Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • ڈیرہ غازی خان: تجاوزات ہٹانے کے بعد خالی جگہوں کی تزئین و آرائش ہوگی

    ڈیرہ غازی خان: تجاوزات ہٹانے کے بعد خالی جگہوں کی تزئین و آرائش ہوگی

    ڈیرہ غازی خان (نیوز رپورٹر شاہد خان) حکومت پنجاب کی ہدایت پر تجاوزات آپریشن کے بعد کشادہ ہونے والے مقامات کی تزئین و آرائش کی جائے گی۔ ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے شہروں کو خوبصورت بنانے کے لیے سکیمیں طلب کر لی گئی ہیں۔ اس حوالے سے کمشنر اشفاق احمد چوہدری کی زیر صدارت دوسرے روز بھی ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنرز نے بریفنگ دی۔

    ابتدائی طور پر 18 کروڑ روپے کی 92 سکیمیں تجویز کی گئی ہیں۔ کمشنر نے کہا کہ تجاوزات آپریشن والے علاقوں کو فوکس کیا جائے۔ پارکس، چوکوں، گرین بیلٹس، میڈینز اور پاتھ ویز کو بہتر بنایا جائے۔ اسٹریٹ لائٹس کو فعال کرایا جائے اور کھیل کے گراؤنڈز کو آباد کیا جائے۔

    کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے ڈپٹی کمشنرز کو معاملات کی نگرانی کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی ہدایت پر سکیموں کی منظوری کے بعد فنڈز مختص کیے جائیں گے۔

  • ڈیرہ غازی خان: نیشنل پیس کونسل کا اجلاس، امن و امان کی صورتحال پر غور

    ڈیرہ غازی خان: نیشنل پیس کونسل کا اجلاس، امن و امان کی صورتحال پر غور

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر) ڈیرہ غازی خان میں نیشنل پیس کونسل آف پاکستان ڈیرہ غازی خان کی ایگزیکٹو باڈی کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین این پی سی پی ظفر احمد چنگوانی نے کی۔ اجلاس میں تنظیمی ڈھانچے کی تکمیل، عہدیداران کی تقریب حلف برداری، مرکزی قیادت کی آمد اور ڈیرہ غازی خان کی امن و امان کی صورتحال پر غور کیا گیا۔

    اجلاس میں حاجی عبد العزیز عمرانی، رانا حاجی نذیر، میاں عبد الرحمن بودلہ، محمد خالد چشتی اور ڈاکٹر محمود شیخ سمیت اہم عہدیداران نے شرکت کی۔ چیئرمین محمد ظفر چنگوانی نے باڈی کے عہدے جلد مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں ڈیرہ غازی خان میں فساد پھیلانے کی کوشش کرنے والوں کو ناکام بنا کر ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے جس طرح شہر کا امن بحال کیا وہ قابل تحسین عمل ہے۔ انہوں نے آر پی او ڈیرہ غازی خان، ڈی پی او ڈیرہ غازی خان اور ڈی ایس پی سٹی کو خراج تحسین پیش کیا۔

    اس موقع پر نیشنل پیس کونسل آف پاکستان کے میڈیا ڈائریکٹر ڈاکٹر محمود شیخ نے فعال اور متحرک کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ جلد شہر میں قیام امن کے سلسلے میں بھائی چارے، محبت اور امن کے فروغ پر امن واک کرکے اشتعال انگیزی اور شرپسندی پھیلانے والوں کے منصوبے ناکام بنائیں گے۔

  • ڈیرہ غازی خان: ماحول دوست زراعت پر تربیتی پروگرام مکمل، کسانوں میں اسناد تقسیم

    ڈیرہ غازی خان: ماحول دوست زراعت پر تربیتی پروگرام مکمل، کسانوں میں اسناد تقسیم

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی( نیوز رپورٹر شاہد خان) عالمی ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے زیر اہتمام ماحول دوست زراعت پر 14 روزہ عملی تربیتی پروگرام کی تکمیل پر غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں خواتین و حضرات کسان معاونین کے اعزاز میں تقریب تقسیم اسناد منعقد ہوئی۔

    تقریب میں ایف اے او کی بین الاقوامی ماہر مس نویلا کنوانڈو نے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صلاحیت کی تعمیر ایک مسلسل عمل ہے۔ ایف اے او ایک تکنیکی ادارہ ہے جو ڈیرہ غازی خان کے محققین، توسیعی کارکنان اور کسان برادری کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے زراعت اور پانی کے انتظام کے حوالے سے تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے۔

