Baaghi TV

Category: خواتین

  • ایسی چیزیں جنھیں ایک ساتھ کھانا صحت کے لئے انتہائی خطرناک

    ایسی چیزیں جنھیں ایک ساتھ کھانا صحت کے لئے انتہائی خطرناک

    کہا جاتا ہے کہ متوازن اور درست مقدار میں کھانا کھانے والا شخص عمر بھر صحت مند اور ٹھیک ٹھاک رہتا ہے مختلف کھانے ولی اشیاء سے ہمارے جسم کو مختلف قسم کے غذائی اجزاء حاصل ہوتے ہیں اور ہر چیز جو ہم کھاتے ہیں وہ اپنی نوعیت کے مطابق ہمارے جسم پر اثر انداز ہوتی ہے اس طرح دو ایسی اشیاء جو ایک دوسرے کے برعکس ہوں انھیں ایک کے بعد ایک یا ایک ساتھ کھا لیا جائے تو اس کی وجہ سے ہمیں کئی طرح کی سنگین بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں اور کچھ اشیاء ایک دوسرے کی اتنی مخالف ہوتی ہیں جن کا استعمال کرنے سے ہمارے جسم میں کبھی بھی ٹھیک نہ ہونے والی بیماریوں کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ جاتی ہیں اور ایسی چیزوں کو ایک ساتھ نہ کھانے والی اشیاءن یا ہم آہنگی کے ساتھ اکٹھا کھانے کی نا قابل خوراک کہا جاتا ہے چائے کے ساتھ بسکٹ یا بریڈ کھانا دودھ کے ساتھ کیلے سلاد میں کھیرے یا ٹماٹر کا ایک ساتھ استعمال اس طرح کی کئی عام اور روزانہ کھائی جانے والی اشیاء اور ایک ساتھ نہ کھائی جانے والی اشیاء میں ہی آتی ہیں اور ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے جسم میں ہو رہا چھوٹے سے چھوٹا عام مسئلہ چاہے وہ بالوں کا گرنا ہو یا چہرے کا خراب ہونا یا دن بھر تھکان یا سُستی محسوس ہونا یا پیٹ کا خراب ہو جانا زیادہ سے زیادہ بیماریاں آجکل ان کمپیٹ ایبل غذا کی وجہ سے ہی ہو رہی ہیں ایک ساتھ نہ کھائی جانے والی اشیاء آجکل ہر جگہ موجود ہیں اور ان کا استعمال تیزی کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ اپنے سواد کو مختلف اور نیا ذائقہ دینے کے لیئے باہر کے ہوٹلز اور ریسٹورنٹس میں لوگ ایسی چیزیں بناتے رہتے ہیں اور زیادہ تر لوگوں کو اس کے بارے میں صحیح طرح سے معلوم نہ ہونے کی وجہ سے وہ خود بھی مسلسل ایسی چیزوں کا استعمال کرتے رہتے ہیں ہماری باڈی کو صحت مند رکھنے والی اشیاء دودھ انڈا دہی پالک کریلے گھی بادام اور کئی طرح کے پھل بھی ہمارے لئے مہلک ہو سکتے ہیں یعنی انھیں کھانے کے بعد یا پہلے ایسی اشیاء کھا لی جائیں جن کے ساتھ ان کا میل نہ بنتا ہو اگر ہر طرح کی کوشش کرنے کے بعد آپ کا وزن کم نہیں ہو رہا یا سب کچھ کھانے کے باوجود آپکا وزن بڑھتا نہیں ہے اگر کسی بھی طرح کی بیامری سے آپ طویل وقت سے لڑ رہے ہیں لیکن وہ ترھیک نہیں ہو رہی تو ہو سکتا ہے آپ کھانے والی اشیاء کو غلط وقت پر یا غلط اشیاء کے ساتھ کھا رہے ہوں ایسیڈیٹی گیس بد ہضمی بالوں کا جھڑنا سکن الرجی مسے اور سکن پر سفید داغ ہونا سورائسز اگزیما سردی زکام سر درد اور جوڑوں میں درد ہونے کے ساتھ ساتھ گلے میں خراش پھیپھڑے اور گردوں میں کمزوری بواسیر شوگر یہاں تک کہ دل سے متعلق کئی خطرناک بیماریاں صرف ایک ساتھ نہ کھانے والی اشیاء سے ہی ہو سکتی ہیں ایک ساتھ نہ کھائے جانے والی اشیاء درج ذیل ہیں

