Baaghi TV

Category: حیدرآباد

  • اب جائے جہاں قافلہ دہر ترابی، رہبر نظر آتا ہے رہزن کی طرح

    اب جائے جہاں قافلہ دہر ترابی، رہبر نظر آتا ہے رہزن کی طرح

    اب جائے جہاں قافلہ دہر ترابی
    رہبر نظر آتا ہے رہزن کی طرح

    علامہ رشید ترابی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رضا حسین المعروف علامہ رشید ترابی (پیدائش: 09 جولائی 1908ء- وفات: 18 دسمبر 1973ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے عالم اسلام کے بلند پایہ خطیب، عالم دین اور شاعر ہیں۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    علامہ رشید ترابی 9 جولائی 1908ء کو برطانوی ہند کی ریاست حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ ان اصل نام رضا حسین تھا لیکن رشید ترابی کے نام سے مشہور ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم علامہ سید علی شوستری، آغا محمد محسن شیرازی، آغا سید حسن اصفہانی اور علامہ ابوبکر شہاب عریضی سے حاصل کی، شاعری میں نظم طباطبائی اور علامہ ضامن کنتوری کے شاگرد ہوئے اور ذاکری کی تعلیم علامہ سید سبط حسن صاحب قبلہ سے اور فلسفہ کی تعلیم خلیفہ عبدالحکیم سے حاصل کی عثمانیہ یونیورسٹی سے بی اے اور الہ آباد یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم اے کیا۔

    علامہ رشید ترابی نے 10 برس کی عمر میں اپنے زمانے کے ممتاز ذاکر مولانا سید غلام حسین صدر العلماء کی مجالس میں پیش خوانی شروع کردی تھی۔ سولہ برس کی عمر میں انہوں نے عنوان مقرر کرکے تقاریر کرنا شروع کیں۔ تقاریر کا یہ سلسلہ عالم اسلام میں نیا تھا اس لیے انہیں جدید خطابت کا موجد کہا جانے لگا 1942ء میں انہوں نے آگرہ میں شہید ثالث کے مزار پر جو تقاریر کیں وہ ان کی ہندستان گیر شہرت کا باعث بنیں علامہ رشید ترابی اس دوران عملی سیاست سے بھی منسلک رہے اور قائد ملت نواب بہادر یار جنگ کے ساتھ مجلس اتحاد المسلمین کے پلیٹ فارم پرفعال رہے۔ قائد اعظم کی ہدایت پر انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور 1940ء میں حیدرآباد دکن کی مجلس قانون ساز کے رکن بھی منتخب ہوئے۔

    پاکستان آمد
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دسمبر 1947ء میں علامہ رشید ترابی کو محمد علی جناح نے پاکستان مدعو کیا تاکہ حضرت مالک اشتر کے نام لکھے گئے حضرت علی ابن ابی طالب کے مشہور خط کا انگریزی میں ترجمہ کریں۔ یہ صفر کا مہینہ تھا، رشید ترابی کی کراچی میں موجودگی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے کراچی کے ایک مہتممِ مجالس سید محمد عسکری نے رشید ترابی کو خالق دینا ہال کراچی میں صفر کے دوسرے عشرہ مجالس سے خطاب کرنے کی درخواست کی۔ علامہ نے یہ درخواست قبول کرلی اور 10 صفر، 1367ھ (24 دسمبر، 1947ء) سے چہلم تک خالق دینا ہال میں اپنے پہلے عشرہ مجالس سے خطاب کیا۔ اس کے بعد (سے 26 سال تک) وہ جب تک زندہ رہے وہ خالق دینا ہال میں ہر برس مجالس کے عشرے سے مستقل خطاب کرتے رہے انہوں نے 1951ء سے 1953ء تک کراچی سے روزنامہ المنتظرکا اجرا کیا۔ اس سے قبل انہوں نے حیدرآباد دکن سے بھی ایک ہفت روزہ انیس جاری کیا تھا۔ 1957ء میں ان کی مساعی سے کراچی میں 1400 سالہ جشن مرتضوی بھی منعقد ہوا۔

    ادبی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    علامہ رشید ترابی ایک قادر الکلام شاعر بھی تھے۔ ان کے کلام کا ایک مجموعہ ”شاخ مرجان“ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی مرتب کردہ کتابیں طب معصومین، حیدرآباد کے جنگلات اور دستور علمی و اخلاقی مسائل بھی شائع ہوچکی ہیں۔

