Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • ڈیرہ غازیخان: وفاقی محتسب کا فری اور فوری انصاف، 179 فیصلے، 13 لاکھ ریلیف، نادرا کو بھی احکامات جاری

    ڈیرہ غازیخان: وفاقی محتسب کا فری اور فوری انصاف، 179 فیصلے، 13 لاکھ ریلیف، نادرا کو بھی احکامات جاری

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ)وفاقی محتسب کے ریجنل ہیڈ ڈاکٹر محمد زاہد ملک نے 27 مئی 2025 کو عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ایک شاندار مثال قائم کی۔ انہوں نے ایک ہی دن میں 179 سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے، جن کے نتیجے میں شہریوں کو 13 لاکھ روپے سے زائد کا ریلیف فراہم کیا گیا۔ اس کارکردگی نے عوام میں وفاقی محتسب کے ادارے پر اعتماد کو مضبوط کیا۔

    سب سے زیادہ شکایات واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے خلاف تھیں، جن کی تعداد 171 تھی۔ ان میں سے سب ڈویژن ڈیرہ غازی خان سے 84، جام پور سے 65، کوٹ چھٹہ سے 9 اور لیہ سے 13 درخواستوں پر فیصلے کیے گئے۔ واپڈا کے خلاف شہریوں نے بلنگ، ناجائز کٹوتیوں اور دیگر مسائل کی شکایات درج کی تھیں، جن پر فوری اور مفت انصاف فراہم کیا گیا۔ اس کے علاوہ، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے خلاف 4 درخواستوں پر فیصلے کیے گئے، جبکہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کو 4 شہریوں کے شناختی کارڈز جاری کرنے کا حکم دیا گیا۔

    دور دراز سے ڈیرہ غازی خان انصاف کے حصول کے لیے آنے والے شہریوں نے وفاقی محتسب کے فوری اور مفت انصاف کے نظام کی تعریف کی اور ڈاکٹر محمد زاہد ملک کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ وفاقی محتسب کا ادارہ ان کے لیے امید کی کرن ہے، جہاں بغیر کسی فیس یا سفارش کے انصاف ملتا ہے۔

    سماعت کے دوران ڈاکٹر محمد زاہد ملک نے ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) کے حکام کو تنبیہ کی کہ وہ عوام کو ناحق تنگ کرنے سے باز رہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی محتسب کا ادارہ "غریبوں کی عدالت” ہے، جہاں انصاف صرف سچائی اور حق کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

    اس موقع پر لیاقت علی میمن نے بطور انسپکٹر ریجنل ڈائریکٹر (IRD) وفاقی محتسب ڈیرہ غازی خان کا چارج سنبھال لیا اور عوامی شکایات کے حل کے لیے کام شروع کر دیا۔ ان کی تعیناتی سے ادارے کی کارکردگی میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

    وفاقی محتسب کا یہ اقدام ادارے کے بنیادی اصول کی عکاسی کرتا ہے کہ عام اور بے بس شہریوں کو بغیر کسی وکیل، سفارش یا فیس کے فوری اور منصفانہ انصاف فراہم کیا جائے۔ اس کارکردگی نے نہ صرف شہریوں کے مسائل حل کیے بلکہ ادارے کے تئیں عوامی اعتماد کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچایا۔

  • ڈیرہ غازی خان :کارڈیالوجی ہسپتال،سکیورٹی گارڈز 5 ماہ سے بغیر تنخواہ، انتظامیہ کے خلاف احتجاج

    ڈیرہ غازی خان :کارڈیالوجی ہسپتال،سکیورٹی گارڈز 5 ماہ سے بغیر تنخواہ، انتظامیہ کے خلاف احتجاج

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی سٹی رپورٹرجواداکبر) سردار فتح محمد بزدار انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سکیورٹی گارڈز نے پانچ ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور انتظامیہ کی مسلسل لاپرواہی کے خلاف ہسپتال کے مرکزی گیٹ پر زبردست احتجاج کیا۔ پلے کارڈز اٹھائے غریب گارڈز نے "ہمارا حق دو، تنخواہیں ادا کرو!”، "انتظامیہ کی ظالمانہ پالیسی ختم کرو!” اور "بھوک سے مر رہے ہیں، انصاف کب ملے گا؟” جیسے نعرے لگائے۔ ان کا کہنا ہے کہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی نے ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت لا دی ہے، بچوں کی تعلیم اور گھریلو اخراجات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ایک گارڈ نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا، "ہم شرم سے رات کو منہ چھپا کر گھر جاتے ہیں کیونکہ گھر والوں سے آنکھیں نہیں ملتیں۔”

