گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں کامیاب ہونے والے چار آزاد امیدواروں نے استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔
آزاد اراکین نے وفاقی وزیر عبدالعلیم خان سے ملاقات کے دوران پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ آئی پی پی میں شامل ہونے والوں میں جی بی اے 15 دیامر سے محمد دلپذیر، جی بی اے 21 غذر 3 سے امان علی، جی بی اے 23 گانچھے سے انور علی اور جی بی اے 24 گانچھے 3 سے اسد شفیق شامل ہیں۔
محمد دلپذیر نے اس موقع پر کہا کہ چاروں آزاد امیدواروں نے مشترکہ طور پر گروپ بنا کر استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا دیگر آزاد ارکان اور مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے منتخب امیدواروں سے بھی رابطہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیگر آزاد امیدواروں کو بھی آئی پی پی میں شامل ہونے کی دعوت دی جائے گی، جبکہ پارٹی گلگت بلتستان اسمبلی میں دوسری بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھرنے کا ہدف رکھتی ہے۔
Category: گلگت بلتستان
-

گلگت بلتستان کے 4 آزاد ارکان استحکام پاکستان پارٹی میں شامل
-

گلگت بلتستان کے 7 حلقوں میں انتخابی اعتراضات پر سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے 7 انتخابی حلقوں میں انتخابی اعتراضات پر سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز نے 7 حلقوں میں دائر انتخابی اعتراضات اور ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی سماعت کے بعد الیکشن کمیشن جی بی نے اپنا فیصلہ محفوط کرلیا جو آج سنائے جانے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ 7 جون کو ہونے والے انتخابات کے بعد سامنے آنے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجوں کے بعد الیکشن کمیشن نے 7 حلقوں کے نتائج روک لیے تھے، الیکشن کمیشن کی جانب سے روکے گئے غیر حتمی/ غیر سرکاری نتائج میں جی بی اے-19 غذر II میں مسلم لیگ (ن) کے عبدالجہان کامیاب قرار دیے گئے جی بی اے-19 غذر I میں پیپلز پارٹی کے سید جلال شاہ نے نشست جیتی-
اسی طرح جی بی اے-3 گلگت III میں آزاد امیدوار سہیل عباس کامیاب ہوئے، جی بی اے-10 اسکردو IV میں پیپلز پارٹی کے راجہ ناصر علی خان نے کامیابی حاصل کی ،جی بی اے-15 دیامر I سے آزاد امیدوار محمد دل پذیر فاتح قرار پائےمجی بی اے-5 نگر I میں پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد کامیاب ہوئے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے محفوظ کیے گئے فیصلوں کے اعلان کے بعد ان حلقوں کے نتائج سے متعلق حتمی صورتحال واضح ہونے کی توقع ہے۔
-

گلگت بلتستان میں حکومت سازی، پیپلز پارٹی آزاد ارکان کی حمایت حاصل کرنے کیلئے متحرک
گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے ارکان کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی آزاد امیدواروں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آئندہ چند روز میں گلگت بلتستان کا دورہ کر سکتے ہیں، جہاں وہ پارٹی رہنماؤں اور نو منتخب ارکان سے ملاقاتیں کریں گے۔ اس دوران حکومت سازی کے حوالے سے اہم مشاورت متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے بعد پیپلز پارٹی اپنی عددی برتری کو حکومت کی تشکیل میں تبدیل کرنے کے لیے سیاسی رابطے بڑھا رہی ہے۔ آزاد امیدواروں کی حمایت اس عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ کئی حلقوں میں آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔
اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ حکومت سازی سے متعلق ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم پارٹی کی کوشش ہوگی کہ آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے ارکان کو ساتھ ملا کر ایک مضبوط سیاسی اتحاد قائم کیا جائے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت درکار ہوگی اور اسی وجہ سے آزاد ارکان کی اہمیت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں بھی ان ارکان سے رابطوں میں مصروف ہیں تاکہ اپنی پوزیشن مضبوط بنا سکیں۔
واضح رہے کہ حالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت بن کر ابھری ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن)، استحکام پاکستان پارٹی اور آزاد امیدواروں نے بھی مختلف حلقوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ آئندہ چند دنوں میں حکومت سازی کے حوالے سے سیاسی منظرنامہ مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔ -

گلگت بلتستان:الیکشن کمیشن نے 5 انتخابی حلقوں کے نتائج روک دیے
الیکشن کمیشن نے گلگت بلتستان کے 5 انتخابی حلقوں کے نتائج روک دیے۔
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے پانچ انتخابی حلقوں کے نتائج روکنے کا حکم جاری کرتے ہوئے متعلقہ ریٹرننگ افسران کو حتمی نتائج جاری کرنے سے منع کر دیا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق مخصوص پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کے انعقاد تک نتائج روک دیے گئے ہیں، فیصلے کے تحت ضلع دیامر کے حلقوں جی بی اے 15، جی بی اے 16 اور جی بی اے 17 کے نتائج روک دیے گئے ہیں اسی طرح سکردو کے حلقہ جی بی اے 8 اور استور کے حلقہ جی بی اے 13 کے نتائج بھی تاحکمِ ثانی جاری نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسران کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ پوسٹل بیلٹس کی اسکروٹنی اور گنتی کا عمل بھی نہ کریں، اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
-

جے یو آئی کا گلگت بلتستان انتخابی نتائج پر تحفظات کا اظہار
جمعیت علماء اسلام (ف) نے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پارٹی رہنما عبدالغفور حیدری کا کہنا ہے کہ فارم 45 سے متعلق سامنے آنے والے معاملات انتخابی شفافیت پر سوالیہ نشان ہیں اور عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔عبدالغفور حیدری نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ جے یو آئی (ف) کے امیدوار کی واضح کامیابی کو شکست میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی، جو نہ صرف جمہوری اصولوں کے منافی ہے بلکہ ووٹرز کے اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفاف اور غیر جانبدار انتخابات ہی جمہوری نظام کی بنیاد ہیں، اور اگر انتخابی نتائج پر سوالات برقرار رہے تو عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد بحال کرنا مشکل ہو جائے گا۔
جے یو آئی (ف) کے رہنما نے مطالبہ کیا کہ انتخابی نتائج سے متعلق تمام تحفظات کو دور کرنے کے لیے متعلقہ ادارے فوری اقدامات کریں اور فارم 45 سمیت تمام انتخابی ریکارڈ کی شفاف جانچ کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے ابہام کا خاتمہ ہو سکے۔
دوسری جانب گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک 24 میں سے 18 نشستوں کے مکمل غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آ چکے ہیں، جن کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 9 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ آزاد امیدواروں نے 5 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) 3 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کے حصے میں ایک نشست آئی ہے۔
-

گلگت بلتستان انتخاب: پہلا مکمل نتیجہ، اسکردو میں پیپلز پارٹی کامیاب
گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کا پہلا مکمل غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجہ سامنے آ گیا ہے، جس کے مطابق حلقہ جی بی 7 اسکردو ون میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار توقیر مہدی شاہ کامیاب قرار پائے ہیں۔
تمام 31 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کے مطابق توقیر مہدی شاہ نے مجموعی طور پر 4337 ووٹ حاصل کیے اور اپنے مد مقابل استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار راجہ جلال حسین خان کو شکست دی۔ راجہ جلال 3891 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے۔ اس طرح پیپلز پارٹی نے انتخابات میں پہلی مکمل نشست اپنے نام کر لی ہے۔
دوسری جانب صوبے بھر سے موصول ہونے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی مجموعی طور پر سب سے آگے دکھائی دے رہی ہے۔ ابتدائی رجحانات کے مطابق پیپلز پارٹی کے 10 امیدوار مختلف حلقوں میں برتری حاصل کیے ہوئے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے 6 امیدوار آگے ہیں۔
استحکام پاکستان پارٹی بھی کئی حلقوں میں مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اس کے 3 امیدوار برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 5 حلقوں میں آزاد امیدواروں کا پلڑا بھاری نظر آ رہا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت سازی کے مرحلے میں آزاد امیدوار اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان کے 24 انتخابی حلقوں میں پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی تھی اور بغیر کسی تعطل کے شام 5 بجے تک جاری رہی۔ صوبے بھر میں 1391 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے جہاں ووٹرز نے بھرپور انداز میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
انتخابات میں 12 سے زائد سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں سمیت 396 امیدوار میدان میں تھے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس مرتبہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ کئی حلقوں میں آزاد امیدوار بھی غیر متوقع نتائج دے رہے ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی 33 نشستوں پر مشتمل ہے جن میں 24 جنرل نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوئے ہیں، جبکہ 6 نشستیں خواتین اور 3 ٹیکنوکریٹس کے لیے مختص ہیں۔ حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو کم از کم 17 نشستوں کی حمایت درکار ہوگی۔ -

