی ہراسگی، ریپ، زیادتی، تیزاب گردی، چھیڑچھاڑ یہ بڑے ایشوز ہیں جو خواتین کو پیش آتے ہیں. ہم دیکھتے ہیں کہ آئے دن خواتین سوشل میڈیا پر شور کر رہی ہوتی ہیں کہ ان کو انباکس میں ہراساں کیا جا رہا. نہ صرف خواتین بلکہ چھوٹے بچے بھی ان شیاطین سے محفوظ نہیں ہیں. ہمارے ناران ٹور میں بڑی لمبی چوڑی بحث اس بات پر ہوئی کہ یہ حادثات پیش کیوں آتے ہیں. مختلف وجوہات پر بڑی مدلل بات ہوتی رہی. وہ وجوہات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں تاکہ ہم ان کی بنیاد پر ہم اپنے معاشرے میں سے یہ جرائم بلکہ قبیح ترین حرکتیں ختم کرنے کی کوشش کرسکیں.
    سب سے بنیادی بات والدین کی تربیت کی ہے جب والدین سے تربیت انسان کو بہترین ملے تو اس کے اندر شیطانیت پنپنے کے چانسز کم ہوتے ہیں جبکہ ہمارے یہاں سب سے بڑا ایشو یہی ہوتا ہے کہ والدین کی ساری زندگی بچوں کی ضروریات پوری کرتے گزر جاتی ہے جبکہ بچوں کی تربیت کے لیے ان کے پاس ذرہ برابر ٹائم نہیں ہوتا.جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ بچہ اپنی ذات میں اکیلا ہوتا جاتا اور اگر اس کو دوستوں کی اچھی صحبت میسر نہ آئے تو اس بچے کا بگڑنا سو میں سے نوے فیصد طے ہوتا.
    خواتین اور بالخصوص چھوٹی بچیوں اور بچوں کے ساتھ ان ایشوز کے پیش آنے کی دوسری بڑی وجہ جوائنٹ فیملی سسٹم کا ماحول جو بظاہر ہمارے معاشرے کا حسن ہے لیکن بعض جگہوں پر جوائنٹ فیملی سسٹم سے مراد یہی ہوتا ہے کہ ہر انکل آنٹی اور ہر کزن کو کھلم کھلا چھوٹ ہوتی ہے ہر جگہ آنے جانے کی اور بچوں کو دکان، سکول، ٹیویشن وغیرہ پر لانے اور لے جانے کی. اسلام نے جو بنیادی محرم و غیرمحرم اور ان کی حدود مقرر کی ہیں لیکن جب ان حدود کا خیال نہیں رکھا جاتا تو نتائج سنگین نکلتے ہیں. کتنی ہی چھوٹی عمر کی لڑکیاں اور لڑکے ایسے ہوتے جو رشتے میں لگنے والے چاچو، ماموں اور کزنز کی درندگی کا نشانہ بنتے ہیں.

    تیسری بڑی وجہ بچوں کو سیکس ایجوکیشن نہ دینا مسئلہ ہے جو تلخ واقعات کی وجہ بنتا ہے. اسی سیکس ایجوکیشن کی بنیاد پر ہمارا لبرل طبقہ بڑا سیخ پا ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں سیکس ایجوکیشن دی جانی چاہیے لیکن درحقیقت یہ سیکس ایجوکیشن والدین دے سکتے یا سگے بہن بھائی دے سکتے وہ بہتر بتا سکتے کہ گڈ ٹچ کیا ہے اور بیڈ ٹچ کیا ہے. جب ماں بیٹی کو بتائے گی کہ یر وہ ٹچ جو غیر محرم کہیں بھی کرے گا وہ حرام ہے اور غلط ہے تو اس کا فائدہ ہے لیکن جب سیکس ایجوکیشن تعلیمی اداروں میں دی جاتی یے تو اس کے نتائج بھی اچھے نہیں نکلتے بلکہ وہاں پھر لڑکی اور لڑکے کی رضا مندی سے بننے والے حرام تعلق کو بھی گڈ ٹچ میں لیا جاتا ہے.

