سوفلے پوٹیٹو
اجزاء:
آلو تین عدد
کدوکش. چیز پون کپ
کالی مرچ دو چٹکی
جائفل دو چٹکی
پارسلے تین عدد
انڈے دو عدد
ترکیب:
آلووں میں کانٹے کی مدد سے سوراخ کر لیں پھر انھیں فوائل میں رکھ کر پہلے سے گرم۔اوون میں ایک گھنٹے کے لیے دوسودس ڈگری پر بیک کر لیں اور اوون سے نکال کر باہر رکھ دیں جب تھوڑے ٹھنڈے ہو جائیں تو ان کے اوپر والے حصے کاٹ کر گو دا نکال لیں لیکن آلو کا چھلکا نہ اترے پھر یہ گودا چیز کالی مرچ جائفل انڈے کی زردی کسی باول میں ڈال کر مکس کر لیں پھر انڈے کی سفیدیاں پھینٹ لیں اور اسی آمیزح میں مکس کر لیں اب اس آمیزے کو آلووں میں بھر کر دس منٹ بیک کر لیں جب گولڈن براون ہو جائے تو نکال کر پارسلے کے ساتھ گارنش کر کے سرو کریں
Category: خواتین
سوفلے پوٹیٹو مزیدار اور لذیذ ریسیپی
لذیذ اور ذائقہ دار پوٹیٹو سیلیڈ بنانے کی ترکیب
پوٹیٹو سیلیڈ
اجزاء:
مایونیز چار کھانے کے چمچ
سویا چار کھانے کے چمچ
چینی دو چٹکی
کُٹی کالی مرچ دو چٹکی
ابلے ہوئے آلو دو عدد
ترکیب:
آلو کو ابال کر چھیل لیں اور کیوبز میں کاٹ لیں پھر ایک پیالے میں ڈال کر مایونیز چینی سویا اور کالی مرچ شامل کر کے اچھی طرح مکس کر لیں اور فریج میں ٹھنڈا ہونے کے لیے رکھ دیں جب ٹھنڈا ہو جائے تو سرو کریںگھر کو جراثیموں سے محفوظ بنانے کی اہم تراکیب
گھر کو جراثیموں سے محفوظ بنانے کی اہم تراکیب
الرجی اور وائرل بیماریاں پیدا کرنے والے جراثیم ہمیں دکھا ئی نہیں دیتے اور نہ ہی انہیں پوری طرح ختم کیا جا سکتا ہے لیکن اگر چند احتیاطی تدابیر کی جائیں تو ان کے حملوں سے محفوظ رہیں گے ساتھ ہی بلاوجہ کی ڈاکٹروں کی فیس اور ادویات والا خرچہ بھی بچاسکیں گے مندرجہ ذیل تراکیب ہمیں اور ہمارے بچوں کے لیے ماحول کو صحت مند بنانے میں ہمارے مددگار ہوں گے
گھر کے دروازوں پر خاص طور پر مین داخلی دروازوں پر دو ڈورمیٹ ایک اندر کی طرف اور ایک باہر کی طرف استعمال کریں تاکہ جوتوں کے ساتھ گھر میں داخل ہونے والی پولن اور دوسرے جراثیم کا داخلہ بند ہو سکے گھر میں چلنے پھرنے کے لیے الگ جُوتا رکھیں الرجی اور جراثیم ہوا کے ذریعے ہمیں متاثر کرتے ہیں جبکہ پودے ہوا کو صاف کرتے ہیں گھر کے باہر اور اندر گملوں میں پودے لگائیں اس طرح پودے گھر کو خوبصورت بھی بنائیں گے اور ہوا کی صفائی بھی کریں گے ہوا کو صاف کرنے والے ان ڈور پلانٹس پودوں کی نرسری سے عام مل جاتے ہیں اس کے علاوہ ائیر پیوریفائر گھر کے بیڈ رومز اور لیونگ رومز میں ضرور استعمال کریں یہ تھوڑا مہنگا تو ہے لیکن یہ آپ کو وائرل۔انفیکشنز اور الرجی انفیکشنز سے بچاتا ہے اس کے علاوہ ائیر ہومیڈیفائر بھی استعمال کریں یہ ہوا میں نمی کا تناسب برقرار رکھتا ہے اور یہ تناسب خاص طور پر سردیوں میں جب ہوا خشک ہو جاتی ہے یہ ہمیں بہت سی بیماریوں سے بچا کر رکھتا ہے
