Baaghi TV

Category: چکوال

  • حکومت کے پاس اصل مینڈ یٹ ہی موجود نہیں،مولانا فضل الرحمان

    حکومت کے پاس اصل مینڈ یٹ ہی موجود نہیں،مولانا فضل الرحمان

    چکوال:جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو جعلی مینڈیٹ کی حامل قرار دیا-

    چکوال میں میڈیاسے گفتگو کرتےہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کے پاس اصل مینڈ یٹ ہی موجود نہیں، یہ جعلی مینڈیٹ کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں، جعلی مینڈیٹ کے باوجود بھی حکومت صرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ہے جبکہ پیپلز پارٹی محض سہارا بنی ہوئی ہے، یعنی یہ جعلی اکثریت نہیں بلکہ جعلی اقلیت کی حکومت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جب آئین کے خلاف قانون سازی کی جائے گی تو اس کا مطلب آئین سے بغاوت ہوگا، جس کے بعد ان کا مینڈیٹ خود بخود ختم ہو جاتا ہے، اسی لیے ہم باہمی مشاورت سے ایک متفقہ مؤقف سامنے لانا چاہتے ہیں،جہاں تک 28 ویں ترمیم اور نئے صوبوں کی بازگشت کا تعلق ہے، تو اصولی بات اور ہے اور عملی حقیقت کچھ اور ہے۔

    مولانا نے کہا کہ آپ نے فاٹا کو صوبے میں ضم کیا، ہم نے دلائل کے ساتھ مخالفت کی اور اس کے نقصانات سے آگاہ بھی کیا لیکن اسٹیبلشمنٹ خود کو عقل کل سمجھتی رہی اور آج وہی لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ فیصلہ غلط تھا اور اب باقی صوبوں کو بھی تقسیم کرنے کی بات ہو رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا اس کے لیے زمینی حالات سازگار ہیں؟ یا کل پھر ہم روئیں گے کہ ہم نے ملک کو نقصان پہنچایا، یہ لوگ بات تو کر لیتے ہیں، پھر طاقت کے زور پر فیصلے نافذ بھی کر دیتے ہیں، فاٹا کا انضمام بھی طاقت کے زور پر کیا گیا اور آج وہاں مسلح گروپس نے علاقے پر قبضہ جما لیا ہے اور ریاست کی رٹ ختم ہو چکی ہے۔

    مولانافضل الرحمان نے کہا کہ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ 75،78 برسوں میں نہ پاکستان کی افغان پالیسی درست رہی اور نہ ہی دہشت گردی کے خلاف پالیسی کوئی مثبت نتیجہ دے سکی ہے فیصلے سیاست دانوں کو کرنے ہوتے ہیں، طاقت تو ان کے فیصلوں کے بعد استعمال ہوتی ہےپراسیکیوشن اور دیگر اداروں کی خرابیوں پر بھی اجتماعی رائے قائم ہونی چاہیے اور 22 تاریخ کو علما کی کانفرنس میں اس پر واضح مؤقف سامنے آ جائے گا۔

    مولانافضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت نہ دینا بھی ایک جمہوری ملک میں افسوس ناک ہے، میں تو یہ بھی سوال اٹھاتا ہوں کہ وہ گرفتار کیوں ہیں؟ نہ میں سیاست دانوں کی گرفتاری کے حق میں ہوں اور نہ ملاقاتوں پر پابندی کے حق میں ہوں اصل سوال یہ ہے کہ حکومت کس کی ہے اور اصل فیصلے کون کر رہا ہے؟ ہم سب انہی فیصلوں کے تحت زندگی گزار رہے ہیں، آرمی چیف نئے اسٹیٹس کے ساتھ جو اپنے آنے والے مستقبل کا وہ آغاز کر رہے ہیں تو انہوں نے علما کے اجتماع سے خطاب کیا ہے تو اچھا گمان کیا جائے۔

