Baaghi TV

Category: گجرات

  • گینگ ریپ میں نامزد اشتہاری ملزم 6 سال  بعد گرفتار

    گینگ ریپ میں نامزد اشتہاری ملزم 6 سال بعد گرفتار

    پنجاب پولیس نے 6 سال سے روپوش گینگ ریپ میں نامزد اشتہاری ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق پنجاب پولیس نے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے بیرون ملک سے واپس آنے والے اشتہاری ملزم شجر حسین کو وطن واپسی پر گرفتار کیا ملزم گینگ ریپ مقدمے میں نامزد ہے، جس نے گوجرانوالہ میں 6 سال قبل طالبہ کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

    جاب سکینڈل تونسہ،خاتون سمیت جعلساز اور نوسرباز گروہ کے تین افراد گرفتار

    ترجمان پولیس کے مطابق ملزم طالبہ کو زیادتی کے بعد بیرون ملک میں روپوش تھا، جس کی گرفتاری کے لیے کوشش بھی کی گئی ،ملزم کو سی آئی اے گوجرانوالہ کے حوالے کردیا گیا ہے۔


    دوسری جانب گجرات میں عزیز بھٹی شہید ہسپتال سے اغواء ہونے والا نومولود بچہ پولیس تھانہ سول لائنز نے دو گھنٹے کے اندر بازیاب کروالیا گجرات پولیس نے ہسپتال سے اغواء ہونے والے نومولود بچے کو 2 گھنٹوں میں بازیاب کروا لیا سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے اغواء کار خاتون شاہدہ بی بی کو گرفتار کر لیا گیا ہے والدین نے پولیس کا شکریہ ادا کیا۔

    میڈیکل کالج کی طالبہ کی خودکشی کا معاملہ:بلیک میلنگ میں ملوث ملزم گرفتار

    واضح رہے کہ گزشتہ رات لاہور کے تھانہ نصیر آباد کی حدود میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت ماجد اور جاوید کے ناموں سے ہوئی مقتول ماجد پولیس کے محکمہ اے وی ایل ایس میں بطور کانسٹیبل تعینات تھا دونوں بھائیوں کو فائرنگ کے بعد لاہور کے جنرل اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دورانِ علاج دم توڑ گئے واقعے کے بعد آئی جی پنجاب نے شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ سے دو بھائیوں کے جاں بحق ہونے کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او فیاض احمد سے رپورٹ طلب کی۔

    آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان نے ملزمان کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہوائی فائرنگ جیسے خونی کھیل آپ کی خوشیوں کو غم میں تبدیل کر دیتے ہیں، شہریوں سے گزارش ہے کہ ایسے قانون شکن عناصرکو اپنی خوشیوں کی تقریبات میں مدعو نہ کیا کریں انہوں نےاپیل کی کہ شہری اپنے اردگرد ہوائی فائرنگ جیسے واقعات دیکھیں تو فوری 15 پر پولیس کو اطلاع دیں۔

    ہائی کورٹ نے ریپ کیس میں متاثرہ کمسن بچی کا بیان بھی قابل تسلیم گواہی قراردیا

    قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ نے ریپ کیس میں متاثرہ کمسن بچی کے بیان کو بھی قابل تسلیم گواہی قرار دے دیا لاہور ہائی کورٹ نے 6 سالہ بچی سے زیادتی کے مجرم کامران کی عمر قید کے خلاف اپیل خارج کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ 6 سالہ معصوم گڑیا کو اسکول جانے کے ایک ماہ بعد شیطان صفت کامران نے اسکول کے بیت الخلا میں زیادتی کا نشانہ بنایا، متاثرہ بچی نے عدالت میں سارا وقوعہ بلند حوصلے اور مضبوط الفاظ میں قلمبند کروایا، بچی کا بیان مدعی اور شواہد کےساتھ مطابقت رکھتا ہے، ٹرائل عدالت نے بچی کا بیان تسلیم شدہ قرار دےکر درست فیصلہ کیا۔

