Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • ڈیرہ غازی خان ائیرپورٹ آئندہ سال کے آخر تک ائیربس 320 کیلئے اپ گریڈ ہوگا

    ڈیرہ غازی خان ائیرپورٹ آئندہ سال کے آخر تک ائیربس 320 کیلئے اپ گریڈ ہوگا

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی رپورٹ)ڈیرہ غازی خان ائیرپورٹ پر بڑی پیش رفت، آئندہ سال کے آخر تک ایئر بس 320 طیاروں کے لیے اپ گریڈ کا فیصلہ

    تفصیلات کے مطابق پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے چوتھی ای کچہری کا انعقاد کراچی میں کیا گیا، جس میں ملک بھر کے ہوائی اڈوں سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ ترجمان پی اے اے کے مطابق ای کچہری کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ ڈیرہ غازی خان ائیرپورٹ کو آئندہ سال کے آخر تک اپ گریڈ کیا جائے گا تاکہ وہ ایئربس 320 طیاروں کی آمد و رفت کے قابل ہو سکے جو اس علاقے میں فضائی سفر کی سہولیات میں نمایاں بہتری کا باعث بنے گا۔

    اس کے علاوہ پشاور ائیرپورٹ پر ائیرسائیڈ اور پارکنگ کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیاتاکہ مسافروں کو سہولت میسر آ سکے۔ ترجمان کے مطابق نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے بزنس پلان کو بھی سراہا گیاجو گوادر کو ملکی و غیر ملکی ائیرلائنز کے لیے پرکشش بناتا ہے۔

    ای کچہری میں ائیرلائنز کے عملے کے رویے اور مسافروں کے سامان کی گمشدگی سے متعلق شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ ان معاملات کی مکمل رپورٹ سول ایوی ایشن اتھارٹی کو بھجوائی جائے۔ اسی طرح لاہور ائیرپورٹ پر فرسٹ ایڈ کٹس میں ٹیٹنس کے ٹیکے شامل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی تاکہ ایمرجنسی صورت حال میں بہتر طبی سہولت میسر آ سکے۔

  • پنجاب اور کے پی کے بارڈر پر خوارجی دہشتگردوں کے خلاف بڑی کاروائی، دو ہلاک، متعدد زخمی

    پنجاب اور کے پی کے بارڈر پر خوارجی دہشتگردوں کے خلاف بڑی کاروائی، دو ہلاک، متعدد زخمی

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی رپورٹ) پنجاب اور خیبرپختونخوا کی سرحد پر واقع تھانہ وہوا کے علاقے کوتانی تل میں پولیس، سی ٹی ڈی اور رینجرز کی مشترکہ کاروائی کے دوران خوارجی دہشتگردوں سے شدید مقابلہ ہوا، جس میں دو دہشتگرد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق دہشتگردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر پٹرولنگ پر مامور پولیس، رینجرز اور سی ٹی ڈی ٹیموں نے فوری ایڈوانس کیا۔ تھانہ وہوا کے علاقے کوتانی تل میں دہشتگردوں سے آمنے سامنے ٹکراو ہوا، جن کے پاس راکٹ لانچر، ہینڈ گرنیڈ اور بھاری اسلحہ موجود تھا۔ دہشتگردوں نے شدید مزاحمت کی، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں نے دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے دو دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق جھڑپ کے دوران دہشتگرد جھاڑیوں اور ٹیلوں کی آڑ لے کر فرار ہو گئےجبکہ ایلیٹ فورس کے اہلکار عدنان حبیب اور سی ٹی ڈی اہلکار غضنفر معمولی زخمی ہوئے۔

    پولیس ترجمان کے مطابق دہشتگردوں کی نقل و حرکت کے باعث پہلے ہی علاقے میں ہائی الرٹ جاری تھا۔ اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سید علی کی قیادت میں بیک اپ ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور مشترکہ کاروائی کی قیادت کی۔

    آر پی او ڈیرہ غازی خان کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جوانوں نے جرأت و بہادری کی نئی مثال قائم کی۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے خوارجی دہشتگردوں کے خلاف کامیاب کاروائی پر پولیس، سی ٹی ڈی اور رینجرز ٹیموں کو شاباش دی۔

    پولیس ترجمان کے مطابق علاقے میں سرچ اور سویپ آپریشن بدستور جاری ہے تاکہ ممکنہ فرار ہونے والے دہشتگردوں کو بھی گرفتار یا انجام تک پہنچایا جا سکے۔

  • ڈیرہ غازیخان: ڈاکوؤں سے مقابلے میں شہید 2 اہلکاروں کی نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا

    ڈیرہ غازیخان: ڈاکوؤں سے مقابلے میں شہید 2 اہلکاروں کی نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی رپورٹ) ڈاکوؤں سے مقابلے میں شہید اے ایس آئی غلام شبیر اور کانسٹیبل غلام فرید کی نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا، اعلیٰ حکام کی شرکت

    تفصیل کے مطابق تھانہ صدر تونسہ کی حدود میں ڈاکوؤں سے مقابلے کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے اے ایس آئی غلام شبیر اور کانسٹیبل غلام فرید کی نماز جنازہ پولیس لائنز ڈیرہ غازیخان میں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔ پولیس کے چاک و چوبند دستے نے شہداء کو سلامی پیش کی، جبکہ قومی پرچم میں لپٹے جسدِ خاکی پر اعلیٰ افسران نے پھولوں کی چادر چڑھائی۔

    نماز جنازہ میں ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب محمد کامران خان، آر پی او ڈی جی خان کیپٹن (ر) سجاد حسن خان، کمشنر اشفاق احمد چوہدری، ڈی پی او سید علی، ڈپٹی کمشنر عثمان خالد، رینجرز، پولیس، انتظامیہ، بار ایسوسی ایشن، پریس کلب کے نمائندگان، سیاسی و سماجی رہنماؤں، شہریوں اور شہداء کے لواحقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر سکیورٹی اداروں کے سربراہان بھی موجود تھے۔

    ایڈیشنل آئی جی محمد کامران خان نے شہداء کے لواحقین سے ملاقات کی، ان سے اظہار تعزیت کیا اور شہداء کی قربانی کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ خون رائیگاں نہیں جائے گا، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔ آر پی او سجاد حسن خان نے شہداء کو پولیس فورس کا فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس قیامِ امن کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے، اور شہداء کے بچوں کی مکمل کفالت کی جائے گی۔

    نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد شہداء کے جسد خاکی کو مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں روانہ کیا گیا، جہاں تدفین عمل میں لائی جائے گی۔ شہید اے ایس آئی غلام شبیر نے سوگواران میں بیوی اور پانچ بچے، جبکہ شہید کانسٹیبل غلام فرید نے بیوی اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔

  • ڈیرہ غازی خان: ڈاکوؤں سے مقابلے میں پولیس کے دو اہلکار شہید

    ڈیرہ غازی خان: ڈاکوؤں سے مقابلے میں پولیس کے دو اہلکار شہید

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر: جواد اکبر)ڈیرہ غازی خان پولیس نے ایک بار پھر جانفشانی، فرض شناسی اور قربانی کی روشن مثال قائم کر دی۔ تھانہ صدر تونسہ میں تعینات اے ایس آئی غلام شبیر اور کانسٹیبل غلام فرید دری شاہ پل کے قریب ڈاکوؤں سے مقابلے کے دوران جامِ شہادت نوش کر گئے۔

    تفصیلات کے مطابق پولیس کو اطلاع موصول ہوئی کہ دری شاہ پل کے علاقے میں مسلح ڈاکو موجود ہیں۔ اطلاع ملتے ہی اے ایس آئی غلام شبیر اپنی ٹیم کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچے۔ پولیس پارٹی کے پہنچتے ہی ڈاکوؤں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں اے ایس آئی غلام شبیر اور کانسٹیبل غلام فرید نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے شہادت کا بلند مقام حاصل کیا۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سید علی، ایس ڈی پی او تونسہ، ایس ایچ او اور دیگر پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی۔

    ڈیرہ غازی خان پولیس کی جانب سے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پولیس فورس ہر لمحہ تیار ہے اور اس واقعے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • ڈیرہ غازی خان تا ملتان شٹل ٹرین ، سردار اویس لغاری اور حنیف عباسی  نے کیا افتتاح

    ڈیرہ غازی خان تا ملتان شٹل ٹرین ، سردار اویس لغاری اور حنیف عباسی نے کیا افتتاح

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی)وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے ڈیرہ غازی خان اور ملتان کے درمیان چلنے والی شٹل ٹرین کا افتتاح کر دیا۔بدھ کے روز ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن پر افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزرا نے کہا کہ شٹل ٹرین چلنے سے ملتان، ڈیرہ غازی خان سمیت جنوبی پنجاب کے دیگر شہروں کے عوام کو بہترین سفری سہولیات میسر آئیں گی۔مسلم لیگ ن کی حکومت عوامی مسائل جنگی بنیادوں پر حل کررہی ہے،ملک کی 24 کروڑ پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے،دہشت گرد بزدلانہ کارروائیوں سے ہماری ترقی کا سفر نہیں روک سکتے۔