    چوتھی بڑی وجہ اسلام کے پردے کے سسٹم کو نہ اپنانا ہے. آپ تعلیمی اداروں اور بالخصوص یونیورسٹیز میں جا کر دیکھ لیں لڑکیاں حدیث کے مصداق لباس پہننے کے باوجود بےلباس ہوتی ہیں اور اپنے اس عمل کے ساتھ نادانستگی میں درندہ صفت لوگوں کو دعوت دے رہی ہوتی ہیں کہ وہ موقع ملنے پر ان کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا سکیں جبکہ ان کی نسبت پردہ کرنے والی خواتین اکثر ان چیزوں سے محفوظ رہتی ہے.
    ان کیسز کے پیش آنے کی پانچویں بڑی وجہ شادیوں کا لیٹ ہونا، نکاح کے لیے مسائل جب کہ بدکاری کے لیے سہولیات کا وافر ہونا بھی ہیں. لڑکے والوں کی طرف سے جہیز کی لمبی لسٹ اور لڑکی والوں کی طرف سے اپنی بیٹی کے مستقبل محفوظ کرنے کے نام پر جو فہرستیں بنائی ہوئی ہیں ہمارے معاشرے نے انہوں حلال کو مشکل اور حرام کو آسان بنا دیا ہے جو نوجوانوں کو بغاوت کی طرف لے جاتا یے اور جس کا نتیجہ ہم ایسے کیسز کی صورت بھگتتے ہیں.
    تعلیمی اداروں میں مخلوط ماحول جہاں بعض مثبت چیزوں کو جنم دیتا ہے وہیں پر حرام کے رشتوں کو بنانے کا موجب بھی بنتا ہے اور چھٹی بڑی وجہ یہی ہے. ہمارے تعلیمی اداروں میں کتنی ایسی لڑکیاں ہیں جو بےچاری چند نمبرز کے لیے پروفیسرز اور کلاس فیلوز کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی رہتی ہیں. تعلیمی اداروں میں یہ واقعات عام ہیں یہ اور بات ہے کہ رپورٹ نہیں ہوتے.
    ساتویں نمبر پر ایک بہت بڑا مسئلہ ہمارے مدارس اور مساجد تک میں چھوٹے بچوں اور بچیوں کے ساتھ ریپ کے واقعات ہیں جو ان کے مربی اور قران پڑھانے والوں کے ہاتھوں ہوتا ہے. یہاں پر بدقسمتی سے بڑا اعتراض آتا ہے کہ بچہ ہو یا بچی جب قران یا دین پڑھنے آتا ہے تو اس کا لباس بھی ٹھیک ہوتا اور آتا بھی مسجد یا مدرسے میں ہے جبکہ ریپ کرنے والا بھی قران کا قاری اور دین کا عالم ہے تو کیسے یہ واقعات پیش آتے ہیں. ہمارے مدارس، اسکولز اور مساجد میں ہمہ وقت سیکیورٹی کیمرے لگے ہونے چاہیں جن پر ذمہ دار بندوں کی نگرانی ہو. بچوں کو قراء حضرات کے پاس اکیلا ہرگز نہ چھوڑا جائے وہ چاہے مسجد میں ہوں یا گھر میں.
    آٹھویں نمبر پر جو وجہ ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب سے بڑی وجہ ہے اور وہ ہے ان شدید ترین کیسز پر موثر سزاؤں کا نہ ہونا، کمزور عدالتی سسٹم کے باعث شکوک و شبہات کا فائدہ اٹھا کر مجرم کر بچ جانا یہ سب سے بڑی وجہ ہے جو ان درندوں کو ان برے افعال پر ابھارتی ہے. اگر موثر اور عوامی سزاؤں کا اطلاق ہو یہ درندے بھی قابو میں رہیں گے اور ہاارے بچے بھی محفوظ رہیں گے.

    نویں بڑی وجہ ہمارے میڈیا پر چلنے والے ڈرامے، موویز اور اشتہارات ہیں جن میں سسر بہو کے پیچھے پڑا ہے تو بہنوئی سالی کے پیچھے، بھاوج دیور پر ڈورے ڈال رہی تو بھائی نما دوست اپنے ہی بھائی کی بیوی کے پیچھے پڑا ہے. اگر اشتہارات کی بات کریں تو ان کا واحد سبجیکٹ ہی عورت ہے. عورت کے جسم کے مختلف اعضاء دکھائے بغیر جب کوئی چیز نہیں بکے گی تو ان کمرشلز کو دیکھنے والے بھی پھر عورت کے پیچھے ہی رہیں گے اور ان کو عورت بیٹی، بیوی، ماں، بہن کے روپ میں نہیں بس ایک سبجیکٹ عورت کے طور پر دکھے گی. جب مکمل ذرائع ابلاغ اور تفریح کے سارے ادارے عورت کو ایک شوپیس، پراڈکٹ اور ماڈل کے طور پر دیکھیں اور استعمال کریں گے تو اس معاشرے میں عورت کی عزت نہیں ریپ ہی ہوتا جو ہم اپنے معاشرے میں دیکھ رہے ہیں
    محمد عبداللہ