Baaghi TV

Category: خیبر پختونخواہ

  • ‎کبل پولیس اسٹیشن کے قریب خودکش دھماکا، 15 افراد شہید

    ‎کبل پولیس اسٹیشن کے قریب خودکش دھماکا، 15 افراد شہید

    ‎سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے میں کم از کم 15 افراد شہید جبکہ 10 افراد زخمی ہوگئے۔ شہداء میں 6 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جنہوں نے حملہ آور کو تھانے کے اندر داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
    ‎خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ دھماکا خودکش حملہ تھا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ جائے وقوعہ سے ایک انسانی سر بھی برآمد ہوا ہے، جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ خودکش حملہ آور کا ہے۔ ابتدائی تفتیش میں حملہ آور کے افغان شہری ہونے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم حتمی تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کی جائے گی۔
    ‎ڈی پی او سوات محمد عمر نے بتایا کہ حملہ آور پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم گیٹ پر موجود اہلکاروں نے اسے روک لیا۔ اسی دوران اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا اور متعدد افراد شہید و زخمی ہوگئے۔
    ‎ڈپٹی انسپکٹر جنرل مالاکنڈ سید فدا حسین کے مطابق دھماکے کے وقت پولیس اسٹیشن کے قریب مقامی نوجوانوں کا احتجاج بھی جاری تھا، جس کی وجہ سے علاقے میں شہریوں کی موجودگی زیادہ تھی اور جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
    ‎واقعے کے فوراً بعد پولیس، ریسکیو اور دیگر امدادی اداروں نے کارروائیاں شروع کر دیں۔ تمام زخمیوں اور شہداء کو فوری طور پر سینٹرل اسپتال سوات منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
    ‎وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس امن کے لیے بے مثال قربانیاں دے رہی ہے اور دہشت گرد اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے بھی خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کی جائے اور کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ریاست کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
    ‎وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہید پولیس اہلکاروں کی قربانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بہادر اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر حملہ آور کو تھانے کے اندر داخل ہونے سے روکا، جس سے بڑے جانی نقصان کو ٹال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ منطقی انجام تک پہنچائی جائے گی۔

  • ‎بچی کو بچاتے ہوئے سوزوکی ڈرائیور بھی جان کی بازی ہار گیا

    ‎بچی کو بچاتے ہوئے سوزوکی ڈرائیور بھی جان کی بازی ہار گیا

    ‎خیبرپختونخوا کے دریائے پنجکوڑہ میں ڈوبنے کے دو افسوسناک واقعات پیش آئے، جہاں ایک 15 سالہ لڑکی دریا میں بہہ گئی جبکہ اسے بچانے کی کوشش کرنے والا ایک سوزوکی ڈرائیور بھی تیز لہروں کی نذر ہوگیا۔ ریسکیو حکام دونوں افراد کی تلاش کے لیے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
    ‎ریسکیو 1122 کے مطابق واقعہ گزشتہ رات پیش آیا، جب 15 سالہ لڑکی کسی وجہ سے دریائے پنجکوڑہ میں گر کر ڈوب گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق لڑکی کو بچانے کی کوشش میں ایک خاتون بھی پانی میں بہہ گئی، جس پر وہاں موجود ایک سوزوکی ڈرائیور نے فوری طور پر بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دریا میں چھلانگ لگا دی۔
    ‎ریسکیو حکام کے مطابق ڈرائیور نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر خاتون کو بحفاظت دریا سے باہر نکال لیا۔ تاہم اس کے بعد اس نے ڈوبنے والی لڑکی کو بچانے کی کوشش کی، لیکن دریا کی تیز لہروں کے باعث وہ خود بھی پانی میں بہہ گیا اور لاپتا ہوگیا۔
    ‎واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 دیر لوئر اور دیر بالا کی خصوصی واٹر ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ امدادی اہلکاروں نے رات گئے تک سرچ آپریشن جاری رکھا، تاہم اندھیرا اور پانی کے تیز بہاؤ کے باعث دونوں لاپتا افراد کو تلاش نہیں کیا جا سکا۔
    ‎ریسکیو 1122 کے مطابق دونوں افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن اتوار کی صبح دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ غوطہ خور اور واٹر ریسکیو اہلکار دریا کے مختلف حصوں میں تلاش کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ لاپتا افراد کا سراغ لگایا جا سکے۔
    ‎ریسکیو حکام نے حالیہ شدید بارشوں اور دریاؤں میں پانی کی بلند سطح کے پیش نظر شہریوں سے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ندی نالوں، دریاؤں اور سیلابی گزرگاہوں کے قریب جانے سے اجتناب کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو 1122 کی ہیلپ لائن پر اطلاع دیں تاکہ بروقت امدادی کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

