سوات: خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں موسلادھار بارشوں اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، جس سے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی۔ شدید بارشوں کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے جبکہ متعدد رہائشی علاقوں میں پانی داخل ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مسلسل بارش کے نتیجے میں سڑکیں، گلیاں اور نشیبی علاقے زیر آب آ گئے، جس سے آمد و رفت متاثر ہوئی۔ کئی رہائشی علاقوں میں بارش اور سیلابی پانی گھروں میں داخل ہو گیا، جس کے باعث لوگوں کو اپنے گھروں سے پانی نکالنے اور قیمتی سامان محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
شدید بارشوں کے باعث ایک افسوسناک صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب کاری لا سید بابا کے مزار کے احاطے میں بھی سیلابی پانی داخل ہو گیا۔ پانی جمع ہونے سے مزار کے احاطے میں موجود متعدد قبریں زیر آب آ گئیں، جس پر مقامی افراد نے تشویش کا اظہار کیا۔
مقامی انتظامیہ نے خراب موسمی حالات اور مزید بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ متعلقہ اداروں کو ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ ریسکیو ٹیموں کو بھی مختلف حساس مقامات پر تعینات کر دیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں کے قریب جانے سے احتیاط برتیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو اداروں سے رابطہ کریں۔
حکام کے مطابق موسمی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور اگر بارشوں کا سلسلہ جاری رہا تو مزید حفاظتی اقدامات بھی کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
Category: خیبر پختونخواہ
-

سوات میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی صورتحال، کئی علاقے زیر آب
-

اپر سوات میں اسکول بس کھائی میں گر گئی، طالبہ جاں بحق
خیبرپختونخوا کے ضلع اپر سوات میں ایک افسوسناک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں ایک طالبہ جاں بحق جبکہ 20 سے زائد طالبات زخمی ہو گئیں۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب طالبات کو لے جانے والی اسکول بس بریک فیل ہونے کے باعث بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ اپر سوات کے علاقے دارمئی میں پیش آیا، جہاں اسکول بس معمول کے مطابق طالبات کو لے جا رہی تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بس کی بریکیں اچانک ناکام ہو گئیں جس کے باعث ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور بس الٹتے ہوئے کھائی میں جا گری۔
حادثے کے وقت بس میں 40 سے زائد طالبات سوار تھیں۔ واقعے کے فوراً بعد مقامی افراد اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ زخمی طالبات کو فوری طور پر نکال کر مٹہ کے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں متعدد طالبات کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق حادثے میں ایک طالبہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئی جبکہ 20 سے زائد طالبات مختلف نوعیت کی چوٹوں کا شکار ہوئیں۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی جبکہ والدین اور اہل خانہ اسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور بس کی فنی حالت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کی گاڑیوں کی باقاعدہ فٹنس جانچ کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ زخمی طالبات کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور حادثے کی مکمل تحقیقات کے بعد ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ -

خیبرپختونخوا کا بجٹ سرپلس نہیں، متوازن بجٹ پیش ہوگا
خیبرپختونخوا حکومت نے واضح کیا ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ سرپلس نہیں ہوگا بلکہ متوازن بجٹ پیش کیا جائے گا۔ محکمہ خزانہ کے مطابق صوبے کو مالی وسائل اور وفاقی محاصل سے متعلق غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، جس کے باعث گزشتہ برسوں کی طرح سرپلس بجٹ دینا ممکن نہیں رہا۔
محکمہ خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ نئے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے انعقاد میں تاخیر اور مالی تقسیم کے معاملات واضح نہ ہونے کی وجہ سے صوبائی حکومت کو بجٹ سازی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی وجہ سے مالی سال 2026-27 کے لیے متوازن بجٹ تیار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً 2300 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ تاہم حتمی اعداد و شمار وفاقی حکومت کی جانب سے مالیاتی تخمینوں اور محصولات کی تقسیم کے اعلان کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔
محکمہ خزانہ کے مطابق صوبے کی مالی ضروریات کا 90 فیصد سے زائد حصہ وفاقی قابل تقسیم محاصل سے حاصل ہونے والی رقم پر منحصر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی بجٹ اور محصولات کی تقسیم کے خدوخال واضح نہ ہونے تک صوبائی بجٹ کی حتمی تیاری ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے تاحال اپنے بجٹ کی مکمل تفصیلات اور مالیاتی فریم ورک واضح نہیں کیا، جس کے باعث صوبائی حکومت کو آمدنی اور اخراجات کے درست تخمینے لگانے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق خیبرپختونخوا سمیت دیگر صوبے بھی وفاقی محاصل پر بڑی حد تک انحصار کرتے ہیں، اس لیے این ایف سی ایوارڈ اور وفاقی مالی پالیسیوں میں تاخیر صوبائی ترقیاتی منصوبوں اور مالی منصوبہ بندی کو متاثر کر سکتی ہے۔
صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی خدمات کے لیے وسائل مختص کیے جائیں گے۔ بجٹ میں صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور سماجی بہبود کے شعبوں کو ترجیح دیے جانے کا امکان ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت آئندہ چند روز میں بجٹ کی مزید تفصیلات سامنے لائے گی، جس کے بعد ترقیاتی منصوبوں، سرکاری اخراجات اور محصولات کے حوالے سے مکمل تصویر واضح ہو سکے گی۔ -

