Baaghi TV

Category: حیدرآباد

  • میرپورخاص:میرا ماضی  اور حال سب کے سامنے ہے،سابق ایم این اے سید علی نواز شاہ

    میرپورخاص:میرا ماضی اور حال سب کے سامنے ہے،سابق ایم این اے سید علی نواز شاہ

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ )میرپورخاص سے منتخب ہونے والے سابق آزاد رکن قومی اسمبلی سید علی نواز شاہ کی رہائشگاہ پر این اے 211 کے الیکشن کے حوالے سے منتظمین اور میرپورخاص کی عوام اور مختلف کمیونٹی کے افراد سے رائے طلب کرنے کے لئے ایک اجلاس انعقاد پذیر ہوا ، اجلاس میں موجود افراد سے سید علی نواز شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا ماضی حال سب کے سامنے ہے میرپورخاص کے شہریوں کے لئے بڑھ چڑھ کر ترقیاتی کام کرائے جبکہ میں سرکاری رکن اسمبلی نہیں تھا ،

    ان کا کہناتھاکہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ میں ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ 15 سال اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ 30 سال مسلسل کام کر چکا ہوں اس دوران جیل کی صعوبتیں ڈنڈے ،لاٹھیاں اور اس وقت کے حکمرانوں کے دور کی سختیاں بھی برداشت کی ہیں ،مگر آج جو پیپلز پارٹی پر ٹولہ قابض ہو چکا ہے اس ٹولے نے تو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر مٹھائی تقسیم کی تھی محترمہ نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو تنہا چھوڑ دیا تھا ۔پہلے بھی کہا تھا آج بھی کہتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو محترمہ بے نظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی کے وارث ہم ہیں

    آج پیپلز پارٹی کے امیدوار اگر ووٹ مانگنے لوگوں کے پاس جا رہے ہیں تو لوگ انہیں اپنی اوطاقوں سے بھگا رہے ہیں ان سے اس قسم کے سوالات کئے جا رہے ہیں کہ جس کا وہ جواب نہیں دے سکتے ، علی نواز شاہ نے عوام کو شعور دیا ہے میرپورخاص کی عوام نے سر اٹھانا سیکھ لیا ہے

    انہوں نے مزید کہا کہ ہارنا جیتنا تو نصیب کی بات ہے سب اللہ کی طرف سے ہے ، پیپلز پارٹی کے امیدواروں سے عوام کے سوال جواب اور انہیں اپنے گھروں سے بھگانے کا عمل دیکھ کر سمجھ میں آتا ہے کہ عوام علی نواز شاہ کے حق میں فیصلہ دے رہی ہے ،

    سید علی نواز شاہ نے کہا کہ کچھ لوگ میرے پاس آکر کہتے ہیں کہ آپ کتنی جگہ سے الیکشن لڑو گے ، اگر جیت گئے تو ایک سیٹ رکھ کر باقی نشستیں چھوڑنا ہوں گی میں ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں بار بار ان سیٹوں پر الیکشن لڑوں گا،

    اس موقع پرپی ایس 47 کے امیدوار اور سید علی نواز شاہ کے فرزند سید شجاع محمد شاہ نے کہا کہ میں نے اپنے بزرگوں سے سچ اور ایمانداری سیکھی ہے ہمارا خاندان امانت میں خیانت نہیں کرتا ،ہمیں میرپورخاص ڈویژن کی عوام ووٹ دیتی ہے ووٹ ایک قومی امانت ہے آپ درست سمت میں اس کا استعمال کریں میر پور خاص شہر کا ایک دورہ کریں علاقہ مکینوں سے احوال لے لیں اور پھر حق بجانب فیصلہ کریں ، اگر پیپلز پارٹی نے کوئی کام کیا ہے تو انہیں ووٹ دیں

    ہم نے پیپلزپارٹی کے مقابلے میں عوام کی صحیح طور پر خدمت کی ہے تو پھر ہمیں خدمت کا دوبارہ موقع دیں ہمیں منتخب کریں 8 فروری کو تالے پر مہر لگائیں انشاءاللہ 8 فروری کا سورج ظالموں ،منافقوں، رشوت خوروں اور کرپشن میں ملوث سابقہ حکمرانوں کی شکست کا اعلان کرنے کے لئے طلوع ہوگا اور انشاءاللہ وہ 8 فروری کو غروب آفتاب سے پہلے عبرت ناک شکست سے دو چار ہو جائیں گے۔

    اس موقع پرجاویداحمد خان پاپا ،چوہدری اشرف، حاجی محمد علی سموں، چراغ بلوچ، یو سی چیئرمین یاسین بلوچ، جنرل کونسلر زبیر گدی ،سلیم قائم خانی جیون ایڈوکیٹ، جنرل کونسلر کاشف اقبال، جنرل کونسلر سید لیاقت علی شاہ، انجمن تاجران کے کامران میمن ،نواب قریشی، فقیر نصیر خاصخیلی ،عبدالعزیز بنگلانی ،سلیم میمن ،محسن علی شاہ ،پروفیسر حمید شیخ، محمد علی لغاری، اللہ بچایو مہر ،کونسلر فیصل میئو راجپوت اور کونسلر فرخ میئو اور راجپوت حسین بخش خمیسانی اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں علی نواز شاہ کی قیادت پربھرپور اعتماد ہے