  • ‎ٹانک میں مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملہ، 12 دہشت گرد ہلاک، 15 اہلکار شہید

    ‎ٹانک میں مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملہ، 12 دہشت گرد ہلاک، 15 اہلکار شہید

    ‎پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 23 اور 24 جولائی کی درمیانی شب خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے حملہ کیا۔
    ‎آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق دہشت گردوں نے چیک پوسٹ کی سیکیورٹی توڑنے کی کوشش کی، تاہم وہاں موجود سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے فوری، مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے ان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ کارروائی کے دوران فرار ہونے کی کوشش کرنے والے 12 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
    ‎بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے میں ناکامی کے بعد دہشت گردوں نے بارود سے بھری ایک گاڑی چیک پوسٹ کی حفاظتی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں شدید دھماکہ ہوا اور چیک پوسٹ کا بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا۔
    ‎اس حملے میں وطن کے 15 بہادر سپوت شہید ہوئے، جن میں پاک فوج کے 12 جوان، دو پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک سرکاری اہلکار شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر نے شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
    ‎فوج کے مطابق علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ وہاں موجود کسی بھی دوسرے دہشت گرد کا خاتمہ کیا جا سکے۔ بیان میں کہا گیا کہ وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ قومی ایکشن پلان کے تحت عزمِ استحکام وژن کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی۔
    ‎آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ شہداء کی قربانیاں دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔

  • 
لوئر چترال میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی ریلے، پل بہہ گیا

    ‎لوئر چترال میں موسلادھار بارشوں کے بعد آنے والے اچانک سیلابی ریلوں نے مختلف ندی نالوں میں طغیانی پیدا کر دی، جس کے باعث کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ شدید بارشوں سے انفراسٹرکچر، زرعی اراضی، باغات اور نجی املاک کو نقصان پہنچا، جبکہ متعدد دیہات کا زمینی رابطہ بھی متاثر ہوا۔
    ‎متاثرہ علاقوں میں شیشی کوہ کے ٹنگل کے مقام پر سیلابی پانی نے سب سے زیادہ تباہی مچائی، جہاں مرکزی رابطہ پل مکمل طور پر بہہ گیا۔ پل کے بہہ جانے سے قریبی دیہات اور آبادیوں کا ایک دوسرے سے رابطہ منقطع ہو گیا، جس کے باعث مقامی افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
    ‎سیلابی ریلوں کی وجہ سے کھڑی فصلیں پانی میں ڈوب گئیں جبکہ پھلوں کے باغات اور دیگر زرعی اراضی کو بھی نمایاں نقصان پہنچا۔ کئی مقامات پر نجی املاک اور دیہی انفراسٹرکچر متاثر ہوا، جس سے متاثرہ خاندانوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
    ‎حکام کے مطابق ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ سرکاری ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور ہنگامی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، نقصانات کا تخمینہ لگانے اور بنیادی سہولیات کی بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
    ‎ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ندی نالوں اور سیلابی گزرگاہوں کے قریب جانے سے احتیاط برتیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو اداروں سے رابطہ کریں۔
    ‎ماہرین موسمیات کے مطابق بالائی علاقوں میں مزید بارشوں کا امکان موجود ہے، جس کے باعث مقامی ندی نالوں میں پانی کی سطح مزید بلند ہو سکتی ہے۔ متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

  • جانوروں کو ذبح کرکے خون اور دیگر باقیات دریائے سوات  میں پھینکنے کی ویڈیو وائرل

    جانوروں کو ذبح کرکے خون اور دیگر باقیات دریائے سوات میں پھینکنے کی ویڈیو وائرل

    جانوروں کو ذبح کرکے خون اور دیگر باقیات دریائے سوات میں پھینکنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔

    بحرین کے علاقے میں دریا کے کنارے جانوروں کا غیر قانونی سلاٹر ہاؤس بنایا گیا تھا طویل عرصے سے دریا کے کنارے جانور ذبح ہوتے رہے، تاہم مقامی انتظامیہ اس صورتحال سے مکمل طور پر لاعلم رہی اور اب ویڈیو وائرل ہونے کے بعد حکام حرکت میں آ گئے ہیں،خیبرپختونخوا حکومت نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اپر سوات کی ضلعی انتظامیہ کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ واقعے کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے، حکومتی احکامات کے بعد انتظامیہ نے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے تاکہ ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

