Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • دربار حضرت پیر عادل سرکار کی مرمت جلد شروع، محکمہ اوقاف کی یقین دہانی

    دربار حضرت پیر عادل سرکار کی مرمت جلد شروع، محکمہ اوقاف کی یقین دہانی

    پیر عادل ،باغی ٹی وی( نامہ نگار باسط علی)علاقہ پیر عادل اور دربارِ عالیہ حضرت سلطان سید غیاث الدین عرف "پیر عادل سرکار” کے عقیدت مندوں کے لیے بڑی خوشخبری آ گئی ہے۔ دربار کی مرمت کا دیرینہ اور اہم مسئلہ بالآخر حل کے قریب پہنچ گیا ہے۔ سجادہ نشین دربار سید نادر امام کاظمی اور سید شہریار عباس کاظمی کی مسلسل کوششیں رنگ لے آئیں، جن کی جانب سے بار بار توجہ دلانے پر محکمہ اوقاف نے پیش رفت کرتے ہوئے اپنا افسر بھیج دیا، جس نے مرمتی کام جلد شروع کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    ذرائع کے مطابق دربار کی مرمت کے حوالے سے تمام محکمانہ اور کاغذی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں اور اب جلد ہی عملی کام کا آغاز متوقع ہے۔ اس موقع پر کاظمی سادات برادری نے قومی اسمبلی کے رکن ایم این اے سردار عبدالقادر خان کھوسہ اور صوبائی اسمبلی کے رکن ایم پی اے سردار صلاح الدین خان کھوسہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے دربار کی تاریخی و ثقافتی اہمیت کو سمجھتے ہوئے چیئرمین یونین کونسل پیرعادل کی درخواست پر نہ صرف دربار کا دورہ کیا بلکہ محکمہ اوقاف کے اعلیٰ حکام پر دباؤ ڈالا کہ دربار کی مرمت کو اولین ترجیح دی جائے۔

    سید نادر امام کاظمی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ دربار نہ صرف اہلِ علاقہ کے لیے روحانی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ یہ خطے کا قیمتی ثقافتی ورثہ بھی ہے۔ ہم پر امید ہیں کہ دربار کاسرکار کے سالانہ عرس و میلہ سے قبل تمام مرمتی کام مکمل کر لیا جائے گا تاکہ زائرین کو سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

  • سیالکوٹ: ڈپٹی کمشنر صباء اصغر علی کا امتحانی مرکز کا دورہ، شفاف امتحانات پر زور

    سیالکوٹ: ڈپٹی کمشنر صباء اصغر علی کا امتحانی مرکز کا دورہ، شفاف امتحانات پر زور

    سیالکوٹ (بیوروچیف باغی ٹی وی، شاہد ریاض)ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صباء اصغر علی نے گوجرانوالہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے زیر اہتمام سیکنڈ ایئر کے امتحانی مرکز کا اچانک دورہ کیا۔ یہ دورہ گورنمنٹ خواجہ صفدر گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول سیالکوٹ میں قائم امتحانی مرکز پر کیا گیا، جہاں اس وقت انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات جاری ہیں۔

    دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے امتحانی عملے کی حاضری، امتحانی نظم و ضبط اور طلبہ کو فراہم کی گئی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے امتحانی عملے کو ہدایت کی کہ تمام نگران و عملہ صبح 8 بجے سے قبل لازماً امتحانی مرکز پر موجود ہو، بصورت دیگر تاخیر کرنے والے ذمہ داران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    صباء اصغر علی نے واضح الفاظ میں کہا کہ شفاف، منظم اور پر امن امتحانات کا انعقاد ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور اس عمل میں کسی قسم کی غفلت، لاپروائی یا بدانتظامی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے امتحانی ماحول کو پرسکون اور نقل سے پاک رکھنے کی بھی ہدایت دی۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تمام امتحانی مراکز کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے تاکہ طلبہ کو صاف اور منصفانہ امتحانی ماحول فراہم کیا جا سکے۔

  • مودی کا سچ پر وار،مبشر لقمان کا چینل بھارت میں بند،پاکستانی صحافیوں کا شدید ردعمل