چیف الیکشن کمشنر کی تمام حلقوں میں فارم 45 جاری کرنے کی ہدایت
گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز نے اسمبلی انتخابات کے بعد تمام 24 حلقوں کے ریٹرننگ افسران کو مصدقہ فارم 45 فوری طور پر جاری کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ یہ فیصلہ انتخابی نتائج کے عمل میں شفافیت اور سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا کہ فارم 45 کے اجرا کا عمل الیکشن ایکٹ 2017 اور الیکشن رولز 2017 کی متعلقہ دفعات کے مطابق مکمل کیا جائے۔ انہوں نے تمام ریٹرننگ افسران کو ہدایت کی کہ انتخابی قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر نتائج کے اجرا میں غیر ضروری تاخیر نہ ہونے دی جائے۔
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے مطابق جن پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہو چکا ہے وہاں فارم 45 جاری کیے جا رہے ہیں۔ کمیشن نے اس حوالے سے تمام انتخابی افسران کو دوبارہ واضح ہدایات بھی جاری کر دی ہیں تاکہ انتخابی عمل پر اعتماد برقرار رہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بعض حلقوں میں فارم 45 کے اجرا سے متعلق افواہیں اور غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، اس لیے میڈیا ادارے تصدیق کے بغیر ایسی خبریں نشر کرنے سے گریز کریں۔ الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ نتائج کی تیاری اور دستاویزات کی فراہمی کا عمل قانونی تقاضوں کے مطابق جاری ہے۔
یہ ہدایات ایسے وقت میں جاری کی گئی ہیں جب مختلف سیاسی جماعتوں، خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف، کی جانب سے بعض حلقوں میں فارم 45 کی فراہمی سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ تمام امیدواروں اور ان کے نمائندوں کو انتخابی قوانین کے مطابق ضروری دستاویزات فراہم کی جائیں گی۔
گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مختلف حلقوں میں سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حتمی نتائج کا اعلان تمام قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔ -

گلگت بلتستان انتخابات: ابتدائی نتائج میں پیپلز پارٹی آگے، ن لیگ کا بھی مضبوط مقابلہ
گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور مختلف حلقوں سے موصول ہونے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج نے ایک دلچسپ سیاسی مقابلے کی تصویر پیش کی ہے۔ ابتدائی رجحانات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کئی اہم حلقوں میں برتری حاصل کیے ہوئے ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) بھی متعدد نشستوں پر مضبوط پوزیشن میں نظر آ رہی ہے۔ آزاد امیدواروں اور دیگر جماعتوں نے بھی کئی حلقوں میں غیر متوقع کارکردگی دکھائی ہے۔
اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق جی بی اے 1 گلگت 1، جی بی اے 3 گلگت 3، جی بی اے 4 نگر 1، جی بی اے 9 اسکردو 3، جی بی اے 10 اسکردو 4، جی بی اے 11 کھرمنگ، جی بی اے 12 شگر، جی بی اے 13 استور 1 اور جی بی اے 17 دیامر 3 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ابتدائی برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) جی بی اے 2 گلگت 2، جی بی اے 14 استور 2، جی بی اے 18 دیامر 4، جی بی اے 19 غذر 1 اور جی بی اے 22 گھانچے 1 میں آگے دکھائی دے رہی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان حلقہ جی بی اے 2 میں نمایاں برتری کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں۔
انتخابات میں آزاد امیدوار بھی بھرپور انداز میں سامنے آئے ہیں۔ جی بی اے 5 نگر 2، جی بی اے 6 ہنزہ، جی بی اے 20 غذر 2، جی بی اے 23 گھانچے 2 اور جی بی اے 24 گھانچے 3 میں آزاد امیدوار ابتدائی نتائج کے مطابق سبقت لیے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر گھانچے 3 میں آزاد امیدوار اسد شفیق کی نمایاں برتری سیاسی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
دیگر جماعتوں میں استحکام پاکستان پارٹی جی بی اے 7 اسکردو 1 اور جی بی اے 16 دیامر 2 میں مضبوط پوزیشن میں نظر آ رہی ہے، جبکہ مجلس وحدت مسلمین جی بی اے 8 اسکردو 2 میں ابتدائی برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) بھی جی بی اے 15 دیامر 1 میں سب سے آگے ہے۔
ابتدائی رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی ایک جماعت واضح اکثریت کی جانب بڑھتی ہوئی نظر نہیں آ رہی، جس کے باعث آزاد امیدوار اور چھوٹی جماعتیں حکومت سازی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تاہم یہ تمام نتائج غیر سرکاری اور غیر حتمی ہیں اور حتمی تصویر مکمل نتائج آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔
گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 جنرل نشستوں پر انتخابات ہوئے ہیں جبکہ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو کم از کم 17 نشستوں کی حمایت درکار ہوگی۔ -