    تصنیف و تالیف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    شاخ مرجان
    طب معصومین
    حیدرآباد کے جنگلات
    دستور علمی و اخلاقی مسائل

    وفات
    ۔۔۔۔۔
    علامہ رشید ترابی 18 دسمبر 1973ء کو کراچی میں وفات پاگئے اور کراچی میں حسینیہ سجادیہ کے احاطے میں آسودۂ خاک ہوئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    وہ جو اک قطرہ ہے پانی کا ہوا سے خالی
    دلِ دریا میں ہے اور فکرِ فنا سے خالی
    اب خلش ہے کہ نہیں پوچھنے والا کوئی
    ہائے وہ گھر جو ہو سائل کی صدا سے خالی
    فطرتِ ظُلم جو دم لے تو سنبھل کر دیکھو
    کتنے ترکش ہیں یہاں تیرِ جفا سے خالی
    ہے نتیجے میں وہ ناکام ، زمانے کی قسم
    زندگی جس کی رہی کرب و بلا سے خالی
    دیدنی نور سے ہے نار کا یہ فصل قریب
    دل ہی دوزخ ہے جو ہو صدق و صفا سے خالی
    میں ہوں صیاد قفس میں تو رہے ذکرِ قفس
    اب رہا گھر تو رہے تیری بلا سے خالی
    باغباں دل پہ گراں سخت گراں ہے یہ بہار
    پھول ہیں پھول مگر بوئے وفا سے خالی
    غفلت اک سانس کی رستے سے ہٹا دیتی ہے
    دلِ بیدار ہے اِمکانِ خطا سے خالی
    زندگی کو تو بہرحال گزرنا ہے رشیدؔ
    کام آ جاتے ہیں پھر بھی یہ دلاسے خالی ​

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سفرِ زیست جو لازم ہے ہر اک گام چراغ
    جیسے جلتے ہوں سرِ رہ گزرِ عام چراغ
    کیا سحر تک کوئی جلنے کی تمنا کرتا
    بجھتے دیکھے ہیں اسی دل نے سرِ شام چراغ
    منتظر آنکھ میں خود ہے کوئی تارا روشن
    کیوں جلاتا ہے فلک شام سے گمنام چراغ
    جاگنے والے محبت میں یہی جانتے ہیں
    ہجر کو کہتے ہیں شب داغ کا ہے نام چراغ
    شوق سے آپ جلائیں مگر اتنا سُن لیں
    زرد ہو جاتا ہے خود صبح کے ہنگام چراغ
    کارواں جاتا ہے لے صبح ہوئی چونک رشیدؔ
    اب کہیں اور جلا جا کے سرِ شام چراغ ​

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ارمان نکلتے دلِ پُر فن کے برابر
    ویرانہ جو ہوتا کوئی گلشن کے برابر
    کیوں اہلِ نظر ایک ہے دونوں کی طبیعت
    سُنبل نے جگہ پائی جو سوسن کے برابر
    میں دام پہ گرتا نہیں اے ذوقِ اسیری
    ہاں کوئی قفس لائے نشیمن کے برابر
    میں بھول نہ جاؤں کہیں انجامِ تمنا
    بجلی بھی چمکتی رہی خرمن کے برابر
    کیا لطف اندھیرے کا ، اجالے میں تو آؤ
    پھر داغ نظر آئیں گے دامن کے برابر
    اتنی تو محبت ہو کہ جتنی ہے عداوت
    میزان میں ہر دوست ہو دشمن کے برابر
    لازم ہے اندھیرے کا اجالا وہ کہیں ہو
    تاریک ہے اک رخ مہِ روشن کے برابر
    بس طور جلا اور ادھر غش ہوئے موسٰیؑ
    لوگ اور بھی تھے وادیِ ایمن کے برابر
    اب جائے جہاں قافلۂ دہر ترابیؔ
    رہبر نظر آتا رہے رہزن کے برابر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • دریائے سندھ میں تین بھائی نہاتے ہوئے ڈوب گئے

    دریائے سندھ میں تین بھائی نہاتے ہوئے ڈوب گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں تین بھائی نہاتے ہوئے ڈوب گئے،