    مودی کا سچ پر وار،مبشر لقمان کا چینل بھارت میں بند،پاکستانی صحافیوں کا شدید ردعمل

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ)بھارتی حکومت نے معروف پاکستانی صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا یوٹیوب چینل "مبشر لقمان آفیشیل” بھارت میں بند کر دیا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب مبشر لقمان نے اپنے پروگرام "کھرا سچ” میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں پہلگام واقعے کو "ڈرامہ” قرار دیتے ہوئے مودی سرکار پر براہ راست تنقید کی تھی۔

    یوٹیوب کی جانب سے مبشر لقمان کو موصول ہونے والی ای میل میں بتایا گیا کہ بھارتی حکومت کے احکامات کی روشنی میں ان کے چینل کی ویڈیوز بھارت میں بلاک کر دی گئی ہیں اور آئندہ اپلوڈ ہونے والا مواد بھی بھارتی صارفین کے لیے دستیاب نہیں ہوگا۔

    اس اقدام پر ڈیرہ غازی خان کے صحافیوں اور سماجی حلقوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار پر حملہ قرار دیا ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) ڈیرہ غازی خان کے صدر وسینئر صحافی سید ریاض جاذب، انجمن صحافیان پریس کلب کے نائب صدر منظور خان لغاری، پریس کلب ڈیرہ غازی خان کے نائب صدر چوہدری شکیل احمد، 64 نیوز میڈیا گروپ کے سی ای او عطا اللہ خان کھوسہ اور الیکٹرانک میڈیا پریس کلب کے سینئر نائب صدر غلام مصطفیٰ بڈانی نے بھارت کے اس اقدام کی سخت مذمت کی ہے۔

    صحافیوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ مودی حکومت کے یہ اوچھے ہتھکنڈے سچ کو دبانے کی ناکام کوشش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی صحافی برادری، سول سوسائٹی، تاجر طبقہ اور عام شہری اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر محاذ پر بھارت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    دوسری طرف سینئر صحافی مبشر لقمان نے اپنے ردعمل میں کہا کہ "بھارت کے ڈرامے دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں، پہلگام واقعے کے پیچھے بھی مودی سرکار خود ملوث ہے۔ پاکستان نے تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی لیکن مودی اس سے راہِ فرار اختیار کر رہا ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ "مودی انتخابی مہم کے لیے بہار تو چلا جاتا ہے لیکن کشمیر جانے کی جرات نہیں کرتا۔ اگر سچ بولنے کی سزا یوٹیوب چینل بند کرنا ہے تو ہمیں قبول ہے۔ پاکستان کے دفاع، سالمیت اور خودمختاری کے لیے ہم اپنی جان بھی قربان کرنے کو تیار ہیں۔”

  • ڈیرہ غازی خان: کوآپریٹو بینک ملازمین کا بھرتیوں پر احتجاج

    ڈیرہ غازی خان: کوآپریٹو بینک ملازمین کا بھرتیوں پر احتجاج

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی (سٹی رپورٹرجواد اکبر) پنجاب پراونشل کوآپریٹو بینک لمیٹڈ ڈیرہ غازی خان کے درجنوں ملازمین نے پرائیویٹ زونل ہیڈ کی بھرتیوں کے خلاف بھرپور احتجاج کیا ہے۔ ملازمین نے سیکرٹری اور پریذیڈنٹ کوآپریٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ ان غیر قانونی بھرتیوں کو روکا جائے۔

    تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر کی طرح پنجاب پراونشل کوآپریٹو بینک ڈیرہ غازی خان کے ملازمین نے بینک انتظامیہ کے مبینہ غیر منصفانہ فیصلے کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ احتجاج کرنے والے ملازمین کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ زونل ہیڈ کی بھرتیاں بینک کے سینئر ترین عملے کی حق تلفی کے مترادف ہیں۔

    مظاہرین نے بورڈ آف ڈائریکٹرز، پریذیڈنٹ اور سیکرٹری کوآپریٹو سے اپیل کی ہے کہ وہ مستقل اور تجربہ کار سینئر افسران کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان پرائیویٹ بھرتیوں کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور اندرونی پروموشن کمیٹی کو بحال کیا جائے۔ ملازمین کا کہنا تھا کہ پنجاب پراونشل کوآپریٹو بینک کے عملے نے ہمیشہ محنت اور لگن سے کام کیا ہے۔

    اس موقع پر ڈپٹی زونل ہیڈ آپریشن جودت کامران، ڈپٹی زونل ہیڈ غضنفر علی، ڈپٹی زونل ہیڈ عطا الرحمن بھٹی اور دیگر افسران جن میں اسامہ شہزاد، محمد خالد فرہاد، خالد، محمد سمیع، اویس عادل، سرمد شہزاد اور ابوبکر محسن بھی احتجاج میں شریک تھے۔

  • ڈی جی خان :ٹیچنگ ہسپتال کی بدانتظامی چھپادی گئی ، سب اچھا کی رپورٹ پیش

    ڈی جی خان :ٹیچنگ ہسپتال کی بدانتظامی چھپادی گئی ، سب اچھا کی رپورٹ پیش

    ڈی جی خان(باغی ٹی وی رپورٹ)ٹیچنگ ہسپتال کی بدانتظامی چھپادی گئی ہسپتال اور پرنسپل آفس کی سب اچھا کی رپورٹ

    تفصیلات کے مطابق علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازی خان کی بدانتظامی اور سہولتوں کے فقدان نے پنجاب حکومت کو ہلا کر رکھ دیا تھا لیکن ہسپتال انتظامیہ اور پرنسپل ڈی جی خان میڈیکل کالج نے اس سنگین صورتحال کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے اسپیشل مانیٹرنگ یونٹ کی آؤٹ باؤنڈ کالز کی روشنی میں جاری کردہ نوٹس (مراسلہ نمبر SO(AMI-I)5-785/2023) میں ہسپتال کی بدانتظامی اور مریضوں کی بدحالی کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے تھے۔ تاہم ہسپتال اور غازی میڈیکل کالج کی انتظامیہ نے سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ایک ایسی جواب رپورٹ پیش کی ہے جس میں سب کچھ "اچھا” دکھانے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ الزامات کو بے بنیاد اور مبالغہ آمیز قرار دیا گیا ہے۔

    یہ خبر بھی پڑھیں
    ڈی جی خان ٹیچنگ ہسپتال، تڑپتے مریض، ایم ایس کا جشن، وزیر اعلیٰ کا ایکشن، کیا اب ہو پائے گا حساب؟

    سرکاری مراسلے کے مطابق ہسپتال میں مریض بنیادی علاج کے لیے ترس رہے ہیں تشخیصی مشینیں خراب ہیں او پی ڈی اور فارمیسی پر ناقابل برداشت رش ہے اور دوائیں تک پوری نہیں ملتیں۔ سیکیورٹی گارڈز اور عملے کا رویہ غیر پیشہ ورانہ ہے جبکہ نچلے درجے کے عملے میں رشوت ستانی عام ہے۔ سینئر ڈاکٹرز کی غیر حاضری معمول بن چکی ہے اور ہسپتال کا احاطہ گندگی اور طبی فضلے سے اٹا پڑا ہے۔ ٹراما سینٹر کے داخلی راستے پر کھلے مین ہولز کسی بڑے حادثے کی دعوت دے رہے ہیں اور آوارہ کتوں کی بھرمار ہے، سب سے سنگین الزام یہ تھا کہ ڈاکٹرز مفت علاج کی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مریضوں کو نجی کلینکس پر ریفر کر کے غیر قانونی رقوم وصول کر رہے ہیں۔ ان انکشافات نے غریب مریضوں کے ساتھ صریح ناانصافی کو عیاں کیا تھا جن کے لیے یہ سرکاری ہسپتال واحد سہارا ہے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے ان ہوشربا انکشافات پر فوری ایکشن کا حکم دیتے ہوئے پرنسپل ڈی جی خان میڈیکل کالج سے 24 گھنٹوں میں تفصیلی رپورٹ اور ذمہ داران کے خلاف اقدامات کی وضاحت طلب کی تھی۔ لیکن ہسپتال غازی میڈکل کالج کی انتظامیہ کا جواب حیرت انگیز ہے۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ نوٹس میں اٹھائے گئے سوالات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور رپورٹ میں حقائق کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ یہ جواب اس وقت اور بھی سوالات اٹھاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ 25 اپریل 2025 کو جب مریض ہسپتال میں سسک رہے تھے، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر عبدالرحمن عامر قیصرانی اپنی ایک سالہ کارکردگی کا جشن منا رہے تھے۔ انہوں نے اپنے دفتر میں کیک کاٹا اور فیس بک پر اپنی "کامیابیوں” کا ڈھنڈورا پیٹا جو مریضوں کی چیخوں اور سرکاری نوٹس کی کھلی تضحیک ہے۔

