Baaghi TV

Category: خیبر پختونخواہ

  • بنوں آپریشن میں دو دہشت گرد ہلاک، خودکش حملوں کا سہولت کار بھی جہنم واصل

    بنوں آپریشن میں دو دہشت گرد ہلاک، خودکش حملوں کا سہولت کار بھی جہنم واصل

    بنوں میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کامیاب آپریشن کرتے ہوئے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق مارے گئے دہشت گردوں میں اہم نام وحیداللہ عرف مختیار کا بھی شامل ہے، جو متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں مطلوب تھا۔
    ‎آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق وحیداللہ نہ صرف بنوں میں ہونے والے خودکش حملے کا مرکزی سہولت کار تھا بلکہ مختلف حملوں میں بھی ملوث رہا۔ بتایا گیا ہے کہ 21 فروری کو بنوں میں ہونے والے خودکش حملے کے حملہ آور کو ہینڈل کرنے والا بھی یہی دہشت گرد تھا، جسے اس آپریشن کے دوران انجام تک پہنچایا گیا۔
    ‎فوجی حکام کے مطابق یہ کارروائی انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دی گئی، جس میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ آپریشن کے دوران کسی بھی شہری نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی، جو سیکیورٹی فورسز کی مؤثر حکمت عملی کا ثبوت ہے۔
    ‎آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ اس کامیاب کارروائی کے ذریعے لیفٹیننٹ کرنل گل فراز کی شہادت کا بدلہ بھی لے لیا گیا ہے۔ سیکیورٹی اداروں کا عزم ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ایسی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
    ‎دوسری جانب صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی اس کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فورسز کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

  • کالاش رومبور میں نیٹ ورک بحران، فور جی سروس بند

    کالاش رومبور میں نیٹ ورک بحران، فور جی سروس بند

    وادی کالاش کے علاقے رومبور میں ٹیلی نار سروس کی بندش اور فور جی انٹرنیٹ کی خراب صورتحال نے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ علاقے کے مختلف مقامات پر موبائل انٹرنیٹ یا تو مکمل طور پر بند ہے یا انتہائی سست روی کا شکار ہے، جس کے باعث مقامی افراد اور سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔مقامی صحافی فتح اللہ کے مطابق ماضی میں اس علاقے میں انٹرنیٹ سروس تیز اور ہر جگہ دستیاب تھی، تاہم اب صورتحال یکسر بدل چکی ہے اور کئی مقامات پر فور جی سروس غیر فعال ہو چکی ہے، جس سے رابطہ نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کالاش گرام میں قائم ٹیلی نار ٹاور پر بجلی کا کوئی مستقل انتظام موجود نہیں، جبکہ نصب سولر سسٹم بھی ناکارہ ہو چکا ہے۔ مزید برآں فیول کی فراہمی بھی نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے باعث مواصلاتی نظام تقریباً مفلوج ہو چکا ہے۔فتح اللہ کا کہنا ہے کہ فیول سپلائی کے نظام میں بھی شدید انتظامی مسائل ہیں۔ متعلقہ عملہ اکثر اپنی ڈیوٹی بروقت انجام نہیں دیتا اور چوبیس گھنٹے دستیاب نہیں ہوتا۔ عملے کے مطابق کم تنخواہوں کے باعث وہ دیگر کام کرنے پر مجبور ہیں، جس سے فیول کی ترسیل میں تاخیر اور نظام میں مزید بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔اس صورتحال کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، آن لائن تعلیم کا نظام ٹھپ ہو چکا ہے جبکہ صحت کے شعبے میں بھی سنگین مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ ایمرجنسی حالات میں رابطہ نہ ہونے کے باعث بروقت مدد حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔فتح اللہ نے اس امر پر زور دیا کہ فوری طور پر سولر سسٹم کی بحالی، فیول سپلائی کے مؤثر انتظامات، عملے کی بہتر ڈیوٹی شیڈولنگ اور فور جی انٹرنیٹ کی مکمل بحالی ناگزیر ہو چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوامی خاموشی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے، اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا اور پرامن ذرائع سے اپنی آواز بلند کریں تاکہ متعلقہ ادارے فوری نوٹس لے کر مواصلاتی نظام بحال کر سکیں۔

  • ‎خیبر پختونخوا میں ڈیجیٹل پیمنٹ ایکٹ 2026 پیش

    ‎خیبر پختونخوا میں ڈیجیٹل پیمنٹ ایکٹ 2026 پیش

    ‎خیبر پختونخوا میں معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں صوبائی اسمبلی میں "ڈیجیٹل پیمنٹ ایکٹ 2026” پیش کر دیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت صوبے بھر میں کیش لیس نظام کو فروغ دیا جائے گا اور تمام کاروباری اداروں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو لازمی قرار دیا جائے گا۔
    ‎صوبائی وزیرِ قانون آفتاب عالم نے یہ بل اسمبلی میں پیش کیا، جس کا مقصد مالی لین دین کو شفاف بنانا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے معیشت کو دستاویزی شکل دینا ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق دکانوں، شاپنگ سینٹرز، تعلیمی اداروں، کلینکس اور ہسپتالوں سمیت تمام کاروباری مراکز کو ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم اپنانا ہوگا اور نمایاں جگہ پر QR کوڈ آویزاں کرنا لازمی ہوگا۔
    ‎بل میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی کاروباری ادارہ ڈیجیٹل ادائیگی وصول کرنے سے انکار کرے گا تو اس پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اسی طرح صارفین سے ڈیجیٹل ادائیگی کے بدلے کسی قسم کے اضافی چارجز لینا بھی قانوناً ممنوع ہوگا۔
    ‎حکومت نے اس نظام کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے سخت مانیٹرنگ کا طریقہ کار بھی وضع کیا ہے۔ مانیٹرنگ افسران کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ کسی بھی وقت کسی کاروبار کا معائنہ کر سکیں تاکہ قانون پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎تاجر برادری کو اس نئے نظام کی جانب راغب کرنے کے لیے حکومت نے مراعات کا بھی اعلان کیا ہے۔ ڈیجیٹل سسٹم کے تحت نئے رجسٹر ہونے والے کاروباروں کو دو سال تک خصوصی ٹیکس رعایت دی جائے گی تاکہ وہ آسانی سے اس نظام کا حصہ بن سکیں۔
    ‎وزیرِ قانون کے مطابق بینکوں اور دیگر سروس فراہم کرنے والے اداروں پر لازم ہوگا کہ وہ تاجروں کو اس نظام کے لیے مکمل تکنیکی معاونت فراہم کریں تاکہ منتقلی کا عمل آسان ہو۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے نہ صرف ٹیکس چوری میں کمی آئے گی بلکہ معیشت میں شفافیت بڑھے گی اور شہریوں کے لیے لین دین کا عمل زیادہ محفوظ اور سہل ہو جائے گا۔

  • ٹیوب ویل سے پانی لینے کیلئے جانے والی 6سالہ بچی کے ساتھ زیادتی

    ٹیوب ویل سے پانی لینے کیلئے جانے والی 6سالہ بچی کے ساتھ زیادتی

    لکی مروت میں پانی لینے کے لیے ٹیوب ویل جانے والی 6 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی گئی۔

    پولیس کے مطابق معصوم بچی کے ساتھ ٹیوب ویل آپریٹر کے بیٹے نے زنا بالجبر کیا اور زنا کے بعد ملزم بچی کو خون میں لت پت چھوڑ کر فرار ہوگیا والدین نے بچی کو علاج معالجے کے لیے گورنمنٹ سٹی اسپتال لکی شہر منتقل کیا جہاں طبی معائنے کے دوران لیڈی ڈاکٹر نے معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کی،تھانہ لکی سٹی نے مقدمہ درج کرکے ملزم کی تلاش شروع کر دی

    واضح رہے کہ دو دن پہلے اسی تھانے کی حدود میں تین سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا، دو روز قبل لاپتا ہونے والی بچی کی لاش جھاڑیوں سے ملی، پوسٹ مارٹم میں بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوئی ،پولیس کے مطابق نامعلوم ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے۔

  • لکی مروت میں پولیس موبائل کے قریب دھماکا،  5 اہلکار زخمی،اسپتال منتقل

    لکی مروت میں پولیس موبائل کے قریب دھماکا، 5 اہلکار زخمی،اسپتال منتقل

    خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں تھانہ شہبازخیل کی حدود میں پولیس موبائل کو بارودی مواد سے نشانہ بنایا گیا۔

    پولیس کے مطابق دھماکے سے اے ایس آئی سمیت 5 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے دھماکا اس وقت ہوا جب پولیس موبائل معمول کی گشت پر تھی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ بارودی مواد ایک موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا، جسے قریب لا کر دھماکے سے اڑا دیا گیا۔