    وزیر اعظم نے 7 روپے 41 پیسہ فی یونٹ بجلی سستی کرکے عوام کو تحفہ دیا ہے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرتوانائی سردار اویس لغاری نے کہاہے کہ آج ڈیرہ غازیخان کی عوام کے لئے بڑی خوشی کادن ہے کیونکہ یہاں پر کئی برس سے بند ریلوے سٹیشن آج دوبارہ بحال کیاجارہاہے اورریلوے سٹیشن پر موجود عوام کی بڑی تعداد اس بات کی گواہ دے رہی ہے کہ مسلم لیگ ن جب بھی برسراقتدار آئی ہے انہوں نے عوامی فلاحی منصوبوں کو ترجیحی بنیاد پر کام کیاہے ۔انہوں نے کہاکہ ایک برس قبل جب ہماری حکومت برسراقتدار آئی تو پاکستان کو بے شمار چیلنجز کا سامناتھا،ہرطرف پریشانی کاعالم تھا عوام مہنگائی بے روز گاری اوریقینی صورتحال سے پریشان تھی ۔

    انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی معاشی صورت حال غیر تسلی بخش تھی اور مہنگی بجلی کی وجہ سے عوام پریشان تھی مگر ایک سال کے اندر وزیراعظم میاں شہباز شریف کی قیادت اورمحمد نواز شریف کی رہنمائی میں پاکستان اب ترقی کاسفر شروع کرچکاہے اور وزیراعظم میاں شہباز شریف کی سب سے زیادہ توجہ مہنگائی پرقابو پاناہے ۔

    انہوں نے فیصلہ کیاہے کہ سب سے پہلے ملک کے بڑے سیٹھوں کی جیبوں پر ہاتھ ڈالا جائے اوران سے 3400ارب روپے کی وصولی کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز وزیراعظم نے 7روپے 41پیسے فی یونٹ کمی کااعلان کیاہے جس سے عوام کو ریلیف ملے گا، اس وقت 3کروڑ 30لاکھ بجلی کے صارفین ہیں جن میں سے ایک کروڑ 75لاکھ صارفین 200یونٹ سے کم یونٹ استعمال کرنے والے ہیں ان کوبھی بجلی 7روپے 41پیسے سستی ملے گی ۔

    سردار اویس لغاری نے کہاکہ جب پاکستان تحریک انصاف برسراقتدار تھی تو ڈیرہ غازیخان کی عوامی کا کوئی پرسان حال نہیں تھا اورنہ ہی یہاں پرکوئی عوامی فلاحی منصوبے شروع کئے گئے جبکہ موجودہ حکومت نے ڈیرہ غازیخان میں سردار فاروق لغاری انٹر نیشنل ایئرپورٹ کو بحال کیا،اس حوالے سے کام تیزی سے جاری ہے انڈس ہائی وے کو دورویہ کرنے اورکینسر ہسپتال کے حوالے سے بھی کام کیاجارہاہے ۔انہوں نے کہاکہ ڈیرہ غازیخان کاریلوے اسٹیشن گزشتہ کئی برس سے بند پڑاتھاآج اس کو ڈیرہ غازیخان اورملتان کے درمیان شٹل ٹرین چلا کردوبارہ بحال کیاجارہاہے ۔

    اس حوالے سے میں وزیرریلوے حنیف عباسی کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے شہر کے ریلوے سٹیشن کی رونقیں بحال کی ہیں ۔اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہاکہ میرے ڈیرہ غازیخان آنے کامقصد یہاں کے عوام میں خوشخبریاں بانٹناہے۔ آج یہاں سے شٹل ٹرین کاافتتاح کیاجارہاہے جو ڈیرہ غازی خان اورملتان کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر چلے گی اس کے علاوہ 24اپریل کو خوشحال حال خان خٹک ٹرین کو بھی بحال کیاجارہے جوکراچی سے براستہ ڈیرہ غازیخان پشاور تک جائے گی ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ریلوے کی اس سروس کوکامیاب بنانے کے لئے میں جنوبی پنجاب کے عوام سے تعاون کی درخواست کروں گا تاکہ ہم جلد یہاں سے فریٹ ٹرین کابھی آغاز کرسکیں ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ریلوے کی ترقی کاپہیہ عوام کی دلچسپی سے جڑا ہے اور توقع رکھتا ہوں وہ اس شٹل ٹرین کامیاب بنائیں گے۔

