Baaghi TV

Category: خیبر پختونخواہ

  • خیبر پختونخوا کی مسلسل بڑھتی آبادی، خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کا شدید فقدان

    خیبر پختونخوا کی مسلسل بڑھتی آبادی، خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کا شدید فقدان

    خیبر پختونخوا کی آبادی 2023 کی مردم شماری کے مطابق بڑھ کر 4 کروڑ 86 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ آبادی میں سالانہ 2.38 فیصد اضافے کے باعث صحت، تعلیم، پانی، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بالخصوص ضم شدہ اضلاع میں خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کی سہولیات تک رسائی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

    پاپولیشن کونسل اور اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ (یو این ایف پی اے) کے تعاون سے منعقدہ میڈیا کولیشن آن پاپولیشن کے اجلاس میں ماہرین نے خیبر پختونخوا میں بڑھتی آبادی، خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کی سہولیات کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ اجلاس میں آبادی میں اضافے کے ساتھ بنیادی سہولیات پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور خصوصاً غریب و دور دراز علاقوں کی خواتین تک خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات پہنچانے کے مسائل کا جائزہ لیا گیا۔

    پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیف پاپولیشن کاظم سلمان نے کہا کہ وفاقی حکومت آبادی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے تمام صوبوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، جبکہ آبادی کا معاملہ وزیراعظم کے ایجنڈے میں اہم ترجیح بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پاپولیشن کونسل کے ذریعے وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کیا جائے گا تاکہ آبادی سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جاسکیں۔

    پاپولیشن کونسل کے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر علی میر نے کہا کہ آبادی میں اضافہ صرف اعدادوشمار کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کا براہ راست تعلق پانی، زرعی زمین، خوراک، شہری پھیلاؤ، تعلیم اور صحت سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی اور محدود وسائل کے درمیان توازن پیدا کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ بڑھتی آبادی کے ساتھ بنیادی سہولیات کی طلب میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

    پاپولیشن کونسل کی ڈائریکٹر پروگرامز ڈاکٹر ارم کامران نے کہا کہ غریب اور دور دراز علاقوں کی خواتین تک خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات پہنچانے کے لیے عملی اور آسان ماڈلز اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک پائلٹ پروگرام کے تحت 10 ماہ کے دوران تقریباً 22 ہزار خواتین کو خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات فراہم کی گئیں، جس کے نتیجے میں مانع حمل طریقوں کے استعمال میں اضافہ ہوا۔

    یو این ایف پی اے کے پروگرام اینالسٹ ڈاکٹر غلام فرید خان نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی کمی خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کی فراہمی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ان کے مطابق دور دراز علاقوں میں خواتین تک مؤثر انداز میں رسائی کے لیے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ انہیں تولیدی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کی ضروری سہولیات ان کے علاقوں میں دستیاب ہوسکیں۔

    ڈاکٹر غلام فرید خان نے مزید کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ مردوں کو بھی اس حوالے سے آگاہ اور حساس بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق بچوں کی تعداد اور پیدائش میں وقفے سے متعلق فیصلوں میں مردوں کا اہم کردار ہوتا ہے، اس لیے خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق آگاہی اور خدمات میں مردوں کی شمولیت بھی ضروری ہے۔

    اجلاس کے شرکا نے خیبر پختونخوا میں لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کے روزگار، لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تعداد میں اضافے، معیاری تولیدی صحت کی سہولیات کی فراہمی اور مردوں کی خاندانی منصوبہ بندی میں شمولیت کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

    ماہرین کے مطابق 4 کروڑ سے زائد آبادی والے خیبر پختونخوا میں اصل چیلنج صرف آبادی میں اضافے کو روکنا نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے مقابلے میں صحت، تعلیم، پانی، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات کی دستیابی کو بھی یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق آبادی میں مسلسل اضافے کے تناظر میں محدود وسائل اور بڑھتی ضروریات کے درمیان توازن قائم کرنا صوبے کے لیے ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔

  • کرک میں  نامعلوم مسلح افراد کی پولیس اہلکاروں پر فائرنگ،ایک اہلکار شہید ایک زخمی

    کرک میں نامعلوم مسلح افراد کی پولیس اہلکاروں پر فائرنگ،ایک اہلکار شہید ایک زخمی

    خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں رات گئے شنکی ڈیم کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ظفران شہید جبکہ محمد امتیاز زخمی ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ رات گئے شنکی ڈیم کے قریب پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا،فائرنگ کے نتیجے میں اہلکار ظفران موقع پر ہی شہید ہوگئے جبکہ محمد امتیاز زخمی ہوئے،لاش اور زخمی پولیس اہلکار کو کے ڈی اے اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں زخمی اہلکار کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

    پولیس نے علاقے میں سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن شروع کردیا ہے، جبکہ فائرنگ میں ملوث ملزمان کی تلاش جاری ہے،ڈی ایس پی یوسف خٹک کے مطابق واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور نامعلوم حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، واقعے کی مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔

  • شمالی وزیرستان میں ایرانی شہری سمیت  9 جنگجو ہلاک

    شمالی وزیرستان میں ایرانی شہری سمیت 9 جنگجو ہلاک

    شمالی وزیرستان میں گزشتہ روز پاکستانی فورسز کی کارروائی کے دوران 9 جنگجو ہلاک کیے گئے، جن میں ایک ایرانی شہری بھی شامل بتایا گیا ہے-

    تفصیلات کے مطابق ایرانی شہری نے قریباً 16 سال کی عمر میں 2014 میں شام میں مسلح سرگرمیوں کا آغاز کیا اور القاعدہ سے وابستہ گروپ جبہۃ الفتح الشام کے ساتھ رہا، بعد ازاں تحریر الشام سے بھی وابستہ رہا،مذکورہ شخص نے شام میں ایک شامی خاتون سے شادی کی، جس سے اس کی 2 بیٹیاں ہیں شام سے نکلنے کے فیصلے کے بعد اہلیہ کے ساتھ سفر پر آمادہ نہ ہونے پر اس نے اسے طلاق دے دی اور اپنے سفر کو جاری رکھا۔

    شام میں مذکورہ شخص کا نام جعفر جبکہ پاکستان میں محمد فاتح استعمال کیا جاتا تھا وہ قریباً 8 ماہ سے تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ تھا اور کچھ عرصہ بلوچستان کے علاقے مکران میں بھی موجود رہا بعد ازاں وہ شمالی وزیرستان یہ شخص شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں سفر کے دوران دیگر 8 ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا،محمد فاتح کی ماضی میں شام میں کالعدم تنظیم القاعدہ سے وابستگی اور بعد ازاں فتنہ الخوا رج میں شمولیت خطے میں شدت پسند تنظیموں کے باہمی روابط اور غیر ملکی عناصر کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے-

  • صوابی: فیکٹری پر ایف بی آر کا چھاپا، 12 کروڑ کا غیرقانونی سگریٹ پیپر برآمد

    صوابی: فیکٹری پر ایف بی آر کا چھاپا، 12 کروڑ کا غیرقانونی سگریٹ پیپر برآمد

    صوابی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گدون انڈسٹریل اسٹیٹ میں قائم ایک فیکٹری پر کارروائی کرتے ہوئے 12 کروڑ روپے مالیت کا غیرقانونی سگریٹ پیپر برآمد کرلیا۔

    ایف بی آر کے مطابق خفیہ معلومات کی بنیاد پر گدون انڈسٹریل اسٹیٹ میں واقع فیکٹری پر چھاپہ مارا گیا، جہاں کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں غیرقانونی سگریٹ پیپر موجود ہونے کا انکشاف ہوا۔

    حکام کے مطابق فیکٹری سے مجموعی طور پر ایک ہزار 225 کارٹن سگریٹ پیپر قبضے میں لے لیے گئے، جن کی مالیت تقریباً 12 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ غیرقانونی سگریٹ پیپر کی برآمدگی اور ضبطگی سے قومی خزانے کو ممکنہ طور پر 6.1 ارب روپے کے نقصان سے بچا لیا گیا ہے۔

    ایف بی آر کے مطابق ضبط کیے گئے سگریٹ پیپر کو مزید قانونی کارروائی اور ریکارڈ کے لیے سرکاری گودام مردان منتقل کردیا گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ غیرقانونی سگریٹ مصنوعات اور ان کی تیاری میں استعمال ہونے والے سامان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ حالیہ کارروائی بھی غیرقانونی تجارت کی روک تھام اور قومی خزانے کو ممکنہ مالی نقصان سے محفوظ رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

  • خیبرپختونخوا پولیس نے ڈیجیٹل ڈرائیونگ لائسنس متعارف کروا دیا

    خیبرپختونخوا پولیس نے ڈیجیٹل ڈرائیونگ لائسنس متعارف کروا دیا

    خیبرپختونخوا پولیس نے باقاعدہ طور صوبہ بھر میں ڈیجیٹل ڈرائیونگ لائسنس متعارف کروا دیا ہے.

    ترجمان کے پی پولیس کے مطابق موبائل فون میں ایپ کے ذریعے ان لائن لائسنس بتائیں جس پر جرمانہ نہیں ہوگا رابطہ ایپ پر شناختی کارڈ نمبر ڈالتے ہی ای لائسنس منٹوں میں آپ کی اسکرین پر آجائے گا ،پشاور کے تمام ٹریفک اہلکاروں کو "ای لائسنس” قانونی ، اور بغیر جرمانہ تصور کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئیں ہیں.

    شہری اب Police Sahulat Markaz یا رابطہ ایپ کے ذریعے اپنا ڈیجیٹل لائسنس موبائل اسکرین پر دیکھ سکتے ہیں،یہ ڈیجیٹل لائسنس صوبہ بھر میں ٹریفک پولیس، دیگر سرکاری اداروں اور عدالتوں میں مکمل طور پر قابلِ قبول ہے،محفوظ QR کوڈ کے ذریعے ٹریفک اہلکار چند سیکنڈ میں لائسنس کی آن لائن تصدیق کر سکتے ہیں، موبائل پر ای لائسنس دکھانے پر ٹریفک چالان یا جرمانہ نہیں کیا جائے گا،

    سی ٹی او پشاور ڈاکٹر محمد زاہد کا کہنا تھا کہ ڈیجٹل ڈرائیونگ لائسنس، ٹریفک پولیس میں ٹیکنالوجی کی جانب اھم اقدام ہے.

  • سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا میں مختلف کارروائیاں، 21 دہشتگرد ہلاک

    سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا میں مختلف کارروائیاں، 21 دہشتگرد ہلاک

    خیبر پختونخوا میں 3 سے 5 ستمبر کے دوران سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں بھارتی سرپرستی یافتہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 21 خوارج ہلاک کر دیے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی کے بعد علاقے میں چھپے مزید 10 خوارج کو ہلاک کر دیا گیا، اس کارروائی کے بعد پاکستان میں دراندازی کی کوشش کرنے والے اور سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مؤثر ا نداز میں ہلاک کیے جانے والے خوارج کی مجموعی تعداد 25 ہو گئی ہے۔

    شمالی وزیرستان کے ایک اور علاقے میں پاک افغان سرحد کے قریب خوارج کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا گیا، سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے گروہ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 7 خوارج ہلاک کر دیے گئے۔

    کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خیل اضلاع میں مشترکہ کارروائیوں کے دوران دو مختلف مقابلوں میں مزید 4 خوارج کو ہلاک کر دیا گیا، علاقے میں موجود کسی بھی بھارتی سرپرستی یافتہ خارجی کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہیں۔

    پاک افغان سرحد کے ساتھ پیش آنے والے یہ مسلسل واقعات ایک بار پھر پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں کہ طالبان حکومت افغانستان کی سرزمین کو اپنی سرپرستی میں موجود دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔

    افغان طالبان حکومت مؤثر سرحدی انتظام کو یقینی بنانے اور دہشت گردی کے خلاف اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہے۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے اپنے عزم پر ثابت قدم ہیں۔

    وفاقی ایپکس کمیٹی کے تحت پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز اور مسلسل مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی، جس کا مقصد ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ہے۔

  • الیکٹرک بائیکس کے بعد ای وی رکشوں کی اسکیم بھی لائیں گے، سہیل آفریدی

    الیکٹرک بائیکس کے بعد ای وی رکشوں کی اسکیم بھی لائیں گے، سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے میں خواتین کے لیے ای وی بائیکس اسکیم شروع کی جا رہی ہے، جس کے تحت طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین کو میرٹ کی بنیاد پر الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی۔ اسکیم کا پہلا مرحلہ جلد شروع ہوگا۔

    سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ الیکٹرک بائیکس کے بعد صوبے میں ای وی رکشوں کی اسکیم بھی متعارف کرائی جائے گی، جس کا مقصد ماحول دوست اور صاف ستھری سفری سہولیات کو فروغ دینا ہے۔

    57ویں صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں الیکٹرک بسز اسکیم پر کام مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو جدید، آسان اور ماحول دوست سفری سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

    انہوں نے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل عوامی منصوبوں پر بھی کام تیز کرنے اور ترقیاتی اسکیموں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے بیوروکریسی پر زور دیا کہ روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر کام کیا جائے اور عوامی مفاد کے منصوبوں کی راہ میں بیوروکریٹک رکاوٹیں حائل نہ ہونے دی جائیں۔

    بانی پی ٹی آئی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کا شوکت خانم اسپتال میں ذاتی ڈاکٹروں سے علاج کرانے کا حکم دیا تھا، تاہم وفاقی حکومت نے عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی سے متعلق عدالتی احکامات پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت عوامی سہولت، ماحول کے تحفظ اور جدید طرز حکمرانی کے لیے نئے اقدامات جاری رکھے گی۔

  • پیپلزپارٹی حکومت میں رہے گی یا اپوزیشن میں؟ فیصلہ کور کمیٹی کرے گی، فیصل کریم کنڈی

    پیپلزپارٹی حکومت میں رہے گی یا اپوزیشن میں؟ فیصلہ کور کمیٹی کرے گی، فیصل کریم کنڈی

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کے اپوزیشن میں بیٹھنے یا حکومت کے ساتھ رہنے کا حتمی فیصلہ پارٹی کی کور کمیٹی کرے گی، بلاول بھٹو زرداری کی اپوزیشن لیڈر سے ملاقات معمول کی سیاسی ملاقات تھی، اسے غیرمعمولی رنگ دینا مناسب نہیں۔

    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ قانون سازی کے معاملات پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان ایک دوسرے سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں، بلاول بھٹو کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کو سیاسی طوفان قرار دینا چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کے مترادف ہے۔ پیپلزپارٹی اپنے سیاسی معاملات اور مستقبل کے لائحہ عمل پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے، اس لیے کسی سیاسی ملاقات کو حتمی فیصلے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔

    گورنر خیبرپختونخوا نے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو مولانا فضل الرحمان سے اپنے کیے پر معافی مانگنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم ملک کے مفاد میں سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت اور مفاہمت کا راستہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے۔

    ملکی اور علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بھارت کے خلاف جنگ اور سفارتکاری میں فیلڈ مارشل کا کردار قابلِ تعریف رہا ہے۔ پاکستان نے 47 سال بعد ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا، جو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ دنیا بھی اب تسلیم کررہی ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور مشکل حالات میں ذمہ دارانہ سفارتکاری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

    صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبہ دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے موجودہ حالات میں خیبرپختونخوا میں کسی قسم کا لانگ مارچ یا شارٹ مارچ نہیں ہونا چاہیے۔ تمام سیاسی قوتوں کو امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جن سے صوبے کے حالات مزید خراب ہوں۔

    بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ان کا طبی معائنہ ہوچکا ہے اور وہ صحت مند ہیں۔ ان کے مطابق صحت جیسے معاملات کو غیرضروری سیاسی تنازع نہیں بنانا چاہیے۔

    گورنر خیبرپختونخوا نے ہری پور واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی افسوسناک قرار دیا اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور آئی جی پولیس سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔

    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ ہری پور جاکر غمزدہ والدین سے ملاقات کریں گے اور ان کے دکھ میں شریک ہوں گے۔ متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور واقعے میں ملوث ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے۔

  • خیبر پختونخوا کے مزید 4 تاریخی مقامات یونیسکو کی فہرست میں شامل

    خیبر پختونخوا کے مزید 4 تاریخی مقامات یونیسکو کی فہرست میں شامل

    خیبر پختونخوا کے مزید 4 تاریخی مقامات کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے عارضی فہرست (Tentative List) میں شامل کرلیا گیا ہے۔

    صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے اسے صوبائی حکومت کی بڑی کامیابی اور خطے کے مالا مال ثقافتی ورثے کا عالمی سطح پر اعتراف قرار دیا ہے،یونیسکو کی عارضی فہرست میں ہری پور کا بھامالا، پشاور کے سیٹھی ہاؤس اور گور گٹھری جبکہ سوات کا بریکوٹ شامل ہیں، شفیع جان کے مطابق اس پیشرفت سے خیبر پختونخوا کے تاریخی اور ثقافتی مقامات کی اہمیت عالمی سطح پر مزید اجاگر ہوگی۔

    صوبائی وزیر نے کہا کہ بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وژن اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبے کے تاریخی و ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اقدامات جاری ہیں، ’ہمارا شاندار ثقافتی ورثہ ہمارا فخر اور آنے والی نسلوں کے لیے امانت ہے،تاریخی ورثے کا تحفظ، بحالی اور اسے عالمی سطح پر متعارف کرانا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

  • ‎کبل پولیس اسٹیشن کے قریب خودکش دھماکا، 15 افراد شہید

    ‎کبل پولیس اسٹیشن کے قریب خودکش دھماکا، 15 افراد شہید

    ‎سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے میں کم از کم 15 افراد شہید جبکہ 10 افراد زخمی ہوگئے۔ شہداء میں 6 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جنہوں نے حملہ آور کو تھانے کے اندر داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
    ‎خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ دھماکا خودکش حملہ تھا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ جائے وقوعہ سے ایک انسانی سر بھی برآمد ہوا ہے، جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ خودکش حملہ آور کا ہے۔ ابتدائی تفتیش میں حملہ آور کے افغان شہری ہونے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم حتمی تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کی جائے گی۔
    ‎ڈی پی او سوات محمد عمر نے بتایا کہ حملہ آور پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم گیٹ پر موجود اہلکاروں نے اسے روک لیا۔ اسی دوران اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا اور متعدد افراد شہید و زخمی ہوگئے۔
    ‎ڈپٹی انسپکٹر جنرل مالاکنڈ سید فدا حسین کے مطابق دھماکے کے وقت پولیس اسٹیشن کے قریب مقامی نوجوانوں کا احتجاج بھی جاری تھا، جس کی وجہ سے علاقے میں شہریوں کی موجودگی زیادہ تھی اور جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
    ‎واقعے کے فوراً بعد پولیس، ریسکیو اور دیگر امدادی اداروں نے کارروائیاں شروع کر دیں۔ تمام زخمیوں اور شہداء کو فوری طور پر سینٹرل اسپتال سوات منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
    ‎وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس امن کے لیے بے مثال قربانیاں دے رہی ہے اور دہشت گرد اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے بھی خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کی جائے اور کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ریاست کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
    ‎وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہید پولیس اہلکاروں کی قربانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بہادر اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر حملہ آور کو تھانے کے اندر داخل ہونے سے روکا، جس سے بڑے جانی نقصان کو ٹال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ منطقی انجام تک پہنچائی جائے گی۔