    گارڈز نے الزام لگایا کہ انتظامیہ نے نہ صرف تنخواہیں روک رکھی ہیں بلکہ احتجاج کرنے پر نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بائیو میڈیکل انجینیئر محمد وسیم، جو میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے قریبی ہیں، سیکیورٹی انچارج کا کردار بھی نبھا رہے ہیں اور شکایات کو نظر انداز کرتے ہیں۔ مقامی سماجی کارکنوں اور لیبر یونین رہنماؤں نے انتظامیہ پر ملازمین کے بنیادی حقوق پامال کرنے کا الزام عائد کیا اور خبردار کیا کہ اگر تنخواہیں فوری ادا نہ کی گئیں تو ہڑتال کی جائے گی، جس سے ہسپتال کی سکیورٹی اور مریضوں کی سہولیات متاثر ہوں گی۔

    عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اور سیکرٹری صحت پنجاب سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے کہ گارڈز کی تنخواہیں ادا کی جائیں اور انتظامیہ کے غیر انسانی رویے کی تحقیقات کی جائے۔ یہ صرف تنخواہوں کا معاملہ نہیں، بلکہ انسانی وقار اور انصاف کا سوال ہے۔ اگر فوری ایکشن نہ لیا گیا تو یہ احتجاج ایک بڑی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جو ہسپتال کی ساکھ اور خدمات کے لیے سنگین نتائج کا باعث بنے گا۔

  • ڈیرہ غازی خان: بستی گجوجی میں الفلاح فاؤنڈیشن کافری میڈیکل کیمپ، 650 مریضوں کا مفت علاج

    ڈیرہ غازی خان: بستی گجوجی میں الفلاح فاؤنڈیشن کافری میڈیکل کیمپ، 650 مریضوں کا مفت علاج

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ)الفلاح فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام بستی گجوجی، یونین کونسل چھابری بالا میں ایک روزہ فری میڈیکل کیمپ کا کامیاب انعقاد کیا گیا، جس میں 650 مریضوں کا مفت طبی معائنہ کیا گیا۔ کیمپ میں تین ماہر ڈاکٹروں نے مریضوں کا معائنہ کیا، جبکہ خواتین کے لیے علیحدہ لیڈی ڈاکٹر نے نہ صرف چیک اپ کیا بلکہ 48 مفت الٹراساؤنڈ ٹیسٹ بھی کیے۔

    فری کیمپ کے دوران 80 سے زائد لیبارٹری ٹیسٹ بھی مفت فراہم کیے گئے اور مریضوں کو مفت ادویات بھی دی گئیں۔ کیمپ میں جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ روحانی مسائل کے حل کے لیے روحانی کاؤنٹر بھی قائم کیا گیا، جہاں روحانی رہنمائی فراہم کی گئی۔

    الفلاح فاؤنڈیشن سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا ذیلی ادارہ ہے جو شیخ المکرم حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مدظلہ العالی کی سرپرستی میں ملک بھر میں فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد کر رہا ہے۔ بستی گجوجی کے عوام نے اس کاوش کو محبت، عقیدت اور شکر گزاری کے جذبات کے ساتھ سراہا۔

    کیمپ کی کامیابی میں ڈویژنل صدر ڈاکٹر نوید اصف یوسفی کی قیادت میں الفلاح فاؤنڈیشن، تنظیم الاخوان اور سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے کارکنان نے بھرپور محنت اور لگن سے اپنے فرائض انجام دیے۔ خصوصی طور پر عابد بھائی کا تذکرہ کیا گیا جنہوں نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا، میزبانی کے فرائض ادا کیے اور ہر ممکن سہولیات فراہم کیں۔

    آخر میں دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ ان تمام کارکنان کو جزائے خیر عطا فرمائے، ان کی خدمات قبول فرمائے اور فلاحی کاموں کے لیے مزید توفیق عطا کرے۔ آمین یا رب العالمین۔

  • ڈیرہ غازیخان:حافظ ڈاکٹرعبدالکریم مرکزی جمعیت اہلحدیث کےبلامقابلہ امیرمنتخب، شہر میں جشن کا سماں

    ڈیرہ غازیخان:حافظ ڈاکٹرعبدالکریم مرکزی جمعیت اہلحدیث کےبلامقابلہ امیرمنتخب، شہر میں جشن کا سماں

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی کی رپورٹ)مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے لیے ایک اہم اور تاریخی لمحہ، جب معروف دینی شخصیت اور عالم دین حافظ عبدالکریم کو تنظیم کا بلا مقابلہ امیر منتخب کر لیا گیا۔ یہ انتخاب تنظیم کے سابق سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر کے انتقال کے بعد عمل میں آیا۔ انتخابی عمل کی نگرانی چیئرمین الیکشن بورڈ ڈاکٹر عبدالغفور راشد نے کی جبکہ مجلس شوریٰ کے ارکان نے مرکز اہلحدیث میں اس عمل میں بھرپور شرکت کی۔

    انتخابی عمل میں حافظ عبدالکریم کے مقابل کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا، جس کے باعث وہ بلا مقابلہ امیر منتخب ہوئے۔ اس موقع پر شرکاء نے انہیں بھرپور اعتماد اور محبت کے ساتھ اس عظیم دینی منصب کے لیے چُنا۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرحوم پروفیسر ساجد میر جو طویل عرصے تک مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سربراہ رہے، 3 مئی کو مختصر علالت کے بعد 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی دینی خدمات اور قیادت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور اب ان کے بعد یہ بھاری ذمہ داری حافظ عبدالکریم کے کندھوں پر آ گئی ہے۔

    ڈیرہ غازی خان میں حافظ عبدالکریم کے بلامقابلہ انتخاب پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اہلحدیث کے کارکنان، علمائے کرام اور عوام نے انہیں دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے لیے فخر کا لمحہ ہے کہ ڈیرہ غازی خان جیسے نسبتاً پسماندہ خطے سے تعلق رکھنے والے ایک جید عالم دین کو ملکی سطح پر اتنی بڑی دینی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

    شہریوں کا کہنا تھا کہ حافظ عبدالکریم کی علمی بصیرت، دینی خدمات، تنظیمی صلاحیت اور اعلیٰ کردار کے باعث امید ہے کہ وہ نہ صرف اہلحدیث مکتبہ فکر کے مسائل کو بھرپور انداز میں اجاگر کریں گے بلکہ دین اسلام کی خدمت میں بھی نمایاں کردار ادا کریں گے۔ ان کی قیادت میں مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان مزید مضبوط، متحد اور متحرک ہو گی۔

    آخر میں عوام نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حافظ عبدالکریم کو اپنے مشن میں کامیاب فرمائے، انہیں استقامت اور رہنمائی عطا کرے تاکہ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے باعث فخر ثابت ہوں۔ ان کے اس اعزاز پر ایک بار پھر ڈیرہ غازی خان کے عوام نے دلی مبارکباد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

  • ڈیرہ غازی خان: پاکستان صحافی اتحاد کا پاک فوج کے اعزاز میں "یوم تشکر” کا انعقاد

    ڈیرہ غازی خان: پاکستان صحافی اتحاد کا پاک فوج کے اعزاز میں "یوم تشکر” کا انعقاد

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر) ملک بھر میں پاک فوج کی حالیہ کامیابیوں کے بعد جہاں عوام نے انفرادی و اجتماعی سطح پر یومِ تشکر منایا، وہیں پاکستان صحافی اتحاد نے بھی اپنے مرکزی صدر ظفر اقبال کھوکھر کی زیر صدارت ایک مقامی ہوٹل میں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ "یومِ تشکر” کا اہتمام کیا، جس میں مختلف مکاتب فکر کے افراد اور صحافی برادری نے شرکت کی۔

    تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈیرہ غازی خان کے سابق ایم پی اے سید محمد عبدالعلیم شاہ تھے۔ پروگرام کا آغاز تلاوت قرآنِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا، جس کے بعد سردار محمد اسلم خان چانڈیہ ایڈووکیٹ نے اپنی پُرجوش تقریر میں کہا کہ پورا پاکستان اپنی عظیم افواج کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، اور دشمن کی کسی بھی میلی آنکھ کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    اس موقع پر محترمہ ساجدہ خان، محمد فاروق خان، میاں عبدالرحمن بودلہ، خالد شہزاد اور محمد سعید قادری نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاک فوج سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا اور "یومِ تشکر” منانے پر پاکستان صحافی اتحاد کو خراج تحسین پیش کیا۔

    مرکزی صدر پاکستان صحافی اتحاد، ظفر اقبال کھوکھر نے اپنے خطاب میں پاکستان زندہ باد اور پاک فوج پائندہ باد کے نعروں سے ماحول کو گرماتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے ہاتھوں میں آج قلم ہے، لیکن اگر وقت آیا تو یہی ہاتھ تلوار تھام کر سرحدوں پر اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر بچہ فوج کے ساتھ ہے، اور یہ یومِ تشکر ہماری قومی وحدت کی علامت ہے۔

    تقریب کے آخر میں مہمان خصوصی سید محمد عبدالعلیم شاہ نے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے کردار کو قرآن و حدیث کی روشنی میں سراہا اور کہا کہ دشمن نہ صرف مکار ہے بلکہ بزدل بھی ہے، اور ہماری فوج ہر لمحہ چوکنا ہے۔ اگر دشمن نے کوئی نئی مہم جوئی کی تو پہلے سے بڑھ کر جواب ملے گا، کیونکہ اس بار صرف فوج نہیں، پوری قوم بھی جاگ چکی ہے۔

    یہ تقریب عامر حسین (صدر مجلس عاملہ) اور ساجدہ خان (صدر سوشل فورم) کے تعاون سے اور محمد سعید قادری (چیئرمین سوشل فورم) کی زیرِ سرپرستی منعقد ہوئی۔ آخر میں تمام شرکاء نے ملکی سلامتی، پاک فوج کی کامیابی اور اتحاد و یگانگت کے لیے دعائیں کیں۔

  • ڈیرہ غازی خان: مردہ جانور کا چھ من گوشت برآمد، ایک گرفتار، دو فرار

    ڈیرہ غازی خان: مردہ جانور کا چھ من گوشت برآمد، ایک گرفتار، دو فرار

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان) ڈیرہ غازی خان شہر میں فروخت کے لیے لایا جانے والا مردہ جانور کا چھ من وزنی گوشت ضبط کر لیا گیا۔ کارروائی میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ دو ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ضبط شدہ گوشت ضلعی انتظامیہ، پنجاب فوڈ اتھارٹی اور محکمہ لائیو اسٹاک کی نگرانی میں دریائے سندھ میں تلف کر دیا گیا۔

    اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر نذر حسین کورائی کے مطابق اطلاع ملنے پر یارو روڈ پر کارروائی کی گئی، جہاں سے مضر صحت گوشت برآمد ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس تھانہ صدر نے تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

    نذر حسین کورائی نے مزید کہا کہ شہریوں کو صاف، حلال اور معیاری گوشت کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق عوام کو صحت بخش خوراک کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ کارروائی کمشنر اشفاق احمد چوہدری اور ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کی ہدایت پر عمل میں لائی گئی۔

  • پیر عادل: موٹرسائیکل اور پھٹہ رکشہ میں تصادم،طالب شدید زخمی

    پیر عادل: موٹرسائیکل اور پھٹہ رکشہ میں تصادم،طالب شدید زخمی

    پیر عادل (باغی ٹی وی، نامہ نگار باسط علی گاڈی) تھانہ شاہصدر دین کی حدود میں واقع دربار پیر عادل کے قریب موٹرسائیکل اور پھٹہ رکشہ کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں سکول سے چھٹی کے بعد گھر جانے والا ایک بچہ شدید زخمی ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق حادثہ اُس وقت پیش آیا جب ایک موٹرسائیکل، جو تیز رفتاری کے باعث بے قابو ہو گیا، دربار پیر عادل کے قریب ٹی آراور گاڈر سے لوڈ پھٹہ رکشہ سے جا ٹکرایا۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ موٹرسائیکل سوارطالب علم بچہ بری طرح زخمی ہو گیا۔

    حادثے کی اطلاع پر ریسکیو 1122 کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور زخمی بچے کو طبی امداد کے لیے علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق بچے کی حالت تشویشناک ہے۔

    پولیس نے حادثے کی ابتدائی رپورٹ درج کر لی ہے اور مزید کارروائی جاری ہے۔ مقامی افراد نے سڑک پر ٹریفک کی بدانتظامی اور تیز رفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: کچہری میں فائرنگ ، ایک شخص زخمی، ملزم موقع پر گرفتار

    ڈیرہ غازی خان: کچہری میں فائرنگ ، ایک شخص زخمی، ملزم موقع پر گرفتار

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرجواداکبر) ڈسٹرکٹ کورٹ ڈیرہ غازی خان میں پیشی کے دوران فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔ تھانہ سول لائن پولیس کو اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور ملزم کو موقع پر گرفتار کر لیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ عامر ولد افضل قوم کشانی، سکنہ موضع مندوس دراہمہ، نے عدالت کے احاطے میں دلاور ولد سلطان قوم کشانی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دلاور زخمی ہو گیا۔ پولیس نے زخمی کو فوری طبی امداد کے لیے ٹراما سینٹر منتقل کیا۔

    واقعے کے فوراً بعد ڈی ایس پی سٹی رانا اقبال، سب انسپکٹر سیف اللہ ارشد اور تھانہ سول لائن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف جائے وقوعہ کا کنٹرول سنبھالا بلکہ ملزم عامر کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا۔

    ایس پی انویسٹی گیشن بختیار احمد خان بھی اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچے اور تفتیشی کارروائی کی براہِ راست نگرانی کی۔ پولیس کے مطابق دونوں افراد مقدمہ نمبر 299/23 بجرم 302 تھانہ دراہمہ کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہوئے تھے اور ان کے درمیان پرانی دشمنی چلی آ رہی تھی۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تفتیش جاری ہے اور ملزم کے خلاف قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ عدالتوں میں سیکیورٹی انتظامات پر بھی نظرثانی کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

  • ڈی جی خان:خاتون سے تعلق، پنچایت کے حکم پر پانی میں ڈبویا گیا نوجوان بیان سے مکر گیا

    ڈی جی خان:خاتون سے تعلق، پنچایت کے حکم پر پانی میں ڈبویا گیا نوجوان بیان سے مکر گیا

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ) ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے زین جو کوہ سلیمان کے دامن میں واقع ہے، میں 17 مئی 2025 کو ایک واقعہ پیش آیا جس نے قومی اور بین الاقوامی توجہ حاصل کی۔ ایک نوجوان جمال خان ولد رحیم بخش پر خاتون سے مبینہ تعلقات کے الزام کے تحت غیر قانونی جرگے کے حکم پر "آف پانی” کی رسم ادا کی گئی۔ اس واقعے نے قبائلی رسومات، غیر قانونی جرگوں کے فیصلوں اور ان کے سماجی و قانونی مضمرات پر بحث کو جنم دیا۔ معاملہ اس وقت پیچیدہ ہو گیا جب جمال خان نے اپنے ابتدائی بیان سے مکرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسے کسی نے پانی میں نہیں ڈبویا بلکہ وہ اپنی مرضی سے نہانے گیا تھا۔ یہ رپورٹ واقعے کی مکمل تفصیلات اور اس سے جڑے قانونی و سماجی پہلوؤں کا جائزہ پیش کرتی ہے۔

    واقعہ زین میں پیش آیا، جہاں زیادہ تر بلوچ قبائل آباد ہیں۔ جمال خان پر اس کے چچا نے اپنی بیٹی (جمال کی کزن) کے ساتھ مبینہ جنسی تعلقات کا الزام عائد کیا۔ چچا کا دعویٰ تھا کہ جمال اس کی بیٹی پر "بری نظر” رکھتا ہے۔ اس الزام کی بنیاد پر غیر قانونی جرگہ منعقد کیا گیا، جس نے روایتی رسم "آف پانی” کے ذریعے بے گناہی یا قصور واری ثابت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس رسم میں ملزم کو رسی سے باندھ کر 200 فٹ گہرے تالاب میں چھلانگ لگانے کا حکم دیا جاتا ہے۔ ملزم کو تقریباً چار منٹ تک پانی کے اندر سر ڈبو کر رہنا ہوتا ہے۔ اگر وہ زندہ باہر نکلے، تو بے گناہ سمجھا جاتا ہے اگر ڈوب جائے تو قصوروار قرار دیا جاتا ہے۔ رسی کا مقصد ڈوبنے کی صورت میں لاش نکالنا ہوتا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق تالاب کی گہرائی 200 فٹ سے زیادہ تھی جو رسم کی خطرناک نوعیت کو ظاہر کرتی ہے۔

    جمال خان نے جرگے کے حکم پر تالاب میں چھلانگ لگائی اور مقررہ وقت کے بعد زندہ باہر نکل آیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں اس کی کمر پر رسی بندھی دکھائی دی ،18 مئی 2025 کو جمال خان نے بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) کے تھانہ زین میں ایف آئی آر درج کروائی، جس میں دعویٰ کیا کہ اسے زبردستی تالاب تک لے جایا گیا اور پانی میں ڈبویا گیا۔ ایف آئی آر میں پانچ افراد، جن میں جرگے کا سرپنچ بھی شامل تھا، کو نامزد کیا گیا۔ بی ایم پی نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا اور گرفتاری کے لیے چھاپے مارے، لیکن ملزمان نے مقامی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی اور تفتیش میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی۔

    کمانڈنٹ بی ایم پی محمد اسد چانڈیا نے بتایا کہ ایف آئی آر میں جرگے کے انعقاد کی تفصیلات نہیں تھیں۔ تفتیش سے پتا چلا کہ جمال اور الزام لگانے والے چچا کے خاندان سمیت قبیلے کے 10 خاندان ایک ہی جگہ رہتے ہیں۔ جمال کو گواہ پیش کرنے کا کہا گیا لیکن وہ کوئی گواہ پیش نہیں کر سکا۔

    جیونیوز کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں جرگے کے فیصلے پرگہرے پانی میں ڈالےگئے نوجوان نے پولیٹیکل انتظامیہ کوبیان حلفی جمع کرا تے ہوئے درج مقدمہ خارج کرنے کا کہہ دیا۔بیان حلفی اور ویڈیو بیان میں نوجوان نے کہا کہ اسے کسی نے پانی میں نہیں ڈبویا، اپنے رشتے داروں کے ساتھ تالاب میں نہانےگیا تھا، پانی میں جانےکی ویڈیو کسی نامعلوم شخص نے بنا کر وائرل کی۔

    پولیٹیکل اسسٹنٹ کے مطابق یہ بیان عدالت میں پیش کیا جائے گا اور جمال کے خلاف غلط بیانی پر مقدمہ درج کیا جائے گا۔ اس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا جمال پر دباؤ ڈالا گیا یا اس نے اپنی مرضی سے بیان تبدیل کیا۔

    کوہ سلیمان کے قبائلی علاقوں میں غیر قانونی جرگے مقامی مسائل کے حل کے لیے منعقد ہوتے ہیں۔ ان کے فیصلوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، لیکن قبائلی دباؤ کی وجہ سے عملدرآمد ہوتا ہے۔ ایک مقامی رہائشی شخص کے مطابق جرگے کے فیصلے سے اختلاف کرنے والے کو باغی قرار دے کر قبیلے سے نکال دیا جاتا ہے اور بعض اوقات اسے قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔ "آف پانی” کی رسم میں ملزم کو چار منٹ تک گہرے پانی میں سر ڈبو کر رہنا ہوتا ہے۔ ایک اور رسم میں ملزم کو گرم لوہے کا راڈ پکڑنے اور اس پر تین بار زبان لگانے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اگر ہاتھ یا زبان جل جائے تو قصوروار سمجھا جاتا ہے۔ چھوٹے جرائم کے لیے لوہے کے راڈ کی رسم اور سنگین جرائم کے لیے "آف پانی” کی رسم رائج ہے۔ ایک شخص کا کہنا تھاکہ ہ "ونی” کی رسم بھی عام ہے، جس میں تنازعات کے حل کے لیے لڑکیوں کی شادیاں کی جاتی ہیں۔ اسد چانڈیا کا کہنا ہے کہ ڈیرہ غازی خان میں یہ رسومات تقریباً ختم ہو چکی ہیں، لیکن بلوچستان کے کچھ علاقوں میں اب بھی موجود ہیں۔

    یہ واقعہ قبائلی رسومات اور قانونی نظام کے درمیان تصادم کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کے قانون کے تحت غیر قانونی جرگوں کا انعقاد اور ان کے فیصلوں پر عملدرآمد ممنوع ہے، لیکن قبائلی دباؤ کی وجہ سے ان کا اثر و رسوخ برقرار ہے۔ وائرل ویڈیو نے رسم کی خطرناک نوعیت اور قانونی نظام کے نفاذ کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ واقعے کے بعد جمال کے بھائیوں اور قبیلے کے ارکان نے کلمہ چوک تونسہ پر احتجاج کیا اور جرگے کے ارکان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مقامی صحافیوں اور رہائشیوں نے بھی انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ بی ایم پی تفتیش کر رہی ہے، لیکن ملزمان کی ضمانت اور جمال کے تبدیل شدہ بیان نے معاملے کو پیچیدہ کر دیا ہے۔ پولیٹیکل انتظامیہ جمال کے حلفیہ بیان کو عدالت میں پیش کرے گی اور اس کے خلاف غلط بیانی کا مقدمہ درج کرے گی۔

    یہ واقعہ غیر قانونی جرگوں اور ان کے خطرناک فیصلوں کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ اگرچہ جمال زندہ بچ گیا، لیکن اس واقعے نے قبائلی رسومات کے خطرناک نتائج اور ان کے خاتمے کی ضرورت کو عیاں کیا۔ قانونی اداروں کو شفاف تفتیش کے ذریعے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔ قبائلی علاقوں میں تعلیم، شعور، اور قانونی نظام کے نفاذ سے ایسی غیر انسانی رسومات کا خاتمہ ممکن ہے۔

  • ڈیرہ غازیخان: اشیائے خوردونوش کے نئے نرخ مقرر، فوری طور پر نافذ العمل

    ڈیرہ غازیخان: اشیائے خوردونوش کے نئے نرخ مقرر، فوری طور پر نافذ العمل

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،نیوزرپورٹرشاہدخان) ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹی ڈیرہ غازی خان کا اہم اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل بقدسیہ ناز کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں متعلقہ سرکاری افسران اور تاجر تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے نئے نرخ مقرر کیے گئے جو فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔

    جاری کردہ نرخنامے کے مطابق چاول باسمتی کائنات (کچی و پکی) 300 روپے فی کلو، چاول کرنل چھوٹی 190 روپے، چاول اری سکس 100 روپے، سفید چنا موٹا 330 روپے، سفید چنا باریک 250 روپے، سوجی و میدہ 90 روپے، دال چنا موٹی 270 روپے، دال چنا باریک 260 روپے، دال ماش دھلی 380 روپے، دال مسور موٹی غیر ملکی 250 روپے، دال مونگ دھلی 375 روپے، بیسن 260 روپے اور چینی ایکس مل ریٹ پلس 3 روپے مقرر کی گئی ہے۔

    گوشت کے نرخوں میں بھی رد و بدل کیا گیا ہے: بکرے کا گوشت 1500 روپے، گائے کا گوشت 800 روپے فی کلو، دہی 150 روپے، دودھ 140 روپے فی لیٹر، برف 15 روپے فی کلو، جبکہ تندوری روٹی (100 گرام) 12 روپے، خمیری روٹی 14 روپے اور نان سادہ 15 روپے میں فروخت کی جائے گی۔

    بناسپتی گھی اور کوکنگ آئل کمپنی کے مقررہ نرخ پر فروخت ہوں گے جبکہ آٹا (10 اور 20 کلو تھیلے) حکومتی پالیسی کے مطابق دستیاب ہوگا۔ سبزی، پھل، مرغی، گوشت اور انڈوں کے نرخ روزانہ کی بنیاد پر محکمہ لائیوسٹاک کی مشاورت سے سیکرٹری مارکیٹ کمیٹی مقرر کرے گا۔