    غازی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد نے موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایف اے او اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ کوششوں سے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹا جا سکتا ہے۔

    ایف اے او کے ڈسٹرکٹ ٹریننگ ٹیم لیڈر ڈاکٹر محمد ارشد قاضی، ڈپٹی ڈائریکٹر آن فارم واٹر مینجمنٹ شاہد حسین اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹنشن غلام محمد نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے تربیتی پروگرام ماحول دوست زرعی طریقوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    تربیتی پروگرام کے دوران کسانوں اور توسیعی کارکنان کو جدید زرعی تکنیکوں، بہترین طریقوں اور موثر کاشتکاری کے طریقوں سے آگاہ کیا گیا۔ مردوں کے لیے 14 روزہ اور خواتین کے لیے 10 روزہ تربیت کے ذریعے کسانوں کو اپنی پیداوار بڑھانے اور معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے ضروری مہارتیں سکھائی گئیں۔ تربیت کاروں کو بھی جدید ترین تکنیکوں سے آگاہ کیا گیا تاکہ وہ کسانوں کو بہتر طریقے سے تربیت دے سکیں۔

    مقررین نے کہا کہ ایسے تربیتی پروگرام زرعی شعبے میں بہتری لانے اور کسانوں کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے اہم ہیں۔

  • ڈیرہ غازیخان:آر پی او کی کھلی کچہری، عوامی مسائل کے فوری حل کے احکامات

    ڈیرہ غازیخان:آر پی او کی کھلی کچہری، عوامی مسائل کے فوری حل کے احکامات

    ڈیرہ غازی خان(نیوز رپورٹرشاہدخان) آر پی او کیپٹن (ر) سجاد حسن خان کی جانب سے عوامی مسائل کے حل کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کھلی کچہری کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے، جہاں شہریوں کی شکایات سنی جا رہی ہیں اور فوری احکامات جاری کیے جا رہے ہیں۔

    کھلی کچہری میں ڈیرہ غازی خان، مظفرگڑھ، کوٹ ادو، راجن پور اور لیہ سے آئے سائلین کی درخواستوں پر سماعت کی گئی، جس کے بعد آر پی او نے متعلقہ افسران کو فوری ایکشن لینے اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے مارک کی گئی تمام درخواستوں کا مکمل فالو اپ لینے کا بھی حکم دیا۔

    آر پی او کیپٹن (ر) سجاد حسن خان کا کہنا تھا کہ کسی بھی شہری کے ساتھ زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی اور انصاف کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

  • ڈیرہ غازی خان:نگہبان رمضان،رقوم کی تقسیم میں بے ضابطگیاں، ڈیوائس ایرر سے عوام پریشان

    ڈیرہ غازی خان:نگہبان رمضان،رقوم کی تقسیم میں بے ضابطگیاں، ڈیوائس ایرر سے عوام پریشان

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی رپورٹ)’’نگہبان رمضان‘‘ کے تحت امدادی رقوم کی تقسیم میں بے ضابطگیاں، عوام مشکلات کا شکار

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں پنجاب حکومت کے ’’نگہبان رمضان‘‘ پروگرام کے تحت امدادی رقوم کی تقسیم کے عمل میں شدید بے ضابطگیاں سامنے آ رہی ہیں۔ مستحقین کو 10 ہزار روپے کے چیک تو جاری کیے جا رہے ہیں، لیکن انہیں کیش کرانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    حکومت پنجاب اعلان کے مطابق مستحق افراد کو مخصوص بینک سے چیک کیش کرانے کی ہدایت کی گئی، لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ بینک کا عملہ چیک کیش کرنے سے انکاری ہے ،شہر میں رٹیلرز کے پاس جائیں انہیں ہم ڈیوائسز دی ہوئی ہیں ،یہ چیک کی رقوم انہی ریٹیلرز سے ہی ملے گی ، جس کے باعث شہری نجی موبائل سینٹرز اور ریٹیلرز سے رقوم نکلوانے پر مجبور ہیں۔ حیران کن طور پر ان نجی سینٹرز پر 200 سے 500 روپے تک کی کٹوتی کی جا رہی ہے، جس سے عوام کو شدید مالی نقصان ہو رہا ہے۔

