Baaghi TV

Category: چکوال

  • تلہ گنگ،الرحمن ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین زرعی قرار، پلاٹ مالکان "لٹ”گئے

    تلہ گنگ،الرحمن ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین زرعی قرار، پلاٹ مالکان "لٹ”گئے

    تلہ گنگ کی سب سے بڑی رہائشی اسکیم الرحمن ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق ایک نہایت اہم اور تشویشناک پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جس نے سوسائٹی میں سرمایہ کاری کرنے والے سینکڑوں خاندانوں کو شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق حکومتِ پنجاب نے الرحمن ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین کو ایگریکلچرل (زرعی) قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں سوسائٹی کے اندر لاکھوں روپے میں خریدے گئے پلاٹس پر نہ تو مکانات تعمیر کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی نقشہ پاس کروانا ممکن رہا ہے۔ یوں عملاً سوسائٹی میں تعمیراتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہو گئی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اچانک فیصلے نے ان سینکڑوں خاندانوں کو شدید ذہنی اور مالی پریشانی میں ڈال دیا ہے، جنہوں نے اپنی عمر بھر کی جمع پونجی اس امید پر اس سوسائٹی میں لگائی تھی کہ یہاں ایک محفوظ اور قانونی رہائشی مستقبل میسر آئے گا۔ پلاٹ مالکان کوتمام تر ادائیگیاں مکمل کرنے اور برسوں انتظار کے باوجود اب ان کے خواب ادھورے رہ جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    عوامی حلقوں کے مطابق اگر سوسائٹی کی زمین کو زرعی ہی برقرار رکھا گیا تو پلاٹس کی قانونی حیثیت، مالکانہ حقوق اور مستقبل کی سرمایہ کاری سب کچھ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں گھروں کی تعمیر ناممکن ہو گئی ہے
    ، عوامی حلقوں نے منتخب ممبرانِ اسمبلی، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس سنگین معاملے میں اپنا آئینی اور اخلاقی کردار ادا کریں۔ پلاٹ مالکان کی جانب سے اس ضمن میں احتجاج بھی متوقع ہے،باخبر ذرائع کے مطابق الرحمان ہاؤسنگ سوسائٹی ن لیگ ایم پی اے ملک فلک شیر اعوان کی ہے جنہوں نے ہاؤسنگ سوسائٹی کو بچانے کے لئےتگ و دو شروع کر دی ہے،

    دوسری جانب یہ بھی اطلاعات ہیں کہ تلہ گنگ کے مقامی صحافیوں نے الرحمان ہاؤسنگ سوسائٹی کے حوالہ سے حقائق پر مبنی خبر کو شائع کرنے سے انکار کیا ہے،

    الرحمان ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک فلک شیر اعوان اگر باغی ٹی وی کو مؤقف دینا چاہیں تو اسے من و عن شائع کیا جائے گا،
    ای میل ایڈریس
    editor@baaghitv.com

  • تلہ گنگ،بس کھائی میں جا گری،5 مسافر جاں بحق،27 زخمی

    تلہ گنگ،بس کھائی میں جا گری،5 مسافر جاں بحق،27 زخمی

    چکوال میں ایک افسوسناک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں 5 قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو گئیں جبکہ 27 افراد زخمی ہو گئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق یہ دلخراش واقعہ چکوال کے علاقے تلہ گنگ میں پیش آیا جہاں مسافروں سے بھری ایک بس کھائی میں جا گری،ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ بدقسمت بس اسلام آباد سے کراچی جا رہی تھی اور حادثہ جی ٹی روڈ پر ڈھوک پٹھان کے قریب پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بس تیز رفتاری کے باعث ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو گئی جس کے نتیجے میں وہ گہری کھائی میں جا گری،حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کے نتیجے میں 5 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ 27 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں 7 خواتین بھی شامل ہیں، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    ریسکیو اہلکاروں نے لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور شدید زخمیوں کو بہتر علاج کے لیے بڑے طبی مراکز منتقل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

  • تلہ گنگ میں تعلیمی و ہم نصابی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے آرٹ مقابلوں کا اعلان

    تلہ گنگ میں تعلیمی و ہم نصابی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے آرٹ مقابلوں کا اعلان

    چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی تلہ گنگ محمد عیسیٰ لالی نے ضلع بھر کے سرکاری و نجی سکولوں میں آرٹ مقابلہ جات کے انعقاد کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت مند اور مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھنا ہے تاکہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جا سکے۔

