Baaghi TV

Category: گجرات

  • شیر دلان گجرات  میاں محمد اکبر اور میاں محمد مسعود اختر

    شیر دلان گجرات میاں محمد اکبر اور میاں محمد مسعود اختر

    یہ گجرات کے ایک خاندان میں پیدا ہونے والے دو بہادر بھائیوں میاں اکبر اور میاں مسعود کی ولولہ انگیز داستان حیات ہے۔ ان کے والد محترم الحاج میاں برکت علی صاحب انتہائی وضع دار ایک نیک آدمی تھے اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار معتبر مدبر پنچایتی اور صلح جو مشہور تھے لوگ ان کی خوبیوں کے سبب ان کا بہت احترام کرتے تھے تما ذی شعور ان کی اعلیٰ انتظامی و سماجی صلاحیتوں کے معترف تھے انہیں خوبیوں کی بدولت 19ویں صدی کے شروع میں انہیں عوامی نمائندگی کے لئے آگے لایا گیا اور سن 1920 میں بھر پور عوامی پذیرائی سے میونسپل کمشنر گجرات منتخب ہوئے-

    یہ انگریز دور حکومت میں گجرات میں کسی بھی عوامی عہدہ کے لئے براہ راست انتخاب کے نتیجے میں یہ پہلی تقرری تھی بعد ازام میاں برکت علی پہلے منتخب وائس چئیرمین میونسپل کمیٹی بھی بنے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے شہرت کی منزلیں طے کرتے رہے-

    الحاج میاں برکت
    الحاج میاں برکت علی کارواباری صلاحیتوں کی سوجھ بوجھ سے بھی مالا مال تھے اور ان کی کاروباری ترقی میں بھی عوامی فلاح و خدمت ان کا مطمع نظر آتا ہے اسی سوچ کے تحت انہوں نے ٹرانسپورٹ کاروبار کا آغاز کیا اور عوام کو معیاری سستی بس فراہم کی اس سے نہ صرف گجرات بلکہ پنجاب بھر کے عوام کو آمدو رفت میں بڑی آسانی حاصل ہو گئی-

    الحاج میاں برکت علی نے بحثیت چئیرمین گجرات پنجاب بس سروس کے معاملات کو بخوبی انجام دیا اور ضلع بھر کے ممتاز خاندانوں اور برادریوں کی بھی گجرات پنجاب بس سروس میں بطور ڈائریکٹر نمائندگی کی اور اپنی خدا ترس طبعیت کی بناء پر ملازمین کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہو ان کی غلطیوں کو نظرانداز کر کے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے-

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کاروبار تقسیم ہو گیا اور ان کے صاحبزادے میں محمد اکبر نے بحثیت چئیرمین پنجاب بس سروس گروپ بی ذمہداری سنبھالی اور کاروباری معاملات کا ادراک رکھنے کے ساتھ میاں محمد اکبر اپنے بزرگوں کی طرح عوامی خدمت کے جذبے سے بھی سرشار تھےاور سیاست ان کی گٹھی میں تھی اور الحاج میاں برکت کے دونوں صاحبزادے میاں محمد اکبر اور میں محمد مسعود اختر سیای معاملات مین والد کی معاونت بھی کرتے تھے-

    میاں محمد اکبر نے سن 1962 میں مغربی پاکستان ساز اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لیا اس وقت قانون ساز اسمبلی ممبران کا انتخاب بی ڈی ممبران کیا کرتے تھے حلقہ انتخاب میں کُل باسٹھ پی ڈی مبران تھے جن مین سے پچپن نے میاں محمد اکبر کو ووٹ دیئے اور یوں میاں محمد اکبر نے ضلع بھر میں اپنی سیاسی بصیرت کی دھاک بٹھا دی-

