Baaghi TV

Category: گلگت بلتستان

  • پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ پاکستان کے اہم اعزاز کے لیے نامزد

    پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ پاکستان کے اہم اعزاز کے لیے نامزد

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ کو سول اعزا ز نشان پاکستان کے لیے نامزد کردیا ہے۔

    وزیراعلی گلگت بلتستان نے محمد علی سدپارہ کی بیوہ کو30 لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان کیا جبکہ محمد علی سدپارہ کے بیٹے کو محکمہ سیاحت میں ملازمت دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔

    کیا علی سدپارہ واقعی زندہ ہیں؟ ریسکیوٹیم نے ہار کیوں نہیں‌مانی ؟تہلکہ خیز انکشافات

    محمد علی سدپارہ سے کہاں غلطی ہوئی؟ تاریخی سرچ آپریشن میں کیا چل رہا ہے؟ اہم معلومات

    کے ٹو پر لاپتا پاکستانی کوہ پیماعلی سدپارہ کی موت کی تصدیق

    کے ٹو نے والد کو ہمیشہ کیلئے اپنی آغوش میں لے لیا،ساجد سدپارہ

    محمد علی سدپارہ اور بیٹے کوکون سے اعزاز دیئے جائیں گے؟ حکومت نے اعلان کر دیا

    دنیا کے سب سے خوبصورت سٹیڈیم میں پہلا کرکٹ میچ علی سدپاہ کے نام

    قبل ازیں گزشتہ روز موسم سرما میں آکسیجن کے بغیر کے ٹو سر کرنے کی کوشش کے دوران 5 فروری کو لاپتا ہونیوالے پاکستان کے کوہ پیما محمد علی سد پارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے کوہ پیما جان پابلو موہر کی موت کی سرکاری طور پر تصدیق کردی گئی۔ گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت راجہ ناصر علی خان اور کوہ پیما محمد علی سد پارہ کے بیٹے کوہ پیما ساجد سدپارہ نے سکردو میں گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا علی سدپارہ اور دو غیر ملکی کوہ پیما اب ہم میں نہیں رہے ۔

    کوہ پیما محمد علی سدپارہ اپنے دو غیر ملکی ساتھیوں سمیت 5 فروری کو کے ٹو کی خطرناک چڑھائی بوٹل نیک کے قریب لاپتا ہوئے جن کی تلاش کیلئے 12 روزہ طویل ریسکیو آپریشن میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کوہ پیما محمد علی سدپارہ کی موت کی سرکاری تصدیق پر ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا اللہ تعالیٰ قوم کے عظیم سپوت کو جنت الفردوس میں جگہ عطا کرے ۔ ادھر گلوکار علی ظفر نے محمد علی سدپارہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنا گانا پہاڑوں کی قسم عظیم کوہ پیما کے نام کردیا۔

    علی سدپارہ کی موت، جہانگیر ترین نے کیا کن جذبات کا اظہار؟

  • محمد علی سدپارہ اور بیٹے کوکون سے اعزاز دیئے جائیں گے؟ حکومت نے اعلان کر دیا

    محمد علی سدپارہ اور بیٹے کوکون سے اعزاز دیئے جائیں گے؟ حکومت نے اعلان کر دیا

    محمد علی سدپارہ اور بیٹے کوکون سے اعزاز دیئے جائیں گے؟ حکومت نے اعلان کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کے ٹو سر کرنے والے کوہ پیما علی سدپارہ کی موت کی تصدیق ہو گئی ہے

    علی سدپارہ کے بیٹے نے صوبائی وزیر سیاحت گلگت بلتستان کے ہمراہ موت کی تصدیق کی ہے، علی سدپارہ کی موت کی تصدیق کے بعد گلگت کے صوبائی وزیر سیاحت کا کہنا تھا کہ لاپتہ کوہ پیما دنیا میں نہیں رہے، ‏حکومت، پاک فوج، لواحقین اس نتیجے پر پہنچے ہیں، محمد علی سدپارہ اور بیٹے کو سول اعزازات سے نوازا جائے گا،وزیر سیاحت جی بی کا مزید کہنا تھا کہ وفاق کو اسکردو ائیرپورٹ علی سدپارہ کے نام سے منسوب کرنے کی تجویزدی گئی ہے

    اس موقع پر علی سد پارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ کہ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف کا مشکور ہوں۔ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں تمام دستیاب وسائل استعمال کیےگئے۔ علی سدپارہ ہمیشہ انتہائی بلندی پر رہنا چاہتے تھے۔ کے ٹو نے والد کو ہمیشہ کیلئے اپنی آغوش میں لے لیاہے۔