    نمائندہ خصوصی باغی ٹی وی خصوصی گفتگو کرتے ہوئے محمد عیسیٰ لالی کا کہنا تھا کہ ہمارا ویژن صرف نئی نسل کو پڑھانا نہیں بلکہ سکھانا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بچے رٹا سسٹم کے بجائے سیکھنے کی بنیاد پر تعلیم حاصل کریں اور عملی زندگی میں کامیاب ہوں۔انہوں نے کہا کہ جب تک وہ تلہ گنگ میں تعینات ہیں، طلبا اور اساتذہ کی بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کو یقینی بنائیں گے۔ ضلع میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے کئی تعلیمی اور ہم نصابی منصوبے زیرِ تکمیل ہیں اور 2026 ان شاء اللہ تلہ گنگ کے لیے تعلیمی انقلاب کا سال ثابت ہو گا۔

    چیف ایگزیکٹو آفیسر نے مزید بتایا کہ اساتذہ کو جدید طریقۂ تدریس کی باقاعدہ ٹریننگ دی جا رہی ہے تاکہ وہ بچوں کو جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم دے سکیں۔ اب بچوں کو محض امتحان پاس کروانے کے بجائے سیکھنے اور سمجھنے کی بنیاد پر پڑھایا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ امتحانی نتائج مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر ہوں گے اور کسی قسم کی کوتاہی یا سفارش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح اساتذہ کو بھی ان کی کارکردگی کی بنیاد پر سہولیات اور مراعات فراہم کی جائیں گی تاکہ محنت کرنے والے اساتذہ کی حوصلہ افزائی ہو سکے،والدین، اساتذہ اور تعلیمی انتظامیہ کے باہمی تعاون سے ہی تلہ گنگ کو ایک مثالی تعلیمی ضلع بنایا جا سکتا ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی پوری تندہی سے کام کر رہی ہے۔

  • حکومت کے پاس اصل مینڈ یٹ ہی موجود نہیں،مولانا فضل الرحمان

    حکومت کے پاس اصل مینڈ یٹ ہی موجود نہیں،مولانا فضل الرحمان

    چکوال:جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو جعلی مینڈیٹ کی حامل قرار دیا-

    چکوال میں میڈیاسے گفتگو کرتےہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کے پاس اصل مینڈ یٹ ہی موجود نہیں، یہ جعلی مینڈیٹ کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں، جعلی مینڈیٹ کے باوجود بھی حکومت صرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ہے جبکہ پیپلز پارٹی محض سہارا بنی ہوئی ہے، یعنی یہ جعلی اکثریت نہیں بلکہ جعلی اقلیت کی حکومت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جب آئین کے خلاف قانون سازی کی جائے گی تو اس کا مطلب آئین سے بغاوت ہوگا، جس کے بعد ان کا مینڈیٹ خود بخود ختم ہو جاتا ہے، اسی لیے ہم باہمی مشاورت سے ایک متفقہ مؤقف سامنے لانا چاہتے ہیں،جہاں تک 28 ویں ترمیم اور نئے صوبوں کی بازگشت کا تعلق ہے، تو اصولی بات اور ہے اور عملی حقیقت کچھ اور ہے۔

    مولانا نے کہا کہ آپ نے فاٹا کو صوبے میں ضم کیا، ہم نے دلائل کے ساتھ مخالفت کی اور اس کے نقصانات سے آگاہ بھی کیا لیکن اسٹیبلشمنٹ خود کو عقل کل سمجھتی رہی اور آج وہی لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ فیصلہ غلط تھا اور اب باقی صوبوں کو بھی تقسیم کرنے کی بات ہو رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا اس کے لیے زمینی حالات سازگار ہیں؟ یا کل پھر ہم روئیں گے کہ ہم نے ملک کو نقصان پہنچایا، یہ لوگ بات تو کر لیتے ہیں، پھر طاقت کے زور پر فیصلے نافذ بھی کر دیتے ہیں، فاٹا کا انضمام بھی طاقت کے زور پر کیا گیا اور آج وہاں مسلح گروپس نے علاقے پر قبضہ جما لیا ہے اور ریاست کی رٹ ختم ہو چکی ہے۔

    مولانافضل الرحمان نے کہا کہ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ 75،78 برسوں میں نہ پاکستان کی افغان پالیسی درست رہی اور نہ ہی دہشت گردی کے خلاف پالیسی کوئی مثبت نتیجہ دے سکی ہے فیصلے سیاست دانوں کو کرنے ہوتے ہیں، طاقت تو ان کے فیصلوں کے بعد استعمال ہوتی ہےپراسیکیوشن اور دیگر اداروں کی خرابیوں پر بھی اجتماعی رائے قائم ہونی چاہیے اور 22 تاریخ کو علما کی کانفرنس میں اس پر واضح مؤقف سامنے آ جائے گا۔

    مولانافضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت نہ دینا بھی ایک جمہوری ملک میں افسوس ناک ہے، میں تو یہ بھی سوال اٹھاتا ہوں کہ وہ گرفتار کیوں ہیں؟ نہ میں سیاست دانوں کی گرفتاری کے حق میں ہوں اور نہ ملاقاتوں پر پابندی کے حق میں ہوں اصل سوال یہ ہے کہ حکومت کس کی ہے اور اصل فیصلے کون کر رہا ہے؟ ہم سب انہی فیصلوں کے تحت زندگی گزار رہے ہیں، آرمی چیف نئے اسٹیٹس کے ساتھ جو اپنے آنے والے مستقبل کا وہ آغاز کر رہے ہیں تو انہوں نے علما کے اجتماع سے خطاب کیا ہے تو اچھا گمان کیا جائے۔

  • سگھر،تلہ گنگ کے ایک گاؤں کے 30 شہدا،700 غازی،یادگار تعمیر

    سگھر،تلہ گنگ کے ایک گاؤں کے 30 شہدا،700 غازی،یادگار تعمیر

    شہدائے پاکستان کو سلام پیش کرنے کا منفرد انداز،تلہ گنگ کے گاؤں سگھر میں مقامی افراد کی جانب سے اپنی مدد آپ کے تحت یادگارِ شہداء کی تعمیر کر دی گئی

    مقامی افراد کی جانب سے یادگارِ شہداء پر 14 نومبر کو ایک شاندار اور جذبۂ حب الوطنی سے سرشار تقریب کا انعقاد کیا گیا ،تقریب میں علاقہ کے معززین کے علاوہ مختلف طبقات سے بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی،شرکاء نے مادرِ وطن پر جان نچھاور کرنے والے شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔تلہ گنگ کے گاؤں سگھر کو شہداء اور غازیوں کی سرزمین کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔سگھر کے 30 بہادر سپوتوں نے مادرِ وطن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا جن میں 25 پاک آرمی اور 5 پاک فضائیہ کے شہداء شامل ہیں ۔اس کے علاوہ گاؤں سگھر کی پہچان اس کے 766 غازی ہیں جو کہ پاک فوج ، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ میں مختلف ادوار میں خدمات پیش کر چکے ہیں -تقریب کے دوران ورثائے شہداء میں اعزازی شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔یہ تقریب نہ صرف شہداء کی عظیم قربانیوں کا اعتراف تھا بلکہ سگھر کے باسیوں کی حب الوطنی، اتحاد اور پختہ عزم کا روشن ثبوت بھی ہے۔

    نائیک (ر) غلام محمد کا کہنا تھا کہ میں نے اکہتر کی جنگ لڑی ہے اور میں آج بھی اس ملک کے لیے جان دینے کے لیے تیار ہوں،چیف وارنٹ آفیسر (ر) ملک ملازم حسین کا کہنا تھا کہ ہم نے گاؤں کی عوام کے تعاون سے اپنے گاؤں میں یادگار شہداء تعمیر کی ہے۔ ہمارا گاؤں شہیدوں اور غازیوں کا گاؤں ہے۔ ہمارے 28 شہداء ہیں۔ صوبیدار(ر) اعجاز حسین نے کہا کہ ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت یادگار شہداء بنائی ہے۔ ہمارے آج بھی 700 کے قریب غازی ہیں جو افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ آج بھی کھڑے ہیں ۔ ہم اپنے شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

  • تلہ گنگ، فحاشی کے اڈے پر پولیس کی کامیاب کارروائی، خواتین سمیت6 افراد گرفتار

    تلہ گنگ، فحاشی کے اڈے پر پولیس کی کامیاب کارروائی، خواتین سمیت6 افراد گرفتار

    وزیرِاعلیٰ پنجاب کے ویژن، آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور اور آر پی او راولپنڈی ڈویژن بابر سرفراز الپا کی ہدایات پر ضلع بھر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چکوال لیفٹیننٹ (ر) احمد محی الدین کی نگرانی میں تلہ گنگ پولیس نے ایک اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے فحاشی کے اڈے پر چھاپہ مارا۔