گھر میں استعمال ہونے والی بیڈ شیٹس خاص طور پر تکیہ کورز ہفتے میں ایک مرتبہ لازمی جراثیم کش صابن یا صرف سے دھوئیں عام طور پر ویکیوم کلینر فلٹر کے ساتھ ہی آتے ہیں مگر چند دفعہ کے استعمال کے بعد ان کا فلٹر گندہ ہو جاتا ہے اور ان ویکیوم سے صفائی کے دوران نظر نہیں آتا مگر فلٹر سے نکلنے والی ہوا پولن اور کئی طرح کے دوستے ذرات ہوا میں پھیلا دیتی ہے جو سانس کے راستے ہماری صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں لہذا ویکیوم۔کو فلٹر کے ساتھ استعمال کریں اور ویکیوم کے فلٹر کو صاف کرنے کے بعد ویکیوم کا استعمال کریں گھر کے فرش کو روزانہ دھوتے اور پونچا لگاتے وقت فنائل۔کا۔ستعمال۔کریں یہ جراثیموں کو ماردے گی اور کیڑے مکوڑوں کو بھی گھر میں رہنے نہیں دے گی اور بہت سی بیماریوں سی بیماریوں سے بچائے گی
پردے گھر کو خوبصورت بناتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ مٹی کے ذرات ڈسٹ اور دوسری الرجی پیدا کرنے والے دھوئیں کو اپنے اندر جذب کرتے رہتے ہیں لہذا پردوں کو مہینے میں کم از کم۔ایک یا دو بار گرم پانی سے دھو کر لٹکائیں اس کے علاوہ کارپٹ بہت سے الرجی اور وائرل انفیکشن پیدا کرنے والے جراثیم ہمارے جسم میں منتقل کرنے کا باعث بنتے ہیں کارپٹ کا استعمال۔گھر میں بند کر دیں خاص طور پر سونے والے کمروں میں اور جہاں آپ بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہیں کارپٹ کی جگہ آپ چٹائی یا کوئی وقتی بچھونا بچھا سکتے ہیں جسے بعد میں۔آسانی سے دھویا جا سکےرونے سے ختم ہونے والی خطرناک بیماریاں
رونے سے ختم ہونے والی خطرناک بیماریاں
ہمارےمعاشرے میں رونے والوں کو کمزورسمجھا جاتا ہے خاص طور پرمردوں کو اسی لیے مرد حضرات وہاں بھی نہیں روتے جہاں رو لینا چاہیے ایک تحقیق کے مطابق عورتیں مہینے میں پانچ سے سات مرتبہ جبکہ مرد مہینے میں ایک مرتبہ روتے ہیں حالانکہ رونا کچھ بیماریوں کے حوالے سے نہایت مفید ہے چند بیماریاں ایسی ہیں جو رونے سے ختم ہو جاتی ہیں آپ اگر ان بیماریوں میں سے کسی کا شکار ہیں تو بے فکر ہو کر روئیں یہ آپ کی صحت کے لیے مفید ہے چند بیماریاں۔درج ذیل ہیں
سٹریس اور ڈپریشن: ایک تحقیق کے مطابق رونے سے سٹریس کا خاتمہ ہوتا ہے اور انسان سکون اور ریلیکس محسوس کرتا ہے ماہرین کے مطابق رونے کے تھوًی دیر بعد ذہنی تناو کا۔خاتمہ ہو جاتا ہے جس سے گہری نیند آتی ہے میڈیکل سائنس کء مطابق رونے سے پیراسمیتھیٹیک نروس سسٹم بیدار ہوتا ہے اور یہ سسٹم۔دماغ کو پُرسکون کرنے میں مدد دیتا ہے اسی طرح ہائی بلڈ پریشر جو کہ بہت سی خطرناک بیماریوں لا باعث ہے جس میں ہارٹ اٹیک فالج گردے فیل ہونے جیسی خطرناک بیماریاں شامل ہیں ماہرین کے مطابق رونے سے انسان کا بلڈ پریشر نارمل ہوتا ہے اور دل کی تیز دھڑکنیں بھی نارمل۔