گلگت پولیس نے غیرت کے نام پر سگی بہن کو فائرنگ کرکے قتل کرنے والے بھائی کو گرفتار لیا۔ایس ایس پی گلگت راجہ مرزا حسن کے حکم پر ایس ایچ او جگلوٹ کی سربراہی میں ملزم کو اس کے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کیاگیا اور ملزم کے خلاف تھانہ جگلوٹ میں مقدمہ نمبر درج کر لیا گیا ہے۔یاد رہے کہ ملزم ناصر ولی ولد حاجی دار سکنہ تانگیر ضلع دیامر حال مقیم جگلوٹ نے غیرت کے نام پر اپنی سگی بہن کو پستول سے فائر کرکے قتل کیا ہے۔ایس ایس پی گلگت راجہ مرزہ حسن صاحب نے ایس ایچ او جگلوٹ و عملہ کی اس کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے شاباش دی اور بہترین کاروائی پر کارکردگی سرٹیفکیٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔
Category: گلگت بلتستان
-

بلاول گلگت پہنچ گئے، کارکنان سے ایئر پورٹ پر خطاب کے دوران کیا بڑا اعلان
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اسکردو پہنچ گئے
صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ، سابق وزیر اعلی مہدی شاہ، اور محمد علی اختر سمیت پیپلزپارٹی کے عہدیداروں نے پیپلز پارٹی کا استقبال کیا،چیٸرمین بلاول کے استقبال کیلیے اسکردو ایٸرپورٹ پر جیالے جمع تھے،جنہوں نے جیے بھٹو کے فلک شفاف نعرے لگائے اور بلاول زرداری کا استقبال کیا،
https://twitter.com/saeedaghaPPP/status/1318862792427032576
بلاول زرداری نے کارکنان سے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت بنے گی تو عوام کا تحفظ ہو سکے گا،گلگت بلتستان کے آئینی حقوق اور عوامی مفادات کا تحفظ کروں گا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے مشن کی تکمیل کروں گا۔ پیپلز پارٹی روزگار فراہم کرنے والی جماعت ہے
بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے جمہوریت کو بحال کرنا پڑے گا،عوام کیساتھ ناانصافی ہوگی کہ ہم اس نالائق، کٹھ پتلی، سلیکٹڈ حکومت کو تسلیم کرلیں،زبردستی فیٹف سے متعلق قانون سازی کرائی گئی، عمران خان چاہتا ہے پارلیمان اس کی جلسہ گاہ بنے ،آپ کو عوام کا سمندر جواب دے گا کہ اس نالائق نے پوری قوم کا جینا حرام کردیا ہے ،عمران خان کی بوکھلاہٹ سب کے سامنے ہے،
بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان سی پیک کا گیٹ وے ہے پیپلزپارٹی امیدوارجاویدحسن کو نگرمیں الیکشن سے پہلے نااہل قراردینےکی کوشش کی جارہی ہے،اگر دھاندلی ہوئی تو گلگت بلتستان سے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کریں گے ، جمہوریت کیلیے، انصاف کیلیے ہم تین نسلوں سے قربانی دے رہے ہیں ہم نےقربانی دیدی ہےآپ کوہمارے خون کےساتھ انصاف کرنا ہوگا،عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان کے مسائل کون حل کرسکتا ہے،ہم جمہوری لوگ ہیں، مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں،
سکردو جیالے اپنے چئرمین کے استقبال کے لئے پر جوش اور پر عزم@BBhuttoZardari pic.twitter.com/oOdQwdIfm9
— PPP (@MediaCellPPP) October 21, 2020




