Baaghi TV

Category: خواتین

  • چند مفید کچن ٹوٹکے

    چند مفید کچن ٹوٹکے

    اگر آپ زیادہ دنوں تک مچھلی کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو اسے دھونے کے بعد نمک اور تھوڑا سا سرکہ ملا کر اچھی طرح ملیں اور فریزر میں رکھ دیں

    پکوڑے یا سموسے تلتے وقت عموماً کوکنگ آئل کی رنگت سیاہ پڑ جاتی ہے اے صاف کرنے کا یہ فریقہ ہے کہ اس میب ایک چائے کا چمچ سفید سرکہ دال کر ہلکی آنچ پر پکنے دیں اور فرائی پین ڈھک دیں تاکہ یہ آمیزہ ابلنا شروع ہو جائے تھوڑی دیر بعد چولہے سے اتار دیں تیل صاف ہو چکا ہو گا اسے چھان کر دابارہ استعمال کر لیں

    پوریوں کو بیلنے کے بعد دس منٹ کے لئتے فریج میں رکھنے کے بعد فرائی کیا جائے تو آئل کم استعمال ہونے کے ساتھ ساتھ پوریاں بھی خستہ حال بنتی ہیں

    گندم کو زیادہ عرصے تک محفوظ کرنے کے لئے اسے اسے بعری یا ٹین کے کسی کنستر میں بھر کر اس میں میتھی کے خشک پتے پیس کر ملا دیں اور ڈبے ہا کنستر کا منہ اچھی طرح بند کر دیں

    عموماً آٹے میں کیڑے پڑ جاتے ہیں ان سے بچاؤ کے لئے سیاہ زیرہ موٹا موٹا کوٹ کر اس میں پسا ہوا نمک اور ذرا سا پانی ملا کے ٹکیہ سی بنا لیں اور خشک کر کے آٹے میں رکھ دیں اس سے کیڑا نہیں پڑے گا

    مہینے میں دو تین بار گرائینڈر میں نمک پیسنے سے گرائینڈر کے بلیڈ تیز رہتے ہیں سوپ کو زیادہ لذیذ بنانے کے لئے پکاتے وقت اس میں کریم ڈالنے کی بجائے فل کریم دودھ شامل کر دیں

  • چہرے کی تروتازگی  اور نکھار کے لئے آسان ٹپس

    چہرے کی تروتازگی اور نکھار کے لئے آسان ٹپس

    ہو سکتا ہے آپ کو اپنی جلد کی دیکھ بھال کے لئے ایک بہترین طریقہ درکار ہو اسی لئے آپ کو ایسی آپ کی جلد کی دیکھ بھال کے لئے ایسی ٹپس بتاتے ہیں جو مصروف خواتین کے لئے یقیناً کارگر ثابت ہوں گی ان پر عمل کر کے آپ محسوس کریں گی کہ آپ اپنے لائف سٹائل کو تبدیل کئے بغیرکس طرح اپنی جلد کا خیال رکھ سکتی ہیں

    فیس ماسک:
    فیس ماسک کا شمار جلد کی حفاظت کے لئے استعمال ہونے والی ایسی پراڈکٹس میں ہوتا ہے جو بالکل بھی وقت یا محنت طلب نہیں ہوتیں البتی ان کا ستعمال جلد کو نکھار دیتا ہے ان کا مقصد چہرے کی صفائی اور تازگی بخشنا ہے اپنی جلد کے مطابق کوئی بھی ماسک لگایا جا سکتا ہے کیونکہ ماسک میں چہرے کو نمی پہنچانے والے ایکسفلائٹ کرنے اور نرم و ملائم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے آپ وقت کی کمی کی وجہ سے ماسک سوتے ہوئے یا نہانے کے دوران بھی لگا سکتی ہیں ماہرین جلد کے مطابق ماسک چہرے پر رات کو اپنا اثر زیادہ دکھاتے ہیں بہترین کولاجن موئسچرائزر کا اپنے لئے انتخاب کریں اور اسے چند ہفتوں تک استعمال کریں

    کلینزنگ:
    ویسے تو ہر ایک کے لئے ضروری ہے کہ سونے سے پہلے وہ اپنی چہرے پر کلینزنگ کر کے سوئے اس سے جلد کئی مسائل سے دو چار ہونے سے بچ جاتی ہے کثیر العمل اثرات والی چہرے کی دیکھ بھال کے لئے ایسی پروڈکٹس استعمال کرنی چاہیئں جو ایک سے زیادہ مقاصد کے لئے استعمال کی جاتی ہوں مثال کے طور پر اگر آپ کی جلد خشک ہے تو آپ کو کریمی یا ملکی کلینزر لینا چاہیئے ایسے کلینزر کے دو فائدے ہوں گے اس کے اتسعمال سے چہرے کی صفائی تو ہو گی ہی ساتھ میں موئسچرائزر کے استعمال کی ضرورت نہیں رہے گی اور سن بلاک بھی ایسا لیں جو موئسچرائزنگ کی بھی خوبیاں رکھتا ہو اگر آپ کے پاس ایسا سن بلاک نہیں ہے تو سن بلاک اور موئسچرائزنگ کریم کو ملا کر لگا لیں

    ٹونرز:
    مصروف خواتین کے لئے ایک اور موثر ٹپس معیاری ٹونر کا استعمال ہے ٹونر چہرے کو نرم ملائم بنانے کے ساتھ ساتھ نمی پہنچاتا ہے اور غیر ضروری چکنائی کا خاتمہ بھی کرتا ہے اسے سپرے بوتل میں ڈال کر رکھ لیں اور روئی کے ساتھ لگانے کی بجائے صبح یا شام کو سپرے کریں اسے کسی بھی وقت استعمال کر سکتے ہیں اسے لگا کر میک اپ سے پہلے موئسچرائزنگ لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی چہرے کی صفائی کرنے کے لئے اسے چہرے پر سپرے کر کے ہلکا سا مساج کر لیں میک اپ اتارنے کے لئے اگر ٹائم نہ ملے تو گیلے ٹشو پیپر سے اچھی طرح چہرہ صاف کر کے ٹونر سپرے کرنے کے بعد سو جائیں