ہو جاتی ہیں اس کے علاوہ رونے کے دوران آنکھوں سے بہنے والے آنسو ہماری آنکھوں کی صفائی کر دیتے ہیں اس کے علاوہ آنسو جسم سے فاضل مادے بھی خارج کر دیتے ہیں جو سٹریس کے دوران بڑھ جاتے ہیں اور اس سے ہمارے جسم کا کورٹیسل ہارمون لیول نارمل۔ہو جاتا ہے اس ہارمون کی زیادتی ذہنی تناو کا باعث بنتی ہے ہمارے جسم میں موجود میگنیز کی زیادہ تعداد ہمارے مُوڈ کو متاثر کرتی ہے جب ہم روتے ہیں توانسووں کے راستے ہمارے جسم میں موجود میگانیز کی زیادہ تعداد خارج ہو جاتی ہے اور جب یہ خارج ہوتے ہیں تو مُوڈ بہتر ہونے کے ساتھ ہی گہری نیند حاصل ہو جاتی ہے جسمانی درد کی صورت میں رونے سے تکلیف میں کمی واقع ہوتی ہے ماہرین کے مطابق رونے کے دوران آنسووں کے ساتھ جسم سے ایسے کیمیکلز خارج ہو جاتے ہیں جسم کی تکلیف کم کرتے ہیں ساتھ ہی ہمارے غم کے احساس کو بھی کم کر دیتے ہیںدانتوں کا پیلاہٹ پن دور کرنے کی تراکیب
دانتوں کو چمکانے کے لئے لوگ ہزاروں روے ڈینٹسٹ کو دے کر دانت صاف کرواتے ہیں تاہم چند قدرتی طریقوں سے آپ اپنے دانتوں کو سفید کر سکتے ہیں
پاپ کورن کے سخت کونے دانتوں پر سے بیکٹیریا کو ہٹانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں رات کو سونے سے پہلے اگر ٹوتھ برش نہ کع سکیں تو آخری غذا کے طور پر پاپ کارن کھالیں اس سے دانتوں میں موجود بیکٹیریا ختم ہو سکتے ہیںایک چمچ ناریل کے تیل سے دانتوں کو دھو لیں پندرہ منٹ تک ناریل کا تیل دانتوں پر لگا رہنے دیں تاکہ دانتوں میں موجود بیکٹیریا ختم ہو جائیں اور دانت صاف اور سفید ہو جائیں
دودھ میں موجد کیلشیم دانتوں کے لیے انتہائی مفید ہے اور دانتوں کو مضبوط کرتا ہے دودھ کے ساتھ لیموں بھی دانتوں کو چمکانے کے لئے مددگار ثابت ہوتا ہے
اسٹرابریز میں شامل مالیس ایسڈ قدرتی طور پر دانتوں کی صفائی بحال کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے ایک عدد اسٹرابیری پر نمک اور تھوڑا سا بیکنگ سوڈا لگا کر دانتوں پر ملنے سے دانتوں کا پیلاہٹ پن دور ہوجاتا ہے دانت سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں
بیکنگ سوڈا ٹوتھ پیسٹ کا حصہ ہوتا ہے ایک چوتھائی چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا پانی میں ملا کر ٹوتھ پیسٹ کی مدد سے اپنے دانتوں پر لگائیں یہ عمل روازنہ باقاعدگی سے کریں کچھ عرصہ بعد دانت چمکنے لگیں گے
ادرک کے طبی فوائد
ادرک کے طبی فوائد
ادرک معدہ کے جملہ امراض میں مفید ہے یہ دست اور بھی ہے اور قابض بھی ہے تازہ ادرک پسی ہوئی آدھی چمچ ادرک میں ایک چمچ پانی ایک عدد لیموں کا رس ایک چمچ پودینے کا رس اور ایک چمچ۔