    انہوں نے کہاکہ سردار اویس خان لغاری نے مجھے حکم دیاتھاکہ ڈیرہ غازیخان کے ریلوے اسٹیشن کی رونقیں دوبارہ بحال کی جائیں تومیں نے اس پر کام شروع کردیا۔انہوں نے کہاکہ ایک شخص نے گزشتہ دور حکومت میں ملک کی نوجوان نسل کوگمراہ کرنے کی پوری کوشش کی مگرآج کانوجوان سمجھ چکاہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن ہی ملک کوبحرانوں سے نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھرپورکوشش کرکے ناراض دوست ممالک سعودی عرب ،چین ،متحدہ عرب امارات اور ترکی سمیت دیگر ممالک کو راضی کیا کیونکہ یہ دوست ممالک گزشتہ دور حکومت کے وزیراعظم کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہم سے ناراض ہوگئے تھے ۔

    حنیف عباسی نے مزیدکہاکہ ہم ریلوے ملازمین اوران کے اہلخانہ کی معیار زندگی کو بہترکرنے کے لئے بھی کام کررہے ہیں اوران ملازمین کے بچوں کو بہتر صحت اورتعلیم کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں ۔اس شٹل ٹرین کے آغاز سے ڈیرہ غازیخان اورراجن پور کی عوام لاہور ،اسلام آباد اورکراچی کاسفر ملتان ریلوے سٹیشن سے بھی شروع کرسکیں گے ۔وزیرریلوے نے کہاکہ وزیراعلیٰ پنجا ب مریم نواز اپنے صوبے کی عوام کی فلاح وبہبود کے لئے جنگی بنیادوں پرکام کر رہی ہیں آج میں ڈیرہ غازیخان سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں میں جاکر دیکھتاہوں تو مجھے محسوس ہوتاہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب اپنے صوبے میں صحت ،تعلیم ،شاہرائوں کی بہتری ،ٹرانسپورٹ کے موثر نظام سمیت دیگر منصوبوں پر بھرپورکام کررہی ہیں ۔

    حنیف عباسی نے کہاکہ میں دہشت گردوں کو یہ پیغام دینا چاہتاہوں کہ آپ کی بزدلانہ کارروائیوں سے جعفر ایکسپریس کاڈرائیور تک نہیں ڈرا تو پاک فوج کیسے آپ سے ڈر سکتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ دشمن کو پتہ ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اوروہ اپنی گھٹیا حرکتوں سے پاکستان کو کمزور کرناچاہتاہے مگر اسے یہ معلوم نہیں کہ پاکستان کے چوبیس کروڑ عوام اس کے نظریہ کے محافظ ہیں اوردشمن کومنہ توڑ جواب دینے کے لئے پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ دشمن ہماری صفوں میں دراڑتیں پیدا نہیں کرسکتا۔

    سرائیکی ،بلوچ ،سندھی پختون ،پنجابی اوراقلیتں مل کر ملک کی بہتری کے لئے کام کررہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت بلوچستان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کررہی ہے اورہم سب نے مل کر دشمن کے عزائم کوناکام بناناہے ۔قبل ازیں وفاقی وزیر سردار اویس احمد خاں لغاری اوروفاقی وزیرریلوے حنیف عباسی ڈیرہ غازیخان ریلوے اسٹیشن پہنچے تو عوام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی اورپاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے ۔

  • ڈیرہ غازیخان: موت بانٹتی ماربل انڈسٹری، ای پی اے بے حس، کب ہو گا ماحولیاتی قتل عام کا نوٹس؟

    ڈیرہ غازیخان: موت بانٹتی ماربل انڈسٹری، ای پی اے بے حس، کب ہو گا ماحولیاتی قتل عام کا نوٹس؟

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی کی خصوصی رپورٹ) ڈیرہ غازی خان میں ماربل اور گرینائٹ کی فیکٹریاں ماحولیاتی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہیں اور المیہ یہ ہے کہ پنجاب انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (EPA) اس صورتحال پر مجرمانہ حد تک غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ای پی اے ایکٹ 1997 واضح طور پر ای پی اے کو تمام صنعتی یونٹس کی باقاعدہ جانچ پڑتال، انہیں لائسنس جاری کرنے اور ماحولیاتی معیارات پر عمل درآمد یقینی بنانے کا اختیار دیتا ہے لیکن ڈیرہ غازی خان میں یہ قوانین محض کاغذ کے ٹکڑے بن کر رہ گئے ہیں۔