    واقعہ حیدر آباد میں پیش آیا، مہران پل کے قریب تینوں بھائی ڈوبے، پولیس ،ریسکیو ادارے موقع پر پہنچ گئے، تین میں سے ایک بھائی کو بچا لیا گیا، دو کی تلاش جاری ہے،اہلخانہ بھی دریا کے کنارے پہنچ چکے ہیں،ریسکیو ٹیموں کا آپریشن جاری ہے، ڈوبنے والے 3 بھائیوں میں سے 1 کو بچالیا گیا، دو کی تلاش ابھی تک جاری ہے

    واضح رہے کہ دریائے سندھ میں شہریوں کے ڈوبنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، رواں برس ماہ اپریل میں بھی تین نوجوان ڈوب کر جاں بحق ہو گئے تھے،دریائے سندھ میں سوجھنڈا کے مقام پر دریا کنارے پکنک منانے گئے ہوئے تھے، ایک نوجوان وضو کرنے گیا لیکن پاؤں پھسلنے سے پانی میں جا گرا،

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • وہ آئے ہیں ذرا ان سے ہم اپنا حال کہہ لیتے

    وہ آئے ہیں ذرا ان سے ہم اپنا حال کہہ لیتے

    وہ آئے ہیں ذرا ان سے ہم اپنا حال کہہ لیتے
    ہمارے درد دل میں کچھ کمی ہوتی تو اچھا تھا

    میر یٰسین علی خاں

    نواب میر یٰسین علی خان 4 جلائی 1908ء کو حیدرآباد میں ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے دادا نواب میر حسن علی خاں دو گانوں کے جاگیردار اور داغ دہلوی کے شاگرد اور دوست بھی تھے۔ نواب میر یٰسین علی خان نے شروعاتی تعلیم حیدرآباد سے حاصل کی اور آگے کی تعلیم کے لئے وہ علی گڑھ چلے گئے۔ جہاں سے انہونے بی اے کی ڈگری 1929ء میں اور ایم اے کی ڈگری 1931ء میں حاصل کی۔ اس کے بعد وہ حیدرآباد واپس آ گئے اور انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں ملازمت اختیار کی۔ وہ 1971ء میں اس ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔
    نواب میر یٰسین علی خان پدم بھوشن سے نوازے گئے ۔ وہ بزم ادب اردو حیدرآباد اور علی گڑھ اولڈ بوائز ایسوشیشن لندن کے صدر رہے۔
    نواب میر یٰسین علی خان 1996ء کو لندن میں وفات پا گئے۔

    منتخب کلام

    میں تم کو پوجتا رہا جب تک خودی میں تھا
    اپنا ملا سراغ مجھے بے خودی کے بعد

    کیا رسم احتیاط بھی دنیا سے اٹھ گئی
    یہ سوچنا پڑا مجھے تیری ہنسی کے بعد

    گھبرا کے مر نہ جائیے مرنے سے فائدہ
    اک اور زندگی بھی ہے اس زندگی کے بعد

    آئے ہیں اس جہاں میں تو جانا ضرور ہے
    کوئی کسی سے پہلے تو کوئی کسی کے بعد

    اے ابر نو بہار ٹھہر پی رہا ہوں میں
    جانا برس کے خوب مری مے کشی کے بعد

    مرتے تھے جس پہ ہم وہ فقط حسن ہی نہ تھا
    یہ راز ہم پہ آج کھلا عاشقی کے بعد

    اے موسم بہار ٹھہر آ رہا ہوں میں
    دامان چاک چاک کی بخیہ گری کے بعد

    کہتے ہیں جس کو موت ہے وقفہ حیات کا
    دریائے زیست ایک ہے ساحل جگہ جگہ

    دیر و حرم سے دور ہے شاید ترا مقام
    یاں ورنہ ہر قدم پہ ہے منزل جگہ جگہ

    خوش رنگ و خوش نگاہ خوش اندام خوب رو
    پھیلے ہوئے ہیں شہر میں قاتل جگہ جگہ

  • جب جمہوریت مضبوط ہوگی تب سیاستدان عوام کی سیاست کرے گا،شرجیل میمن

    جب جمہوریت مضبوط ہوگی تب سیاستدان عوام کی سیاست کرے گا،شرجیل میمن

    صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ تحریک انصاف میں جیسے لوگ آئے ویسے ہی چلے گئے۔