-

علی آباد ہنزہ میں 14 افراد کی رہائی کیلئے 6 دن سے دھرنا جاری
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہنزہ کے علاقے علی آباد میں بابا جان اور انکے دیگر ساتھیوں کی رہائی کیلئے پیر کے روز سے شروع ہونے والا دھرنا آج بھی جاری ہے
علی آباد اور ہنزہ سے ملحقہ دوسرے علاقوں میں بابا جان کی رہائی کیلئے مظاہرے کئیے گئے۔ علی آباد میں جاری دھرنے سے عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماوں ، ہنزہ کے وکلاء، بابا جان کے اہل و عیال و دیگر نے خطاب کیا۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان نے اعلان کیا کہ بابا جان اور انکے ساتھیوں کو رہا نا کیا گیا تو گلگت سمیت سارے علاقے میں دھرنا شروع کیا جائیگا۔ گزشتہ روز بھی سخت سردی کے باوجود مظاہرین نے رات سڑک پر گزاری۔ مین سٹریم میڈیا میں اس عوامی احتجاج کی کوئی کوریج نہیں کی جارہی۔
علی آباد ہنزہ میں یہ دھرنا گزشتہ چھ دنوں سے جاری ہے اور اسے ہنزہ کی تاریخ کا سب سے بڑا دھرنا قرار دیا جارہا ہے۔
علی آباد ہنزہ دھرنے میں صوبائی وزرا کی آمد، مذاکرات جاری#FreeBabajan#FreePoliticalPrisonersOfGB pic.twitter.com/Hik69FG3QU
— Yawar Abbas (@YawarOfficial) October 10, 2020
ہنزہ کے عوام مطالبہ کرتے ہیں، بے گناہ بھائیوں کو رہا کریں، ہم میں مزید سہنے کی ہمت نہیں، گلستان رانی اسیر شکر اللہ کی بہن نے کہا کہ ہم دھرنے میں ہیں، دس سالوں سے چودہ بھائی اسیران ہنزہ کے نام سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہیں،میرے بھائی کو قید کیا گیا، میری چھوٹی بہن جو فرسٹ ایئر کی سٹوڈنٹ تھی ،سات مئی 2016 کو جب اس نے سنا کہ بھائی کو سزا ہوئی تو اس نے خود کشی کی کوشش کی،اسیران کے گھر کے بہت زیادہ مالی و جانی نقصان ہوئے، کچھ کے بھائی اس صدمے کو برداشت نہ کرنے کی وجہ سے اس دنیا سے چلے گئے
رہا کرو رہا سیاسی اسیران کو رہا کرو
بابا جان اور دیگر سیاسی اسیران کی رہائی کے لیے علی آباد ہنزہ میں دھرنا جاری۔ #FreeBabaJan#FreeAllPoliticalPrisonersOfGB pic.twitter.com/OQZibdn9Bn— Muhammad Mustafa (@Awulpa) October 10, 2020
#112hours turn into 6th day.
علی آباد ہنزہ دھرنا جاری#FreePoliticalPrisonersOfGB#FreeBabaJan pic.twitter.com/iObc6ia7Ic https://t.co/79CPZVtfDK— Zahoor Elahi (@zahoorhunzai) October 9, 2020
ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ کسی نے بھی سوچا کہ کہ انکا کوئی قصور ہے یا نہیں ، میرا بابا بے گناہ سزا کاٹ رہا ہے، اتنا ظلم کیوں ہو رہا ہے ہمارے ساتھ،بے قصور لوگوں کو پکڑا ہوا ہے، ملزم چھوڑ دیئے جاتے ہیں، کس گناہ میں یہ سزا کاٹ رہے ہیں، حکومتی اداروں سے درخواست کرتی ہوں کہ پلیز میری ہیلپ کریں.
-

دوران مرمت بجلی آ جانے سے محکمہ برقیات کے دو ملازمین جاں بحق
دوران مرمت بجلی آ جانے سے محکمہ برقیات کے دو ملازمین جاں بحق
گلگت علامہ اقبال ٹاؤن کے مقام پرکھمبے پر مرمتی کام کے دوران محکمہ برقیات کے دو ملازمین بلالاور ابوذر جاں بحق ہوگئے۔دونوں نوجوان گلگت علامہ اقبال ٹاؤن میں بجلی کے کھمبے پرچڑھ کر مین ٹرانسمیشن لائن پر کام کررہے تھے کہ اس دوران اچانک بجلی آن ہونے کے باعث دونوں نوجوان بجلی کی کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگئے۔ ایک نوجوان بلال ولد نوشروان کھمبے کے پول کے اوپر ہی جاں بحق ہوا جبکہ دوسرا نوجوان ابوذر ولد غلام حسین کھمبے کے پول سے گر کر شدید زخمی ہوا جسے بعد ازاں سٹی ہسپتال گلگت منتقل کیا گیا جہاں پر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ دم توڑ گئے۔ جاں بحق نوجوانوں کے ورثا نے دونوں نوجوانوں کی موت کو محکمے کے بعض ملازمین کی حد درجہ غفلت قرار دیتے ہوئے اعلی حکام کو اس واقعے پر سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ -

دیامر میں اشتہاریوں کے خلاف پولیس کا کامبنگ آپریشن جاری
گلگت۔ ضلع دیامر کے مختلف مقامات میں اشتہاریوں کے خلاف پولیس کامبنگ آپریشن کا سلسلہ جاری ۔ایس پی دیامیر شیرخان کی قیادت میں ایس ایچ او داریل اور اس کی ٹیم نے سپیشل برانچ کی خفیہ اطلاع پر چھائے مار کر مزید چار مجرمان اشتہاریوں کو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ داریل کو مطلوب ایف آٸی آرنمبر 14/20 دفعہ /506/337f/324/341 میں ملوث مجرمان اشتہاری حکیم خان،شیربہادر ولد مصرخان عبدالمالک ولد حکیم خان امتیاز ولد بہادر ساکنان پھوگچ داریل کو گرفتار کرکے حوالات منتقل کردیا گیا ہے۔۔رواں ہفتے کامبنگ آپریشن میں درجنوں اشتہاری گرفتار ہوچکے ہیں ۔ایس پی دیامر نے کہا کہ تمام مفرور اشتہاریوں کی گرفتاری تک اپریشن کا سلسلہ جاری رہے گا۔
-

الیکشن کمیشن نے انتخابات کا شیڈول جاری کردیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کا شیڈول جاری کردیا
گلگت بلتستان اسمبلی میں نتخابات کے لیے پولنگ 15 نومبر کو ہوگی، 25سے 30 ستمبر تک کاغذات جمع کرائے جا سکتے ہیں ،امیدواروں کی فہرست یکم اکتوبر کو شائع کی جائے گی، کاغذات کی جانچ پڑتال 7 اکتوبر کو ہوگی
الیکشن کمشن گلگت بلتستان نے الیکشن 2020 کا شیڈول جاری کر دیا۔#gbelection2020 pic.twitter.com/SkWKkumJDu
— PTI BALTISTAN Division (@pti_baltistan) September 24, 2020
کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 19 اکتوبر مقرر کی گئی ہے،امیدواروں کوانتخابی نشانات 20 اکتوبر کو الاٹ کیے جائیں گے
انتخابات سے پہلے تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں ملی بڑی سیاسی کامیابی
واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کیلئے عام انتخابات کرانے کی منظوری دی تھی، گلگت بلتستان میں عام انتخابات 15 نومبر بروز اتوار ھوں گے۔ صدر مملکت نے وزیر اعظم کی طرف سے بھیجی گئی سمری کی منظوری دی۔
گلگت بلتستان الیکشن ، بلاول زرداری کی جانب سے امیدواروں کے انٹرویو کا سلسلہ جاری
-