    کیا علی سدپارہ واقعی زندہ ہیں؟ ریسکیوٹیم نے ہار کیوں نہیں‌مانی ؟تہلکہ خیز انکشافات

    محمد علی سدپارہ سے کہاں غلطی ہوئی؟ تاریخی سرچ آپریشن میں کیا چل رہا ہے؟ اہم معلومات

    کے ٹو پر لاپتا پاکستانی کوہ پیماعلی سدپارہ کی موت کی تصدیق

    ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والد کا مشن جاری رکھیں گے اور ان کا خواب پورا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ریسکیو آپریشن پر وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ اور عسکری ایوی ایشن کے بہادر پائلٹس کا بھی مشکور ہوں۔

    واضح رہےکہ پاکستان کے ہیرو محمد علی سد پارہ کو دنیا کی 14 بلند چوٹیوں میں سے 8 کو سر کرنے کا اعزاز حاصل تھا۔

    کے ٹو نے والد کو ہمیشہ کیلئے اپنی آغوش میں لے لیا،ساجد سدپارہ

  • کے ٹو پر لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش دوبارہ شروع

    کے ٹو پر لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش دوبارہ شروع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیکریٹری داخلہ گلگت بلتستان محمد علی رندھاوا کا کہنا ہے کہ کے ٹو پر لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے

    سرولینس طیارے کے ذریعے کوہَ پیماوَں کو تلاش کیا جائے گا، کوہ پیماوَں کی زمینی تلاش کے لیے ہائی پوٹرز بھی بیس کیمپ میں موجود ہیں،

    انسانی جسم کے لیے ناقابل برداشت موسم، منفی پچاس ڈگری درجہ حرارت۔ آٹھ ہزار میڑ کی بلندی ۔۔اور نوے کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی سرد ہوائیں۔اس خطرناک صورت حال میں ۔پاکستان آرمی کے ہیلی کاپٹرز نے ۔ دنیا کی خطرناک چوٹی کے ٹو پر ریسکیو و سرچ آپریشن کیا ۔۔

    ذرائع کے مطابق عالمی شہرت یافتہ پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ اوران کے دوغیرملکی ساتھیوں کی تلاش کے لیے زمینی ریسکیو آپریشن پاک فوج کے جوانوں نے شروع کر دیا ہے۔ جوان C4 پہنچ گئے ہیں جہاں لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ ہوا کی رفتار بہت تیز ہوچکی ہیں — ٹریکر آخری دفعہ اس مقام پر پہنچ کر بند ہوگیا تھا۔

    محمد علی سدپارہ ، جے پی موہر اور جان سنوری کے ساتھ بوتل نیک کے نیچے آخری بار دیکھنے کے بعد ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ۔ تجربہ کار محمد علی سدپارہ کا بیٹا ساجد سدپارہ اس چار رکنی ٹیم کا حصہ تھا جنہوں نے طبیعت ناساز ہونے اور آکسجن کینسٹر کے ریگولیٹر میں کچھ پریشانیوں کی وجہ سے وہاں ہی رکنا مناسب سمجھا ۔ ساجد نے وہاں ہی سب کا تقربیا بیس گھنٹے انتظارکیا اور مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجے کیمپ 3 پر پہنچے۔ تب تک ان تینوں کوہ پیماؤں سے کوئی رابطہ نہیں ہوا تھاکیونکہ ان کے مواصلاتی آلات کام نہیں کررہے تھے.

  • سکردو کے ٹو پر سرچ آپریشن زور  و شور سے جاری

    سکردو کے ٹو پر سرچ آپریشن زور و شور سے جاری

    سکردو: کے ٹو پر سرچ آپریشن, دوسرا روز،
    محمد علی سدپارہ اور ساتھیوں کی تلاش کے لئے خصوصی ٹیم تشکیل، آرمی کے دو ہیلی کاپٹر ریسکیو ٹیم بلترو سیکٹر پہنچ گئے،چار مقامی کوہ پیماؤں کیz مدد سے آج سرچ آپریشن کیا جائے گا،
    ریسکیو ٹیم میں چار مقامی کوہ پیما بھی شامل ہیں،آج باقاعدگی سے زمینی اور فضائی آپریشن شروع کیا جائے گا ، کے ٹو کی 8 ہزار بلندی پر آج موسم قدرے بہتر ہے،
    سکردو: محمد علی سدپارہ اور ساتھی گزشتہ دو دنوں سے لاپتہ ہے،وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری براہ راست کے ٹو پر ریسکیو آپریشن کی نگرانی کررہے ہیں.