  • سگھر،تلہ گنگ کے ایک گاؤں کے 30 شہدا،700 غازی،یادگار تعمیر

    سگھر،تلہ گنگ کے ایک گاؤں کے 30 شہدا،700 غازی،یادگار تعمیر

    شہدائے پاکستان کو سلام پیش کرنے کا منفرد انداز،تلہ گنگ کے گاؤں سگھر میں مقامی افراد کی جانب سے اپنی مدد آپ کے تحت یادگارِ شہداء کی تعمیر کر دی گئی

    مقامی افراد کی جانب سے یادگارِ شہداء پر 14 نومبر کو ایک شاندار اور جذبۂ حب الوطنی سے سرشار تقریب کا انعقاد کیا گیا ،تقریب میں علاقہ کے معززین کے علاوہ مختلف طبقات سے بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی،شرکاء نے مادرِ وطن پر جان نچھاور کرنے والے شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔تلہ گنگ کے گاؤں سگھر کو شہداء اور غازیوں کی سرزمین کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔سگھر کے 30 بہادر سپوتوں نے مادرِ وطن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا جن میں 25 پاک آرمی اور 5 پاک فضائیہ کے شہداء شامل ہیں ۔اس کے علاوہ گاؤں سگھر کی پہچان اس کے 766 غازی ہیں جو کہ پاک فوج ، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ میں مختلف ادوار میں خدمات پیش کر چکے ہیں -تقریب کے دوران ورثائے شہداء میں اعزازی شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔یہ تقریب نہ صرف شہداء کی عظیم قربانیوں کا اعتراف تھا بلکہ سگھر کے باسیوں کی حب الوطنی، اتحاد اور پختہ عزم کا روشن ثبوت بھی ہے۔

    نائیک (ر) غلام محمد کا کہنا تھا کہ میں نے اکہتر کی جنگ لڑی ہے اور میں آج بھی اس ملک کے لیے جان دینے کے لیے تیار ہوں،چیف وارنٹ آفیسر (ر) ملک ملازم حسین کا کہنا تھا کہ ہم نے گاؤں کی عوام کے تعاون سے اپنے گاؤں میں یادگار شہداء تعمیر کی ہے۔ ہمارا گاؤں شہیدوں اور غازیوں کا گاؤں ہے۔ ہمارے 28 شہداء ہیں۔ صوبیدار(ر) اعجاز حسین نے کہا کہ ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت یادگار شہداء بنائی ہے۔ ہمارے آج بھی 700 کے قریب غازی ہیں جو افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ آج بھی کھڑے ہیں ۔ ہم اپنے شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

  • تلہ گنگ، فحاشی کے اڈے پر پولیس کی کامیاب کارروائی، خواتین سمیت6 افراد گرفتار

    تلہ گنگ، فحاشی کے اڈے پر پولیس کی کامیاب کارروائی، خواتین سمیت6 افراد گرفتار

    وزیرِاعلیٰ پنجاب کے ویژن، آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور اور آر پی او راولپنڈی ڈویژن بابر سرفراز الپا کی ہدایات پر ضلع بھر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چکوال لیفٹیننٹ (ر) احمد محی الدین کی نگرانی میں تلہ گنگ پولیس نے ایک اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے فحاشی کے اڈے پر چھاپہ مارا۔

    تفصیلات کے مطابق ایس ڈی پی او تلہ گنگ سرکل یاسر مطلوب کیانی کی سربراہی میں ایس ایچ او تھانہ سٹی تلہ گنگ سب انسپکٹر شاہد بلال اور سب انسپکٹر شمعون حیدر پر مشتمل پولیس ٹیم نے خفیہ اطلاع پر تلہ گنگ شہر میں موجود ایک مبینہ قحبہ خانے پر کامیاب ریڈ کیا۔کارروائی کے دوران پولیس نے موقع پر موجود تین مردوں اور تین خواتین کو گرفتار کر کے ان کے خلاف فحاشی کے اڈا چلانے اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔پولیس حکام کے مطابق، یہ کارروائی وزیرِاعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے تحت سماجی برائیوں کے خاتمے اور عوامی تحفظ کے لیے جاری خصوصی مہم کا حصہ ہے۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چکوال لیفٹیننٹ (ر) احمد محی الدین نے ایس ڈی پی او یاسر مطلوب کیانی، ایس ایچ او شاہد بلال اور سب انسپکٹر شمعون حیدر سمیت پوری ٹیم کی بروقت اور مؤثر کارروائی پر شاباش دیتے ہوئے کہا کہ “پولیس قانون شکن عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھے گی، معاشرتی بگاڑ پھیلانے والوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔”