    شادی میں ہوائی فائرنگ سے دو سگے بھائی جاں بحق

    عدالت نے مزید لکھا کہ متاثرہ بچی کا بیان تسلیم کرنے کے اصول پر عمل کرنے کا بہترین وقت ہے، زیادتی سے متاثرہ فرد کا بیان زخمی فرد سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، مجرم کو سزا دلوانے کیلئے زیادتی سے متاثرہ شخص کا محض بیان ہی کافی ہے، مجرم کا وقوعہ کا مقدمہ تاخیر سے درج کرانے کا اعتراض ناقابلِ تسلیم ہے، والدین نے مقدمے کےنتائج پر غور و خوص کےبعد ہی بچی کا میڈیکل کرایا، ڈاکٹروں نے بھی بچی کےساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق کی،پراسیکیوشن نے بلا شک وشبہ مجرم کے خلاف اپنا کیس ثابت کیا۔

    سات سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنے والا درندہ گرفتار

  • منڈی بہاؤالدین پولیس کی بڑی کارروائی. مشہور قاتل اور ڈکیت پولیس مقابلے میں پار کر دیا گیا

    منڈی بہاؤالدین پولیس کی بڑی کارروائی. مشہور قاتل اور ڈکیت پولیس مقابلے میں پار کر دیا گیا

    رپورٹ کاشف تنویر… گجرات میں پوليس مقابلہ بدنام زمانہ قاتل و ڈکیت عاطف نواز عرف عاطو ساہی پوليس مقابلہ میں پار۔تفصیلات کے مطابق چناب پل کے قریب مبینہ پوليس مقابلہ ہوا، جس میں 1 ڈاکو ہلاک ہو گیا اور اس کے 2 ساتھی فرار ہو گئے ہیں۔ڈاکو دریائے چناب کے کنارے واردات کی پلاننگ میں مصروف تھے،پولیس کے مطابق ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فاٸرنگ سے ہلاک ہوا ہے۔ہلاک ہونے والے ڈاکو کی شناخت عاطف عرف عاطو ساہی کے نام سے ہوٸی ہے،جس کا تعلق منڈی بہاؤالدین کے علاقہ سے ہے، ڈاکو قتل،اقدام قتل،ڈکيتی،دوران ڈکيتی مزاحمت اور پوليس کانسٹيبل شہید کرنے کے 14 سے زائد مقدمات میں مطلوب اشتہاری ملزم تھا،ڈاکو ضلع منڈی بہاوالدین اور ضلع گجرات کے تھانوں کے مقدمات میں ملزم تھا،پوليس منڈی بہاؤالدین، CIA سٹاف منڈی بہاؤالدین اور ایلیٹ فورس نے ملزمان کو پکڑنے کے لیے ریڈ کیا،تو ڈاکوؤں نے پوليس پارٹی پر اندھا دھند فاٸرنگ کردی،پولیس کے مطابق ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے موقع پر ہلاک ہوا ہے۔

  • منڈی بہاؤالدین کے صحافیوں کا اپنے خلاف ہونے والے جھوٹے پرچوں کے خلاف بڑے احتجاج کا اعلان

    منڈی بہاؤالدین کے صحافیوں کا اپنے خلاف ہونے والے جھوٹے پرچوں کے خلاف بڑے احتجاج کا اعلان