    زخمی ہونے والوں میں اے ایس آئی جمال الدین، کانسٹیبل عارف اور ڈرائیور میر حسن شامل ہیں، جبکہ ایک راہگیر بھی دھماکے کی زد میں آ کر زخمی ہوا تمام زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، علاقے میں سیکیورٹی مزید بڑھا کر تفتیش کا عمل جاری ہے۔

  • امن کے بغیر ترقی و خوشحالی ممکن نہیں،سہیل آفریدی

    امن کے بغیر ترقی و خوشحالی ممکن نہیں،سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خطے میں امن کے لیے قبائلی مشران کی جدوجہد قابل تحسین ہے۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ضلع باجوڑ میں قومی امن جرگہ قائدین سے ملاقات کی جس میں سہیل آفریدی نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے قبا ئلی مشران کی جدوجہد قابل تحسین ہے، آپ نے جس دانش مندی سے حالات کو سنبھالا وہ قابلِ قدر ہے، امن سب سے پہلے اور انتہائی ضروری ہے، اس کے بغیر ترقی و خوشحالی ممکن نہیں-

    انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت دیرپا امن کا قیام یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے، صوبائی اسمبلی کے فلور پر تمام سیاسی جماعتوں اور مکاتب فکر کے رہنماؤں نے متفقہ اعلامیہ پیش کیا، سب اس بات پر متفق ہیں کہ آپریشن مسئلے کا حل نہیں، جنگ نے ہمارے انفراسٹرکچر، اداروں اور نوجوانوں کو نقصان پہنچایا، ہم ایسی مزید کسی صورتحال کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ امن اور خوشحالی کے لیے ہم سب ایک پیج پر ہیں، جدوجہد جاری رکھیں گے، بدامنی کے جن حالات سے ہم گزرے ہیں، کوشش ہے دوبارہ ان سے نہ گزرنا پڑے، تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر پیشہ ورانہ فرائض انجام دیں تو کوئی مسئلہ نہ رہے، امن بھی قائم ہو جائے گا، ضم اضلاع کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا قبائل پیکیج لا رہے ہیں، صحت و تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

  • 
مردان میں پہاڑی تودہ گرنے سے 6 افراد جاں بحق

    
مردان میں پہاڑی تودہ گرنے سے 6 افراد جاں بحق

    
خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے رستم کی یونین کونسل ننگ آباد میں پہاڑ کی کٹائی کے دوران اچانک تودہ گرنے سے کم از کم 6 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔
    ریسکیو حکام کے مطابق واقعے کے فوراً بعد امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور فوری طور پر سرچ اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیوں کے دوران اب تک 6 افراد کی لاشیں اور 3 زخمیوں کو ملبے سے نکال لیا گیا ہے، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
    ‎ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ پہاڑ کی کٹائی کے دوران پیش آیا، جب اچانک مٹی اور پتھروں کا بڑا تودہ نیچے آ گرا اور وہاں موجود افراد اس کی زد میں آ گئے۔
    ‎حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملبے تلے مزید افراد بھی دبے ہو سکتے ہیں، جس کے پیش نظر ریسکیو آپریشن میں مزید نفری اور بھاری مشینری شامل کر دی گئی ہے تاکہ متاثرین کو جلد از جلد نکالا جا سکے۔
    ‎دوسری جانب مختلف شہروں میں حالیہ بارشوں کے باعث بھی حادثات پیش آئے ہیں، جہاں چھتیں اور دیواریں گرنے سے متعدد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • خیبر پختونخوا میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خدشہ، 5اضلاع کو الرٹ جاری

    خیبر پختونخوا میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خدشہ، 5اضلاع کو الرٹ جاری

    خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خدشہ، پی ڈی ایم اے نے متعلقہ 5 حساس اضلاع کی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق چترال اپر، چترال لوئر، دیر اپر، سوات اور کوہستان اپر میں موسمی صورتحال کے پیش نظر گلیشیئرز پگھلنے کا امکان ہےشدید بارشوں کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے واقعات کا خدشہ ہے پی ڈی ایم اے کی جانب سے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات اور پیشگی تیاریوں کی ہدایات جاری کر دی گئی جبکہ ضلعی انتظامیہ کو حساس گلیشیائی مقامات کی مسلسل نگرانی اور فوری وارننگ سسٹم فعال رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

    متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو خطرے سے دوچار علاقوں میں انخلاء سے متعلق مشقیں کروانے کی ہدایت بھی کی گئی ہےجبکہ محفوظ مقامات پر انخلاء مراکز کو مکمل طور پر فعال اور سہولیات سے لیس رکھنے کی تاکید کی گئی ہے پی ڈی ایم اے نے نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو فوری طور پر الرٹ ر ہنے اور مقامی آبادی کو ممکنہ خطرات سے پیشگی آگاہ کرنے کی ہدایت جاری کی ہے جبکہ ریسکیو اور ایمرجنسی سروسز کے عملے کو ہر وقت تیار رہنے کی ہدایت بھی کر دی گئی ہے۔

    ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری مشینری اور آلات پہلے سے تعینات کرنے جبکہ عوام کو ندی نالوں اور دریاؤں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، تیز بہاؤ والے پانی میں گاڑیوں کے بہہ جانے کے خطرے سے متعلق عوام کو خبردار کیا گیا ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق نشیبی علاقوں میں رہنے والوں کو اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی گئی جبکہ سیاحوں اور مسافروں کو حساس علاقو ں کی جانب غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت بھی کی گئی سڑکوں کی بندش یا نقصان کی صورت میں این ایچ اے، ایف ڈبلیو او اور سی اینڈ ڈبلیو سے فوری رابطے جبکہ شدید خطرے کی صورت میں گلیشیائی جھیلوں کے کنٹرولڈ اخراج پر بھی نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی، پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے عوام کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

  • ‎خیبرپختونخوا میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق

    ‎خیبرپختونخوا میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق

    
ملک کے مختلف حصوں میں وقفے وقفے سے جاری بارشوں نے جہاں موسم خوشگوار بنا دیا ہے وہیں خیبر پختونخوا میں تباہی بھی مچادی ہے، جہاں مختلف حادثات میں 17 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
    رپورٹس کے مطابق سوات، بنوں، ہنگو، نوشہرہ، ٹانک، باجوڑ، کرک، پاراچنار، ملاکنڈ سمیت شمالی و جنوبی وزیرستان میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ریکارڈ کی گئی۔ مسلسل بارشوں کے باعث کئی علاقوں میں مکانات کو نقصان پہنچا اور حادثات پیش آئے۔
    ‎ایبٹ آباد میں ایک افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک مکان کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق جبکہ ایک خاتون شدید زخمی ہوگئی۔ جاں بحق ہونے والوں میں 4 بچیاں بھی شامل ہیں، جس نے واقعے کو مزید دلخراش بنا دیا۔
    ‎پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق 25 مارچ سے جاری بارشوں کے دوران مختلف اضلاع میں گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے مجموعی طور پر 17 افراد جاں بحق جبکہ 56 افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں 14 بچے، ایک مرد اور 2 خواتین شامل ہیں۔
    ‎مزید بتایا گیا ہے کہ بارشوں کے باعث کم از کم 11 مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ زیادہ تر حادثات بنوں اور شمالی وزیرستان میں رپورٹ ہوئے۔
    ‎محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں منگل تک مزید بارش کا امکان ہے، جبکہ پنجاب کے مختلف اضلاع جن میں سرگودھا، بھکر، لودھراں، وہاڑی، چنیوٹ، حافظ آباد اور بہاولپور شامل ہیں، وہاں بھی بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

  • شمالی وزیرستان سرحد پر پاک فوج کی کارروائی، متعدد افغان طالبان ہلاک

    شمالی وزیرستان سرحد پر پاک فوج کی کارروائی، متعدد افغان طالبان ہلاک

    شمالی وزیرستان کے مواز کلے سرحدی علاقے میں پاک فوج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی بڑی دراندازی کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد علاقے میں داخل ہونے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، لیکن پاک فوج کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں کئی طالبان ہلاک ہو گئے جب کہ دیگر فرار ہونے پر مجبور ہوئے پاک فوج نے دشمن کے کمپاؤنڈز اور ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر مکمل تباہ کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی اس دوران پاک فوج علاقے میں سیکیورٹی مضبوط رکھنے اور ممکنہ دراندازی کی روک تھام کے لیے چوکس ہے آپریشن کا مقصد نہ صرف دہشت گردوں کو ختم کرنا بلکہ شمالی وزیرستان میں امن و امان کی صورت حال کو یقینی بنانا اور عوام کی حفاظت کرنا ہے۔

    ایرانی حملوں کا خوف، امارات میں کھلے میدانوں میں عید کی نماز پر پابندی

    عید کے چاند سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

    وزیراعلیٰ ہاؤس کے پی سے معلومات لیک ، 80اہلکاروں کا تبادلہ کر دیا گیا