    میاں محمد اکبر
    میاں محمد اکبر ایک غیر متزلزل آہنی عزم رکھنے والے بہادر اور نڈر انسان تھے وہ اپنے سیاسی حریفوں سے ببانگ دہل بال خوف و خطر ٹکرائے مگر کبھی بھی سیاسی اختلافات کو ذاتیات تک نہ لائے اور کبھی انا کا مسئلہ نہ بنایا وہ دوستوں کے دوست اور مخالفوں کے دل میں بھی اپنا احترام رکھتے تھے میاں محمد اکبر سھر انگیز شخصیت کے مالک تھے جو بھی ان سے ایک بار ملتا دوسری ملاقات کی بھی چاہ رکھتا اور پھر ہمیشہ کے لئے ان کا گرویدہ بن جاتا-

    میاں محمد اکبر کو تعلقات بنانے اوراور نبھانے میں ملکہ حاصل تھا سن 1962 کے انتخابات میں منتخب ہونے والے بی ڈی ممبران جنہیں آجکل ناظم چئیرمین کہا جاتا ہے میں 6 آزاد 3 چوہدری ظہور الہیٰ شہید کے حامی جبکہ باقی تمام 51 ممبران نے میاں محمد اکبر کے حق میں ووٹ دیا-

    میاں محمد اکبر سیاسی افق پر ایک روشن ستارہ بن کر اُبھرے اور بلا تفریق ذات پات برادری عوامی خدمت کو اپنا شعار بنایا یہی وہ خوبی تھی کہ غیر کاشتکار ہونے کے باوجود انہیں تمام برادریوں کی بھر پور حمایت حاصل تھی میاں محمد اکبر اکثر کہا کرتے تھے کہ حقیقی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے جبکہ تمام لوگ انسانی برادری ہیں یہ وہ وقت تھا جب نوابزادگان طویل عرصہ سے ضلوع گجرات کے سیاہ وسفید کے مالک چلے آ رہے تھے-

    پگانوالہ اور جوڑا خاندان بھی بھر پور اثرو رسوخ کے مالک تھے مگر تمام تر مخالفتوں کے باوجود میاں محمد اکبر اپنی خداداد صلاحیتوں کی بنا پر بھر پور کامیابی سے ہمکنار ہوئے یہ ان کے بے لوث خدمات کا عوامی اعتراف تھا میاں محمد اکبر سن 1962 میں مختصر اپوزیشن کا حصہ تھے حمزہ صاحب، تابش علوری، خواجہ محمد صفدر ان کے ساتھ اپوزیشن بینچوں پر تھے- خواجہ صفدر میاں ، محمد اکبر کے قریبی رفقاء میں رہے اور میاں محمد اکبر کی اچانک بے وقت رحلت کے بعد میاں اکبر فیملی کے سرپرست رہے-

    واقفان حال اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے زعماء کہتے ہیں کہ اگر گورنر پنجاب میر محمد خان ٹکٹ میاں محمد اکبر کو دے دیتے تو ضلع گجرات کی سیاست میں مزید بہتری آ سکتی تھی مگر ٹکٹ میاں محمد اختر پگانوالہ جو کراچی کے لئے دے دیا گیا اور انہوں نے میاں محمد اکبر کی نیک نامی کو استعمال کرتے ہوئے بلا مقابلہ کامیابی حاصل کی میاں محمد اکبر کے استفسار پر بتایا گیا کہ ٹکٹ آپ کے بھائی میاں اختر پگانوالہ کو دے دی گئی ہے یہی وہ مرحلہ تھا جب میاں محمد اکبر نے نوابزادگان کے ساتھ حکومتی بینچوں پر بیٹھنے کی بجائے اُٹھ کر چوہدری ظہور الہیٰ شہید کی طرف دست رفاقت بڑھایا اور مشترکہ انتخابی مہم کا آغاز کیا میاں محمد اکبر چوہدری ظہور الہیٰ گوجروں کے حلقہ میں لے گئے اور انہیں قریہ قریہ متعارف کرایا-