    احتجاج احتجاج احتجاج جھوٹی ایف آئی آر کے خلاف احتجاج
    جھوٹی ایف آئی آر پر منڈی بہاؤالدین کے تمام سینئر صحافیوں کی میٹنگ میں 30 اگست کو پریس کلب کے سامنے بڑا احتجاج کرنے کا فیصلہ
    رپورٹ (کاشف تنویر ) تفصیلات کے مطابق ملک اشرف چیف ایڈیٹر اخبار منڈی بہاوالدین اور اے ایم نیوز کے چیف ایگزیکٹو اور ان کے نمائندے حاجی شبیر مغل کے خلاف عنصر ولد یوسف کو مدعی بنایا اور افتخار ولد یونس کو گواہ بنایا حالانکہ یہ دونوں وہاں موقعہ پر موجود ہی نہیں تھے دارا چودھری منظور گوندل میں چودھری منظور گوندل زاھدبھٹی سابقہ کونسلر ملک ارشد اشرف خان قصائی شبیر قصائی اور ملک اشرف موجود تھے فیصلے کے دوران زاھد بھٹی کو ملک اشرف کی بات نامناسب لگی اور وہ ناراض ھوکر جا نے لگا اور جاتے جاتے تھانے کی دھمکی دینے لگا اب فیصلہ تھانے میں ھوگا پھر وہ چلا گیا اپنا غصہ نکالنے کیلے عنصر کو مدعی بنایا اور زاھد کا چھوٹا بھائی وکیل ھے اس کی بنا پر تھانے میں دباؤ ڈال کر چھوٹی ایف آئی آر درج کروائی اور دو شریف آدمیوں کی پگڑی اچھالی ھے ھم ڈی پی او صاحب سے درخواست کرتے اس ایف آئی آر کی خود انکوائری کریں اور شکریہ کا موقعہ دیں

  • پی ٹی آئی حکومت  ڈی جی خان یا میانوالی سمجھ کر ہی گجرات پر ترقیاتی فنڈ لگا دے   پرویز الہی

    پی ٹی آئی حکومت ڈی جی خان یا میانوالی سمجھ کر ہی گجرات پر ترقیاتی فنڈ لگا دے پرویز الہی

    اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے اتحادی جماعت تحریک انصاف سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت ڈیرہ غازی خان یا میانوالی سمجھ کر ہی گجرات پر ترقیاتی فنڈ لگا دے-

    باغی ٹی وی : مسلم لیگ ق کے رہنما پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ شہباز حکومت نے دس سال ہمارے ایم این اے اور ایم پی اے رہنے کی وجہ سے گجرات کو نظر انداز کئے رکھا۔

    پرویز الٰہی کا پی ٹی آئی سے شکوہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اب پی ٹی آئی حکومت خدارا ڈیرہ غازی خان یا میانوالی سمجھ کر ہی گجرات پر ترقیاتی فنڈ لگا دے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی وبا کورونا وائرس ابھی موجود ہے، احتیاط کریں ، ایس او پیز پر عمل کریں اور ان سے پوچھیں جن کے عزیز بچھڑ گئے۔

  • : سندھ میں رواں سال کا پہلا کانگو وائرس کیس رپورٹ ہوگیا،

    : سندھ میں رواں سال کا پہلا کانگو وائرس کیس رپورٹ ہوگیا،

    سندھ میں رواں سال کا پہلا کانگو وائرس کیس رپورٹ ہوگیا، متاثرہ شخص کو جناح اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ جناح اسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق 24 سالہ رب نواز میں کانگو وائرس کی تشخیص ہوگئی، رب نواز کراچی کے علاقے بلاول چورنگی کا رہائشی ہے اور پیشہ ورانہ طور پر چرواہا ہے۔
    انہوں نے بتایا کہ متاثرہ شخص کو جناح اسپتال میں داخل کرلیا گیا ہے اور رب نواز کو جب اسپتال لایا گیا تب خون کا بہاؤ (بلیڈنگ) جاری تھی۔ واضح رہے سندھ میں رواں سال کانگو وائرس کا یہ پہلا کیس رپورٹ ہوا ہے۔