  • 12 سالہ بچے سے مدرسے میں بد فعلی کرنے والا معلم گرفتار

    12 سالہ بچے سے مدرسے میں بد فعلی کرنے والا معلم گرفتار

    ایس ایچ او تھانہ صدر تلہ گنگ انسپکٹر راجہ محمد عماد نے ہمراہ ٹیم کاروائی کرتے ہوئے مدرسے کے معلم کو گرفتار کر لیا

    12 سالہ بچے سے مدرسے میں بد فعلی کرنے والا معلم گرفتار مقدمہ درج کر لیا گیا وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن، آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور اور آر پی او راولپنڈی بابر سرفراز الپا کے احکامات پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر تلہ گنگ،چکوال لیفٹیننٹ ریٹائرڈ احمد محی الدین کی زیر نگرانی ایس ڈی پی او تلہ گنگ سرکل یاسر مطلوب کیانی کی سربراہی میں، ایس ایچ او تھانہ صدر تلہ گنگ انسپکٹر راجہ محمد عماد نے ہمراہ ٹیم کاروائی کرتے ہوئے مدرسے کے معلم کو گرفتار کر لیا۔

    ترجمان چکوال پولیس کے مطابق ملزم کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت کیا جائے گا تاکہ ملزم کو قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن NEVER AGAIN مہم کے تحت عورتوں، بچوں پر تشدد،جنسی ہراسگی کے فوری مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ تشدد،زیادتی اور ہراسمنٹ نا قابل برداشت ہیں۔

  • لڑکیوں کے کالج کے باہر راستہ روک کر دھمکیاں دینے والا  گرفتار

    لڑکیوں کے کالج کے باہر راستہ روک کر دھمکیاں دینے والا گرفتار

    تھانہ صدر تلہ گنگ پولیس کی دبنگ کاروائی، لڑکیوں کے کالج کے باہر راستہ روک کر جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے والا شخص اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا گیا

    مدعی مقدمہ کے مطابق ایک شخص نےمیری بیٹی کا راستہ روک کر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں،ڈی ایس پی تلہ گنگ یاسر مطلوب کیانی کی ہدایت پر ایس ایچ او صدر تلہ گنگ راجہ عماد نےواقعہ کا فوری مقدمہ درج کیا، ڈی ایس پی تلہ گنگ کی زیر نگرانی ملزم کی گرفتاری کے لئیے ایس ایچ او صدر تلہ گنگ راجہ عماد نے خصوصی ٹیم تشکیل دی، تھانہ صدر تلہ گنگ پولیس نے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہیومن انٹیلیجنس کی مدد سے مزکورہ شخص کو فوری اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا،ڈی پی او چکوال لیفٹیننٹ ریٹائرڈاحمد محی الدین کا کہنا ہے کہ بچوں اور خواتین کے حراساں کرنے والے عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا ،

