Baaghi TV

Category: گلگت بلتستان

  • گلگت بلتستان میں 5G کا کامیاب تجربہ، ڈیجیٹل ترقی کی نئی راہ ہموار

    گلگت بلتستان میں 5G کا کامیاب تجربہ، ڈیجیٹل ترقی کی نئی راہ ہموار

    اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) نے گلگت بلتستان میں 5G سروس کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے، جس کے بعد خطے میں تیز رفتار انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

    ایس سی او کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق گلگت بلتستان میں 5G سروس کا کامیاب تجربہ ہفتے کے روز کیا گیا۔ اس پیش رفت کو خطے میں جدید اور تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی دستیابی کی جانب اہم قدم قرار دیا گیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق 5G سروس کے آغاز سے گلگت بلتستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، ای کامرس، آن لائن تعلیم، ٹیلی میڈیسن، سیاحت اور ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ سمیت مختلف شعبوں میں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

    ایس سی او کے مطابق اس پیش رفت سے بالخصوص خطے کی نوجوان آبادی کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، جہاں تیز رفتار انٹرنیٹ کی دستیابی ڈیجیٹل شعبے سے وابستہ سرگرمیوں کے لیے نئے امکانات پیدا کرے گی۔

    گلگت بلتستان میں 5G سروس کی آزمائش کو خطے میں ڈیجیٹل رابطوں کی ترقی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ اس سے جدید تیز رفتار انٹرنیٹ ٹیکنالوجی تک رسائی کے حوالے سے خطے میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

    گلگت بلتستان میں 5G سروس کی یہ پیش رفت اس مطالبے کے بعد سامنے آئی ہے جو رواں سال ملک بھر میں 5G سروس کے آغاز کے دوران زور پکڑ گیا تھا۔

    ملک میں 5G ٹیکنالوجی کے رول آؤٹ کے وقت گلگت بلتستان کو نئی ٹیکنالوجی میں شامل کیے جانے سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اب ایس سی او کی جانب سے گلگت میں 5G سروس کا کامیاب تجربہ خطے میں جدید موبائل انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی دستیابی کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔

    ایس سی او کے اعلامیے میں خاص طور پر خطے کے نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے نئے مواقع کو اجاگر کیا گیا ہے۔

    5G سروس کی دستیابی سے آن لائن تعلیم، ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کام کرنے والوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی میسر آسکے گی۔

    اسی طرح ای کامرس، ٹیلی میڈیسن اور سیاحت کے شعبوں میں بھی جدید انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

  • گلگت بلتستان کی خواتین کوہ پیماؤں نے 7 ہزار 27 میٹر بلند اسپانٹک چوٹی سر کرلی

    گلگت بلتستان کی خواتین کوہ پیماؤں نے 7 ہزار 27 میٹر بلند اسپانٹک چوٹی سر کرلی

    گلگت بلتستان کی خواتین کوہ پیماؤں نے رومانیہ کی خاتون کوہ پیما اور پنجاب کے ایک مرد کوہ پیما کے ہمراہ بغیر ہائی آلٹی ٹیوڈ پورٹرز کی مدد کے 7 ہزار 27 میٹر بلند اسپانٹک چوٹی سر کرلی۔

    الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق مقامی خواتین کوہ پیماؤں کی ٹیم نے چوٹی سر کرنے کے بعد بحفاظت واپسی کی اور پیر کو اسکردو پہنچ گئی،کامیاب کوہ پیماؤں میں شمع باقر اور سمانہ رحیم کا تعلق شمشال وادی، زونی اسلم کا گلمت وادی گوجال اور زیبا بتول شگری کا ضلع شگر سے ہے،لاہور سے تعلق رکھنے والی بسمہ حسن بھی مہم کا حصہ تھیں تاہم طبیعت خراب ہونے کے باعث چوٹی سے قریباً 250 میٹر نیچے واپسی اختیار کرنا پڑی۔

    رومانیہ کی الیگزینڈرا ویسان نے بھی کینسر کے مرض سے نبرد آزما ہونے کے باوجود اسپانٹک چوٹی سر کی اور بحفاظت واپس پہنچیں۔ مہم کا انتظام پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف کی کمپنی براڈ بوائے ایڈونچرز نے کیا تھاپنجاب کے کوہ پیما ایان عدیل نے بھی اسپانٹک چوٹی سر کی۔

