Baaghi TV

Category: حیدرآباد

  • میرپورخاص:فنکشنل لیگ کی خواتین اپنے نمائندگان کی بھرپور انتخابی مہم چلائیں-غزالہ لغاری

    میرپورخاص:فنکشنل لیگ کی خواتین اپنے نمائندگان کی بھرپور انتخابی مہم چلائیں-غزالہ لغاری

    میرپورخاص(باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ ) پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کی صوبائی ورکنگ کمیٹی سندھ ممبر غزالہ بابر لغاری حر نے سال برائے 2024 الیکشن کے حوالے سے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ جی ڈی اے مرکز کی ہدایت پر پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کی خواتین اپنی تمام تر کوششوں کو بروئےکار لاتے ہوئے عوام کو جی ڈی اے کے ممبر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشتوں پر نمائندگان کی بھرپور الیکشن مہم چلائیں اور گلی گلی کوچہ کوچہ عوام میں فنکشل مسلم لیگ کے پیغام کو پہنچائیں.

    غزالہ بابر لغاری حر نے مزید کہا کہ پیر صاحب پاگارا کے احکامات پر الیکشن مہم میں خواتین اپنی سیاسی مصروفیات کو فعال کریں.انہوں نے پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کی خواتین کو مشورہ دیا کہ اپنی نسل کی بقا اور پاکستان کو کرپٹ لوگوں سے بچانا ہے تو اپنے قیمتی ووٹ کو پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے رہنماؤں کو دلانے میں اپنے کردار ادا کریں اور کسی بھی پریشانی میں خواتین رابطہ کریں اور جن خواتین نے فنکشنل مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے اپنا پولیٹیکل کیئریئر شروع کیا ہے انہیں خوش آمدید کہتی ہیں.

    اس موقع پر ان کےہمراہ متحرک انسان دوست ایڈوکیٹ ہائی کورٹ نورالعین یوسف لغاری بھی موجود تھیں

  • ٹھٹھہ:عام انتخابات، تمام امیدواروں کی سرگرمیاں شروع ہوگئیں

    ٹھٹھہ:عام انتخابات، تمام امیدواروں کی سرگرمیاں شروع ہوگئیں

    ٹھٹھہ،باغی ٹی وی(بلاول سموں)8 فروری کو ہونے والے الیکشن میں تمام امیدواروں کی سرگرمیاں شروع ہوگئیں
    8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں کی سرگرمیاں شروع ہوگئیں ہیں اس سلسلے میں پاکستان پپلز پارٹی ضلع ٹھٹھہ کے صدر اور این اے 225 ٹھٹھہ پپلز پارٹی کے نامزد امیدوار صادق علی میمن نے جام ہاؤس پہنچ کر سابقہ ایم پی اے جام اویس بجار خان جوکھیو سے ملاقات کی اور آئندہ ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں بات چیت بھی کی گئی

    اس موقع پر جام اویس بجار خان نے این اے 225 ٹھٹھ ہپر صادق میمن کو یقین دلایا کہ وہ صادق میمن کے ساتھ ہیں اور انکے حلقے سمیت ضلع ٹھٹھہ کے عوام پپلز پارٹی کے تمام امیدواروں کو بھرپور طریقے سے کامیاب کرائینگے

    اس موقع پر گھارو ٹاؤن کمیٹی کے چیئرمین جام احسان جوکھیو ،امتیاز قریشی ،سید محمود عالم شاہ، ممتاز عرف ممی میمن ،جہانگیر خان پالاری اور دیگر موجود تھے

    دوسری طرف پپلز پارٹی کے نامزد قومی اسمبلی حلقہ این اے 225 کے مضبوط ترین امیدوار ضلعی صدر صادق علی میمن، امتیاز قریشی ،محمود عالم شاہ جہانگیر پالاری، ممتاز میمن ،رئیس سلیم گندرو ،آفتاب عالم سومرو ،رئیس ممتاز علی جاکھرو اور دیگر نے الیکشن کیمپ آفس گھارو کا دورہ کیا جہاں پر پپلز پارٹی کے رہنماؤں کا مولوی قاسم چانڈیو پپلز پارٹی کے کارکنان اور شہریوں نے شاندار استقبال کیا اور اجرکوں کے تحائف پیش کئے

    اس موقع پر پپلز پارٹی کے ضلعی صدر این اے 225 کے امیدوار صادق علی میمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی شھیدوں کی پارٹی ہے پپلز پارٹی کا منشور ہی عوام کی خدمت کرنا ہے اور انشاء اللہ 8 فروری کو پورے ملک سے پاکستان پیپلز پارٹی کامیابی حاصل کریگی