  • چکوال میں شدید بارشوں سے انفراسٹرکچر تباہ، شہری مشکلات میں

    چکوال میں شدید بارشوں سے انفراسٹرکچر تباہ، شہری مشکلات میں

    پنجاب کے مختلف علاقوں میں جاری شدید بارشوں نے تباہی مچادی ہے، خاص طور پر چکوال شہر میں 450 ملی میٹر بارش ہونے کے بعد 32 سڑکیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ سیلابی ریلے متعدد رابطہ پلوں کو بہا لے گئے ہیں۔ اس تباہ کن صورتحال کے باعث کئی علاقوں میں آمدورفت مکمل طور پر بند ہو گئی ہے جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    ذرائع کے مطابق چکوال میں بارش کے نتیجے میں کئی اہم سڑکیں اور پل بہہ جانے سے شہریوں کی نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے۔ سیلاب کے باعث کئی دیہی اور شہری علاقوں کا رابطہ مرکزی شہروں سے منقطع ہو چکا ہے۔ امدادی ادارے اور حکومت کی جانب سے بند راستے کھولنے کے لیے ہیوی مشینری کو فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں روانہ کیا گیا ہے تاکہ جلد از جلد راستے بحال کیے جا سکیں۔

    اس تباہی کے ساتھ ساتھ چکوال میں بجلی کا نظام بھی شدید متاثر ہوا ہے، جس کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو چکی ہے۔ واپڈا حکام نے علاقے میں بجلی کی بحالی کے لیے کام شروع کر دیا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ جلد از جلد بجلی کی فراہمی بحال کی جائے تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    مزید برآں، کلرکہار چکوال روڈ پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہونے والا راستہ بھی کھول دیا گیا ہے، جس سے اس اہم شاہراہ پر آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔دوسری جانب، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز چکوال پہنچ گئی ہیں موجودہ صورتحال کا جائزہ لے سکیں اور متاثرہ علاقوں میں ریلیف کے انتظامات کو بہتر بنایا جا سکے۔ ان کا دورہ امدادی سرگرمیوں کی نگرانی اور متاثرین سے ملاقات کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

    عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حکومتی ہدایات پر عمل پیرا رہیں تاکہ جان و مال کا نقصان کم سے کم کیا جا سکے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ جلد از جلد متاثرہ علاقوں کو معمول پر لایا جائے اور سیلاب کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔

  • چکوال: کلاؤڈ برسٹ سے تباہی، 423 ملی میٹر بارش، سیلابی ایمرجنسی نافذ، 2 افراد جاں بحق

    چکوال: کلاؤڈ برسٹ سے تباہی، 423 ملی میٹر بارش، سیلابی ایمرجنسی نافذ، 2 افراد جاں بحق

    چکوال (باغی ٹی وی)چکوال میں گزشتہ روز ہونے والی طوفانی بارش نے تباہی مچادی۔ کلاؤڈ برسٹ کے باعث شہر اور نواحی علاقوں میں 400 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں درجنوں نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور متعدد گھروں میں پانی داخل ہوگیا۔ ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر سیلابی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور شہریوں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق چکوال کے نواحی علاقہ للیاندی میں سب سے زیادہ 423 ملی میٹر، وہالی زیر میں 351 ملی میٹر، جبکہ چوآسیدن شاہ میں 330 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو اس علاقے میں گزشتہ دہائی کا بلند ترین ریکارڈ ہے۔ کلر کہار اور دیگر علاقوں میں بھی شدید بارش ہوئی، جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں، خاص طور پر ڈھوک مستانی، پادشہان اور قریبی بستیوں میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

    بارش کے دوران کھیوال کے علاقے میں ایک گھر کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں ایک مرد اور ایک بچہ جاں بحق ہوگئے، جبکہ جاں بحق شخص کی بیوی اور بیٹی شدید زخمی ہوگئیں جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بلال بن حفیظ کے مطابق کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں ضلع بھر میں اوسطاً 370 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، اور اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی سول انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے متحرک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حالات مزید بگڑے تو پاک فوج کی مدد بھی حاصل کی جائے گی۔

    ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں گھر گھر جا کر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں، جب کہ کئی علاقوں میں نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ نشیبی علاقوں میں سیلابی ریلوں نے گلیوں کو ندی نالوں میں بدل دیا ہے، جس سے معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے ضلعی و صوبائی حکومتوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    واضح رہے کہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی موسلادھار بارشوں کے باعث جانی نقصان ہوا ہے۔ لاہور، فیصل آباد، جہلم، شیخوپورہ، اوکاڑہ اور دیگر علاقوں میں چھتیں اور دیواریں گرنے کے واقعات میں اب تک 28 افراد جاں بحق اور 90 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں 12 افراد کا تعلق لاہور، 8 فیصل آباد، 3 شیخوپورہ اور 2 اوکاڑہ سے ہے۔

    چکوال اور دیگر متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم شہریوں نے حکومت سے فوری ریلیف اور محفوظ رہائش کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • تلہ گنگ: تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن، درجنوں دکانیں اور ہوٹل سیل

    تلہ گنگ: تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن، درجنوں دکانیں اور ہوٹل سیل

    تلہ گنگ (باغی ٹی وی، ملک محمد مزمل اقبال)ڈپٹی کمشنر چکوال/تلہ گنگ کی خصوصی ہدایات پر تلہ گنگ شہر میں تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز اور مؤثر گرینڈ آپریشن جاری ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر تلہ گنگ کی نگرانی میں میونسپل کمیٹی کی ٹیم متحرک کردار ادا کر رہی ہے اور اب تک درجنوں غیر قانونی دکانیں، ہوٹل اور تعمیرات کو سیل کیا جا چکا ہے۔

    اس آپریشن میں چیف آفیسر میونسپل کمیٹی، انکروچمنٹ آفیسر ملک مدثر، ایم او ار ملک سلیم اقبال اور ان کی ٹیم روزانہ کی بنیاد پر فیلڈ میں موجود رہتی ہے۔ کارروائیاں شہر کے مرکزی بازار، بس اڈہ، لاری اڈہ اور دیگر اہم مقامات پر کی جا رہی ہیں تاکہ عوامی راستے کشادہ ہوں، شہریوں کی آمدورفت میں آسانی ہو، اور شہر کی خوبصورتی بحال کی جا سکے۔

    ضلعی انتظامیہ نے واضح پیغام دیا ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے یا عوامی جگہوں پر ناجائز قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عوامی حلقوں نے انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے شہر کی بہتری کی جانب مثبت قدم قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ آپریشن مستقل بنیادوں پر جاری رہے گا تاکہ تلہ گنگ کو تجاوزات سے مکمل نجات دلائی جا سکے۔

  • تلہ گنگ: اپووا ضلعی دفتر کا افتتاح، فیضان شیخ کوآرڈینیٹر مقرر

    تلہ گنگ: اپووا ضلعی دفتر کا افتتاح، فیضان شیخ کوآرڈینیٹر مقرر

    تلہ گنگ (باغی ٹی وی، ملک محمد مزمل اقبال) تلہ گنگ میں ادبی تاریخ رقم آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے ضلعی دفتر کا باقاعدہ افتتاح، فیضان شیخ ضلعی کوآرڈینیٹر مقرر

    علم و ادب کے فروغ کے لیے سرگرم ملک گیر تنظیم آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) نے ضلع چکوال و تلہ گنگ میں اپنی باقاعدہ موجودگی کا آغاز کر دیا۔ گزشتہ روز تلہ گنگ میں اپووا کے ضلعی دفتر کا باوقار افتتاحی پروگرام منعقد ہوا، جس میں لاہور سے آئے اپووا کے مرکزی وفد کے علاوہ تلہ گنگ کے ممتاز صحافیوں، ادیبوں، شاعروں، سماجی شخصیات اور اہلِ قلم نے بھرپور شرکت کی۔

    تقریب کے دوران سینئر صحافی فیضان شیخ کو اپووا ضلع تلہ گنگ و چکوال کا ضلعی کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا۔ اس اقدام کو علمی و ادبی حلقوں کی جانب سے سراہا گیا اور مستقبل میں اپووا کے متحرک کردار کی توقعات وابستہ کی گئیں۔

