Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • 17 مارچ سے 20 مارچ تک پنجاب بھر میں بارشیں، الرٹ جاری

    17 مارچ سے 20 مارچ تک پنجاب بھر میں بارشیں، الرٹ جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے آج سے 25 مارچ تک ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارشوں کی پیشگوئی کر دی۔

    این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ آج سے 25 مارچ تک اسلام آباد، پنجاب ،خیبر پختونخوا ،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرکے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان ہے،بلوچستان میں آج سے 23 مارچ تک آندھی، تیز ہوائیں اور بارش متوقع ہیں جبکہ کراچی، حیدرآباد ، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد اور دادو میں بھی کہیں کہیں بارش کا امکان ہے۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے بتایا کہ آج رات سے مغربی ہواؤں کا سلسلہ ملک میں داخل ہو رہا ہے، 18 سے 20 مارچ کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارش جبکہ چند مقامات پر ثرالہ باری متوقع سکتی ہے۔

    ایران کے اسرائیل اور امریکی اہداف پر خیبر شکن، عماد میزائل سے حملے

    جبکہ پی ڈی ایم اے کے مطابق لاہورسمیت صوبےکےمختلف شہروں میں بارش کی پیشگوئی ہے ایمرجنسی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔

    اگر کسی ملک نے ’خارگ‘ پر حملہ کیا تو اُس کی تیل اور گیس کی تنصیبات نشانہ بنیں گی، ایران

  • فیکٹ چیک، افغان طالبان کے ترجمان کا دعویٰ گمراہ کن قرار

    فیکٹ چیک، افغان طالبان کے ترجمان کا دعویٰ گمراہ کن قرار

    پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے ایک ترجمان کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے حقائق کی غلط ترجمانی اور عوامی رائے کو گمراہ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

    وزارت کے مطابق مذکورہ دعویٰ زمینی حقائق کے برعکس ہے اور اس کا مقصد سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے اصل صورتحال کو چھپانا ہے۔وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ چیک میں کہا گیا ہے کہ 16 مارچ کی شب پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں مخصوص عسکری تنصیبات اور دہشت گردوں کے معاون ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔ ان اہداف میں تکنیکی آلات کے گودام اور اسلحہ و گولہ بارود کے ذخائر شامل تھے، جنہیں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج پاکستان کے معصوم شہریوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔بیان کے مطابق کارروائی کے بعد گولہ بارود کے ذخائر میں ہونے والے دھماکے اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ ان مقامات پر عسکری سامان موجود تھا، جو اس دعوے کی تردید کرتا ہے کہ یہ مراکز کسی اور مقصد کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔

    وزارت نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے تمام حملے انتہائی درستگی کے ساتھ کیے جاتے ہیں اور اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ کسی بھی قسم کا جانی یا مالی نقصان عام شہریوں کو نہ پہنچے۔فیکٹ چیک میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ان تنصیبات کو منشیات بحالی مراکز قرار دینے کی کوشش دراصل عوامی جذبات کو بھڑکانے اور سرحد پار دہشت گردی کی مبینہ سرپرستی کو چھپانے کی ایک حکمت عملی ہے۔وزارتِ اطلاعات و نشریات نے واضح کیا کہ طالبان ترجمان کا بیان جھوٹا اور گمراہ کن ہے اور اسے مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔

  • موٹر وے پولیس کی جانب سے اینکرکے ساتھ مبینہ نرمی کی تحقیقات کا آغاز

    موٹر وے پولیس کی جانب سے اینکرکے ساتھ مبینہ نرمی کی تحقیقات کا آغاز

    اسلام آباد: نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس نے معروف ٹی وی اینکر منصور علی خان کو اوور اسپیڈنگ پر روکنے کے معاملے میں مبینہ نرمی برتنے کے الزامات پر اپنے اہلکاروں کے خلاف فیکٹ فائنڈنگ انکوائری شروع کر دی ہے۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق یہ واقعہ 28 فروری کو پیش آیا، جب موٹر وے پولیس کی ایک پیٹرولنگ ٹیم شام تقریباً 5 بج کر 30 منٹ پر چکری انٹرچینج کے قریب رفتار چیک کرنے کی کارروائی کر رہی تھی۔ اس دوران اہلکاروں نے BQB-79 نمبر کی گاڑی کو 166 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتے ہوئے پایا، جو مقررہ حد سے کہیں زیادہ تھی.پیٹرولنگ ٹیم میں شامل انسپکٹر وسیم مرتضیٰ اور سب انسپکٹر سعادت حسن نے گاڑی کو رکنے کا اشارہ دیا، تاہم ڈرائیور نے مبینہ طور پر چیک پوسٹ پر گاڑی نہیں روکی اور سفر جاری رکھا۔بعد ازاں گاڑی کو اسلام آباد کے قریب انسپکٹر فراز مہدی نے روک لیا، جنہوں نے ڈرائیور کی شناخت منصور علی خان کے طور پر کی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعلقہ افسر ٹریفک خلاف ورزی پر چالان کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، تاہم بعد میں اس معاملے میں مبینہ نرمی کے الزامات سامنے آنے پر موٹر وے پولیس نے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ترجمان نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس کے مطابق انکوائری کا مقصد واقعے کی مکمل حقیقت معلوم کرنا اور یہ جانچنا ہے کہ آیا اہلکاروں نے مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی کی یا نہیں۔تحقیقات مکمل ہونے کے بعد نتائج کی روشنی میں مناسب کارروائی کی جائے گی۔

  • 
پاکستان میں فیول سپلائی مستحکم، عوام گھبراہٹ میں پیٹرول ذخیرہ نہ کریں: وزیر خزانہ

    
پاکستان میں فیول سپلائی مستحکم، عوام گھبراہٹ میں پیٹرول ذخیرہ نہ کریں: وزیر خزانہ

    
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی مستحکم ہے اور ملک میں فیول کے وافر ذخائر موجود ہیں۔
    وزارت خزانہ میں کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں توانائی کے شعبے کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران وزیر خزانہ کو بریفنگ دی گئی کہ مارچ کے مہینے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی تمام ضروریات پوری ہیں جبکہ کارگو پلاننگ کے تحت اپریل کے وسط تک فیول سپلائی یقینی بنائی جائے گی۔
    ‎اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت اپریل کے آخر تک فیول سپلائی مزید بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
    ‎محمد اورنگزیب نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھبراہٹ میں پیٹرول خریدنے یا ذخیرہ کرنے سے گریز کریں کیونکہ ملک میں فیول کی دستیابی برقرار ہے۔
    ‎اعلامیے کے مطابق اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کسی ایک سپلائی روٹ پر انحصار کم کرے گی اور عالمی منڈی سے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے ذرائع کو مزید متنوع بنایا جائے گا۔
    ‎کمیٹی نے اوگرا اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ مارکیٹ کی کڑی نگرانی رکھی جائے جبکہ توانائی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے نئی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔

  • 
آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد خام تیل سے بھرا ٹینکر پاکستان کی جانب روانہ

    
آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد خام تیل سے بھرا ٹینکر پاکستان کی جانب روانہ

    
رپورٹس کے مطابق خام تیل لے جانے والا ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد پاکستان کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔
    شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے نیشنل شپنگ کارپوریشن کے زیر انتظام ٹینکر اتوار کے روز آبنائے ہرمز سے گزر کر سفر پر روانہ ہوا۔
    ‎اطلاعات کے مطابق پیر کی صبح پاکستان کے پرچم بردار یہ افرا میکس ٹینکر عمان کے شہر صحار کے قریب سمندری حدود میں دیکھا گیا۔
    ‎افرامیکس ٹینکر درمیانے سائز کے خام تیل بردار جہاز ہوتے ہیں جن کی وزن اٹھانے کی صلاحیت تقریباً 80 ہزار سے 120 ہزار میٹرک ٹن کے درمیان ہوتی ہے اور انہیں عموماً مختصر سے درمیانی فاصلے کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باوجود اس ٹینکر کا آبنائے ہرمز سے گزرنا تیل کی ترسیل کے تسلسل کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • 
معاشی بحران کے باوجود سینیٹ چیئرمین کے لیے 9 کروڑ کی لگژری گاڑی خرید لی گئی