  • میرپورخاص:پہلا کمشنر میراتھن کھیل عوام کے لیے بڑا تحفہ ہے-فیصل احمد عقیلی

    میرپورخاص:پہلا کمشنر میراتھن کھیل عوام کے لیے بڑا تحفہ ہے-فیصل احمد عقیلی

    میر پورخاص(باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ ) پہلا کمشنر میراتھن کھیل میرپورخاص کی عوام کے لیے بڑا تحفہ ہے . ڈویژنل کمشنر میرپورخاص فیصل احمد عقیلی
    تفصیلات کے مطابق ڈویژنل کمشنر میرپورخاص فیصل احمد عقیلی نے کہا ہے کہ ڈویژنل اور ضلع انتظامیہ میرپورخاص کی جانب سے پہلا کمشنر میراتھن کھیل میرپورخاص کی عوام کے لیے بڑا تحفہ ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کمشنر کمپلیکس میں میراتھن کھیلوں کے انعقاد کے حوالے سے میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا .

    انہوں نے مزید کہا کہ 21 جنوری 2024 کو ہونے والے پہلے کمشنر میراتھن کے انعقاد کروانے کا مقصد لوگوں میں امن ، پیار و محبت اور بھائی چارگی کو پروان چڑھانا ہے اور کہا کہ میراتھن میں واک اور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے میراتھن ریس کے مقابلوں کا انعقاد کیا جائے گا جس میں لڑکوں کی میراتھن ریس 5کلو میٹر اور لڑکیوں کی میراتھن ریس ڈیڑھ کلو میٹر تک ہوگی جبکہ میراتھن ریس کی اختتامی تقریب گاما اسٹیڈیم میں منعقد ہوگی .

    انہوں نے مزید کہا کہ میراتھن ریس میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے کو 25 ہزار اور میڈل انعام ، دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے کو 15 ہزار اور میڈل ، تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے کو 10 ہزار اور میڈل جبکہ چوتھی اور پانچویں پوزیشن حاصل کرنے والے کو بھی 5 ،5 ہزار انعام اور میڈل دیا جائے گا . کمشنر نے اس بات کا اعلان کیا کہ میراتھن میں ہونے والی واک میں بزرگ شہری بھی حصہ لے سکتے ہیں .

    انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میرپورخاص میں ہونے والے میراتھن مقابلوں کو بہتر طور پر اجاگر کریں تاکہ ان مقابلوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر میرپورخاص کو اجاگر کریں تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہو سکے کہ میرپورخاص زندہ دل لوگوں کا شہر ہے .

    اس موقع پر ایڈیشنل کمشنر ون علی نواز بھوت ، ایڈیشنل کمشنر ٹو سونو خان چانڈیو ، ڈپٹی کمشنر میرپورخاص ڈاکٹر رشید مسعود خان ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون میرپورخاص پریم چند ، پڈسٹرکٹ آفیسر اسپورٹس واس دیو ، اسپورٹس آرگنائزر میرپورخاص واحد حسین پہلوانی اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی .

  • میرپورخاص:ملک برادری نے پی پی پی کےاین اے 211 کے امیدوار کی حمائت کردی

    میرپورخاص:ملک برادری نے پی پی پی کےاین اے 211 کے امیدوار کی حمائت کردی

    میرپور خاص( باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ )پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد کردا ایم این اے 211پیر آفتاب حسین شاہ جیلانی سے ملک برادری کے 40 رکنی وفد نے ملک محمد ابراہیم چوہان کی سربراہی میں ملاقات کی اور اپنی جانب سے 8 فروری کے عام انتخابات میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور شہر کے مسائل پر بات چیت کی

    وفد کا کہنا تھا ملک برادری میرپورخاص میں الیکشن میں کلیدی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اور ہمارے 29000 رجسٹر ووٹر ہے پر ہمارے نوجوان بنیادی سہولیات اور روزگار سے محروم ہے ۔

    پیر افتاب حسین نے اپنی جانب سے وفد کو مکمل تعاون کا یقین دلایا اس موقع پر سیاسی شخصیت چیئرمین حاجی محمد علی بھی موجود تھے۔

