Baaghi TV

Category: خیبر پختونخواہ

  • خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع، 17 نئے اراکین شامل

    خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع، 17 نئے اراکین شامل

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کابینہ میں توسیع کرتے ہوئے 17 نئے اراکین کو شامل کرلیا، جن میں 5 وزرا، 4 مشیر اور 8 معاونین خصوصی شامل ہیں۔

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کابینہ کی توسیع سے متعلق سمری کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد وزیراعلیٰ سمیت صوبائی کابینہ کے اراکین کی مجموعی تعداد 30 ہو گئی ہےنئے وزرا میں نذیر احمد عباسی، شکیل احمد، محمد عدنان قادری، محمد عارف احمد زئی اور طارق محمود آریانی شامل ہیں، جبکہ شفیع جان کو معاون خصوصی سے ترقی دے کر وزیر بنا دیا گیا ہے۔

    مشیروں میں پیر مصور خان، لیاقت علی خان، ہمایوں خان اور میاں محمد عمر کے نام شامل کیے گئے ہیں اسی طرح 8 معاونین خصوصی میں طارق سعید، محمد عثمان، طفیل انجم، افتخار اللہ جان، سمیع اللہ خان، ملک عدیل اقبال، محمد خورشید اور محمد اسرار شامل ہیں، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کل نئے وزرا اور معاونین خصوصی سے عہدوں کا حلف لیں گے-

  • ‎باجوڑ میں فوجی ہیڈکوارٹرز پر حملوں کی افواہیں بے بنیاد قرار

    ‎باجوڑ میں فوجی ہیڈکوارٹرز پر حملوں کی افواہیں بے بنیاد قرار

    ‎باجوڑ میں پاکستان آرمی کے بٹالین اور ونگ ہیڈکوارٹرز پر حملوں سے متعلق سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دے دیا گیا ہے۔
    ‎سکیورٹی ذرائع کے مطابق 14 مئی 2026 کو باجوڑ کے مختلف علاقوں میں دہشتگردوں کی جانب سے حملے کی کوششیں ضرور کی گئیں، تاہم پاکستان آرمی کے کسی بھی بٹالین یا ونگ ہیڈکوارٹر پر قبضہ یا نقصان نہیں ہوا۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ خوارج نے مینا اور عنایت کلے کے علاقوں میں چھاپہ مار حملوں کی کوشش کی، لیکن سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ان حملوں کو ناکام بنا دیا۔
    ‎سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں متعدد خوارج مارے گئے جبکہ باقی فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔ حکام کے مطابق صورتحال اب مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔
    ‎فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ فرار ہونے والے دہشتگردوں کو گرفتار یا ختم کیا جا سکے۔
    ‎سکیورٹی ذرائع نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں، کیونکہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے سے خوف و ہراس پیدا ہوتا ہے۔
    ‎علاقہ مکینوں کے مطابق حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری مختلف مقامات پر تعینات کر دی گئی ہے جبکہ داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

  • لکی مروت میں دھماکا، 9 افراد جاں بحق

    لکی مروت میں دھماکا، 9 افراد جاں بحق

    خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے سرائے نورنگ بازار کو نشانہ بنایا، جس میں نو افراد جاں بحق ہوگئے۔

    ذرائع کے مطابق، دہشت گردوں نے بارودی مواد ایک موٹر سائیکل میں نصب کر رکھا تھا جسے سڑک کے بیچوں بیچ اڑا دیا گیا۔ اس دلخراش واقعے کے نتیجے میں دو ٹریفک پولیس اہلکاروں سمیت نو افراد جاں بحق ہوئے جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہیں جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے سرائے نورنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) لکی مروت نے بتایا کہ دھماکے میں نو افراد اور شہید 18 زخمی ہوئے ہیں، شہداء میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں دھماکہ موٹرسائیکل میں رکھے ای آئی ڈی سے ہوا ہے واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں دہشت گردوں کی ممکنہ موجودگی کے پیش نظر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ اس بزدلانہ کارروائی میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔اسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے جس کی وجہ سے شہدا کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے وزیر اعلیٰ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے اس حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ حملے میں دو پولیس اہلکار اور پانچ شہری شہید ہوئے ہیں اور ہم شہدا کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں سہیل آفریدی نے انتظامیہ کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور اس بات کا خیال رکھا جائے کہ علاج معالجے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔

  • خیبرپختونخوا اور گلگت میں  گلوف اور برساتی نالوں میں طغیانی کا خدشہ

    خیبرپختونخوا اور گلگت میں گلوف اور برساتی نالوں میں طغیانی کا خدشہ

    محکمہ موسمیات نے خیبرپختونخوا اور گلگت میں بڑے پیمانے بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (گلوف) اور برساتی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق گلگت بلتستان میں گلوف اور برساتی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے اور ایک معتدل مغربی لہر پاکستان کے بالائی علاقوں میں داخل ہونے کا امکان ہے یہ موسمی نظام آج سے پورے خیبرپختونخوا میں شروع ہونے کی پیشگوئی ہے اور کل تک گلگت بلتستان تک پھیلے گا، اس عرصے کے دوران، بڑے پیمانے پر بارش اور آندھی گرج چمک کے ساتھ متوقع ہے اور پہاڑی علاقوں میں بارش کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات نے بتایا کہ گلوف، ملبے کے بہاؤ اور سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں میں خاص طور پر سوات، زیریں چترال، دیر، اپر ہزارہ، کوہستان، ہوپر، غلکین، ششپر، غذر، ہنزہ، نگر، گھانچے، شگر میں خطرات میں نمایاں طور پر اضافہ ہوسکتا ہے،شہریوں کو حفاظتی اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے کہ برفانی وادیوں میں رہنے والے شہری بارش کے دوران ندی کے کناروں اور ندیوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔

  • مولانا  فضل الرحمان کا 8 مئی کو  ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا اعلان

    مولانا فضل الرحمان کا 8 مئی کو ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا اعلان

    مولانا فضل الرحمان نے چارسدہ میں مولانا محمد ادریس کے گھر جا کر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور مرحوم کی دینی و سیاسی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پارٹی کے سابق ایم پی اے اور معروف عالم دین مولانا محمد ادریس کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے 8 مئی کو نماز جمعہ کے بعد ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کردیا۔

    میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اختلاف رائے کی بنیاد پر کسی مسلمان کا قتل جہالت کے مترادف ہے مولانا ادریس کی وفات امت مسلمہ کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے، اللہ اپنی قدرت سے ظالموں سے ضرور حساب لے گا علما کرام پاکستان کے آئین کے ساتھ کھڑے ہیں اور متفقہ طور پر یہ فیصلہ ہے کہ ملک کے اندر اسلحہ اٹھانا جائز نہیں، حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہییں، مولانا ادریس شہید کے قاتلوں کو جلد گرفتار کیا جائےگا۔

    واضح رہے کہ معروف عالم دین مولانا ادریس کو گزشتہ روز چارسدہ میں گولیاں مار کر شہید کردیا گیا تھا۔

  • خیبرپختونخوا میں سرکاری ملازمین کی ہڑتال کا اعلان: سہیل آفریدی

    خیبرپختونخوا میں سرکاری ملازمین کی ہڑتال کا اعلان: سہیل آفریدی

    ‎خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت کے خلاف مبینہ ناانصافیوں کے احتجاج میں صوبہ بھر میں قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے، جو بدھ 6 مئی کو کی جائے گی۔
    ‎وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ہڑتال وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے ساتھ مختلف شعبوں میں امتیازی سلوک کے خلاف کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہنگامی خدمات اس ہڑتال سے مستثنیٰ ہوں گی جبکہ دیگر تمام سرکاری محکمے مکمل طور پر بند رہیں گے۔
    ‎وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ، بجلی کی فراہمی اور گیس کی تقسیم میں خیبرپختونخوا کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔ ان کے مطابق صوبے کو اس کے جائز حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے جس کے خلاف یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
    ‎انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ پارٹی کے بانی چیئرمین اور ان کی اہلیہ کو قید کے دوران بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے، جن میں ذاتی معالج، اہل خانہ اور قانونی مشیروں سے ملاقات کا حق بھی شامل ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق اس اعلان کے بعد صوبے میں سرکاری امور متاثر ہونے کا امکان ہے جبکہ سیاسی کشیدگی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • خیبر پختونخوا : معروف عالمِ دین و سیاسی شخصیت قاتلانہ حملے میں شہید،2 سیکیورٹی اہلکار زخمی