    دودھ اور دودھ سے بنی ہوئی اشیاء: یہ ایک اینیمل پروٹین ہے یعنی یہ ان چیزوں میں سے ایک ہے جو کہ ہمیں کسی جانور کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اور اس طرح کی سب ہی کھانے والی اشیاء جو کسی جانور سے حاصل ہوتی ہیں جیسا کہ انڈا گوشت اور دودھ جیسی اشیاء کا استعمال کرنے کے وقت ہمیں بہت زیادہ احتیاط کرنی چاہیئے کیونکہ یہ وہ اشیاء ہیں جو ہوتی تو صحت مند ہیں لیکن ان کا کمبی نیشن بہت کم چیزوں کے ساتھ کیا جا سکتا ہے دودھ کو کبھی بھی پیاز کیلے نمکین اشیاء کھٹے پھل جیسا کہ اورنج دہی پائن ایپل لیموں مولی گوشت مچھلی اور بینگن ان سبھی اشیاء سے پہلے بعد میں یا ساتھ دودھ کا استعمال نہیں کرنا چاہئے صحت مند رہنے کے لئے دودھ اور کیلے کو ساتھ میں ملا کر پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے لیکن جب یہ دونوں چیزیں آپس مین ملتی ہیں تو ایک دوسرے کو ۃضم ہونے سے روکتی ہیں دونوں کا ہضم ہونے کا وقت الگ الگ ہے اسی لئے ہمارے جسم میں ہضم ہونے والی صلاحیت کمزور ہونے لگتی ہے اور ساتھ ہی رات کے وقت نیند صحیح طریقے سے نہ آنے کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے پیاز اور کھٹے پھلوں کو دودھ کا دشمن سمجھا جاتا ہے پیاز اور دودھ ہمارے پیٹ میں ایک دوسرے کے ساتھ مل جائیں تو اس سے کئی طرح کے سکن مسائل جیسا کہ سورائسز اگزیما سکن الرجی اور سفید یا کالے داغ ہو سکتے ہیں اگر کھٹے پھلوں یا جوس کا استعمال دودھ پینے کے ساتھ یا بہت تھوڑی دیر پہلے یا بعد میں کیا جائے تو گیس پیٹ انفیکشن پیٹ میں درد اور پیچش بھی ہو سکتے ہیں انناس کے اندر بروملین انزائم پائے جاتے ہیں جو کہ دودھ کے ساتھ مل جانے سے ہماری باڈی پر اُلٹا اثر کرنے لگتا ہے اور کھانے والی اشیاء سے غذائی اجزاء باہر نکالنے والی صلاحیت کو کمزور بناتا ہے اس کے علاوہ دہی کے ساتھ کیلا گوشت گوشت مچھلی ٹماٹر اور ماش کی دال جیسی اشیاء کے ساتھ دودھ کا استعمال بالکل بھی نہیں کرنا چاہئے اور ساتھ میں دپی کو کبھی بھی بہت زیادہ تیز آگ پر مت پکائیں دہی کے ساتھ زیادہ دیر پھلوں کے ساتھ میل نہیں بن پاتا کیونکہ ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے اس میں پھلوں کو ڈال کر کھانے سے ہماری بادی میں کف کی مقدار کو بڑھاتا ہے یہ کف ہمارے پھیپھڑوں میں جم جاتا ہے ماش کی دال اور دہی ایک ساتھ کھانے سے بلڈ پریشر تیزی سے بڑھا دیتا ہے اسی لئے جن لوگوں کو ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ ہے انھیں دہی برے جیسی اشیاء سے دور رہنا چاہیئے اس کے علاوہ رات کے وقت دہی کا استعمال بالکل بھ نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ رات کے وقت دہی کھانے سے کھانا ہضم ہونے کی صلاحیت ک ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے پیٹ سے منسلک بیماریاں ہونے کے چانسز بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں اس کے علاوہ گھی کے استعمال میں بھی تھوڑا سا ہوشیار رہنا ضروری ہے گھی کو کبھی بھی تانبے یا کاپر کے برتن میں نہ رکھیں کیونکہ گھی کا تانبے کے ساتھ میل ہونے پرگھی پوری طرح سے خراب ہو جاتا ہے جوکہ ہماری صحت کے لئے نقصان دہ بن جاتا ہے اسی طرح سے گھی اور شہد کو آپس میں ملا دیا جائے تو یہ زہر بن جاتا ہے اور اس کا استعمال کرنے سے کافی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے سلاد میں کھائی جانے والی کچھ عام اشیاء بھی غلط وقت اور غلط اشیاء کے ساتھ کھانے پر ہماری صحت کے لئے نقصان دہ ہو سکتی ہیں جیساکہ کھیرا اور ٹماٹر یہ دونوں ہی سلاد کے طور پر عام کھائے جاتے ہیں اسی لئے گھر سے لے کر ہوٹل تک کھیرے اور ٹماتر کو سلاد میں کھایا جاتا ہے حال ہی میں کی جانے والی ایک ریسرچ کے مطابق کھیرے اور ٹماٹر میں پائے جانے والے اجزاء ایک دوسرے کے مخالف ہوتے ہیں ساتھ ہی ان کے ہضم ہونے کا وقت الگ الگ ہوتا ہے جوکہ ہمارے پیٹ میں مسئلہ پیدا کرتا ہے ان دونوں کو ساتھ میں کھا لیا جائے تو ان دونوں سے ملنے والے ضروری غذائی اجزا تو ہمیں نہیں ملتے بلکہ اس کی جہ سے پیٹ بھاری ہونے اور پیٹ پھولنے کا مسئلہ کافی زیادہ بڑھ جاتا ہے اسی لئے کوشش کریں کہ کھیرا اور ٹماٹر ایک ساتھ نہ کھائیں کئی لوگ سلاد کا استعمال کھاناکھانے کے بعد کرتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے سلاد ٹھندا ہونے کی وجہ سے کھانے کے ساتھ ہی کھا لینا ضروری ہے کیونکہ کھانا کھانے کے بعد سلاد کھانے سے کھانا ہضم ہونے کی صلاحیت کمزار ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے گیس ور ایسڈیٹی ہو سکتی ہے اگر سلاد میں گاجر استعمال کر رہے ہیں تو اس کے ساتھ لیموں استعمال نہ کریں کیونکہ گاجر میں لیموں کا رس ڈال کر کھانے سے پیشاب سے منسلک مختلف بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں سلاد میں مولی شامل ہونے پر اسے کھانے کے بعد دودھ یا کیلے کا استعمال نہ کریں شہد کا استعمال گھی مولی اور انگور جیسے پھلوں کے ساتھ نہ کریں اور اسے ایسی چیزوں میں کبھی بھی مکس نہ کریں جنھیں پکایا یا گرم کیا جا رہا ہو کیونکہ شہد پکنے یو گرم ہونے کے بعد صحت کے لئے نقصان دہ ہو جاتاہے کہا جاتاہے کہ سبزی کھانے والے لوگوں کے مقابلے میں گوشت کھانے والے لوگوں میں بیماریاں زیادہ ہوتی ہیں لیکن صرف گوشت استعمال کرنے سے بیماریاں پیدا نہیں ہوتیں بلکہ اسے جب غلط وقت پر غلط چیزوں کے ساتھ کھا لیا جاتا ہے تبھی اس سے کوئی بیماری پیدا ہوتی ہے مچھلی انڈا ار گوشت جیسی اشیاء کے ساتھ دودھ دہی جیسی اشیا بالکل نہیں کھانی چاہیئے اور کسی بھی قسم کے گوشت کو تل کے تیل میں نہیں پکانا چاہیئے بہت سارے لوگ گوشت کے ساتھ آلو اور میدے کے ساتھ بنی اشیاء کھانی پسند کرتے ہیں مثلاً آلو اور میدے سے بنی روٹیاں برگر وغیرہ ان کو ساتھ کھانے سے ذائقہ تو عمدہ لگتا ہے لیکن ان کو اکٹھا کھاناصحت کے لئے نقصان دہ ہے کیونکہ آلو اور میدے میں سٹارچ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے سٹارچ کو ۃضم کرنے کے لئے ہمارے معدے کو الکلیٹک کی ضرورت ہوتی ہے وہیں دوسری طرف گوشت میں پائے جانے والے پروٹین کو ہضم کرنے کے لئے ہمارے جسم کو ایسٹیک کی ضرورت پرتی ہے دونوں کو ساتھ میں کھانے سے ہمارے جسم میں پروٹین تو پوری طرھ سے نہیں پنچ پاتے موٹاپا گیس شوگر اور کولیسٹرول کی مقدار ہمارے جسم میں پہلے سے زیادہ بڑھنے لگتی ہے جو کہ شوگر اور دل سے متعلق بیماریوں کے جنم دیتی ہے جب بھی آپ کھانا کھائیں یا کھانا کھانے کے ساتھساتھ یا کھاناکھانے کے بعد ٹھنڈی چیزیں جیساکہ کولڈ ڈرنک آئس کریم یا پھر بہت زیادہ گرم چیزیں چائے اور کافی کا استعمال بالکل بھی نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے کھانے سے ملنے والے غذائی اجزا تو ختم ہوتے ہیں لیکن کھانا بھی صحیح طرح سے ہضم نہیں ہو تا کبھی بھی چائے یا کافی جیسی گرم تاثیر والی اشیاء کا استعمال کر نے کے بعد ٹھنڈا پانی یا کھٹے اور پانی والے پھلوں کا استعمال بالکل بھی نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے گلے کا انفیکشن اور کھانسی ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں

  • نشہ کے ناسور سے نوجوان نسل کو بچانے کے لئے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے

    فیصل آباد( نمائندہ باغی ٹی وی)نشہ کے ناسور سے نوجوان نسل کو بچانے کے لئے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قوم کے معمار اس لعنت سے دور اور معاشرے کو اس برائی سے بچایا جاسکے۔یہ بات میڈیکل سوشل آفیسر ماڈل ڈرگ ایبویز ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال رابعہ خالد نے انجمن انسداد منشیات کے زیراہتمام گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نثار کالونی میں آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اینٹی نارکوٹکس فورس کے انسپکٹر محمد علی،جنرل سیکرٹری انجمن انسداد منشیات محمدانوارخان، سائیکالوجسٹ غلام مصطفی نیازی، محمد پرویز،میڈم شکیلہ کے علاوہ پرنسپل ادارہ،اساتذہ اور طالبات بھی موجود تھیں۔میڈیکل سوشل آفیسر نے کہا کہ تابناک مستقبل کے لئے نوجوان نسل کو اس لت سے دوررہنا چاہیے کیونکہ نشہ انسان کو تنزلی میں دھکیل دیتا ہے اور دین اسلام نے بھی اس سے باز رہنے کی تلقین کی ہے۔انہوں نے طالبات سے کہا کہ وہ اپنی تمام تر توجہ حصول علم پر مرکوز رکھیں اورنشہ سمیت دیگر برائیوں سے دوررہیں۔جنرل سیکرٹری نے انجمن انسداد منشیات کی کارکردگی سے آگاہ کیا اور کہا کہ معاشرے کو اس لعنت سے دور رکھنے کے لئے اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ نشہ کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔سائیکالوجسٹ نے نشہ کی اقسام،اس کے معاشی اور معاشرتی زندگی پر اثرات اور اس سے پیداہونے والے بیماریوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور کہا کہ ڈی ایچ کیو میں نشہ کے عادی افراد کی بحالی کے لئے سنٹر ہمہ وقت کام کررہا ہے جہاں ایسے افراد کی کونسلنگ کرکے انہیں معاشرے کا کارآمد شہری بنایا جارہا ہے۔انسپکٹر اینٹی نارکوٹکس نے منشیات فروشوں کے خلاف کاررائیوں جبکہ دیگر مقررین نے نشہ کے خلاف نفرت بیدار کرنے کے لئے آگاہی پروگرامز کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

  • فیصل آباد آرٹس کونسل کے زیراہتمام ملکہ ترنم میڈم نور جہاں کی خدمات کو سلام پیش کیا گیا

    فیصل آباد آرٹس کونسل کے زیراہتمام ملکہ ترنم میڈم نور جہاں کی خدمات کو سلام پیش کرنے کے لئے ایک تقریب نصرت فتح علی خاں آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی جس میں گلوکاروں نے نور جہاں کے گائے ہوئے شہرہ آفاق گیت پیش کئے۔ڈائریکٹر آرٹس کونسل صوفیہ بیدار،ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن سبحان علی،کپل آف فیصل آباد مسٹر اینڈ مسز ناصر اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں موجود تھے۔ڈائریکٹر آرٹس کونسل نے کہا کہ بر صغیر کی عظیم فنکارہ ملکہ ترنم کو مداحوں سے بچھڑے 19سال بیت گئے لیکن ان کی مدھر آواز آج بھی سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتی ہے‘انہوں نے موسیقی کی دنیا میں اپنا منفرد مقام حاصل کیا۔انہوں نے کہا لیجنڈگلوکاروں واداکاروں کو سلام پیش کرنے کے لئے تقریبات کا انعقاد تسلسل سے جاری ہے۔دیگر مقررین نے ملکہ ترنم کے گانوں پر پروفارمنس پیش کرنے والے گلوکاروں کی صلاحیتوں کی تعریف کی اور کہا کہ میڈم نورجہاں نے برصغیر پاک وہند میں اپنی آواز کا جادوجگایا۔انہوں نے نورجہاں کی خدمات کو سلام پیش کرنے کے لئے تقریب کے انعقادپر آرٹس کونسل کی کاوشوں کو سراہا۔