  • کے ٹو کی چوٹی سر کرنے والی ٹیم کی واپسی میں تاخیر کے باعث سرچ آپریشن شروع

    کے ٹو کی چوٹی سر کرنے والی ٹیم کی واپسی میں تاخیر کے باعث سرچ آپریشن شروع

    کے ٹو کی چوٹی سر کرنے والی ٹیم کی واپسی میں تاخیر کے باعث سرچ آپریشن شروع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ کی سربراہی میں کے ٹو کی چوٹی سر کرنے والی ٹیم کی واپسی میں تاخیر کے باعث سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔

    علی سدپارہ اور ٹیم کو کے ٹو کی انتہائی بلندی سے رات 2 بجے تک کیمپ پہنچنا تھا۔ذرائع کے مطابق علی سدپارہ اور ٹیم سے مواصلاتی رابطہ کل سے منقطع ہے، ٹیم مقررہ وقت سے کئی گھنٹے بعد بھی کیمپ تھری واپس نہیں پہنچ سکی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع کا بتانا ہے کہ کوہ پیماؤں کی واپسی میں کئی گھنٹوں کی تاخیر کے باعث دو آرمی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔گزشتہ روز ایک غیر ملکی کوہ پیما واپسی پر رسی ٹوٹنے کے باعث گر کر ہلاک بھی ہو گیا تھا۔

    قبل ازیں ہاکستانی کوہ پیماعلی سدپارہ نے کے ٹوسر کرلیا ، محمدعلی سد پارہ نے کے ٹو کی چوٹی پرسبز ہلالی پرچم لہرادیا، کے ٹو کی چوٹی پر قومی پرچم شام 5 بجے کے قریب لہرایا گیا۔محمد علی سدپارہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ الحمداللہ ! دُنیا کی دوسری بڑی کوہ پیما سرکرکے پاکستانی پرچم لہرادیا ، میں بطور پہلا پاکستانی کوہ پیما جس نے سرد موسم میں یہ اعزاز حاصل کیا ! اب دُنیا بھر میں اپنے ملک اور اپنے علاقے سکردو کا نام روشن کروں گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ نیپالی کوہ پیماؤں کی ٹیم نے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ‘کے ٹو’ کو موسم سرما میں سر کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا ۔ نیپالی کوہ پیماؤں کی 10 رکنی ٹیم نے 31 دسمبر 2020ء سے اپنے مہم جوئی کا آغاز کیا تھا اور 16 جنوری 2021ء کو دن کے وقت دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی سر کرنے کا اعلان کیا۔

    گلگت بلتستان حکومت نے پہلی بار موسم سرما میں ‘کے ٹو’ سر کرنیکا ریکارڈ قائم کرنیکی تصدیق کرتے ہوئے نیپالی حکومت کی کاوشوں کو سرمائی مہم جوئی کے لیے حوصلہ مند قرار دیا ۔

    کے ٹو 8611 میٹر کی بلندی کیساتھ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے جس کو ’سیویج ماؤنٹین‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس چوٹی کو پہلی مرتبہ اطالوی کوہ پیما اچیل کمپگنونی نے 1954ء میں سر کیا تھا۔کے ٹو کو سر کرنیکی کوشش میں ابتک 86 کوہ پیما اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ آج سے قبل صرف 450 کوہ پیما ہی اس کو سر کرنے میں کامیاب ہوئے تاہم ان میں سے کوئی بھی کوہ پیما موسم سرما میں یہ چوٹی سر نہیں کر سکا تھا۔

  • وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور عثمان بزدار کے مابین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ گلگت بلتستان سے متعلق اہم گفتگو

    وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور عثمان بزدار کے مابین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ گلگت بلتستان سے متعلق اہم گفتگو