  • میرپورخاص:میرا ماضی  اور حال سب کے سامنے ہے،سابق ایم این اے سید علی نواز شاہ

    میرپورخاص:میرا ماضی اور حال سب کے سامنے ہے،سابق ایم این اے سید علی نواز شاہ

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ )میرپورخاص سے منتخب ہونے والے سابق آزاد رکن قومی اسمبلی سید علی نواز شاہ کی رہائشگاہ پر این اے 211 کے الیکشن کے حوالے سے منتظمین اور میرپورخاص کی عوام اور مختلف کمیونٹی کے افراد سے رائے طلب کرنے کے لئے ایک اجلاس انعقاد پذیر ہوا ، اجلاس میں موجود افراد سے سید علی نواز شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا ماضی حال سب کے سامنے ہے میرپورخاص کے شہریوں کے لئے بڑھ چڑھ کر ترقیاتی کام کرائے جبکہ میں سرکاری رکن اسمبلی نہیں تھا ،

    ان کا کہناتھاکہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ میں ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ 15 سال اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ 30 سال مسلسل کام کر چکا ہوں اس دوران جیل کی صعوبتیں ڈنڈے ،لاٹھیاں اور اس وقت کے حکمرانوں کے دور کی سختیاں بھی برداشت کی ہیں ،مگر آج جو پیپلز پارٹی پر ٹولہ قابض ہو چکا ہے اس ٹولے نے تو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر مٹھائی تقسیم کی تھی محترمہ نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو تنہا چھوڑ دیا تھا ۔پہلے بھی کہا تھا آج بھی کہتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو محترمہ بے نظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی کے وارث ہم ہیں

    آج پیپلز پارٹی کے امیدوار اگر ووٹ مانگنے لوگوں کے پاس جا رہے ہیں تو لوگ انہیں اپنی اوطاقوں سے بھگا رہے ہیں ان سے اس قسم کے سوالات کئے جا رہے ہیں کہ جس کا وہ جواب نہیں دے سکتے ، علی نواز شاہ نے عوام کو شعور دیا ہے میرپورخاص کی عوام نے سر اٹھانا سیکھ لیا ہے

    انہوں نے مزید کہا کہ ہارنا جیتنا تو نصیب کی بات ہے سب اللہ کی طرف سے ہے ، پیپلز پارٹی کے امیدواروں سے عوام کے سوال جواب اور انہیں اپنے گھروں سے بھگانے کا عمل دیکھ کر سمجھ میں آتا ہے کہ عوام علی نواز شاہ کے حق میں فیصلہ دے رہی ہے ،

    سید علی نواز شاہ نے کہا کہ کچھ لوگ میرے پاس آکر کہتے ہیں کہ آپ کتنی جگہ سے الیکشن لڑو گے ، اگر جیت گئے تو ایک سیٹ رکھ کر باقی نشستیں چھوڑنا ہوں گی میں ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں بار بار ان سیٹوں پر الیکشن لڑوں گا،

    اس موقع پرپی ایس 47 کے امیدوار اور سید علی نواز شاہ کے فرزند سید شجاع محمد شاہ نے کہا کہ میں نے اپنے بزرگوں سے سچ اور ایمانداری سیکھی ہے ہمارا خاندان امانت میں خیانت نہیں کرتا ،ہمیں میرپورخاص ڈویژن کی عوام ووٹ دیتی ہے ووٹ ایک قومی امانت ہے آپ درست سمت میں اس کا استعمال کریں میر پور خاص شہر کا ایک دورہ کریں علاقہ مکینوں سے احوال لے لیں اور پھر حق بجانب فیصلہ کریں ، اگر پیپلز پارٹی نے کوئی کام کیا ہے تو انہیں ووٹ دیں

    ہم نے پیپلزپارٹی کے مقابلے میں عوام کی صحیح طور پر خدمت کی ہے تو پھر ہمیں خدمت کا دوبارہ موقع دیں ہمیں منتخب کریں 8 فروری کو تالے پر مہر لگائیں انشاءاللہ 8 فروری کا سورج ظالموں ،منافقوں، رشوت خوروں اور کرپشن میں ملوث سابقہ حکمرانوں کی شکست کا اعلان کرنے کے لئے طلوع ہوگا اور انشاءاللہ وہ 8 فروری کو غروب آفتاب سے پہلے عبرت ناک شکست سے دو چار ہو جائیں گے۔

    اس موقع پرجاویداحمد خان پاپا ،چوہدری اشرف، حاجی محمد علی سموں، چراغ بلوچ، یو سی چیئرمین یاسین بلوچ، جنرل کونسلر زبیر گدی ،سلیم قائم خانی جیون ایڈوکیٹ، جنرل کونسلر کاشف اقبال، جنرل کونسلر سید لیاقت علی شاہ، انجمن تاجران کے کامران میمن ،نواب قریشی، فقیر نصیر خاصخیلی ،عبدالعزیز بنگلانی ،سلیم میمن ،محسن علی شاہ ،پروفیسر حمید شیخ، محمد علی لغاری، اللہ بچایو مہر ،کونسلر فیصل میئو راجپوت اور کونسلر فرخ میئو اور راجپوت حسین بخش خمیسانی اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں علی نواز شاہ کی قیادت پربھرپور اعتماد ہے