    افتتاحی تقریب میں اپووا کی مرکزی قیادت نے شرکت کی جن میں سینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان، بانی صدر ایم ایم علی، نائب صدور حافظ محمد زاہد اور سفیان علی فاروقی، محمد اسلم سیال، ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز حیدراعوان اور محمد بلال شامل تھے۔ ان معزز شخصیات نے فیضان شیخ کی تعیناتی پر مبارکباد دیتے ہوئے اپووا کے مشن اور ویژن پر روشنی ڈالی۔

    تقریب میں تلہ گنگ و چکوال کی علمی و صحافتی دنیا کی نامور شخصیات نے شرکت کی، جن میں چیئرمین تلہ گنگ پریس کلب محمد افضل اعوان، سرپرست اعلیٰ پریس کلب چوہدری غلام ربانی، معروف شاعر محمد بن اکبر، صدر تحصیل پریس کلب شیخ فاروق جھاٹلہ، جنرل سیکرٹری ارشد اعوان مرجان، سینئر صحافی راجہ محمد عدیل، تحصیل اسپورٹس آفیسر و مصنف ملک طارق محمود، معروف صحافی محسن شیخ (جنگ/جیو)، سینئر صحافی عمران سرور جبی، 24 نیوز کے نمائندہ ملک ارشد کوٹگلہ، پی ٹی وی کے نمائندہ چوہدری نذر، شاعر و مصنف ظہیر احمد، نوجوان شاعر سدیم عارض، باغی ٹی وی کے نمائندہ ملک مزمل اقبال، تلہ گنگ ٹائمز کے نمائندہ بلال شیخ، ارسلان رفیق، حافظ مقبول حسن و دیگر شخصیات شامل تھیں۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ملک یعقوب اعوان نے کہا کہ”اپووا لکھاریوں، شاعروں، صحافیوں اور اہلِ قلم کی نمائندہ تنظیم ہے۔ تلہ گنگ میں دفتر کا قیام ایک تاریخی قدم ہے۔ ہم ادب، تحقیق اور فن کی خدمت جاری رکھیں گے۔”

    بانی صدر ایم ایم علی نے کہاکہ”اپووا جونیئرز کی تربیت اور سینئرز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے مشن پر کاربند ہے۔ ہر ضلع میں ہماری تنظیم کا مضبوط اور فعال نیٹ ورک قائم کیا جائے گا تاکہ اہلِ قلم کو ایک پلیٹ فارم میسر آ سکے۔”

    آخر میں فیضان شیخ نے اپووا کی قیادت اور معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ تلہ گنگ و چکوال کے لکھاریوں، ادیبوں اور صحافیوں کو اپووا کے پلیٹ فارم سے یکجا کر کے ایک مضبوط ادبی و فکری تحریک کو فروغ دیں گے۔

  • وی آئی پی کالج تلہ گنگ  کی گولڈ میڈلسٹ طالبات کے اعزاز میں تقریب

    وی آئی پی کالج تلہ گنگ کی گولڈ میڈلسٹ طالبات کے اعزاز میں تقریب

    رپورٹ حسن شاہ
    تلہ گنگ شہر میں قائم معروف تعلیمی ادارے وی آئی پی سیکنڈری سکول و کالج نے اپنی درخشاں روایات قائم رکھتے ہوئے اس سال کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ کشف زمان اور مائرہ حسن کے اعزاز میں پر وقار تقریب کا اہتمام کیا

    وی آئی پی کالج تلہ گنگ نے اپنی شاندار تعلیمی روایات کو نہ صرف برقرار رکھا ہے بلکہ اس میں مزید بہتری لاتے ہوئے اب تک پنجاب یونیورسٹی لاہور میں پنجاب سطح پر 29 پوزیشنز حاصل کر لی ہیں ۔ ادارے کی دو ہونہار طالبات کشف زمان اور مائرہ حسن گولڈ میڈلسٹ پنجاب سال 23 ، 24 کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کیا۔ علمی ادبی اس محفل کا دورانیہ مختصر تھا جس میں علاقے کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی، صدر پی ایم یو چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر ارشد ملک، کنسلٹنٹ سرجییکل سپیشلسٹ (امریکہ) شوکت خانم ہسپتال ڈاکٹر محسن رضا، معروف سماجی و بزرگ شخصیت ملک غلام عباس جھابری ایگزیکٹو ممبر سائبان و انجمن بہبود مریضاں تلہ گنگ، پرنسپل گورنمنٹ ایسوسی ایٹ بوائز کالج تلہ گنگ ڈاکٹر بشیر منصور، پروفیسر قاضی عرفان پروفیسر محمد علی سمیت ریٹائرڈ پروفیسر سابقہ جنرل سیکرٹری پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن روف احمد شاہ سمیت علاقہ کی صحافی برادری نے بھی شرکت کی، ٹی این این کی جانب سے جناب ارشد اعوان اورفیضان شیخ جبکہ تلہ گنگ پریس کلب سے سینئر صحافی ملک عامر نواز، لیاقت اعوان، اکرم نور اورنور حسین عاجز نے شرکت کی دیگر شرکا میں معروف تاجر اور سابقہ صدر تلہ گنگ مارکیٹ یونین طفیل منہاس، بزرگ معلم خان زمان، معروف صدا کار و معلم ندیم ملک،معروف قانون دان انکم ٹیکس شیخ بدر سابقہ کونسلر سہیل نور پراچہ بھی موجود تھے

    بی ایس سی 2024 کے امتحانات میں کشف زمان نے جغرافیہ میں 187/200 نمبر حاصل کر کے گولڈ میڈل اپنے نام کیا، جبکہ 2023 میں اسی ادارے کی طالبہ مائرہ حسن نے 660 نمبر لے کر پنجاب یونیورسٹی میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔ جس میں ڈاکٹر ارشد اعوان اور پروفیسر ڈاکٹر بشیر منصور نے طالبات کو اعزازی سرٹیفکیٹ اور نقد انعامات سے نوازا۔

    تقریب میں انجمن بہبود مریضاں کے وفد، جس کی قیادت ڈاکٹر ارشد ملک اور سر ندیم کر رہے تھے، نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ تلہ گنگ کے سینئر صحافیوں اور سماجی شخصیات نے بھی طالبات کی حوصلہ افزائی کی۔

    وی آئی پی کالج کے ڈائریکٹر عمران رضا منہاج نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اس موقع پر شرکاء نے وی آئی پی کالج کے بانی، جی ایم رضا منہاس مرحوم، کی تعلیمی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔وی آئی پی کالج کی انتظامیہ نے تعلیمی میدان میں اپنی محنت اور لگن کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے مستقبل میں بھی ایسی تقریبات کے انعقاد کا وعدہ کیا۔آئی ٹی ٹیچر و سماجی کارکن عاصم رشید، ایگزیکٹو ایڈیٹر وائس آف تلہ گنگ ، قیصر جعفری اور وسیم مدھوال بھی موجود تھے۔

    شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے علم و حکمت کی افادیت پر روشنی ڈالی۔شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ گولڈ میڈلسٹ طالبات محنت کے اس سلسلہ کو جاری رکھیں گی۔ حوصلہ افزائی کے لیے طالبات کو تعریفی اسناد اور انعامات دیے گئے۔ اس موقع پر وی آئی پی کالج انتظامیہ نے میڈیاکو بتایا کہ ضلع بھر کا واحد ادارہ ہے جہاں ہائر کلاسزمیں 29 گولڈ میڈل طلباء زیر تعمیل رہے جبکہ ہر سال پوزیشن حاصل کی۔ تقریب میں طالبات کے احترام اور ان کی کاوشوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے شرکا نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا۔