  • کھاریاں کے علاقہ منڈیر میں اندھا دھند فائرنگ سے 3 افراد قتل

    کھاریاں کے علاقہ منڈیر میں اندھا دھند فائرنگ سے 3 افراد قتل

    گجرات ، کھاریاں کے علاقہ منڈیر میں اندھا دھند فائرنگ سے 3 افراد قتل، نامعلوم افراد کی کار پر فائرنگ سے خاتون سمیت 3 افراد قتل، عینی شاھدین کے مطابق حملہ آوروں نے پیچھا کر کے آگے جاتی گاڈی پر فائرنگ کی ، قتل ہونیوالوں میں 55 سالہ اسحاق 50 سالہ اختر حسین اور 52 سالہ خاتون پروین بی بی شامل جبکہ احسان نامی شخص زخمی ہے، ابتدائی معلومات کے مطابق واقعہ پرانی دشمنی کا شاخسانہ ہو سکتا

    فائرنگ کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب , ضلع بھر کی ناکہ بندی، تھانہ صدر کھاریاں پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیۓڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عمر سلامت پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ جاۓ وقوعہ پر پہنچ گۓ

  • یہ نہیں کہتا گھبرانا نہیں لیکن…لانگ مارچ کی بجائے کس کی ضرورت ہے، چودھری پرویز الہیٰ میدان میں آ گئے

    یہ نہیں کہتا گھبرانا نہیں لیکن…لانگ مارچ کی بجائے کس کی ضرورت ہے، چودھری پرویز الہیٰ میدان میں آ گئے

    یہ نہیں کہتا گھبرانا نہیں لیکن…لانگ مارچ کی بجائے کس کی ضرورت ہے، چودھری پرویز الہیٰ میدان میں آ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ق ضلع گجرات کا تنظیمی اجلاس ہوا

    سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیزیں بہتری کی طرف جاتی نظرآرہی ہیں بطور اتحادی بہتری کیلئےحکومت کوجوضروری سمجھتےہیں مشورہ دیتے ہیں ،عمران خان سے ملاقات اچھی رہی،وہ گھربھی آئے،بہترین ماحول میں باتیں ہوئیں

    رحمان ملک ان ایکشن، الزامات پر سینتھیا کو 50 ارب ہرجانے کا دوسرا نوٹس بھجوا دیا

    ق لیگ تو صرف سامنے تھی،حکومت ختم کرنے کی یقین دہانی کس نے کروائی تھی، مولانا فضل الرحمان

    مولانا کے دھرنے کے وقت پرویزالہیٰ نے وزیراعظم کو کیا کہا تھا؟ چودھری شجاعت نے کیا اہم انکشاف

    اتحادی جماعت کی علیحدگی،وزیراعظم نے منانے کا ٹاسک دے دیا

    بہت ہو گیا پی ڈی ایم کا کھیل تماشا، وزیراعظم نے بڑا فیصلہ کر لیا

    وزیراعظم کے ظہرانے میں اتحادی جماعتوں کی عدم شرکت

    حکومت کیا کررہی ہے؟ حکومتی اتحادی ق لیگ کے رہنما سپیکر پنجاب اسمبلی پھٹ پڑے

    ایم کیو ایم وفاقی حکومت سے ایک بار پھر ناراض،بڑا اعلان کر دیا

    ایم کیو ایم بھی حکومت کو آنکھیں دکھانے لگی

    چودھری پرویز الہیٰ کا مزید کہنا تھا کہ یہ نہیں کہتا گھبرانا نہیں لیکن یہ ضرورکہوں گا چیزیں بہترہورہی ہیں،ملکی معاملات میں بہتری کیلئے وزیراعظم عمران خان سرگرم ہیں، عمران خان اتحادی سیاست میں مشاورت سےچل رہے ہیں، عمران خان نے مسئلہ کشمیرکو اجاگر کرنےکیلئے ہر پلیٹ فارم پرآوازبلند کی ،عمران خان کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے موثر آواز بلندکرنے کا کریڈٹ دینا چاہیے ،

    چودھری پرویز الہیٰ کا مزید کہنا تھا کہ اب لانگ مارچ کی بجائےترقی مارچ کی ضرورت ہے ،تمام کارکن بلدیاتی انتخابات کی بھرپورتیاری کریں،