    شہروز کاشف کے مطابق ایان عدیل ہائی آلٹی ٹیوڈ پورٹر کی مدد کے بغیر چوٹی سر کرنے والے کم عمر ترین کوہ پیما بن گئے،دوسری جانب خراب موسم کے باعث اسپانٹک چوٹی پر جاں بحق ہونے والی ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت اسکردو منتقل کرنے کی کوششیں متاثر ہوئی ہیں ڈاکٹر اسما مشتاق جمعرات کو قریباً 6 ہزار 250 میٹر کی بلندی پر چوٹی سے واپسی کے دوران جاں بحق ہوئی تھیں۔

    الپائن کلب آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ایاز شگری کے مطابق 6 ہائی آلٹی ٹیوڈ پورٹرز پر مشتمل ٹیم اتوار کو کیمپ ٹو پہنچی اور کیمپ تھری کی جانب جانے کی کوشش کی، تاہم شدید بارش اور برف باری کے باعث واپس کیمپ ٹو آنا پڑا،موسم بہتر ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد ریسکیو ٹیم ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت بیس کیمپ منتقل کرنے کی دوبارہ کوشش کرے گی، جبکہ بعد ازاں پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے میت اسکردو منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔

  • 
دیامر میں سیلابی ریلوں سے تباہی، شاہراہِ قراقرم بند، مسافر پھنس گئے

    
دیامر میں سیلابی ریلوں سے تباہی، شاہراہِ قراقرم بند، مسافر پھنس گئے

    ‎چلاس: گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں گزشتہ رات مختلف وادیوں میں آنے والے شدید سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں مکانات، زرعی زمینیں، رابطہ پل، آبی گزرگاہیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ شاہراہِ قراقرم مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک کے لیے بند ہو گئی۔
    ‎مقامی پولیس کے مطابق بارشوں کے بعد اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے متعدد دیہات کو متاثر کیا، جہاں کئی مکانات کو نقصان پہنچا، درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، فصلیں تباہ ہو گئیں، پن چکیاں بہہ گئیں اور آبپاشی کے لیے استعمال ہونے والے واٹر چینلز بھی شدید متاثر ہوئے۔ مختلف علاقوں میں رابطہ پلوں کو بھی نقصان پہنچنے سے مقامی آبادی کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔
    ‎چلاس میں گورنر فارم نرسری کے قریب سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہِ قراقرم گزشتہ رات سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے۔ شاہراہ کی بندش کے نتیجے میں دونوں اطراف سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئی ہیں، جبکہ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق پھنسے ہوئے مسافروں میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں، جو کئی گھنٹوں سے شاہراہ کھلنے کے منتظر ہیں۔ مسافروں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ شاہراہِ قراقرم کو جلد از جلد بحال کیا جائے تاکہ وہ اپنی منزل کی جانب روانہ ہو سکیں۔
    ‎ضلعی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو ادارے اور دیگر متعلقہ محکمے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ حکام کے مطابق نقصانات کا مکمل تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے، جبکہ سڑکوں کی صفائی، لینڈ سلائیڈنگ کا ملبہ ہٹانے اور متاثرہ پلوں کی بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کی جا رہی ہے۔
    ‎انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ سفری ہدایات پر عمل کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور شاہراہِ قراقرم کو محفوظ قرار دیے جانے کے بعد ہی ٹریفک کے لیے کھولا جائے گا۔

  • ہنزہ میں موبائل فراڈ، فرار ہونے والے سیاح دیامر سے گرفتار

    ہنزہ میں موبائل فراڈ، فرار ہونے والے سیاح دیامر سے گرفتار

    گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ میں مبینہ موبائل فراڈ میں ملوث سیاح کو دیامر پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا۔ ملزم کے خلاف ہنزہ کے علی آباد تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

    پولیس کے مطابق ہنزہ میں دبئی موبائل شاپ کے مالک معیز نے پنجاب سے تعلق رکھنے والے سیاح محمد علی ولد محمد ایاز کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزم نے دکان سے آئی فون 14 پرو خریدا اور آن لائن ادائیگی کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے ٹرانزیکشن کا اسکرین شاٹ دکھایا، تاہم کافی انتظار کے باوجود رقم دکاندار کے اکاؤنٹ میں منتقل نہ ہوئی۔شکایت کے مطابق ملزم نے بتایا تھا کہ وہ سرینا ہوٹل ہنزہ میں مقیم ہے، لیکن جب رقم موصول نہ ہونے پر دکاندار ہوٹل پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ وہاں سے جا چکا ہے۔ ہوٹل انتظامیہ کے مطابق ملزم نے وہاں بھی ادائیگی کے لیے مبینہ طور پر جعلی اسکرین شاٹ دکھایا تھا۔دکاندار کا کہنا ہے کہ اسی دوران ایک اور متاثرہ شخص بھی سامنے آیا، جس نے دعویٰ کیا کہ اسی سیاح نے اسے بھی 75 ہزار روپے کی مبینہ آن لائن ادائیگی کا جعلی ثبوت دکھا کر دھوکہ دیا۔

    واقعے کے بعد معیز نے علی آباد تھانے میں مقدمہ درج کرا دیا اور آئی جی پولیس گلگت بلتستان سے اپیل کی کہ ملزم کو فوری گرفتار کر کے صوبے کی حدود سے باہر جانے سے روکا جائے تاکہ متاثرین کا نقصان پورا کیا جا سکے۔ادھر اطلاع ملتے ہی دیامر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ہنزہ فراڈ کیس میں ملوث سیاح کو شاہراہِ بابوسر ناران پر جل کے مقام سے گرفتار کر لیا۔ ایس پی دیامر کیپٹن (ر) شہریار خان کے مطابق ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اسے مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کیا جا رہا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا ملزم نے اسی نوعیت کی وارداتیں دیگر علاقوں میں بھی کی ہیں یا نہیں۔

  • گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے 100 روزہ پلان تیار کیا جائے، بلاول

    گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے 100 روزہ پلان تیار کیا جائے، بلاول

    گلگت: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں وزیراعلیٰ ہاؤس گلگت میں پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی سیاسی، انتظامی اور ترقیاتی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ گلگت بلتستان کے پہلے گورنر قمر زمان کائرہ اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ بھی شریک تھے، جبکہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور عہدیداران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے عہدیداران نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو حالیہ انتخابات سے متعلق اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کی اور پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں سمیت انتظامی معاملات میں بہتری کے لیے مختلف تجاویز سے آگاہ کیا۔

    اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ بند کمروں میں بیٹھنے کے بجائے عوام کے درمیان رہ کر حکومت چلائیں، عوامی مسائل کو براہِ راست سنیں اور ان کے حل کو اولین ترجیح دیں۔
    چیئرمین پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے 100 روزہ جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مقررہ مدت مکمل ہونے پر انہیں کارکردگی رپورٹ پیش کی جائے تاکہ ترقیاتی اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے۔بلاول بھٹو زرداری نے مزید ہدایت کی کہ حقِ ملکیت سے متعلق قانون سازی پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، جبکہ حقِ حاکمیت کے حوالے سے گلگت بلتستان اسمبلی کے پہلے اجلاس میں قرارداد پیش کی جائے تاکہ عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے عملی پیش رفت ممکن ہو سکے۔انہوں نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے بھی فوری گراؤنڈ ورک مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مقامی حکومتوں کا مضبوط نظام عوامی مسائل کے حل اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے ناگزیر ہے۔

    اجلاس میں گلگت بلتستان میں پارٹی کی تنظیمی فعالیت، عوامی رابطہ مہم، ترقیاتی ترجیحات اور آئندہ سیاسی حکمت عملی پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے مؤثر، شفاف اور خدمت پر مبنی طرزِ حکمرانی کو فروغ دیں۔

  • ‎غذر میں طوفانی بارشوں سے تباہی، دماس میں سیلابی ریلے گھروں اور بازاروں میں داخل

    ‎غذر میں طوفانی بارشوں سے تباہی، دماس میں سیلابی ریلے گھروں اور بازاروں میں داخل

    ‎غذر: گلگت بلتستان کے ضلع غذر کے مرکزی علاقے گاہ کوچ کے نواحی گاؤں دماس میں طوفانی بارشوں کے بعد آنے والے سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ تیز بارش کے باعث پانی آبادی، بازاروں اور زرعی علاقوں میں داخل ہوگیا، جس سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔
    ‎مقامی ذرائع کے مطابق اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے متعدد گھروں اور دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جبکہ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مقامات پر آمد و رفت بھی متاثر ہوئی۔
    ‎شدید بارشوں کے باعث کھڑی فصلوں، باغات اور زرعی زمینوں کو بھی نمایاں نقصان پہنچا ہے، جس سے مقامی کاشتکاروں کو بھاری مالی خسارے کا خدشہ ہے۔ متاثرین نے حکومت سے فوری امداد اور نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے۔
    ‎انتظامیہ اور متعلقہ اداروں نے متاثرہ علاقوں کی صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، جبکہ ممکنہ مزید بارشوں کے پیش نظر شہریوں کو احتیاط برتنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    ‎مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر بروقت حفاظتی اقدامات اور نکاسی آب کے مؤثر انتظامات نہ کیے گئے تو مزید بارشوں کی صورت میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

