Baaghi TV

Category: چکوال

  • کوٹگلہ میں فیوچر لیڈرانٹرنیشنل سکول کا شاندار افتتاح

    کوٹگلہ میں فیوچر لیڈرانٹرنیشنل سکول کا شاندار افتتاح

    رکن پنجاب اسمبلی ملک فیر شیر اعوان نے کوٹگلہ میں فیوچر لیڈر انٹرنیشنل سکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا ہے کہ تعلیم کو بزنس کے طور پر نہ دیکھا جائے ، تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے، کوٹگلہ کے عوام باشعور اور فیوچر لیڈر انٹرنیشنل سکول کا افتتاح اس کی واضح مثال ہے ۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوٹگلہ میں فیوچر لیڈر انٹرنیشنل سکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ فیوچر لیڈر انٹرنیشنل سکول کی افتتاحی تقریب میں مہمانانِ خصوصی رکن صوبائی اسمبلی ملک فلک شیر اعوان اور پیر محمود الحسن آستانہ عالیہ کوٹگلہ شریف تھے۔ تقریب میں ملک شوکت ایڈووکیٹ، ملک قاسم اعوان (موگلہ)، منور اعوان، ملک عمیر، سینئر صحافی ملک ارشد کوٹگلہ، باغی ٹی وی کے ایڈیٹر ممتاز اعوان ، رفیق پٹواری ، مولانا خضر حیات ، ملک غلام حیدر سمیت معززینِ علاقہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ملک فلک شیر اعوان تقریب مین پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا ۔ایم پی اے ملک فلک شیر اعوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا“ہم نے جب پنجاب کالج کی بنیاد رکھی تو کہا جاتا تھا کہ پہلے دو سال صرف نام پر داخلے ہوں گے، اصل امتحان اس کے بعد آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری محنت ضائع نہیں ہونے دی۔ ادارہ بنا لینا آسان ہے، مگر اسے کامیابی سے چلانا اصل کام ہے۔ والدین کو کیا ڈلیور کرنا ہے، یہی اصل سوال ہے۔ کوٹگلہ کے لوگ باشعور ہیں، تعلیم کو صرف بزنس کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ بچوں کی صلاحیت کے مطابق تعلیم دی جائے۔”انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت تعلیم پر بھرپور توجہ دے رہی ہے، سکولوں کی عمارتیں، پینے کا پانی اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔“میں نے کبھی ایم پی اے ہونے کا غرور نہیں کیا، نیک نیتی ہو تو اللہ خود مدد کرتا ہے، یہ میں نے آزما کر دیکھا ہے۔

    ملک شوکت ایڈووکیٹ نے ملک ذوالقرنین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ذوالقرنین نے پہلے بھی بہترین کام کیا ہے، اسی لیے ہمیں امید ہے کہ یہاں بھی معیاری تعلیم فراہم کریں گے۔ استاد کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے، استاد علم نہیں بلکہ علم کی پیاس دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی علاقے کی بسمہ علی نے پنڈی بورڈ سے پہلی پوزیشن حاصل کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تلہ گنگ آج تعلیم کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔“تعلیم ہمارا بزنس ضرور ہو سکتا ہے، مگر نیت یہ ہے کہ اس کے ثمرات سب تک پہنچیں۔ ایئر مارشل نور خان مرحوم نے تعلیم کی جو بنیاد رکھی، اس کے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں۔ استاد نسل کو قوم بناتا ہے۔”مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر پنجاب کالج جیسے اداروں کے ساتھ چلنا ہے تو معیار، نتائج اور تربیت ہر سال ثابت کرنا ہوگی، تاکہ بچوں میں مثبت تبدیلی آئے اور تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت بھی دی جا ئے۔تقریب کے اختتام پر ملک ذوالقرنین نے معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اہلیان علاقہ کے لیے کیا کہ 25 فروری تک فیوچر لیڈر انٹرنیشنل سکول میں داخل ہونے والے بچوں کی فیس معاف ہو گی ۔