  • وٹامن ڈی کی کمی خاموش قاتل

    وٹامن ڈی کی کمی خاموش قاتل

    وٹامن ڈی کی کمی بلڈ پریشر بڑھانے کا باعث بنتی ہے یمری جارجیا ٹیک پریڈ کٹو ہیلتھ انسٹیٹیوٹ میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے شریانوں میں سے لچک کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وریدیں بھی سکون کی حالت میں نہیں آ پاتیں اس تحقیق میں ماہرین اس نتیجے پر بھی پہنچے کہ امراض قلب کا اہم سبب وٹامن ڈی کی کمی ہو تی ہے دل کے عضلات اس وٹامن کی کمی کی وجہ سے اپنے افعال ٹھیک طریقے سے ادا نہیں کر پاتے ہیں جس کی وجہ سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے اس تحقیق کے لئے ایسے افراد کا انتخاب کیا گیا جو پہلے سے ہی د ل کر مرض میں مبتلا تھے یا ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا تھے ان افراد کے جسم میں وٹامن ڈی کی کمی واضح طور پر محسوس کی گئی بعد میں ان جو وٹامن ڈی پر مشتمل خوراک فراہم کی گئی جس کے بعد ان کی مجموعی صحت اور بلڈ پریشر پہلے کے مقابلے میں کافی بہتر ہو گیا اسی تحقیق میں 800 سے زیادہ افراد جن کی عمریں پینتالیس سال تھی انھیں منتخب کیا گیا بعد از تحقیق پتہ چلا کہ عمر بڑھنے کے بعد انسانی جسم میں وٹامن ڈی کی کمی ہونے لگتی ہے جس کی بنا پر ہی بلڈ پریشر اور امراض قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ماہرین کے مطابق اگر تیس برس کی عمر سے زائد افراد اپنی غذا میں وٹامن ڈی کی مقدار کا خاص خیال رکھیں تو عین ممکن ہے کہ بلڈ پریشر کا نظام معمول کے مطابق رہے اور بلڈ پریشر نارمل رہے اور بلڈ پریشر نارمل رہنے کی صورت میں امراض قلب کا خطرہ بہت کم ہو جاتا ہے