    جب مریض نجی لیبارٹریوں کے رحم و کرم پر ہیں، ہسپتال کا رابطہ نمبر غیر فعال ہے اور بنیادی سہولتیں غائب ہیں تو انتظامیہ کا "سب اچھا” کا دعویٰ ناقابل یقین ہے۔ ہسپتال کی اس رپورٹ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بدانتظامی کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ مریضوں کی بدحالی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں جب پرنسپل غازی میڈیکل کالج سے مؤقف کے لیے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ لیٹر میں لگائے گئے الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہم نے اعلیٰ حکام کو رپورٹ بھجوا دی ہے۔ دوسری جانب اسپیشل مانیٹرنگ یونٹ لاہور سے ان کے لینڈ لائن نمبر پر مؤقف کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے کال وصول نہیں کی۔

    شہری حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال میں ہونے والی ان ہوشربا بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیشن بنایا جائے اور ہسپتال میں موجود ایم ایس سمیت تمام انتظامی عہدوں پر براجمان افسران کو فی الفور تبدیل کیا جائے تاکہ وہ ہونے والی شفاف تحقیقات پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔

  • تونسہ: اے ایس آئی اور کانسٹیبل کوشہید کرنیوالے، 3 ڈاکو پولیس مقابلے میں ہلاک، 2 فرار

    تونسہ: اے ایس آئی اور کانسٹیبل کوشہید کرنیوالے، 3 ڈاکو پولیس مقابلے میں ہلاک، 2 فرار

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی) تھانہ صدر تونسہ کی حدود میں سپر بند 2 کے مقام پر دوران گشت پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کی اطلاع پر ناکہ بندی کی۔ اسی دوران پانچ مسلح ملزمان دریا کی جانب سے آتے ہوئے سپر بند 2 کی طرف بڑھے اور پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ پولیس نے حفاظت خود اختیاری کے تحت پوزیشن سنبھالتے ہوئے جوابی فائرنگ کی۔ تقریباً 15 سے 16 منٹ تک جاری رہنے والے فائرنگ کے تبادلے میں تین خطرناک ڈاکو ہلاک ہو گئے۔

    ہلاک ملزمان کی شناخت رحمت اللہ عرف رانجھا سنجرانی، فہد عرف فہدی اور آصف عرف حاجی سنجرانی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ یہ تینوں تھانہ صدر تونسہ کی حدود میں اے ایس آئی غلام شبیر اور کانسٹیبل غلام فرید کو شہید کرنے میں ملوث تھے۔

    دو ملزمان اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موٹرسائیکل پر فرار ہو گئے۔ پولیس موبائل پر بھی فائرنگ کے نشانات ملے تاہم خوش قسمتی سے کوئی پولیس اہلکار زخمی نہیں ہوا۔ علاقے میں مزید سرچ آپریشن اور قانونی کارروائی جاری ہے۔

    ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سید علی نے کہا کہ اے ایس آئی غلام شبیر اور کانسٹیبل غلام فرید نے امن و امان کے قیام کے لیے مثالی خدمات انجام دیں اور ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پولیس جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھے گی۔

  • ڈی جی خان ٹیچنگ ہسپتال، تڑپتے مریض، ایم ایس کا جشن، وزیر اعلیٰ کا ایکشن، کیا اب ہو پائے گا حساب؟

    ڈی جی خان ٹیچنگ ہسپتال، تڑپتے مریض، ایم ایس کا جشن، وزیر اعلیٰ کا ایکشن، کیا اب ہو پائے گا حساب؟