    علی نواز شاہ نے ماضی میں بھی ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے اور انشاءاللہ تعالی آئندہ بھی بھرپور طریقے سے ترقیاتی کام کرائیں گے ، اجلاس میں الیکشن مہم چلانے کے لائحہ عمل طے کیا گیا، جب کہ سب سے پہلے اجلاس میں میرپورخاص میں کار ایکسیڈنٹ میں انتقال کر جانے والے سید بابو شاہ کے فرزند سید اشہد شاہ کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی . جبکہ اجلاس کی کوریج میرپورخاص کی مشہور سوشل میڈیا ٹیم صدائے حق پاکستان کےسید شاہزیب شاہ ،حیات قریشی ،محمد علی بھرگڑی، احتشام قریشی ،سید شاہ زیب شاہ اور منیب قریشی ودیگر نمائندوں نے کی.

  • نوری آباد:بااثرقبضہ مافیا،محکمہ ریونیواور پولیس گٹھ جوڑ کیخلاف احتجاج

    نوری آباد:بااثرقبضہ مافیا،محکمہ ریونیواور پولیس گٹھ جوڑ کیخلاف احتجاج

    نوری آباد،باغی ٹی وی (نامہ نگاراللہ وسایا پالاری)بااثرقبضہ مافیا،محکمہ ریونیواور پولیس گٹھ جوڑ کیخلاف احتجاج
    نوری آباد کے قریب بااثر قبضہ مافیا اور محکمہ ریونیواور پولیس کے خلاف مقامی لوگوں نے سروس روڈ بند کرکے احتجاجی مظاہرہ کیا اور شدیدنعرےبازی کی گئی، حضور بخش پالاری۔ گل زمان پالاری اللہ رکھا پالاری زبیر پالاری اور دیگر لوگوں نے سرورس روڈ پر احتجاج کیا

    گاؤں نواب پالاری بخشوخان پالاری اللہ رکھا۔حضور بخش پالاری گلاب پالاری اور دیگر رہائشی کی زمینوں پر قبضہ کیا گیا ہے بااثر مالک احسن جھوٹے کھاتے ڈال کر مکینوں کی 129 ایکڑ اراضی پر قبضہ کیا جا رہا ہے،جسے پولیس اور محکمہ ریونیوکی پشت پناہی حاصل ہے ،کرپٹ عناصرکی وجہ سے گاؤں کے لوگوں کی زمینوں پر ناجائزقبضے کئے جارہے ہیں

    متاثرین ے نگران حکومت سندھ اورمقتدر حلقوں ور اعلیٰ عدلیہ سے قبضہ مافیا سے نجات دلانے کی اپیل کی ہے اورگاؤں نے آئی جی سندھ سے نوٹس لینے مطالبہ کیا ہے اور قبضہ مافیاکوتحفظ دینے والی پولیس کی کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی کی جاۓ.

  • ہمیں نفرت اور تقسیم کی سیاست کا خاتمہ کرنا ہوگا، بلاول بھٹو زرداری

    ہمیں نفرت اور تقسیم کی سیاست کا خاتمہ کرنا ہوگا، بلاول بھٹو زرداری

    حیدرآباد: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہمیں نفرت اور تقسیم کی سیاست کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

    باغی ٹی وی : حیدر آباد میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ بڑے بڑے لیڈرز کو قتل کردیاگیا، کچھ لوگ چاہتے ہیں سیاسی تقسیم اور نفرت برقرار رہے، ملک میں نفرت کا بخار توڑنا ہوگا، لیکن اس کا مطلب ذاتی دشمنی نہیں ہے ہمیں نفرت اور تقسیم کی سیاست کا خاتمہ کرنا ہوگا، ایک دوسرے کو غدار کہہ کر ملک کو کیسے چلایا جا سکتا ہے، ہر پاکستانی محب وطن پاکستانی ہے، اختلاف رائے رکھنا سب کاحق ہے، ہمیں مل کر تمام خطرات کا مقابلہ کرناہوگا۔

    آج رواں سال کی سب طویل رات ہو گی

    https://x.com/PPP_Org/status/1737795119548707249?s=20
    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عوام جان لیں اتحاد میں ہی جیت ہےتو یہ قوتیں ہار جائیںگی اپنی ثقافت کا فروغ ہمارے لئے ضروری ہے،دنیا کے ساتھ چلنے کیلئے اپنی ثقافت کو اجاگر کرنا ہوگا، ہر صوبے کو اپنی ثقافت اور تاریخ کو اون کرنا ہوگا ہم نے پاکستان کو ایک جدید ملک بنانا ہے، نوجوانوں کے ہاتھ سے اسلحہ لے کر قلم دینا ہوگا، دانشور اور نوجوان جاگ جائے تو ملک کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا، 2024 میں پاکستان کو اصلاحات کی ضرورت ہے۔

    اسرائیل کی جارحیت جاری، شمالی غزہ کے تمام اسپتال غیر فعال ہو گئے

    https://x.com/MediaCellPPP/status/1737804473895121291?s=20
    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی آلودگی سے سیاچن کی برف پگھل جائے گی، برف پگھلی تو پہلےسیلاب آئے گا اور پھر پیاس سے لوگ مریں گے، ہمیں اپنے مستقبل کی تیاری پہلے سے کرنی ہوگی، عوام میں آگاہی کیلئے مہم چلانی ہوگی، سندھ کے سیلاب متاثرین کے لئے گھروں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

  • سندھی زبان کے مشہور افسانہ نگار، نثرنگار، شاعر اور صحافی،مدد علی سندھی

    سندھی زبان کے مشہور افسانہ نگار، نثرنگار، شاعر اور صحافی،مدد علی سندھی

    مدد علی سندھی سندھ، پاکستان میں پیدا ہونے والے سندھی زبان کے مشہور افسانہ نگار، نثرنگار، شاعر اور صحافی ہیں ان کی کئی کتابیں شائع ہو ئی ہیں۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    مدد علی سندھی 12 اکتوبر 1950ء کو اللہ بخش قریشی کے گھر میں سندھ کے ضلع حیدرآباد کے شہر حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ مدد علی سندھی نے پرائمری تعلیم فاطمہ گرلز پرائمری اسکول حیدرآباد، سندھ سے حاصل کی۔ یہ اسکول خلافت تحریک کے رہنما شیخ عبدالرحیم کی بڑی بیٹی حاجانی غلام فاطمہ نے قائم کیا تھا اور اس خاتون نے ہی مدد علی سندھی کو تعلیم دلوائی۔ انہوں نے میٹرک تک تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول حیدرآباد سے حاصل کی اور بی اے کی ڈگری گورنمنٹ سچل آرٹس اینڈ کامرس کالج حیدرآباد سے حاصل کی۔ جامعہ سندھ سے ایم اے کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران دو مرتبہ رسٹیکیٹ ہوئے جس وجہ سے مکمل نہ کر سکے۔
    ادبی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔
    مدد علی سندھی کے کئی مضامین، افسانے شائع ہوئے ہیں۔ ان کی شاعری بھی جریدوں میں شائع ہوئی اور مجموعات کی شکل میں بھی شائع الگ سے ہوئے ہیں۔ مدد علی سندھی کی کئی کتابیں آن لائن انٹرنیٹ پر دست یاب ہیں اور پڑھی جاتی ہیں۔ ان کتابوں میں ان کی کتاب گونجا بی کائی کوجا ہے۔ یہ ان کی ایک مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ یہ کتاب گڈ ریڈز پر دست یاب ہے۔
    گُڈ ریڈز دنیا کی سب سے بڑی ویب سائٹ ہے جہاں پر کہ قارئین اور کتابوں کی سفارشات کی جاتی ہیں۔ ویب سائٹ کے مطابق وہ لوگوں کو عالمی سطح پر من پسند کتابوں کے دست یاب ہونے میں معاون ہوتا ہے۔ اس کا آغاز جنوری 2007ء میں ہوا تھا۔مدد علی سندھی کے افسانے اردو میں بھی ترجمہ کیے گئے ہیں۔
    سیاست صحافت
    ۔۔۔۔۔۔
    مدد علی طالب علمی کے زمانے میں سیاست میں متحرک رہے۔ پہلے جیے سندھ اسٹوڈنٹ فیڈریشن میں رہے۔ بعد میں 1969ء میں عوامی لیگ کے لیے حیدرآباد ڈویژن کے آرگنائزر مقرر ہوئے۔ شیخ مجیب الرحمٰن نے انہیں عوامی لیگ کی ورکنگ کمیٹی میں بطور رکن نامزد کیا۔ مدد علی سندھی نے اکتوبر 1970ء میں سندھی زبان میں اگتے قدم نامی جریدہ شایع کیا جس پر 1972ء میں پابندی لگائی گئی اور خود بھی 1978 تک روپوش رہا۔
    ایوارڈ
    ۔۔۔۔۔
    مدد علی سندھی کو 14 اگست2021ء کو خدمات کے عوض صدارتی ایوارڈ تمغائے حسن کارکردگی دیا گیا۔وہ اس وقت نگران وفاقی وزیر تعلیم کے منصب پر فائز ہیں۔

    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)شہر صحرابھانیاں-2005
    ۔ (2)پنرملن-1981
    ۔ (3)دل اندر دریا-1980
    نمایاں کام:گونجا بی کائی کوجا
    مستقل پتا:ای۶، جیسن لگزری اپارٹمنٹ
    بلاک3، کلفٹن کراچی

    اہم اعزازات:تمغائے حسن کارکردگی

  • سکھرحیدرآباد موٹروے کرپشن کیس:ملزمان کے خلاف کرپشن کے ثبوت مل گئے

    سکھرحیدرآباد موٹروے کرپشن کیس:ملزمان کے خلاف کرپشن کے ثبوت مل گئے

    سندھ: سکھرحیدرآباد موٹروے کرپشن کیس میں سابق ڈی سی مٹیاری عدنان رشید اور اسلم پیرزادہ کے خلاف کرپشن کے ثبوت مل گئے۔

    باغی ٹی وی : نیب حکام کے مطابق کرپشن کے الزام میں گرفتار دونوں ملزمان کے موبائل کے ایس ایم ایس، وائس ریکارڈ میسج اور کال ڈیٹا کی فارنزک رپورٹ آگئی ہے گرفتارملزمان کے موبائل سے کرپشن کی رقم تقسیم کرنے کے ثبوت ملے ہیں سکھر حیدرآباد موٹروے کرپشن کیس میں گرفتار دونوں ملزمان سابق ڈی سی عدنان رشید اور اسلم پیرزادہ نواب شاہ اورمٹیاری کی سیاسی شخصیات سے رابطے میں تھے۔نیب حکام کے مطابق فارنزک رپورٹ کی کاپی احتساب عدالت میں جمع کرائیں گے۔

    واضح رہے کہ ایم 6 موٹر وے منصوبے کیلئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے زمینوں کی خریداری کیلئے ڈپٹی کمشنر مٹیاری اور نوشہرو فیروز کو 7 ارب 71 کروڑ 16 لاکھ روپے سے زائد کے فنڈز جاری کیے لیکن زمینوں کی خریداری کے معاملے میں مبینہ طور پر قواعد ضوابط کا خیال نہیں رکھا گیا3 ارب 61 کروڑ روپے سے زائد وصول کرنے والا ڈپٹی کمشنر نوشہروفیروز تاشفین عالم غیر ملکی پرواز سے آذربائیجان فرار ہوگیا۔

    اوچ شریف: مبینہ پولیس مقابلہ ،2 ڈکیت ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

    دوسری جانب 4 ارب روپے سے زائد وصول کرنے والے ڈپٹی کمشنر مٹیاری کی نگرانی میں مبینہ طورپر سوا 2 ارب روپے کیش نکالے گئے لیکن مبینہ طور پر زمین نہیں خریدی گئی سندھ حکومت نے مبینہ کرپشن کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بنائی تھی اور اینٹی کرپشن سندھ نے مقدمات بھی درج کیے تھے۔

    افغانستان میں ایک بار پھر شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے

  • وقت کرتا ہے پرورش برسوں  حادثہ  ایک  دم  نہیں   ہوتا

    وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

    وقت کرتا ہے پرورش برسوں
    حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

    قابل اجمیری

    اردو کے ممتاز شاعر قابل اجمیری 27 اگست، 1931ء کو چرولی، اجمیر شریف میں پیدا ہوئے اور صرف 31 برس کی عمر میں 3 اکتوبر 1962 کو حیدر آباد میں ان کی وفات ہوئی قابل اجمیری کا اصل نام عبد الرحیم تھا۔ وہ سات سال کے تھے کہ ان کے والد تپ دق (ٹی بی) میں مبتلا ہو کر انتقال کرگئے۔ کچھ وقت یتیم خانے میں بسر ہوا۔ کچھ ہی دنوں بعد ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا. پھر ان کی چھوٹی بہن فاطمہ بھی دنیا سے چلی گئی۔ 1948 میں اپنے بھائی شریف کے ساتھ پاکستان آ گئے اور حیدر آباد، سندھ میں رہائش پزیر ہوئے۔

    قابل نے چودہ سال کی عمر میں شاعری کی ابتدا کی۔ ان کی شاعری کو نکھارنے اور سنوارنے میں مولانا مانی اجمیری کا بڑا ہاتھ ہے۔ ان کو حیدرآباد میں دوستوں کا ایک بڑا حلقہ ملا۔ وہ ادبی جریدے "نئی قدریں” کے مدیر اختر انصاری اکبر آبادی کے خاصے قریب رہے۔ قابل حیدرآباد کے روزنامے "جاوید” اور ہفت روزے ” آفتاب” میں قطعات بھی لکھتے رہے۔

    والدین کی طرح تپ دق سے وہ بھی نہ بچ سکے. 1960ء میں کوئٹہ (بلوچستان) کے سینیٹوریم میں داخل ہوئے۔ وہاں ان کی ملاقات ایک مسیحی نرس نرگس سوزن سے ہوئی. کچھ ہی دنوں بعد نرگس سوزن نے اسلام قبول کرکے قابل سے شادی کرلی، جن سے ان کے صاحبزادے ظفر اجمیری نے جنم لیا۔ نرگس سوزن 2 اگست 2001 تک زندہ رہیں.

    ’’کلیات قابل اجمیری‘‘ میں شہزاد احمد نے لکھا "قابل اجمیری کی ذاتی زندگی ایک طویل المیہ تھی لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جب ڈاکٹر نے انہیں سیب کھانے کے لیے مشورہ دیا تھا تو ان کے پاس سیب خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ مگر اس کے باوجود اس ظالم دنیا میں ایک خاتون ایسی ضرور موجود تھی جس نے کوئٹہ کے سینی ٹوریم میں قابل کی شریک حیات بننے کا فیصلہ اس وقت کیا جب اسے معلوم تھا کہ ان کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ پھر اس خاتون نے قابل اجمیری کے لیے ترک مذہب کر کے اسلام بھی قبول کیا تھا۔”

    اس خاتون کے سبب ہی قابل اجمیری کے دو شعری مجموعے ’’رگ جاں‘‘ اور’’ دیدہ بیدار‘‘ شائع ہو سکے۔ ورنہ شاید قابل کا نام کہیں اوراق میں گم ہو چکا ہو تا۔ کیونکہ وہ اپنے مجموعہ کلام شائع کرانے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے تھے۔ بعد میں سلیم جعفری نے 1992 میں”کلیات قابل‘‘شائع کی۔

    ایک صحافی توصیف چغتائی نے بیگم قابل اجمیری کا انٹرویو لیا تھا۔ جس میں انہوں نے لکھا: ’میں نے جگہ جگہ انہیں تلاش کیا اور آخر کار میں نے انہیں ملٹری ہسپتال میں پا ہی لیا۔ اس لمحہ میرا جی چاہا کہ میں ان سے کہوں، مادام آپ بہت عظیم ہیں آپ نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی اپنے ہاتھ لہو میں بھر لیے ایک شاعر اور وہ بھی اردو ادب کا پھر ٹی بی کا مریض اور اس کے لیے اتنی عظیم قربانی! سب کچھ جانتے ہوئے بھی آپ نے اسے کیوں اپنا لیا ؟ لیکن میں ان سے کچھ نہ کہہ سکا دراصل وہ قابل کے ذکر میں ایسی کھوئی ہوئی تھیں کہ میں سنتا رہا اور وہ کہتی رہیں۔‘

    قابل صاحب سے ان کی ملاقات ریلوے کے سینی ٹوریم میں سنہ 1960 میں ہوئی تھی جب انہوں نے محسوس کیا کہ شاعر یاس و آس کا شکار ہے اور اس کے حالات نازک ترین ہیں تب انہوں نے شاعر کو موت کے منہ سے بچانے کا پورا عزم کیا اور دن رات اس کی صحت یابی کی کوشش کرتی رہیں یہاں تک کہ شاعر نے کروٹ لی اور محسوس کیا کہ اس کا کھویا ہوا اعتماد پھر واپس آگیا ہے اور یہ کہ زندگی بہت حسین ہے اور اسے جینا چاہیئے۔

    ’میں نے محسوس کیا کہ قابل بے حد دکھی انسان ہیں۔ ایسے دکھی جن کے پاس غم اور فکر دوراں کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اسی لیے میں نے سوچا کہ شاید میرا سہارا ان کی معذور زندگی میں نیا خواب بکھیر دے چنانچہ میں نے ان سے شادی کر لی. ہم لوگ کوئٹہ سے حیدرآباد چلے آئے قابل صاحب کو میں نے گھر ہی پر رکھا اور علاج برابر جاری رہا۔‘

    ایک ایسا شاعر جس کی پوری زندگی المیہ رہی ہو اس سے درد و کرب کے علاوہ اور کسی چیز کی کیا توقع کی جا سکتی ہے لیکن ان سب کے باوجود قابل زمانہ میں رونما ہونے والے تغیرات سے بے خبر نہیں تھے۔ جن کی باز گشت ان کے اشعار میں سنائی دیتی ہے۔ قابل نے درد و کرب کی کہانیاں تو بیان کی ہی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ دنیا کے تغیرات کو بھی اپنی گرفت میں لیا ہے۔ اسی لیے قابل کی شاعری آج بھی زندہ ہے اور شاید وقت گزرنے کے ساتھ اس کی معنویت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔

    قابل اجمیری کی وفات کے 58 برس بعد حیدر آباد کی بلدیہ اعلیٰ نے شہر کا ایک اہم چوک ان سے منسوب کردیا.

    قابل کے چند اشعار

    جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
    زندگی کو مری ضرورت ہے

    تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
    عشق انسان کی ضرورت ہے

    رنگِ محفل چاہتا ہے اک مکمل انقلاب
    چند شمعوں کے بھڑکنے سے سحر ہوتی نہیں

    راستہ ہے کہ کٹتا جاتا ہے
    فاصلہ ہے کہ کم نہیں ہوتا

    ہم بدلتے ہیں رخ ہواؤں کا
    آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے

    اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر نہیں ہوتی
    اشک بہہ جاتے ہیں لیکن آنکھ تر نہیں ہوتی

    زمانہ دوست ہے کس کس کو یاد رکھو گے
    خدا کرے تمہیں مجھ سے دشمنی ہوجائے

    رکا رکا سا تبسم، جھکی جھکی سی نظر
    تمہیں سلیقہ بے گانگی کہاں ہے ابھی

    سکونِ دل کی تمنا سے فائدہ قابل
    نفس نفس غمِ جاناں کی داستاں ہے

    تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے
    میں رو رہا ہوں تو ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گے

    مجھے تو اس درجہ وقتِ رخصت سکوں کی تلقین کر رہے ہو

    مگر کچھ اپنے لیے بھی سوچا، میں یاد آیا تو کیا کرو گے

    کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاؤ مرے لہو کی بہار کب تک
    مجھے سہارا بنانے والو، میں لڑکھڑایا تو کیا کرو گے

    ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مذاقِ جنوں پہ لیکن
    تمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا تو کیا کرو گے

    ابھی تو دامن چھڑا رہے ہو، بگڑ کے قابل سے جا رہے ہو
    مگر کبھی دل کی دھڑکنوں میں شریک پایا تو کیا کرو گے

    تم نے مسرتوں کے خزانے لٹا دیے
    لیکن علاجِ تنگیِ داماں نہ کر سکے

    حیرتوں کے سلسلے سوزِ نہاں تک آ گئے
    ہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آ گئے

    نامرادی اپنی قسمت، گمرہی اپنا نصیب
    کارواں کی خیر ہو، ہم کارواں تک آ گئے

    انکی پلکوں پر ستارے اپنے ہونٹوں پر ہنسی
    قصہٴ غم کہتے کہتے ہم کہاں تک آ گئے

    اپنی اپنی جستجو ہے اپنا اپنا شوق ہے
    تم ہنسی تک بھی نہ پہنچے ہم فغاں تک آگئے

    زلف میں خوشبو نہ تھی یا رنگ عارض میں نہ تھا
    آپ کس کی آرزو میں گلستاں تک آ گئے

    خود تمھیں چاکِ گریباں کا شعور آ جائے گا
    تم وہاں تک آ تو جاؤ، ہم جہاں تک آ گئے

    آج قابل میکدے میں انقلاب آنے کو ہے
    اہلِ دل اندیشہٴ سود و زیاں تک آ گئے

    کچھ غم زیست کا شکار ہوئے
    کچھ مسیحا نے مار ڈالے ہیں

    رہ گزار حیات میں ہم نے
    خود نئے راستے نکالے ہیں

    مجھی پہ ختم ہیں سارے ترانے
    شکست ساز کی آواز ہوں میں

    کوئے قاتل میں ہمی بڑھ کے صدا دیتے ہیں
    زندگی، آج ترا قرض چکا دیتے ہیں