  • تلہ گنگ،الرحمن ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین زرعی قرار، پلاٹ مالکان "لٹ”گئے

    تلہ گنگ،الرحمن ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین زرعی قرار، پلاٹ مالکان "لٹ”گئے

    تلہ گنگ کی سب سے بڑی رہائشی اسکیم الرحمن ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق ایک نہایت اہم اور تشویشناک پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جس نے سوسائٹی میں سرمایہ کاری کرنے والے سینکڑوں خاندانوں کو شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق حکومتِ پنجاب نے الرحمن ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین کو ایگریکلچرل (زرعی) قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں سوسائٹی کے اندر لاکھوں روپے میں خریدے گئے پلاٹس پر نہ تو مکانات تعمیر کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی نقشہ پاس کروانا ممکن رہا ہے۔ یوں عملاً سوسائٹی میں تعمیراتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہو گئی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اچانک فیصلے نے ان سینکڑوں خاندانوں کو شدید ذہنی اور مالی پریشانی میں ڈال دیا ہے، جنہوں نے اپنی عمر بھر کی جمع پونجی اس امید پر اس سوسائٹی میں لگائی تھی کہ یہاں ایک محفوظ اور قانونی رہائشی مستقبل میسر آئے گا۔ پلاٹ مالکان کوتمام تر ادائیگیاں مکمل کرنے اور برسوں انتظار کے باوجود اب ان کے خواب ادھورے رہ جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    عوامی حلقوں کے مطابق اگر سوسائٹی کی زمین کو زرعی ہی برقرار رکھا گیا تو پلاٹس کی قانونی حیثیت، مالکانہ حقوق اور مستقبل کی سرمایہ کاری سب کچھ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں گھروں کی تعمیر ناممکن ہو گئی ہے
    ، عوامی حلقوں نے منتخب ممبرانِ اسمبلی، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس سنگین معاملے میں اپنا آئینی اور اخلاقی کردار ادا کریں۔ پلاٹ مالکان کی جانب سے اس ضمن میں احتجاج بھی متوقع ہے،باخبر ذرائع کے مطابق الرحمان ہاؤسنگ سوسائٹی ن لیگ ایم پی اے ملک فلک شیر اعوان کی ہے جنہوں نے ہاؤسنگ سوسائٹی کو بچانے کے لئےتگ و دو شروع کر دی ہے،

    دوسری جانب یہ بھی اطلاعات ہیں کہ تلہ گنگ کے مقامی صحافیوں نے الرحمان ہاؤسنگ سوسائٹی کے حوالہ سے حقائق پر مبنی خبر کو شائع کرنے سے انکار کیا ہے،

    الرحمان ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک فلک شیر اعوان اگر باغی ٹی وی کو مؤقف دینا چاہیں تو اسے من و عن شائع کیا جائے گا،
    ای میل ایڈریس
    editor@baaghitv.com

  • تلہ گنگ،بس کھائی میں جا گری،5 مسافر جاں بحق،27 زخمی

    تلہ گنگ،بس کھائی میں جا گری،5 مسافر جاں بحق،27 زخمی

    چکوال میں ایک افسوسناک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں 5 قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو گئیں جبکہ 27 افراد زخمی ہو گئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق یہ دلخراش واقعہ چکوال کے علاقے تلہ گنگ میں پیش آیا جہاں مسافروں سے بھری ایک بس کھائی میں جا گری،ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ بدقسمت بس اسلام آباد سے کراچی جا رہی تھی اور حادثہ جی ٹی روڈ پر ڈھوک پٹھان کے قریب پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بس تیز رفتاری کے باعث ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو گئی جس کے نتیجے میں وہ گہری کھائی میں جا گری،حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کے نتیجے میں 5 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ 27 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں 7 خواتین بھی شامل ہیں، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    ریسکیو اہلکاروں نے لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور شدید زخمیوں کو بہتر علاج کے لیے بڑے طبی مراکز منتقل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