خیبرپختونخوا میں 56 ارب روپے کے 41 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کرنے کے لیے 56 ارب روپے سے زائد لاگت کے 41 اہم منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے 21ویں اجلاس میں مختلف شعبوں سے متعلق منصوبوں کی منظوری دی گئی، جن کا مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور صوبے کی معاشی و سماجی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
اجلاس میں صحت، تعلیم، توانائی، مواصلات، آبپاشی، کھیلوں اور ڈیجیٹل گورننس سمیت متعدد شعبوں کے منصوبے شامل تھے۔ حکام کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی خصوصی ہدایت پر بنوں، ہزارہ، ملاکنڈ اور مردان ڈویژنز میں رابطہ سڑکوں کی تعمیر اور بحالی کے منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ ان منصوبوں کے تحت نئی بلیک ٹاپ سڑکیں تعمیر کی جائیں گی جبکہ مختصر راستوں اور متبادل شاہراہوں کی تعمیر سے ٹریفک کے دباؤ میں کمی اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے۔
صحت کے شعبے میں ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں مدر اینڈ چائلڈ اسپتال اور سوات کے علاقے کبل میں پیڈز اسپتال کے قیام کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ ضم شدہ اضلاع میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے 100 ماہر ڈاکٹروں اور طبی عملے کی تعیناتی کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ محکمہ صحت میں نگرانی کے مؤثر نظام کے لیے انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ قائم کیا جائے گا۔
سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے وسطی اور جنوبی اضلاع میں فلڈ پروٹیکشن منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔ کوہاٹ میں سماری پایان ڈیم کی تعمیر، کرم اور اورکزئی کے مختلف علاقوں میں سڑکوں کی کشادگی اور بحالی جبکہ جنوبی وزیرستان میں اہم شاہراہوں کی بہتری کے منصوبے بھی منظور کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں بینک آف خیبر کے تعاون سے سولر ہوم سسٹم منصوبے کے پہلے اور دوسرے مرحلے کی منظوری دی گئی، جس سے دور دراز علاقوں میں بجلی کی فراہمی میں بہتری آنے کی توقع ہے۔ اس کے ساتھ جنوبی وزیرستان اور کرم میں پن بجلی کے منصوبے بھی منظور کیے گئے ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں سوات میں زرعی یونیورسٹی کے قیام کی منظوری دی گئی جبکہ کھیلوں کے فروغ کے لیے حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس اور قیوم اسٹیڈیم کے فٹبال گراؤنڈ کی اپ گریڈیشن کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ مزید برآں بے روزگار وٹرنری گریجویٹس کو موٹر سائیکلوں کی فراہمی، خیبرپختونخوا ڈیجیٹل گورننس منصوبہ، ملاکنڈ میں جبن درگئی عوامی پارک اور جانی خیل ٹی ایس ڈی وزیر کے لیے مربوط ترقیاتی پیکج کی منظوری بھی اجلاس میں دی گئی۔ -

لاہور ،اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں تیز آندھی جھکڑ کے بعد موسلا دھار بارش
لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں بارشوں اور تیز ہواؤں کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔
لاہور میں تیز آندھی اور جھکڑ کے بعد بارش شروع ہو گئی، تیز آندھی کے بعد لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش شروع ہو گئی،گلبرگ، مسلم ٹاؤن، لکشمی چوک، قرطبہ چورک، اسلام پورہ، چوبرجی، مال روڈ،نشتر ٹاؤن، گلشن راوی، اقبال ٹاؤن ، سمن آباد میں بارش جاری ہےقذافی سٹیڈیم اور اطراف میں بارش کا سلسلہ جاری ہے،بارش کے باعث پاکستان اور آسٹریلیا کے تیسرے ون ڈے میچ تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے بارش اور آندھی کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام متاثر ہو گیا،بارش کے باعث لیسکو کے 160سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے-
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بادلوں کی گھن گرج کے ساتھ ہونے والی بارش نے شدید گرمی کا زور توڑ دیا مارگلہ کی پہاڑیوں سمیت شہر بھر میں درختوں اور سڑکوں پر جمی دھول دھل گئی، جس سے قدرتی مناظر مزید دلکش ہوگئے۔
خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، اسلام آباد اور پنجاب کے بعض علاقوں میں علی الصبح سے ہی بارش کا سلسلہ جاری رہا موسلا دھار بارش نے کئی علاقوں میں جل تھل ایک کر دیا جبکہ شہریوں نے گرمی سے وقتی نجات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اب تک سب سے زیادہ بارش اسلام آباد اور راولپنڈی میں ریکارڈ کی گئی جہاں 50 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی فعال موسمی نظام ملک کے مختلف حصوں پر اثر انداز ہے اور اس کے زیر اثر 5 جون تک مزید بارشوں کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ بارشیں نہ صرف موسم کو خوشگوار بنانے کا سبب بنیں گی بلکہ ڈیموں اور آبی ذخائر میں پانی کی سطح بہتر ہونے میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔
-

غیر حاضری پر مکمل تنخواہ کٹوتی کا فیصلہ
ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا نے ملازمین اور اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے غیر حاضری کی صورت میں مکمل تنخواہ کٹوتی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے جس میں نئے قواعد و ضوابط کی تفصیلات درج ہیں۔
جاری کردہ مراسلے کے مطابق اب تمام ملازمین کی تنخواہیں "اسمارٹ مانیٹرنگ سسٹم” اور ڈیجیٹل حاضری ریکارڈ سے مشروط ہوں گی۔ بورڈ کے تمام تعلیمی اور انتظامی اداروں میں اسمارٹ اٹینڈنس سسٹم مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے، جس کے تحت ملازمین کی روزانہ حاضری ڈیجیٹل طور پر ریکارڈ کی جائے گی۔
مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ جون 2026 کی تنخواہیں مئی 2026 کے اسمارٹ اٹینڈنس ریکارڈ کی بنیاد پر ادا کی جائیں گی۔ کسی بھی ملازم کی تنخواہ اس وقت تک جاری نہیں کی جائے گی جب تک اس کی حاضری کا مکمل ریکارڈ نظام میں موجود نہ ہو۔
ورکرز ویلفیئر بورڈ نے ہدایت کی ہے کہ اگر کسی ملازم کی غیر حاضری یا بغیر اجازت رخصت ریکارڈ میں درج ہوئی تو اس کے مطابق تنخواہ میں سو فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ یعنی ملازم جتنے دن غیر حاضر رہے گا، اتنے دنوں کی مکمل تنخواہ کاٹی جائے گی۔
بورڈ کی جانب سے تمام ماتحت اداروں کے سربراہان کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اسمارٹ اٹینڈنس ریکارڈ کے مطابق تنخواہوں میں کٹوتی کو ہر صورت یقینی بنائیں اور کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے۔
اس کے علاوہ تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 10 جون 2026 تک تنخواہوں کے بلز بورڈ کو ارسال کریں تاکہ ادائیگیوں کا عمل بروقت مکمل کیا جا سکے۔
ورکرز ویلفیئر بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اداروں میں نظم و ضبط کو فروغ دینا، ملازمین کی حاضری کو یقینی بنانا اور تعلیمی و دفتری امور میں شفافیت لانا ہے۔ حکام کے مطابق جدید ڈیجیٹل نظام کے نفاذ سے غیر حاضری اور انتظامی بے ضابطگیوں پر مؤثر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ -

سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں،طوفانی بارش،20 سے زائد افراد زخمی
سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں،طوفان اور بارش نے گرمی کا زور توڑ دیا –
رپورٹس کے مطابق ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں شدید مٹی کے طوفان اور گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس نے شدید گرمی کی لہر کو وقتی طور پر ختم کر دیا ہے اس موسم کی تبدیلی کے نمایاں اثرات سامنے آئے ہیں-
اسلام آباد ،لاہور ،جہلم،سرگودھا ،گجرات ،رحیم یار خان ، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی ہے خیبرپختونخوا میں تیز ہوا ئیں،طوفان کے باعث مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوگئےتھرپارکر میں بارش اور سکھر میں ژالہ باری ہوئی جبکہ لاڑکانہ ،حیدرآباد، مٹیار ی، ہالہ،نیو سعیدآباد ، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچائی، جبکہ تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پارا چنار، ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی، تھرپارکر اور دیگر علاقوں میں بھی متعدد فیڈرز ٹرپ کر گئے ہیں۔
-

پی ٹی آئی کے 50 سے زائد ایم پی ایز وزیراعلیٰ کے خلاف متحد
خیبر پختونخوا کی سیاست میں بڑا سیاسی بحران سامنے آ گیا ہے جہاں پاکستان تحریک انصاف کے 50 سے زائد اراکینِ صوبائی اسمبلی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف الگ گروپ تشکیل دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی کے اندر شدید اختلافات پیدا ہو چکے ہیں جس کے باعث صوبائی حکومت کو آئندہ بجٹ کی منظوری میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ کے خلاف سامنے آنے والا گروپ پارٹی کے اندر بڑھتی بے چینی اور حکومتی معاملات پر تحفظات کا اظہار کر رہا ہے۔
سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے بانی بھی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کارکردگی سے خوش نہیں اور صوبائی حکومت کی موجودہ صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے۔
50 سے زائد اراکین کی ناراضی سامنے آنے کے بعد وزیراعلیٰ شدید سیاسی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں اور اپنی حکومت کو مستحکم رکھنے کیلئے سرگرم رابطے کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے حالیہ سیاسی صورتحال پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے بھی اہم ملاقات کی ہے تاکہ پیدا ہونے والے بحران سے نکلنے کیلئے ممکنہ راستے تلاش کیے جا سکیں۔
اس کے علاوہ اطلاعات ہیں کہ وزیراعلیٰ نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے بھی رابطہ کیا ہے اور صوبائی حکومت کو برقرار رکھنے کیلئے سیاسی تعاون طلب کیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پارٹی کے اندر اختلافات میں مزید اضافہ ہوا تو صوبائی حکومت کیلئے بجٹ کی منظوری سمیت اہم فیصلے کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں آنے والے دن سیاسی لحاظ سے انتہائی اہم ہوں گے کیونکہ اندرونی اختلافات حکومت کے استحکام پر براہِ راست اثر ڈال سکتے ہیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ اور تفصیلی ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے جبکہ سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو صوبائی سیاست کیلئے اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ -

خیبرپختونخوا میں 48 گھنٹوں کے دوران 23 دہشتگرد ہلاک
سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 23 دہشتگرد ہلاک کر دیے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کارروائیاں دتہ خیل، اسپن وام اور بنوں کے مختلف علاقوں میں کی گئیں جہاں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر سامان بھی برآمد کیا گیا، جبکہ دہشتگردوں کے زیر استعمال زیر زمین سرنگوں اور بنکرز کو بھی تباہ کر دیا گیا۔
بیان میں بتایا گیا کہ مارے جانے والوں میں مطلوب خارجی دہشتگرد کمانڈر جان میر عرف طور ثاقب بھی شامل ہے، جس کے سر کی قیمت مقرر تھی۔ سکیورٹی اداروں کے مطابق مذکورہ دہشتگرد مختلف دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث تھا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ “عزمِ استحکام” آپریشن کے تحت دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔ فورسز ملک میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے پرعزم ہیں اور دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے دوران فورسز نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا اور حساس علاقوں کو دہشتگردوں سے پاک بنانے کے لیے متعدد مقامات پر کارروائیاں کیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ڈی آئی خان اور ٹانک میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران کئی دہشتگرد ہلاک کیے گئے تھے، جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں دہشتگردی کے خطرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ -

بانی پی ٹی آئی کو مرضی کے اسپتال میں علاج کی سہولت دی جائے، سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کی مرضی کے اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔
اسلام آباد کی چونگی نمبر 26 پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ آج بھی پرامن طریقے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا مسئلہ سنجیدہ نوعیت کا ہے اور انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم کرنا بنیادی انسانی حقوق کا تقاضا ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی، وکلا اور ذاتی ڈاکٹروں سے ملاقاتیں بھی یقینی بنائی جانی چاہئیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ان کا کوئی غیرقانونی یا غیرآئینی مطالبہ نہیں بلکہ وہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بانی پی ٹی آئی نے اپنے سیاسی مخالفین کے علاج کے معاملے میں فراخ دلی کا مظاہرہ کیا تھا، اس لیے انہیں بھی علاج کی مکمل سہولت دی جانی چاہیے۔
سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ منتخب صوبائی قیادت کا راستہ روکنا امتیازی سلوک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو اور پوری کابینہ کو راستے میں روکنا جمہوری اقدار کے خلاف ہے جبکہ کارکنوں نے ہر موقع پر تحمل کا مظاہرہ کیا۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو اسلام آباد کی چونگی نمبر 26 پر روک دیا گیا تھا جہاں وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے جا رہے تھے۔