  • وٹامن ڈی کی کمی کے انسانی جسم پر اثرات

    وٹامن ڈی کی کمی کے انسانی جسم پر اثرات

    ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ جب تک ہمارے جسم میں کوئی بیماری پیدا نہ ہو تو ہم خود پر توجہ نہیں دیتے حالانکہ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ ایسا کرنا درست عمل نہیں 24 گھنٹے مصروف رہنے کے لئے ہمیں بہت ساری توانائی کی ضرورت رہتی ہے جو صرف اور صرف اچھی غذا کھانے سے ہی مل سکتی ہے لیکن اب بھاگم دوڑ اور مصروفیت کی وجہ سے اچھے طریقے اور ٹائم سے غذا نہیں کھاتے اس غذائی قلت کی وجہ سے ہمارے جسم میں بہت سے وٹامنز اور منرلز کی کمی ہو جاتی ہے اور ہم کمزور پر جاتے ہیں ہمارا امیون سسٹم یعنی قوت مدافعت بھی کمزور ہو جاتی ہے اور ہم با بار بیمار پڑ جاتے ہیں لیکن کیا کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ آخر وہ کونسی علامات ہیں جن سے ہم اس بات کا اندازہ لگا سکیں کہ ہمارے جسم میں کس چیز کی کمی ہے اگر تھوڑی سی کوشش کر لی جائے اور اپنا کھانا پینا ہی تبدیل کر کے اور ٹائم پر کھانے سے آپ ان وٹامنز کو بڑی آسانی سے گھر پر ہی پورا کر سکتے ہیں اور بیماریوں سے پاک بھر پور صحت مند زندگی کا مزہ لے سکتے ہیں ان وٹامنز میں سب سے اہم وٹامن ڈی ہو تا ہے ہمارے جسم کا ڈھانچہ ہڈیوں کا بنا ہے جو ہمیں اٹھائے کھڑا ہے اگر ہڈیوں میں وٹامن ڈی کی کمی ہوگی تو ہماری ہڈیاں کمزور ہو کر ٹوٹ بھی سکتی ہیں لہذا ہمیں اس اہم وٹامن کو کبھی کم نہیں ہونے دینا چاہئے اور ہمیشہ اسے پورا رکھنا چاہیئے مندرجہ ذیل علامات میں سے کوئی بھی علامت موجود ہے تو آپ کو فوراً وٹامن ڈی کا ٹیسٹ کروانا چاہیئے اور اس کمی کو فوری طور پر پورا کرنا چاہیئے تا کہ آپ ایک صحت مند زندگی گزار سکیں سب سے پہلی علامت یہ ہے کہ آپ کو ہڈیوں میں درد رہے گا کیونکہ وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے ہماری ہڈیاں غذاؤں سے حاصل شدہ کیلشئیم جذب نہیں کر پاتیں اور حاصل شدہ کیلشئم ہمارے جسم میں جذب ہوئے بغیر ہی خارج ہو جاتا ہے جبکہ کیلشیئم ہماری ہڈیوں کا اہم حصہ ہوتا ہے اس لئے آپ کو بھر پور وٹامن ڈی لینا چاہیئے اور کیلشئیم سے بھر پور غذاؤن کا بھی استعمال کرنا چاہیئے تاکہ آپ کی ہڈیاں مضبوط رہیں اور ہڈیوں کی کمزوری اور بھُر بُھرے پن سے بھی محفوظ رہیں وٹامن ڈی کی کمی نہ صرف ہماری ہڈیوں پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ ہمارے مسلز یعنی پٹھے بھی کمزور ہو جاتے ہیں وتامن ڈی کی کمی سے ہمارے پٹھوں میں کھنچاؤ اور درد رہتا ہے اس کے لئے وٹامن ڈی کو ٹیسٹ ضرور کروائیں ایسی غذائیں استعمال کریں جو وٹامن ڈی سے بھر پور ہوں اس کے علاوہ آپ کو بہت زیادہ پسینہ آتا ہے تو یہ بھی جسمانی کمزوری کی علامت ہے لیکن اگر آپ کو سر پر بہت زیادہ پسینہ آتا ہے تو آپ کو وٹامن ڈی کی کمی کا بہت زیادہ سامنا ہے اپنا کھانا پینا ٹھیک کریں اور زیادی سے زیادہ وٹامن ڈی حاصل کریں کیونکہ سر پر پسینہ آنا بھی وٹامن ڈی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے کمزور مدافعت نظام یعنی اگر آپ بار بار بیمار پڑ جاتے ہیں تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپکے جسم کا امیون سسٹم کمزور ہے اگر ہم مناسب مقدار میں وٹامن ڈی لیں تو ہمارا مدافعتی نظام بہتر ہوگا اور ہم کم سے کم بیمار پڑیں گے ہم اکثر اپنی مصروف زندگی کی وجہ سے تھکاوٹ اور ننید کی کمی کا شکار رہتے ہیں جو لوگ ہر وقت تھکے تھکے اور نڈھال رہتے ہیں اس کی بھی بڑی وجہ وٹامن ڈی کی کمی ہے اگر جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار پوری کردی جائے تو تھکاوٹ اوت کمزوری رفتہ رفتہ کم ہو کر ختم ہو جاتی ہے اور انسان خود کو فٹ اور چست و توانا محسوس کرتا ہے وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے جسم پر زخم بھی جلدی ٹھیک نہیں ہوتے شوگر کے مریضوں میں یہ مسئلہ عام ہے وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے جسم میں شوگر اور کولیسٹرول کا توازن بگڑ جاتا ہے اگر ایسے لوگوں کو وٹامن ڈی کا استعمال کروایا جائے تو زخم جلدی سے ٹھیک ہونے لگتے ہیں اگر بال کمزور ہو رہے ہوں اور گر رہے ہوں تو یہ بھی وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے ہے وٹامن ڈی کی کمی بالوں کی نشونما کو روکتی ہے اس سے چھٹکارا پانے کے لئے وٹامن ڈی کی کمی کو پورا کریں وٹامن ڈی کی کمی بے چینی اور ڈپریشن کا بھی باعث بنتی ہے ہمارے نیورو ٹرانسمیٹر کچھ ایسے ہارمونز خارج کرتے ہیں ان ہارمونز کی کمی کی وجہ سے بے چینی اور ڈپریشن ہوتی ہے وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے یہ ہارمونز کم بنتے ہیں اس لئے ہم بے چینی اور ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں ایسے لوگ چڑچڑے پن کا شکار رہتے ہیں ایسے لوگ کتنے ہی خوش اور اچھے موڈ میں بھی ہوں چھوٹی سی بات کو بتنگر بنا کر پریشان ہو جاتے ہیں ایسے لوگوں کو بہت زیادہ نیند بھی آتی ہے وٹامن ڈی اور وٹامن ڈی 3 کی کمی کی وجہ سے ہمارے جسم میں ہر وقت چڑ چڑے پن کا ماحول بنا رہتا ہے وتامن ڈی کی کمی کو پورا کر کے ان سب چیزوں سے بچا جا سکتا ہے اگر ان میں سے کوئی بھی علامت آپ کو نظر آئے تو وٹامن ڈی کو تیسٹ ضرور کروائیں اپنا طرز زندگی تبدیل کریں اپنی روزمرہ خوراک میں ایسی غذاؤں کا استعمال ضرور کریں جن میں وٹامن ڈی ہوں کبھی بھی وٹامن ڈی کی کمی کو غیر سنجیدگی سے نہ لیں بلکہ وٹامن ڈی کا حصول ممکن بنائیں اور کسی مستند ڈاکٹر سے بھی ضرور رجوع کریں