    واضح رہے کہ ماضی میں بھی سیاحتی مقامات اور دریاؤں کے کناروں پر غیر قانونی سلاٹر ہاؤسز کے قیام اور صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث ماحولیاتی آلودگی کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔

  • 
دہشت گردوں کو دوبارہ منظم نہیں ہونے دیں گے، خیبرپختونخوا پولیس کا عزم

    
دہشت گردوں کو دوبارہ منظم نہیں ہونے دیں گے، خیبرپختونخوا پولیس کا عزم

    ‎لوئر دیر: خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) ذوالفقار حمید نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو کسی صورت دوبارہ منظم ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے لوئر دیر میں حالیہ دہشت گرد حملے کے دوران بہادری سے مقابلہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس ہر قیمت پر امن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھاتی رہے گی۔
    ‎آئی جی پولیس نے یہ بات تیمرگرہ اسپتال کے دورے کے دوران زخمی اہلکاروں کی عیادت کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر انہوں نے زخمی پولیس اہلکاروں کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی اہلکاروں کی حالت تسلی بخش ہے اور بعض اہلکار جلد اسپتال سے ڈسچارج ہو جائیں گے۔
    ‎ذوالفقار حمید نے کہا کہ صوبے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے نئی حکمت عملی پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بعض اضلاع میں سکیورٹی چیلنجز موجود ہیں، تاہم پولیس فورس کے حوصلے بلند ہیں اور اہلکار دہشت گردی کے خلاف پوری جرات اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ فرائض انجام دے رہے ہیں۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ رواں سال پولیس کو جدید سہولیات اور آلات سے لیس کرنے کے لیے 7 کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کی جا رہی ہے، جبکہ آپریشنل استعداد بڑھانے کے لیے مزید فنڈز بھی مختص کیے گئے ہیں تاکہ فورس کو جدید تقاضوں کے مطابق مضبوط بنایا جا سکے۔
    ‎آئی جی پی نے کہا کہ بھتہ خوری کے بڑھتے ہوئے رجحان کے سدباب کے لیے خصوصی سیلز قائم کیے گئے ہیں، جو ایسے مقدمات کی نگرانی اور کارروائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بیرون ملک سے کی جانے والی بھتہ خوری کی کالز کا سراغ لگانے کے لیے دفتر خارجہ بھی متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے تاکہ اس منظم جرم میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

  • خیبرپختونخوا میں دریاؤں، ڈیموں ،نہروں میں نہانے اوربوٹنگ پر پابندی عائد

    خیبرپختونخوا میں دریاؤں، ڈیموں ،نہروں میں نہانے اوربوٹنگ پر پابندی عائد

    کے پی کے میں مون سون کے دوران دریاؤں، ڈیموں اور نہروں میں نہانے اور بوٹنگ پر پابندی عائد کردی گئی-

    ضلعی انتظامیہ نے مون سون سیزن کے اختتام تک دفعہ 144 نافذ کر دی،پشاور بھر میں دریاؤں اور نہروں میں غیر قانونی بوٹنگ اور تیراکی پر پابندی ہوگی ،کا بل ریور کنال، جولی شیخ کنال اور بڈھنی نالہ میں بھی تیراکی ممنوع قرار دی گئی ہے ، بڑا دریا، شاہ عالم، ناگومان اور ادیزئی دریا میں بھی نہانے پر پابندی رہے گی ورسک گریویٹی کنال اور ورسک لفٹ کنال میں بھی تیراکی پر پابندی لگا دی گئی ٹائر ٹیوبز کے ذریعے بوٹنگ اور پانی کے کناروں پر تفریحی سرگرمیاں بھی ممنوع قرار دی گئی ہیں ، ضلعی انتظامیہ کے احکامات کی خلاف ورزی پر دفعہ 188 کے تحت کارروائی ہوگی۔

    دوسری جانب پی ڈی ایم اے نے خیبرپختونخوا کے بالائی اضلاع میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خدشے کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہےپی ڈی ایم اے کے مطابق درجہ حرارت میں مسلسل اضافے اور شدید گرم موسم کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے گلیشیائی جھیلوں کے اچانک پھٹنے اورسیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے اپر و لوئر چترال، سوات، اپر دیر، کوہستان اور مانسہرہ کی ضلعی انتظامیہ کو پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں حساس گلیشیائی علاقوں میں مسلسل نگرانی، ممکنہ خطرات کا بروقت جائزہ لینے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کو مکمل طور پر الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے پی ڈی ایم اے نے ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر امدادی اداروں کو ہنگامی مشینری، ضروری سامان اور عملہ ہر و قت تیار رکھنے کا بھی حکم دیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری امدادی کارروائیاں شروع کی جا سکیں عوام، خصوصاً بالائی علاقوں کے رہائشیوں اور سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موسمی صورتحال پر نظر رکھیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

  • 
خیبرپختونخوا اسمبلی نے ارکان کی مراعات میں بڑا اضافہ، ترمیمی بل منظور

    
خیبرپختونخوا اسمبلی نے ارکان کی مراعات میں بڑا اضافہ، ترمیمی بل منظور

    ‎خیبرپختونخوا اسمبلی نے اراکین اسمبلی کی مراعات، اختیارات اور استحقاق میں نمایاں اضافے سے متعلق ترمیمی بل منظور کر لیا ہے، جس کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی اختیارات، استثنیٰ اور استحقاق ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔ نئے قانون کے تحت اراکین اسمبلی کو عدالتی، سفری اور سیکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں نئی سہولیات اور اختیارات حاصل ہوں گے۔
    ‎قانون کے مطابق اگر کسی رکن اسمبلی کے خلاف کوئی عدالتی مقدمہ زیر سماعت ہو اور اسمبلی کا اجلاس جاری ہو تو عدالت، اسمبلی کے شیڈول کو مدنظر رکھتے ہوئے سماعت ملتوی کر سکتی ہے۔ ایسے حالات میں متعلقہ رکن اسمبلی کو عدالت میں حاضری سے استثنا حاصل ہوگا، تاہم اگر وہ چاہے تو رضاکارانہ طور پر عدالتی کارروائی میں شریک ہو سکتا ہے۔
    ‎ترمیمی قانون کے تحت اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کو بھی مزید اختیارات دے دیے گئے ہیں۔ نئے ضوابط کے مطابق اگر کسی رکن اسمبلی کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہو اور عدالت میں چالان پیش ہونے سے قبل معاملہ سامنے آئے تو اسپیکر کو ابتدائی انکوائری کرانے کا اختیار حاصل ہوگا۔
    ‎بل کے تحت تمام اراکین اسمبلی اور ان کے شریک حیات کو سرکاری بلیو پاسپورٹ حاصل کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں تمام قومی شاہراہوں اور موٹرویز پر ٹول ٹیکس کی مکمل چھوٹ بھی دی گئی ہے، جس سے ارکان کو سفری سہولیات میں نمایاں ریلیف ملے گا۔
    ‎نئے قانون میں سیکیورٹی سے متعلق بھی خصوصی شق شامل کی گئی ہے۔ اگر کسی رکن اسمبلی کو جان کا خطرہ لاحق ہو تو حکومت اس کو فوری طور پر اے کیٹیگری سیکیورٹی فراہم کرنے کی پابند ہوگی۔ یہ سیکیورٹی نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی مؤثر ہوگی۔
    ‎مزید برآں، اراکین اسمبلی کو اپنے حلقے یا متعلقہ ضلع میں کسی بھی عوامی مقام پر اجلاس طلب کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ ایسے اجلاس کی اطلاع ملنے پر متعلقہ ضلع کے تمام سرکاری افسران کی شرکت لازمی ہوگی، جبکہ بلاجواز غیر حاضری کو استحقاق کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، جس پر قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق یہ ترمیمی بل مارچ میں اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا، اسی اجلاس میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی مراعات سے متعلق ایک اور بل بھی زیر غور آیا تھا۔ تاہم عام اراکین اسمبلی کو دی جانے والی نئی مراعات اور عدالتی استثنا سے متعلق قانون کو اس وقت زیادہ عوامی توجہ حاصل نہیں ہو سکی، جبکہ اب گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد اس کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ اس قانون پر مختلف سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے مختلف آراء سامنے آنے کا امکان ہے۔

  • خیبرپختونخوا میں خاکروب کی آسامیوں پر ایم اے پاس افراد کے امیدوار ہونے کا انکشاف

    خیبرپختونخوا میں خاکروب کی آسامیوں پر ایم اے پاس افراد کے امیدوار ہونے کا انکشاف

    وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں 2016 سے اب تک ہونے والی تمام بھرتیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا یہ بھرتیاں قانون کے مطابق کی گئی ہیں یا نہیں-

    خیبرپختونخوا میں خاکروبوں کی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سیاسی مداخلت پر عائد پابندیوں کے باوجود بھرتیاں کی گئیں اور ایک رکن صوبائی اسمبلی کے خط کی بنیاد پر من پسند افراد کو ملازمتیں دی گئیں۔

    اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ ایم پی اے کا خط جعلی ہے، جس پر نہ دستخط موجود ہیں، نہ ریفرنس نمبر اور نہ ہی سرکاری مہر ایسے جعلی کاغذ تو میں یہاں کے کمپیوٹر سے بھی نکال دوں اس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ جعلی کاغذات کم از کم ہمارے سسٹم سے تو نہ نکالیں، جس پر کمرہ عدالت میں قہقہے بکھر گئے۔

    وکیل درخواست گزار کے پابندی کے دوران بھرتیاں کیے جانے کے دلائل پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر آپ کا موکل بھرتی ہو جاتا تو بھی پابندی کی خلاف ورزی تو ہونی تھی،وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ آپ کے موکل کو بھرتی کر بھی لیں تو ایم اے پاس بندا صفائی تو کرے گا نہیں۔

    جسٹس رضوی نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایم اے پاس افراد بھی خاکروب کی ملازمت کے لیے درخواست دے رہے ہیں جو کلف والے کپڑے پہن کر گھومتے ہیں، جبکہ شہر میں جگہ جگہ گندگی موجود ہوتی ہے اور پڑھے لکھے خاکروب کام نہیں کرتے ایک درخواست گزار مدرسے کا کوالیفائیڈ ہے، لوگوں کی مجبوری دیکھیں کہ کیسے کیسے لوگ خاکروب بھرتی ہونا چاہتے ہیں، لوگوں کے پاس نوکری کے مواقع نہ ہونا بھی ایک المیہ ہے۔

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ درجہ چہارم پر 2 لوگ ایڈ جسٹ کر لیں تو کیا فرق پڑے گا، جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ درخوا ست گزاروں کی عمریں 47 سال ہوچکی ہیں، اتنی رعایت قانونی طور پر ممکن نہیں،عدالت نے مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

  • خیبرپختونخوا پولیس کی رواں سال کے پہلے 6 ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری

    خیبرپختونخوا پولیس کی رواں سال کے پہلے 6 ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری

    پشاور: خیبرپختونخوا پولیس نے رواں سال کے پہلے 6 ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی۔

    سینٹرل پولیس آفس خیبرپختونخوا میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس ذوالفقار حمید کی زیر صدارت امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا جس میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ کی کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی-

    رپورٹ کے مطابق محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے گزشتہ 6 ماہ کے دوران دہشت گردوں کے خلاف 2 ہزار 4 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جس میں 182 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 504 کو گرفتار کیا گیا گرفتار ہونے والوں میں فتنہ الخوارج کے 14 اہم کمانڈرز بھی شامل ہیں-

    رپورٹ کے مطابق پولیس پر 294 حملے کیے گئے تاہم مؤثر حکمت عملی کے ذریعے 161 حملے ناکام بنا دیئے گئے۔ جدید اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کی مدد سے د ہشت گردوں کے 341 ڈرون حملے بھی ناکام بنائے گئے جبکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پولیس کے یو اے وی (ڈرون) ڈویژن کا قیام عمل میں لایا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق مختلف کارروائیوں کے دوران 2 خودکش جیکٹس، 1771 کلوگرام بارودی مواد اور دیگر دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرائض کی انجام دہی کے دوران 122 پولیس افسران اور اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔

    رپورٹ کے مطابق منشیات کے خلاف کارروائیوں میں 10 ہزار 718 ملزمان گرفتار کیے گئے جبکہ گزشتہ 6 ماہ میں 10 ہزار 173 اشتہاری ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا، نیشنل ایکشن پلان کے تحت کیے گئے آپریشنز میں 10 ہزار 540 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم 8 ہزار 125 افغان باشندوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا اور خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا ملک دشمن عناصر اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ اور امن میں خلل ڈالنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    آئی جی پولیس نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران خیبرپختونخوا پولیس کے 50 ہزار اہلکاروں نے بہترین انداز میں سیکیورٹی فرائض سرانجام دے کر پرامن ماحول یقینی بنایا، انہوں نے ہدایت کی کہ قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے تاکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