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی خصوصی رپورٹ) علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازی خان میں طبی سہولیات کی سنگین زبوں حالی نے پنجاب حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ سخت نوٹس، سرکاری مراسلہ نمبر SO(AMI-I)5-785/2023 کے مطابق جہاں مریض بنیادی علاج کے لیے بھی ترس رہے ہیں، وہیں ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) اپنی ایک سالہ کارکردگی کا جشن کیک کاٹ کر منا رہے تھے۔ اس صورتحال پر سخت نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے فوری ایکشن کا حکم دے دیا ہے لیکن کیا اب ان بے بس مریضوں کا حساب ہو پائے گا جنہیں لاوارث چھوڑ دیا گیا؟

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے اسپیشل مانیٹرنگ یونٹ کی جانب سے مریضوں سے کی گئی آؤٹ باؤنڈ کالز نے ہسپتال میں بدانتظامی کی خوفناک داستانیں کھول کر رکھ دیں۔ سرکاری مراسلے نمبر SO(AMI-I)5-785/2023 میں درج سنگین انکشافات کے مطابق مریض طبی ٹیسٹوں کے لیے نجی لیبارٹریوں کے رحم و کرم پر ہیں، ہسپتال کا رابطہ نمبر غیر فعال ہے او پی ڈی اور فارمیسی پر ناقابل برداشت رش ہے اور مریضوں کو پوری دوائیں تک میسر نہیں۔


    تشخیصی مشینوں کی خرابی ایک معمول بن چکی ہے جبکہ سیکیورٹی گارڈز اور دیگرعملے کا رویہ انتہائی غیر پیشہ ورانہ اور بدتمیزی پر مبنی ہے۔ نچلے درجے کے عملے میں رشوت ستانی عام ہے اور سینئر ڈاکٹرز کی غیر حاضری پر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ہسپتال کا احاطہ گندگی سے اٹا پڑا ہے، طبی فضلہ وارڈز کے قریب پھینکا جا رہا ہے اور ٹراما سینٹر کے داخلی راستے پر کھلے مین ہولز کسی بڑے حادثے کا انتظار کر رہے ہیں۔

    سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ ڈاکٹرز مبینہ طور پر مفت علاج کی پالیسی کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے مریضوں کو اپنے نجی کلینکس پر ریفر کرتے ہیں اور غیر قانونی طور پر رقوم وصول کرتے ہیں۔ یہ ان غریب مریضوں کے ساتھ صریحاً ناانصافی ہے جن کیلئے یہ سرکاری ہسپتال واحد سہارا ہے۔

    ان ہوشربا انکشافات کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نوازشریف حرکت میں آئی ہیں اور پرنسپل ڈی جی خان میڈیکل کالج کو 24 گھنٹوں میں تفصیلی رپورٹ طلب کر لی، جس میں سرکاری مراسلے کے مطابق ذمہ داران کے خلاف کیے گئے اقدامات کی وضاحت مانگی گئی ہے۔

    دوسری جانب 25 اپریل 2025 کو جب ہسپتال میں مریض سسک رہے تھے، ایم ایس ڈاکٹر عبدالرحمن عامر قیصرانی اپنی ایک سالہ کارکردگی کا جشن منا رہے تھے۔ انہوں نے اپنے دفتر میں کیک کاٹا اور اپنی "کامیابیوں” کا ڈھنڈورا فیس بک پر پیٹا۔ ان کے دعوے مریضوں کی چیخوں اور حکومت پنجاب کے جاری کردہ سخت نوٹس (نمبر SO(AMI-I)5-785/2023) کی کھلی تضحیک ہیں۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا وزیر اعلیٰ کا یہ ایکشن محض ایک رسمی کارروائی ثابت ہوگا یا واقعی ان سنگین جرائم کے مرتکب افراد کا احتساب کیا جائے گا؟ کیا علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال کے تڑپتے مریضوں کو اس اذیت ناک صورتحال سے نجات ملے گی؟ کیا اس غفلت اور بے حسی کا حساب ہو پائے گا جس نے ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں مریضوں کوموت کے دہانے پر پہنچا دیا ہے؟ جواب کا انتظار ہے۔

