Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • مقبوضہ کشمیر میں ’تھینک یو پاکستان‘ کے پوسٹرز آویزاں،فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی تصاویر شامل

    مقبوضہ کشمیر میں ’تھینک یو پاکستان‘ کے پوسٹرز آویزاں،فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی تصاویر شامل

    مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں یومِ یکجہتی کشمیر سے قبل مختلف علاقوں میں ’تھینک یو پاکستان‘ کے پوسٹرز سامنے آئے ہیں، جن میں کشمیری عوام کی جانب سے پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور شکریہ ادا کیا گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، یہ پوسٹرز حریت پسند تنظیموں کی جانب سے آویزاں کیے گئے ہیں پوسٹرز میں بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ، آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی تصاویر شامل ہیں۔

    پوسٹرز میں Thank You Pakistan‘،’ A Bond of Blood and Belief ‘اور’ Pakistan supports Kashmir’s right to decide — Let the people choose ‘جیسے جملے شامل ہیں–

    پوسٹرز میں پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان مسلسل عالمی سطح پر کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کا مقدمہ اجاگر کر رہا ہے اور بھارتی مظالم کو بے نقاب کر رہا ہے، جس پر کشمیری عوام پاکستان کے شکر گزار ہیں،پوسٹرز کے ذریعے کشمیری عوام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ بھارتی قبضے کے خلاف اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھیں گے۔ پوسٹرز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر دو قومی نظریے کے مطابق پاکستان کا حصہ ہے اور بھارت نے اکتوبر 1947 میں اس کے ایک حصے پر غیر قانونی قبضہ کیا۔

    پوسٹرز کے ذریعے کشمیری عوام نے واضح کیا ہے کہ وہ بھارتی تسلط کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور آزادی کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انہیں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت حاصل نہیں ہو جاتا۔

    یومِ یکجہتی کشمیر ہر سال 5 فروری کو منایا جاتا ہے، یہ دن پہلی مرتبہ 5 فروری 1990 کو منایا گیا، جب پاکستان کی پوری سیاسی قیادت نے متفقہ طور پر کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا تھا۔

    دوسری جانب ومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر آزاد کشمیر کے شہریوں اور بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار ایک پر جوش اور پرتپاک انداز میں کیا۔

    پیغام میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے بہادر کشمیری اکیلے نہیں بلکہ آزاد کشمیر کی عوام ان کے دکھ، درد اور جدوجہد کو محسوس کرتے ہیں اور ان کی آواز بن کر دنیا تک پہنچانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ پیغام میں بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام پر ہونے والے تشدد کی شدید مذمت کی گئی ہے،کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی عوام کی یہ قربانیاں آزادی کے عزم کو مزید مضبوط کر رہی ہیں، کشمیری عوام کی پاکستان سے محبت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ رشتہ مضبوط ہے اور کبھی کمزور نہیں ہو سکتا سبز ہلالی پرچم سے وابستہ امید آج بھی کشمیری عوام کے دلوں میں زندہ ہے، کشمیری دنیا کے کسی بھی حصہ میں ہوں، ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں کشمیری عوام ہر حال میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیر آزادی کی صبح دیکھے گا۔

  • فیض حمید کے بھائی نجف حمید کا فراڈ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

    فیض حمید کے بھائی نجف حمید کا فراڈ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

    ساق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید نے فراڈ کیس میں ضمانت بحالی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

    نجف حمید نے ایف آئی اے مقدمے میں ضمانت منسوخی کا فیصلہ چیلنج کردیا، نجف حمید نے اسپیشل جج سینٹرل کا ضمانت منسوخی کا 24 جنوری کا فیصلہ چیلنج کیا،اسپیشل جج سینٹرل نے ایف آئی اے کی نجف حمید کی ضمانت منسوخی کی درخواست منظور کی تھی۔