    
معاشی بحران کے باوجود سینیٹ چیئرمین کے لیے 9 کروڑ کی لگژری گاڑی خرید لی گئی

    
ملک میں جاری معاشی مشکلات کے باوجود سینیٹ کے چیئرمین یوسف رضا گیلانی کے لیے تقریباً 9 کروڑ روپے مالیت کی ایک لگژری گاڑی خریدے جانے کی تصدیق سامنے آئی ہے۔
    ذرائع کے مطابق یہ گاڑی سینیٹ کے بجٹ سے خریدی گئی اور اب سینیٹ سیکرٹریٹ پہنچ چکی ہے۔ اس حوالے سے یوسف رضا گیلانی نے بھی گاڑی کی خریداری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ گاڑی گزشتہ سال مئی میں آرڈر کی گئی تھی۔
    ‎ان کا کہنا تھا کہ گاڑی سینیٹ کے گزشتہ سال کے بجٹ کی بچت سے خریدی گئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے انہوں نے گاڑی واپس کرنے کی کوشش کی تھی تاہم انہیں بتایا گیا کہ گاڑی پہلے ہی پاکستان پہنچ چکی ہے۔
    ‎یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک کو مہنگائی اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے، جس کے باعث عوامی اور سیاسی حلقوں میں اس خریداری پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

  • پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کے واقعات میں 34 فیصد اضافہ

    پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کے واقعات میں 34 فیصد اضافہ

    پاکستان میں خواتین اور خواجہ سراؤں پر (صنفی بنیاد پر ہونے والے) تشدد و زیادتی کے واقعات میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔

    غیر سرکاری تنظیم ساحل کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران ملک بھر میں صنفی بنیاد پر تشدد کے مجموعی طور پر 7071 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں قتل، خودکشی، اغوا، عصمت دری، غیرت کے نام پر قتل اور دیگر تشدد جیسے جرائم شامل ہیں ان واقعات میں کچھ کیسز خواجہ سرا افراد سے متعلق بھی شامل ہیں جبکہ مجموعی طور پر صنفی بنیاد پر تشدد کے واقعات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں قتل کے 1546، اغوا کے 1345، تشدد کے 1169، زیادتی کے 877، خودکشی کے 680، زخمی کرنے کے 449، ہراساں کرنے کے 316، غیرت کے نام پر قتل کے 284 اور تیزاب گردی کے 41 واقعات رپورٹ ہوئے، مجموعی کیسز میں سے 32 فیصد میں ملزمان متاثرہ افراد کے جاننے والے تھے جبکہ 18 فیصد واقعات میں اجنبی افراد ملوث تھےاسی طرح 12 فیصد کیسز میں شوہر ملوث پائے گئے جبکہ تقریباً 20 فیصد واقعات میں ملزم کی شناخت یا تفصیل رپورٹ نہیں کی گئی۔

    واشنگٹن سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی،ایران

    صوبائی بنیاد پر اعداد و شمار کے مطابق صنفی بنیاد پر تشدد کے کل کیسز میں سے 78 فیصد پنجاب سے رپورٹ ہوئے جبکہ 14 فیصد کیسز سندھ سے سامنے آئے اسی طرح 6 فیصد کیسز خیبرپختونخوا جبکہ 2 فیصد واقعات بلوچستان، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے رپورٹ کیے گئے۔

    تیجس کے مسلسل حادثات،بھارتی ناقص دفاعی صلاحیت بے نقاب

  • آپریشن غضب للحق : باجوڑ سیکٹر میں افغان طالبان کی پوسٹیں تباہ

    آپریشن غضب للحق : باجوڑ سیکٹر میں افغان طالبان کی پوسٹیں تباہ

    پاک افواج نے آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے باجوڑ سیکٹر میں پاک افغان سرحد سے ملحقہ افغان طالبان کی متعدد پوسٹیں تباہ کردی ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق کے تحت پاک افواج کی جانب سے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف فیصلہ کن جوابی کارروائیاں جاری ہیں اور اس سلسلے میں باجوڑ سیکٹر میں پاک افغان سرحد کے قریب موجود افغان طالبان کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا پاک فوج نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے سرحدی علاقے میں قائم افغان طالبان کی پوسٹوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا کارروائی کے دوران گائیڈڈ میزائل کے ذریعے بھی افغان طالبان کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، آپریشن غضب للحق اپنے اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔

    امریکی کمیشن کی آر ایس ایس ،را پر پابندی کی سفارش

    بنگلہ دیشی وزیراعظم نے نہریں کھودنے کے ملک گیر منصوبے کا افتتاح کر دیا

    بشنوئی گینگ کی گلوکار بادشاہ کو سر پر گولی مارنے کی دھمکی

  • ایتھوپیا میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتیں، پاکستان کا اظہار افسوس