    چوہدری ظہور الہیٰ شہید بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے چوہدری ظہور الہیٰ شہید کے بعد ان کے بھتیجے چوہدری تجمل حسین ، صاحبزادے چوہدری وجاہت حسین پوتے چوہدری حسین الہیٰ کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں نوابزادگان کی بے رخی کے باوجود گوجر برادری میاں اکبر خاندان کے ساتھ بے پناہ انس و محبت رکھتی ہے جو آج بھی قائم ہے صد حیف کچھ نادیدہ قوتوں حاسدین کو ضکع کے عوام کی ترقی فلاح و بہبود اور رواداری کی سیات کا یہ چلن پسند نہ آیا اور پھر وہ دردناک المیہ رونما ہوا کہ جس سے انسانیت کانپ اُٹھی 25 اکتوبر 1970 کو میاں محمد اکبر کو ان کے بھائی میاں محمد مسعود اختر سُسر میجر محمد عبداللہ محافظ سکندر کے ہمراہ بےدردی سے اجتماعی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا-

    میاں صاحبان کی نماز جنازہ میں ملک بھر سے لاکھوں لوگ شریک ہوئے اور اپنے محبوب قائدین کی بے وقت رحلت پر غم و حسرت کی تصویر بنے نظر آئے ایک ہفتہ تک شہر کے تمام بازار بند رہے میاں محمد اکبر اور میاں محمد مسعود اختر حقیقی معنوں میں یکجان دو قالب تھے انہوں نے یہ بھائی چارہ آخری دم تک خوب نبھایا-

    میاں محمد مسعود اختر
    میاں صاحبان کے اجتماعی قتل کا اندہناک سانحہ خاندان پر انتہائی قرب و مصائب کا سبب بنا سکول جاتے 6 معصوم بچوں نے اپنا وقت نہایت خوف کی کیفیت میں گزارا ان کے سامنے زندگی کے طویل کٹھن مراحل تھے اب غمناک شکستہخاندان کی باگ دوڑ تین پردیہ نشین خواتین اور کالج میں زیر تعلیم ایک ک عمر نوجوان کے کندھوں پر آن پڑی اور یہ نوجوان پُر عزم اور باہمت تھا مگر ابھی معاملات زندگانی اور سیایس اثرارو رموز سے واقف نہ تھا آفرین ہے اس باہمت نوجوان پر جس نے تمام تر غم و الم اور نامساعد حالات کے باوجود سیاسی محاز پر سے خلوص لگن کا اعلٰی مظاہرہ تھا-

    خاندانی علم تھامے رکھا اور تن تنہا اپہنے بزرگوں سے خلوص سے اپنے بزرگوں کے عوامی فلاحی مشن کو جاری رکھا غم میں ڈوبے ایل خان کے سامنے ایک طویل اور صبر آزما سفر تھا وہ دل کی اتھاہ گہرائیوں تک عظیم سدقے سے ہل چکے تھے نہ صرف میاں اکبر خاندان بلکہ تمام اہل علاقہ کے لئے یہ ناگہانی صدمہ ایک ناقابل تلافی نقصان تھا-بربریت کے اس شرمناک اور بزدلانہ فعال کو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا جس مین 4 بے گناہ انسانون کو بڑی سفاکی سے دن دیہاڑے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہر آنے والا 25 اکتوبر کا دن 1970 کے اس قومی المیہ کی یاد لاتا رہے گا-جس کی قومی سطح پر بھر پور مزمت کی گئی آزمائش کی گھڑی میں میاں اکبر خاندان کے ساتھ وسیع حلقہ احباب ،دوستوں اتحادیوں اور خیرخوایوں نے بڑا ساتھ نبھایا-

    پھر دنیا سنے اس خاندان کو نہایت باوقار طریقہ سے گھمبیر صورتحال سے نکلتے دیکھا یہ بدرجہ اتم پختہ ایمان اعتماد اور مشن اور نامساعد حالات کے باوجود سیاسی محاذ پر سے پر خلوص لگن کا اعلیٰ مظاہرہ تھا اولیٰ تربیت کا اثر ان کی اولاد مین دیکھا جا سکتا ہے انہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر سب کا بھلا کیا کسی کا بپرا نہیں چاہا اور نہ کبھی عیدے و اختیار کا غلط استعمال کیا بلکہ حکومت و سماجی پوزیشن کو خاندانی روایات کے مطابق فلاح عامہ کا ذریعہ بنایا آج خاندان سیاسی و سماجی خدمت کے 100 سال پورے کر چکا ہے جس مین میاں محمد اکبر اور میان محمد مسعود اختر کا سانحہ ارتحال کے بعد اس نصف صدی میں شامل ہے-