دیو سائی میدان کتنا بڑا ہے؟ سفر بلتستان ندیم اعوان کے قلم سے
دیو سائی میدان کتنا بڑا ہے؟ سفر بلتستان ندیم اعوان کے قلم سے
بچپن میں پریوں اور دیو کی کہانیاں پڑھا کرتے تھے۔ اندازہ تھا دیو بہت بڑی جسامت کا ہوتا ہے۔
یہ اندازہ دیو سائی کا بھی تھا کہ یہ دنیا کی چھت ہے اور بہت بڑا میدان ہے۔ مگر کتنا بڑا؟؟؟
چلم چوکی کراس کرنے کے بعد جب دیو سائی پہنچے تو سب سے پہلا سوال یہی ذھن میں آیا۔
گاڑی میں یہی موضوع شروع ہوگیا
کتنا ایکڑ ہوگا؟
سینکڑوں ایکٹر ہوگا اسی لیے تو امریکا کی اس پر نظر ہے۔
گاڑی کا میٹر دیکھیں سفر کے اختتام پر کلو میٹر نکل آئیں گے۔
مگر بھیا ہم تو ایک سیدھ میں سفر کررہے ہیں اس کا پھیلاو بھی تو بہت ہے۔
اندازہ کریں اگر اسٹیڈیم بنایا جائے سو اسٹیڈیم بن جائیں گے۔
جانے دو بھائی سو تو کچھ بھی نہیں یہ تو بہت بڑا ہےکتنا بڑا؟ اس سوال کا جواب تو گوگل چاچا سے ہی مل سکتا ہے مگر اس وقت سگنل ندارد۔
دماغ میں اٹکے سوال کے ساتھ سفر جاری تھا اور دیو سائی کا حسن آنکھوں میں سمو رہے تھے۔
سطح سمندر سے 13500 فٹ بلندی پر جہاں درخت ختم ہوجاتے ہیں اور سال کے 8 ماہ برف رہتی ہے۔ قدرت کا حسین شہکار ہے۔


یہاں کا موسم بے ایمان ہے۔ اچانک بدل جاتا ہے۔ آسمان پر تیرتے بادل مصور کائنات کی حمد بیان کرنے پر مجبور کردیتے ہیں۔اسکردو پہنچ کر سگنل کیا آئے سمجھیں جان میں جان آئی۔ موبائل پر سرچنگ شروع کی۔ دیو سائی کا رقبہ 3 ہزار مربع کلو میٹر سامنے آیا۔
اسلام آباد 220، پشاور 215، راولپنڈی 259، ملتان 286، فیصل آباد 1300، لاہور 1772 مربع کلو میٹر ہیں۔
پاکستان کاصرف ایک شہر کراچی دیو سائی سے بڑا ہے جس کا رقبہ 3780 مربع کلو میٹر ہے۔
تو ہم سمجھانے کے لیے کہ سکتے ہیں دیو سائی تقریبا کراچی کے برابر ہے۔ اب کراچی والے ذرا تخیلات میں کھو کر گلشن حدید سے یوسف گوٹھ اور کیماڑی سے سرجانی ٹاون کا سفر کریں۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، کھڈے اور بارش کے پانی سے گزر کر خود کو دیو سائی پر محسوس کریں


-

اداکارہ نائلہ جعفری کے گھر پر حملہ
گلگت میں موجود پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ نائلہ جعفری کے گھر پر مبینہ طور پر 2 افراد نے حملہ کر دیا-
باغی ٹی وی : تفصیلات کےمطابق گلگت میں موجود معروف اور سینئر اداکارہ نائلہ جعفری کے مکان پر 2 افراد نے پتھراؤ کیا اداکارہ کے مطابق ملزمان ان سے زبردستی مکان خالی کرانا چاہتے ہیں –
رپورٹس کے مطابق نائلہ جعفری نے آئی یو تھانے میں درخواست دی نائلہ کی جانب سے دی گئی درخواست کے مطابق دو افراد نے ان کو گھر خالی کرنے کے لئے دھکمیاں دیں اور ان پر حملہ کرتے ہوئے گھر کے اندر پتھراؤ بھی کیا رتاہم وہ محفوظ رہیں-
اداکارہ نے اپنی درخواست میں اپیل کی کہ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے اور حملہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے دوسری جانب آئی یو تھانے کے ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ نائلہ جعفری کی درخواست پر کارروائی شروع کردی ہے۔
ایس ایچ او نے بتایا کہ نائلہ جعفری نے اپنی درخواست میں گھر پر حملے اور پتھراؤ کا تو ذکر کیا ہے مگر کسی بھی ملزم یا ملزمان کو نامزد نہیں کیا ہے صرف حلیہ بتایا ہے۔
پاکستانی فنکا روں کا جانوروں کو اذیت پہنچانے والوں پر برہمی کا اظہار
انڈسٹری میری عمر سے دُگنے طاقتور آدمی نے مجھے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا اور یہ سلسلہ برسوں تک چلتا…
-