    حیران کن طور پر ڈیرہ غازی خان میں درجنوں ماربل فیکٹریاں ای پی اے کے رجسٹر میں سرے سے درج ہی نہیں ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ تو ان فیکٹریوں کی کوئی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے اور نہ ہی انہیں ماحول دوست ٹیکنالوجی اپنانے کا پابند بنایا جا رہا ہے۔ یہ فیکٹریاں کھلے عام ماربل کاٹنے اور پالش کرنے کے بعد خارج ہونے والے زہریلے گدلے پانی (Slurry) کو سیوریج سسٹم میں ڈال کر زیر زمین پانی کے ذخائر کو آلودہ کر رہی ہیں جو کہ ایک سنگین جرم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان فیکٹریوں سے خارج ہونے والی خطرناک دھول اور کیمیکلز علاقے کی فضا کو زہر آلود بنا رہے ہیں جس سے شہریوں کی صحت براہ راست خطرے میں ہے۔

    اس سنگین صورتحال پر مستزاد یہ کہ ای پی اے کی جانب سے علاقے میں انسپکشن کا مکمل فقدان پایا گیا ہے۔ ای پی اے کے فیلڈ آفس نے ان فیکٹریوں کی کوئی فہرست تک تیار نہیں کی، جس سے ان کی نگرانی اور قانون کے نفاذ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جب ای پی اے کے فیلڈ آفس کے فیلڈ آفیسر اشفاق احمد کی موجودگی میں ماحولیاتی انسپکٹر عدنان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب محض یہ تھا کہ جب کوئی شہری شکایات درج کراتا ہے تو ان کی نشاندہی پر کارروائی کی جاتی ہے۔ کیا ای پی اے صرف شکایات کا انتظار کرے گی جب تک کہ ماحولیاتی نظام مکمل طور پر تباہ نہ ہو جائے اور شہریوں کی زندگیاں اجیرن نہ بن جائیں؟

    شہری حلقوں نے اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ای پی اے فوری طور پر ضلع بھر میں تمام ماربل یونٹس کا ایک جامع سروے کرے اور انہیں فوری طور پر آن لائن پورٹل پر اپ لوڈ کیا جائے۔ ہر فیکٹری کی باقاعدگی سے انسپکشن کی جائے اور قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرنے والی فیکٹریوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ماحول دوست قوانین کی پاسداری کا بھی پابند بنایا جائے۔

    شہری تنظیم کے کارکنان نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماربل انڈسٹری بلاشبہ مقامی معیشت کا ایک اہم ستون ہے لیکن اس کی ترقی کسی بھی صورت میں ماحول اور عوامی صحت کی قربانی پر نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے پنجاب ای پی اے پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے نبھاتے ہوئے صنعتکاروں اور ماحول کے درمیان ایک پائیدار توازن قائم کرے ورنہ ڈیرہ غازی خان میں آلودگی کی صورتحال ناقابل تلافی حد تک خراب ہو سکتی ہے۔ کیا ای پی اے اس خاموش طوفان کو روکنے کے لیے بروقت اقدامات کرے گی یا یونہی خواب خرگوش کے مزے لیتی رہے گی؟ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور اس غفلت کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔

  • ڈیرہ غازی خان: قبائلی عوام کا خوارجی دہشت گردوں کے خلاف اعلانِ جنگ، مقامی لشکر تشکیل

    ڈیرہ غازی خان: قبائلی عوام کا خوارجی دہشت گردوں کے خلاف اعلانِ جنگ، مقامی لشکر تشکیل

    ڈیرہ غازی خان (خصوصی رپورٹ): پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سرحدی قبائلی علاقوں میں خوارجی دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے خلاف مقامی قبائل نے اعلانِ جنگ کر دیا ہے۔ قبائلی عمائدین نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کے ناپاک عزائم سے محفوظ رکھنے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور ہر سطح پر بھرپور مزاحمت کریں گے۔

    اس عزم کا اظہار باجھہ کے قبائلی علاقے میں منعقدہ ایک بڑے جرگے کے دوران کیا گیا، جس میں علاقے کے درجنوں معتبر عمائدین نے شرکت کی۔ جرگے میں یہ متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ مقامی عوام اپنی مدد آپ کے تحت اپنے علاقوں کی حفاظت کریں گے۔ اس مقصد کے لیے ایک منظم حکمت عملی کے تحت 50 افراد پر مشتمل ایک مقامی لشکر دن کے وقت گشت کرے گا جبکہ مزید 50 افراد رات کے اوقات میں پہرہ دیں گے تاکہ کسی بھی مشکوک نقل و حرکت کو فوری طور پر روکا جا سکے۔

    جرگے کے شرکاء نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خوارجی دہشت گرد گروہ علاقے میں بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث ہو چکے ہیں، جس سے عوام میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی ہے۔ عمائدین نے اعلان کیا کہ یہ لشکر نہ صرف دفاعی کردار ادا کرے گا بلکہ دہشت گردوں کے خلاف منظم مزاحمت بھی کرے گا۔

    علاقہ باجھہ کو اس کی حساس جغرافیائی حیثیت کے باعث خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان ایک اہم سرحدی پٹی پر واقع ہے۔ یہاں دہشت گرد عناصر کی موجودگی اور سرگرمیاں پورے خطے کے امن و امان کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔

    وہوا اور بستی باجھہ کے عوام نے ایک بڑے اجتماع میں شرکت کرتے ہوئے اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور دشمنوں کو پیغام دیا کہ وہ اپنی سرحدی حدود کی حفاظت کے لیے ہر دم تیار ہیں۔ عوام نے حلفاً اعلان کیا کہ وہ اپنے علاقے کے چپے چپے کی حفاظت کریں گے اور کسی بھی دہشت گرد کو داخلے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    یہ اتحاد اس وقت مزید مضبوط ہوا جب مٹھوان کے نوجوانوں کا ایک بڑا قافلہ اپنے بزرگوں کی قیادت میں مٹھوان سے باجھہ روانہ ہوا۔ اس قافلے نے باجھہ کے عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے دعائیں کیں اور عملی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    علاقائی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات کچھ دہشت گرد مسلح ہو کر بستی باجھہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، جن کا مقصد مبینہ طور پر سرکاری ملازمین کو نشانہ بنانا تھا۔ تاہم بستی کے بہادر عوام نے مثالی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہو گئے اور انہیں پسپائی پر مجبور کر دیا۔ یہ واقعہ عوام کے حوصلوں کو مزید بلند کرنے کا باعث بنا ہے اور ان کے عزم کو نئی تقویت ملی ہے۔

    قبائلی عمائدین اور عوام نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور مقامی عوام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے علاقے میں امن و امان کی بحالی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔

    یہ عوامی ردعمل اس بات کی واضح علامت ہے کہ ڈیرہ غازی خان کے سرحدی قبائل دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے متحد، پرعزم اور مکمل طور پر متحرک ہو چکے ہیں۔ ان کا یہ اقدام نہ صرف مقامی امن کے لیے سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے بلکہ پورے خطے میں استحکام کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس عوامی جذبے کو کس طرح جواب دیتی ہے اور آیا ریاستی ادارے قبائلی عوام کے اس بے مثال عزم کا ساتھ دیتے ہیں یا نہیں۔

  • ڈیرہ غازی خان: رہائشی علاقوں میں ماربل فیکٹریاں، ماحولیاتی دہشت گردی،حکام کب جاگیں گے؟

    ڈیرہ غازی خان: رہائشی علاقوں میں ماربل فیکٹریاں، ماحولیاتی دہشت گردی،حکام کب جاگیں گے؟

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی (خصوصی رپورٹ) کیا ماحولیاتی قوانین صرف کاغذ کے ٹکڑے بن کر رہ گئے ہیں؟ ڈیرہ غازی خان میں جس بے حسی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے وہ کسی المیے سے کم نہیں۔ یہاں ماربل اور گرینائٹ کی فیکٹریاں، ماحولیاتی تحفظ کے تمام تر اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، دھڑلے سے رہائشی کالونیوں کے قلب میں قائم ہیں۔ یہ فیکٹریاں صرف غیر قانونی ہی نہیں بلکہ شہریوں کی صحت اور زندگیوں کے لیے ایک واضح اور سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔

    شہریوں کی چیخیں اب بلند ہو رہی ہیں! ان فیکٹریوں سے اٹھنے والی زہریلی دھول، جو ماربل اور گرینائٹ کی پروسیسنگ کا لازمی نتیجہ ہے، فضا میں گھل کر سانس کی بیماریوں، الرجی اور نہ جانے کتنے موذی امراض کو جنم دے رہی ہے۔ بچے، بوڑھے اور جوان سب اس خاموش قاتل کی زد میں ہیں۔ کیا کسی کو ان معصوم زندگوں کی پرواہ ہے؟کیا یہ ان فیکٹریوں کی ماحولیاتی دہشت گردی نہیں ہے؟