    لاہور5فروری: وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارسے گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ بیرسٹرخالدخو رشیدکی ملاقات.
    باہمی دلچسپی کے امور، بین الصوبائی ہم آہنگی کے فروغ اور دو طرفہ تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال. وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا یوم یکجہتی کشمیر پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار. دونوں وزرائے اعلیٰ کی جانب سے معصوم لوگوں پر بھارتی ظلم و ستم کی شدید مذمت
    پنجاب حکومت اور گلگت بلتستان حکومت کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب. پنجاب حکومت کی جانب سے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیئرمین اظفر منظور اور گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے سیکرٹری عثمان احمد نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے. معاہدے کے تحت پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ گلگت بلتستان حکومت کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سسٹم ڈویلپ کرنے میں معاونت فراہم کرے گا. پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کا کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم اور ویب پورٹل تیار کرنے میں تعاون کرے گا. وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی گلگت بلتستان حکومت کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی. گلگت بلتستان کے ہیلتھ کیئر سسٹم، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں پہلے سے بڑھ کر تعاون کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا گلگت بلتستان کے پیرامیڈیکل سٹاف اور نرسوں کو پنجاب کے نرسنگ کالجوں میں تربیت فراہم کرنے کا اعلان
    گلگت بلتستان کے پیرامیڈیکل سٹاف اور نرسوں کو پنجاب میں تربیت فراہم کریں گے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی پنجاب کے میڈیکل کالجوں میں گلگت بلتستان کے طلبا و طالبات کے کوٹے کے معاملے پر ہمدردانہ غور کی یقین دہانی۔میڈیکل کالجوں میں کوٹے کے مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کریں گے۔گلگت بلتستان انتخابات میں پی ٹی آئی کی کامیابی نئے پاکستان اور تبدیلی کے ایجنڈے کی جیت ہے۔گلگت بلتستان میں بسنے والے عوام ہمارے بہن بھائی ہیں۔پنجاب حکومت گلگت بلتستان کے مختلف شعبوں میں ترقی کیلئے ہر ممکن تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔ہم کشمیری عوام کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔دنیا کی کوئی طاقت پاکستان اور کشمیر کے عوام کے انمٹ رشتے کو جدا نہیں کر سکتی۔کشمیر کل بھی ہمارا تھا، آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا۔ مودی سرکار نے اپنے ہاتھ معصوم کشمیر کے قیمتی لہو سے رنگے ہوئے ہیں۔کشمیر کا بچہ بچہ آزادی مانگ رہا ہے۔عثمان بزدار

    بیرسٹر خالد خورشید نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو گلگت بلتستان کی روایتی ٹوپی ”شانٹی“ پہنائی
    بیرسٹر خالد خورشید کی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو گلگت بلتستان کے دورے کی دعوت۔وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو پولو میچ دیکھنے کی بھی دعوت دی۔
    انشاء اللہ جلد گلگت بلتستان کا دورہ کروں گا۔عثمان بزدار
    گلگت بلتستان کی ترقی کیلئے جو کچھ ممکن ہوا، کریں گے۔
    وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے مختلف شعبوں میں تعاون پر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا شکریہ ادا کیا
    گلگت بلتستان کے عوام کی ترقی کیلئے پنجاب حکومت کے تعاون سے بھائی چارے اور یکجہتی کو فروغ ملے گا۔
    گلگت بلتستان کے عوام کیلئے تعلیم،صحت اوردیگر سماجی شعبوں میں پنجاب حکومت کے گراں قدر تعاون پر شکرگزار ہیں۔بھارت کی شرانگیزیاں پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہیں۔ مودی سرکار اندرونی خلقشار کا شکار ہے۔پاکستانی قوم نے ہمیشہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کا ساتھ دیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پوری قوم کشمیر کاز کیلئے متحد ہے۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ پنجاب اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

  • گلگت بلتستان کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں کا ازالہ کریں گے، ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری

    گلگت بلتستان کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں کا ازالہ کریں گے، ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری

    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے جمعرات کے روز گلگت بلتستان کے نو منتخب اسپیکر سید امجد علی زیدی سے ملاقات کی ہے. انہوں نے ملاقات میں ملک کی مجموعی معاشی اور سیاسی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا ہے.

    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں کا ازالہ کر کے عوام کے احساس محرومی کا خاتمہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت عمران خان کی قیادت میں گلگت بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے.

    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا کہ کسی بھی قانون ساز ادارے میں پریذائیڈنگ آفیسر کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، پریذائیڈنگ آفیسر کی نظر میں ایوان میں موجود تمام اراکین مساوی حیثیت رکھتے ہیں

    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ موجودہ حکومت گلگت بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے پر عزم ہے. انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت عمران خان کی قیادت میں گلگت بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے. انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان قدرتی حسن سے مالا مال ہے جسے بروئے کار لا کر گلگت بلتستان کی ترقی میں بے پناہ اضافہ کیا جا سکتا ہے. انہوں نے کہا کہ سیاحت کا شعبہ گلگت بلتستان کے عوام کی خوشحالی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے.

    انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں کا ازالہ کر کے عوام کے احساس محرومی کا خاتمہ کیا جائے گا. انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے نو منتخب اراکین اسمبلی اور اسٹاف کو اپنی استعداد کار کو بڑھانے کے لیے پارلیمنٹری سروسز پپس سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے. انہوں نے امجد علی زیدی کو اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد بھی دی ہے.

    گلگت بلتستان کے اسپیکر امجد علی زیدی نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کا شکریہ ادا کیا ہے اور گلگت بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ان کے جذبات کو سراہا ہے.

    انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں حالیہ الیکشن 2020 کے بعد قائم ہونی والی پی ٹی آئی کی حکومت جی بی کے عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کرے گی. انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق گلگت بلتستان میں ترقی اور خوشحالی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں گے. انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ قدرتی حسن سے مالا مال کیا ہے. انہوں نے کہا کہ سیاحت کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی گلگت بلتستان کی عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے. انہوں نے کہا کہ گگت بلتستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل سے گلگت بلتستان میں معاشی ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں.

  • ن لیگ نے گلگت بلتستان میں دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کر دیا

    ن لیگ نے گلگت بلتستان میں دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان،ن لیگ کے رہنما حافظ حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ ہمارے ترقیاتی منصوبوں کوسیل کیا گیا، ہم نے جی بی کی اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ کیا،

    حافظ حفیظ الرحمان کا کہنا تھا کہ مقتدرحلقوں نے یقین دہانی کرائی ہم نے اسمبلی نہیں توڑی،چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی میں طریقہ کار کی خلاف ورزی کی گئی،جی بی میں ہمارے توڑے گئے افراد کو پی ٹی آئی میں شامل کرایا گیا،ہائی کورٹ نے وزراکو جی بی سے نکالنے کا حکم دیا ،پی ٹی آئی کے وزرانےکورٹ کے فیصلے کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا،

    حافظ حفیظ الرحمان نے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان میں از سر نو الیکشن کرایا جائے ،اسلام آباد سے اٹھا کر ایک شخص کو نگراں وزیراعلیٰ بنایا گیا،

    مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے سلیکٹڈ حکمران مسلط کرنے کا تجربہ کیا گیا اور اس کا ری پلے گلگت الیکشن میں کیا گیا،عوام ووٹ کی عزت کا حق مانگ رہے ہیں،جس ملک میں ووٹ کی عزت نہیں کی جاتی اس کی سالمیت خطرے میں پڑ جاتی ہے،ہم نے ووٹ کی عزت کو پامال کرکے آدھا ملک کھو دیا۔

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن نے تاریخی ترقیاتی کام کیے لیکن گلگت کی عوام کو حق نہیں دیا گیا کہ وہ خدمت کرنے والی حکومت کو دوبارہ منتخب کریں،حافظ حفیظ الرحمان کے آخری دنوں میں مسلم لیگ ن کے کیسے ہاتھ پاؤں باندھے گئے،جی بی پاکستان کا حساس خطہ ہے ،یہ خطہ پاکستان کو چین سے ملاتا ہے اور سی پیک کے حوالے سے بھی یہ اہمیت رکھتا ہے،جی بی کی عوام کو ترقی خوشحالی دیں تاکہ وہاں کسی دشمن کو کوئی حرکت کرنے کا موقع نہ ملے،

    احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ جی بی میں جتنی خدمت مسلم لیگ ن نے کی اتنی کسی نے نہیں کی یہ ہمارے مخالف بھی ماننے کو تیار تھے لیکن جی بی میں سلیکٹڈ حکومت مسلط کی گئی،جی بی کی عوام نے دھاندلی کے باوجود پی ٹی آئی کو شکست دی ،آزاد امید واروں کو دباؤ دیکر شامل کروایا گیا ،جنہوں نے الیکشن میں دھاندلی کی انہیں وارننگ دینا چاہتا ہوں،کشمیر میں انتخابات میں ہر پولنگ سٹیشن پر کھڑے ہوں گے اور دھاندلی نہیں کرنے دیں گے، اگلے قومی الیکشن میں بھی ہر پولنگ سٹیشن پر ن لیگ کے شیر نگرانی کریں گے،

  • 9 سال بعد رہا ہونے والے بابا جان کی شادی گلگت بلتستان کی تاریخ کی سب سے بڑی شادی قرار

    9 سال بعد رہا ہونے والے بابا جان کی شادی گلگت بلتستان کی تاریخ کی سب سے بڑی شادی قرار