    باغی ٹی وی: حیدر آباد میں میڈیا سے گفتگو میں شر جیل میمن نے کہا کہ پاکستان کے تمام چیلنجز کا مل کر مقابلہ کریں گے، ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہم ایک قوم ہیں اور رہیں گے، عید کے موقع پر شہدا کو یاد رکھنا چاہئے،جب جمہوریت مضبوط ہوگی تب سیاستدان عوام کی سیاست کرے گا، ہمیں نفرتیں ختم کرنے کیلئے کام کرنا ہوگا، عید کے موقع پر نفرتوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

    صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ ایک جماعت ملک کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے، جیسے لوگ پی ٹی آئی میں آئے ویسے ہی چلے گئے، ملک کسی بھی انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا،ایک جماعت نے ملک میں انتشار کی سیاست کی گزشتہ دور میں مخالفین کو چن چن کر گرفتار کیا گیا، گزشتہ دور میں پوری پوری فیملیز کیخلاف مقدمات بنائے گئے،کچھ لوگوں نے ملک کو پیچھے لے جانے کی سازش کی، نفرتیں پھیلانے والا گھر اور پیرو کار جیل میں عید منارہے ہیں۔

    ملک بھر میں عیدالاضحیٰ آج مذہبی جوش وجذبے سے منائی جا رہی ہے

    دوسری جانب کراچی میں پولو گراؤنڈ میں نماز عید کی ادائیگی کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آج پاکستان بڑی آزمائش سے گزر رہا ہے، پاکستان کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی مشکلات دور فرمائے۔

    گورنر سندھ نے متحدہ عرب امارات کے قونصل خانہ کے عہدیداران کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کے دوست اور ہر مشکل وقت میں ملک کے ساتھ کھڑے رہنے والے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) قونصل جنرل اور قونصلیٹ کے دیگر عہدیداران آج نماز میں شریک تھے انھیں عید کی مبارکباد دیتا ہوں۔

    ہماری رکنیت کوئی ختم نہیں کرسکتا. لطیف کھوسہ

    کامران ٹیسوری نے کہا کہ یو اے ای نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا اور اس کی حالیہ مثال ہمارا کے پی ٹی کا پورٹ ہے جو یو اے ای حکومت نے لیا ہےاس سے دنیا میں پیغام گیا ہے کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لئے ساز گار ملک ہے اور ساتھ ہی متحدہ عرب امارات نے اپنی دوستی کا حق بھی ادا کیا ہے۔

    گورنر سندھ نے عالم اسلامی کو عید اور حج کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سنت ابراہیمی ہمیں درس دیتا ہے کہ تمام مسلمان بھائیوں کا خیال رکھیں اور انھیں مشکل وقت میں فراموش اور مایوس نہ کریں۔

    سویڈن؛ عدالت کی اجازت کے بعد قرآن کریم کی بے حرمتی

  • بین الصوبائی بینک کیش ڈکیت گینگ کے 3 ارکان گرفتار،6 ملین برآمد

    بین الصوبائی بینک کیش ڈکیت گینگ کے 3 ارکان گرفتار،6 ملین برآمد

    حیدرآباد پولیس کی کامیاب کارروائی، بین الصوبائی بینک کیش ڈکیت گینگ کے 3 ارکان گرفتار، 6 ملین سے زائد لوٹی گئی رقم برآمد

    گزشتہ ماہ کے دوران حیدرآباد کے مختلف علاقوں تھانہ ہٹڑی، تھانہ مارکیٹ اور تھانہ A-سیکشن کی حدود میں بینک کیش ڈکیتی، رہزنی کی وارداتیں پیش آئی جس پر ایس ایس پی حیدرآباد ساجد امیر سدوزئی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اے ایس پی علینہ راجپر کی سرکوبی میں ایس ایچ او نیک محمد کھوسو اور ایس ایچ او کاشف حسین گاڈھی پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی ،پولیس ٹیم نے دن رات کی انتھک محنت کے بعد انتہائی کامیابی سے بین الصوبائی 2 ڈکیت گینگ کو ٹریس کیا انکے سرغنہ و دیگر کو پکڑا اور انکے قبضے سے 6 ملین سے زائد لوٹی گئی رقم برآمد کرلی