  • دلجیت دوسانجھ کی فلم ‘ستلج’ پر بھارت میں پابندی لگ گئی

    دلجیت دوسانجھ کی فلم ‘ستلج’ پر بھارت میں پابندی لگ گئی

    اداکار اور گلوکار دلجیت دوسانجھ کی نئی فلم ’ستلج‘ پر بھارت میں اچانک پابندی عائد کردی گئی ہے، اور اسے اسٹریمنگ پلیٹ فارم ’زی فائیو‘ سے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔

    انڈیا ٹوڈے کے مطابق فلم ’ستلج‘ کو 3 جولائی کو ریلیز کیا گیا تھا اور 5 جولائی کو اسے ہٹا دیا گیا، زی فائیو نے اس حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے فلم کو ہٹانے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی، بلکہ صرف اتنا کہا ہے کہ موجودہ حالات اور پیشرفت کو دیکھتے ہوئے فلم کو فی الحال بھارت میں روک دیا گیا ہے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ فلم بنانے والوں اور ان کی کہانی کے ساتھ کھڑے ہیں اور قانونی طریقے سے اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ فلم کو جلد سے جلد دو بارہ ناظرین کے لیے پیش کیا جا سکے زی فائیو نے فلم کو پسند کرنے پر عوام کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    اس فلم کا پرانا نام ’پنجاب 95‘ تھا اور اسے بنانے میں 3 سال سے زیادہ کا وقت لگا، جب اسے سینما میں چلانے کے لیے بھارت کے سینسر بورڈ کے پا س بھیجا گیا تو بورڈ نے فلم میں 125 سے زیادہ کٹس یعنی تبدیلیاں اور منظر ہٹانے کا مطالبہ کیا جبکہ فلم کی ٹیم نے ان تبدیلیوں کو ماننے سے انکار کر دیا، جس کی وجہ سے یہ فلم 3 سال تک سینما گھروں کی زینت نہ بن سکی بعد میں اسے انٹرنیٹ پر ریلیز کیا گیا لیکن وہاں بھی یہ زیادہ دن نہ رہ سکی۔

    فلم کے گرد گھومنے والی کہانی تنازع کی وجہ ہے یہ فلم پنجاب کے ایک انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالرا کی زندگی پر مبنی ہے، جن کا کردار دلجیت دوسانجھ نے نبھایا ہے جسونت سنگھ کھالرا نے 1980 اور 90 کی دہائی میں پنجاب میں شورش کے دوران مبینہ طور پر ہزاروں لاپتہ افراد کی لاشوں کو پولیس کی جانب سے خفیہ طور پر جلائے جانے کے معاملے کو بے نقاب کیا تھا۔

    انہوں نے اس حوالے سے ثبوت جمع کیے تھے کہ جن لوگوں کو لاپتہ ظاہر کیا گیا، انہیں خاندان والوں کو بتائے بغیر ہی جلا دیا گیا اس تحقیقات کی وجہ سے دنیا بھر کی توجہ اس معاملے پر گئی، لیکن 1995 میں جسونت سنگھ کو خود اغوا کر کے قتل کر دیا گیا، جس کے الزام میں بعد میں کئی پولیس افسران کو سزا بھی ہوئی۔

  • نو منتخب وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    نو منتخب وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    گلگت: نو منتخب وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ نے اپنے عہدے کا باقاعدہ حلف اٹھا لیا۔ حلف برداری کی تقریب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت پارٹی رہنماؤں، سرکاری حکام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

    حلف اٹھانے کے بعد اپنے خطاب میں وزیرِ اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ 7 جون کو ہونے والے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر سامنے آئی، جو عوام کے اعتماد کا واضح اظہار ہے۔انہوں نے کہا کہ 2026ء کے انتخابات میں نوجوانوں اور خواتین نے بھرپور کردار ادا کیا، جس سے جمہوری عمل مزید مضبوط ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت عوامی توقعات پر پورا اترنے، ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے اور خطے کی خوشحالی کے لیے بھرپور اقدامات کرے گی۔

    اس سے قبل چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے یادگارِ شہداء پر حاضری دی، پھول چڑھائے اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ بعد ازاں وہ حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوئے۔سیاسی مبصرین کے مطابق نئی حکومت کو گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبوں، روزگار، سیاحت کے فروغ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہوگا، جبکہ عوام نئی قیادت سے بہتر طرزِ حکمرانی اور عوامی مسائل کے حل کی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔

  • بلاول بھٹو زرداری مرکزی قیادت کے ہمراہ گلگت پہنچ گئے

    بلاول بھٹو زرداری مرکزی قیادت کے ہمراہ گلگت پہنچ گئے

    گلگت بلتستان کے نو منتخب وزیراعلیٰ امجد ایڈووکیٹ کل وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ گلگت میں منعقد ہونے والی ایک پروقار تقریب میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ حالیہ عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کا عمل تیزی سے مکمل کیا گیا، جس کے تحت وزیراعلیٰ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے مراحل کامیابی سے انجام پائے۔
    امجد ایڈووکیٹ نے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں ایوان کی اکثریت کا اعتماد حاصل کیا، جس کے بعد اب وہ باقاعدہ طور پر گلگت بلتستان کے نئے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق نئی حکومت سے عوام کو ترقیاتی منصوبوں، بہتر طرز حکمرانی اور عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے مثبت توقعات وابستہ ہیں۔
    ‎تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مرکزی قیادت کے ہمراہ گلگت پہنچ چکے ہیں۔ اس موقع پر پارٹی کے سینئر رہنما، منتخب اراکین اسمبلی، کارکنان اور مختلف سیاسی، سماجی اور سرکاری شخصیات کی بڑی تعداد کی شرکت بھی متوقع ہے۔
    ‎حکام کے مطابق تقریب کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ اور اس کے اطراف میں پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، جبکہ داخلی اور خارجی راستوں پر بھی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد کابینہ کی تشکیل، اہم انتظامی تقرریوں، ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاحی پروگراموں اور آئندہ حکومتی ترجیحات سے متعلق اہم فیصلوں کا آغاز متوقع ہے۔ اس کے علاوہ وفاق اور گلگت بلتستان حکومت کے درمیان تعاون، سیاحت، بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں بھی پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • چلاس: تھور ویلی میں کلاؤڈ برسٹ، خوفناک سیلابی ریلوں سے بڑے پیمانے پر تباہی

    چلاس: تھور ویلی میں کلاؤڈ برسٹ، خوفناک سیلابی ریلوں سے بڑے پیمانے پر تباہی

    چلاس: گلگت بلتستان کے ضلع چلاس کی تھور ویلی میں اچانک ہونے والے کلاؤڈ برسٹ کے بعد آنے والے شدید سیلابی ریلوں نے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں مکانات، باغات، فصلیں، رابطہ پل، گاڑیاں اور قیمتی سامان سیلابی پانی میں بہہ گئے۔

    پولیس حکام کے مطابق کلاؤڈ برسٹ کے فوراً بعد آنے والے سیلابی ریلوں نے اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو شدید نقصان پہنچایا۔ متاثرہ علاقوں میں متعدد رہائشی مکانات، زرعی اراضی، باغات، تیار فصلیں اور بنیادی انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا۔سیلابی پانی واپڈا کالونی میں بھی داخل ہوگیا، جس سے کالونی اور اس سے ملحقہ سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ تھور میک کے مقام پر واقع ایک مسجد بھی سیلابی ریلے کی زد میں آ گئی۔ادھر تھور شیتن کے علاقے میں وسیع پیمانے پر زرعی زمینیں اور کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ مقامی افراد کے مال مویشی، نقدی اور دیگر قیمتی سامان بھی سیلاب کی نذر ہو گئے، جس سے متاثرین کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

    پولیس کے مطابق کلاؤڈ برسٹ کے فوراً بعد ریسکیو اور بحالی کی کارروائیاں شروع کر دی گئی تھیں۔ امدادی ٹیموں کی کوششوں سے متاثرہ تھور کے دو اہم مقامات پر رابطہ سڑکیں بحال کر کے ٹریفک کی آمدورفت جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہے، جبکہ دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