Baaghi TV

Category: خیبر پختونخواہ

  • گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

    گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

    محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں گلیشیئر پھٹنے، شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر ہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ الرٹ کے مطابق کل 3 مئی 2026 سے ایک معتدل مغربی لہر پاکستان کے بالائی علاقوں میں داخل ہونے کی توقع ہے، جس کے باعث دونوں صوبوں میں بڑے پیمانے پر آندھی، گرج چمک اور موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں اچانک اضافے کے بعد اس نوعیت کی بارشیں گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (GLOF)، ملبے کے بہاؤ اور اچانک سیلاب کے خطرات کو بڑھا دیتی ہیں، خاص طور پر ہوپر، غلکین، ششپر، یاسین، پھنڈر، بڈسوات، لوئر ہنزہ، نگر، گھانچے اور دیر بالا جیسے علاقے ان خطرا ت کی زد میں ہیں۔

    حکام نے برفانی وادیوں کے مکینوں کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ بارش کے دوران ندی نالوں اور دریا کے کناروں سے دور رہیں اور ندی میں پانی کے رنگ کی تبدیلی یا پتھروں کے ٹکرانے جیسی غیر معمولی آوازیں سننے پر فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں۔

    انتظامیہ نے شہریوں کو مویشی اور ضروری سامان بلند مقامات پر منتقل کرنے اور مقامی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کا مشورہ دیا ہےڈیزاسٹر مینجمنٹ کے حکام اس وقت 24 گھنٹے چوکس ہیں اور دور دراز علاقوں میں تکنیکی ٹیموں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا جارہا ہے تاکہ کسی بھی ناخو شگوار واقعے کی صورت میں جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔

  • خیبرپختونخوا میں 49 لاکھ بچوں کو اسکول لانے کا بڑا منصوبہ

    خیبرپختونخوا میں 49 لاکھ بچوں کو اسکول لانے کا بڑا منصوبہ

    ‎خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے کے لیے ایک جامع اور منظم مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد درست اعداد و شمار کی مدد سے حکمت عملی بنانا، مختلف سرکاری محکموں کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنا اور مستحق خاندانوں کو سہولیات فراہم کر کے بچوں کی اسکول تک رسائی ممکن بنانا ہے۔
    ‎اس اہم منصوبے پر غور کے لیے چیف سیکریٹری آفس میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب خان اور چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ نے کی۔ اجلاس میں مختلف سرکاری اداروں کے افسران اور یونیسیف کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎اجلاس میں بتایا گیا کہ ویلج کونسل کی سطح تک ایک جامع سروے کیا جائے گا جس کے ذریعے 5 سے 16 سال تک کے ان بچوں کی نشاندہی کی جائے گی جو اسکول نہیں جا رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 5 سال سے کم عمر بچوں کے لیے آئندہ تعلیمی ضروریات کا بھی جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل کی منصوبہ بندی مؤثر انداز میں کی جا سکے۔
    ‎حکام کے مطابق طلبہ کا ڈیٹا مختلف ذرائع سے جمع کیا جائے گا، جن میں سرکاری و نجی تعلیمی ادارے، وفاقی اسکول، مدارس، نان فارمل ایجوکیشن سینٹرز اور خصوصی تعلیمی پروگرام شامل ہیں۔ اس عمل سے ایک مکمل اور درست ڈیٹا بیس تیار ہوگا جو پالیسی سازی میں مدد دے گا۔
    ‎سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 کی مردم شماری کے تحت صوبے میں تقریباً 49 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ تاہم نئے سروے کے ذریعے زیادہ درست معلومات حاصل کی جائیں گی تاکہ ہر علاقے کی ضروریات کے مطابق وسائل اور بجٹ مختص کیا جا سکے۔ محکمہ صحت اور بلدیات اس عمل میں مقامی سطح پر اہم کردار ادا کریں گے، جس سے بچوں کی حقیقی وقت میں نشاندہی ممکن ہوگی۔
    ‎محکمہ سوشل ویلفیئر مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرے گا تاکہ بچوں کی تعلیم میں حائل رکاوٹیں کم کی جا سکیں۔ محکمہ تعلیم کے مطابق موجودہ نظام میں فوری طور پر 25 فیصد مزید بچوں کو داخل کرنے کی گنجائش موجود ہے، جبکہ 100 روزہ منصوبے کے تحت 60 فیصد بچوں کو اسکولوں میں لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
    ‎چیف سیکریٹری نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی تعاون کے لیے ضروری اقدامات مکمل کریں اور منصوبے کو جلد کابینہ سے منظور کروایا جائے، جبکہ وزیر تعلیم نے نجی شعبے کی شمولیت کو بھی نہایت اہم قرار دیا۔

  • خیبرپختونخوا جیل محکمہ میں پہلی بار خواجہ سرا افراد کی بھرتی

    خیبرپختونخوا جیل محکمہ میں پہلی بار خواجہ سرا افراد کی بھرتی

    ‎خیبرپختونخوا میں پہلی بار دو خواجہ سرا افراد کو جیل محکمہ میں بطور وارڈر بھرتی کر لیا گیا ہے، جو صوبے کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق بلال (عرف سوبیہ خان) اور زوہیب احمد نے تمام مراحل کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے اپنی نشستیں حاصل کیں۔ دونوں امیدواروں نے جسمانی ٹیسٹ، تحریری امتحان اور انٹرویو کے مراحل عبور کیے، جس کے بعد انہیں میرٹ پر منتخب کیا گیا۔
    ‎محکمہ جیل حکام کے مطابق خواجہ سرا افراد کے لیے 18 نشستیں مختص کی گئی تھیں، تاہم صرف دو افراد نے درخواست دی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ کمیونٹی میں سرکاری ملازمتوں کے حوالے سے آگاہی کی کمی ہے۔
    ‎وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ایک تقریب کے دوران دونوں امیدواروں کو تقرری کے خطوط دیے۔ اس موقع پر حکام نے واضح کیا کہ بھرتی کا عمل مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کیا گیا اور دونوں امیدوار تمام معیار پر پورا اترے۔
    ‎سوبیہ خان کو سنٹرل جیل پشاور کے خواتین سیکشن میں تعینات کیا گیا ہے۔ آئی جی جیل خانہ جات ریحان گل خٹک نے کہا کہ محکمہ افراد کو ان کی صلاحیت کی بنیاد پر بھرتی کرتا ہے، نہ کہ ان کی شناخت کی بنیاد پر۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں نئے بھرتی ہونے والے افراد جیل کے ماحول کو مزید پیشہ ورانہ اور انسان دوست بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
    ‎ٹرانسجینڈر رائٹس نیٹ ورک کی فرزانہ جان نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون اس وقت حقیقی انصاف بنتا ہے جب وہ لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائے۔ انہوں نے دیگر اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ اس مثال کی پیروی کریں۔

  • بنوں آپریشن میں دو دہشت گرد ہلاک، خودکش حملوں کا سہولت کار بھی جہنم واصل

    بنوں آپریشن میں دو دہشت گرد ہلاک، خودکش حملوں کا سہولت کار بھی جہنم واصل

    بنوں میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کامیاب آپریشن کرتے ہوئے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق مارے گئے دہشت گردوں میں اہم نام وحیداللہ عرف مختیار کا بھی شامل ہے، جو متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں مطلوب تھا۔
    ‎آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق وحیداللہ نہ صرف بنوں میں ہونے والے خودکش حملے کا مرکزی سہولت کار تھا بلکہ مختلف حملوں میں بھی ملوث رہا۔ بتایا گیا ہے کہ 21 فروری کو بنوں میں ہونے والے خودکش حملے کے حملہ آور کو ہینڈل کرنے والا بھی یہی دہشت گرد تھا، جسے اس آپریشن کے دوران انجام تک پہنچایا گیا۔
    ‎فوجی حکام کے مطابق یہ کارروائی انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دی گئی، جس میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ آپریشن کے دوران کسی بھی شہری نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی، جو سیکیورٹی فورسز کی مؤثر حکمت عملی کا ثبوت ہے۔
    ‎آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ اس کامیاب کارروائی کے ذریعے لیفٹیننٹ کرنل گل فراز کی شہادت کا بدلہ بھی لے لیا گیا ہے۔ سیکیورٹی اداروں کا عزم ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ایسی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
    ‎دوسری جانب صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی اس کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فورسز کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

  • کالاش رومبور میں نیٹ ورک بحران، فور جی سروس بند

    کالاش رومبور میں نیٹ ورک بحران، فور جی سروس بند

    وادی کالاش کے علاقے رومبور میں ٹیلی نار سروس کی بندش اور فور جی انٹرنیٹ کی خراب صورتحال نے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ علاقے کے مختلف مقامات پر موبائل انٹرنیٹ یا تو مکمل طور پر بند ہے یا انتہائی سست روی کا شکار ہے، جس کے باعث مقامی افراد اور سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔مقامی صحافی فتح اللہ کے مطابق ماضی میں اس علاقے میں انٹرنیٹ سروس تیز اور ہر جگہ دستیاب تھی، تاہم اب صورتحال یکسر بدل چکی ہے اور کئی مقامات پر فور جی سروس غیر فعال ہو چکی ہے، جس سے رابطہ نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کالاش گرام میں قائم ٹیلی نار ٹاور پر بجلی کا کوئی مستقل انتظام موجود نہیں، جبکہ نصب سولر سسٹم بھی ناکارہ ہو چکا ہے۔ مزید برآں فیول کی فراہمی بھی نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے باعث مواصلاتی نظام تقریباً مفلوج ہو چکا ہے۔فتح اللہ کا کہنا ہے کہ فیول سپلائی کے نظام میں بھی شدید انتظامی مسائل ہیں۔ متعلقہ عملہ اکثر اپنی ڈیوٹی بروقت انجام نہیں دیتا اور چوبیس گھنٹے دستیاب نہیں ہوتا۔ عملے کے مطابق کم تنخواہوں کے باعث وہ دیگر کام کرنے پر مجبور ہیں، جس سے فیول کی ترسیل میں تاخیر اور نظام میں مزید بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔اس صورتحال کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، آن لائن تعلیم کا نظام ٹھپ ہو چکا ہے جبکہ صحت کے شعبے میں بھی سنگین مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ ایمرجنسی حالات میں رابطہ نہ ہونے کے باعث بروقت مدد حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔فتح اللہ نے اس امر پر زور دیا کہ فوری طور پر سولر سسٹم کی بحالی، فیول سپلائی کے مؤثر انتظامات، عملے کی بہتر ڈیوٹی شیڈولنگ اور فور جی انٹرنیٹ کی مکمل بحالی ناگزیر ہو چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوامی خاموشی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے، اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا اور پرامن ذرائع سے اپنی آواز بلند کریں تاکہ متعلقہ ادارے فوری نوٹس لے کر مواصلاتی نظام بحال کر سکیں۔

  • ‎خیبر پختونخوا میں ڈیجیٹل پیمنٹ ایکٹ 2026 پیش

    ‎خیبر پختونخوا میں ڈیجیٹل پیمنٹ ایکٹ 2026 پیش

    ‎خیبر پختونخوا میں معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں صوبائی اسمبلی میں "ڈیجیٹل پیمنٹ ایکٹ 2026” پیش کر دیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت صوبے بھر میں کیش لیس نظام کو فروغ دیا جائے گا اور تمام کاروباری اداروں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو لازمی قرار دیا جائے گا۔
    ‎صوبائی وزیرِ قانون آفتاب عالم نے یہ بل اسمبلی میں پیش کیا، جس کا مقصد مالی لین دین کو شفاف بنانا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے معیشت کو دستاویزی شکل دینا ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق دکانوں، شاپنگ سینٹرز، تعلیمی اداروں، کلینکس اور ہسپتالوں سمیت تمام کاروباری مراکز کو ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم اپنانا ہوگا اور نمایاں جگہ پر QR کوڈ آویزاں کرنا لازمی ہوگا۔
    ‎بل میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی کاروباری ادارہ ڈیجیٹل ادائیگی وصول کرنے سے انکار کرے گا تو اس پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اسی طرح صارفین سے ڈیجیٹل ادائیگی کے بدلے کسی قسم کے اضافی چارجز لینا بھی قانوناً ممنوع ہوگا۔
    ‎حکومت نے اس نظام کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے سخت مانیٹرنگ کا طریقہ کار بھی وضع کیا ہے۔ مانیٹرنگ افسران کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ کسی بھی وقت کسی کاروبار کا معائنہ کر سکیں تاکہ قانون پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎تاجر برادری کو اس نئے نظام کی جانب راغب کرنے کے لیے حکومت نے مراعات کا بھی اعلان کیا ہے۔ ڈیجیٹل سسٹم کے تحت نئے رجسٹر ہونے والے کاروباروں کو دو سال تک خصوصی ٹیکس رعایت دی جائے گی تاکہ وہ آسانی سے اس نظام کا حصہ بن سکیں۔
    ‎وزیرِ قانون کے مطابق بینکوں اور دیگر سروس فراہم کرنے والے اداروں پر لازم ہوگا کہ وہ تاجروں کو اس نظام کے لیے مکمل تکنیکی معاونت فراہم کریں تاکہ منتقلی کا عمل آسان ہو۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے نہ صرف ٹیکس چوری میں کمی آئے گی بلکہ معیشت میں شفافیت بڑھے گی اور شہریوں کے لیے لین دین کا عمل زیادہ محفوظ اور سہل ہو جائے گا۔

  • ٹیوب ویل سے پانی لینے کیلئے جانے والی 6سالہ بچی کے ساتھ زیادتی

    ٹیوب ویل سے پانی لینے کیلئے جانے والی 6سالہ بچی کے ساتھ زیادتی

    لکی مروت میں پانی لینے کے لیے ٹیوب ویل جانے والی 6 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی گئی۔

    پولیس کے مطابق معصوم بچی کے ساتھ ٹیوب ویل آپریٹر کے بیٹے نے زنا بالجبر کیا اور زنا کے بعد ملزم بچی کو خون میں لت پت چھوڑ کر فرار ہوگیا والدین نے بچی کو علاج معالجے کے لیے گورنمنٹ سٹی اسپتال لکی شہر منتقل کیا جہاں طبی معائنے کے دوران لیڈی ڈاکٹر نے معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کی،تھانہ لکی سٹی نے مقدمہ درج کرکے ملزم کی تلاش شروع کر دی

    واضح رہے کہ دو دن پہلے اسی تھانے کی حدود میں تین سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا، دو روز قبل لاپتا ہونے والی بچی کی لاش جھاڑیوں سے ملی، پوسٹ مارٹم میں بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوئی ،پولیس کے مطابق نامعلوم ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے۔

  • لکی مروت میں پولیس موبائل کے قریب دھماکا،  5 اہلکار زخمی،اسپتال منتقل

    لکی مروت میں پولیس موبائل کے قریب دھماکا، 5 اہلکار زخمی،اسپتال منتقل

    خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں تھانہ شہبازخیل کی حدود میں پولیس موبائل کو بارودی مواد سے نشانہ بنایا گیا۔

    پولیس کے مطابق دھماکے سے اے ایس آئی سمیت 5 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے دھماکا اس وقت ہوا جب پولیس موبائل معمول کی گشت پر تھی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ بارودی مواد ایک موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا، جسے قریب لا کر دھماکے سے اڑا دیا گیا۔

    زخمی ہونے والوں میں اے ایس آئی جمال الدین، کانسٹیبل عارف اور ڈرائیور میر حسن شامل ہیں، جبکہ ایک راہگیر بھی دھماکے کی زد میں آ کر زخمی ہوا تمام زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، علاقے میں سیکیورٹی مزید بڑھا کر تفتیش کا عمل جاری ہے۔

  • امن کے بغیر ترقی و خوشحالی ممکن نہیں،سہیل آفریدی

    امن کے بغیر ترقی و خوشحالی ممکن نہیں،سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خطے میں امن کے لیے قبائلی مشران کی جدوجہد قابل تحسین ہے۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ضلع باجوڑ میں قومی امن جرگہ قائدین سے ملاقات کی جس میں سہیل آفریدی نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے قبا ئلی مشران کی جدوجہد قابل تحسین ہے، آپ نے جس دانش مندی سے حالات کو سنبھالا وہ قابلِ قدر ہے، امن سب سے پہلے اور انتہائی ضروری ہے، اس کے بغیر ترقی و خوشحالی ممکن نہیں-

    انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت دیرپا امن کا قیام یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے، صوبائی اسمبلی کے فلور پر تمام سیاسی جماعتوں اور مکاتب فکر کے رہنماؤں نے متفقہ اعلامیہ پیش کیا، سب اس بات پر متفق ہیں کہ آپریشن مسئلے کا حل نہیں، جنگ نے ہمارے انفراسٹرکچر، اداروں اور نوجوانوں کو نقصان پہنچایا، ہم ایسی مزید کسی صورتحال کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ امن اور خوشحالی کے لیے ہم سب ایک پیج پر ہیں، جدوجہد جاری رکھیں گے، بدامنی کے جن حالات سے ہم گزرے ہیں، کوشش ہے دوبارہ ان سے نہ گزرنا پڑے، تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر پیشہ ورانہ فرائض انجام دیں تو کوئی مسئلہ نہ رہے، امن بھی قائم ہو جائے گا، ضم اضلاع کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا قبائل پیکیج لا رہے ہیں، صحت و تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

  • 
مردان میں پہاڑی تودہ گرنے سے 6 افراد جاں بحق

    
مردان میں پہاڑی تودہ گرنے سے 6 افراد جاں بحق

    
خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے رستم کی یونین کونسل ننگ آباد میں پہاڑ کی کٹائی کے دوران اچانک تودہ گرنے سے کم از کم 6 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔
    ریسکیو حکام کے مطابق واقعے کے فوراً بعد امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور فوری طور پر سرچ اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیوں کے دوران اب تک 6 افراد کی لاشیں اور 3 زخمیوں کو ملبے سے نکال لیا گیا ہے، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
    ‎ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ پہاڑ کی کٹائی کے دوران پیش آیا، جب اچانک مٹی اور پتھروں کا بڑا تودہ نیچے آ گرا اور وہاں موجود افراد اس کی زد میں آ گئے۔
    ‎حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملبے تلے مزید افراد بھی دبے ہو سکتے ہیں، جس کے پیش نظر ریسکیو آپریشن میں مزید نفری اور بھاری مشینری شامل کر دی گئی ہے تاکہ متاثرین کو جلد از جلد نکالا جا سکے۔
    ‎دوسری جانب مختلف شہروں میں حالیہ بارشوں کے باعث بھی حادثات پیش آئے ہیں، جہاں چھتیں اور دیواریں گرنے سے متعدد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