  • کیا آپ کو بریسٹ کینسر ہے خود سے معائنہ کریں

    کیا آپ کو بریسٹ کینسر ہے خود سے معائنہ کریں

    انسانی جسم میں ہونے والے تمام خطرناک سرطانوں میں سے چھاتی کا سرطان بھی ایک ہے جو ہر روز پوری دنیا میں لاکھوں خواتین کو متاثر کر رہا ہے اور عورتوں میں شرح اموات کے اضافے میں ایک بہت بڑا سبب بنا رہا ہے اگر چھاتی کے سرطان کی تشخیص اس کے ابتدائی مراحل میں ہو جائے تو 98 فیصد مریضوں کا علاج ہو سکتا ہے اب پاکستان میں بھی اس کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے چھاتی کے سرطان کے باعث ہونے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کے لیے بریسٹ کا با قاعدگی سے معائنہ بے حد ضروری ہے اس معائنے سے سرطان کا ابتدا میں ہی سراغ لگایا جا سکتا ہے اور فوری علاج کے ذریعے سرطان کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے اس سلسلے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک متحد اندازے کے لحا ظ سے اس وقت پاکستان میں ایک لاکھ خواتین میں ہر 74 خواتین کو بریسٹ کینسر ہو رہا ہے یہ شرح انڈیا سے کہیں زیادہ ہے اور اس میں جو سب سے اہم بات وہ یہ ہے کہ پاکستان جن خواتین کو بریسٹ کینسر تشخیص ہو تا ہے وہ خواتین زیادہ تر ینگ ہو تی ہیں اور جوان بچوں کی مائیں ہوتی ہیں چھاتی کے سرطان سے جسم میں جو تبدیلیاں آتی ہیں اگر اس کو پہلے ہی معائنہ کیا جائے اور اس کو ابتدا میں تشخیص کیا جائے تو اس کا علاج بہت آسان ہو جاتا ہے اگر کسی خاتون کو اپنی چھاتی میں ایسا سمٹم محسوس ہو اجیسا کہ درد محسوس ہونا کوئی گلٹی محسوس ہونا پانی آنا یا بریسٹ پر سرخی محسوس ہو نا تو وہ ان علامات کو نظر انداز نہ کریں اگر ان میں سے کوئی ایک بھی علامت ظاہر ہو تو فوراً ڈاکٹر کے پاس جا کر معائنہ کروائیں یا اس میں پہلے آپ اپنے آپ کو دیکھتے ہیں کہ د یکھنے سے کیا تبدیلی محسوس ہو تی ہے اپنے آپ کو آیئنے میں دیکھیں کہ دونوں بریسٹ کا سائز ایک ہی ہے اگر ایک کے سائز میں اضافہ ہو رہا ہے تو وہ بھی ایک علامت ہو سکتی ہے بریسٹ کاحصہ اندر کی طرف دھنس رہا ہے یا زخم ہے جو مسلسل ٹھیک نہیں ہو رہا یااگر کوئی بھی حصہ اندر کی طرف دھنس رہ ہے یا پورا کھال میں آپ کو سوجن نظر آرہی ہے جیسے کہ نارنجی کے چھلکے ہوتے ہی‌یا بغل میں آپ کو کوئی موٹے گلینڈز نظر آئیں یہ ساری علامات کینسر کا باعث ہو سکتی ہیں اس صورت میں ڈاکٹر کو دکھانا ضروری ہے کہ ان عوامل میں سے کسی ایک کی بھی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ آپ چھاتی کے سرطان بریسٹ کینسر میں مبتلا ہیں اور کسی بھی تبدیلی کے بارے میں اپنے ڈاکٹر کو ضرور بتائیں کسی بھی ممکنہ تبدیلی کے پیش نظر آپ کا کلینکل معائنہ کیا جائے گا اور آپ کی چھاتیوں کا ایکسرے جسے میموگرام کہتے ہیں کیا جائے گا وہ عوامل جن کے بنا پر چھاتی کے سرطان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ان میں وہ خواتین جن کے پیریڈز جلدی عمر میں شروع ہو جاتے ہیں اور دیر سے ختم ہوتے ہیں تاکہ ان کے جو منتھلی سائکلز ہیں ان کو لمبے عرصے کے لئے ملتے ہیں وہ بھی ایک وجہ ہو سکتے ہیں جن لوگوں کا پہلا بچہ دیر سے پیدا ہوتا ہے پینتیس سال کے بعد یا وہ خواتین جن کی اولاد نہیں ہوتی ان کو بھی بریسٹ کینسر ہونے کا رسک بڑھ جاتا ہے جن کی فیملی میں کسی کو بریسٹ کینسر ہو یہ بھی ایک بہت اہم رسک فیکٹر ہوتا ہے یہاں فیملی سے مراد ماں بہن ان کو یہ کینسر ہونے سے رسک بڑھ جا تا ہے جیسے جیسے خواتین کی عمر بڑھتی ہے عموماً پچاس سال کے بعد بریسٹ کینسر ہونے سے رسک بڑھ جاتا ہے اگر کسی نے ہارمون تھراپی لی لو عموماً مینوپول ہونے جے بعد سائیکلز ختم ہونے کے بعد کچھ خواتین ہارمون لیتی ہیں اپنے آپ کو ینگ رکھنے کے لئے یا ایسی علامات ہو تی ہیں ان کے لئے ہارمون تھراپی لیتی ہیں اگر اس کا بہت زیادہ استعمال کیا جائے تو اس سے کینسر کا رسک بڑھ جاتا ہے جو خواتین جو پہلے کسی بریسٹ سرجری کروا چکی ہوں یہ ضروری نہیں بلکہ ہر قسم کی وہ سرجری جس کی بائی اوپسی میں کسی قسم کا کوئی رسک آیا تھا ان کو بھی کینسر ہانے کا چانس زیادہ ہو سکتا ہے جو خواتین کسی وجہ سے کسی عمر میں کسی بھی بیماری کی وجہ سے اس پر ریڈی ایشن لگوا چکی ہوں ان کا رسک بڑھ جاتا ہے جن خواتین کا وزن زیادہ ہو یعنی موٹاپا بھی اس کی وجہ بن سکتا ہے جن خواتین کو ایک طرف بریسٹ کینسر ہو چکا ہو دوسری طرف بھی کینسر ہو سکتا ہے سگریٹ اور الکوحل کا استعمال بھی وجہ بن سکتا ہے اگر عمر پچاس سال سے زیادہ ہو تو سال میں ایک نرتبی میمو گرافی ضرور کروائیں اس مہلک بیماری سے بچنے کو بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنا معائنہ خود کیا جائے آپ ہر ماہ اپنی چھاتیوں کا معائنہ خود کریں اگر کوئی تبدیلی محسوس ہوتی ہے تو ڈاکٹر سے فوراً رجوع کریں کیونکہ بروقت تشخیص ہی علاج کی ضمانت ہے چھاتی کے سرطان کی تشخیص کے تین طریقے ہیں ایک ڈاکٹری معائنہ اس سے ایک ماہر ڈاکٹر معائنہ کر کے کسی حد تک اندزہ لگا لیتے ہیں گلٹی کی ساخت دیکھ کر یا جو بھی بریسٹ میں تبدیلی آتی ہے آیا کہ یہ تبدیلی کینسر کا باعث ہے یا نہیں ہے دوسرا طریقہ ایکسرے ہیں بریسٹ کا اسپیشل ایکسرا جس کو میمو گرام کہتے ہیں اس سے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہ کینسر کی گلٹی ہے یا نہیں ہے میمو گرام عام طور پر دو سال پہلے تشخیص کر لیتا ہے جبکہ گلٹی اتنی چھوٹی ہے کہ انسانی انگلیاں اسے محسوس نہیں کر سکتی اپنے آپ کو آیئنے میں اچھے طریقے سے دیکھنے کے بعد آپ اپنی بریسٹ کو اپہنے ہاتھوں سے فیل کر کے دیکھیں کہ کوئی گلٹی تو نہیں معلوم ہو رہی دائیں بریسٹ کا معائنہ بائیں ہاتھ سے کرتے ہیں جبکہ بائیں بریسٹ کا معائنہ دائیں ہاتھ سے کرتے ہیں جس بریسٹ کو دیکھنا ہو وہ ہاتھ اوپر لے جا کر رکھئے اور اپنی انگلی کے 3 پوروں سے فیل کر کے دیکھیں کہ کہیں گلٹی تو نہیں فیل ہو رہی ہے باہر کی طرف سے دیکھتے ہوئے پیچھے کی طرف آئیں تاکہ پوری بریسٹ کا صحیح طرح سے معائنہ ہو سکے آخر میں درمیان میں دیکھیں پھر دیکھیں اس میں سے کچھ ڈسچارج تو نہیں ہو رہا اس طریقے سے آپ بریسٹ کا کوےئ بھی حصہ مس نہیں کریں گے بریسٹ کو دیکھنے کے بعد بغل میں چیک کریں کوئی گٹھلی تو محسوس نہیں ہو رہی ہے یہی عمل ایک بریسٹ میں کرنے کے بعد دوسرے ہاتھ سے دوسری بریسٹ میں کریں اگر کوئی گلٹی آپ کو محسوس ہوتی ہے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ پتی نہیں یہ گلٹی یا تبدیلی آپ کو محسوس ہوئی ہے یہ کسی سرطان کا باعث ہے یا ویسے ہی ہے یاد رکھیں کہ 10 میں سے 9 گلٹیاں بےضرر ہوتی ہیں آپ کو جب کوئی گلٹی یا تبدیلی محسوس ہو تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں بہت سی خواتین جن میں اس بیامری کی تشخیص جلد ہو گئی ان کے بروقت علاج کی وجہ سے بالکل ٹھیک اور صحتمند ہو گئیں
    خود سے معائنہ کرنے کے مندرجہ ذیل طریقے ہیں
    آئینے میں دیکھ کر
    سپرش معائینہ ،دائرہ کا طریقہ ،لائن میتھڈ ،اور ویج میتھڈ