    درخواست میں ریاست، ایف آئی اے اور مدعی مقدمہ کو فریق بنایا گیا ہے نجف حمید نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ قانون پسند شہری ہوں، بدنیتی پر مبنی مقدمے میں گھسیٹا جارہا ہے، ضمانت منسوخی کا فیصلہ قانون کی نظر میں برقرار نہیں رہ سکتا، اسپیشل جج سینٹرل کا ضمانت منسوخی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، ضمانت قبل از گرفتاری کو بحال کیا جائے۔

  • ٹک ٹاکر ندیم مبارک نانی والا اور یوٹیوبر رجب بٹ کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

    ٹک ٹاکر ندیم مبارک نانی والا اور یوٹیوبر رجب بٹ کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

    سائبر کرائم سمیت دیگر متعدد مقدمات میں نامزد معروف ٹک ٹاکر ندیم مبارک نانی والا اور یوٹیوبر رجب بٹ نے اپنے نام سفری پابندی کی فہرست (ای سی ایل) سے نکلوانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق رجب بٹ اور ندیم نانی والا کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں باقاعدہ درخواستیں دائر کر دی گئی ہیں، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کے نام غیر قانونی طور پر سفری پابندی کی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں، جس کے باعث انہیں بیرون ملک سفر میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں اور کسی بھی تفتیش سے فرار کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ درخواستوں میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے ان کے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے۔

    رجب بٹ اور ندیم نانی والا کی جانب سے یہ درخواستیں بیرسٹر راجہ قدیر جنجوعہ اور ایڈووکیٹ احد کھوکھر کے توسط سے دائر کی گئی ہیں۔ درخواستوں میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)، سیکریٹری داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواستوں میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ای سی ایل میں نام شامل کرنا ایک غیر معمولی اقدام ہے، جو صرف انتہائی نوعیت کے معاملات میں کیا جانا چاہیے، جبکہ موجودہ حالات میں اس کی کوئی معقول قانونی وجہ موجود نہیں۔

  • وفاقی آئینی عدالت نےکوئٹہ بلدیاتی انتخابات کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

    وفاقی آئینی عدالت نےکوئٹہ بلدیاتی انتخابات کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

    اسلام آباد،وفاقی آئینی عدالت نےکوئٹہ بلدیاتی انتخابات کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

    جسٹس روزی خان نے کہا کوئٹہ 10کلومیٹرکاشہرہے ،اتنا بڑا آفس کے باوجود الیکشن کمیشن 10کلومیٹرکے علاقے کی حلقہ بندیاں نہیں کرسکتا،حلقہ بندیاں تودوہفتوں میں ہوسکتی،جسٹس عامرفاروق نےکہا کہ الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا وعدہ وفا نہیں کیا میں ہائیکورٹ سے سپریم کا جج بنااورپھرآئینی عدالت لیکن الیکشن نہ ہوئے،جسٹس روزی خان نے کہا کہ کیس کو 5 سال تک تو التوا میں نہیں رکھ سکتے،ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا کہ ابھی تو اسلام آباد اور پنجاب میں کام کر رہے ہیں،نمائندہ الیکشن کمیشن نے کہا کہ حکومت کی جانب سے قانون تبدیل کر دیا جاتا ہے،جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ خدارا ایسے نہ کریں،

  • جرح کے نام پر گواہوں  کو ہراساں کرنا  ناقابل قبول ہے،سپریم کورٹ

    جرح کے نام پر گواہوں کو ہراساں کرنا ناقابل قبول ہے،سپریم کورٹ

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ جرح کے نام پر گواہوں کو ہراساں کرنا اور غیر متعلقہ سوالات کرنا ناقابل قبول ہے۔

    سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جرح کا حق نہ تو لامحدود ہے اور نہ ہی بے لگام، بلکہ ٹرائل کورٹ کو غیر ضروری جرح کو محدود یا ختم کرنے کا مکمل قانونی اختیار حاصل ہے، تاکہ عدالتی کارروائی کو منصفانہ اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

    سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالتیں گواہوں کو غیر ضروری تضحیک اور دباؤ سے محفوظ رکھنے کی پابند ہیں، ٹرائل کورٹ نے مشاہدہ کیا تھا کہ کیس میں مزید جرح غیر ضروری، غیر متعلقہ اور ہراساں کرنے کے مترادف ہے، جس کے بعد مدعا علیہ کا مزید جرح کا حق ختم کر دیا گیا تھا۔

    عدالت نے نشاندہی کی کہ لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر اپیل کو مسترد کر دیا تھا یہ فیصلہ قانونی دائرہ اختیار کے اندر ر ہتے ہوئے کیا گیا گواہوں کو طویل جرح کے ذریعے تھکا کر غلطی پر مجبور کرنا انصاف کے منافی ہے ۔ عدالتی نظام ایسے طرزِ عمل کی اجازت نہیں دے سکتا عدالتی ریکارڈ کی درستگی کا ایک قوی قانونی مفروضہ موجود ہوتا ہے ۔ لاہور ہائی کورٹ کو سیکشن 151 سی پی سی کے تحت کارروائی کو منظم کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے، جس کا استعمال اس کیس میں درست طور پر کیا گیا۔

    واضح رہے کہ یہ مقدمہ لاہور کے علاقے موہلنوال میں واقع 53 کنال 3 مرلہ اراضی سے متعلق تھا، جس میں مدعی بطور گواہ پیش ہوا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق 2 ماہ کے عرصے میں 7 سماعتوں کے دوران گواہ پر 30 صفحات پر مشتمل جرح کی گئی، جسے ٹرائل کورٹ نے غیر ضروری قرار دیا۔

    کیس میں سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن نے جاری کیا۔

  • نور مقدم قتل کیس : نظر ثانی اپیل پر سماعت غیر معینہ مدت کےلیے ملتوی

    نور مقدم قتل کیس : نظر ثانی اپیل پر سماعت غیر معینہ مدت کےلیے ملتوی

    سپریم کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کی نظر ثانی اپیل پر سماعت ہوئی۔

    سپریم کورٹ نے نظر ثانی اپیل پر سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی،عدالت نے وقت کی کمی کے باعث سماعت ملتوی کر دی، جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کرنا تھی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برس اسلام آباد میں سابق سفیر شوکت مقدم کی صاحبزادی نور مقدم کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت پانے والے مجرم ظاہر ذاکر جعفر نے سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عدالت نے ملزم کی ذہنی حالت کا تعین نہیں کروایا، سپریم کورٹ سے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست کی گئی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے اس متفرق درخواست پر فیصلہ نہیں دیا۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ سزائے موت دینے کے لیے ویڈیو ریکارڈنگ پر انحصار کیا گیا، ویڈیوز ٹرائل کے دوران درست ثابت بھی نہیں کی گئیں، ملزم کو ویڈیو ریکارڈنگز فراہم بھی نہیں کی گئیں وکیل کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر نظر ثانی کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کے دوران عدالت میں کبھی وہ ویڈیوز چلا کر بھی نہیں دیکھی گئیں، فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ فیصلے پر نظرثانی کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں، عدالت اپنے 20 مئی کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

    یاد رہے کہ مئی 2025 میں سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، جسٹس ہاشم کاکڑ نے مختصر فیصلہ سنایا تھا جسٹس ہاشم کاکڑ نے مختصر فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ظاہر جعفر کے خلاف قتل کی دفعات میں سزائے موت برقرار رکھی ہے، ریپ کیس میں سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی گئی ہے، جب کہ اغوا کے مقدمے میں 10 سال قید کو کم کرکے ایک سال کر دیا گیا ہے، عدالت نے نور مقدم کے اہل خانہ کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم بھی برقرار رکھا تھاعدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ظاہر جعفر کے مالی جان محمد اور چوکیدار افتخار نے جتنی سزا کاٹ لی، وہ کافی ہے، شریک ملزمان کو عدالت کا تحریری فیصلہ آنے کے بعد رہا کردیا جائے۔