    دوسری طرف حکومتِ پنجاب کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’’نگہبان رمضان‘‘ کے تحت امدادی رقوم شہریوں کو ان کے گھروں کی دہلیز پر دی جائیں گی مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس نظر آ رہی ہے۔ مستحق خواتین، بزرگ اور مرد دھوپ میں گھنٹوں لمبی لائنوں میں کھڑے ہو کر اپنی عزتِ نفس مجروح کر رہے ہیں۔ انہیں بھکاریوں کی طرح لائنوں میں دھکیل دیا گیا ہے، جہاں دھکم پیل، بدنظمی اور ایجنٹ مافیا کی من مانی عروج پر ہے۔

    ڈیرہ غازی خان میں ’’نگہبان رمضان‘‘ کے مستحقین کے لیے ایک اور بڑی پریشانی بینک آف پنجاب کی ڈیوائس میں ایرر کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ اس خرابی کے باعث حکومتِ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ چیک کیش نہیں ہو پا رہے، جس سے عوام اور فرنچائزر دونوں شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔

    جب متاثرہ افراد نے فرنچائزرز سے اس بارے میں استفسار کیا کہ وہ بینک آف پنجاب کی ہیلپ لائن پر رابطہ کیوں نہیں کرتےتو انہیں جواب ملا کہ ’’ڈیوائس کے لیے کوئی ہیلپ لائن نہیں ہے، یہ خود بخود ٹھیک ہو جائے گی، لیکن یہ معلوم نہیں کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔‘‘

    ڈیرہ غازی خان کے عوامی اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور امدادی رقوم کے شفاف اور آسان طریقے سے تقسیم کو یقینی بنائیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے جلد اصلاحی اقدامات نہ کیے تو غریب اور مستحق افراد کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

  • ڈیرہ غازی خان : میڈیسن اسکینڈل،حکومتی یوٹرن، دباؤ یا پردہ پوشی؟ اصل مجرم کون؟

    ڈیرہ غازی خان : میڈیسن اسکینڈل،حکومتی یوٹرن، دباؤ یا پردہ پوشی؟ اصل مجرم کون؟

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ)میڈیسن اسکینڈل،حکومتی یوٹرن، دباؤ یا پردہ پوشی؟ اصل مجرم کون؟

    ڈیرہ غازی خان میں سرکاری ادویات کے اسکینڈل نے محکمہ صحت اور انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ اس اسکینڈل میں روزانہ کی بنیاد پر ڈرامائی تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ پہلے چھوٹے ملازمین کو نشانہ بنایا گیا مگر اب بڑے افسران پر بھی شکنجہ کسا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں اب تک چار اعلی عہدیداران کو معطل کیا جا چکا ہے، جن میں سی ای او ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر ادریس لغاری، ڈرگ کنٹرولر فیصل محمود، سیکرٹری ڈسٹرکٹ کوالٹی بورڈ آصف عباس اور ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر تحسین شامل ہیں۔ حیرت انگیز طور پر معطلی کی اصل وجہ کرپشن یا میڈیسن چوری نہیں بلکہ حکومت کو غلط معلومات فراہم کرنا بتائی جا رہی ہے۔ یہ پہلو خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ اگر افسران کرپشن میں ملوث نہیں تو انہیں کیوں ہٹایا گیا؟

    تحقیقات کے آغاز میں ڈرگ کنٹرولر فیصل محمود کو اطلاع ملی کہ جنرل بس اسٹینڈ ڈیرہ غازی خان سے سرکاری چوری شدہ ادویات مختلف شہروں میں بھیجی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے بندوں کو نگرانی پر لگا دیا اور 29 جنوری کو ایک شخص کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا، جس نے انکشاف کیا کہ یہ ادویات ڈی ایچ او آفس کے ملازم پرویز اختر نے فراہم کی ہیں۔ دونوں کو ادویات سمیت تھانہ گدائی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں بھاری مقدار میں چوری شدہ ادویات برآمد ہوئیں۔ چوکی انچارج لاری اڈہ، تھانہ گدائی نے پریس کانفرنس کر کے معاملے کو ہائی لیول تک پہنچا دیا۔ اس انکشاف پر میڈیسن مافیا کے سرپرست متحرک ہو گئے۔ معاملہ دبانے کے لیے چوکی انچارج کو رشوت کی بھاری پیشکش کی گئی لیکن اس نے آفر مسترد کر دی۔ بعد ازاں ایف آئی آر میں ادویات کی بڑی مقدار کو نظر انداز کر کے محض چند سیرپ درج کیے گئے۔ اس طرح بااثر افراد نے چالاکی سے گرفتاریوں کو جوڈیشل کروا کر تفتیش رکوا دی۔