  • تلہ گنگ میں تعلیمی و ہم نصابی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے آرٹ مقابلوں کا اعلان

    تلہ گنگ میں تعلیمی و ہم نصابی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے آرٹ مقابلوں کا اعلان

    چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی تلہ گنگ محمد عیسیٰ لالی نے ضلع بھر کے سرکاری و نجی سکولوں میں آرٹ مقابلہ جات کے انعقاد کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت مند اور مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھنا ہے تاکہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جا سکے۔

    نمائندہ خصوصی باغی ٹی وی خصوصی گفتگو کرتے ہوئے محمد عیسیٰ لالی کا کہنا تھا کہ ہمارا ویژن صرف نئی نسل کو پڑھانا نہیں بلکہ سکھانا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بچے رٹا سسٹم کے بجائے سیکھنے کی بنیاد پر تعلیم حاصل کریں اور عملی زندگی میں کامیاب ہوں۔انہوں نے کہا کہ جب تک وہ تلہ گنگ میں تعینات ہیں، طلبا اور اساتذہ کی بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کو یقینی بنائیں گے۔ ضلع میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے کئی تعلیمی اور ہم نصابی منصوبے زیرِ تکمیل ہیں اور 2026 ان شاء اللہ تلہ گنگ کے لیے تعلیمی انقلاب کا سال ثابت ہو گا۔

    چیف ایگزیکٹو آفیسر نے مزید بتایا کہ اساتذہ کو جدید طریقۂ تدریس کی باقاعدہ ٹریننگ دی جا رہی ہے تاکہ وہ بچوں کو جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم دے سکیں۔ اب بچوں کو محض امتحان پاس کروانے کے بجائے سیکھنے اور سمجھنے کی بنیاد پر پڑھایا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ امتحانی نتائج مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر ہوں گے اور کسی قسم کی کوتاہی یا سفارش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح اساتذہ کو بھی ان کی کارکردگی کی بنیاد پر سہولیات اور مراعات فراہم کی جائیں گی تاکہ محنت کرنے والے اساتذہ کی حوصلہ افزائی ہو سکے،والدین، اساتذہ اور تعلیمی انتظامیہ کے باہمی تعاون سے ہی تلہ گنگ کو ایک مثالی تعلیمی ضلع بنایا جا سکتا ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی پوری تندہی سے کام کر رہی ہے۔

  • حکومت کے پاس اصل مینڈ یٹ ہی موجود نہیں،مولانا فضل الرحمان

    حکومت کے پاس اصل مینڈ یٹ ہی موجود نہیں،مولانا فضل الرحمان

    چکوال:جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو جعلی مینڈیٹ کی حامل قرار دیا-

    چکوال میں میڈیاسے گفتگو کرتےہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کے پاس اصل مینڈ یٹ ہی موجود نہیں، یہ جعلی مینڈیٹ کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں، جعلی مینڈیٹ کے باوجود بھی حکومت صرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ہے جبکہ پیپلز پارٹی محض سہارا بنی ہوئی ہے، یعنی یہ جعلی اکثریت نہیں بلکہ جعلی اقلیت کی حکومت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جب آئین کے خلاف قانون سازی کی جائے گی تو اس کا مطلب آئین سے بغاوت ہوگا، جس کے بعد ان کا مینڈیٹ خود بخود ختم ہو جاتا ہے، اسی لیے ہم باہمی مشاورت سے ایک متفقہ مؤقف سامنے لانا چاہتے ہیں،جہاں تک 28 ویں ترمیم اور نئے صوبوں کی بازگشت کا تعلق ہے، تو اصولی بات اور ہے اور عملی حقیقت کچھ اور ہے۔