    ایتھوپیا میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتیں، پاکستان کا اظہار افسوس

    پاکستان نے ایتھوپیا میں شدید بارشوں اور زمین کھسکنے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں اور تباہ کاریوں پر حکومت اور عوام سے گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

    دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں متاثرہ کمیونٹیز کے لیے دعاؤں اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے ایتھوپیا کی حکومت کی کوششوں کو سراہا جو متاثرین کی مدد میں دن رات سرگرم عمل ہے،پاکستان نے متاثرہ عوام کے ساتھ مکمل تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہر ممکن طریقے سے مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    واضح رہے کہ ایتھوپیا میں شدید بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں زمین کھسکنے کے نتیجے میں کم از کم 80 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، ایتھوپیا ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق مزید 3,461 افراد اپنی رہائش گاہوں سے بے گھر ہو گئے ہیں۔

    اماراتی صدر کا سعودی ولی عہد سے ٹیلی فونک رابطہ

    ایران کا اسرائیل پر پہلی بار سجیل میزائل سے حملہ

    ہمت ہے تو ٹرمپ امریکی بحریہ کو خلیج فارس بھیجیں،پاسداران انقلاب

  • یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے ملازمین کےپاس 40 لاکھ کہاں سے آئے؟دفترِ خارجہ نے تحقیقات شروع کر دیں

    یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے ملازمین کےپاس 40 لاکھ کہاں سے آئے؟دفترِ خارجہ نے تحقیقات شروع کر دیں

    دفترِ خارجہ نے گجرات میں تعینات اپنے دو یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے ملازمین کے گھر سے 40 لاکھ روپے چوری ہونے کے واقعے پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    پولیس کے مطابق امیر شوکت اور عرفان احمد نے سول لائنز تھانے میں مقدمہ درج کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ 12 مارچ کو جٹّوواکل کے علاقے میں واقع ان کے مشترکہ کرائے کے گھر سے نامعلوم افراد 40 لاکھ روپے نقد چوری کر کے فرار ہوگئے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک سرکاری مراسلے میں دونوں ملازمین سے اس رقم کے ذرائع کے بارے میں وضاحت طلب کی گئی ہے مراسلے کے مطابق چونکہ دونوں کم از کم اجرت پر ملازم ہیں، اس لیے ان سے پوچھا گیا ہے کہ انہوں نے اتنی بڑی رقم کیسے جمع کی، دو نوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 16 مارچ تک 3 روز کے اندر تحریری جواب جمع کرائیں۔

    ڈرون حملہ، دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے نزدیک ایندھن کے ٹینک میں آگ بھڑک اٹھی

    ذرائع کے مطابق شکایت کنندہ امیر شوکت کو اسسٹنٹ پروٹوکول افسر کے اختیارات دیے گئے تھے جس کے تحت وہ شہریوں کے بیرونِ ملک استعمال کے لیے دستاویزات کی تصدیق اور دستخط کر سکتا تھا بتایا جاتا ہے کہ گجرات میں دفترِ خارجہ کے ڈپٹی چیف آف پروٹوکول ہفتے میں صرف دو دن دفتر آتے تھے اور بیشتر دفتری امور امیر شوکت ہی انجام دیتا تھا۔

    رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ دفتر کے بعض اہلکاروں اور ایجنٹ مافیا کے درمیان مبینہ بدعنوانی کی شکایات پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں، تاہم اس پر کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی حالیہ مہینوں میں اسپین کی جانب سے یکم اپریل سے غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کے اعلان کے بعد تصدیق شدہ د ستاویزات (اپوسٹیل) کے حصول کے لیے درخواستوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    امریکی صدر کا ایران پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے جھوٹ پھیلانے کا الزام

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض شہریوں کا الزام ہے کہ ایجنٹوں کے ذریعے فی اپوسٹیل تقریباً 21 ہزار اور دیگر دستاویزات کی تصدیق کے لیے 3 ہزار سے 5 ہزار روپے تک رشوت لی جا رہی ہے، جبکہ دفتر میں روزانہ 400 سے 500 اپوسٹیل درخواستیں نمٹائی جا رہی ہیں۔