گلگت بلتستان انتخابات: ابتدائی نتائج میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے پولنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور مختلف حلقوں سے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج موصول ہونے کا سلسلہ برقرار ہے۔ ابتدائی نتائج سے مختلف حلقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، آزاد امیدواروں اور دیگر جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
جی بی 4 نگر ون کے وٹرنری اسپتال چھلت پائین پولنگ اسٹیشن کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار محمد علی اختر 76 ووٹ حاصل کرکے پہلے نمبر پر رہے۔ اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب وزیری 70 ووٹوں کے ساتھ دوسرے جبکہ آزاد امیدوار ڈاکٹر علی محمد تیسرے نمبر پر رہے۔
اسی طرح جی بی 5 نگر ٹو کے بوائز ہائی اسکول ہوپر نگر پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی نتائج میں پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد 45 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے جاوید علی منوا 34 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔
تاہم اسی حلقے کے ایک خواتین پولنگ اسٹیشن کے نتائج میں آزاد امیدوار جہانگیر شاہ 88 ووٹ حاصل کرکے پہلے نمبر پر ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد 36 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے، جس سے حلقے میں سخت مقابلے کی صورتحال واضح ہوتی ہے۔
دوسری جانب جی بی 2 گلگت ٹو کے ابتدائی سات پولنگ اسٹیشنوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے حافظ حفیظ الرحمان 858 ووٹ حاصل کرکے نمایاں برتری لیے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 383 ووٹوں کے ساتھ دوسرے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے فتح اللہ خان 83 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر ہیں۔
واضح رہے کہ انتخابات کے لیے پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی اور بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہی۔ صوبے بھر میں 1391 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے جہاں ووٹرز نے بھرپور انداز میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
اس انتخابی معرکے میں 12 سے زائد سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں سمیت مجموعی طور پر 396 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے جبکہ آزاد امیدوار بھی کئی حلقوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی 33 نشستوں پر مشتمل ہے، جن میں 24 نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوئے ہیں۔ حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 17 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہوگی۔ -

پی ٹی آئی کو گلگت بلتستان انتخابات میں برتری حاصل ہے، شفیع جان
خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے دعویٰ کیا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں اب تک موصول ہونے والے متعدد فارم 45 کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کو نمایاں برتری حاصل ہے۔
اپنے بیان میں شفیع جان نے کہا کہ گلگت بلتستان میں انتخابی عمل کا سب سے اہم مرحلہ، یعنی نتائج کی تیاری اور ووٹوں کے تحفظ کا عمل، شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں اور ووٹرز پر زور دیا کہ وہ انتخابی نتائج کے عمل پر گہری نظر رکھیں تاکہ عوامی مینڈیٹ کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ زمینی حقائق اور مختلف حلقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کو دیگر سیاسی جماعتوں پر واضح سبقت حاصل ہے۔ ان کے مطابق عوام نے بڑی تعداد میں تحریک انصاف کے امیدواروں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جس کے اثرات ابتدائی نتائج میں بھی دکھائی دے رہے ہیں۔
شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ انتخابات کے دوران کئی مقامات پر دیگر سیاسی جماعتوں کے پولنگ کیمپ غیر فعال یا خالی نظر آئے، جبکہ تحریک انصاف کے کارکن اور حامی متحرک رہے۔ انہوں نے کہا کہ موصول ہونے والے متعدد فارم 45 سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی مختلف حلقوں میں مضبوط پوزیشن میں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی نتائج کا حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن کے سرکاری اعداد و شمار کے بعد ہی ہوگا، تاہم ابتدائی معلومات پی ٹی آئی کے حق میں مثبت رجحان کی نشاندہی کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے 24 حلقوں میں انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے دعوے کر رہی ہیں۔ حتمی اور سرکاری نتائج الیکشن کمیشن کی جانب سے مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