چلاس سی ٹی ڈی کاروائی میں نمل یونیورسٹی کا طالب علم جاں بحق، لواحقین کا لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج
چلاس سی ٹی ڈی کاروائی میں نمل یونیورسٹی کا طالب علم جاں بحق، لواحقین کا لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ رات گلگت بلتستان کے ضلع چلاس کے محلے رونئی میں سی ٹی ڈی نے ایک گھر پر چھاپہ مارا نتیجتا سی ٹی ڈی آفیسر سمیت 5 پولیس اہلکار مارے گئے جب کہ 2 سویلین بھی اس کارروائی میں جاں بحق ہوئے.سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق گھر میں مفرور دہشت گرد چھپے ہوئے تھے جب کہ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے غلط انفارمیشن کی بنیاد پر کارروائی کی ہے بوڑھی نابینا منہ کے سامنے مارا گیا جواں سال بیٹا اظہار اللہ دہشت گرد نہیں بلکہ نمل میں بین الاقوامی تعلقات کا طالب علم تھا.
سانحہ چلاس نے کئی سوالات جنم دیے ہیں. قتل کیا گیا اظہار اللہ یہ کیسا دہشت گرد تھا جس کے خلاف ابھی تک کسی تھانے میں ایف آئی آر تک نہیں تھی؟ یہ کیسی کارروائی تھی جس میں جاں بحق پولیس اہلکاروں کی لاشیں گھر کے اندر پڑی تھیں جب کہ جن مبینہ دہشت گرد طالب علم اور اس کے ساتھی کو مارنے کے لئے کارروائی کی گئی تھی ان کی لاشیں گھر سے باہر تھیں حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہونا چاہئے تھا.
سی ٹی ڈی اہلکاروں نے ضلعی پولیس کو اعتماد میں لیے بغیر باہر سے آکر اتنا بڑا آپریشن کیسے کیا ؟ کارروائی اتنی رازداری اور بھاری نفری کے ساتھ اچانک کی گئی تھی پھر گھر میں موجود صرف دو کم عمر بچوں نے پولیس کا اتنا بھاری نقصان کیسے کیا ؟ کہیں سی ٹی ڈی اہلکاروں اور دونوں سویلین کو مارنے میں کسی تیسری پارٹی کا ہاتھ تو نہیں ہے؟ کہیں دیامر میں کسی بڑے آپریشن کے لئے راہ ہموار کرنے کے لئے یہ پلانٹڈ کارروائی تو نہیں ہے؟
سانحہ چلاس میں جاں بحق طالب علم کے لواحقین نے احتجاج کیا، اس دوران مقامی افراد بھی بڑی تعداد میں سڑک پر نکل آئے اور لاش کو سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا گیا، ڈی پی او نے موقع پر پہنچ کر مذاکرات کئے تا ہم شہریوں نے اس واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے
https://twitter.com/RegnlTelegraph/status/1288008566738235392
ایک صارف کا کہنا تھا کہ سانحہ چلاس میں نمل یونیورسٹی کا طالب علم اظہار کو ناحق شہید کر کہ دہشت گردی دیکھانے کے خلاف اج رات 8 بجے ٹویٹر پر ٹرینڈ چلایا جائے گا۔تمام حق پرست خدا ترس احباب سے گزارش ہے کہ اس ٹرینڈ میں ہمارا ساتھ دیں
ضروری اعلان::
سانحہ چلاس میں نمل یونیورسٹی کا طالب علم اظہار کو ناحق شہید کر کہ دہشت گردی دیکھانے کے خلاف اج رات 8 بجے ٹویٹر پر ٹرینڈ چلایا جائے گا۔تمام حق پرست خدا ترس احباب سے گزارش ہے کہ اس ٹرینڈ میں ہمارا ساتھ دیں
واقع کی پوری تفصیل میری وال پر موجود ہے#JusticeforAzhar pic.twitter.com/WSyVB2zlKA— Roshan Din Diameri (@Rohshan_Din) July 28, 2020
ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ اظہار الحق طالب علم نمل یونیورسٹی اسلام اباد کے خلاف پورے پاکستان میں کوئی ایف آئی ار درج نہیں۔مگر چلاس میں پولیس نے رات کو گھر گھس کر شہید کر دیا۔
دیامر کی عوام اس ظلم پر خاموش نہیں رہےگی۔#چلاس_پولیس_گردی۔
اظہار الحق طالب علم نمل یونیورسٹی اسلام اباد کے خلاف پورے پاکستان میں کوئی ایف آئی ار درج نہیں۔مگر چلاس میں پولیس نے رات کو گھر گھس کر شہید کر دیا۔
دیامر کی عوام اس ظلم پر خاموش نہیں رہےگی۔#jisticeforazhar— karim (@GilgitiKarim) July 28, 2020
دوسری جانب گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے چلاس میں چھاپے کے دوران ملزمان کی جانب سے سی ٹی ڈی پولیس پر حملے کی شدید مذمت کی ہے
گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال نے حملے میں پولیس کے جوانوں کی شہادت پر رنج اور غم کا اظہار کیا اور شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور کہا کہ زخمیوں کے جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہیں ۔
گورنر گلگت بلتستان نے آئی جی پی اور چیف سکریٹری گلگت بلتستان سے وقیع کی رپورٹ طلب کی اور زخمی پولیس اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے احکامات جاری کئے ۔گورنر گلگت بلتستان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں امن و امان قائم رکھنے میں پولیس جوانوں نے بے پناہ قربانیوں دی ہیں ۔ علاقے کے لئے جان قربان کرنے والے پولیس جوانوں کو سلام اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔
-