    علی نواز شاہ نے ماضی میں بھی ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے اور انشاءاللہ تعالی آئندہ بھی بھرپور طریقے سے ترقیاتی کام کرائیں گے ، اجلاس میں الیکشن مہم چلانے کے لائحہ عمل طے کیا گیا، جب کہ سب سے پہلے اجلاس میں میرپورخاص میں کار ایکسیڈنٹ میں انتقال کر جانے والے سید بابو شاہ کے فرزند سید اشہد شاہ کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی . جبکہ اجلاس کی کوریج میرپورخاص کی مشہور سوشل میڈیا ٹیم صدائے حق پاکستان کےسید شاہزیب شاہ ،حیات قریشی ،محمد علی بھرگڑی، احتشام قریشی ،سید شاہ زیب شاہ اور منیب قریشی ودیگر نمائندوں نے کی.

  • نوری آباد:بااثرقبضہ مافیا،محکمہ ریونیواور پولیس گٹھ جوڑ کیخلاف احتجاج

    نوری آباد:بااثرقبضہ مافیا،محکمہ ریونیواور پولیس گٹھ جوڑ کیخلاف احتجاج

    نوری آباد،باغی ٹی وی (نامہ نگاراللہ وسایا پالاری)بااثرقبضہ مافیا،محکمہ ریونیواور پولیس گٹھ جوڑ کیخلاف احتجاج
    نوری آباد کے قریب بااثر قبضہ مافیا اور محکمہ ریونیواور پولیس کے خلاف مقامی لوگوں نے سروس روڈ بند کرکے احتجاجی مظاہرہ کیا اور شدیدنعرےبازی کی گئی، حضور بخش پالاری۔ گل زمان پالاری اللہ رکھا پالاری زبیر پالاری اور دیگر لوگوں نے سرورس روڈ پر احتجاج کیا

    گاؤں نواب پالاری بخشوخان پالاری اللہ رکھا۔حضور بخش پالاری گلاب پالاری اور دیگر رہائشی کی زمینوں پر قبضہ کیا گیا ہے بااثر مالک احسن جھوٹے کھاتے ڈال کر مکینوں کی 129 ایکڑ اراضی پر قبضہ کیا جا رہا ہے،جسے پولیس اور محکمہ ریونیوکی پشت پناہی حاصل ہے ،کرپٹ عناصرکی وجہ سے گاؤں کے لوگوں کی زمینوں پر ناجائزقبضے کئے جارہے ہیں

    متاثرین ے نگران حکومت سندھ اورمقتدر حلقوں ور اعلیٰ عدلیہ سے قبضہ مافیا سے نجات دلانے کی اپیل کی ہے اورگاؤں نے آئی جی سندھ سے نوٹس لینے مطالبہ کیا ہے اور قبضہ مافیاکوتحفظ دینے والی پولیس کی کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی کی جاۓ.

  • ہمیں نفرت اور تقسیم کی سیاست کا خاتمہ کرنا ہوگا، بلاول بھٹو زرداری

    ہمیں نفرت اور تقسیم کی سیاست کا خاتمہ کرنا ہوگا، بلاول بھٹو زرداری

    حیدرآباد: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہمیں نفرت اور تقسیم کی سیاست کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

    باغی ٹی وی : حیدر آباد میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ بڑے بڑے لیڈرز کو قتل کردیاگیا، کچھ لوگ چاہتے ہیں سیاسی تقسیم اور نفرت برقرار رہے، ملک میں نفرت کا بخار توڑنا ہوگا، لیکن اس کا مطلب ذاتی دشمنی نہیں ہے ہمیں نفرت اور تقسیم کی سیاست کا خاتمہ کرنا ہوگا، ایک دوسرے کو غدار کہہ کر ملک کو کیسے چلایا جا سکتا ہے، ہر پاکستانی محب وطن پاکستانی ہے، اختلاف رائے رکھنا سب کاحق ہے، ہمیں مل کر تمام خطرات کا مقابلہ کرناہوگا۔

    آج رواں سال کی سب طویل رات ہو گی

    https://x.com/PPP_Org/status/1737795119548707249?s=20
    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عوام جان لیں اتحاد میں ہی جیت ہےتو یہ قوتیں ہار جائیںگی اپنی ثقافت کا فروغ ہمارے لئے ضروری ہے،دنیا کے ساتھ چلنے کیلئے اپنی ثقافت کو اجاگر کرنا ہوگا، ہر صوبے کو اپنی ثقافت اور تاریخ کو اون کرنا ہوگا ہم نے پاکستان کو ایک جدید ملک بنانا ہے، نوجوانوں کے ہاتھ سے اسلحہ لے کر قلم دینا ہوگا، دانشور اور نوجوان جاگ جائے تو ملک کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا، 2024 میں پاکستان کو اصلاحات کی ضرورت ہے۔