    یہ فیصلہ کرنے کے لئے دنیا ایک مشکل اسکریننگ سنٹر ہے کہ انہوں نے اس سفر کو کیسے آگے بڑھایا۔ میاں برکت خاندان کی جانشین نسلوں کو سلام۔ ہم صحیح ، غلط یا اس دور تک پہنچے ہیں ، اب یہ نوجوان نسل پر منحصر ہے۔ انہیں اپنے بڑوں کے انہیں اپنے بڑوں کے مشن کو آگے کیسے بڑھانا ہے ہماری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں۔

    میاں ہارون مسعود اور گجرات کے میاں عمران مسعود اس خاندان کے سپوت ہین جو اپنے فلاحی منصوبوں اور سیاسی کیریئر کے لئے جانا جاتا ہے۔

    میاں ہارون مسعود


    میاں عمران مسعود

    تحریر: چودھری مقصود انور

  • دلہن اپنے ہی گھر سے 40 لاکھ کا سامان لے کر فرار، دلہے میاں کے خواب چکنا چور

    دلہن اپنے ہی گھر سے 40 لاکھ کا سامان لے کر فرار، دلہے میاں کے خواب چکنا چور

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گجرات میں نوبیاہتا دلہن اپنے خاوند کے گھر سے 40 لاکھ کا سامان اور رقم لے کر فرار ہوگئی.
    تفصیلات کے مطابق گجرات کے نواحی علاقہ جلالپور جٹاں کی معروف کاروباری شخصیت شیخ فواد انور کی دلہن سیدہ عروج ان کے گھر سے چالیس لاکھ کی نقدی اور سامان لے کر فرار ہوگئی. شیخ فواد کا کہنا تھا کہ عروج نے نکاح کے موقع پر اپنا نام فاطمہ بتایا تھا. پولیس نے مقدمہ درج کرلیا. واضح رہے کہ بیاہ کرکے لوٹنے والا گروہ مختلف جگہوں پر سرگرم عمل ہے اور پولیس کی پکڑ سے باہر ہے.

  • گجرات  لاک ڈئ

    گجرات لاک ڈئ

    گجرات ( بلال ملک سے)

  • چوہدری سلیم سرور جوڑا کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ون ٹو ون ملاقات، گجرات کے لئے مذید منصوبوں کی منظوری پر اتفاق

    چوہدری سلیم سرور جوڑا کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ون ٹو ون ملاقات، گجرات کے لئے مذید منصوبوں کی منظوری پر اتفاق

    گجرات ( طارق محمود سے) چوہدری سلیم سرور جوڑا کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات ، گجرات کے لئے مذید منصوبوں کی منظوری پر اتفاق تفصیلات کے مطابق صوبائی پارلیمانی سیکرٹری سوشل ویلفیر وبیت المال چوہدری سلیم سرور جوڑا کی لاہور میں وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سے ون ٹو ون ملاقات.متوازن صوبائی بجٹ پر مباکباد دی ۔گجرات حلقہ پی پی 31کے لیے ترقیاتی منصوبوں کو منظور کرنے ۔مزید ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد پر تبادلہ خیال کیا وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے چوہدری سلیم سرور جوڑا کو یقین دہانی کرائی کہ تمام حلقوں میں ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کے حوالے سے کوئی امتیاز نہی برتا جاے گا اورجو شہر گجرات کے ترقیاتی منصوبوں کا کہا ہے وہ انشاء مکمل کیے جائیں گے گجرات میں صحت ۔تعلیم ۔صاف پینے کے پانی کی فراہمی ۔صفائی کے لیے مزید عملہ کی فراہمی ۔ہر کام ہونگے چوہدری سلیم سرور جوڑا نے وزیر اعلی پنجاب سے گجرات میں انتظامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا

  • گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں صدر ثوبان ظہیر بٹ کی زیرصدارت ایک اہم میٹنگ ایکسپورٹس انڈسٹری اور ڈاکٹر خرم شہزادڈپٹی کمشنر گجرات کے درمیان ہوئی

    گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں صدر ثوبان ظہیر بٹ کی زیرصدارت ایک اہم میٹنگ ایکسپورٹس انڈسٹری اور ڈاکٹر خرم شہزادڈپٹی کمشنر گجرات کے درمیان ہوئی

    گجرات (چوہدری فیضان ارشاد سے)گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں صدر ثوبان ظہیر بٹ کی زیرصدارت ایک اہم میٹنگ ایکسپورٹس انڈسٹری اور ڈاکٹر خرم شہزادڈپٹی کمشنر گجرات کے درمیان ہوئی جس میں موجودہ صورتحال اور لاک ڈاؤن میں ایکسپورٹس آرڈرز کو مکمل کرنے اور ایکسپورٹس انڈسٹری کھولنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ میں خرم الطاف بھٹی نائب صدر چیمبر اور دیگرنے شرکت کی۔ صدر چیمبر ثوبان ظہیر بٹ نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن اس مشکل اور غیر معمولی صورتحال میں بہترین کام کر رہی ہے اور اس کے لئے گجرات میں آئسولیشن سنٹرز اور مشتبہ ایریاز کوقرنطینہ بھی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہم سمجھتے ہیں کہ اس کورونا کووڈ 19 وبا کے پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے لاک ڈاؤن ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ بزنسز اور اس کے سپلائی چین کو بھی مرحلہ وار کھولنے کیلئے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو لائحہ عمل مرتب کرنا پڑے گا کیونکہ ابھی تو انڈسٹری اور ٹریڈرز اپنے ایمپلائز اور لیبر کو تنخواہیں دے رہے ہیں لیکن یہ آگے کرنا انتہائی مشکل ہو گا کیونکہ ہمیں کیش ان ہینڈ کا مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ سب سے اہم ایکسپورٹ سیکٹر ہے اور حکومت نے جو اس سیکٹر کو کام کرنے کی اجازت دی ہے وہ خوش آئند ہے کیونکہ گجرات میں بھی ایکسپورٹرز کے پاس آرڈرز موجود ہیں اور کچھ آرڈرز پراسس میں ہیں لیکن ان ایکسپورٹ یونٹس کو پروڈکشن کیلئے بھی وینڈرز سے مال را میٹریلز کی ضرورت پڑے گی اس لئے ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ان کے بارے میں بھی سوچے تاکہ را میٹریلز کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ کل حکومت کے اعلان کے مطابق جو سیکٹرز کھولے گئے ہیں ان میں بھی حکومت چیمبرز آف کامرس سے را ئے لے کر مزید سیکٹرز کو بھی شامل کرے۔ ملک اظہار احمد چیئرمین پیفما نے کہا کہ جن ایکسپورٹرز کو اجازت دی جا رہی ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے وہ لوکل مارکیٹ کے حوالے سے پروڈکشن نہ کریں۔ ہمارے وینڈرز کو بھی ہمیں مال فراہم کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس حولاے سے ہم وینڈرز کی ڈٹیلز چیمبر کو فراہم کر دیں گے۔ لیکن ایکسپورٹرز کو پہلے اپنے ایکسپورٹس آرڈرز (TDAP) ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے ویری فائی کرانا ہوں گے۔ ہماری طرف سے چیمبر اور پفما ضلعی انتظامیہ کو اس بات کی یقین دہانی کرواتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ SOP’s پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جائے گا کیونکہ اگر ہمارا رویہ ذمہ دارانہ ہو گا تو ہم حکومت سے بقیہ انڈسٹری کھولنے کیلئے بھی سفارش کریں گے۔ انہوں نے کہا ایکسپورٹس کے علاوہ آئسولیشن اور قرنطینہ سنٹرز کیلئے بھی ہمیں سندھ اور بلوچستان حکومت کی طرف سے آرڈرز دیئے گئے ہیں وہ بھی ہم مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں اس کے لئے بھی 20، 30 فیصد لیبر کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ خرم الطاف بھٹی نائب صدر چیمبر نے کہا ہم حکومت کے اس قدام کی حمایت کرتے ہیں کہ وہ ایکسپورٹرز کو فیسیلیٹیٹ کرنا چاہتے ہیں اور گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری بھی ضلعی انتظامیہ کی طرح ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اپنے ممبرز اور تمام بزنس مینوں کو حکومت کی طرف سے جاری کردہ قواعد و ضوابط شیئر کرنا ہے اور اپنی سطح پر بھی اویرنیس جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس کو کنٹرول کیا جا سکے۔