    تفصیلات کے مطابق ایس ڈی پی او تلہ گنگ سرکل یاسر مطلوب کیانی کی سربراہی میں ایس ایچ او تھانہ سٹی تلہ گنگ سب انسپکٹر شاہد بلال اور سب انسپکٹر شمعون حیدر پر مشتمل پولیس ٹیم نے خفیہ اطلاع پر تلہ گنگ شہر میں موجود ایک مبینہ قحبہ خانے پر کامیاب ریڈ کیا۔کارروائی کے دوران پولیس نے موقع پر موجود تین مردوں اور تین خواتین کو گرفتار کر کے ان کے خلاف فحاشی کے اڈا چلانے اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔پولیس حکام کے مطابق، یہ کارروائی وزیرِاعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے تحت سماجی برائیوں کے خاتمے اور عوامی تحفظ کے لیے جاری خصوصی مہم کا حصہ ہے۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چکوال لیفٹیننٹ (ر) احمد محی الدین نے ایس ڈی پی او یاسر مطلوب کیانی، ایس ایچ او شاہد بلال اور سب انسپکٹر شمعون حیدر سمیت پوری ٹیم کی بروقت اور مؤثر کارروائی پر شاباش دیتے ہوئے کہا کہ “پولیس قانون شکن عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھے گی، معاشرتی بگاڑ پھیلانے والوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔”

  • 12 سالہ بچے سے مدرسے میں بد فعلی کرنے والا معلم گرفتار

    12 سالہ بچے سے مدرسے میں بد فعلی کرنے والا معلم گرفتار

    ایس ایچ او تھانہ صدر تلہ گنگ انسپکٹر راجہ محمد عماد نے ہمراہ ٹیم کاروائی کرتے ہوئے مدرسے کے معلم کو گرفتار کر لیا

    12 سالہ بچے سے مدرسے میں بد فعلی کرنے والا معلم گرفتار مقدمہ درج کر لیا گیا وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن، آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور اور آر پی او راولپنڈی بابر سرفراز الپا کے احکامات پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر تلہ گنگ،چکوال لیفٹیننٹ ریٹائرڈ احمد محی الدین کی زیر نگرانی ایس ڈی پی او تلہ گنگ سرکل یاسر مطلوب کیانی کی سربراہی میں، ایس ایچ او تھانہ صدر تلہ گنگ انسپکٹر راجہ محمد عماد نے ہمراہ ٹیم کاروائی کرتے ہوئے مدرسے کے معلم کو گرفتار کر لیا۔

    ترجمان چکوال پولیس کے مطابق ملزم کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت کیا جائے گا تاکہ ملزم کو قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن NEVER AGAIN مہم کے تحت عورتوں، بچوں پر تشدد،جنسی ہراسگی کے فوری مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ تشدد،زیادتی اور ہراسمنٹ نا قابل برداشت ہیں۔

  • لڑکیوں کے کالج کے باہر راستہ روک کر دھمکیاں دینے والا  گرفتار

    لڑکیوں کے کالج کے باہر راستہ روک کر دھمکیاں دینے والا گرفتار

    تھانہ صدر تلہ گنگ پولیس کی دبنگ کاروائی، لڑکیوں کے کالج کے باہر راستہ روک کر جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے والا شخص اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا گیا

    مدعی مقدمہ کے مطابق ایک شخص نےمیری بیٹی کا راستہ روک کر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں،ڈی ایس پی تلہ گنگ یاسر مطلوب کیانی کی ہدایت پر ایس ایچ او صدر تلہ گنگ راجہ عماد نےواقعہ کا فوری مقدمہ درج کیا، ڈی ایس پی تلہ گنگ کی زیر نگرانی ملزم کی گرفتاری کے لئیے ایس ایچ او صدر تلہ گنگ راجہ عماد نے خصوصی ٹیم تشکیل دی، تھانہ صدر تلہ گنگ پولیس نے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہیومن انٹیلیجنس کی مدد سے مزکورہ شخص کو فوری اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا،ڈی پی او چکوال لیفٹیننٹ ریٹائرڈاحمد محی الدین کا کہنا ہے کہ بچوں اور خواتین کے حراساں کرنے والے عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا ،