    مولانا نے کہا کہ آپ نے فاٹا کو صوبے میں ضم کیا، ہم نے دلائل کے ساتھ مخالفت کی اور اس کے نقصانات سے آگاہ بھی کیا لیکن اسٹیبلشمنٹ خود کو عقل کل سمجھتی رہی اور آج وہی لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ فیصلہ غلط تھا اور اب باقی صوبوں کو بھی تقسیم کرنے کی بات ہو رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا اس کے لیے زمینی حالات سازگار ہیں؟ یا کل پھر ہم روئیں گے کہ ہم نے ملک کو نقصان پہنچایا، یہ لوگ بات تو کر لیتے ہیں، پھر طاقت کے زور پر فیصلے نافذ بھی کر دیتے ہیں، فاٹا کا انضمام بھی طاقت کے زور پر کیا گیا اور آج وہاں مسلح گروپس نے علاقے پر قبضہ جما لیا ہے اور ریاست کی رٹ ختم ہو چکی ہے۔

    مولانافضل الرحمان نے کہا کہ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ 75،78 برسوں میں نہ پاکستان کی افغان پالیسی درست رہی اور نہ ہی دہشت گردی کے خلاف پالیسی کوئی مثبت نتیجہ دے سکی ہے فیصلے سیاست دانوں کو کرنے ہوتے ہیں، طاقت تو ان کے فیصلوں کے بعد استعمال ہوتی ہےپراسیکیوشن اور دیگر اداروں کی خرابیوں پر بھی اجتماعی رائے قائم ہونی چاہیے اور 22 تاریخ کو علما کی کانفرنس میں اس پر واضح مؤقف سامنے آ جائے گا۔

    مولانافضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت نہ دینا بھی ایک جمہوری ملک میں افسوس ناک ہے، میں تو یہ بھی سوال اٹھاتا ہوں کہ وہ گرفتار کیوں ہیں؟ نہ میں سیاست دانوں کی گرفتاری کے حق میں ہوں اور نہ ملاقاتوں پر پابندی کے حق میں ہوں اصل سوال یہ ہے کہ حکومت کس کی ہے اور اصل فیصلے کون کر رہا ہے؟ ہم سب انہی فیصلوں کے تحت زندگی گزار رہے ہیں، آرمی چیف نئے اسٹیٹس کے ساتھ جو اپنے آنے والے مستقبل کا وہ آغاز کر رہے ہیں تو انہوں نے علما کے اجتماع سے خطاب کیا ہے تو اچھا گمان کیا جائے۔

  • سگھر،تلہ گنگ کے ایک گاؤں کے 30 شہدا،700 غازی،یادگار تعمیر

    سگھر،تلہ گنگ کے ایک گاؤں کے 30 شہدا،700 غازی،یادگار تعمیر

    شہدائے پاکستان کو سلام پیش کرنے کا منفرد انداز،تلہ گنگ کے گاؤں سگھر میں مقامی افراد کی جانب سے اپنی مدد آپ کے تحت یادگارِ شہداء کی تعمیر کر دی گئی

    مقامی افراد کی جانب سے یادگارِ شہداء پر 14 نومبر کو ایک شاندار اور جذبۂ حب الوطنی سے سرشار تقریب کا انعقاد کیا گیا ،تقریب میں علاقہ کے معززین کے علاوہ مختلف طبقات سے بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی،شرکاء نے مادرِ وطن پر جان نچھاور کرنے والے شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔تلہ گنگ کے گاؤں سگھر کو شہداء اور غازیوں کی سرزمین کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔سگھر کے 30 بہادر سپوتوں نے مادرِ وطن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا جن میں 25 پاک آرمی اور 5 پاک فضائیہ کے شہداء شامل ہیں ۔اس کے علاوہ گاؤں سگھر کی پہچان اس کے 766 غازی ہیں جو کہ پاک فوج ، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ میں مختلف ادوار میں خدمات پیش کر چکے ہیں -تقریب کے دوران ورثائے شہداء میں اعزازی شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔یہ تقریب نہ صرف شہداء کی عظیم قربانیوں کا اعتراف تھا بلکہ سگھر کے باسیوں کی حب الوطنی، اتحاد اور پختہ عزم کا روشن ثبوت بھی ہے۔

    نائیک (ر) غلام محمد کا کہنا تھا کہ میں نے اکہتر کی جنگ لڑی ہے اور میں آج بھی اس ملک کے لیے جان دینے کے لیے تیار ہوں،چیف وارنٹ آفیسر (ر) ملک ملازم حسین کا کہنا تھا کہ ہم نے گاؤں کی عوام کے تعاون سے اپنے گاؤں میں یادگار شہداء تعمیر کی ہے۔ ہمارا گاؤں شہیدوں اور غازیوں کا گاؤں ہے۔ ہمارے 28 شہداء ہیں۔ صوبیدار(ر) اعجاز حسین نے کہا کہ ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت یادگار شہداء بنائی ہے۔ ہمارے آج بھی 700 کے قریب غازی ہیں جو افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ آج بھی کھڑے ہیں ۔ ہم اپنے شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

  • تلہ گنگ، فحاشی کے اڈے پر پولیس کی کامیاب کارروائی، خواتین سمیت6 افراد گرفتار

    تلہ گنگ، فحاشی کے اڈے پر پولیس کی کامیاب کارروائی، خواتین سمیت6 افراد گرفتار

    وزیرِاعلیٰ پنجاب کے ویژن، آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور اور آر پی او راولپنڈی ڈویژن بابر سرفراز الپا کی ہدایات پر ضلع بھر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چکوال لیفٹیننٹ (ر) احمد محی الدین کی نگرانی میں تلہ گنگ پولیس نے ایک اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے فحاشی کے اڈے پر چھاپہ مارا۔

    تفصیلات کے مطابق ایس ڈی پی او تلہ گنگ سرکل یاسر مطلوب کیانی کی سربراہی میں ایس ایچ او تھانہ سٹی تلہ گنگ سب انسپکٹر شاہد بلال اور سب انسپکٹر شمعون حیدر پر مشتمل پولیس ٹیم نے خفیہ اطلاع پر تلہ گنگ شہر میں موجود ایک مبینہ قحبہ خانے پر کامیاب ریڈ کیا۔کارروائی کے دوران پولیس نے موقع پر موجود تین مردوں اور تین خواتین کو گرفتار کر کے ان کے خلاف فحاشی کے اڈا چلانے اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔پولیس حکام کے مطابق، یہ کارروائی وزیرِاعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے تحت سماجی برائیوں کے خاتمے اور عوامی تحفظ کے لیے جاری خصوصی مہم کا حصہ ہے۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چکوال لیفٹیننٹ (ر) احمد محی الدین نے ایس ڈی پی او یاسر مطلوب کیانی، ایس ایچ او شاہد بلال اور سب انسپکٹر شمعون حیدر سمیت پوری ٹیم کی بروقت اور مؤثر کارروائی پر شاباش دیتے ہوئے کہا کہ “پولیس قانون شکن عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھے گی، معاشرتی بگاڑ پھیلانے والوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔”

  • 12 سالہ بچے سے مدرسے میں بد فعلی کرنے والا معلم گرفتار

    12 سالہ بچے سے مدرسے میں بد فعلی کرنے والا معلم گرفتار

    ایس ایچ او تھانہ صدر تلہ گنگ انسپکٹر راجہ محمد عماد نے ہمراہ ٹیم کاروائی کرتے ہوئے مدرسے کے معلم کو گرفتار کر لیا

    12 سالہ بچے سے مدرسے میں بد فعلی کرنے والا معلم گرفتار مقدمہ درج کر لیا گیا وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن، آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور اور آر پی او راولپنڈی بابر سرفراز الپا کے احکامات پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر تلہ گنگ،چکوال لیفٹیننٹ ریٹائرڈ احمد محی الدین کی زیر نگرانی ایس ڈی پی او تلہ گنگ سرکل یاسر مطلوب کیانی کی سربراہی میں، ایس ایچ او تھانہ صدر تلہ گنگ انسپکٹر راجہ محمد عماد نے ہمراہ ٹیم کاروائی کرتے ہوئے مدرسے کے معلم کو گرفتار کر لیا۔