میاں امان اللہ پاک فین اور یاسر احسان پاک فین نے کہا کہ ہماری انڈسٹری SOP’s کو یقینی بنائے گی لیکن چاہتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ ہماری معاونت کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مختلف شفٹوں میں اپنے آرڈرز مکمل کروائیں گے۔ محمد منیر پشاوری امین فین نے کہا یہ SOP’s میں سے کچھ ایسے ہیں جن میں کچھ نرمی برتی جائے اور اس بات کی بھی یقین دہانی کرائے جو فیکٹری ان SOP’s پر عملدرآمد کرے گی ضلعی حکومت اس کے خلاف ایکشن نہیں لے گی بلکہ اگر کہیں کمی رہ جائے تو اس میں گائیڈنس فراہم کرے گی۔ ڈاکٹر خرم شہزاد ڈپٹی کمشنر گجرات نے کہا اس وبا میں سارے حالات آپ کے سامنے ہیں اور ان غیر معمولی حالات میں گورنمنٹ کو غیر معمولی فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔ جب لاک ڈاؤن کہا گیا تو سب کچھ بند کر دیا گیا لیکن حکومت اب مختلف فیزز میں مختلف انڈسٹریل سیکٹرز اور بزنسز کو اوپن کرنا چاہتی ہے لیکن اس میں چانسز ہوتے ہیں کہ اگر پابندیاں کم کی جائیں گی تو وائرس پھر بھی تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ اس لئے ہمیں تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ سب کی سیفٹی کیلئے فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ جو کل ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے اس میں تمام تفصیلات بتا دی گئی ہیں۔ کن شعبوں کو لاک ڈاؤن سے مستشنیٰ قرار دیا ہے۔ یہ سب تفصیلات آپ کے ساتھ بھی شیئر کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ SOP’s مرتب کئے ہیں وہ بھی آپ کے ساتھ شیئر کر دیئے گئے ہیں تاکہ آپ سب ایکسپورٹرز اور شعبوں تک پہنچا سکیں۔ انہوں نے کہا سب سے اہم بات ذمہ داری کا احساس ہے کیونکہ ہر شخص اپنی ذمہ داری کو سمجھے گا اور اس کو بخوبی انجام دے گا تو ہم حالات پر کنٹرول رکھ سکتے ہیں۔ جو SOP’s انڈسٹریز کامرس اینڈ انویسمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے جاری کئے ہیں ان پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور ایکسپورٹرز کے جو آرڈرز ہیں وہ IDAP سے ویریفائی ہوں گے۔ اس کے بعد ہم این او سی جاری کر دیں گے۔ الائیڈ فیسی لیٹیز اور وینڈرز کو بھی ریلیکسیشن دی جائے گی تاکہ وہ مینو فیکچرز (ایکسپورٹرز)کو مال فراہم کر سکیں وہ باہم تعاون سے کچھ دیر کیلئے اپنے احاطے اوپن کر سکیں گے۔ اس میں صرف 20 فیصد لیبر کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ہو گی۔ انہوں نے کہا حالات اتنی جلدی تبدیل نہیں ہوں گے اور ہمارے لائف سٹائلز میں سوشل ڈسٹینس اور دیگر احتیاطوں کا شامل کرنا اب لازم ہے کیونکہ ابھی تک اس کی کوئی ویکسین نہیں آئی ہے۔ ہم جس قدر ذمہ دار ہو جائیں گے۔ پابندیاں اسی قدر کم لگائی جائیں گی۔ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ بھی آپ کے ساتھ تعاون کرے گااور اس کے علاوہ انسپکشن کے بعد جرمانے یا فیکٹریز کو seal نہیں کیا جائے گا بلکہ چیمبر آف کامرس کو انفارم کیا جائے گا کہ وہ SOP’s پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ اے ڈی سی جی توقیر الیاس چیمہ نے ایکسپورٹرز کو مختلف SOP’s کی تفصیلات بھی بتائیں۔

  • ڈی ایس پی ملک عامر جو عمدہ شخصیت کے مالک ہیں ان کو ڈی ایس پی کامکونکی تعینات کر دیا گیا۔۔

    ڈی ایس پی ملک عامر جو عمدہ شخصیت کے مالک ہیں ان کو ڈی ایس پی کامکونکی تعینات کر دیا گیا۔۔

    گجرات (چوہدری فیضان ارشاد سے)پی ایس او ٹو ڈی پی او گجرات جن کی حال ہی میں پروموشن ہو جوکہ انسپیکٹر سے ڈی ایس پی کے عہدے پر فائز ہو گئے ہیں ملک عامر صاحب جو کہ ملنسار اور خوش اخلاق اور اعلیٰ کردار کے مالک ہیں ان کو ڈی ایس پی کامکونکی تعینات کر دیا گیا لوگوں کی مبارکباد جاری۔ اور امید ہے کہ وہ کامونکی کو امن کا گہوارہ بنائے گئے اور جرائم پیشہ عناصر کیخلاف بھرپور کارروائی کرے گے اور کامونکی کو کو جرائم سے پاک کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گے۔۔

  • ڈپٹی کمشنر گجرات ڈاکٹر خرم شہزاد کی خصوصی ہدایت پر ضلع گجرات میں 44 مرکز کو اشیاء خوردونوش اور فری ہوم ڈیلیوری کے لیے نامزد کر دیا گیا۔۔۔۔۔۔

    ڈپٹی کمشنر گجرات ڈاکٹر خرم شہزاد کی خصوصی ہدایت پر ضلع گجرات میں 44 مرکز کو اشیاء خوردونوش اور فری ہوم ڈیلیوری کے لیے نامزد کر دیا گیا۔۔۔۔۔۔

    گجرات (چوہدری فیضان ارشاد سے) گجرات میں دن با دن کورونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہوتا جا رہا اس خطرے کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ڈپٹی کمشنر گجرات ڈاکٹر خرم شہزاد کا انقلابی قدم۔ گجرات میں اشیاء خوردونوش کی فراہمی کے لیے 44 مرکز کو فائنل کر دیا۔ لوگوں کو گھروں سے نکلنے کی ضرورت نہیں اب گھر میں بیٹھ کر آرڈر کریں اور اشیا خوردونوش گھر میں پائیں۔
    پورا شہر لاک ڈاؤن رہے گا لوگوں کو ہدایات جاری کی گئی ہے کہ تمام لوگ گھروں تک محدود رہیں۔۔۔

  • ضلع گجرات کے نہایت ملنسار اور خوش اخلاق انسپیکٹر ملک عامر کو ڈی ایس پی پروموٹ کر دیا گیا۔۔

    ضلع گجرات کے نہایت ملنسار اور خوش اخلاق انسپیکٹر ملک عامر کو ڈی ایس پی پروموٹ کر دیا گیا۔۔

    گجرات (چوہدری فیضان ارشاد سے) پنجاب بھر میں پنجاب پولیس کے انسپکٹرز کو ڈی ایس پی پروموٹ کر دیا گیا۔ جن میں ضلع گجرات کے ایک نہایت ملنسار،خوش احلاق،اور عمدہ شخصیت مالک ملک عامر صاحب جو کہ انسپیکٹر تھے اور ڈی پی او گجرات کے پرسنل سٹاف آفیسر تھے ان کو ڈی ایس پی آج آر پی او گوجرنوالہ آفس میں پروموٹ کر دیا گیا نوٹیفکیشن جاری ۔

  • ملک بھر کی طرح گجرات میں کورونا وائرس کی صورتحال  ڈاکٹر سمیت 49 افراد کورونا وائرس کا شکار

    ملک بھر کی طرح گجرات میں کورونا وائرس کی صورتحال ڈاکٹر سمیت 49 افراد کورونا وائرس کا شکار

    گجرات (چوہدری فیضان ارشاد سے)
    ضلع گجرات ڈاکٹر سمیت 49 افراد کورونا وائرس کا شکار ضلع گجرات میں ٹوٹل زیر علاج مریضوں کی تعداد تقریباً327 تھی جن میں 113 کو ڈسچارج کردیا گیا 175 مریضوں کے ٹیسٹ رپورٹس کا انتظار 49 مریضوں کی مختلف قرنطینہ سینٹرز میں ٹریٹمنٹ جاری قرنطینہ سنٹرز سمیت ضلع بھر میں مشتبہ افراد کے گھروں کے باہر اور اندر محکمہ صحت، پاک آرمی، گجرات پولیس کا عملہ تعینات ہیں زیر علاج مریضوں میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نائٹ ڈاکٹر رضوان ، 44 سالہ نصرت بی بی آف سپین سکنہ جلالپور جٹاں، 24 سالہ فخر عباس سکنہ کھاریاں، 55یاسر ظفر سکنہ سمبلی جٹاں سرائے عالمگیر، 27 سالہ ماہم عمران سکنہ سمبلی جٹاں سرائے عالمگیر، 35 سالہ روبینہ عابد سکنہ اسمبلی جٹاں سرائے عالمگیر، 40 سالہ عامر عجیب سکنہ سمبلی جٹاں سرائے عالمگیر، 35 سالہ رضوانہ کوثر سکنہ سمبلی جٹاں سرائے عالمگیر،10 سالہ عرفان، 10 سالہ عمران فاطمہ سکنائے سمبلی جٹاں سرائے عالمگیر، 50 سالہ نذیر بیگم سکنائے چانگانوالی، 34 سالہ کامران سکنہ کھاریاں کینٹ، چالیس سالہ عمران گجر آف اٹلی سکنہ بھولا جلال الدین لالہ موسیٰ 40 سالہ شعیب آف سپین سکنہ حسین کالونی کالوپورہ، 23 سالہ عبدالستار سکنہ لالہ موسیٰ، 24 سالہ عبدالغفار آف سپین سکنہ لالہ موسیٰ، 55 سالہ محمد وارث آف سعودیہ سکنہ کھاریاں،، 28 سالہ حسن الیاس آف بیلجئیم سکنہ گلزار مدینہ روڈ گجرات، 40 سالہ غلام عباس آف سپین سکنہ سمبلی جٹاں سرائے عالمگیر، 23 سالہ ولید سکنہ شادیوال، م45 سالہ ماجد تسنیم سکنہ گمٹی، 40 سالہ بشارت آف سپین سکنہ شادیوال ،18 سالہ عامش بشارت سکنہ شادیوال شامل ہیں

  • ضلع گجرات ٹریفک کو روکنے کے مکمل لاک ڈاؤن،تمام داخلی و خارجی راستوں کو مکمل سیل کر دیا گیا۔ انتظامیہ

    ضلع گجرات ٹریفک کو روکنے کے مکمل لاک ڈاؤن،تمام داخلی و خارجی راستوں کو مکمل سیل کر دیا گیا۔ انتظامیہ

    گجرات (چوہدری فیضان ارشاد سے)ضلع گجرات کے مختلف علاقوں میں شام 7 بجے کے بعد کرفیو لگنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، گردونواح کے مختلف دیہاتوں میں پولیس کی جانب سے سے مساجد میں اعلانات کیے جارہے ہیں کہ جو بندہ شام 7 بجے کے بعد سے بلاوجہ گھر سے باہر نکلے گا اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ اس وجہ سے کیونکہ پنجاب میں لاہور کے بعد گجرات میں مریضوں کی تعداد میں دن با دن اضافہ ہوتا جارہا۔ اب لوگ گھروں تک ہی محدود رہے گے۔۔انتظامیہ کا کہنا ہےکہ اس کو کرفیو نہ سمجھیں یہ صرف آپ لوگوں کی بلائ کے لیے ہے۔ کیونکہ گجرات پنجاب میں دوسرے نمبر پر ہے لہذا ہماری عوام الناس سے گزارش ہے کہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