  • چکوال میں شدید بارشوں سے انفراسٹرکچر تباہ، شہری مشکلات میں

    چکوال میں شدید بارشوں سے انفراسٹرکچر تباہ، شہری مشکلات میں

    پنجاب کے مختلف علاقوں میں جاری شدید بارشوں نے تباہی مچادی ہے، خاص طور پر چکوال شہر میں 450 ملی میٹر بارش ہونے کے بعد 32 سڑکیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ سیلابی ریلے متعدد رابطہ پلوں کو بہا لے گئے ہیں۔ اس تباہ کن صورتحال کے باعث کئی علاقوں میں آمدورفت مکمل طور پر بند ہو گئی ہے جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    ذرائع کے مطابق چکوال میں بارش کے نتیجے میں کئی اہم سڑکیں اور پل بہہ جانے سے شہریوں کی نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے۔ سیلاب کے باعث کئی دیہی اور شہری علاقوں کا رابطہ مرکزی شہروں سے منقطع ہو چکا ہے۔ امدادی ادارے اور حکومت کی جانب سے بند راستے کھولنے کے لیے ہیوی مشینری کو فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں روانہ کیا گیا ہے تاکہ جلد از جلد راستے بحال کیے جا سکیں۔

    اس تباہی کے ساتھ ساتھ چکوال میں بجلی کا نظام بھی شدید متاثر ہوا ہے، جس کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو چکی ہے۔ واپڈا حکام نے علاقے میں بجلی کی بحالی کے لیے کام شروع کر دیا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ جلد از جلد بجلی کی فراہمی بحال کی جائے تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    مزید برآں، کلرکہار چکوال روڈ پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہونے والا راستہ بھی کھول دیا گیا ہے، جس سے اس اہم شاہراہ پر آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔دوسری جانب، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز چکوال پہنچ گئی ہیں موجودہ صورتحال کا جائزہ لے سکیں اور متاثرہ علاقوں میں ریلیف کے انتظامات کو بہتر بنایا جا سکے۔ ان کا دورہ امدادی سرگرمیوں کی نگرانی اور متاثرین سے ملاقات کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

    عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حکومتی ہدایات پر عمل پیرا رہیں تاکہ جان و مال کا نقصان کم سے کم کیا جا سکے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ جلد از جلد متاثرہ علاقوں کو معمول پر لایا جائے اور سیلاب کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔

  • چکوال: کلاؤڈ برسٹ سے تباہی، 423 ملی میٹر بارش، سیلابی ایمرجنسی نافذ، 2 افراد جاں بحق

    چکوال: کلاؤڈ برسٹ سے تباہی، 423 ملی میٹر بارش، سیلابی ایمرجنسی نافذ، 2 افراد جاں بحق

    چکوال (باغی ٹی وی)چکوال میں گزشتہ روز ہونے والی طوفانی بارش نے تباہی مچادی۔ کلاؤڈ برسٹ کے باعث شہر اور نواحی علاقوں میں 400 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں درجنوں نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور متعدد گھروں میں پانی داخل ہوگیا۔ ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر سیلابی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور شہریوں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق چکوال کے نواحی علاقہ للیاندی میں سب سے زیادہ 423 ملی میٹر، وہالی زیر میں 351 ملی میٹر، جبکہ چوآسیدن شاہ میں 330 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو اس علاقے میں گزشتہ دہائی کا بلند ترین ریکارڈ ہے۔ کلر کہار اور دیگر علاقوں میں بھی شدید بارش ہوئی، جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں، خاص طور پر ڈھوک مستانی، پادشہان اور قریبی بستیوں میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

    بارش کے دوران کھیوال کے علاقے میں ایک گھر کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں ایک مرد اور ایک بچہ جاں بحق ہوگئے، جبکہ جاں بحق شخص کی بیوی اور بیٹی شدید زخمی ہوگئیں جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بلال بن حفیظ کے مطابق کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں ضلع بھر میں اوسطاً 370 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، اور اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی سول انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے متحرک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حالات مزید بگڑے تو پاک فوج کی مدد بھی حاصل کی جائے گی۔

    ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں گھر گھر جا کر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں، جب کہ کئی علاقوں میں نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ نشیبی علاقوں میں سیلابی ریلوں نے گلیوں کو ندی نالوں میں بدل دیا ہے، جس سے معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے ضلعی و صوبائی حکومتوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    واضح رہے کہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی موسلادھار بارشوں کے باعث جانی نقصان ہوا ہے۔ لاہور، فیصل آباد، جہلم، شیخوپورہ، اوکاڑہ اور دیگر علاقوں میں چھتیں اور دیواریں گرنے کے واقعات میں اب تک 28 افراد جاں بحق اور 90 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں 12 افراد کا تعلق لاہور، 8 فیصل آباد، 3 شیخوپورہ اور 2 اوکاڑہ سے ہے۔

    چکوال اور دیگر متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم شہریوں نے حکومت سے فوری ریلیف اور محفوظ رہائش کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