    قوانین کا مذاق اڑایا جا رہا ہے! ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) کہاں سو رہی ہے؟ کیا ان فیکٹریوں کی نگرانی اور ان پر ماحولیاتی قوانین کا نفاذ اس قدر ناممکن ہو چکا ہے؟ ماربل فیکٹریوں میں پانی کی ری سائیکلنگ اور کیچڑ کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے فلٹر پریس ٹیکنالوجی کا استعمال لازمی ہے، لیکن بیشتر فیکٹریاں ان بنیادی اصولوں کو بھی روند رہی ہیں۔ فیکٹریوں سے نکلنے والا گدلا اور زہریلا پانی اور کیچڑ براہ راست سیوریج کے نظام میں ڈالا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف سیوریج لائنیں بند ہو رہی ہیں بلکہ زیر زمین پانی بھی آلودہ ہو رہا ہے۔ یہ ماحولیاتی دہشت گردی کب تک جاری رہے گی؟

    محکمہ تحفظ ماحولیات کو اب اپنی آنکھیں کھولنی ہوں گی! شہریوں کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر تمام ماربل فیکٹریوں کا سروے کیا جائے اور جو فیکٹریاں غیر قانونی طور پر رہائشی علاقوں میں قائم ہیں، انہیں فی الفور سیل کیا جائے۔ قانونی فیکٹریوں کو بھی سخت ترین ماحولیاتی قوانین پر عمل کرنے کا پابند بنایا جائے، ورنہ ان کے لائسنس منسوخ کر دیے جائیں۔

    یہ محض ایک مطالبہ نہیں، ایک التجا ہے! ڈیرہ غازی خان کے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ کیا کوئی صاحب اختیار اس سنگین صورتحال کا نوٹس لے گا؟ کیا ان بے بس شہریوں کو اس زہریلے ماحول سے نجات دلائی جائے گی؟ اگر اب بھی کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھایا گیا، تو اس غفلت کے نتائج نہ صرف موجودہ نسل بھگتے گی بلکہ آنے والی نسلیں بھی اس کا خمیازہ اٹھائیں گی۔ حکام ہوش کے ناخن لیں اور اس ماحولیاتی اور انسانی المیے کو فوری طور پر روکیں۔

  • خوشحال خان خٹک ایکسپریس کی بحالی ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن کے نئے دور کا آغاز

    خوشحال خان خٹک ایکسپریس کی بحالی ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن کے نئے دور کا آغاز

    خوشحال خان خٹک ایکسپریس کی بحالی ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن کے نئے دور کا آغاز
    تحریر:سیدریاض جاذب
    ڈیرہ غازی خان: کووڈ 19 کی عالمی وبا اور بڑے سیلابوں کے باعث تقریباً تین سال سے معطل خوشحال خان خٹک ایکسپریس 25 اپریل کو دوبارہ اپنے سفر کا آغاز کرے گی، اس تناظر میں ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن کی رونقیں بحال ہونے کی تیاریاں مکمل کی جارہی ہیں۔ تاہم ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن کی انتظامیہ اور ملتان آفس کے بعض افسران ریلوے اسٹیشن کی بحالی اور تزئین و آرائش کے کام میں ڈنڈی مار رہے ہیں ۔ ان کے انتظامات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے دونوں ٹرینیں شاید مستقل نہیں عارضی آزمائشی سفر پر آرہی ہوں۔ ریلوے اسٹیشن کے معاملات پہلے ہی خراب ہیں ، کرپشن کی بازگشت ماضی میں بھی رہی اور اب بھی سنائی دے رہی ہے جس میں ریلوے کے اثاثوں میں گڑ بڑ اور دیگر فراڈ کی بھی کہانیاں زبان زدعام ہیں۔ بہرحال یہ ایک اور موضوع ہے اس پر بھی قلم اٹھائیں گے ابھی اس نئی ڈویلپمنٹ پر یہ تحریر نظر قارئین ہے
    خوشحال خان خٹک ٹرین پشاور سے کراچی تک کے طویل راستے میں واقع اس تاریخی اسٹیشن کو ملک کے بڑے معاشی مراکز سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    تاریخی اہمیت اور بحالی کے اقدامات
    1969 میں قائم ہونے والا ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن ماضی میں ملک کے چاروں صوبوں کو ملاتا تھا اور مسافروں کے ساتھ ساتھ مال بردار ٹرینوں کا مصروف جنکشن تھا۔ تاہم، گزشتہ برسوں میں ٹرین سروس کی مسلسل بندش نے اسے غیر فعال بنا دیا تھا۔ اب پاکستان ریلوے کے زیرِ اہتمام اسٹیشن کی بحالی کا کام شروع ہوچکا ہے، جس کے بعد یہ نہ صرف خوشحال خان خٹک ایکسپریس بلکہ لاہور سے آنے والی "موسیٰ پاک ڈیرہ غازی خان، ملتان شٹل ٹرین” (15 اپریل سے بحال) کا بھی مرکز بنے گا۔

    ماہرین کے مطابق ٹرین سروسز کی بحالی سے نہ صرف سفری سہولیات بہتر ہوں گی بلکہ خطے کی معیشت کو بھی جِلا ملے گی۔ خصوصاً کراچی کی بندرگاہ اور پشاور کے تجارتی مراکز سے رابطہ بڑھانے سے مقامی تجارت، روزگار اور کارگو کی نقل و حمل میں اضافے کی توقعات ہیں۔ ڈیرہ غازی خان کے تاجروں کا کہنا ہے کہ ریل کے ذریعے سامان کی ترسیل سستے اور محفوظ ہوگی، جس سے کاروباری لاگت کم ہوگی۔

    مستقبل کے منصوبے کا اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ "سنٹرل ڈویلپمنٹ زون” کی جانب حکومت کے "سٹرکچر پلان 2043” کے تحت ڈیرہ غازی خان کو "سنٹرل ڈویلپمنٹ زون” (CDC) قرار دیا جائے گا، جہاں ریلوے اسٹیشن نقل و حمل اور تجارتی سرگرمیوں کا اہم محور ہوگا۔ اس منصوبے کے ساتھ ہی چلتن ایکسپریس اور اباسین ایکسپریس جیسی سروس کی بحالی پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

    شہریوں نے ٹرین سروسز کی واپسی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف روزمرہ کے سفر کو آسان بنائے گا بلکہ تعلیم، صحت اور روزگار تک رسائی بھی بہتر ہوگی۔ ایک طالب علم زاہد علی نے کہا، لاہور اور کراچی جانے کے لیے اب ہمیں بس کے ساتھ ساتھ سفر ریلوے کی سہولت بھی میسر ہوگی۔

    15 اپریل موسیٰ پاک ٹرین کا آغاز اور 25 اپریل خوشحال خان خٹک ایکسپریس کی بحالی تاریخی فیصلے ہیں۔

    ڈیرہ غازی تاریخی اسٹیشن ہے جس کا افتتاح 1969میں ہوا طویل غیر فعالیت کے بعد اس کی بحالی ایک بار پھر رابطے کا مرکز بنے گا ، تجارت، روزگار، اور کارگو میں اضافہ ہوگا۔ سب سے اہم بات یہ کہ مستقبل کے وژن کے طور پر یہ اور بھی زیادہ اہم ہے کہ ڈیرہ غازی خان کو ترقیاتی زون بنانے کی منصوبہ بندی کی جانب ایک قدم ہے ۔

    پاکستان ریلوے کے ترجمان کے مطابق "یہ اقدامات عوامی خدمت اور معاشی تعاون کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔” وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ یہ ٹرینوں کی بحالی خطے کی پرانی شان واپس لا پائے گی۔ خوشحال خان خٹک اور موسی پاک شٹل ملتان ٹو ڈیرہ غازی خان کی بحالی میں ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے ایم این اے وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور مقامی ایم پی اے محمد حنیف خان پتافی کی بھی بھرپور کوششیں شامل ہیں جوکہ ڈیرہ غازی خان کے ریلوے اسٹیشن کی بحالی کے لیے عوام کی آواز بنے ۔

  • ڈیرہ غازی خان: منشیات فروش خاتون گرفتار، 1080 گرام چرس برآمد

    ڈیرہ غازی خان: منشیات فروش خاتون گرفتار، 1080 گرام چرس برآمد

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر)سٹی پولیس کی کارروائی، منشیات فروش خاتون گرفتار، 1080 گرام چرس برآمد

    تفصیل کے مطابق شہر میں بڑھتی ہوئی وارداتوں اور بالخصوص منشیات فروشی کے ناسور کے خلاف ایس ایچ او سٹی طاہر سلیم کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے تھانہ سٹی پولیس نے اہم کارروائی کی ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں بہاری چوک کے قریب سے ایک منشیات فروش خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق گرفتار شدہ خاتون کے قبضے سے 1080 گرام چرس برآمد ہوئی ہے۔ ملزمہ کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور پولیس اس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔ ایس ایچ او سٹی طاہر سلیم نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ شہر کو منشیات کے لعنت سے پاک کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