    حیدرآباد پولیس نے بین الصوبائی ڈکیت گینگ کے 4 ارکان کامران عرف کامی گینگ کا سرغنہ، وقاص، عمر فاروق عرف مشکی اور ساجد کو گرفتار کرلیا، جن کے قبضے سے 50 لاکھ لوٹی گئی رقم برآمد ہوئی، اس گینگ کے تمام ارکان پر درجنوں مقدمات حیدرآباد سمیت سندھ کے دیگر اضلاع میں درج ہیں، مذکورہ ڈکیت گینگ نے کراچی میں متعدد ڈکیتی کی وارداتیں کی جس کے بعد اس ڈکیت گینگ نے اپنا رخ اندرون سندھ کی جانب کیا جس کے بعد میرپور خاص، ٹنڈوالہیار، ٹنڈو محمد خان اور حیدرآباد کو اپنی وارداتوں کیلئے چنا جہاں ملزمان نے ایک ماہ میں ایک درجن سے زائد بینک کیش ڈکیتی کی وارداتیں کی

    حیدرآباد میں اس ڈکیت گینگ نے تھانہ مارکیٹ کی حدود میں شبیر ٹریڈرس کے مالک سے رقم لوٹی، تھانہ فورٹ، تھانہ A- سیکشن میں بینک سے کیش رقم نکالنے والے شہریوں کو لوٹا ،دوسرا ڈکیت گینگ جو تھانہ ہٹڑی میں اپنی وارداتیں کر رہا تھا پولیس نے انتہائی کامیابی سے اس گینگ کے سرغنہ مینھل کو گرفتار کرلیا جبکہ ملزم کے قبضے سے 10 لاکھ سے زائد لوٹی گئی رقم بھی برآمد کرلی گئی، ملزم منھل کے خلاف حیدرآباد، میرپور خاص، لاڑکانہ سمیت دیگر اضلاع میں 10 سے زائد مقدمات درج ہیں

    مردہ حالت میں لائی جانے والی لڑکی ٹک ٹاکر نکلی

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

     سارہ انعام کے والد انعام الرحمان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی ہے

    سارہ انعام قتل کیس،مرکزی ملزم شاہنواز امیر پر فرد جرم عائد

  • پی ٹی آئی جن مشکلات سے دوچاراسکے ذمہ دارعمران خان ہیں ،صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر

    پی ٹی آئی جن مشکلات سے دوچاراسکے ذمہ دارعمران خان ہیں ،صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر

    جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے اکبری تکونیہ مسجد میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو ان کے دور حکومت میں ہم نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے باربار کہا لیکن انہوں نے ان کو سزائیں دلوانے کے بجائے رانا ثناء اللہ پر حقیقی مقدموں کو چھوڑ کر منشیات کے جھوٹے مقدمے قائم کئے اور ذمہ دار پولیس افسران کو ان کے عہدوں پر بحال کیا ان کوترقیاں دیں آج اگر وہ ہی لوگ ان کی پارٹی کے کارکنوں اور عہدیداروں پربقول ان کے ظلم کررہے ہیں تو اس کے ذمہ داروہ خود ہیں

    ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کا کہنا تھا کہ اگر ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کو وہ کیفر کردار تک پہنچا دیتے تو آج ان کو یہ شکایت نہ کرنی پڑتی پی ڈی ایم عمران خان کے حالات سے سبق حاصل کرے اور نو مئی کے واقعات کے ذمہ داروں کو ضرورکیفر کردار تک پہنچائے لیکن عمران خان کی طرح بے گناہ لوگوں کو نو مئی کے واقعات میں ملوث کر کے ان پر جھوٹے مقدمات قائم کر کے اپنے حریف کی سیاست ختم کر کے اپنی سیاست چمکانے کی کوشش نہ کرے ان کو اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ وقت کے حکمرانوں نے ذوالفقارعلی بھٹو کی پارٹی اور ان کی سیاست ختم کرنے کیلئے ان کو پھانسی پرچڑھا دیا اور ایم آر ڈی کی تحریک میں ان کے کارکنوں پر کوڑے برسائے لیکن بھٹو زندہ کے نعرے آج بھی لگ رہے ہیں اور بھٹو کی پارٹی آج بھی قائم ہے اور حکومت کررہی ہے ملک اس وقت جن بحرانوں میں گھرا ہوا ہے اس کا حل صرف اور صرف مذاکرات ہیں جس پر دونوں فریقوں کو سنجیدگی کے ساتھ غور کرکے مذاکرات کے عمل کا فوری آغاز کرنا چاہئے