    اسرائیل کی جارحیت جاری، شمالی غزہ کے تمام اسپتال غیر فعال ہو گئے

    https://x.com/MediaCellPPP/status/1737804473895121291?s=20
    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی آلودگی سے سیاچن کی برف پگھل جائے گی، برف پگھلی تو پہلےسیلاب آئے گا اور پھر پیاس سے لوگ مریں گے، ہمیں اپنے مستقبل کی تیاری پہلے سے کرنی ہوگی، عوام میں آگاہی کیلئے مہم چلانی ہوگی، سندھ کے سیلاب متاثرین کے لئے گھروں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

  • سندھی زبان کے مشہور افسانہ نگار، نثرنگار، شاعر اور صحافی،مدد علی سندھی

    سندھی زبان کے مشہور افسانہ نگار، نثرنگار، شاعر اور صحافی،مدد علی سندھی

    مدد علی سندھی سندھ، پاکستان میں پیدا ہونے والے سندھی زبان کے مشہور افسانہ نگار، نثرنگار، شاعر اور صحافی ہیں ان کی کئی کتابیں شائع ہو ئی ہیں۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    مدد علی سندھی 12 اکتوبر 1950ء کو اللہ بخش قریشی کے گھر میں سندھ کے ضلع حیدرآباد کے شہر حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ مدد علی سندھی نے پرائمری تعلیم فاطمہ گرلز پرائمری اسکول حیدرآباد، سندھ سے حاصل کی۔ یہ اسکول خلافت تحریک کے رہنما شیخ عبدالرحیم کی بڑی بیٹی حاجانی غلام فاطمہ نے قائم کیا تھا اور اس خاتون نے ہی مدد علی سندھی کو تعلیم دلوائی۔ انہوں نے میٹرک تک تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول حیدرآباد سے حاصل کی اور بی اے کی ڈگری گورنمنٹ سچل آرٹس اینڈ کامرس کالج حیدرآباد سے حاصل کی۔ جامعہ سندھ سے ایم اے کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران دو مرتبہ رسٹیکیٹ ہوئے جس وجہ سے مکمل نہ کر سکے۔
    ادبی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔
    مدد علی سندھی کے کئی مضامین، افسانے شائع ہوئے ہیں۔ ان کی شاعری بھی جریدوں میں شائع ہوئی اور مجموعات کی شکل میں بھی شائع الگ سے ہوئے ہیں۔ مدد علی سندھی کی کئی کتابیں آن لائن انٹرنیٹ پر دست یاب ہیں اور پڑھی جاتی ہیں۔ ان کتابوں میں ان کی کتاب گونجا بی کائی کوجا ہے۔ یہ ان کی ایک مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ یہ کتاب گڈ ریڈز پر دست یاب ہے۔
    گُڈ ریڈز دنیا کی سب سے بڑی ویب سائٹ ہے جہاں پر کہ قارئین اور کتابوں کی سفارشات کی جاتی ہیں۔ ویب سائٹ کے مطابق وہ لوگوں کو عالمی سطح پر من پسند کتابوں کے دست یاب ہونے میں معاون ہوتا ہے۔ اس کا آغاز جنوری 2007ء میں ہوا تھا۔مدد علی سندھی کے افسانے اردو میں بھی ترجمہ کیے گئے ہیں۔
    سیاست صحافت
    ۔۔۔۔۔۔
    مدد علی طالب علمی کے زمانے میں سیاست میں متحرک رہے۔ پہلے جیے سندھ اسٹوڈنٹ فیڈریشن میں رہے۔ بعد میں 1969ء میں عوامی لیگ کے لیے حیدرآباد ڈویژن کے آرگنائزر مقرر ہوئے۔ شیخ مجیب الرحمٰن نے انہیں عوامی لیگ کی ورکنگ کمیٹی میں بطور رکن نامزد کیا۔ مدد علی سندھی نے اکتوبر 1970ء میں سندھی زبان میں اگتے قدم نامی جریدہ شایع کیا جس پر 1972ء میں پابندی لگائی گئی اور خود بھی 1978 تک روپوش رہا۔
    ایوارڈ
    ۔۔۔۔۔
    مدد علی سندھی کو 14 اگست2021ء کو خدمات کے عوض صدارتی ایوارڈ تمغائے حسن کارکردگی دیا گیا۔وہ اس وقت نگران وفاقی وزیر تعلیم کے منصب پر فائز ہیں۔

    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)شہر صحرابھانیاں-2005
    ۔ (2)پنرملن-1981
    ۔ (3)دل اندر دریا-1980
    نمایاں کام:گونجا بی کائی کوجا
    مستقل پتا:ای۶، جیسن لگزری اپارٹمنٹ
    بلاک3، کلفٹن کراچی