شہد ملا لیں یہ مرکب وہ لوگ جنھیں متلی قے بد ہضمی یرقان اور بواسیر کی شکایت دن میں تین بار چاٹ لیں یہ نسخہ ان بیماریوں میں بے حد اکسیر کا درجہ رکھتا ہے اگر بھوک کم لگتی ہو تو بھی ادرک استعمال کریں پیٹ کا درد اور اپھارہ دور کرنے لے لیے بھی ادرک کھائی جاتی ہے اگر ہاضمہ درست رکھنا ہو تو کھانے کے بعد تازہ ادرک کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا چبا لیں اس نسخے سے زبان کی میل بھی اترتی ہے اس کے علاوہ معدہ کئی بیماریوں سے بھی پاک رہتا ہے اگر جگر کی خرابی کے باعث پیٹ میں پانی جمع ہو جائے تو مریض کو ادرک کا پانی پلائیں کیونکہ پانی پیشاب آور ہے اور پیٹ کا ساراپانی نکال دیتا ہے اس کے علاوہ صرف ایک چوتھائی ادرک کے چمچ کے روزانہ استعمال سے آپ ذیابیطس سے محفوظ رہ سکتے ہیں اور خون میں گلوکوز انسولین اور کولیسٹرول کا لیول کنٹرول میں رہتا ہے ایک تحقیق کے مطابق ادرک کے باقاعدہ استعمال سے جسم میں انسولین کی مقدار صحیح رہتی ہے جس کہ وجہ سے ذیابیطس ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں لہذا ایسے لوگ جنہیں ذیابیطس ہونے کا خطرہ لاحق ہو انہیں یہ ضرور استعمال کرنا چاہیے جبکہ دیگر افراد میں بھی یہ بہت فائدہ مند ہیںادرک کی چائے کے حیرت انگیز طبی فوائد
ادرک کی چائے امیون سسٹم یعنی قوت مدافعت کو بڑھاتی ہے مائیگرین میں آرام دیتی ہے ذہنی اور اعصابی تناو دور کرتی ہے پیٹ کا درد ختم کرنے کے لیے انتہائی موثر ہے سانس لینے کے مسائل میں مدد گار ہے خون کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے انتہائی مفید ہے متلی اور قے سے نجات کا ایک اچھا قدرتی ذریعہ ہے اس کے علاوہ اگر آپ کو سفر کے دوران تھکاوٹ اور قے کی شکایت ہے تو سفر شروع کرنے سے پہلے ادرک کی چائے پی لیں اس سے آپ ان مسائل سے محفوظ رہیں گے ادرک میں موجود میگنیشئیم انسانی معدے کے لیے انتہائی مفید ہے اگر معدے میں کھانے کے بعد جلن یا تکلیف ہو تو ادرک والی چائے پینے سے افاقہ ہوگا جسم میں کورک ایسڈ بڑھنے سے جسم میں سوزش شروع ہو جاتی ہے لیکن آپ ادرک والی چائے کا استعمال شروع کر دیں تو اس سے نجات مل جائے گی آپ جوڑوں کے درد سے محفوظ رہیں گے جبکہ آپ کے پٹھے بھی مضبوط ہوں گے ادرک کی چائے میں ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جن سے جسم کو آسودگی ملتی ہے اور ذہنی تناو سے سکون ملتا ہے ادرک میں موجود وٹامنز لحمیات اور امینو ایسڈ کی بدولت خون صاف رہتا ہے اور اس میں ٹیومرز نہیں بنتے جس کے ذریعے انسان دل کی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے ادرک میں موجود اینٹی آکسیڈینٹس کی بدولت انسانی جسم کی قوت مدافعت مضبوط ہوتی ہے خاص ایام میں خواتین کو کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایک کپ ادرک والی چائے پینے سے کافی افاقہ ملے گا اس کے علاوہ۔اگر سردیوں میں سانس لینے میں دشواری پیش آئے تو ایک کپ روزانہ ادرک کی چائے پینے سے آرام ملتا ہے ادرک والی چائے کا۔ایک کپ روازنہ پیئیں اور بیماریوں سے محفوظ رہیں
چائے پینے سے کون کون سی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں ?
حالیہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ چائے کا زیادہ استعمال انسانی جسم کی ہڈیوں کے لیے نقصان دہ ہے امریکی محققین نے ایک تحقیق میں کہا ہے کہ چائے میں فلورین کی زیادہ مقدار ہڈیوں اور دانتوں کو کمزور کرتی ہے اور زیادہ چائے پینے والے افراد ہڈیوں کی کمزوری کا شکاف ہو سکتے ہیں تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ چائے میں پانی کی۔نسبت ستر فیصد زیادہ فلورین موجود ہوتا ہے جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے
چائے پینے سے وزن میں اضافہ ہوتا ہے چائے پینے سے جوڑوں کے درد میں اضافہ ہوتا ہے پیشاب میں یورک ایسڈ کی تعداد بڑھ جاتی ہے اور گیس کی پرابلم بھی بڑھ جاتی ہے
گردن میں درد کے علاج کی گھریلو ٹپس
گردن کی نسوں میں کھچاو پیدا ہونے یا گردن پر زیادہ دباو پڑنےکی وجہ سے گردن میں درد ہونے لگتا ہے گردن کا درد کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے اس کی بڑی وجہ سونے کا غلط طریقہ بھی ہو سکتا ہے اگر گردن میں درد ایک ہفتہ سے زیادہ رہے تو اس کا باقاعدہ علاج کروانا ضروری ہوتا ہے گردن کے چند گھریلو علاج موجود ہیں جن کو آزمانا کافی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے آپ یہ گھریلو ٹوٹکے آزما کر گردن کے درد دے چھٹکارا پا سکتے ہیں
ایک کپ پانی کو گرم کر کے اس میں ایک چمچ ادرک کا پیسٹ ڈال کر مکس کر لیں دن میں تین سے چار مرتبہ ادرک والی چائے پئیں اس سے درد میں فوراً آرام آ جائے گا
زیتون کے تیل کو تھوڑا سا تیل گرم کر کے اس سے گردن کی مالش کریں زیتون کے تیل سے مالش کرنے کے بعد ایک تولیہ کو گرم پانی میں بھگو دیں پھر اس کو دس منٹ تک گردن کے اوپر رکھیں اس سے درد میں بہت آرام ملتا ہے
اجوائن کو ایک پوٹلی میں باندھ کر اس کو توے پر گرم کریں پھر اس گرم پوٹلی سے گردن کو ٹکور کریں یا میتھی دانوں کو پانی میں پیس کر لیپ بنا لیں اس لیپ کو دن میں دو بار لگانے سے درد میں آرام ملے گا اس کے علاوہ سوتے وقت اونچا تکیہ ہر گز استعمال نہ کریں گردن کی ہلکی ورزش کریںچہرے کی میل صاف کرنے کی تراکیب
چہرے کی میل صاف کرنے کی تراکیب
جو کا آٹا چہرے کی میل صاف کرنے کے لیے انتہائی مفید ہے تھوڑے سے آٹے میں چند قطرے زیتون کا تیل اور آدھا چمچ شہد ڈال کر مکس کر لیں پھر اس میں تھوڑا سا پانی اور چند قطرے عرقِ گلاب شامل کر کے پیسٹ بنا لیں اس پیسٹ کو چہرے پر خوب مل لینے کے بعد پانی سے منہ دھولیں
دال مسور اور دال مونگ کا آٹا بنا لیں اور اس میں ہلدی بھی مکس کر لیں پھر اس سفوف میں سےروز رات کو حسب ضرورت سفوف لے کر چکنی جلد کے لیے عرق گلاب کے ساتھ اور خشک جلد کے لیے دودھ کے ساتھ ملا کر پیسٹ بنا لیں پھر اس کو ماسک کی طرح چہرے پر لگائیں آدھے گھنٹے بعد چہرہ دھو لیں ایک ماہ استعمال کر یں
شہد خشک دودھ دہی لیموں اور عرق گلاب ایک ایک چمچ ملا کر پیسٹ بنا لیں اور ماسک کی طرج چہرے پر لگائیں بہترین نتائج کے لیے ہفتے میں دو بار استعمال کریں