    ترجمان چکوال پولیس کے مطابق ملزم کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت کیا جائے گا تاکہ ملزم کو قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن NEVER AGAIN مہم کے تحت عورتوں، بچوں پر تشدد،جنسی ہراسگی کے فوری مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ تشدد،زیادتی اور ہراسمنٹ نا قابل برداشت ہیں۔

  • لڑکیوں کے کالج کے باہر راستہ روک کر دھمکیاں دینے والا  گرفتار

    لڑکیوں کے کالج کے باہر راستہ روک کر دھمکیاں دینے والا گرفتار

    تھانہ صدر تلہ گنگ پولیس کی دبنگ کاروائی، لڑکیوں کے کالج کے باہر راستہ روک کر جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے والا شخص اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا گیا

    مدعی مقدمہ کے مطابق ایک شخص نےمیری بیٹی کا راستہ روک کر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں،ڈی ایس پی تلہ گنگ یاسر مطلوب کیانی کی ہدایت پر ایس ایچ او صدر تلہ گنگ راجہ عماد نےواقعہ کا فوری مقدمہ درج کیا، ڈی ایس پی تلہ گنگ کی زیر نگرانی ملزم کی گرفتاری کے لئیے ایس ایچ او صدر تلہ گنگ راجہ عماد نے خصوصی ٹیم تشکیل دی، تھانہ صدر تلہ گنگ پولیس نے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہیومن انٹیلیجنس کی مدد سے مزکورہ شخص کو فوری اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا،ڈی پی او چکوال لیفٹیننٹ ریٹائرڈاحمد محی الدین کا کہنا ہے کہ بچوں اور خواتین کے حراساں کرنے والے عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا ،

  • چکوال میں شدید بارشوں سے انفراسٹرکچر تباہ، شہری مشکلات میں

    چکوال میں شدید بارشوں سے انفراسٹرکچر تباہ، شہری مشکلات میں

    پنجاب کے مختلف علاقوں میں جاری شدید بارشوں نے تباہی مچادی ہے، خاص طور پر چکوال شہر میں 450 ملی میٹر بارش ہونے کے بعد 32 سڑکیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ سیلابی ریلے متعدد رابطہ پلوں کو بہا لے گئے ہیں۔ اس تباہ کن صورتحال کے باعث کئی علاقوں میں آمدورفت مکمل طور پر بند ہو گئی ہے جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    ذرائع کے مطابق چکوال میں بارش کے نتیجے میں کئی اہم سڑکیں اور پل بہہ جانے سے شہریوں کی نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے۔ سیلاب کے باعث کئی دیہی اور شہری علاقوں کا رابطہ مرکزی شہروں سے منقطع ہو چکا ہے۔ امدادی ادارے اور حکومت کی جانب سے بند راستے کھولنے کے لیے ہیوی مشینری کو فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں روانہ کیا گیا ہے تاکہ جلد از جلد راستے بحال کیے جا سکیں۔

    اس تباہی کے ساتھ ساتھ چکوال میں بجلی کا نظام بھی شدید متاثر ہوا ہے، جس کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو چکی ہے۔ واپڈا حکام نے علاقے میں بجلی کی بحالی کے لیے کام شروع کر دیا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ جلد از جلد بجلی کی فراہمی بحال کی جائے تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    مزید برآں، کلرکہار چکوال روڈ پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہونے والا راستہ بھی کھول دیا گیا ہے، جس سے اس اہم شاہراہ پر آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔دوسری جانب، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز چکوال پہنچ گئی ہیں موجودہ صورتحال کا جائزہ لے سکیں اور متاثرہ علاقوں میں ریلیف کے انتظامات کو بہتر بنایا جا سکے۔ ان کا دورہ امدادی سرگرمیوں کی نگرانی اور متاثرین سے ملاقات کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

    عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حکومتی ہدایات پر عمل پیرا رہیں تاکہ جان و مال کا نقصان کم سے کم کیا جا سکے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ جلد از جلد متاثرہ علاقوں کو معمول پر لایا جائے اور سیلاب کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