  • وفاقی محتسب اعجاز قریشی 30 اپریل کو ڈیرہ غازی خان کا دورہ کریں گے

    وفاقی محتسب اعجاز قریشی 30 اپریل کو ڈیرہ غازی خان کا دورہ کریں گے

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ)وفاقی محتسب پاکستان اعجاز احمد قریشی 30 اپریل کو ڈیرہ غازی خان کا دورہ کریں گے۔ریجنل ہیڈ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ ڈیرہ غازی خان ڈاکٹر محمد زاہد کی جانب سے جاری کردہ مراسلے کے مطابق وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی اپنے دورے کے دوران کئی اہم سرگرمیوں میں شرکت کریں گے۔

    دورے کے دوران وہ ریجنل سیکرٹریٹ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ ڈیرہ غازی خان کا باضابطہ افتتاح کریں گے۔ اس موقع پر افتتاحی تقریب میں مختلف سرکاری محکموں کے اعلیٰ افسران، سول سوسائٹی کے نمائندے، وکلاء، میڈیا نمائندگان اور عوامی شخصیات شریک ہوں گی۔
    افتتاح کے بعد اعجاز احمد قریشی ای-خدمت مرکز کا بھی دورہ کریں گے جہاں انہیں شہریوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات، سروسز کی فراہمی کے معیار اور مختلف محکموں کے ساتھ عوام کی شکایات کے ازالے کے عمل کے بارے میں بریفنگ دی جائے گی۔

    وفاقی محتسب اپنے دورے کے دوران ڈیرہ غازی خان کے مختلف محکموں کے سربراہان کے ساتھ اجلاس کی صدارت بھی کریں گے۔ اجلاس میں وفاقی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا اور عوامی شکایات کے فوری ازالے، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی خدمت کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے ہدایات جاری کی جائیں گی۔

    اس موقع پر وفاقی محتسب پاکستان اعجاز احمد قریشی میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی ملاقات اور گفتگو بھی کریں گے، جس میں وہ وفاقی محتسب کے ادارے کی کارکردگی، شہریوں کو انصاف کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے اور مستقبل کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالیں گے۔

    ڈیرہ غازی خان میں وفاقی محتسب سیکرٹریٹ کے قیام اور اس کی توسیع سے شہریوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے آسان رسائی حاصل ہو گی اور بغیر کسی قانونی پیچیدگی کے فوری انصاف کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔

    عوامی حلقوں نے وفاقی محتسب پاکستان کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اُمید ظاہر کی ہے کہ اس دورے سے شہریوں کے مسائل کے حل میں مزید تیزی آئے گی اور ادارہ جاتی بہتری کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔

  • ڈیرہ غازیخان: خودکشیوں پر قابو کے لیے گندم کی گولیوں اور کالے پتھر پر پابندی عائد

    ڈیرہ غازیخان: خودکشیوں پر قابو کے لیے گندم کی گولیوں اور کالے پتھر پر پابندی عائد

    ڈیرہ غازی خان(سٹی رپورٹ جواداکبر) خودکشیوں کا سدِباب کیلئے کمشنر کا بڑا ایکشن، گندم کی گولیاں اور کالا پتھر کی خرید و فروخت پر فوری پابندی عائد

    تفصیل کے مطابق کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن اشفاق احمد چوہدری نے ایک انتہائی اہم اور فوری اقدام اٹھاتے ہوئے ضلع بھر میں گندم کی خطرناک گولیوں اور جان لیوا کالا پتھر کے رکھنے اور خرید و فروخت پر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ سخت فیصلہ علاقے میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے افسوسناک واقعات کے پیش نظر کیا گیا ہے، جہاں ان مہلک اشیاء کا استعمال نوجوانوں کی قیمتی زندگیوں کو نگل رہا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد نے اس سلسلے میں فوری طور پر دفعہ 144 نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت یہ پابندی اگلے ایک ماہ تک سختی سے نافذ العمل رہے گی۔ انتظامیہ کا یہ بروقت اور جرات مندانہ قدم میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ٹیچنگ ہسپتال اور ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت کی جانب سے موصول ہونے والی ایک تشویشناک تحریری درخواست کے بعد سامنے آیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق، ٹیچنگ ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) اور ایمرجنسی میں گندم کی گولیاں کھانے اور کالا پتھر پینے کے باعث خودکشی کرنے والے افراد کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ تشویشناک رجحان بالخصوص نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اور ان کی زندگیوں کو بے رحمی سے ختم کر رہا ہے۔

    کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور کسی کو بھی انہیں خودکشی جیسے المناک راستے پر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ اس مسئلے کی جڑ تک پہنچنے اور اس کے سدباب کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔

    اس پابندی کے نفاذ کے ساتھ ہی، ضلعی انتظامیہ نے تمام متعلقہ اداروں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ اس حکم پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس اہم اقدام میں انتظامیہ کا ساتھ دیں اور اپنے ارد گرد ایسے کسی بھی سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں۔

    یہ امید کی جاتی ہے کہ کمشنر ڈیرہ غازی خان کا یہ جاندار اور بروقت فیصلہ علاقے میں خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے میں اہم کردار ادا کرے گا اور نوجوانوں کی قیمتی جانوں کو بچانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

  • ڈیرہ غازی خان:دری میرو کے قریب لڑکی کی پراسرار موت، قتل یاخودکشی  ؟

    ڈیرہ غازی خان:دری میرو کے قریب لڑکی کی پراسرار موت، قتل یاخودکشی ؟

    ڈیرہ غازی خان,باغی ٹی وی(نیوز رپورٹرشاہدخان)دری میرو کے قریب لڑکی کی پراسرار موت، قتل یاخودکشی ؟

    ڈیرہ غازی خان کے تھانہ دراہمہ کے علاقہ دری میرو کے قریب سپر بند آر ون کے قریب ایک دلخراش اور پراسرار واقعہ رونما ہوا ہے ، جہاں بسمہ نامی 22/23 سالہ لڑکی دختر اللہ ڈتہ قوم سکھانی جاں بحق پائی گئی۔ ابتدائی طور پر اس واقعے کو خودکشی قرار دیا گیا تاہم مقامی ذرائع نے اسے قتل کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

    بسمہ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ دو مرتبہ اپنے آشنا کے ساتھ گھر سے فرار ہو چکی تھی۔ پہلی بار اسے پنچایت کے ذریعے واپس لایا گیا، جس کے بعد اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی۔ طلاق کے بعد اس کی دوسری شادی کروائی گئی لیکن وہ اس رشتے کو بھی قائم نہ رکھ سکی۔

    ذرائع کے مطابق ان حالات پر بسمہ کا بھائی جو سعودی عرب میں مقیم تھا شدید برہم تھا۔ بتایا گیا ہے کہ وہ حال ہی میں وطن واپس آیا اور بسمہ کو گھر بلا کر مبینہ طور پر گندم میں استعمال ہونے والی زہریلی گولیاں کھلائیں، جس سے اس کی موت واقع ہوئی۔ بعد ازاں وہ دوبارہ سعودی عرب فرار ہو گیا۔

    بسمہ کے والدین اور قریبی رشتہ داروں کا مؤقف ہے کہ بسمہ نے خود زہریلی گولیاں کھا کر اپنی جان لی۔ تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اسے زبردستی زہر دیا گیا جس سے وہ ہلاک ہوگئی ، جس نے اس واقعے کو مشکوک بنا دیا ہے۔

    دوسری طرف پولیس کو خفیہ اطلاع ملی کہ بسمہ کی موت کو خودکشی قرار دے کر اس کی تدفین بغیر قانونی کارروائی کے کی جا رہی ہے۔ اطلاع پر فوری ایکشن لیتے ہوئے پولیس نے لاش کو قبرستان لے جاتے وقت تحویل میں لے لیا اور فوجداری ایکٹ 174 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا۔

    ایس ایچ او تھانہ دراہمہ عدنان خلیق نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہونے کے بعد مزید قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور ہیومن ریسورسز کی مدد سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہےاور حتمی کارروائی فرانزک لیب سے موصول ہونے والی رپورٹ کی روشنی میں کی جائے گی۔