    یہ بھی پڑھیں
    ڈیرہ غازی خان :ادویات اسکینڈل، معطلیوں کی گونج، بڑی مچھلیاں محفوظ؟
    ڈیرہ غازی خان: ڈیڑھ ارب سے زائد کی ادویات کا چوری اسکینڈل، محکمہ صحت کے ذمہ دار ہی لٹیرے نکلے
    ڈیرہ غازی خان: پولیس چوکی لاری اڈہ کی کارروائی، 1 کروڑ روپے مالیت کی چوری شدہ سرکاری ادویات برآمد
    جب معاملہ سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کے علم میں آیا تو فوری طور پر کیس اینٹی کرپشن کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ لیکن اس دوران سابق ڈائریکٹر اینٹی کرپشن نے فائل دبائے رکھی اور کوئی باضابطہ انکوائری نہ ہوئی۔ موجودہ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن نے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن کے حکم پر کیس کی فائل دوبارہ کھلوائی اور ریگولر انکوائری سرکل آفیسر ملک عبدالمجید کے سپرد کی، جنہوں نے تحقیقات کو آگے بڑھایا۔ پہلے ایک سابق اور ایک موجودہ اسٹور کیپر کو گرفتار کیا گیا، پھر معتبر ذرائع کی اطلاعات پر مزید افراد کو حراست میں لے کر دیہی مرکز صحت سرور والی کے میڈیسن گودام پر چھاپہ مارا گیا۔ چھاپے کے دوران معلوم ہوا کہ ادویات انتہائی خفیہ طریقے سے چھپائی گئی تھیں۔

    اس انکشاف پر وزیر صحت پنجاب عمران نذیر کے دفتر سے بڑے نیوز چینلز پر خبر نشر کرائی گئی کہ ڈیرہ غازی خان میں 1 ارب 70 کروڑ روپے کی چوری شدہ سرکاری ادویات برآمد ہوئیں۔ اس خبر کے بعد حکومتی ایوانوں میں ہلچل مچ گئی، لیکن چند ہی گھنٹوں میں محکمہ صحت پنجاب نے یوٹرن لیتے ہوئے اپنی ہی خبر کو "فیک” قرار دے دیا اور چار افسران کی معطلی کے احکامات جاری کر دیے۔ معطلی کا جواز کرپشن، ملی بھگت، نااہلی یا کریمنل ایکٹ کو نہیں بلکہ صرف "غلط معلومات دینے” کو بنایا گیا۔

    دوسری جانب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور پولیس اپنی سطح پر تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن محکمہ صحت معاملے کو دبانے کے لیے اسے محکمانہ انکوائری تک محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ چند چھوٹے ملازمین کو قربانی کا بکرا بنا کر بڑے مگرمچھوں کو محفوظ رکھا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اسکینڈل کے تانے بانے سابق ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر اطہر سکھانی سے جا ملتے ہیں، جن کے کچھ قریبی لوگ ماضی قریب میں گرین میڈیسن کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث رہے ہیں جو سرکاری ادویات رکنی بلوچستان اور ڈیرہ غازیخان کے نواحی علاقوں قائم میڈیکل سٹوروں اور پریکٹیشنر کو بیچتے رہے ہیں۔

    اس اسکینڈل میں ایک اور بڑا تنازعہ ضبط شدہ ادویات سے جڑا ہے۔دیہی مرکزصحت سرورکے تین کمروں سے بھاری مقدار میں ادویات برآمد ہوئیں۔ محکمہ صحت پنجاب نے ابتدائی طور پر ان کی مالیت 1 ارب 70 کروڑ روپے بتائی مگر بعد میں موقف بدلا کہ یہ ادویات مختلف ڈونرز کمپنیوں اور ضلعی ہیلتھ اتھارٹی کی ملکیت تھیں، جو 15 سال سے گودام میں رکھی جا رہی تھیں۔ مزید تحقیقات کے بعد ایک اعلی سطحی ٹیم نے جس میں ڈاکٹر اطہر سکھانی بھی شامل تھے نے ریکارڈ کی جانچ کے بعد ان ادویات کو ریلیز کر دیا۔ اس عمل نے مزید شکوک و شبہات کو جنم دیا۔

    انٹی کرپشن کے سرکل آفیسر ملک عبدالمجید اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اب تک متعدد گرفتاریاں ہو چکی ہیں۔ لاہور سے علی عثمان اور ظفر جبکہ ڈیرہ غازی خان سے پرویز، اکرام اللہ، اطہر شیرانی، بشیر احمد، عامر تیمور اور سراج کو ریمانڈ پر لیا گیا ہے۔ حکام نے مزید گرفتاریوں کا عندیہ دیا ہے۔ اس سلسلے میں سی ای او ڈاکٹر ادریس لغاری کو حکومتی ہدایت پر عہدہ چھوڑنا پڑا اور ان کی جگہ راجن پور کے سی ای او ڈاکٹر عبدالکریم رمدانی کو چارج دیا گیا ہے۔

    اس پورے معاملے میں کئی بنیادی سوالات اٹھتے ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا:

    اگر یہ ادویات 15 سال سے موجود تھیں تو انہیں عوام کے علاج کے لیے استعمال کیوں نہیں کیا گیا؟
    محکمہ صحت پنجاب نے ابتدا میں ایک موقف اختیار کیا، پھر اچانک اسے کیوں بدلا؟
    ڈرگ کنٹرولر فیصل محمود، جو خود مدعی تھے، انہیں کیوں معطل کیا گیا؟
    اگر یہ اسٹاک پرانا ہے تو 15 سال سے مسلسل اس میں اضافہ کیوں ہو رہا تھا؟
    اس اسٹاک کی لاگ بک اور اسٹاک رجسٹر میں بیچ نمبر اور دیگر تفصیلات کیوں چیک نہیں کی گئیں؟
    2010، 2012، 2020 اور 2022 میں یونیسیف اور دیگر انٹرنیشنل ڈونر ایجنسیوں کی جانب سے دی گئی اربوں روپے کی میڈیسن، اعلی معیار کی چاکلیٹ، بسکٹ اور فوڈ سپلیمنٹ کیوں خفیہ گوداموں میں رکھے؟
    یہ امدادی اشیا مستحق عوام میں تقسیم کیوں نہیں کی گئیں؟
    ان تمام ادوار میں سی ای او ہیلتھ اتھارٹی اور ڈی ایچ او کون تھے؟
    کیا ان افسران سے بازپرس نہیں ہونی چاہیے؟
    کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ ادویات اور فوڈ سپلیمنٹ فروخت کے لیے رکھے گئے تھے، لیکن انہیں مارکیٹ میں فروخت کرنے کا موقع نہ مل سکا؟

    یہ اسکینڈل محکمہ صحت پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا چکا ہے۔ عوام کی نظر میں یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ آیا صحت کے شعبے میں مزید ایسے گھوٹالے چھپائے جا رہے ہیں؟ اس واقعے کے بعد حکومت کو صحت کے نظام میں انتظامی اصلاحات پر غور کرنا ہوگا۔ ادویات کی خریداری، ذخیرہ اور ان کے ریکارڈ کی نگرانی کو مزید سخت بنانے کے لیے نئے ضوابط متعارف کرانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان، پولیس چیک پوسٹ لکھانی پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام

    ڈیرہ غازی خان، پولیس چیک پوسٹ لکھانی پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام

    ڈیرہ غازی خان: 7 مارچ 2025 کی صبح سحری کے وقت دہشتگردوں نے پولیس کی چیک پوسٹ لکھانی پر حملہ کیا، جسے پولیس اہلکاروں نے بروقت اور بہادری کے ساتھ ناکام بنا دیا۔

    ڈی پی او کے مطابق دہشتگردوں نے بھاری ہتھیاروں سے پولیس چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا، تاہم پولیس کے جوانوں نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں دہشتگرد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ڈی پی او نے بتایا کہ دہشتگردوں کی جانب سے حملہ کرنے کے بعد پولیس اہلکاروں نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا اور اس حملے کو ناکام بنایا۔ پولیس کی جوابی فائرنگ سے دہشتگردوں کو پسپائی اختیار کرنی پڑی، اور وہ علاقے سے فرار ہو گئے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس کامیاب کارروائی پر ڈیرہ غازی خان پولیس کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے دہشتگردوں کا حملہ بہادری اور دلیری کے ساتھ پسپا کیا۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دہشتگردوں کے حملوں کا مقابلہ کیا اور ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ "ڈیرہ غازی خان پولیس نے نہ صرف دہشتگردوں کے حملے کا منہ توڑ جواب دیا بلکہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے ان حملوں کو پسپا کر دیا۔” انہوں نے پنجاب پولیس کے جوانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "یہ پولیس کے جوانوں کی بہادری اور جرات کا ثبوت ہے کہ وہ دہشتگردوں کے حملوں کے باوجود اپنی ذمہ داریوں کو بھرپور طریقے سے نبھاتے ہیں۔”