  • موٹی گردن سے چھٹکارا پانے کی آسان تراکیب

    موٹی گردن سے چھٹکارا پانے کی آسان تراکیب

    عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ میٹا بولزم سست روی کا شکار ہونے لگتا ہے اور پچیس برس کے بعد پٹھے کمزور ہونے لگتے ہیں اس لئے کچھ لوگوں میں چربی کا لیول بڑھ جاتا ہے موٹی گردن بھی اسی چربی کا نتیجہ ہے موٹی گردن سے چھٹکارا ایک دم تو ممکن نہیں البتہ اپنے لائف سٹائل میں چند تبدیلیاں لا کر اس سے جان چھڑوائی جا سکتی ہے ان سے نہ صرف موٹی گردن پتلی ہو جائے گی بلکہ صحت میں بھی مثبت تبدیلیاں آئیں گی

    اپنا وزن چیک کریں
    کئی لوگوں کو موٹی گردن کی سبکی اپنے بڑھے ہوئے وزن کی وجہ سے اٹھانی پڑتی ہے چاہے وزن چند کلو ہی زیادہ نہ ہو موٹی گردن کی بڑی وجہ بن سکتا ہے جس قدر گردن موٹی ہوتی ہے اسی قدر بےخوابی کے مرض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس قدر آپ کا وزن مناسب ہوگا اسی حساب سے آپ کی گردن کا حجم ہوگا

    روزمرہ میں لی جانے والی غذا
    کیا آپ ایسی غذائیں زیادہ لیتی ہیں جن میں میٹھے اور فیٹس کی مقدار زیادہ ہو آپ ایسی غذائیں لیں جو قدرتی ہوں اور ان میں اضافی چینی نہ ہو مثلاً آپ کو اگر اسٹرابیری جیم پسند ہے تو بجائے آپ بازاری چینی سے بھرا ہوا دبہ پیک جیم استعمال کرنے کے تازہ اسٹرابریز لے کر ان کی سمودی بنا لیں اور اسے فریزر میں سٹور بھی کر لیں پھلوں اور سبزیوں میں تمام ضروری غذائی اجزا اور وٹامنز موجود ہوتے ہیں ان میں کیلوریز کی مقدار قدرے کم ہوتی ہے

    پانی زیادہ مقدار میں استعمال کریں
    ہمارا جسم 73 فیصد پانی پر مشتمل ہوتا ہے اسے زندہ رہنے کے لئے بھی پانی کی ضرورت ہوتی ہے اس ضروری پانی میں جوسز وغیرہ پر مشتمل مشروب شامل نہیں دن بھر میں ڈھائی لیٹر یعنی 12 سے 14 گلاس پینا بہت ضروری ہے کیونکہ پانی پینے سے جسمانی زہریلی کثافتیں خارج ہو جاتی ہیں اور بھوک کم لگتی ہے اس لئے جلد بارونق اور روشن نظر آتی ہے اور وزن کم ہو جاتا ہے وزن کم ہوگا تو گردن سے چربی کی کم ہوجائے گی

    میٹھا کم استعمال کریں
    شکر کا زیادہ استعمال ذیابیطس اور موٹاپے کے خطرات کو کئی گناہ بڑھا دیتا ہے مثلاً ایک کپ لوفیٹ دہی کا کھاتی ہیں تو اس میں سوڈے کی بوتل جتنی شکر اس میں موجود ہوتی ہے ڈبہ بند کوئی بھی چیز استعمال کرنے سے پہلے اس کے لیبلی پر شکر کی مقدار ضرور پڑھ لینی چاہیئے زیادہ میٹھے کے استعمال سے نہ صرف عمر سے بڑے دکھائی دیتے ہی اس کے علاوہ جلد پر وقت سے پہلے جھریاں اور گردن پر چربی بھی چڑھنے لگتی ہے

    ورزش بے حد ضروری
    ورزش کو اپنے معاملات میں ضرور شامل کریں چاہے دن بھر میں چند منٹ ہی کیوں نہ ہو اس کے لئے کارڈیو ورزشیں بہترین رہیں گے کیونکہ پیٹ کی ورزش کرنے سے گردن کی چربی تو کم نہیں ہو گی اس لئے کارڈیو ورزشیں وزن کم کرنے اور جسم کو شیپ میں رکھنے کے لئے بہترین سمجھی جاتی ہیں ان سے گردن کی چربی بھی کم ہوتی ہے کارڈیو ورزش میں جاگنگ ڈانسنگ اور سویمنگ شامل ہیں

  • چند مفید بیوٹی ٹپس

    چند مفید بیوٹی ٹپس

    چہرے کے بال صاف کرنے کے لئے پانی میں نمک ڈال کر سوتی کپڑے سے اسے چہرے پر مل لیں تقریباًایک ہفتہ استعمال کرنے سے بال ختم ہو جائیں گے
    تھوڑے سے آملہ اور سکاکائی لے کر ان دونوں کو رات بھر کے لئے کچے دودھ میں بھگو لیں صبح سر میں اچھی طرح لگائیں خشک ہونے پر دھو لیں کچھ عرصہ تک اس عمل کو اچھی طرح دہرانے سے بال سیاہ ہو جائیں گے
    چھ عدد بادام گاجر کے جوس کے ساتھ استعمال کریں چند روز کے استعمال سے دماغی کمزوری دور ہوجائے گی اور حافظہ بھی تیز ہوگا
    پھٹی ایریوں کے لئے لیموں سب سے زیادہ مفید ہے تھوڑا سا گرم پانی لے کر اس میں لیموں کا رس ملا لیں اور اس محلول میں اپنے پاؤں کو دس منٹ ےک ڈبو کر رکھیں 3 سے 4 دن اس عمل کو دہرائیں پھٹی ایڑیاں ٹھیک ہو جائیں گی
    پکے ہوئے ٹماٹر کا تازہ رس چھوٹے بچوں کو دن میں دو سے تین بار دینے سے بچے صحت مند اور توانا ہو جاتے ہیں