  • آئینی عدالت نے پسند کی شادی کرنے والی کو شوہر کیساتھ جانے کی اجازت دیدی

    آئینی عدالت نے پسند کی شادی کرنے والی کو شوہر کیساتھ جانے کی اجازت دیدی

    پسند کی شادی سے متعلق کیس ،وفاقی آئینی عدالت نے پسند کی شادی کرنے والی ماریہ کو شوہر کیساتھ جانے کی اجازت دیدی

    عدالت نے لڑکی کے والدین کو مبینہ جعلی نکاح پر متعلقہ فورم سے رجوع کی ہدایت کر دی، لڑکی ماریہ نے کہا کہ مجھے اغواء نہیں کیا گیا مرضی سے شہریار سے شادی کی۔وکیل والدین نے کہا کہ بچی کی عمر بارہ سال ہے،کم سن بچی کا نکاح نہیں ہو سکتا ،جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ برتھ سرٹیفکیٹ اور ب فارم 10 سال کی تاخیر سے لیا گیا،
    لڑکی 12 سال کی کسی طرح سے نہیں لگتی۔لڑکی نے مجسٹریٹ کے روبرو سیکشن 164 کا بیان دیا۔لڑکی کہہ رہی ہے وہ اغواء نہیں ہوئی۔لڑکی خود کو بالغ بتا رہی ہے،لڑکی کی شادی کو چھ ماہ ہو چکے ہے۔آئینی عدالت نے پسند کی شادی کا کیس نمٹا دیا

  • ترک صدر  نے  عمران خان کو ترکیہ آنے کی آفر کی،سابق سینیٹر کا انکشاف

    ترک صدر نے عمران خان کو ترکیہ آنے کی آفر کی،سابق سینیٹر کا انکشاف

    ر سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے انکشاف کیا ہے کہ ترک صدر طیب اردوان نے عمران خان کو ترکیہ آنے کی آفر کی ہے۔

    نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےمشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ترک صدر کی طرف سے عمران خان کو یہ آفر 2025 میں آئی تھی، وہ واحد غیرملکی لیڈر ہیں جنہوں نے پاکستان کے ساتھ اس معاملے پر بات کی تھی، بڑے مسائل حل کرنے کے لیے یہ مسئلہ حل کرنا ہوگا، دہشتگردی اور معیشت کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے لیے سیاسی تصفیہ ضروری ہے۔

    مشاہد حسین نے کہا کہ سیاست میں کوئی چیز ناممکن نہیں، نومبر 2024 میں عمران خان کی رہائی کا فیصلہ بھی ہوا تھا لیکن ان کے نادان دوستوں نے موقع پر سبوتاژ کردیا سیاسی چپقلش 3 سال سے چل رہی ہے، عمران خان نظام کا حصہ ہے، اسٹبلشمنٹ سے ان کا اچھا تعلق رہا، جنرل ضیا اور جنرل باجوہ سے اچھے تعلقات رہے، فوج کے پسندیدہ رہے ہیں اور یہ پسندیدگی بحال بھی ہوسکتی ہے۔

  • قازقستان کے صدر سرکاری دورے پر آج اسلام آباد پہنچیں گے

    قازقستان کے صدر سرکاری دورے پر آج اسلام آباد پہنچیں گے

    جمہوریہ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف آج اپنے پہلے تاریخی سرکاری 2 روزہ دورہ پر اسلام آباد پہنچیں گے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق قازق صدر 3 اور 4 فروری کو پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ کریں گے یہ دورہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی خصوصی دعوت پر کیا جا رہا ہے صدر توکایف اپنے دورے کے دوران صدرِ پاکستان آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے، جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔ ان ملاقاتوں میں باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔

    صدر توکایف اپنے دورے کے دوران پاکستان قازقستان بزنس فورم سے بھی خطاب کریں گے، جس میں دونوں ممالک کے تاجر، سرمایہ کار اور کاروباری رہنما شریک ہوں گے، فورم کا مقصد تجارتی روابط کو فروغ دینا اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے قازقستان کے صدر کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی پاکستان آئے گا، جس میں سینئر کابینہ اراکین اور اعلیٰ سرکاری افسران شامل ہوں گے۔ وفد مختلف شعبوں میں تعاون کو عملی شکل دینے پر بات چیت کرے گا۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق، یہ دورہ پاکستان اور قازقستان کو دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لینے کا اہم موقع فراہم کرے گا۔ مذاکرات میں تجارت، لاجسٹکس، علاقائی رابطہ کاری، عوامی روابط (People-to-People Contacts) اور علاقائی و عالمی فورمز پر تعاون کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر توکایف کا دورہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اور قازقستان کے تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک تاریخی اور ثقافتی روابط کو مؤثر اقتصادی اور تزویراتی تعاون میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور خطے میں امن و ترقی کے مشترکہ خواہاں ہیں۔

  • ذاتی اخلاقیات یا ہمدردی کی قانون میں کوئی جگہ نہیں،وفاقی آئینی عدالت

    ذاتی اخلاقیات یا ہمدردی کی قانون میں کوئی جگہ نہیں،وفاقی آئینی عدالت

    اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے کہا ہے کہ عدالتیں ذاتی اخلاقیات یا ہمدردی کی بنیاد پر قانون کی جگہ کوئی اور معیار لاگو نہیں کر سکتیں۔

    مقدمے کی سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ججز کو جذبات نہیں بلکہ قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے عدالتیں ذاتی اخلاقیات یا ہمدردی کی بنیاد پر قانون کی جگہ کوئی اور معیار لاگو نہیں کر سکتیں،عدالتی فیصلوں کی بنیاد ذاتی عقائد یا سیاسی حقائق نہیں بن سکتے عد التی ساکھ جذباتی فیصلوں میں نہیں بلکہ قانون پر عمل درآمد میں مضمر ہے۔

    عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت ایک طالبعلم کو اسپیشل / سپر سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی عدالت نے واضح کیا کہ قانون، ضابطے یا ریگولیشن میں اسپیشل / سپر سپلیمنٹری امتحان کی اجازت موجود نہیں، اس لیے ہائی کورٹس ہمدردی، مساوات یا ذاتی احساسات کی بنیاد پر ایسے احکامات جاری نہیں کر سکتیں۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ججز کو بلا خوف و امتیاز قانون کے مطابق انصاف کرنا ہوتا ہے کیوں کہ پاکستان افراد نہیں بلکہ آئین کے تحت چلنے والی ریاست ہے ججز نجی افراد نہیں بلکہ غیرجانبدار منصف ہوتے ہیں ۔ ہمدردی کو قانونی ذمہ داری پر ترجیح دینا عدالتی منصب سے انحراف کے مترادف ہے۔

    عدالت نے قرار دیا کہ ہائی کورٹس خود آئین کی تخلیق ہیں پاکستان کا آئینی سفر ہمیشہ قانون کے دائرے میں طے ہوا ہے، جہاں ذاتی نیک نیتی یا بے لگام اختیار آئینی نظام کا حصہ نہیں، ہائی کورٹس آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت محدود دائرہ اختیار رکھتی ہیں وہ صرف وہی اختیار استعمال کر سکتی ہیں جو آئین یا قانون میں دیا گیا ہو عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی عدالتی فورم کو آئینی حدود سے تجاوز کا اختیار حاصل نہیں۔

    واضح رہے کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے ایک طالبعلم گردے کی پیوندکاری کے باعث سالانہ امتحان میں شریک نہ ہو سکے تھے طبی وجوہات کی بنا پر وہ سپلیمنٹری امتحان بھی مس کر گئے طالبعلم نے اس سلسلے میں وائس چانسلر کو 2 درخواستیں دی تھیں، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے دونوں درخواستیں مسترد کر دیں۔

    بعد ازاں طالبعلم نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جہاں انہیں اسپیشل / سپر سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی، تاہم وفاقی آئینی عدالت نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایسے احکامات قانون اور آئین کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔

    یہ اہم فیصلہ فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے 18 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے کی صورت میں جاری کیا۔