    حال ہی میں 9 سال بعد رہا ہونے والے بابا جان کی گلگت بلتستان میں ہونے والی شادی کو وادی کی تاریخ کی سب سے بڑی شادی قرار دیا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق زندگی کے 9 سال قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے والے عوامی رہنما بابا جان حال ہی میں سزا معطلی پر رہائی کے بعد اب باقاعدہ شادی کے بندھن میں بندھ گئے اس شادی کو وادی کی سب سے بڑی شادی قرار دیا جا رہا ہے ۔

    بابا جان کی شادی بھی ایسی ہوئی کہ 4 روز تک جاری رہی اور اس شادی کو گلگت بلتستان کی تاریخ کی سب بڑی شادی کہا جا رہا ہے عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے چیئرمین 42 سالہ بابا جان کی اہلیہ کا تعلق غذر کے علاقے گچ سے ہے-

    رپورٹس کے مطابق بابا جان کی شادی میں ان کے آبائی علاقے ناصر آباد ہنزہ میں مسلسل 4 روز تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہنے والی تقریبات میں شدید سردی کے باوجود گلگت بلتستان اور ملک کے چاروں صوبوں و آزاد کشمیر سے کئی ہزار لوگوں نے شرکت کی۔

    شادی کی تقریب میں رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین توقیر گیلانی سمیت متعدد اہم شخصیات بھی شامل ہوئیں۔

    یہ اس لحاظ سے بھی منفرد اور پہلی شادی تھی کہ جس میں ہر خاص و عام شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور شادی پر ہونے والے تمام کے تمام اخراجات عوامی ورکرز پارٹی کے ان کارکنوں نے مشترکہ طور پر اٹھائے جنہوں نے بابا جان کی قید کے دوران ان کی رہائی کے لیے طویل جدوجہد کی۔

    شادی میں 24 گھنٹے لنگر جاری رہا اور تمام مہمانوں کی پرتکلف اور لذیذ کھانوں سے تواضع کی گئی۔

    شادی میں مہمانوں کے اعزاز میں لگاتار 4 روز تک ثقافتی شو کا بھی اہتمام کیا گیاجس میں پہلی بار کسی شادی میں میوزیشنز کے 8 مختلف گروپوں نے ایک ساتھ مقامی دھنوں کا ایسا سماں باندھا کہ خود دولہا کے علاوہ تقریب میں موجود ہر علاقے اور ہر عمر کے لوگوں نے باری باری ٹولیوں کی شکل میں خوبصورت علاقائی ناچ پیش کرکے لوگوں کو خوب محضوظ اور شادی کی خوشیوں کو دوبالا کیا۔

    خواتین سمیت لوگوں کی ریکارڈ تعداد میں شرکت اور بے پناہ رش کے باوجود عمدہ انتظامات اور مثالی مہمان نوازی کے اعتبار سے بلاشبہ گلگت بلتستان کی تاریخ کی سب سے بڑی شادی بخیرو خوبی اختتام پذیر ہوئی۔

  • پاک چائنہ بارڈر عارضی طور پر کھولنے کی منظوری

    پاک چائنہ بارڈر عارضی طور پر کھولنے کی منظوری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تاجر برادری کے لئے خوش خبری،پاک چائنہ بارڈر عارضی طور پر کھولنے کی منظوری دے دی گئی

    پاک چائنہ بارڈر 15 دسمبر سے 25 دسمبر 2020ء تک کھول دیا جائیگا, وزارت خارجہ نے منظوری دے دی ہے

    خنجراب بارڈر کے راستے ہمسایہ ملک چین کے ساتھ تجارت کرنے والے کاروباری حلقوں کے لئے پاک چائنہ بارڈر عارضی طور پر 15 دسمبر سے 25 دسمبر 2020ء تک کھول دیا جائیگا۔ وزارت خارجہ نے منظوری دے دی ہے اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے ،نوٹیفکیشن کے مطابق کورونا وباء سے بچاو کے لئے خنجراب ٹاپ پر ایس او پیز پر سختی سےعمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

    قبل ازیں پاکستان اور چین کے مابین تجارت کے لیے پاک چین بارڈر خنجراب ٹاپ کو ماہ ستمبر میں کھولا گیا تھا اور بعد ازاں 30 ستمبر کو بند کر دیا گیا تھا

    گلگت بلتستان کے تاجروں نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ بارڈر کو کھولا جائے تاکہ وہ اپنا مال واپس لا سکے جب کہ گلگت بلتستان کے مختلف جاری منصوبوں کے لئے مشینری بھی لائی جاسکے گی۔