Baaghi TV

خیبرپختونخوا میں 49 لاکھ بچوں کو اسکول لانے کا بڑا منصوبہ

‎خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے کے لیے ایک جامع اور منظم مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد درست اعداد و شمار کی مدد سے حکمت عملی بنانا، مختلف سرکاری محکموں کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنا اور مستحق خاندانوں کو سہولیات فراہم کر کے بچوں کی اسکول تک رسائی ممکن بنانا ہے۔
‎اس اہم منصوبے پر غور کے لیے چیف سیکریٹری آفس میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب خان اور چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ نے کی۔ اجلاس میں مختلف سرکاری اداروں کے افسران اور یونیسیف کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
‎اجلاس میں بتایا گیا کہ ویلج کونسل کی سطح تک ایک جامع سروے کیا جائے گا جس کے ذریعے 5 سے 16 سال تک کے ان بچوں کی نشاندہی کی جائے گی جو اسکول نہیں جا رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 5 سال سے کم عمر بچوں کے لیے آئندہ تعلیمی ضروریات کا بھی جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل کی منصوبہ بندی مؤثر انداز میں کی جا سکے۔
‎حکام کے مطابق طلبہ کا ڈیٹا مختلف ذرائع سے جمع کیا جائے گا، جن میں سرکاری و نجی تعلیمی ادارے، وفاقی اسکول، مدارس، نان فارمل ایجوکیشن سینٹرز اور خصوصی تعلیمی پروگرام شامل ہیں۔ اس عمل سے ایک مکمل اور درست ڈیٹا بیس تیار ہوگا جو پالیسی سازی میں مدد دے گا۔
‎سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 کی مردم شماری کے تحت صوبے میں تقریباً 49 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ تاہم نئے سروے کے ذریعے زیادہ درست معلومات حاصل کی جائیں گی تاکہ ہر علاقے کی ضروریات کے مطابق وسائل اور بجٹ مختص کیا جا سکے۔ محکمہ صحت اور بلدیات اس عمل میں مقامی سطح پر اہم کردار ادا کریں گے، جس سے بچوں کی حقیقی وقت میں نشاندہی ممکن ہوگی۔
‎محکمہ سوشل ویلفیئر مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرے گا تاکہ بچوں کی تعلیم میں حائل رکاوٹیں کم کی جا سکیں۔ محکمہ تعلیم کے مطابق موجودہ نظام میں فوری طور پر 25 فیصد مزید بچوں کو داخل کرنے کی گنجائش موجود ہے، جبکہ 100 روزہ منصوبے کے تحت 60 فیصد بچوں کو اسکولوں میں لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
‎چیف سیکریٹری نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی تعاون کے لیے ضروری اقدامات مکمل کریں اور منصوبے کو جلد کابینہ سے منظور کروایا جائے، جبکہ وزیر تعلیم نے نجی شعبے کی شمولیت کو بھی نہایت اہم قرار دیا۔

More posts