    رینجرز ہیڈکواٹرمیں ترجمان رینجرز نے صحافیوں کو سالانہ رپورٹ پربریفنگ دی ہے،

    ‏موٹروے پر اجتماعی زیادتی کا سن کر دل دہل گیا ، ملوث تمام افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، مریم نواز

    موٹروے کے قریب خاتون سے مبینہ زیادتی ،پولیس کی 20 ٹیمیں تحقیقات میں مصروف

  • سی ٹی ڈی نے دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنادیا

    سی ٹی ڈی نے دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنادیا

    انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنادیا۔

    باغی ٹی وی: سی ٹی ڈی نے خفیہ اطلاع ملنے پر حیدرآباد میں مکی شاہ روڈ سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا دہشت گرد گرفتار کیا ،دہشت گرد کی شناخت تاج ملوک عرف خالد عرف حافظ پٹھان کے نام سے ہوئی اس کے قبضے سے ہینڈ گرنیڈ، ڈیٹونیٹر راڈ اور ہینڈ گرنیڈ پن برآمد کی گئی-

    سی ٹی ڈی کی کاروائی،آپریشن کے دوران 12 دہشت گرد گرفتار

    سی ٹی ڈی حکام کے مطابق گرفتار دہشت گرد 2012ء میں ڈوگر، کرزئی میں ایف سی اور 2013میں آرمی چیک پوسٹ پر حملے میں ملوث رہا ہے یہ مذہبی جنونیت رکھنے والا شخص ہے جب کہ اس کی ذمہ داری لوگوں کی ذہن سازی کرکے مذہبی جنونیت کو فروغ دینا اور دہشت گردی کے لئے تیار کرنا تھا اس نے شہر میں د ہشت گردی کی افراتفری پھیلانے کا بھی اعتراف کیا ہے۔

    افغانستان سے پاکستان منشیات اسمگلنگ کی کوشش بنائی گئی ناکام

    قبل ازیں سی ٹی ڈی نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کےدوران 12 دہشت گرد گرفتار کئے سی ٹی ڈی نے کاروائی پنجاب کے شہروں سرگودھا ، راولپنڈی ملتان بہالپور اور گوجرنوالہ میں کی ،گرفتار ہونے والے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم داعش اور ٹی ٹی پی سے ہے ، دہشت گردوں سے بارودی مواد ، خودکش جیکٹ ،ڈیٹو نیٹر ، ہینڈگرنیڈ ،اسلحہ ،گولیاں اور نقدی برآمد کی گئی ہےدہشت گردوں کی شناحت میر احمد ،حبیب الرحمان ہارون ،ضیاء۔عمران ، مدثر،عدیل اور فاروق کے نام سے ہوئی-

    لاہور چلڈرن اسپتال نرسری وارڈ عملے کی بڑی غفلت،زیادہ ہیٹ دینے سے 2 بچے …

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق رواں ہفتے 249 کومبنگ آپریشنز کے دوران 40 مشتبہ افراد گرفتار کیے ،کومبنگ آپریشنز میں 12112 افراد سے پوچھ کچھ کی گئی ، سی ٹی ڈی محفوظ پنجاب کے ہدف پر عمل پیرا ہے ، سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں

  • آئین کی وہ شق بتا دیں جس میں ہو کہ آپ آپس میں مذاکرات کریں،شرجیل میمن

    آئین کی وہ شق بتا دیں جس میں ہو کہ آپ آپس میں مذاکرات کریں،شرجیل میمن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے عید الفطر کی نماز راول فارم ہاؤس ٹنڈوجام میں اداکی، نمازعید کے بعد صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے حلقے کے عوام سے ملاقات بھی کی، بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا کہ مجھے آئین کی وہ شق بتا دیں جس میں ہو کہ آپ آپس میں مذاکرات کریں آپ کیسے کہہ سکتے ہیں فلاں جماعت کے ساتھ بات کریں یہ قابل قبول نہیں افہام و تفہیم کے ساتھ مسائل حل ہوں آپ کا جو کام نہیں ہے وہ کام آپ نہ کریں یہ آپ کا کام نہیں کہ کہیں کہ آپ لوگ مذاکرات کریں