    حکومت کیا کررہی ہے؟ حکومتی اتحادی ق لیگ کے رہنما سپیکر پنجاب اسمبلی پھٹ پڑے

  • گجرات کے  نواحی گاؤں لوہاراں پنڈی سے لدھا سدھ چوک تک ناموس رسالت مارچ۔۔۔

    گجرات کے نواحی گاؤں لوہاراں پنڈی سے لدھا سدھ چوک تک ناموس رسالت مارچ۔۔۔

    رپورٹ (فیضان ارشاد سے)فرانس میں سرکاری سطح پر گتساخانہ خاکوں کی نمائش کے خلاف اپنی آواز بلند کرنے کےلئے گجرات کے نواحی گاؤں لوہاراں پنڈی سے لدھا سدھا چوک تک ناموس رسالت مارچ ریلی نکالی گئی۔ ریلی کا انعقاد لمبوڑ کرکٹ کلب نے کیا ۔ریلی کی ابتدا تلاوت قرآن پاک سے کی گئی اور نعت رسول مقبول اور صدائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مارچ شروع ہو گیا اور اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا لدھا سدھا چوک میں اہتمام پزیر ہوا۔ اس مارچ میں نوجوان ہے ساتھ ساتھ بچے اور بزرگوں کی کثیر تعداد میں شرکت اور لدھا سدھا چوک میں مختصر خطاب کے بعد دعا کی گئی۔

  • شیر دلان گجرات  میاں محمد اکبر اور میاں محمد مسعود اختر

    شیر دلان گجرات میاں محمد اکبر اور میاں محمد مسعود اختر

    یہ گجرات کے ایک خاندان میں پیدا ہونے والے دو بہادر بھائیوں میاں اکبر اور میاں مسعود کی ولولہ انگیز داستان حیات ہے۔ ان کے والد محترم الحاج میاں برکت علی صاحب انتہائی وضع دار ایک نیک آدمی تھے اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار معتبر مدبر پنچایتی اور صلح جو مشہور تھے لوگ ان کی خوبیوں کے سبب ان کا بہت احترام کرتے تھے تما ذی شعور ان کی اعلیٰ انتظامی و سماجی صلاحیتوں کے معترف تھے انہیں خوبیوں کی بدولت 19ویں صدی کے شروع میں انہیں عوامی نمائندگی کے لئے آگے لایا گیا اور سن 1920 میں بھر پور عوامی پذیرائی سے میونسپل کمشنر گجرات منتخب ہوئے-

    یہ انگریز دور حکومت میں گجرات میں کسی بھی عوامی عہدہ کے لئے براہ راست انتخاب کے نتیجے میں یہ پہلی تقرری تھی بعد ازام میاں برکت علی پہلے منتخب وائس چئیرمین میونسپل کمیٹی بھی بنے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے شہرت کی منزلیں طے کرتے رہے-

    الحاج میاں برکت
    الحاج میاں برکت علی کارواباری صلاحیتوں کی سوجھ بوجھ سے بھی مالا مال تھے اور ان کی کاروباری ترقی میں بھی عوامی فلاح و خدمت ان کا مطمع نظر آتا ہے اسی سوچ کے تحت انہوں نے ٹرانسپورٹ کاروبار کا آغاز کیا اور عوام کو معیاری سستی بس فراہم کی اس سے نہ صرف گجرات بلکہ پنجاب بھر کے عوام کو آمدو رفت میں بڑی آسانی حاصل ہو گئی-

    الحاج میاں برکت علی نے بحثیت چئیرمین گجرات پنجاب بس سروس کے معاملات کو بخوبی انجام دیا اور ضلع بھر کے ممتاز خاندانوں اور برادریوں کی بھی گجرات پنجاب بس سروس میں بطور ڈائریکٹر نمائندگی کی اور اپنی خدا ترس طبعیت کی بناء پر ملازمین کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہو ان کی غلطیوں کو نظرانداز کر کے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے-