    خیبر پختونخوا : معروف عالمِ دین و سیاسی شخصیت قاتلانہ حملے میں شہید،2 سیکیورٹی اہلکار زخمی

    خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں مسلح افراد کے حملے میں معروف عالمِ دین و سیاسی شخصیت اور جے یو آئی کے سابق رکنِ اسمبلی، شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس شہید ہو گئے، جبکہ ان کے ساتھ تعینات 2 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔

    چارسدہ پولیس نے فائرنگ کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی سفید رنگ کی گاڑی پر مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار مولانا محمد ادریس شدید زخمی ہو گئے، مولانا صبح کے وقت گھر سے اتمانزئی دارالعلوم جا رہے تھے کہ اس دوران انہیں نشانہ بنایا گیا۔

    ابتدائی تفتیش سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آوروں کا نشانہ مولانا ادریس تھے ان کے مطابق حملے میں مولانا کو متعدد گولیاں لگیں، جس کے نتیجے میں وہ شہید گئےواقعے کے بعد ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا لاش اور زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں فائرنگ کے بعد کارکنان کی بڑی تعداد بھی پہنچ گئی۔

    ڈپٹی کمشنر چارسدہ بھی واقعے کے بعد اسپتال پہنچ گئے اور شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کےشہید ہونے پر افسوس کا اظہار کیا،انہوں نے کارکنان کو یقین دلایا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انصاف ہر صورت یقینی بنایا جائے گا ڈپٹی کمشنر نے کار کنان اور عوام سے اپیل کی کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔

  • گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

    گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

    محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں گلیشیئر پھٹنے، شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر ہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ الرٹ کے مطابق کل 3 مئی 2026 سے ایک معتدل مغربی لہر پاکستان کے بالائی علاقوں میں داخل ہونے کی توقع ہے، جس کے باعث دونوں صوبوں میں بڑے پیمانے پر آندھی، گرج چمک اور موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں اچانک اضافے کے بعد اس نوعیت کی بارشیں گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (GLOF)، ملبے کے بہاؤ اور اچانک سیلاب کے خطرات کو بڑھا دیتی ہیں، خاص طور پر ہوپر، غلکین، ششپر، یاسین، پھنڈر، بڈسوات، لوئر ہنزہ، نگر، گھانچے اور دیر بالا جیسے علاقے ان خطرا ت کی زد میں ہیں۔

    حکام نے برفانی وادیوں کے مکینوں کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ بارش کے دوران ندی نالوں اور دریا کے کناروں سے دور رہیں اور ندی میں پانی کے رنگ کی تبدیلی یا پتھروں کے ٹکرانے جیسی غیر معمولی آوازیں سننے پر فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں۔

    انتظامیہ نے شہریوں کو مویشی اور ضروری سامان بلند مقامات پر منتقل کرنے اور مقامی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کا مشورہ دیا ہےڈیزاسٹر مینجمنٹ کے حکام اس وقت 24 گھنٹے چوکس ہیں اور دور دراز علاقوں میں تکنیکی ٹیموں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا جارہا ہے تاکہ کسی بھی ناخو شگوار واقعے کی صورت میں جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔

  • خیبرپختونخوا میں 49 لاکھ بچوں کو اسکول لانے کا بڑا منصوبہ

    خیبرپختونخوا میں 49 لاکھ بچوں کو اسکول لانے کا بڑا منصوبہ

    ‎خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے کے لیے ایک جامع اور منظم مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد درست اعداد و شمار کی مدد سے حکمت عملی بنانا، مختلف سرکاری محکموں کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنا اور مستحق خاندانوں کو سہولیات فراہم کر کے بچوں کی اسکول تک رسائی ممکن بنانا ہے۔
    ‎اس اہم منصوبے پر غور کے لیے چیف سیکریٹری آفس میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب خان اور چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ نے کی۔ اجلاس میں مختلف سرکاری اداروں کے افسران اور یونیسیف کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎اجلاس میں بتایا گیا کہ ویلج کونسل کی سطح تک ایک جامع سروے کیا جائے گا جس کے ذریعے 5 سے 16 سال تک کے ان بچوں کی نشاندہی کی جائے گی جو اسکول نہیں جا رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 5 سال سے کم عمر بچوں کے لیے آئندہ تعلیمی ضروریات کا بھی جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل کی منصوبہ بندی مؤثر انداز میں کی جا سکے۔
    ‎حکام کے مطابق طلبہ کا ڈیٹا مختلف ذرائع سے جمع کیا جائے گا، جن میں سرکاری و نجی تعلیمی ادارے، وفاقی اسکول، مدارس، نان فارمل ایجوکیشن سینٹرز اور خصوصی تعلیمی پروگرام شامل ہیں۔ اس عمل سے ایک مکمل اور درست ڈیٹا بیس تیار ہوگا جو پالیسی سازی میں مدد دے گا۔
    ‎سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 کی مردم شماری کے تحت صوبے میں تقریباً 49 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ تاہم نئے سروے کے ذریعے زیادہ درست معلومات حاصل کی جائیں گی تاکہ ہر علاقے کی ضروریات کے مطابق وسائل اور بجٹ مختص کیا جا سکے۔ محکمہ صحت اور بلدیات اس عمل میں مقامی سطح پر اہم کردار ادا کریں گے، جس سے بچوں کی حقیقی وقت میں نشاندہی ممکن ہوگی۔
    ‎محکمہ سوشل ویلفیئر مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرے گا تاکہ بچوں کی تعلیم میں حائل رکاوٹیں کم کی جا سکیں۔ محکمہ تعلیم کے مطابق موجودہ نظام میں فوری طور پر 25 فیصد مزید بچوں کو داخل کرنے کی گنجائش موجود ہے، جبکہ 100 روزہ منصوبے کے تحت 60 فیصد بچوں کو اسکولوں میں لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
    ‎چیف سیکریٹری نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی تعاون کے لیے ضروری اقدامات مکمل کریں اور منصوبے کو جلد کابینہ سے منظور کروایا جائے، جبکہ وزیر تعلیم نے نجی شعبے کی شمولیت کو بھی نہایت اہم قرار دیا۔

  • خیبرپختونخوا جیل محکمہ میں پہلی بار خواجہ سرا افراد کی بھرتی

    خیبرپختونخوا جیل محکمہ میں پہلی بار خواجہ سرا افراد کی بھرتی

    ‎خیبرپختونخوا میں پہلی بار دو خواجہ سرا افراد کو جیل محکمہ میں بطور وارڈر بھرتی کر لیا گیا ہے، جو صوبے کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق بلال (عرف سوبیہ خان) اور زوہیب احمد نے تمام مراحل کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے اپنی نشستیں حاصل کیں۔ دونوں امیدواروں نے جسمانی ٹیسٹ، تحریری امتحان اور انٹرویو کے مراحل عبور کیے، جس کے بعد انہیں میرٹ پر منتخب کیا گیا۔
    ‎محکمہ جیل حکام کے مطابق خواجہ سرا افراد کے لیے 18 نشستیں مختص کی گئی تھیں، تاہم صرف دو افراد نے درخواست دی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ کمیونٹی میں سرکاری ملازمتوں کے حوالے سے آگاہی کی کمی ہے۔
    ‎وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ایک تقریب کے دوران دونوں امیدواروں کو تقرری کے خطوط دیے۔ اس موقع پر حکام نے واضح کیا کہ بھرتی کا عمل مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کیا گیا اور دونوں امیدوار تمام معیار پر پورا اترے۔
    ‎سوبیہ خان کو سنٹرل جیل پشاور کے خواتین سیکشن میں تعینات کیا گیا ہے۔ آئی جی جیل خانہ جات ریحان گل خٹک نے کہا کہ محکمہ افراد کو ان کی صلاحیت کی بنیاد پر بھرتی کرتا ہے، نہ کہ ان کی شناخت کی بنیاد پر۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں نئے بھرتی ہونے والے افراد جیل کے ماحول کو مزید پیشہ ورانہ اور انسان دوست بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
    ‎ٹرانسجینڈر رائٹس نیٹ ورک کی فرزانہ جان نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون اس وقت حقیقی انصاف بنتا ہے جب وہ لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائے۔ انہوں نے دیگر اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ اس مثال کی پیروی کریں۔