  • چند مفید گھریلو ٹپس

    چند مفید گھریلو ٹپس

    بچوں اور بڑوں کے کپڑوں پر لگے داغ مٹانے کے لیے ایک پیالے میں تھوڑا ہائیڈروجن پر آکسائیڈ اور تھوڑی سی ٹوتھ پہسٹ آپس میں ملا لیں اور اس کو داغ پر لگا دیں اور تھوڑی دیر کپڑے کو رگڑیں داغ ختم ہو جائیں گے
    کیچپ اور کولڈ ڈرنکس یا ہئیر ڈائی کے دھبوں کو چوبیس گھنٹوں کے اندر دھونے کی کوشش کریں داغ کے مقام پر سرکہ لگائیں اور واشنگ مشین میں دھونے کے لیے ڈال دیں
    گوشت گلانے کے لیے استعمال کیے جانے والے پاوڈر سے داغ دھبوں کو دور کیا جاتا ہے دودھ چاکلیٹ یا خون کے دھبوں کو نکالنے کے لیے گوشت گلانے کے لیے استعمال ہونے والا پاوڈر لگا کررگڑنے سے داغ مٹ جاتے ہیں
    دودھ میں تھوڑا میدہ ملا کر اس کا پیسٹ بناکر قالین پر سیاہی کے داغ کے مقام پر لگائیں اور کچھ دیر کے لیے یوں ہی چھوڑ دیں پھر برش سے داغ صاف کر لیں سیاہی کے داغ چلے جائیں گے
    قالین پر لگی چیونگم کو نکالنے کے لیے برف کیوبز کا استعمال کریں چیونگم پر برف کے ٹکڑے رکھ دیں اور چاقو کی مدد سے چیونگم کو نکالنے کی کوشش کریں
    کھڑکی اور دروازوں پر اکثر جالے آ جاتے ہیں انہیں نکالنے کے لئے ایک نرم چادر کا ٹکڑا لیں اس کو نیم گرم پانی میں ڈبو دیں اسے ایک ڈنڈے پر لپیٹ لیں اخنار پر تھوڑا سا نمک ڈال کر اس کو ڈنڈے پر رول کر لیں اب ڈنڈے کو چاروں طرف گھما کر جالے صاف کر لیں اس سے کافی عرصے تک جالے نہیں آئیں گے اس کے علاوہ دیمک کی جگی کیروسین ڈالنے سے دیمک نہیں آتی ہے

  • گھریلو باغبانی موجودہ دور کی اولین ضرورت

    گھریلو باغبانی موجودہ دور کی اولین ضرورت

    باغبانی انتہائی مفید مشغلہ ہے جس سے نہ صرف آپ خود بلکہ آپ کی فیملی اور دوست احباب بھی مستفید ہوتے ہیں کوئی بھی پھل یا سبزی جو میلوں دور مسافت طے کر کے پودوں سے ٹوٹنے سے تین چار دن بعد آپکے کچن تک پہنچتی ہے ذائقے میں گھر میں اگائی جانے والی پھل یا سبزی کا مقابلہ نہیں کر سکتی گھر کی تازہ سبزیوں کا ذائقہ اور خوشبو اتنی اچھی ہوتی ہے کہ آپ بازاری سبزیاں کھا ہی نہیں سکیں گے آپ اپنی مرضی کی سبزیاں اگا سکتے ہیں جو بازار میں تازہ حالت میں دستیاب نہیں ہوتیں اگر پھل کی بات کی جائے تو پھل کو درختوں سے کچا توڑ لیا جاتا ہے اور پھر انہیں مصالحہ لگایا جاتا ہے اور راستے میں مضر صحت حالات سے گزر کر مکمل پک جاتے ان پر کاربائیڈ لگایا جاتاہے اس کیمیکل لگے پھل کو اگر پانی مکں ڈالا جائے تو پانی سے تیزاب کی طرح کے بلبلے نکلنے لگتے ہیں اگر یہی پھل آپ اپنے باغیچے سے لگے توڑیں گے تو اس کو آپ مکمل پکا ہوا اتاریں گے یہ بےحد لذیذ ہونے کے ساتھ غذائیت سے بھر پور ہوگا اسی طرح سبزیاں جب تو ڑ کر منڈی تک پھر ہم تک پہنچتی ہیں تو تین چار دن پرانی ہو چکی ہوتی ہیں چناچہ اپنا ذائقہ اور افادیت کھودیتی ہیں یہی سبزیاں اگر ہم اپنے گھر میں اگانا شروع کریں تو ہم سبزیوں کی مکمل غذائیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف بیماریوں سے بھی محفوظ رہیں گے ان سب مسائل اور نقصانات سے بچنے اور پیسہ اور صحت کو بچانے کے لیے یہی ضروری ہے کہ گھر میں سبزیاں اگائیں کیونکہ گھریلو باغبانی ہی آج کے دور کی اولین ضرورت ہے صحت مند زندگی کا تقاضا بھی کیونکہ ماہرین کے مطابق بیماریوں کی شرح میں روز بروز اضافے کی سب سے بڑی وجہ سبزیوں کا کم استعمال اور ان سبزیوں کا استعمال ہے جو گندے پانی اور زہریلی ادویات کے ذریعے اُگائی جاتی ہیں
    سبزیاں جو با آسانی اگائی جاسکتی ہیں:
    کچن گارڈن میں ٹماٹر مرچ کھیرا بینگن مولی مونگرے بھنڈی کریلہ۔توری پیاز پالک دھنیا لہسن پودینہ۔کےعلاوہ اور بہت سی سبزیاں اگائی جا سکتی ہیں آج کل بازار مکں ایسے بیج بھی دستیاب ہیں جو جلد اور زیادہ پھل دیتے ہیں اور بیماریوں سے بھی کم متاثر ہوتے ہیں بیج کے علاوہ نرسریوں سے بھی ان کی پنیری لی جا سکتی ہے جو جلد پھل دیتی ہیں پالک دھنیا میتھی گوبھی ٹماٹر ساگ گاجر شلجم مولی جیسی سبزیاں ٣ سے ۵ مرلہ پلاٹ میں آسانی سے کاشت کی جا سکتی ہیں
    کیاریوں سے اچھا منافع کمایا جا سکتا ہے:
    اس کے علاوہ گھریلو پیمانے پر ضروری نہیں کہ بہت زیادہ جگہ دستیاب ہو یہ کام گملوں پلاسٹک کے ڈبوں کھلے ڈبوں پلاسٹک یا لکڑی کی ٹرے میں بھی آسانی سے کیا جا سکتا ہے موسم گرما میں ٹینڈے کریلے بھنڈی توری کدو اور پودینہ جبکہ موسم سرما میں گاجر مولی شلجم گوبھی لہسن اور پیاز گھر میں با آسانی کاشت کیے جا سکتے ہیں اس کے علاوہ اپنی مرضی کی سبزیاں بروکلی آئس برگ اور مشروم بھی کاشت کی جا سکتی ہیں جو بازار سے تازہ حالت میں دستیاب نہیں ہوتیں اگر آپ کسی فلیٹ میں رہتے ہیں تو بھی یہ کام باصانی سے کر سکتے ہیں اس کے لئے آپ اپنے گھر کی کحڑکیوں اور بالکونی کو استعامل کر ے ورٹیکل گارڈن سے گھر کی سبزیوں کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں گھر کی کیاریوں میں اگائی جا سکتی ہیں کچن گارڈننگ کے لئے کسی زیادہ اہتمام کی ضرورت نہیں اس کے لئے آپ پرانے برتن بالٹی ٹوٹا مٹکا ٹائر ٹیوب کے ٹکڑے یا کوےئ ایسا برتن جس میں تھوڑی سی مٹی اور پانی جمع کیا جا سکے یہاں تک کہ لکڑی سے بنے پھلوں کے کارٹن یا موٹے کرے سے بنے تھیلے کوکنگ آئل کے کین دولیٹر یا اس سے بڑی کولڈ ڈرنک کی خالی بوتلیں باغبانی کے لئے بہت افادیت رکھتی ہیں ان کے علاوہ گھر یا فلیٹ کے فرش کو بھی اس کام کام کے لئے بروئے کار لایا جا سکتا ہے اس کے لئے فرش پر موٹے پولی تھین کی دوہری تہہ لگا لینی چاہیئے تاکہ سیپیج سے فرش خراب نہ ہا سکے ان کے لیے اگر نہری پانی دستیاب نہ ہو تو پینے کا گھریلو پانی بھی استعمال۔کیا جا سکتا ہے گھریلو پیمانے پر سبزیوں کی کاشت سے ہم۔خود کفیل۔ہونے کے ساتھ ساتھ روزمرہ اضافے کا رجحان پکڑتا گھریلو بجٹ سمٹنا شروع ہو جائے گا

  • ہری مرچ ملٹی وٹامنز کا خزانہ

    ہری مرچ ملٹی وٹامنز کا خزانہ

    ہری مرچ کھانوں کا مزہ تو دوبالا کرتی ہی ہے لیکن یہ صحت کے حوالے سے بھی بے شمار طبی فوائد رکھتی ہے ہری مرچ کا مزاج خشک اور گرم ہوتا ہے ہری مرچ نیوٹریشنز سے بھر پور ہوتی ہے اس میں وٹامن اے وٹامن بی سکس اور وٹامن سی ہوتے ہیں اسکے علاوہ اس میں آئرن پوٹاشئیم اور کوپر کی بھر پور مقدار پائی جاتی ہے ہری مرچ میں کوئی کیلوریز نہیں ہوتیں ہری مرچ فائبرز سے بھر پور ہوتی ہے ہری مرچ ایک پھل ہے ہری مرچ جو ہم استعمال کرتے ہیں یہ کچی ہوتی ہے یہ پوری طرح پک جانے کے بعد لال ہو جاتی ہے تو اس کے خواص ہری مرچ سے بہت ہی الگ ہو جاتے ہیں ہری مرچ کے استعمال سے سکن صحت منداور چمکدار رہتی ہے کیونکہ اس میں وٹامن سی کافی مقدار میں پایا جاتا ہے جو سکن کے لئے بہت مفید ہے اس کے علاوہ ہری مرچ کھانے سے سکن میں فاضل مادے خارج ہو جاتے ہیں اس کی وجہ سے سکن صحت مند اور چمکدار رہتی ہے اس کے علوہ ہری مرچ میں بہت زبردست اینٹی ایجنگ خصویات بھی پائی جاتی ہیں جو آپ کو لمبے عرصے تک جوان رکھ سکتی ہیں تو جو ہری مرچ استعمال کرتے ہیں لمبے عرصے تک ان کے چہرے پرجھریاں نظر نہیں آتیں خشک سکن کے لئے ہری مرچ کو سلاد میں کھائیں ہری مرچ کا استعمال آنکھوں کے لئے بہت بہترین رہتا ہے ہری مرچ میں بیٹ کیروٹین پایا جاتا ہے جو کہ آنکھوں کے لئے بہت مفید ہے آنکھیں مختلف قسم کے انفیکشنز سے محفوظ رہتی ہیں ہری مرچ کا استعمال ہاضمے کے نظام کے لئے انتہائی مفید ہے جس کھانے میں ہری مرچ شامل ہو وہ کھان ہضم آور ہو جاتا ہے کھانے کے ساتھ ہری مرچ کے استعمال سے گیس کے مسئلے سے نجات ملتی ہے بھوک نہ لگنے کی صورت میں سلاد میں ہری مرچوں کا استعمال کرنا بے حد مفید ہے اس کے علاوہ جس سالن میں ہری ہرچ کا ستعمال کیا جائے وہ بھہ بھوک بڑھانے میں مدد دیت ہے لیکن ہری مرچ کا سالن میں استعمال اس وقت کرنا چاہئے جب سالن پک جائے اور دم دینا ہو مثلاً سالن پکنے کے پانچ منٹ پہلے اس طرح اس کے وٹامنز اور منرلز ضائع نہیں ہوتے ہری مرچ کا استعمال وزن کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے اس کے لئے ہری مرچ کا اپنے کھانے کے ساتھ کا استعمال کا حصہ بنا لیں کیونکہ اس کے استعمال سے میٹا بولزم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اوی اس میں کیلوریز بھی نہیں ہوتی زیرو کیلوریز ہوتی ہیں اس میں فائبرز بھی پایا جاتا ہے جس کھانے میں فائبر پایا جائے وہ باآسانی ہضم ہو جاتا ہے ہری مرچیں جسم کے امیون سسٹم کو مضبوط کرتی ہیں جس سے جسم میں بیماریوں کے خلاف لڑنے کی قوت پیدا ہوتی ہے اور اس کے علاوہ سبز مرچیں زبردست اینٹی کینسر خصوصیات کی حامل ہوتی ہیں مختلف تحقیقات سے سے بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ مرچوں کا ستعمال کرتے ہیں وہ مختلف قسم کے کینسر سے بچے رہتے ہیں کیونک ہری مرچوں میں طاقت ور قسم کے اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں یہ آکسیڈنٹس کینسر سے بچاتے ہیں اور ساتھ ہی مختلف بیماریوں کے خلاف جسم میں مدافعت پیدا کرتی ہیں ہری مرچوں کا استعمال دل کی صحت کے لئے بہت مفید پے ان کے استعمال سے خون جمتا نہیں اور نہ ہی کولیسٹرول کا لیول بڑھتا ہے جس کی وجہ سے دل کی مختلف بیماریوں سے ہری مرچوں کا استعمال محفوظ رکھتا ہے دماغ کے لئے بھی ہری مرچیں بہت مفید ہوتی ہیں ہری مرچوں میں ایسے کمپاؤنڈز پائے جاتے ہیں جو ڈپریشن سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں ہری مرچوں کا استعمال موڈ کو بھی خوشگوار کرتا ہے اس لئے ہری مرچوں کو سالن سلاد وغیرہ میں ضرور استعماک کرنا چاہیئے ہری مرچوں کا استعمال نزلہ زکام اور فلو وغیرہ کے لئے بھی بہت مفید ہے ہری مرچیں ناک بند نہیں ہونے دیتیں اور فلو کی شدت کو کم کرتی ہیں جسم سے فاضل اور فاسد مادوں کو نکالتی ہیں اس کے علاوہ ان میں اینٹی بیکٹیریل خصوصیات پائی جاتی ہیں اس لئے ان کے استعمال سے جسم سے خاص طور پر مہ اور گلے کے نقصان دہ بیکٹیریا کا خاتمہ کرتی ہیں اس کے علاوہ ان میں اینٹی پین کلر یعنی درد سے ریلیف دینی والی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں ہری مرچوں کا استعمال دردوں میں آرام دیتا ہے یہ شوگر کے مریضوں کے لئے بھی بہت مفید ہیں سوگر کے مریضوں کو اپنے کھانے کے ان کا استعمال ضرور اور لازمی کرنا چاہیئے سلاد میں سالن میں یا کسی بھی صورت میں کیونکہ اس سے خون میں شوگر کا لیول ایک دم ہی نہیں بڑھتا یہ آئرن سے بھی بھر پور ہوتی ہیں اس لئے ہری مرچوں کا استعمال آئرن کی کمی کو بھی دور کرتا ہے اس کے علاوہ یہ خون کی کمی کو بھی دور کرنے میں مدد دیتی ہیں چونکہ ان میں زبردست قسم کے اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں اس لیے یہ جگر کے لئے بھی بہت مفید رہتی ہیں ہری مرچوں کے ان سب خواص سے فائدہ اٹھانے کے لئے انکا درج ذیل طریقے سے استعمال بہت مفید ہے اور اس کو ہفتے میں 2 یا 3 مرتبہ ہی استعمال کرنا ہے
    رات کو ایک گلاس پانی میں دو سبز مرچیں لے کر ان کو درمیان میں سے کاٹ کر ان کے بیج نکال کر ساری رات کے لئے بھگو دیں اور صبح اٹھ کر ہری مرچوں کو نکال کر پھینک دیں اور پانی استعمال کر لیں اس کے بہت سے فوائد ہیں
    یوں تو ہری مرچ بہت بہترین چیز ہے لیکن ہری مرچوں کا ضرورت سے زیادی استعمال بھی نقصان دہ ہے اس کے زیادہ استعمال سے معدے میں السر ہو سکتا ہے اس کے علاوہ ان میں تیکھا پن ایک کیمیکل کمپاؤنڈز کی وجہ سے ہوتا ہے جسے کیپسییسن کہتے ہیں اس کی بہت زیادہ مقدار زہریلی ہوتی ہے اور جان بھی لے سکتی ہے اس لئے ہری مرچ کا بہت زیادہ استعمال جان لیوا ہو سکتا ہے اس کے علاوہ دنتوں کے مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں کسی بھی قسم کی الرجی میں بھی اس کا بہت زیادہ استعمال کرنے سے الرجی بڑھ سکتی ہےایک وقت کے کھانے کے ساتھ ایک ہری مرچ استعمال کر سکتے ہیں زیادہ استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے ہری مرچ بہت فائدہ مند ہے لیکن ایک خاص مقدار میں

  • خون کی کمی کا علاج

    خون کی کمی کا علاج

    اگر آپ کے جسم میں بہت زیادہ خون کی کمی ہے اور آپ اس وجہ سے پریشان ہیں تو اب مزید پریشان ہونے کی ضرورت نہیں جسم میں خون کی کمی کے لئے یہ ڈرنک بہت مفید پے مرد خواتین بچوں بوڑھوں کے لئے یہ بہت زبردست ڈرنک ہے خاص طور پر حاملہ خواتین کے لئے جو خون کی کمی کو پورا کرنے کے لئے انجکشن اور ادویات کا استعمال کرتی ہیں
    چقندر اور کھیرا ایک عدد ، کالا نمک اور کالی مرچ ایک ایک چٹکی ، پانی ایک گلاس، شکر ایک چائے کا چمچ
    ان تمام چیزوں کو بلینڈر میں ڈال کر جوس بنا کر ایک گلاس روزانہ نہار منہ پی لیں ایک ہفتے میں ہی فرق محسوس ہو گا ایک ماہ مسلسل استعمال کرنے سے جسمانی طور پر فٹ ہو جائیں گے اور تمام اندرونی بیماریاں بھی ختم ہو جائیں گی

  • ایک حبشی غلام کا ایمان افروز واقعہ

    ایک حبشی غلام کا ایمان افروز واقعہ

    حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے پہلی دفعہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیسے دیکھا؟
    بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مکے کے لوگوں کو بہت ہی کم جانتا تھا۔ کیونکہ غلام تھا اور عرب میں غلاموں سے انسانیت سوز سلوک عام تھا، انکی استطاعت سے بڑھ کے ان سے کام لیا جاتا تھا تو مجھے کبھی اتنا وقت ہی نہیں ملتا تھا کہ باہر نکل کے لوگوں سے ملوں، لہذا مجھے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا اسلام یا اس طرح کی کسی چیز کا قطعی علم نہ تھا۔
    ایک دفعہ کیا ہوا کہ مجھے سخت بخار نے آ لیا۔ سخت جاڑے کا موسم تھا اور انتہائی ٹھنڈ اور بخار نے مجھے کمزور کر کے رکھ دیا، لہذا میں نے لحاف اوڑھا اور لیٹ گیا۔ ادھر میرا مالک جو یہ دیکھنے آیا کہ میں جَو پیس رہا ہوں یا نہیں، وہ مجھے لحاف اوڑھ کے لیٹا دیکھ کے آگ بگولا ہو گیا۔ اس نے لحاف اتارا اور سزا کے طور پہ میری قمیض بھی اتروا دی اور مجھے کھلے صحن میں دروازے کے پاس بٹھا دیا کہ یہاں بیٹھ کے جَو پیس اب سخت سردی، اوپر سے بخار اور اتنی مشقت والا کام، میں روتا جاتا تھا اور جَو پیستا جاتا تھا۔ کچھ ہی دیر میں دروازے پہ دستک ہوئی، میں نے اندر آنے کی اجازت دی تو ایک نہائت متین اور پر نور چہرے والا شخص اندر داخل ہوا اور پوچھا کہ جوان کیوں روتے ہو؟ جواب میں میں نے کہا کہ جاؤ اپنا کام کرو، تمہیں اس سے کیا میں جس وجہ سے بھی روؤں، یہاں پوچھنے والے بہت ہیں لیکن مداوا کوئی نہیں کرتا قصہ مختصر کہ بلال نے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کافی سخت جملے کہے۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ جملے سن کے چل پڑے، جب چل پڑے تو بلال نے کہا کہ بس؟ میں نہ کہتا تھا کہ پوچھتے سب ہیں مداوا کوئی نہیں کرتا۔۔
    حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر بھی چلتے رہے۔۔ بلال کہتے ہیں کہ دل میں جو ہلکی سی امید جاگی تھی کہ یہ شخص کوئی مدد کرے گا وہ بھی گئی۔ لیکن بلال کو کیا معلوم کہ جس شخص سے اب اسکا واسطہ پڑا ہے وہ رحمت اللعالمین ہیں بلال کہتے ہیں کہ کچھ ہی دیر میں وہ شخص واپس آ گیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا پیالہ اور دوسرے میں کھجوریں تھیں۔ اس نے وہ کھجوریں اور دودھ مجھے دیا اور کہا کھاؤ پیو اور جا کے سو جاؤ میں نے کہا تو یہ جَو کون پیسے گا؟ نہ پِیسے تو مالک صبح بہت مارے گا۔ اس نے کہا تم سو جاؤ یہ پسے ہوئے مجھ سے لے لینا بلال سو گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساری رات ایک اجنبی حبشی غلام کے لئے چکی پیسی۔
    صبح بلال کو پسے ہوئے جو دیے اور چلے گئے۔ دوسری رات پھر ایسا ہی ہوا، دودھ اور دوا بلال کو دی اور ساری رات چکی پیسی۔۔ ایسا تین دن مسلسل کرتے رہے جب تک کہ بلال ٹھیک نہ ہو گئے یہ تھا وہ تعارف جس کے بطن سے اس لافانی عشق نے جنم لیا کہ آج بھی بلال کو صحابی ءِ رسول بعد میں، عاشقِ رسول پہلے کہا جاتا ہے وہ بلال رضی اللہ عنہ جو ایک دن اذان نہ دے تو خدا تعالی سورج کو طلوع ہونے سے روک دیتا ہے، انہوں نے حضور کے وصال کے بعد اذان دینا بند کر دی کیونکہ جب اذان میں ’أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘ تک پہنچتے تو حضور کی یاد میں ہچکیاں بندھ جاتی تھیں اور زار و قطار رونے لگتے تھے۔آپ رضی اللہ وتعالی عنہ ہجرت کر کے شام چلے گئے اور حضور پاک کے وصال کے بعد بس دو مرتبہ اذان دی ایک مرتبہ بیت المقدس کی فتح پر حضرت عمر رضی اللہ وتعالی عنہ کے کہنے پر اور دوسری مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ وتعالی عنہ رات کو سوئے ہوئے تھے تو بنی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواب میں آئے اور فرمایا بلال اتنی سردمہری ہے کہ اتنا عرصہ گزر تم ہمارے پاس آتے ہی نہیں جہاں محبت ہوتی ہی وہاں محبت میں شکوے بھی ہوتے ہیں تو حضرت بلال رضی اللہ وتعالی عنہ کی فوراً آنکھ کھل گئی بیوی سے فرمایا کہ ابھی تیاری کرو میں ابھی رات کو ہی سفر کرنا ہے میں صبح کا انتظار نہیں کرنا بیوی نے سامان باندھ دیا چل پڑے اور مدینہ منورہ پہنچ گئے مسجد نبوی میں حاضر ہوئے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں انہوں نے سلام پیش کیا تو اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا تو صحابہ اکرام رضی اللہ وتعالی عنہما نے حضرت بلال رضی اللہ وتعالی عنہ سے اذان دینے کی فرمائش کی حضرت بلال رضی اللہ وتعالی عنہ نے منع فرما دیا اتنے میں دو شہزادے آگئے حضرت امام حسن رضی اللہ وتعالی عنہ اور حضرت اما حسین رضی اللہ وتعالی عنہ اب حسنین کریمین نے بھی فرمائش کردی تو ان کی فرمائش منع نہیں کر سکے شہزادوں کی بات کو انکار کی گنجائش نہ تھی تو حضرت بلال رضی اللہ وتعالی عنہ نے اذان دینا شروع کر دی جب انہوں نے اذان شروع کی اللہ اکبر کہا تو صحابہ اکرام رضی اللہ وتعالی عنہما نے وہ اذان کی آواز سنی جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سنتے تھے تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد نے جوش مارا صحابہ اکرام رضی اللہ وتعالی عنہما رونے لگے حضرت بلال کی بھی ہچکیاں بندھ گئیں عورتوں نے بھی آواز سنی تو اپنے چہرے ڈھانپ کر بچوں کو لے کر مسجد نبوی کے دروازے پر آ کھڑی ہوئیں عجیب منظر ہے مسجد کے اندر مرد رو رہے ہیں اس آواز کو سن کر جو محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سنا کرتے تھے اور مسجد کے باہر عورتیں رو رہی تھیں اذان تو ختم ہو گئی مگر معاملہ اور نازک تب بنا جب ایک تین چار سال کا بچہ اپنی ماں سے کہنے لگا امی اتنے عرصے بعد بلال رضی اللہ وتعالی عنہ تو واپس آ گئے ہیں اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کب واپس آئیں گے صحابہ اکرام نبی پاک کو بے تحاشا یاد کرتے تھے

  • خون کی کمی کیوں ہوتی ہے

    خون کی کمی کیوں ہوتی ہے

    ہر تیسرا شخص خون کی کمی کا شکار ہے خون کی کمی تب ہوتی ہے جب جسم میں خون کے سرخ خلیوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے یعنی ریڈ بلڈ سیلز کی مقدار کم ہو جاتی ہے اس حالت کو خون کی کمی یا اینیمیا کہا جاتا ہے سانز لینے کے دوران جب آکسیجن پھیپھڑوں میں جاتی ہےتو یہ خون کے لال خلیے ہی اس آکسیجن کو جسم کے تمام حصوں خلیوں اور ہر ٹشو تک پہنچاتے ہیں اگر ان ریڈ بلڈ سیلز کی کمی جائے تو جسم کے لیے مشکل ہو جاتا ہے آکسیجن کو تمام خلیوں اور ٹشوز تک پہنچانا اور اس طرح جسم کو آکسیجن ہر ایک ٹشو تک پہنچانے میں بہت محنت کرنا پڑتی ہے جسم میں خون کی کمی ہونے کی مندرجہ ذیل نشانیاں ہیں
    سب سے پہلی نشانی جب کسی شخص کے جسم میں خون کی کمی۔ہو تو اس کارنگ زرد ہونا شروع ہو جاتا ہے جسم میں کمزوری آ جاتی ہے اور اکثر سر درد رہتا ہے جسم میں کمزوری کی وجہ سے چکر آتے ہیں دل کی دھڑکن بڑھ سکتی ہی زبان خشک ہو جاتی ہے ناخن عام طورپر کمزور ہو جاتے ہیں یہ کچھ نشانیاں ہیں جو جسم میں کمزوری کی صورت میں نظر آ سکتی ہیں جسم میں خون کی بڑی وجہ کھانے پینے کی غلط عادات ہو سکتی ہیں ہو سکتا ایسی غذا استعمال کی جا رہی ہو جس سے جسم کو روزانہ کی ضرورت کا آئرن نہ مل رہا ہو تو جسم میں آئرن کمی خون کی کمی کی بڑی وجہ ہے آئرن کے علاوہ۔جسم میں وٹامن بی ٩ اور وٹامن بی ١٢ کافی مقدار میں موجود نہ ہو تو تب بھی جسم میں خون کی کمی ہو سکتی ہے اگرکوئی اینیمیا کا شکار ہو جائے تو اس کو دور کرنے کا سب سے بہترین اور سستا طریقہ غذا کے ذریعے اس کمی کو دور کرنا ہے خون کی کمی دور کرنے کے لیے مندرجہ ذیل۔غذائیں استعمال کرنے سے کچھ ہی دنوں میں خون کی کمی۔ہوری کرنے میں مدد دے گا اس میں سب سے پہلے جو غذا ہے وہ ہے لال گوشت خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے گائے کا گوشت انتہائی مفید ہے اس گوشت میں آئرن بھر پور مقدار میں موجود ہوتا ہے اس کے علاوہ اس میں وٹامن بی نو اور وٹامن بی بارہ بھی کافی مقدار میں موجود ہوتا ہے گائے کا گوشت استعمال۔کرنے سے کچھ ہی ہفتوں میں خون کی کمی دور ہو جائے گی کلیجی کا استعمال جسم میں خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بہت مفید ہے یہ بہت مددگار رہتی ہے کلیجی ایک بھر پور غذا ہے کلیجی میں کافی زیادہ مقدار میں وٹامنز اور منرلز پائے جاتے ہیں کلیجی میں آئرن بھی بھر پور مقدار میں پائی جاتی ہی ہفتے میں دو سے تین مرتبہ کلیجی کا استعمال کچھ ہی ہفتوں میں خون کی کمی دور کرنے میں مدد دےگا پالک بھی آئرن سے بھر پور ہوتی ہےخون کی کمی کا شکار لوگ پالک ابال۔کر استعمال کریں کچھ ہی ہفتوں میں خون کی کمی۔دور ہو جائے گی کشمش بھی آئرن سے بھر پور ہوتی ہے اس کے علاوہ یہ جسم میں کمزوری دور کرتی ہے چونکہ یہ کمزوری خون کی کمی کی وجہ سے آتی ہے اسی لیے کشمش کے استعمال سے نہ صرف جسم میں خون کی کمی پوری ہوتی ہے آئرن آتا ہے بلکہ تونائی بھی آتی ہے کشمش کے استعمال کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ رات کو سونے سے پہلے بیس گرام کشمش لے کر ان کو پانی سے نتھار کر ساری رات بھگو دیں صبح اٹھ کر پانی پی لیں جس میں کشمش ھگوئی تھی پھر کشمش بھی کھا لی جائےتو یہ خون کی کمی پوری کرنے کے لیے بہت مفید ہے انڈے بھی خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بہت مفید ہیں ان میں تمام وٹامنز اور منرلز موجود ہوتے ہیں جو جسم کو دستیاب ہوتے ہیں وٹامن سی کے علاوہ انڈوں میں سب کچھ موجود ہوتا ہے آئرن بھی انڈوں میں بھر ہور مقدار میں ہوتا ہے اس کے علاوہ وٹامن بی ٩ اور بی بارہ بھی اچھی خاصی مقدار میں پائے جاتے ہیں اس لیے خون کی کمی کی صورت میں ناشتے میں ابلے ہوئے انڈوں کا ستعمال بہت مفید ہے چقندر میں۔آئرن کے علاوہ وٹامن بی بھی کافی مقدار میں موجود ہوتا ہے اس لیے چقندر کا استعمال بھی اینیمیا کے لیے بے حد مفید ہے چقنر کو یا تو جوس یا اس کی سلاد بنا کر استعمال کیا جا سکتا ہے مچھلی بھی غذائیت سے بھر پور غذا ہے یہ آئرن سے بھر پور ہوتی ہے اس میں آئرن وٹامن بی ٩ اور ١٢ بھی پایا جاتا ہے اس لیے خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مچھلی سے بہتر کوئی غذا نہیں ہو سکتی کیونکہ اس مکں وہ تمام چیزیں موجود ہوتی ہیں جس کی جسم کو ضرورت ہوتی ہے ڈیری پروڈکٹس بھی اینیما کے لیے بہت مفید ہیں اس مکں دہی دودھ مکھن وغیرہ شامل۔ہیں دالیں بھی خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بہت مفید ہےان مکں وہ تمام اجزا پائے جاتے ہیں جو خون کی کمی۔پوری کرنے کے لیے جسم کو دستیاب ہوتے ہیں دال کو چاہے سوپ بنا کر یا سالن بنا کر جس طرح بھی استعمال کیا جا سکتا ہے سویا بین کا استعمال اینیمیا کے لیے لازمی کریں ان میں بھر پور مقدار میں آئرن پایا جاتا ہے انجیر وٹامن اور آئرن سے بھر پور ہوتی ہیں یہ جسم کی کمزوری کو بھی دور کرتی ہیں اس لیے خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے انجیر ضرور استعمال کرنی چاہیے گڑ بھی آئرن سے بھر پور ہوتا ہے اس میں بھی وٹامنز بھر پور مقدار میں پائے جاتے ہیں رات کو سونے سے پہلے ایک گلاس نیم۔گرم دودھ میں ایک کھانے کا چمچ گڑ ڈال۔کر اچھی طرح سے مکس کر کے پی لیں یہ سونے سے آدھا گھنٹہ پہلے پینا ہے یہ جسم میں کمزوری دور کرے گا جسم میں انرجی پیدا کرے گا جسم کی کمزوری ان چیزوں سے بہتر ہوتی ہے جو جسم ہضم کرتا ہے اس لیے نظام ہاضمہ بھی درست ہونا چاہیے مثال کے طور پر آپ بہترین غذا کھا رہے ہیں لیکن اگر یہ بہترین غذا جسم۔اگر صحیح طریقے سے ہضم نہیں کر رہا ان سے نیوٹریشنز ہی نہیں صحیح لے رہا تو یہ غذا جسم کے لیے بے کار ہیں اس لیے وہ ہی چیزیں لیں جو جسم بہتر طریقے سے ہضم کر لے اس کے لیے اوپر دی گئی تمام چیزوں کے ساتھ دہی کا۔استعمال بھی۔لازمی ہے کیونکہ۔دہی کھانے سے ہاضمہ درست رہتا ہے معدہ بہترین رہتا ہے دہی میں وہ بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جو انسانی جسم کے لیے مفید رہتے ہیں معدے کو درست رکھتے ہیں لیکن زیادہ میٹھی اور جنک فوڈز سے بہت پرہیز بھی لازمی ہے