سی ٹی ڈی اہلکاروں کی چھاپے کے دوران شہادت پر گورنر گلگت نے کی رپورٹ طلب
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے چلاس میں چھاپے کے دوران ملزمان کی جانب سے سی ٹی ڈی پولیس پر حملے کی شدید مذمت کی ہے
گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال نے حملے میں پولیس کے جوانوں کی شہادت پر رنج اور غم کا اظہار کیا اور شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور کہا کہ زخمیوں کے جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہیں ۔
گورنر گلگت بلتستان نے آئی جی پی اور چیف سکریٹری گلگت بلتستان سے وقیع کی رپورٹ طلب کی اور زخمی پولیس اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے احکامات جاری کئے ۔گورنر گلگت بلتستان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں امن و امان قائم رکھنے میں پولیس جوانوں نے بے پناہ قربانیوں دی ہیں ۔ علاقے کے لئے جان قربان کرنے والے پولیس جوانوں کو سلام اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔
واضح رہے کہ چلاس میں مفرور ملزمان کی فائرنگ سے 5 سی ٹی ڈی اہلکار شہید جبکہ 2 شہری جاں بحق ہوگئے، واقعے کے بعد ملزمان فرار ہوگئے۔
پولیس کے مطابق گھر پر چھاپہ مطلوب ملزمان کی گرفتاری کے لیے مارا گیا، پولیس ٹیم کے پہنچنے پر علاقے میں موجود ملزمان نے اہلکاروں پر فائرنگ کر دی جس سے 2 شہری اور 5 اہلکار شہید ہوگئے۔ واقعے میں 5 اہلکار زخمی بھی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
مفرور ملزمان کی فائرنگ سے شہید ہونے والے اہلکاروں میں جنید، شکیل، سہراب، اشتیاق اور غلام مرتضیٰ شامل ہیں۔ فائرنگ کے بعد ملزمان فرار ہوگئے جن کی تلاش کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ پولیس نے علاقے کا گھیراؤ کر لیا ہے،فائرنگ میں جاں بحق شہریوں کی شناخت اظہار اللہ اور بشارت کےنام سے ہوئی
ایس پی دیا مر شیر خان کا کہنا تھا کہ کارروائی رات گئے کی گئی، تحقیقات جاری ہے ،نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے آئی جی سے پولیس پارٹی پر حملے کی رپورٹ طلب کی ہے۔ میر افضل خان کا کہنا ہے کہ واقعے میں شہید پولیس کے جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں، ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے