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کاروبار تقسیم ہو گیا اور ان کے صاحبزادے میں محمد اکبر نے بحثیت چئیرمین پنجاب بس سروس گروپ بی ذمہداری سنبھالی اور کاروباری معاملات کا ادراک رکھنے کے ساتھ میاں محمد اکبر اپنے بزرگوں کی طرح عوامی خدمت کے جذبے سے بھی سرشار تھےاور سیاست ان کی گٹھی میں تھی اور الحاج میاں برکت کے دونوں صاحبزادے میاں محمد اکبر اور میں محمد مسعود اختر سیای معاملات مین والد کی معاونت بھی کرتے تھے-

    میاں محمد اکبر نے سن 1962 میں مغربی پاکستان ساز اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لیا اس وقت قانون ساز اسمبلی ممبران کا انتخاب بی ڈی ممبران کیا کرتے تھے حلقہ انتخاب میں کُل باسٹھ پی ڈی مبران تھے جن مین سے پچپن نے میاں محمد اکبر کو ووٹ دیئے اور یوں میاں محمد اکبر نے ضلع بھر میں اپنی سیاسی بصیرت کی دھاک بٹھا دی-

    میاں محمد اکبر
    میاں محمد اکبر ایک غیر متزلزل آہنی عزم رکھنے والے بہادر اور نڈر انسان تھے وہ اپنے سیاسی حریفوں سے ببانگ دہل بال خوف و خطر ٹکرائے مگر کبھی بھی سیاسی اختلافات کو ذاتیات تک نہ لائے اور کبھی انا کا مسئلہ نہ بنایا وہ دوستوں کے دوست اور مخالفوں کے دل میں بھی اپنا احترام رکھتے تھے میاں محمد اکبر سھر انگیز شخصیت کے مالک تھے جو بھی ان سے ایک بار ملتا دوسری ملاقات کی بھی چاہ رکھتا اور پھر ہمیشہ کے لئے ان کا گرویدہ بن جاتا-

    میاں محمد اکبر کو تعلقات بنانے اوراور نبھانے میں ملکہ حاصل تھا سن 1962 کے انتخابات میں منتخب ہونے والے بی ڈی ممبران جنہیں آجکل ناظم چئیرمین کہا جاتا ہے میں 6 آزاد 3 چوہدری ظہور الہیٰ شہید کے حامی جبکہ باقی تمام 51 ممبران نے میاں محمد اکبر کے حق میں ووٹ دیا-

    میاں محمد اکبر سیاسی افق پر ایک روشن ستارہ بن کر اُبھرے اور بلا تفریق ذات پات برادری عوامی خدمت کو اپنا شعار بنایا یہی وہ خوبی تھی کہ غیر کاشتکار ہونے کے باوجود انہیں تمام برادریوں کی بھر پور حمایت حاصل تھی میاں محمد اکبر اکثر کہا کرتے تھے کہ حقیقی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے جبکہ تمام لوگ انسانی برادری ہیں یہ وہ وقت تھا جب نوابزادگان طویل عرصہ سے ضلوع گجرات کے سیاہ وسفید کے مالک چلے آ رہے تھے-

    پگانوالہ اور جوڑا خاندان بھی بھر پور اثرو رسوخ کے مالک تھے مگر تمام تر مخالفتوں کے باوجود میاں محمد اکبر اپنی خداداد صلاحیتوں کی بنا پر بھر پور کامیابی سے ہمکنار ہوئے یہ ان کے بے لوث خدمات کا عوامی اعتراف تھا میاں محمد اکبر سن 1962 میں مختصر اپوزیشن کا حصہ تھے حمزہ صاحب، تابش علوری، خواجہ محمد صفدر ان کے ساتھ اپوزیشن بینچوں پر تھے- خواجہ صفدر میاں ، محمد اکبر کے قریبی رفقاء میں رہے اور میاں محمد اکبر کی اچانک بے وقت رحلت کے بعد میاں اکبر فیملی کے سرپرست رہے-

    واقفان حال اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے زعماء کہتے ہیں کہ اگر گورنر پنجاب میر محمد خان ٹکٹ میاں محمد اکبر کو دے دیتے تو ضلع گجرات کی سیاست میں مزید بہتری آ سکتی تھی مگر ٹکٹ میاں محمد اختر پگانوالہ جو کراچی کے لئے دے دیا گیا اور انہوں نے میاں محمد اکبر کی نیک نامی کو استعمال کرتے ہوئے بلا مقابلہ کامیابی حاصل کی میاں محمد اکبر کے استفسار پر بتایا گیا کہ ٹکٹ آپ کے بھائی میاں اختر پگانوالہ کو دے دی گئی ہے یہی وہ مرحلہ تھا جب میاں محمد اکبر نے نوابزادگان کے ساتھ حکومتی بینچوں پر بیٹھنے کی بجائے اُٹھ کر چوہدری ظہور الہیٰ شہید کی طرف دست رفاقت بڑھایا اور مشترکہ انتخابی مہم کا آغاز کیا میاں محمد اکبر چوہدری ظہور الہیٰ گوجروں کے حلقہ میں لے گئے اور انہیں قریہ قریہ متعارف کرایا-

    چوہدری ظہور الہیٰ شہید بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے چوہدری ظہور الہیٰ شہید کے بعد ان کے بھتیجے چوہدری تجمل حسین ، صاحبزادے چوہدری وجاہت حسین پوتے چوہدری حسین الہیٰ کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں نوابزادگان کی بے رخی کے باوجود گوجر برادری میاں اکبر خاندان کے ساتھ بے پناہ انس و محبت رکھتی ہے جو آج بھی قائم ہے صد حیف کچھ نادیدہ قوتوں حاسدین کو ضکع کے عوام کی ترقی فلاح و بہبود اور رواداری کی سیات کا یہ چلن پسند نہ آیا اور پھر وہ دردناک المیہ رونما ہوا کہ جس سے انسانیت کانپ اُٹھی 25 اکتوبر 1970 کو میاں محمد اکبر کو ان کے بھائی میاں محمد مسعود اختر سُسر میجر محمد عبداللہ محافظ سکندر کے ہمراہ بےدردی سے اجتماعی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا-

    میاں صاحبان کی نماز جنازہ میں ملک بھر سے لاکھوں لوگ شریک ہوئے اور اپنے محبوب قائدین کی بے وقت رحلت پر غم و حسرت کی تصویر بنے نظر آئے ایک ہفتہ تک شہر کے تمام بازار بند رہے میاں محمد اکبر اور میاں محمد مسعود اختر حقیقی معنوں میں یکجان دو قالب تھے انہوں نے یہ بھائی چارہ آخری دم تک خوب نبھایا-

    میاں محمد مسعود اختر
    میاں صاحبان کے اجتماعی قتل کا اندہناک سانحہ خاندان پر انتہائی قرب و مصائب کا سبب بنا سکول جاتے 6 معصوم بچوں نے اپنا وقت نہایت خوف کی کیفیت میں گزارا ان کے سامنے زندگی کے طویل کٹھن مراحل تھے اب غمناک شکستہخاندان کی باگ دوڑ تین پردیہ نشین خواتین اور کالج میں زیر تعلیم ایک ک عمر نوجوان کے کندھوں پر آن پڑی اور یہ نوجوان پُر عزم اور باہمت تھا مگر ابھی معاملات زندگانی اور سیایس اثرارو رموز سے واقف نہ تھا آفرین ہے اس باہمت نوجوان پر جس نے تمام تر غم و الم اور نامساعد حالات کے باوجود سیاسی محاز پر سے خلوص لگن کا اعلٰی مظاہرہ تھا-

    خاندانی علم تھامے رکھا اور تن تنہا اپہنے بزرگوں سے خلوص سے اپنے بزرگوں کے عوامی فلاحی مشن کو جاری رکھا غم میں ڈوبے ایل خان کے سامنے ایک طویل اور صبر آزما سفر تھا وہ دل کی اتھاہ گہرائیوں تک عظیم سدقے سے ہل چکے تھے نہ صرف میاں اکبر خاندان بلکہ تمام اہل علاقہ کے لئے یہ ناگہانی صدمہ ایک ناقابل تلافی نقصان تھا-بربریت کے اس شرمناک اور بزدلانہ فعال کو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا جس مین 4 بے گناہ انسانون کو بڑی سفاکی سے دن دیہاڑے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہر آنے والا 25 اکتوبر کا دن 1970 کے اس قومی المیہ کی یاد لاتا رہے گا-جس کی قومی سطح پر بھر پور مزمت کی گئی آزمائش کی گھڑی میں میاں اکبر خاندان کے ساتھ وسیع حلقہ احباب ،دوستوں اتحادیوں اور خیرخوایوں نے بڑا ساتھ نبھایا-

    پھر دنیا سنے اس خاندان کو نہایت باوقار طریقہ سے گھمبیر صورتحال سے نکلتے دیکھا یہ بدرجہ اتم پختہ ایمان اعتماد اور مشن اور نامساعد حالات کے باوجود سیاسی محاذ پر سے پر خلوص لگن کا اعلیٰ مظاہرہ تھا اولیٰ تربیت کا اثر ان کی اولاد مین دیکھا جا سکتا ہے انہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر سب کا بھلا کیا کسی کا بپرا نہیں چاہا اور نہ کبھی عیدے و اختیار کا غلط استعمال کیا بلکہ حکومت و سماجی پوزیشن کو خاندانی روایات کے مطابق فلاح عامہ کا ذریعہ بنایا آج خاندان سیاسی و سماجی خدمت کے 100 سال پورے کر چکا ہے جس مین میاں محمد اکبر اور میان محمد مسعود اختر کا سانحہ ارتحال کے بعد اس نصف صدی میں شامل ہے-

    یہ فیصلہ کرنے کے لئے دنیا ایک مشکل اسکریننگ سنٹر ہے کہ انہوں نے اس سفر کو کیسے آگے بڑھایا۔ میاں برکت خاندان کی جانشین نسلوں کو سلام۔ ہم صحیح ، غلط یا اس دور تک پہنچے ہیں ، اب یہ نوجوان نسل پر منحصر ہے۔ انہیں اپنے بڑوں کے انہیں اپنے بڑوں کے مشن کو آگے کیسے بڑھانا ہے ہماری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں۔

    میاں ہارون مسعود اور گجرات کے میاں عمران مسعود اس خاندان کے سپوت ہین جو اپنے فلاحی منصوبوں اور سیاسی کیریئر کے لئے جانا جاتا ہے۔

    میاں ہارون مسعود


    میاں عمران مسعود

    تحریر: چودھری مقصود انور

  • دلہن اپنے ہی گھر سے 40 لاکھ کا سامان لے کر فرار، دلہے میاں کے خواب چکنا چور

    دلہن اپنے ہی گھر سے 40 لاکھ کا سامان لے کر فرار، دلہے میاں کے خواب چکنا چور

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گجرات میں نوبیاہتا دلہن اپنے خاوند کے گھر سے 40 لاکھ کا سامان اور رقم لے کر فرار ہوگئی.
    تفصیلات کے مطابق گجرات کے نواحی علاقہ جلالپور جٹاں کی معروف کاروباری شخصیت شیخ فواد انور کی دلہن سیدہ عروج ان کے گھر سے چالیس لاکھ کی نقدی اور سامان لے کر فرار ہوگئی. شیخ فواد کا کہنا تھا کہ عروج نے نکاح کے موقع پر اپنا نام فاطمہ بتایا تھا. پولیس نے مقدمہ درج کرلیا. واضح رہے کہ بیاہ کرکے لوٹنے والا گروہ مختلف جگہوں پر سرگرم عمل ہے اور پولیس کی پکڑ سے باہر ہے.