    بھارت میں اسرائیلی خاتون سیاح کے ساتھ اجتماعی زیادتی

    قومی سلامتی کیلئے خطرہ،امریکہ نے پاکستانی شہری کو کیا بے دخل

  • ڈیرہ غازی خان :ادویات اسکینڈل، معطلیوں کی گونج، بڑی مچھلیاں محفوظ؟

    ڈیرہ غازی خان :ادویات اسکینڈل، معطلیوں کی گونج، بڑی مچھلیاں محفوظ؟

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی رپورٹ) ڈیرہ غازی خان میں سرکاری ادویات کی چوری اور غیر قانونی فروخت کے بڑے اسکینڈل نے ہلچل مچا دی ہے۔ جہاں ایک طرف ہیلتھ اتھارٹی کے حکام کی معطلی کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، جن کی تصدیق نہیں ہوسکی وہیں دوسری طرف اس معاملے میں بڑی مچھلیوں کے بچنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اس اسکینڈل میں ملوث بڑے افسران کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چھوٹے ملازمین اکیلے اتنی بڑی کرپشن نہیں کر سکتے، انہیں لازمی طور پر سابقہ اور موجودہ بڑے افسران کی سرپرستی حاصل تھی۔ اس کے علاوہ ٹیچنگ ہسپتال کی کمزور منیجمنٹ اور مبینہ طور پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی نااہلی کے باعث علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال سے ادویات چوری کی خبریں مسلسل میڈیا کی زینت بنتی رہی ہیں، لیکن ان خبروں پر آج تک کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔

    ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ آج یا کل اس کیس میں بڑی پیشرفت متوقع ہے جبکہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور محکمہ صحت اپنی اپنی کارکردگی دکھانے میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں، تاہم آفیشل بیان جاری نہیں کیا جا رہا، جس کا سب کو انتظار ہے۔

    دریں اثنا ذرائع کے ذریعے ادھوری معلومات لیک کر کے وائرل کرنے کا سلسلہ جاری ہے، جس سے عوام میں مزید قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں۔

    یہ خبر بھی پڑھیں
    ڈیرہ غازی خان: ڈیڑھ ارب سے زائد کی ادویات کا چوری اسکینڈل، محکمہ صحت کے ذمہ دار ہی لٹیرے نکلے
    ڈی جی خان: ٹیچنگ ہسپتال,کینٹن مافیا کی لوٹ مار، عوام کی جیبوں پر ڈاکہ، انتظامیہ خاموش
    ڈیرہ غازی خان: پولیس چوکی لاری اڈہ کی کارروائی، 1 کروڑ روپے مالیت کی چوری شدہ سرکاری ادویات برآمد

    یاد رہے کہ ڈیرہ غازی خان میں سرکاری ادویات کی چوری اور غیر قانونی فروخت کا بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے، جس میں محکمہ صحت کے ایک ملازم سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ گرفتاریاں اس وقت عمل میں آئیں جب ایک سرکاری ملازم پرویز کو سرکاری ادویات پشاور اسمگل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ حکام نے لاکھوں روپے مالیت کی دوائیں برآمد کیں۔

    مقدمہ گدائی تھانے میں درج کر کے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE) اور سینئر محکمہ صحت کے افسران کو مزید تحقیقات کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔ رواں ہفتے میں ACE کے سرکل آفیسر ملک عبدالمجید اور چیف ڈرگ انسپکٹر فیصل محمود خان کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم نے سروروالی کے بنیادی مرکز صحت پر چھاپہ مارا، جہاں سے بڑی مقدار میں ادویات اور تشخیصی ٹیسٹنگ لیبارٹری (DTL) کا سامان برآمد ہوا۔ تفتیش کے دوران سروروالی ہیلتھ سینٹر کے تین اور ضلعی صحت دفتر کے دو کمروں کو سیل کر دیا گیا۔

    محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق چوری شدہ ادویات میں 1,400 کارٹن غذائی سپلیمنٹس (RUTF) شامل ہیں، جو غذائی قلت کا شکار بچوں کے لیے مختص تھیں اور ان کی مالیت تقریباً ایک ارب روپے بتائی جا رہی ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ایک منظم گروہ جس میں سرکاری صحت افسران بھی شامل ہیں، گزشتہ چھ سال سے ہسپتالوں سے دوائیں چرا کر پشاور، لاہور اور کوئٹہ میں فروخت کر رہا تھا۔ یہ گروہ ملک بھر کے مختلف ہسپتالوں اور صحت مراکز کے ملازمین کے ساتھ ساز باز کر کے ادویات حاصل کرتا رہا۔

    اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے اہم ملزمان علی عثمان اور ظفر کو لاہور جبکہ پرویز، اکرام اللہ، اطہر شیرانی، بشیر احمد، عامر تیمور اور سراج کو ڈیرہ غازی خان سے گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان کو علاقہ مجسٹریٹ محمد احسن کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں تفتیشی افسر نے 12 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے صرف 2 روزہ ریمانڈ منظور کیا اور ملزمان کو کل 8 مارچ کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔

    حکام نے عندیہ دیا ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں جبکہ ہسپتالوں میں غیر قانونی طور پر فروخت ہونے والی ادویات کے خلاف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: ڈیڑھ ارب سے زائد کی ادویات کا چوری اسکینڈل، محکمہ صحت کے ذمہ دار ہی لٹیرے نکلے

    ڈیرہ غازی خان: ڈیڑھ ارب سے زائد کی ادویات کا چوری اسکینڈل، محکمہ صحت کے ذمہ دار ہی لٹیرے نکلے

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی رپورٹ) ڈیرہ غازی خان میں سرکاری ادویات چوری اور غیر ملکی ادویات اسمگلنگ سکینڈل میں اب تک 4 ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں۔ جن میں اکرام اللہ، پرویز اختر، بشیر احمد اور امیر تیمور شامل ہیں۔ پہلا ملزم نجی شخص ہے جبکہ باقی تینوں سرکاری اہلکار ہیں جن کا تعلق محکمہ صحت سے ہے۔

    اب تک دو ایف آئی آر درج ہو چکی ہیں اور پولیس، محکمہ صحت اور اینٹی کرپشن نے تین مختلف مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اب تک ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کی ادویات برآمد ہوئی ہیں۔ دو ملزمان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں جبکہ دو ملزمان پولیس اور اینٹی کرپشن کی تحویل میں ہیں۔

    یہ سکینڈل اس وقت سامنے آیا تھا جب 29 جنوری کو چیف ڈرگ کنٹرولر فیصل محمود نے دیگر سرکاری اہلکاروں کے ساتھ لاری اڈا سے دو مشکوک افراد کو ادویات کے ساتھ پکڑا تھا۔ جن سے تفتیش جاری رہی۔ مقدمہ کی پہلے تحقیقات تھانہ گدائی کر رہا تھا بعد میں اس کیس کو اینٹی کرپشن کے حوالے سپرد کیا گیا۔

    اینٹی کرپشن نے محکمہ صحت کے ہمراہ مل کر گزشتہ روز سرور والی آر ایچ سی میں سٹور کی گئی کروڑوں روپے مالیت کی ادویات برآمد کی ہیں۔ اینٹی کرپشن اور محکمہ صحت کی کارروائی میں ایک ارب 70 کروڑ روپے مالیت کی چوری شدہ سرکاری ادویات برآمد کی گئی ہیں۔ کارروائی کے دوران تین سرکاری ملازمین سمیت متعدد ملزمان گرفتار کر لیے گئے، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔

    ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کے مطابق ڈرگ کنٹرول ٹیم نے ڈیرہ غازی خان کے سرور والی رورل ہیلتھ سینٹر پر چھاپہ مارا، جہاں سے بڑی تعداد میں سرکاری ادویات برآمد ہوئیں، جو مبینہ طور پر چوری کرکے غیر قانونی طور پر فروخت کے لیے ذخیرہ کی گئی تھیں۔ محکمہ صحت کے مطابق ان ادویات کو سرکاری ہسپتالوں کے لیے مختص کیا گیا تھا، مگر بدعنوان عناصر نے انہیں خرد برد کر لیا۔

    محکمہ صحت کے ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران تین اسٹور کیپرز کو حراست میں لے لیا گیا جو اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث تھے۔ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

    ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چٹھہ اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ڈیرہ غازی خان بشارت نبی کی ہدایت پر اینٹی کرپشن ٹیم نے بھی اس اسکینڈل میں ملوث عناصر کے خلاف بڑی کارروائی کی۔ پبلک ریلیشن آفیسر اینٹی کرپشن شمشیر خان گورمانی کے مطابق یکم مارچ 2025 کو درج مقدمہ نمبر 207/25 کے تحت اینٹی کرپشن نے ڈیرہ غازی خان میں تین مختلف مقامات پر چھاپے مارے، جہاں سے لاکھوں روپے مالیت کی گمشدہ سرکاری ادویات برآمد ہوئیں۔