  • منہ کے کینسر کی علامات اور اس سے بچاؤکی حفاظتی تدابیر

    منہ کے کینسر کی علامات اور اس سے بچاؤکی حفاظتی تدابیر

    پاکستان میں سب سے زیادہ منہ کا کینسر پایا جاتا ہے اور 90 فیصد لوگ اس سے مر جاتے ہیں انسانی جسم میں سیلز یا ٹشوز کی ابنارمل اور ان کنٹرول گروتھ کو کینسر کہتے ہیں یہ اپنے اردگرد کے ٹشوز کو تباہ کر دیتے ہیں خوبن کے دورانیہ کے ساتھ یہ پورے جسم میں پھیل جاتے ہیں اور کسی ایک جگہ رک کر یہ رسولی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں منہ کے کینسر کی 9 اقسام ابھی تک سامنے آ چکی ہیں منہ کے کینسر میں مبتلا لوگوں سے کھانا پینا بہت مشکل ہو جاتا ہے منہ کے کینسر کی تنبیہی علامات:
    اگر مندرجہ ذیل علامات دو ہفتے یا زائد عرصہ رہیں تو اور کسی علاج سے بھی افاقہ نہ ہو تو ڈینٹسٹ سے رابطہ ضروری ہو جاتا ہے
    تنبیہی علامات: منہ کے اندرونی حصوں یا ہونٹوں پر کسی بھی قسم کے نشان مثلاً سرخ سفید دھبے جو کہ ہونٹوں اندرونی گال تالو یا زبان پر نمودار ہو جائیں چاہے یہ تکلیف دہ بھی ہوں تو قابل تشویش ہیں بعض اوقات زبان یا اندرونی گال پر سفید دانہ نکل آتا ہے اور کئی مرتبہ درد کی وجہ بنتا اسے کینکر سور کہتے ہیں عام طور پر یہ کینسر کا سبب نہیں بنتا لیکن پھر بھی چیک اپ ضروری ہے اندرونی گال زبان کے اوپر یا نیچے سفید دھبے ظاہر ہوتے ہیں
    زبان کی کینسر: اس میں زبان پر سب سے پہلے ایک دانہ یا ابھار نکلتا ہے اس میں سوزش پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے زبان موٹی ہو جاتی ہے بات کرنے میں پریشانی ہوتی ہے زبان کی جھلی اترنا شروع ہو جاتی ہے یہ سب زبان کے کینسر کی نشانیاں ہیں
    نچلے ہونٹ کا کینسر: نچلے ہونٹ کے کینسر کی سب سے بڑی وجہ سگریٹ اور سگھار کا استعمال ہے اس کے پائپ سے جب گھواں اندر جاتا ہے تو پہلے ہونٹ کالے ہوتے ہیں پھر ان پر زخم بن جاتے ہیں اور یہی زخم کینسر کی شکل اختیار کر جاتے ہیں اس کا دھواں پھیپھڑوں کے کینسر کی وجہ بنتا ہے پھیپھڑوں میں دھواں جم جاتا ہے اور کینسر کی وجہ بنتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر میری امت کو دشواری نہ ہوتی تو ہر نماز سے پہلے مسواک کا حکم دیتا مسواک منہ لو صاف کرتی ہے اور کینسر سے بچاتی ہے کینسر ہونے کی ایک بڑی وجی منہ کی صفائی نہ کرنا بھی ہے گوٹکہ اور پان کا استعمال بھی کینسر کی ایک بڑی وجہ ہے اور اس سے ہونے والے کینسر سے انسان کی موت جلد واقع ہو جاتی ہے
    منہ کے کینسر کا علاج:چھوٹی الائچی کو جتنا زیادہ ہو سکے منہ میں ہر وقت چباتے رہیں اس کے علاوہ کاکرا سنگھی چھوٹی الائچی کے دانے لود گجراتی کتھ سفید زیرہ سفید طباشیر سنگ جراہت کو 10 ،10 گرام لے کر پیس لیں اور اس سفوف کو منہ کے اندر لگائیں منی میں لعابی جھلی کے کینسرسے بچاؤ کے لئے چھوٹی الائچی کے دانے کباب چینی کتھ سفید طباشیر ان سب کو ہم وزن لے کر پیس لیں منہ میں جہاں بھی زخم تو وہاں لگائیں اس سے آپ کینسر سے بچ سکتے ہیں یہ کینسر سے بچنے کی آسان اور سستی ترین تدبیر ہے