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ اس ملک میں سب سے زیادہ ضروری اور معتبر پارلیمنٹ ہے اس سے کوئی سپریم نہیں اور اسے کوئی ڈکٹیٹ نہیں کرسکتا ایک سیاسی جماعت کے لیے غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر راہ ہموار کرنے کی کوشش ہو رہی ہے جس طرح اسمبلیوں کو تحلیل کیا گیا وہ اوپن اینڈ شٹ کیس تھا اسمبلیوں کو توڑنے والوں کو عبرتناک سزا ملنی چاہیے جنہوں نے آئین کو اغوا کیا انہیں سزا دینا پڑے گی کیا وجہ ہے کہ اس کو ڈھیل دی جا رہی ہے ہم توقع کر رہے ہیں کہ اس پر سزا کا اعلان کیا جائے

    ،پانی میں کرنٹ کے کوئی شواہد نہیں ملے،

    سندھ حکومت نے گوٹھوں کی لیزکے لئے کمیٹی بنائی ہے،

     ون مین شو چلایا جارہا ہے، عوام تسلیم نہیں کریگی 

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

  • جعلی وکیل کی اطلاع دینے پر 5000 روپے  انعام

    جعلی وکیل کی اطلاع دینے پر 5000 روپے انعام

    جعلی وکیل کی اطلاع دینے پر 5000 روپے انعام

    جو وکیل جعلی وکیل کی شواہد کے ساتھ نشاندہی کرے کا انعام دیا جائے گا

    حیدرآباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے ہفتہ کے روز ایک اجلاس کے دوران متفقہ طور پر ایک قرار داد پاس کرتے ہوۓ وکلاء پر مشتمل ایک 9 رکنی کمیٹی قائم کی ہے جس کا مقصد جعلی وکلاء کے معاملات کو دیکھنا ہوگا قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ بار حیدرآباد جعلی وکلاء کے معاملے میں سخت اقدامات لینے جا رہی ہے اس سلسلے میں قرارداد میں اعلان کیا گیا کہ جو وکلاء جعلی وکیل کی یا خود کو وکیل نہ ہوتے ہوئے وکیل ظاہر کرنے والوں کی شواہد کے ساتھ نشاندہی کرے گا اس کو بار کے صدر کی جانب سے مبلغ 5000 روپے انعام دیا جائے گا

    دوسری جانب قرار داد میں کہا گیا ہے کہ وکلاء کے منشی اور کلرک حضرات کو خود کو رجسٹرڈ کروانا ہوگا اور ان کو نیلی پینٹ یا ٹراؤزر اور ہلکی نیلی شرٹ پہننی ہوگی

     ماحولیاتی منظوری کے بغیر مارگلہ ایونیو کی تعمیر کیس پر فیصلہ محفوظ 

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

  • ملک میں دہشت گردوں کو پناہ نہیں دیں گے،آئین سب پرمقدم ہے،وزیراعظم

    ملک میں دہشت گردوں کو پناہ نہیں دیں گے،آئین سب پرمقدم ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام کوٹ میں 330 میگا واٹ تھرنووا کا افتتاح کر دیا

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے،ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پاور پلانٹ کے کنٹرول روم کا دورہ کیا،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ منصوبے پاکستان کی ترقی کا موجب بنے گا اور بن رہا ہے ،دہائیوں کی محنت اور بہتر حکمت عملی سے آج تھر بدل چکا ہے جوبجلی تھرمیں بن رہی ہے اگر امپورٹڈ کوئلے پرجائے تو اربوں ڈالر خرچ ہوں گے،کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ کوئلے کی بنیاد پر بجلی نہیں بنتی تھر کوئلہ 100سال تک ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کرسکتا ہے ،ہمیں کسی الجھن کا شکا ر نہیں ہونا چاہیے ،بدقسمتی سے 4سال سے تھرمیں رتی برابر کا کام نہیں ہوا 4سال میں ٹرانسمشن لائنز پر رتی برابر کام نہیں ہوا ،