    اہم اعزازات:تمغائے حسن کارکردگی

  • سکھرحیدرآباد موٹروے کرپشن کیس:ملزمان کے خلاف کرپشن کے ثبوت مل گئے

    سکھرحیدرآباد موٹروے کرپشن کیس:ملزمان کے خلاف کرپشن کے ثبوت مل گئے

    سندھ: سکھرحیدرآباد موٹروے کرپشن کیس میں سابق ڈی سی مٹیاری عدنان رشید اور اسلم پیرزادہ کے خلاف کرپشن کے ثبوت مل گئے۔

    باغی ٹی وی : نیب حکام کے مطابق کرپشن کے الزام میں گرفتار دونوں ملزمان کے موبائل کے ایس ایم ایس، وائس ریکارڈ میسج اور کال ڈیٹا کی فارنزک رپورٹ آگئی ہے گرفتارملزمان کے موبائل سے کرپشن کی رقم تقسیم کرنے کے ثبوت ملے ہیں سکھر حیدرآباد موٹروے کرپشن کیس میں گرفتار دونوں ملزمان سابق ڈی سی عدنان رشید اور اسلم پیرزادہ نواب شاہ اورمٹیاری کی سیاسی شخصیات سے رابطے میں تھے۔نیب حکام کے مطابق فارنزک رپورٹ کی کاپی احتساب عدالت میں جمع کرائیں گے۔

    واضح رہے کہ ایم 6 موٹر وے منصوبے کیلئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے زمینوں کی خریداری کیلئے ڈپٹی کمشنر مٹیاری اور نوشہرو فیروز کو 7 ارب 71 کروڑ 16 لاکھ روپے سے زائد کے فنڈز جاری کیے لیکن زمینوں کی خریداری کے معاملے میں مبینہ طور پر قواعد ضوابط کا خیال نہیں رکھا گیا3 ارب 61 کروڑ روپے سے زائد وصول کرنے والا ڈپٹی کمشنر نوشہروفیروز تاشفین عالم غیر ملکی پرواز سے آذربائیجان فرار ہوگیا۔

    اوچ شریف: مبینہ پولیس مقابلہ ،2 ڈکیت ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

    دوسری جانب 4 ارب روپے سے زائد وصول کرنے والے ڈپٹی کمشنر مٹیاری کی نگرانی میں مبینہ طورپر سوا 2 ارب روپے کیش نکالے گئے لیکن مبینہ طور پر زمین نہیں خریدی گئی سندھ حکومت نے مبینہ کرپشن کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بنائی تھی اور اینٹی کرپشن سندھ نے مقدمات بھی درج کیے تھے۔

    افغانستان میں ایک بار پھر شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے

  • وقت کرتا ہے پرورش برسوں  حادثہ  ایک  دم  نہیں   ہوتا

    وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

    وقت کرتا ہے پرورش برسوں
    حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

    قابل اجمیری

    اردو کے ممتاز شاعر قابل اجمیری 27 اگست، 1931ء کو چرولی، اجمیر شریف میں پیدا ہوئے اور صرف 31 برس کی عمر میں 3 اکتوبر 1962 کو حیدر آباد میں ان کی وفات ہوئی قابل اجمیری کا اصل نام عبد الرحیم تھا۔ وہ سات سال کے تھے کہ ان کے والد تپ دق (ٹی بی) میں مبتلا ہو کر انتقال کرگئے۔ کچھ وقت یتیم خانے میں بسر ہوا۔ کچھ ہی دنوں بعد ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا. پھر ان کی چھوٹی بہن فاطمہ بھی دنیا سے چلی گئی۔ 1948 میں اپنے بھائی شریف کے ساتھ پاکستان آ گئے اور حیدر آباد، سندھ میں رہائش پزیر ہوئے۔

    قابل نے چودہ سال کی عمر میں شاعری کی ابتدا کی۔ ان کی شاعری کو نکھارنے اور سنوارنے میں مولانا مانی اجمیری کا بڑا ہاتھ ہے۔ ان کو حیدرآباد میں دوستوں کا ایک بڑا حلقہ ملا۔ وہ ادبی جریدے "نئی قدریں” کے مدیر اختر انصاری اکبر آبادی کے خاصے قریب رہے۔ قابل حیدرآباد کے روزنامے "جاوید” اور ہفت روزے ” آفتاب” میں قطعات بھی لکھتے رہے۔

    والدین کی طرح تپ دق سے وہ بھی نہ بچ سکے. 1960ء میں کوئٹہ (بلوچستان) کے سینیٹوریم میں داخل ہوئے۔ وہاں ان کی ملاقات ایک مسیحی نرس نرگس سوزن سے ہوئی. کچھ ہی دنوں بعد نرگس سوزن نے اسلام قبول کرکے قابل سے شادی کرلی، جن سے ان کے صاحبزادے ظفر اجمیری نے جنم لیا۔ نرگس سوزن 2 اگست 2001 تک زندہ رہیں.

    ’’کلیات قابل اجمیری‘‘ میں شہزاد احمد نے لکھا "قابل اجمیری کی ذاتی زندگی ایک طویل المیہ تھی لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جب ڈاکٹر نے انہیں سیب کھانے کے لیے مشورہ دیا تھا تو ان کے پاس سیب خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ مگر اس کے باوجود اس ظالم دنیا میں ایک خاتون ایسی ضرور موجود تھی جس نے کوئٹہ کے سینی ٹوریم میں قابل کی شریک حیات بننے کا فیصلہ اس وقت کیا جب اسے معلوم تھا کہ ان کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ پھر اس خاتون نے قابل اجمیری کے لیے ترک مذہب کر کے اسلام بھی قبول کیا تھا۔”

    اس خاتون کے سبب ہی قابل اجمیری کے دو شعری مجموعے ’’رگ جاں‘‘ اور’’ دیدہ بیدار‘‘ شائع ہو سکے۔ ورنہ شاید قابل کا نام کہیں اوراق میں گم ہو چکا ہو تا۔ کیونکہ وہ اپنے مجموعہ کلام شائع کرانے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے تھے۔ بعد میں سلیم جعفری نے 1992 میں”کلیات قابل‘‘شائع کی۔

    ایک صحافی توصیف چغتائی نے بیگم قابل اجمیری کا انٹرویو لیا تھا۔ جس میں انہوں نے لکھا: ’میں نے جگہ جگہ انہیں تلاش کیا اور آخر کار میں نے انہیں ملٹری ہسپتال میں پا ہی لیا۔ اس لمحہ میرا جی چاہا کہ میں ان سے کہوں، مادام آپ بہت عظیم ہیں آپ نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی اپنے ہاتھ لہو میں بھر لیے ایک شاعر اور وہ بھی اردو ادب کا پھر ٹی بی کا مریض اور اس کے لیے اتنی عظیم قربانی! سب کچھ جانتے ہوئے بھی آپ نے اسے کیوں اپنا لیا ؟ لیکن میں ان سے کچھ نہ کہہ سکا دراصل وہ قابل کے ذکر میں ایسی کھوئی ہوئی تھیں کہ میں سنتا رہا اور وہ کہتی رہیں۔‘

    قابل صاحب سے ان کی ملاقات ریلوے کے سینی ٹوریم میں سنہ 1960 میں ہوئی تھی جب انہوں نے محسوس کیا کہ شاعر یاس و آس کا شکار ہے اور اس کے حالات نازک ترین ہیں تب انہوں نے شاعر کو موت کے منہ سے بچانے کا پورا عزم کیا اور دن رات اس کی صحت یابی کی کوشش کرتی رہیں یہاں تک کہ شاعر نے کروٹ لی اور محسوس کیا کہ اس کا کھویا ہوا اعتماد پھر واپس آگیا ہے اور یہ کہ زندگی بہت حسین ہے اور اسے جینا چاہیئے۔

    ’میں نے محسوس کیا کہ قابل بے حد دکھی انسان ہیں۔ ایسے دکھی جن کے پاس غم اور فکر دوراں کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اسی لیے میں نے سوچا کہ شاید میرا سہارا ان کی معذور زندگی میں نیا خواب بکھیر دے چنانچہ میں نے ان سے شادی کر لی. ہم لوگ کوئٹہ سے حیدرآباد چلے آئے قابل صاحب کو میں نے گھر ہی پر رکھا اور علاج برابر جاری رہا۔‘

    ایک ایسا شاعر جس کی پوری زندگی المیہ رہی ہو اس سے درد و کرب کے علاوہ اور کسی چیز کی کیا توقع کی جا سکتی ہے لیکن ان سب کے باوجود قابل زمانہ میں رونما ہونے والے تغیرات سے بے خبر نہیں تھے۔ جن کی باز گشت ان کے اشعار میں سنائی دیتی ہے۔ قابل نے درد و کرب کی کہانیاں تو بیان کی ہی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ دنیا کے تغیرات کو بھی اپنی گرفت میں لیا ہے۔ اسی لیے قابل کی شاعری آج بھی زندہ ہے اور شاید وقت گزرنے کے ساتھ اس کی معنویت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔

    قابل اجمیری کی وفات کے 58 برس بعد حیدر آباد کی بلدیہ اعلیٰ نے شہر کا ایک اہم چوک ان سے منسوب کردیا.

    قابل کے چند اشعار

    جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
    زندگی کو مری ضرورت ہے

    تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
    عشق انسان کی ضرورت ہے

    رنگِ محفل چاہتا ہے اک مکمل انقلاب
    چند شمعوں کے بھڑکنے سے سحر ہوتی نہیں

    راستہ ہے کہ کٹتا جاتا ہے
    فاصلہ ہے کہ کم نہیں ہوتا

    ہم بدلتے ہیں رخ ہواؤں کا
    آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے

    اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر نہیں ہوتی
    اشک بہہ جاتے ہیں لیکن آنکھ تر نہیں ہوتی

    زمانہ دوست ہے کس کس کو یاد رکھو گے
    خدا کرے تمہیں مجھ سے دشمنی ہوجائے

    رکا رکا سا تبسم، جھکی جھکی سی نظر
    تمہیں سلیقہ بے گانگی کہاں ہے ابھی

    سکونِ دل کی تمنا سے فائدہ قابل
    نفس نفس غمِ جاناں کی داستاں ہے

    تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے
    میں رو رہا ہوں تو ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گے

    مجھے تو اس درجہ وقتِ رخصت سکوں کی تلقین کر رہے ہو

    مگر کچھ اپنے لیے بھی سوچا، میں یاد آیا تو کیا کرو گے

    کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاؤ مرے لہو کی بہار کب تک
    مجھے سہارا بنانے والو، میں لڑکھڑایا تو کیا کرو گے

    ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مذاقِ جنوں پہ لیکن
    تمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا تو کیا کرو گے

    ابھی تو دامن چھڑا رہے ہو، بگڑ کے قابل سے جا رہے ہو
    مگر کبھی دل کی دھڑکنوں میں شریک پایا تو کیا کرو گے

    تم نے مسرتوں کے خزانے لٹا دیے
    لیکن علاجِ تنگیِ داماں نہ کر سکے

    حیرتوں کے سلسلے سوزِ نہاں تک آ گئے
    ہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آ گئے

    نامرادی اپنی قسمت، گمرہی اپنا نصیب
    کارواں کی خیر ہو، ہم کارواں تک آ گئے

    انکی پلکوں پر ستارے اپنے ہونٹوں پر ہنسی
    قصہٴ غم کہتے کہتے ہم کہاں تک آ گئے

    اپنی اپنی جستجو ہے اپنا اپنا شوق ہے
    تم ہنسی تک بھی نہ پہنچے ہم فغاں تک آگئے

    زلف میں خوشبو نہ تھی یا رنگ عارض میں نہ تھا
    آپ کس کی آرزو میں گلستاں تک آ گئے

    خود تمھیں چاکِ گریباں کا شعور آ جائے گا
    تم وہاں تک آ تو جاؤ، ہم جہاں تک آ گئے

    آج قابل میکدے میں انقلاب آنے کو ہے
    اہلِ دل اندیشہٴ سود و زیاں تک آ گئے

    کچھ غم زیست کا شکار ہوئے
    کچھ مسیحا نے مار ڈالے ہیں

    رہ گزار حیات میں ہم نے
    خود نئے راستے نکالے ہیں

    مجھی پہ ختم ہیں سارے ترانے
    شکست ساز کی آواز ہوں میں

    کوئے قاتل میں ہمی بڑھ کے صدا دیتے ہیں
    زندگی، آج ترا قرض چکا دیتے ہیں

  • بجلی چوروں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن،درجنوں گرفتاریاں، ٹرانسفارمرزبھی اُتارلیے گئے

    بجلی چوروں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن،درجنوں گرفتاریاں، ٹرانسفارمرزبھی اُتارلیے گئے

    ملک کے مختلف شہروں میں بجلی چوروں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن جاری ہے،اس ضمن میں حکام نے درجنوں افراد گرفتار کرکے لاکھوں روپے کے جرمانے عائد کردیئے-

    باغی ٹی وی :بجلی چوروں کے خلاف کارروائیوں کے دوران جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں 2 کروڑ 62 لاکھ روپے کی ادائیگیاں نہ کرنے پر 25 سے زائد ٹرانسفارمرزاُتارلیے گئےجبکہ 10 ڈیفالٹرز نے ڈھائی کروڑ روپے کے واجبات ادا کرکے اپنے کنکشنز بحال کروائے۔

    فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) ریجن میں بجلی چوروں کے خلاف کارروائیوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 128 بجلی چورپکڑے گئے، 4 لاکھ 49 ہزار ڈی ٹیکشن یونٹس کی مد میں ایک کروڑ 38 لاکھ کے جرمانے عائد کیے گئے جبکہ بجلی چوری میں ملوث زرعی صارفین کے 17 ٹرانسفامرز بھی اتارے گئے، وہاڑی میں 123 بجلی چوروں کے خلاف مقدمات درج کر کے 6 کو گرفتار کیا گیا۔

    پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی نگرانی کیلئے نئے ادارے کا قیام

    سرگودھا، بھکر، میانوالی اور خوشاب میں بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کے دوران 110 بجلی چوروں کو گرفتار کرکے مقدمات درج کر لیے گئے جبکہ منڈی بہاؤالدین اور گجرات میں 64 مقدمات درج کرکے 40 افراد کو گرفتار کیا گیا-

    حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) ریجن میں 267 بجلی چوروں کے خلاف مقدمات درج کرکے 29 افراد کو گرفتار کیا گیا آپریشن کے دوران اب تک 04 کروڑ 28 لاکھ 18 ہزار سے زائد جرمانہ عائد کرتے ہوئے 59 لاکھ 2 ہزار سے زائد رقم وصول کرلی گئی۔

    حیسکوترجمان کے مطابق حیدرآباد میں بجلی چوروں کے خلاف مہم کے دوران نسیم نگر کے ایک پلازہ میں بجلی چوری پکڑی گئی، پلازہ میں تین، چار سال سے بجلی چوری کی جا رہی تھی،جس کی ماہانہ مالیت 35 لاکھ روپے بنتی تھی حیدرآباد کے پلازہ میں بجلی چوری کرنے والے بلڈر، مارٹ اور فلیٹوں کے مالکان کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں گے۔

    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا

    واضح رہے کہ وفاق میں موجود مختلف وزارتیں، ڈویژنز اور سرکاری ادارے آئیسکو کے اربوں کے نادہندہ نکلے ، وزیراعظم ہاؤس کا بل بھی ہزاروں میں آنے کے باوجود ادا نہیں کیا گیا وزیراعظم اپنی رہائش گاہ کابل صرف9 ہزار 819 ہونے کے باوجود نادہندہ نکلے وزیراعظم ہاؤس کا گزشتہ ماہ کا بجلی کا بل ادا نہیں کیا گیا۔

    دفترخارجہ 14 کروڑ 32 لاکھ 81 ہزار روپے سے زائد کا نادہندہ نکلا۔ بی بلاک میں مختلف وزارتیں 9 کروڑ83 لاکھ 67 ہزار سے زائد کی نادہندہ ہیں کیو بلاک میں وزارت خزانہ سمیت دیگر 4 کروڑ97 لاکھ 20 ہزارروپے سے زائد ، سی بلاک میں واقع وزارتیں 4کروڑ 4 لاکھ 49 ہزار روپے سے زائد کی نادہندہ ہیں پارلیمنٹ ہاؤس کو بھی بجلی بلوں کی مد میں5 کروڑ 20 لاکھ 26 ہزارروپے سے زائد کا نادہندہ بتایا گیا ہے۔

    ماحولیاتی تبدیلی آگاہی مہم؛ نوجوانوں میں انعامات تقسیم

    ذرائع کے مطابق ایف بی آر بجلی بلوں کی مد میں ایک کروڑ 54 لاکھ 20 ہزارروپے سے زائد کا نادہندہ جبکہ کابینہ بلاک نے بھی بجلی بلوں کی مد میں 7 کروڑ 64لاکھ 97 ہزار سے زائد ادا نہیں کیے اس دوڑ میں سندھ اورپنجاب ہاؤس بھی شامل ہیں جو بالترتیب 66 لاکھ 53 ہزار اور 51 لاکھ 20 ہزار روپے سے زائد کے نادہندہ ہیں فارن سروس اکیڈمی کے ذمہ 41 لاکھ 36 ہزار روپے سے زائد، نیشنل لائبریری کے ذمے ب12 لاکھ 90 ہزار سے زائد اور نیشنل آرٹ گیلری کے ذمےواجب الادا رقم17لاکھ 80 ہزار سے زائد ہےپارلیمنٹ لاجز بجلی بلوں کی مد میں 10 لاکھ سے زائد اورآزاد کشمیر کونسل سیکرٹریٹ 9 لاکھ 85 ہزار سے زائد کی نادہندہ ہے۔

    مولانا فضل الرحمان کا فیس بک پیج ہیک

  • حیدر آباد میں خاتون نے 6 بچوں کو جنم دیا،5 انتقال کر گئے

    حیدر آباد میں خاتون نے 6 بچوں کو جنم دیا،5 انتقال کر گئے

    حیدرآباد : فلاحی اسپتال میں خاتون نے 6 بچوں کو جنم دیا تاہم قبل ازوقت پیدائش سے 5 بچے انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی: ایم ایس ڈاکٹر وسیم شیخ نے بتایا کہ کنری عمرکوٹ کی رہائشی خاتون کے قبل ازوقت آپریشن کے ذریعے 6 بچوں کی ولادت ہوئی تاہم پانچ بچے انتقال کرگئے طبی پیچیدگیوں کی وجہ سے خاتون کا آپریشن کرکے بچوں کی پیدائش قبل از وقت کروائی گئی تھی ایک نومولود آئی سی یو میں ہے اور اس کی خصوصی دیکھ بھال کی جارہی ہے جب کہ خاتون کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    دوسری جانب کوئٹہ مشرقی بائی پاس پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے میاں بیوی بچے سمیت قتل کردیئے گئے، جب کہ ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئےپولیس حکام کے مطابق کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس مندوخیل آباد کے قریب نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے میاں بیوی اور انکے چار بچے کو فائرنگ کرکے قتل کردیا اور فرار ہوگئے۔

    قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری بھجوا دی گئی

    حکام نے بتایا کہ عبدالخالق اپنی بیوی اور چارسالہ بیٹے کے ہمراہ موٹر سائیکل پر جا رہے تھے، مندوخیل آباد کے قریب نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور لاشوں کو سول اسپتال کوئٹہ پہنچایا گیا جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں ورثاء کے حوالے کر دیں فائرنگ کی وجہ پرانی دشمنی کا شاخسانہ بتائی جاتی ہے، تاہم متعلقہ پولیس نے شواہد اکھٹے کر کے مزید کاروائی شروع کردی ہے۔

    وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے فائرنگ سے میاں بیوی اور بچےکے جاں بحق ہونےکے واقعےکا نوٹس لیا ہے صوبائی وزیر داخلہ نے متعلقہ حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

    برطانیہ نے پناہ کےمتلاشیوں کوسمندر میں بحری جہازمیں منتقل کرنا شروع کر دیا

  • حیدرآباد ، پیپلز بس سروس کے ایک اور روٹ کا آغاز

    حیدرآباد ، پیپلز بس سروس کے ایک اور روٹ کا آغاز

    حیدرآباد میں ہالا ناکہ، ڈیتھا اسٹیشن تا ٹنڈو جام کیسانہ موری تک پیپلز بس سروس کے نئے روٹ کا اعلان کر دیا گیا

    سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ نئے روٹ سے حیدرآباد و گرد و نواح رہائشیوں کے لیے سفر کے بہترین سہولیات میسر آئیں گی، عوام الناس کو بہترین سفری سہولیات کی فراہمی پیپلز پارٹی کا نصب العین ہے، ہمارا مشن اپنے لوگوں کے لیے اعلیٰ معیار کی خدمات کو یقینی بنانا ہے، پیپلز بس سروس کو مزید علاقوں تک پھیلانے کا مقصد سفری تکالیف کا خاتمہ اور مقامی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے،نئی سروس سے علاقے کے عوام کی زندگیوں اور کاروباری کوششوں پر مثبت اثرات مرتب ہونگے،سندھ حکومت کا ٹریول انفراسٹرکچر کو بڑھانے کے لیے فعال نقطہ نظر، مجموعی بہبود کو بلند کرنے والے بڑے ہدف کے مطابق ہے،

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ عمران خان رونا رو رہے ہیں کہ میرے ساتھ ظلم ہورہا ہے لوگوں کو دباؤ میں لاکر پی ٹی آئی میں لایا گیا عمران خان صاحب جیسی کرنی ویسی بھرنی انہوں نے ساڑھے 3 سال میں ملک کے لیے کچھ نہیں کیا عمران خان نے دنیا میں پاکستان کو بد نام کیا

    پاکستان پیپلزپارٹی آزادی صحافت کی حمایت جاری رکھے گی۔

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

  • وزیراعلیٰ سندھ کا حیدرآباد کا دورہ، مرکزی جلوس کی سیکورٹی بارے دی گئی بریفنگ

    وزیراعلیٰ سندھ کا حیدرآباد کا دورہ، مرکزی جلوس کی سیکورٹی بارے دی گئی بریفنگ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ حیدر آباد کا دورہ مکمل کر کے واپس کراچی پہنچ گئے
    ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ ایم اے جناح روڈ کے مرکزی جلوس میں شرکت کرینگےجلوس کا جائزہ لے کر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سی پی او آفس جائینگے،سی پی او میں وزیراعلیٰ سندھ کمانڈ اینڈ کنٹرول روم میں جلوس کی نگرانی کا جائزہ لینگے؛

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حیدرآباد کا دورہ کیا،وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت 10 محرم کے جلوس کی سیکیورٹی کے حوالے سے حیدرآباد انتظامیہ سے اجلاس ہوا،وزیراعلیٰ سندھ کو ڈی سی حیدرآباد فواد سومرونے بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ مرکزی جلوس کی سیکیورٹی کیلئے 1027 پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں، مرکزی جلوس کیلئے تین دستون پر مشتمل سیکیورٹی اہلکارز کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے، ایک سیکیورٹی کا دستہ جلوس کے آگے، دوسرا آخر میں جبکہ تیسرا جلوس کے ساتھ چلے گا،جلوس کے راستوں میں آنے والی گاڑیوں کو سیل کردیا گیا ہے،جلوس میں آنے اور جانے کیلئے مخصوص راستے دئے گئے ہیں، جلوس کے راستوں میں کچھ مقامات پر پہریدار تعینات کردئے گئے ہیں،تین مخصوص مقامات پر سپاہی تعینات کردئے ہیں، مرکزی جلوس کی تمام رکارڈنگ کی جارہی ہے، سی سی ٹی وی کے ذریعے جلوس کی مانیٹرنگ کا بندوست کیا گیا ہے، شہر کے اسپتالوں کی سیکیورٹی کا بھی انتظام کیا گیا ہے، قدم گاہ مولا علی کربلا دادن شاہ پر سیکیورٹی کا بندوبست کیا ہے،دیگر چھوٹے جلوسوں کی سیکیورٹی کیلئے 643 اہلکار تعینات کئے گئے ہیں،مرکزی جلوس کے راستے میں 10 میڈیکل کیمپس قائم کی گئی ہیں

    تھانہ شہزاد ٹائون،نیو چٹھہ بختاور ، گھر میں ڈاکہ،پانچ مسلح ڈاکو لوٹ مار کر کے فرار

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار