Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: پی آئی اے کی فجیرہ کے لیے پروازیں معطل

    مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: پی آئی اے کی فجیرہ کے لیے پروازیں معطل

    اسلام آباد: پی آئی اے نے خطے کی صورت حال کے پیش نظر فجیرہ کے لیے اپنی پروازیں معطل کرنے کا اعلان کردیا۔

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق خلیجی ممالک میں سیکیورٹی کی صورتحال کے پیشِ نظر ایئر لائن نے اگلے 48 گھنٹے کے لیے فجیرہ کے لیے اپنی پروازیں فوری طور پر معطل کر دی ہیں۔

    ترجمان پی آئی اے کا مزید کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے شہر العین کے لیے ایئر لائن کی پروازیں حسب معمول جاری رہیں گی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نےبتایا کہ فی الحال متحدہ عرب امارات کے لیے پروازیں صرف العین کے لیے ہی آپریٹ کی جائیں گی۔

    مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: پی آئی اے کی فجیرہ کے لیے پروازیں معطل

    بغداد میں امریکی سفارتخانے پر مسلسل دوسرے روز حملہ

    ایران نے اسرائیل پر میزائل داغ دیئے،تل ابیب،یروشلم میں سائرن

  • 
آپریشن غضب للحق: پاک افواج کی طورخم سمیت افغان طالبان کے خلاف کارروائیاں تیز

    
آپریشن غضب للحق: پاک افواج کی طورخم سمیت افغان طالبان کے خلاف کارروائیاں تیز

    
آپریشن غضب للحق کے تحت پاک افواج کی جانب سے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں، جن میں حالیہ دنوں میں شدت دیکھنے میں آئی ہے۔
    سکیورٹی ذرائع کے مطابق طورخم سیکٹر میں پاک فوج نے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی ایک پوسٹ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مذکورہ پوسٹ مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں مخصوص اہداف کے حصول کے لیے کی جا رہی ہیں اور پاک افواج اس وقت تک اپنے حملے جاری رکھیں گی جب تک دہشت گرد عناصر اور ان کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر ختم نہیں کر دیا جاتا۔
    ‎اس سے قبل 16 مارچ کی شب بھی پاک افواج نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں، جن میں کابل اور ننگرہار شامل ہیں۔ ان حملوں کے دوران افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
    ‎سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں میں کابل کے دو مختلف مقامات پر موجود ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کی جگہوں کو مؤثر انداز میں تباہ کیا گیا، جس سے دشمن کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا۔

  • افغان طالبان کا اسپتال پر حملے کا الزام بے بنیاد اور جھوٹاہے،عطا تارڑ

    افغان طالبان کا اسپتال پر حملے کا الزام بے بنیاد اور جھوٹاہے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم یہ الزام لگا کر مزید جھوٹ بول رہا ہے کہ پاکستان نے کابل میں منشیات کی بحالی کے ہسپتال کو نشانہ بنایا۔ یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ہے۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان، دہشت گردی کے خلاف اپنی جاری جنگ میں صرف ان عسکری اور دہشت گرد اہداف بشمول افغان طالبان رجیم کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، جو پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، سہولت کاری، پناہ گاہ، تربیت یا حوصلہ افزائی کے لیے براہ راست یا بالواسطہ طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ کابل اور ننگرہار میں 16 مارچ 2026 کی رات کو کیے گئے حملے قطعی، دانستہ اور پیشہ ورانہ تھے۔ کوئی ہسپتال، کوئی منشیات کی بحالی کا مرکز، اور کسی شہری سہولت کی عمارت کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ اہداف میں فوجی اور دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ تھا جس میں گولہ بارود اور تکنیکی آلات کے ذخیرہ کرنے کی جگہیں اور پاکستان کے خلاف دشمنی کی سرگرمیوں سے منسلک دیگر تنصیبات شامل تھیں۔ جیسا کہ روایت ہے، تمام چھ حملوں کو فوری طور پر وزارت اطلاعات کی طرف سے ویڈیو فوٹیج کے ساتھ میڈیا کو فراہم کیا گیا، جس سے اہداف کی نوعیت سب کے لیے واضح ہو گئی۔ فراہم کردہ ویڈیوز و تصاویر شک کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتے۔ کابل میں آگ کے شعلے اور ثانوی دھماکے مزید اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ گولہ بارود کے ذخیرہ کرنے کی جگہ کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ پروپیگنڈہ ایک ایسی حکومت کی طرف سے آرہا ہے جس کے عہدیداران نے بار بار جھوٹے بیانات، جھوٹے دعووں، پہلے کی پوسٹوں کو منتخب ڈیلیٹ کرنے، سامعین کو گمراہ کرنے اور سچائی کو چھپانے کے لیے پرانے تصویروں کی گردش پر انحصار کیا ہے۔ ان کا تازہ ترین الزام دھوکہ دہی کی بوسیدہ روایت کا حصہ ہے۔ اصل مسئلہ بدستور برقرار ہے: پاکستان، خطے اور دنیا کو افغان طالبان حکومت کے زیر اثر علاقے سے دہشت گردی کے سنگین خطرے کا سامنا ہے۔ یہ خطرہ اور بھی وحشیانہ ہو گیا ہے، منشیات کے عادی افراد اور معصوم بچوں کا خودکش بم حملوں سمیت گھناؤنے مقاصد کے لیے استحصال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کا موقف واضح ہے۔ ہم اپنے شہریوں کے دفاع، دہشت گردی کی صلاحیت کو کم کرنے اور سرحد پار سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کرنے والوں کو محفوظ پناہ گاہوں سے محروم کرنے کے لیے ہر ضروری اقدام کرتے رہیں گے۔

  • اسحاق ڈار کا آذربائیجانی ہم منصب سے رابطہ

    اسحاق ڈار کا آذربائیجانی ہم منصب سے رابطہ

    نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسٖحاق ڈار نے آذربائیجان کے وزیر خارجہ جيحون بيراموف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری صورتحال کی تازہ پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا،اس موقع پر باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر بھی گفتگو کی گئی۔

    مذاکرات کے دوران پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا،یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں سفارتی سطح پر مشاورت کا عمل تیز ہو رہا ہے۔

    آپریشن غضب للحق ،خیبر سیکٹر سے ملحقہ افغان طالبان کی فوجی پوسٹیں تباہ

    فٹبال ورلڈ کپ: ایران کا اپنے میچز امریکا سے منتقل کرنے کے لیے فیفا سے رابطہ

    آبنائے ہرمز،اتحاد کی آزمائش یا نئی تقسیم؟تجزیہ :شہزاد قریشی

  • آپریشن غضب للحق ،خیبر سیکٹر سے ملحقہ  افغان طالبان کی فوجی پوسٹیں تباہ

    آپریشن غضب للحق ،خیبر سیکٹر سے ملحقہ افغان طالبان کی فوجی پوسٹیں تباہ

    آپریشن غضب للحق ،پاک افواج کی افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کیخلاف کامیاب اور موثر کارروائیاں جاری ہیں

    خیبر سیکٹر سے ملحقہ افغان طالبان کی فوجی پوسٹوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، پاک فوج نے اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل کے ذریعے پوسٹوں کو مکمل طور پر تباہ کردیا، پاک فوج کی ان موثر کارروائیوں سے افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا،سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق تاحال جاری ہے اور اپنے اہداف کےحصول تک جاری رہے گا،

  • افغان طالبان پروپیگنڈے کا پردہ چاک، اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف

    افغان طالبان پروپیگنڈے کا پردہ چاک، اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف

    افغان طالبان کی جانب سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کا پردہ چاک ہوگیا، جہاں اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف ہوا ہے۔

    وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے کیے گئے فیکٹ چیک کے مطابق جس امید اسپتال کو افغان طالبان کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہ دراصل کیمپ فینکس (Camp Phoenix) سے کئی کلومیٹر دور واقع ہے، اصل ہدف ایک عسکری مقام تھا جہاں دہشتگردوں کے اسلحہ اور بارود کا ذخیرہ موجود تھا، جسے گزشتہ رات درست نشانہ بنایا گیا۔

    تصاویر سے بھی واضح ہے کہ اصل اسپتال ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے جبکہ نشانہ بنائی گئی جگہ کنٹینرز پر مشتمل عسکری/دہشت گرد انفرا اسٹرکچر تھا یہ فرق خود ہی حقیقت کو واضح کرتا ہے ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر یہ واقعی منشیات کے عادی افراد کے علاج کا مرکز تھا تو پھر اسے ایک ایسے فوجی کیمپ میں کیوں قائم کیا گیا جہاں مہلک اسلحہ اور بارود ذخیرہ کیا جاتا ہو؟ یہ تضاد خود اس دعوے کی حقیقت پر سوال اٹھاتا ہے۔

    پی آئی اے کو مارکیٹ ویلیو سے کم میں فروخت کرنے کا تاثر غلط ہے، سیکریٹری نجکاری کمیشن

    وزارتِ اطلاعات و نشریات نے ایک اور اہم فیکٹ چیک جاری کرتے ہوئے افغان سرکاری سوشل میڈیا ہینڈل سے ایک پوسٹ اور ویڈیو ڈیلیٹ کیے جانے پر گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے،مذکورہ آفیشل اکاؤنٹ کی جانب سے سب سے پہلے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ کسی منشیات بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم بعد ازاں اس متنازع پوسٹ کو اچانک ہی ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی تھی، جو متعدد بار کیے جانے والے فیکٹ چیکس کے سخت دباؤ اور جانچ پڑتال کا سامنا نہیں کر سکی، اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے اپنے ہی سوشل میڈیا ہینڈل پر شیئر کی گئی ہیرا پھیری والی ویڈیو کو حقیقت ثابت کرنے کی کوشش بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

    افواج پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں 6 دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، عطا اللہ تارڑ

    سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت کے کابل میں امید ایڈکشن اسپتال پر فضائی کارروائی کے الزامات حقیقت سے بعید ہیں طالبان کے دعوے 400 ہلاک اور 250 زخمی ہونے کے ہیں، تاہم حکام کے مطابق یہ کارروائیاں مکمل طور پر انٹیلی جنس پر مبنی، درست اور محدود تھیں، جو دہشت گردوں کے ٹھکانے، لاجسٹک نیٹ ورک اور سرحدی حملوں میں ملوث بنیادی ڈھانچے تک محدود تھیں۔

    سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی پروپیگنڈا واضح نمونہ اختیار کر چکی ہے: دہشت گرد موجودگی سے انکار، ہدف کو اسپتال یا پناہ گاہ کے طور پر پیش کرنا، ہلاکتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور ہمدردی کے جذبات پیدا کرنا،امید ایڈکشن اسپتال جیسی کہانیاں اب معمول بن چکی ہیں، ہر دہشت گرد سے منسلک مقام کو انسانی سہولت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

    یہ دعوے صرف ان مقامات پر حملوں کے بعد سامنے آتے ہیں جو پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری سے جڑے ہوتے ہیں طالبان نے شہری علاقوں میں دہشت گردوں کو چھپنے کی اجازت دے رکھی ہے اور بعد میں اس کا فائدہ پروپیگنڈا اور مظلومیت کے بیانیے کے لیے اٹھا تے ہیں۔

    سپریم کورٹ نے قتل اور دہشتگردی کےمقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو بری کردیا

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے تحت دہشت گرد گروپس، بشمول ٹی ٹی پی، القاعدہ اور دیگر علاقائی تنظیمیں آزادانہ ماحول میں کام کر رہی ہیں۔ 2025 میں ٹی ٹی پی کے 600 سے زائد حملے افغان علاقے سے انجام دیے گئے، جس سے پاکستان کو براہ راست نقصان پہنچا جن میں 1957 ہلاکتیں اور 3603 زخمی شامل ہیں۔

    سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور سفارتی راستے استعمال کیے، تاہم دہشت گرد بنیادی ڈھانچے کے خلاف کارروائی قانونی اور ضروری دفاع کے طور پر کی گئی۔ طالبان کی بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی ہلاکتوں کی رپورٹیں حقیقت میں انسانی ہمدردی کا معاملہ نہیں بلکہ دہشت گرد بنیادی ڈھانچے کو بچانے اور اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ کسی اسپتال یا شہریوں کے بارے میں نہیں، بلکہ دہشت گردی اور اس کے خلاف کارروائی میں طالبان کی عدم تعاون اور ان کے پروپیگنڈا بیانیے پر مرکوز ہے۔

    بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹ سے شدید حملے

  • پی آئی اے کو مارکیٹ ویلیو سے کم میں فروخت کرنے کا تاثر غلط ہے، سیکریٹری نجکاری کمیشن

    پی آئی اے کو مارکیٹ ویلیو سے کم میں فروخت کرنے کا تاثر غلط ہے، سیکریٹری نجکاری کمیشن

    حکومت کو پی آئی اے کے باقی 25 فیصد حصص کی فروخت سے تقریباً 45 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے-

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس ہوا، جس کی صدارت سینٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے کی، اجلاس میں نجکاری کمیشن کے سیکریٹری عثمان اختر باجوہ نے بتایا کہ حکومت کو پی آئی اے کے باقی 25 فیصد حصص کی فروخت سے تقریباً 45 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے، جس سے پی آئی اے کی کل فروخت کی آمدنی تقریباً 55 ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔

    انہوں نے بتایا کہ نجکاری کے لین دین کی مالی تکمیل اپریل کے آخر تک متوقع ہے عارف حبیب کی قیادت میں کنسورشیم نئی انتظامیہ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر تلاش کر رہا ہے، جبکہ کابینہ کمیٹی کی منظوری کے بعد فوجی فرٹیلائزر کمپنی بھی اس کنسورشیم میں شامل ہوگی عارف حبیب کنسورشیم 29 اپریل تک باقی حصص خرید سکتا ہے انہوں نے واضح کیا کہ پی آئی اے کو مارکیٹ ویلیو سے کم میں فروخت کرنے کا تاثر غلط ہے۔

    افواج پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں 6 دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، عطا اللہ تارڑ

    سیکریٹری نے بتایا کہ نجکاری سے قبل پی آئی اے کی خالص اثاثہ قدر صرف 9 ارب روپے تھی، لیکن حکومت نے اثاثوں کی دوبارہ قیمت لگانے کے بعد اس کی خالص اثاثہ قدر بڑھا دی پی آئی اے کے کل واجبات 125 ارب روپے تھے جو اب نئی انتظامیہ کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ کنسورشیم نے پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ کے نام سے نئی کمپنی قائم کی ہے، جس میں تمام شیئر ہولڈرز شامل ہوں گے اور نجکاری کے عمل میں کوئی بڑی رکاوٹ باقی نہیں ہے اس مقصد کے لیے دو ورکنگ گروپس بھی قائم کیے گئے ہیں جو مرکزی اسٹیئرنگ کمیٹی کو رپورٹس پیش کر رہے ہیں۔

    فروری میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 427 ملین ڈالر ریکارڈ

    پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کی پراپرٹیز کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ کمپنی کی مختلف جائیدادوں کی مجموعی قیمت تقریباً 12 ارب روپے ہے، جبکہ 180 ارب روپے کے واجبات بھی ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد کے نیو بلیو ایریا میں واقع ایک پلاٹ کی قیمت تقریباً 3 ارب روپے بتائی گئی۔

    پی آئی اے کے افسران نے کمیٹی کو بتایا کہ 2024 میں کمپنی کا منافع 7.3 ارب روپے رہا جبکہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو 26 ارب روپے کا منافع رپورٹ کیا گیا اجلاس میں ریٹائرڈ ملازمین اور پنشنرز کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات پر بھی بات کی گئی، اور کمیٹی نے فوری اقدامات کے احکامات جاری کیے۔

    ابوظہبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک پاکستانی جاں بحق

    کمیٹی نے نجکاری کے مختلف پہلوؤں، پی آئی اے کی جائیدادوں اور نئے طیارے کی خریداری پر دی جانے والی جی ایس ٹی چھوٹ کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے گوادار انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کے قریب وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ ہونے کی وجہ سے اسے علاقائی ٹریفک کے لیے مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