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی کے دشمنوں کو شکست ہوگی اتحادی حکومت سی پیک کو ترقی کا حصہ سمجھتی ہے سی پیک کا اگلا مرحلہ زراعت ،ٹیکنالوجی اوراکنامک زونز ہیں ،ملک میں دہشت گردوں کو پناہ نہیں دیں گے،آئین سب پرمقدم ہے، ذاتی مفاد کوپاکستان کے وسیع تر مفاد پرایک نہیں ہزاربارقربان کرنا پڑے تو پرواہ نہیں، وزیراعظم شہبازشریف نے وفاقی حکومت کی جانب سے تھر کے لیے اسپتال کے تحفے کا اعلان بھی کیا،

    وزیر خارجہ بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی محنت کے تسلسل کا نتیجہ ہے شنگھائی الیکٹرک کے 2 بڑے منصوبو ں کا افتتاح کیا گیا ،وفاق اور سندھ مل کر کام کررہے ہیں،4 سال سے تھر کو ل پر محنت کررہے ہیں ،چند سال میں تھر پارکر کی شکل تبدیل ہوگئی ہے ،تھرمیں تعلیم ،صحت اورروز گار میں بہتری آئی ہے ،سازشی لوگ پراپیگنڈے میں مصروف ہیں،منصو بے کی وجہ سے لوگ تھر میں آکر کام کررہے ہیں تھر کول بلاک ون کے کوڈ، کوئلے کی کان اور بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ ہے، منصوبہ جدید ترین ٹیکنالوجی سمیت عالمی معیارات کے مطابق مکمل کیا گیا ہے، سندھ کی ترقی میں تھر کول بلاک ون کا سی او ڈی ایک اہم سنگ میل ہے،ہم توماضی میں سنتےتھے کہ تھرپارکر سے لوگ کراچی پہنچتےہیں،اکنامک کوری ڈور کیوجہ سے پورے پاکستان سے لوگ یہاں کام کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں صوبائی اور وفاقی حکومت مل کے محنت کریں،مل کے کام کرنے سے محنت کا پھل بھی ملتا ہے اورملک کو فائدہ ہوتا ہے، بجلی کا بل بھرتے ہیں کیوں کہ ان کے کوئلےسے پورے پاکستان کو بجلی ملتی ہے،

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے زلمے خلیل زاد کے بیان کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ امریکی سازش اور امپورٹڈ رجیم کی اصلیت سامنے آگئی ہے لابی اپنا سٹوج بچانے کے لیے سامنے آچکی ہے فارن فنڈنگ کے مجرم کے ہینڈلرز سامنے آتے جا رہے ہیں فارن فنڈنگ کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہو گیا فارن ایجنٹ کون ہے ثابت ہوگیا ،کٹھ پتلی نے چار سال انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں کیں،آپ کا سٹوج پاکستان میں مالیاتی ، سیاسی اور سفارتی تباہی کا ذمہ دار ہے ،

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف اسلام کوٹ تھر پہنچے ،وزیر خارجہ بلاول بھٹو ، سالک حسین، احسن اقبال، خرم دستگیر وزیراعظم کے ہمراہ تھے ،مریم اورنگزیب، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ تھے ،

    قبل ازیں وزیراعلیی سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری آج 3 منصوبوں کا افتتاح کریں گے ان منصوبوں میں 2 نجی پاور پراجیکٹس اور بلاک ون کول مائن کا افتتاح کریں گے،شنگھائی تھر بلاک ون کے سالانہ 6.7 ملین میٹرک ٹن کوئلے سے 1320 میگا واٹ بجلی کا منصوبہ مکمل ہو چکا ہے،شنگھائی تھر کول بلاک ون جنوری 2023 میں مکمل ہو چکا ہے شنگھائی الیکٹرک کے 660 میگا واٹ کے 2 پاور پراجیکٹس کا افتتاح ہو رہے ہیں، ان 2 بجلی اور ایک مائن کے منصوبوں سے ملک کے 40 لاکھ گھروں کو بجلی مہیا ہوگی، 2 بجلی اور ایک کول مائن منصوبوں پرتقربن 3 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری ہوئی ہے،شنگھائی تھر بلاک ون ٹی ای ایل اور تھل نوا 4 روپیہ فی کلو واٹ (kwh) سستی بجلی نیشنل گرڈ میں دے رہا ہے،4 روپیہ فی کلو واٹ کی قیمت میں بجلی کی پیداوار سے سالانہ 1200 ملین ڈالرز زرمبادلہ کی بچت ہوگی،

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے