Baaghi TV

Category: حیدرآباد

  • ٹھٹھہ: ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے ماں اور نوزائیدہ جاں بحق، ورثاء کا احتجاج

    ٹھٹھہ: ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے ماں اور نوزائیدہ جاں بحق، ورثاء کا احتجاج

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی،ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں کی رپورٹ)سجاول سے تعلق رکھنے والی ماں اور نوزائیدہ کی زندگی ہسپتال کی دہلیز پر دفن، مبینہ غفلت پر عوام کا احتجاج، مرف کے ہسپتال نظام پر سوالیہ نشان

    گوٹھ ٹیمانی، بٹھورو روڈ سجاول کی رہائشی حاملہ خاتون یاسمین زوجہ اکرم ملاح کی زندگی سول ہسپتال مکلی میں ڈاکٹروں اور عملے کی مبینہ غفلت کی نذر ہو گئی جبکہ اس کا نوزائیدہ بچہ بھی ماں کے ساتھ ہی دم توڑ گیا۔ متاثرہ خاندان انصاف کے لیے دہائیاں دے رہا ہے جبکہ پورے علاقے میں محکمہ صحت کی مجرمانہ خاموشی پر شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق یاسمین کو تکلیف کے باعث پہلے سجاول ہسپتال لایا گیا، جہاں سے اسے فوری طور پر ٹھٹھہ سول ہسپتال مکلی ریفر کر دیا گیا۔ وہاں گائنی وارڈ میں بروقت علاج نہ ہونے، مبینہ غیرذمہ دارانہ آپریشن اور عملے کی لاپروائی کے نتیجے میں نوزائیدہ بچہ پیدا ہوتے ہی دم توڑ گیا جبکہ خاتون کی حالت نازک ہو گئی۔

    زخموں سے چور خاتون کو کراچی ریفر تو کر دیا گیا لیکن 1122 ایمبولینس میں مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث وہ راستے میں دم توڑ گئی۔ مزید بے حسی یہ کہ خاتون کی میت کو دوبارہ اسی ہسپتال لایا گیا جہاں سے اسے زندہ نکالا گیا تھا۔ سرکاری ایمبولینس کے ذریعے اس کی لاش واپس گوٹھ ٹیمانی پہنچائی گئی، جہاں کہرام مچ گیا۔

    مرحومہ کے شوہر اکرم ملاح نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
    "میری بیوی بالکل تندرست تھی، سرکاری ہسپتال کی لاپرواہی نے میرے گھر کا چراغ بجھا دیا۔ یہ صرف ایک ماں اور بچے کی موت نہیں، یہ انسانیت کا قتل ہے۔ ہمیں انصاف چاہیے!”ورثاء اور اہلِ علاقہ نے ہسپتال کے باہر احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ:

    * مرف کے زیرانتظام سول ہسپتال مکلی میں ہونے والی غفلت کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کرائی جائے،
    * ذمہ دار ڈاکٹروں اور عملے کو فوری معطل کر کے مقدمہ درج کیا جائے،
    * سرکاری ہسپتالوں کو نجی این جی اوز کے حوالے کرنے کی پالیسی پر ازسرنو غور کیا جائے،
    * 1122 ایمبولینس سروس کی کارکردگی کا سخت آڈٹ کرایا جائے۔

    یاد رہے کہ جب سے سول ہسپتال مکلی کو مرف (NGO) کے حوالے کیا گیا ہے، ہسپتال میں مریضوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک، علاج میں تاخیر اور اموات کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، لیکن تاحال حکومت سندھ اور محکمہ صحت کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آ سکی۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک اور ماں اور بچہ جان سے جائیں گے تب نوٹس لیا جائے گا؟

    عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر صحت اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

  • ٹھٹھہ: صادق میمن کا اسمبلی میں دھواں دار خطاب، ونڈ کاریڈور کے باوجود بجلی، روزگار اور ترقی کا فقدان

    ٹھٹھہ: صادق میمن کا اسمبلی میں دھواں دار خطاب، ونڈ کاریڈور کے باوجود بجلی، روزگار اور ترقی کا فقدان

    ٹھٹھہ (ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں)صادق میمن کا اسمبلی میں دھواں دار خطاب، ونڈ کاریڈور کے باوجود بجلی، روزگار اور ترقی کا فقدان

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اور ضلعی صدر ٹھٹھہ صادق علی میمن نے ٹھٹھہ سمیت سندھ کے سنگین مسائل پر توجہ دلائی اور وفاقی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے خاص طور پر ٹھٹھہ میں پائے جانے والے ملک کے سب سے بڑے ونڈ کاریڈور کے باوجود ضلع کو مسلسل نظرانداز کیے جانے پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا۔

    صادق علی میمن کا کہنا تھا کہ ٹھٹھہ میں ونڈ انرجی کے بڑے منصوبے ہونے کے باوجود یہاں کی عوام بجلی کی شدید قلت، بدترین لوڈشیڈنگ اور ترقیاتی پسماندگی کا شکار ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت کی سرپرستی میں چلنے والی ونڈ انرجی کمپنیاں مقامی لوگوں کو روزگار نہیں دے رہیں، نہ ہی ضلع میں کسی قسم کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں اور نہ ہی کمپنیوں کی جانب سے CSR فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں، جو ایک کھلی ناانصافی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کی اتحادی ضرور ہے، مگر سندھ کے عوام کا مینڈیٹ بھی رکھتی ہے۔ اس سال کے وفاقی بجٹ میں سندھ کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا ہے، جس کے خلاف آواز اٹھانا ہمارا آئینی حق ہے۔

    ایم این اے صادق میمن نے وفاق پر یہ اعتراضات بھی اٹھائے:
    * سندھ کی سرکاری جامعات کو وعدے کے مطابق گرانٹس نہیں دی جا رہیں۔
    * K-IV منصوبے کی فنڈنگ انتہائی محدود ہے حالانکہ یہ کراچی اور سندھ کے لیے اہم منصوبہ ہے۔
    * سکھر موٹر وے جیسے اہم منصوبے کو بھی بجٹ میں محض کاغذی اہمیت دی گئی۔
    * زرعی شعبے کے لیے بھی کوئی مؤثر سہولت یا پیکج شامل نہیں کیا گیا۔
    * سولر پینلز پر سے ٹیکس کا خاتمہ کیا جائے تاکہ عام آدمی بجلی کے متبادل ذرائع سے مستفید ہو سکے۔
    * کم از کم تنخواہ میں خاطر خواہ اضافہ نہ کرنا غریب طبقات کے ساتھ کھلی زیادتی ہے، اسے پچاس ہزار روپے مقرر کیا جائے۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت اگر سندھ کے مسائل اور ان کے تحفظات کو نظرانداز کرتی رہی تو پیپلز پارٹی بجٹ کی منظوری میں اس کا ساتھ نہیں دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے اور یہ طرزعمل سندھ دشمنی کے مترادف ہے۔

    واضح رہے کہ ضلع ٹھٹھہ نہ صرف ملک کا سب سے بڑا ونڈ انرجی زون ہے بلکہ جغرافیائی اہمیت کے لحاظ سے بھی ایک اہم علاقہ ہے، اس کے باوجود یہاں کے عوام بجلی، روزگار، صحت، تعلیم اور ترقی سے محروم ہیں، جس پر مقامی نمائندے بارہا احتجاج کر چکے ہیں لیکن شنوائی اب تک نہیں ہوئی۔

  • ٹھٹھہ: ڈاکوؤں کیخلاف فیصلہ کن کارروائی ہوگی، ضیاء لنجار

    ٹھٹھہ: ڈاکوؤں کیخلاف فیصلہ کن کارروائی ہوگی، ضیاء لنجار

    ٹھٹھہ (ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں) وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ سندھ پولیس میں ڈاکوؤں، جرائم پیشہ افراد اور امن دشمنوں سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس فورس نہ صرف جدید اسلحے سے لیس ہے بلکہ مہارت کے لحاظ سے بھی سندھ پولیس نے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ وہ ٹھٹھہ میں جدید طرز پر قائم کیے گئے ماڈل تھانے کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

    اس موقع پر ان کے ہمراہ صوبائی وزیر اوقاف و زکواۃ سید ریاض حسین شاہ شیرازی، ایم این اے صادق علی میمن، چیئرمین ضلع کونسل عبدالحمید پنہور، ڈی آئی جی طارق رزاق دھاریجو، ڈپٹی کمشنر منور عباس سومرو، ایس ایس پی ڈاکٹر محمد عمران خان، سی آئی اے انچارج ممتاز بروہی سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے۔

    وزیر داخلہ نے ماڈل تھانے کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس تھانے میں عوام کو بروقت انصاف فراہم کرنے کے لیے تمام جدید سہولیات میسر کی گئی ہیں، جن میں انتظار گاہ، قانونی مشاورت، ابتدائی شکایت درج کرنے کے لیے مختلف ڈیسک، خواتین اور بچوں کے لیے مخصوص ڈیسک، تفتیشی کمرے اور لاک اپ شامل ہیں۔

    ضیاء الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ سندھ اب ماضی کی نسبت زیادہ پرامن ہے تاہم پولیس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خصوصاً شمالی سندھ کے اضلاع کندھ کوٹ، شکارپور اور لاڑکانہ میں ڈاکوؤں کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری ہیں اور ڈکیت کلچر کے خاتمے کے لیے پولیس کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ اور آرمی چیف کا بھی شکریہ ادا کیا کہ جن کی مدد سے سندھ پولیس کو جدید اسلحہ فراہم کیا گیا۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ اہلکاروں کی کمی نہیں، تاہم پولیس میں قابل اور ذہین نوجوانوں کو شامل کرنے کا عمل جاری ہے تاکہ مغویوں کی بازیابی سمیت دیگر جرائم پر مؤثر قابو پایا جا سکے۔

    آخر میں وزیر داخلہ نے ماڈل تھانے کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور ایس ایس پی ڈاکٹر محمد عمران خان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس کی بہتر کارکردگی سے عوام کا اعتماد بحال ہوگا اور قانون کی عملداری کو تقویت ملے گی۔

  • ایم کیو ایم کی شعلہ بیانی اس کی مجبوری ہے، ہم سمجھتے ہیں۔ شرجیل میمن

    ایم کیو ایم کی شعلہ بیانی اس کی مجبوری ہے، ہم سمجھتے ہیں۔ شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر برائے اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت کو کسی بھی تحریک سے کوئی خطرہ نہیں، مجھے نہیں لگتا کہ پی ٹی آئی کی کوئی تحریک کامیاب ہوگی۔

    حیدرآباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پاک بھارت لڑائی میں فوجی اور سویلین شہدا کو یاد رکھیں، فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کو یاد رکھیں،عید کا دن نمازوں اور قربانی کے ساتھ اتحاد کا دن ہوتا ہے، میری زندگی میں یہ پہلی عید ہے جو فاتح قوم کےطور پر منارہے ہیں، بھارت کو پاکستان نے عبرتناک شکست سے دوچار کیا، یہ جنگ ہماری بہادر افواج، سیاسی قیادت اور عوام نے مل کر لڑی،عید کے روز 2022ء کے سیلاب متاثرین کو یاد رکھیں گے، سیلاب متاثرین کےلیے بلاول بھٹو کی ہدایت پر 21 لاکھ گھر بنارہے ہیں، مئی میں ہم 8 لاکھ گھر بنانے کا ریکارڈ توڑ چکے ہیں، سولر سسٹم بھی مفت تقسیم کیے جارہے ہیں، سندھ کا بجٹ 13 جون کو پیش ہوگا، کوشش ہے عوام کو ریلیف دیں، وفاقی حکومت بھی کوشش کرے گی کہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالے، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ بجٹ میں صحت اور تعلیم کو خصوصی توجہ دی ہے، ایم کیو ایم کی شعلہ بیانی اس کی مجبوری ہے، ہم سمجھتے ہیں۔

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اپنی اسٹیٹ کے خلاف بیانیے کو تبدیل کریں، واحد حل بات چیت ہے، بات چیت کے ذریعہ اپنی بات کریں، علیم خان آئے تھے، وعدہ کیا تھا کہ حیدرآباد سکھر موٹروے بنانے جارہے ہیں، اس سڑک پر سندھ کی نہیں پورے ملک کی ٹرانسپورٹ چلے گی، اسی سال حیدرآباد کو ای وی بسیں ملیں گی، مفت پنک اسکوٹر بھی بہنوں اور بچیوں کو دینے جارہے ہیں۔

  • ٹھٹھہ:جھرک شہر میں پانی کا بحران، 4 سال سے تعطل کا شکار واٹر سپلائی سکیم، مبینہ کرپشن پر شہری سراپا احتجاج

    ٹھٹھہ:جھرک شہر میں پانی کا بحران، 4 سال سے تعطل کا شکار واٹر سپلائی سکیم، مبینہ کرپشن پر شہری سراپا احتجاج

    ٹھٹھہ،باغی ٹی وی (ڈسٹرکٹ رپورٹر،بلاول سموں)جھرک شہر میں پانی کا بحران، 4 سال سے تعطل کا شکار واٹر سپلائی سکیم، مبینہ کرپشن پر شہری سراپا احتجاج

    تفصیلات کے مطابق ٹھٹھہ ضلع کے جھرک شہر، جو قائد اعظم محمد علی جناح کا آبائی و پیدائشی شہر ہے، میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت نے شہریوں کی زندگی عذاب بنا دی ہے۔ 4 کروڑ 83 لاکھ روپے کی لاگت سے منظور شدہ واٹر سپلائی اسکیم گزشتہ چار سال سے تعطل کا شکار ہے، اور اس کی ناکامی کے پیچھے ٹھیکیداروں اور پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے افسران کی مبینہ کرپشن و ملی بھگت کے الزامات نے شہریوں کے غم و غصے کو بھڑکا دیا ہے۔ انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کی خاموشی اس سنگین بحران کو مزید گھمبیر بنا رہی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، جھرک شہر کے ہزاروں شہری پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں، کیونکہ واٹر سپلائی اسکیم، جو شہر کی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی، چار سال سے التوا کا شکار ہے۔ مقامی ذرائع نے انکشاف کیا کہ اسکیم کی تکمیل میں تاخیر کی وجہ ٹھیکیداروں کی جانب سے فنڈز کی مبینہ خرد برد اور پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے افسران کی چشم پوشی ہے۔ شہریوں کا الزام ہے کہ اس منصوبے کے لیے مختص کروڑوں روپے کے فنڈز منظم طریقے سے ہضم کیے جا رہے ہیں، جبکہ حکام اس سنگین بدعنوانی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

    اس ناانصافی اور بدانتظامی کے خلاف جھرک شہر کے شہریوں نے سراپا احتجاج بنتے ہوئے سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا۔ جیئے سندھ محاذ کے رہنما امجد شورو کی قیادت میں ایک بھرپور احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں شہریوں، خواتین اور نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے واٹر سپلائی اسکیم کی فوری تکمیل، مبینہ کرپشن کی تحقیقات، اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

    مظاہرین نے اعلیٰ حکام کو خبردار کیا کہ اگر اسکیم کا کام فوری شروع نہ کیا گیا اور کرپشن کے ذمہ داروں کو بے نقاب نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ صوبائی سطح تک وسیع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پینے کا صاف پانی شہریوں کا بنیادی حق ہے، اور اس حق سے محرومی ناقابلِ برداشت ہے۔ شہریوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ، اور دیگر متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

    جھرک شہر کے اس بحران نے نہ صرف انتظامیہ کی نااہلی کو عیاں کیا ہے بلکہ حکومتی ترجیحات پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ واٹر سپلائی اسکیم کے فنڈز کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں، اور منصوبے کو شفاف طریقے سے جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

    یہ صورتحال ایک سنگین انسانی بحران کی نشاندہی کرتی ہے، جو حکام کی توجہ اور فوری عمل کی متقاضی ہے۔ جھرک کے شہریوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ مزید خاموش نہیں رہیں گے اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ اعلیٰ حکام سے مطالبہ ہے کہ وہ اس مبینہ کرپشن کی تحقیقات کریں اور شہریوں کو ان کا بنیادی حق فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔

  • ٹھٹھہ: ڈی ایف او کی نگرانی میں جنگلات کی غیرقانونی کٹائی، 160 ایکڑ زمین 96 لاکھ میں فروخت

    ٹھٹھہ: ڈی ایف او کی نگرانی میں جنگلات کی غیرقانونی کٹائی، 160 ایکڑ زمین 96 لاکھ میں فروخت

    ٹھٹھہ، باغی ٹی وی (ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں)ضلع ٹھٹھہ میں محکمہ جنگلات کے افسران کی ملی بھگت سے جنگلات کی زمینوں اور درختوں کی غیرقانونی کٹائی اور فروخت کا انکشاف ہوا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر (ڈی ایف او) محبوب علی بھٹی نے نہ صرف سندھ حکومت کی جانب سے درختوں کی کٹائی پر عائد پابندی کو نظرانداز کیا بلکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح فیصلے کی بھی خلاف ورزی کی، جس میں جنگلات سے قبضے ختم کر کے دوبارہ شجرکاری کا حکم دیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ویران فاریسٹ کی چوکڑی نمبر 5 میں روزانہ لاکھوں روپے مالیت کے قیمتی درخت کاٹ کر کراچی منتقل کیے جا رہے ہیں۔ یہ تمام کارروائی ڈی ایف او محبوب علی بھٹی کی سرپرستی اور رینج فاریسٹ آفیسر (آر ایف او) ہاشم ہنگورو کی نگرانی میں جاری ہے۔ ہاشم ہنگورو نہ صرف مختلف بیماریوں کا شکار ہیں بلکہ بینائی کی کمزوری کے باوجود حساس علاقے میں تعینات ہیں اور 160 ایکڑ رقبے پر مشتمل چوکڑی نمبر 5 سے درختوں کی غیرقانونی کٹائی کروا رہے ہیں۔

    تحقیقات سے مزید انکشاف ہوا ہے کہ ویران جنگلات کی چوکڑی نمبر 46، جو کہ 160 ایکڑ پر مشتمل ہے، کو ڈی ایف او محبوب علی بھٹی اور آر ایف او ہاشم ہنگورو نے ملی بھگت سے ایک بلوچ شخص کو 96 لاکھ روپے میں غیرقانونی طور پر فروخت کر دیا۔ یہ فروخت سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس میں جنگلات کی زمینوں سے تجاوزات ختم کر کے شجرکاری کی سخت ہدایات دی گئی ہیں۔

    مقامی سیاسی و سماجی حلقوں نے اس صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر درختوں کی کٹائی بند کرائی جائے، ملوث افسران اور خریداروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، اور چوکڑی نمبر 46 کی غیرقانونی فروخت کا نوٹس لیتے ہوئے اسے منسوخ کیا جائے۔

  • ٹک ٹاک بناتے ہوئے ٹرین کی زد میں آکر 2 طالبات جاں بحق

    ٹک ٹاک بناتے ہوئے ٹرین کی زد میں آکر 2 طالبات جاں بحق

    حیدر آباد: حیدر آباد میں ٹک ٹاک بناتے ہوئے ٹرین کی زد میں آکر 2 طالبات جاں بحق ہو گئیں۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق حیدر آباد کے علاقے آٹوبھان روڈ پر واقع بابن شاہ ریلوے ٹریک پر افسوس ناک حادثہ اس وقت پیش آیا جب دو طا لبا ت، جو ایک نجی انسٹی ٹیوٹ میں زیر تعلیم تھیں، ریلوے ٹریک پر چڑھ کر ٹک ٹاک ویڈیو بنا رہی تھیں کہ ٹر ین کی زد میں آ گئیں-

    جاں بحق ہونے والی طالبات کی شناخت 22 سالہ سونی دختر کشن لعل اور 25 سالہ رشنا دختر محمد قاسم کے نام سے ہوئی ہے دونوں طالبات کا تعلق گاؤں وانکی وسی سے بتایا گیا ہے۔

    جوڈیشل کمیشن اجلاس: آئینی بینچ میں دو نئے ججز کا اضافہ

    حادثے کے فوراً بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاشیں تحویل میں لے کر اسپتال منتقل کیں، پولیس کی جانب سے مزید تفتیش جاری ہے جب کہ شہری حلقوں نے سوشل میڈیا کے محفوظ اور ذمے دارانہ استعمال پر زور دیا ہے تاکہ اس قسم کے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

    ملک اب ترقی اور خوشحالی کی راہ پر چل پڑا ہے،وزیراعظم

  • ٹھٹھہ: پولیس مقابلے میں بدنام منشیات فروش زخمی حالت میں گرفتار

    ٹھٹھہ: پولیس مقابلے میں بدنام منشیات فروش زخمی حالت میں گرفتار

    ٹھٹہ،باغی ٹی وی(ڈسٹرکٹ رپورٹربلاول سموں کی رپورٹ) پولیس مقابلے میں بدنام منشیات فروش زخمی حالت میں گرفتار، آئس، چرس، ہیروئن اور اسلحہ برآمد

    تفصیل کے مطابق ٹھٹھہ پولیس کی منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں بڑی کامیابی سامنے آئی ہے۔ تھانہ ٹھٹھہ کی حدود میں فقیر گوٹھ لنک روڈ پر پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک بدنام زمانہ منشیات فروش کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت ساجد ولد غلام قادر مسن سکنہ بخاری محلہ ٹھٹھہ کے طور پر ہوئی ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم کے قبضے سے ایک مہران کار، ایک پسٹل، 400 گرام کرسٹل آئس سمیت منشیات برآمد کرلی گئی ہے جو وہ ضلع ٹھٹھہ کے مختلف علاقوں میں سپلائی کرتا تھا۔

    ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم آئس، چرس اور ہیروئن کی فروخت میں ملوث رہا ہے اور اس کا مکمل کریمینل ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے جبکہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔

    ٹھٹھہ پولیس کا کہنا ہے کہ منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

  • ٹھٹھہ: محکمہ اوقاف میں درگاہوں کے ٹینڈرز میں مبینہ کرپشن

    ٹھٹھہ: محکمہ اوقاف میں درگاہوں کے ٹینڈرز میں مبینہ کرپشن

    ٹھٹھہ(ڈسٹرکٹ رپورٹربلاول سموں) محکمہ اوقاف سندھ میں درگاہوں کی مرمت اور تعمیرات کے ٹینڈرز میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ٹھیکیداروں نے محکمہ اوقاف کے انجینئر اسلم شیخ پر من پسند ٹھیکیداروں کو نوازنے اور رشوت لینے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

    ذرائع کے مطابقانجینئر اسلم شیخ نے پروکیورمنٹ کمیٹی کے دیگر ممبران کے ساتھ مل کر اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور عام نیلامی میں حصہ لینے والے ٹھیکیداروں کے ساتھ ناانصافی کی۔ متاثرہ ٹھیکیداروں نے سپرا رولز کی خلاف ورزی اور غیر شفاف بولی کے خلاف اعلیٰ حکام کو تحریری شکایات جمع کرائی ہیں۔

    ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ وہ سرکاری ٹھیکوں کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ای پی اے ڈی (EPAD) پورٹل کے ذریعے تمام مطلوبہ دستاویزات جمع کرائی تھیں، لیکن انجینئر اسلم شیخ نے 20 فیصد ایڈوانس کمیشن کا مطالبہ کیا اور انکار کرنے پر انہیں ٹینڈر دینے سے انکار کر دیا۔

    ٹھیکیداروں کے مطابق انجینئر اسلم شیخ نے اوپن بڈنگ کے مقررہ دن نیلامی نہیں کرائی اور پروکیورمنٹ کمیٹی کے دیگر ممبران کو بھی رشوت دے کر اپنے ساتھ ملا لیا۔ مزید انکشاف ہوا کہ انجینئر تمام ٹینڈر ریکارڈ غیر قانونی طور پر اپنے گھر لے گیا، جہاں وہ ایک ماہ تک ٹھیکیداروں سے ایڈوانس کمیشن طلب کرتا رہا۔ بعدازاں، اس نے سرکاری آئی ڈی کا غلط استعمال کرتے ہوئے من پسند ٹھیکیداروں کو نوازا اور میرٹ پر آنے والے ٹھیکیداروں کو جان بوجھ کر نااہل قرار دیا۔

    ٹھیکیداروں نے الزام لگایا کہ ان کے جمع کردہ دستاویزات کو غیر ضروری وجوہات کی بنا پر مسترد کیا گیا، جبکہ وہ ٹھیکیدار جن کے پاس مطلوبہ صلاحیت بھی نہیں تھی، انہیں 20 فیصد ایڈوانس کمیشن کے عوض ٹینڈر دیے گئے۔ اس عمل نے ٹینڈرز کی شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور سپرا رولز کی صریح خلاف ورزی ہے۔

    ٹھیکیداروں نے وزیراعلیٰ سندھ، وزیر اوقاف، سیکریٹری اوقاف، چیئرمین اینٹی کرپشن سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کرپٹ انجینئر اسلم شیخ کو برطرف کیا جائے اور موجودہ نیلامی (NIT) کو منسوخ کر کے سپرا رولز کے مطابق شفاف نیلامی کرائی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر انصاف نہ ہوا تو وہ عدالت سے رجوع کریں گے۔

  • ٹھٹھہ:جنگلات کی تباہی، سپریم کورٹ کے احکامات ہوا میں اڑا دیے گئے

    ٹھٹھہ:جنگلات کی تباہی، سپریم کورٹ کے احکامات ہوا میں اڑا دیے گئے

    ٹھٹھہ،باغی ٹی وی(ڈسٹرکٹ رپورٹربلاول سموں) محکمہ جنگلات ٹھٹھہ کے افسران کی جانب سے سپریم کورٹ کے واضح احکامات اور سندھ حکومت کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے جنگلات کی غیر قانونی کٹائی اور زمینوں کی فروخت کا انکشاف ہوا ہے۔ جنگلات خانانی اور ٻن میں مبینہ طور پر لاشاری وڈیرے کے ساتھ مل کر قیمتی درختوں کو کاٹ کر زمین فروخت کی گئی، جس پر اعلیٰ حکام نے فوری نوٹس لیتے ہوئے لکڑی سے بھرے ایک ٹرک کو قبضے میں لے لیا اور تحقیقات کا آغاز کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ میں جنگلات کے تحفظ اور فروغ کے لیے واضح ہدایات جاری کی تھیں، جن پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے سندھ حکومت نے بھی سخت احکامات جاری کیے تھے۔ تاہم محکمہ جنگلات ٹھٹھہ کے افسران جن میں ڈی ایف او فارسٹیشن ڈویژن محبوب علی بھٹی اور آر ایف او عبدالغفور سیال شامل ہیں نے ان احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنگلات کی تباہی کا سلسلہ شروع کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق افسران نے مبینہ طور پر ایک بااثر وڈیرے کے ساتھ مل کر ببول کے درختوں کی اسکیم کو نقصان پہنچایا اور قیمتی زمین کو فروخت کیا۔ اس غیر قانونی سرگرمی کا انکشاف ہونے پر اعلیٰ حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کٹی ہوئی لکڑی سے بھرے ایک ٹرک کو ضبط کیا اور معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا۔

    سیاسی اور سماجی حلقوں نے ڈی ایف او محبوب علی بھٹی اور آر ایف او عبدالغفور سیال کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے ان پر جنگلات کی تباہی اور زمینوں کی غیر قانونی فروخت کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

    اس کے علاوہ آر ایف او رحمت اللہ خشک نے جنگلات بائو پورنداس میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے لکڑی قبضے میں لے لی اور پولیس کو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے خط لکھا۔

    علاقہ مکینوں، سماجی رہنماؤں اور ماحولیاتی ماہرین نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ محکمہ جنگلات ٹھٹھہ کی ان غیر قانونی سرگرمیوں کا فوری نوٹس لے اور جنگلات خانانی اور ٻن میں جنگلات کی تباہی میں ملوث افسران کے خلاف سخت کارروائی کرے۔