  • پیزا کا آٹا تیار کرنے کا طریقہ

    پیزا کا آٹا تیار کرنے کا طریقہ

    اجزاء:
    میدہ ایک پاؤ
    خشک دودھ ایک چمچ
    پسی ہوئی چینی آدھا چائے کا چمچ
    انڈا ایک عدد
    آئل ایک چائے کا چمچ
    خمیر آدھا چائے کا چمچ
    نمک پاؤ چائے کا چمچ
    نیم گرم پانی حسب ضرورت

    ترکیب:
    ایک بڑے اور کھلے برتن میں میدہ چینی خشک دودھ اور نمک ڈال کر مکس کر کے اس میں انڈا آئل اور گرم پانی میں خمیر حل کر کے ڈال کر مکس کریں اور گرم پانی سے آہستہ آہستہ نرم آٹا گوندھ لیں اب اس کو تقریباً ایک گھنٹے کے لئے ڈھانپ کر گرم جگہ پر رکھ دیں آدھے یا پونے گھںٹے تک پیزا کا آٹا تیار ہو جائے گا

  • جھٹ پٹ مائکروویو پزا بچوں کی بھوک کا فوری علاج

    جھٹ پٹ مائکروویو پزا بچوں کی بھوک کا فوری علاج

    اجزاء:
    پکے ہوئے شاہی نان 3 عدد
    شملہ مرچ 1 عدد
    آلو 1 عدد
    ٹماٹو پیسٹ 3 کھانے کے چمچ
    ٹماٹر 3 عدد
    مشروم 10 گرام
    پنیر 300 گرام کش شدہ
    نمک کالی مرچ حسب ذائقہ

    ترکیب:
    شملہ ، ٹماٹر اور آلو باریک قتلے کاٹ لیں تینوں نانوں پر ٹماٹو پیسٹ لگا کر پھر باری باری سبزیوں کی تہہ لگا کر پنیر پھیلا دیں اوپر نمک اور کالی مرچ چھڑک دیں ایک وقت میں ایک نان کو مائکروویو میں رکھ کر ہائی فل پاور پر پانچ سے آٹھ منٹ رکھیں اور نکال کر سرو کریں بچوں کو بھوک لگنے پر فوراً ہی یہ پیزا بنا کر دیا جا سکتا ہے اجزاء میں دی گئی سبزیوں کے علاوہ گھر میں پکا سالن بھی استعمال کیا جاسکتا ہے

  • اتنی ناراضگی اچھی نہیں ہوتی ، بیوی کے بال کیوں کاٹے ؟

    اتنی ناراضگی اچھی نہیں ہوتی ، بیوی کے بال کیوں کاٹے ؟

    ڈھاکہ :غصہ اچھا نہیں ہوتا خاص کر بہت زیادہ غصہ کرنا یا ناراض ہونا فائدے کی نہیں‌نقصان کا پیش خیمہ ہے، بیوی گرمی ہویاسردی ہو، بیمار ہویا تکلیف میں وہ ہر حال میں اپنے خاوند اور اپنے بچوں کی خوشی کے لیے تمام امور سرانجام دیتی ہے، اور اگر اس محنت اور خدمت کےدوران اس سے کوئی غلطی کا ہوجانا بعید از قیاس نہیں ،مگر اگر ہم اس کو ہر چھوٹی موٹی بات پر اپنا غصہ اور ناراضگی دکھائیں گے تو اس کا دل ٹوٹ جائے گا ،

    زیرزمین پانی کا آلودگی80فیصد لوگ ہیپا ٹائٹس کا شکار

    بیویوں سے ناراضگی کے عجیب و غریب واقعات اور قصے سنتے ہیں مگر جو حکر ایک بنگالی خاوند نےکی ایک معمولی سی بات پر وہ بہت تکلیف دہ ہے، اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش میں ناشتے میں بال نظر آنے پر شوہر نے غصے میں آ کر زبردستی اپنی بیوی کا سر مونڈ ڈالا۔جس کی اطلاع لوگوں نے پولیس کو دی جس پر پولیس نے شمال مغربی ضلع جو پورہات کے ایک گاوں پر چھاپہ مارا اور 35 سالہ ببلو منڈل کو گرفتار کرلیا۔

    مولانا فضل الرحمن کا ملین مارچ ، اربوں روپے کہاں سے آئے ، باغی ٹی وی کی خصوصی…

    پولیس چیف شہریار خان نے بتایا کہ ملزم کو چاول اور دودھ کے ناشتے پر ایک انسانی بال ملا جس پر اس نے غصے میں آ کر زبردستی استرا لیکر اپنی بیوی کا سر مونڈ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملزم پر رضاکارانہ طور پر شدید تکلیف پہنچانے کا الزام عائد کیا گی اور اس جرم کی زیادہ سے زیادہ 14 سال قید کی سزا ہوتی ہے۔

    دولت کی حرص، 6 قتل کرکے بھی دل ٹھنڈا نہ ہوسکا،یہ بے رحم خاتون کون ہے ؟دردناک کہانی