    اینٹی کرپشن کی اس کارروائی کے دوران ڈرگ انسپکٹر اور سی ای او ہیلتھ بھی ٹیم کے ساتھ موجود تھے۔ برآمد شدہ ادویات کو قانون کے مطابق قبضے میں لے کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا اور متعلقہ مقامات کو سرکاری افسران کی موجودگی میں سیل کر دیا گیا۔

    اینٹی کرپشن حکام کے مطابق اس کیس کی ابتدائی تفتیش تھانہ گدائی ضلع ڈیرہ غازی خان میں درج کی گئی تھی، جسے بعد میں اینٹی کرپشن کو منتقل کر دیا گیا۔ اب تک اینٹی کرپشن کی ٹیم چار ملزمان کو گرفتار کر چکی ہے، جن میں دو سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں۔ گرفتار ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے اور مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔

    پنجاب کے وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے اس سنگین معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ادویات پر صرف غریب عوام کا حق ہے اور کسی کو ان کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ چوری میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی اور کسی بھی سطح پر بدعنوانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    محکمہ صحت اور اینٹی کرپشن حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور عوام کو ان کے حق کی ادویات کی بروقت اور شفاف فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

  • ڈیرہ غازی خان: 1.70 ارب کی چوری شدہ سرکاری ادویات برآمد

    ڈیرہ غازی خان: 1.70 ارب کی چوری شدہ سرکاری ادویات برآمد

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی رپورٹ) اینٹی کرپشن اور محکمہ صحت کی کارروائی، ایک ارب 70 کروڑ روپے مالیت کی چوری شدہ سرکاری ادویات برآمد

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں محکمہ صحت پنجاب اور اینٹی کرپشن کی مشترکہ کارروائی کے دوران ایک ارب 70 کروڑ روپے کی چوری شدہ سرکاری ادویات برآمد کر لی گئیں۔ کارروائی کے دوران تین سرکاری ملازمین سمیت متعدد ملزمان گرفتار کر لیے گئے، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔

    ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کے مطابق ڈرگ کنٹرول ٹیم نے ڈیرہ غازی خان کے سرور والی رورل ہیلتھ سینٹر پر چھاپہ مارا، جہاں سے بڑی تعداد میں سرکاری ادویات برآمد ہوئیں، جو مبینہ طور پر چوری کرکے غیر قانونی طور پر فروخت کے لیے ذخیرہ کی گئی تھیں۔ محکمہ صحت کے مطابق، ان ادویات کو سرکاری اسپتالوں کے لیے مختص کیا گیا تھا، مگر بدعنوان عناصر نے انہیں خرد برد کر لیا۔

    محکمہ صحت کے ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران تین اسٹور کیپرز کو حراست میں لے لیا گیا جو اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث تھے۔ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

    ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چٹھہ اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ڈیرہ غازی خان بشارت نبی کی ہدایت پر اینٹی کرپشن ٹیم نے بھی اس اسکینڈل میں ملوث عناصر کے خلاف بڑی کارروائی کی۔ پبلک ریلیشن آفیسر اینٹی کرپشن شمشیر خان گورمانی کے مطابق 1 مارچ 2025 کو درج مقدمہ نمبر 207/25 کے تحت اینٹی کرپشن نے ڈیرہ غازی خان میں تین مختلف مقامات پر چھاپے مارے، جہاں سے لاکھوں روپے مالیت کی گمشدہ سرکاری ادویات برآمد ہوئیں۔

    اینٹی کرپشن کی اس کارروائی کے دوران ڈرگ انسپکٹر اور سی ای او ہیلتھ بھی ٹیم کے ساتھ موجود تھے۔ برآمد شدہ ادویات کو قانون کے مطابق قبضے میں لے کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا اور متعلقہ مقامات کو سرکاری افسران کی موجودگی میں سیل کر دیا گیا۔

    اینٹی کرپشن حکام کے مطابق اس کیس کی ابتدائی تفتیش تھانہ گدائی ضلع ڈیرہ غازی خان میں درج کی گئی تھی، جسے بعد میں اینٹی کرپشن کو منتقل کر دیا گیا۔ اب تک اینٹی کرپشن کی ٹیم چار ملزمان کو گرفتار کر چکی ہے، جن میں دو سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں۔ گرفتار ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے اور مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔

    پنجاب کے وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے اس سنگین معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ادویات پر صرف غریب عوام کا حق ہے اور کسی کو ان کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ چوری میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی اور کسی بھی سطح پر بدعنوانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    محکمہ صحت اور اینٹی کرپشن حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور عوام کو ان کے حق کی ادویات کی بروقت اور شفاف فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