  • افواج پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں 6 دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، عطا اللہ تارڑ

    افواج پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں 6 دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، عطا اللہ تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے 16 مارچ کی شب کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کے عسکری ٹھکانوں پر درستگی کے ساتھ فضائی کارروائیاں کیں۔

    وزیر اطلاعات نے منگل کو ایکس پر ایک پیغام میں بتایا کہ یہ کارروائیاں ان ہی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئیں جو افغان طالبان کے ذریعے دہشت گرد گروپوں فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کی مدد کے لیے استعمال ہو رہے تھےکابل میں دو مقامات پر تکنیکی معاونت اور گولہ بارود کی ذخیرہ گاہیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں، جن کے بعد ہونے والے ثانوی دھماکوں سے بڑے گولہ بارود کے ذخائر کی موجودگی ظاہر ہوئی۔

    انہوں نے کہا کہ ننگرہار میں چار عسکری ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں لاجسٹک، گولہ بارود اور تکنیکی ڈھانچے تباہ کر دیے گئے طالبان کی طرف سے کیے جانے والے جھوٹے دعوے افغان اور عالمی سطح پر ان کے دہشت گردانہ اقدامات کو چھپا نہیں سکتے۔

    فروری میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 427 ملین ڈالر ریکارڈ

    عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ تمام ٹارگٹ صرف ان انفراسٹرکچر کو درستگی کے ساتھ کیا گیا ہے جنہیں افغان طالبان حکومت اپنے متعدد دہشت گرد پراکسیوں بشمول فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی حمایت کے لیے استعمال کر رہی ہے، جیسا کہ ساتھ والی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے پروپیگنڈا کرنے والے طالبا ن حکومت کے جھوٹے دعوے خطے میں دہشت گردی کی حمایت اور سرپرستی کرنے والے اپنے گھناؤنے اقدامات سے افغانوں اور دنیا کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔

    وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ غضب للحق کے تحت پاکستانی شہریوں کو دہشت گردی کے خلاف ماسٹر ٹیرر پراکسی کے ذریعے تحفظ فراہم کرنے کے لیے آپریشنز اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک مطلوبہ مقاصد مکمل طور پر حاصل نہیں ہو جاتے۔

    ابوظہبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک پاکستانی جاں بحق

  • فروری میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 427 ملین ڈالر ریکارڈ

    فروری میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 427 ملین ڈالر ریکارڈ

    پاکستان نے فروری 2026 میں سب سے بڑی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 427 ملین امریکی ڈالر ریکارڈ کی، جو مارچ 2025 کے بعد سب سے بڑی ہے۔

    غیر ملکی سرمایہ کاری میں ہر ماہ 24فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ترسیلات زر میں 5 فیصد اور 8 ماہ کے دوران سال بہ سال 11فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کی برآمدات فروری 2026 میں 365 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو 19 فیصد زیادہ ہیں، اور 8 ماہ کے دوران تقریباً 3 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو سال بہ سال کے حساب سے 20 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔

    اسی طرح پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جس سے درآمدات کے احاطے میں بہتری آئی ہے بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ جنوری 2026 میں ماہ بہ ماہ 12 فیصد اور سال بہ سال 11فیصد کے حساب سے دو ہندسوں کی شرح نمو دکھا رہی ہے، جبکہ سات ماہ کے دوران مجموعی نمو 6فیصد رہی۔

    سپریم کورٹ نے قتل اور دہشتگردی کےمقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو بری کردیا

    عالمی تیل کی قیمتیں نرم ہو کر برینٹ 102 امریکی ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 95 امریکی ڈالر فی بیرل ہو گئی ہیں تیل کے مستقبل کے معاہدوں میں پیچھے کی قیمت کی حالت سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار قیمتوں میں مستقبل میں کمی کی توقع رکھتے ہیں، ممکنہ طور پر دوبارہ 60 امریکی ڈالر کے لگ بھگ، پاکستان نے مار چ اور زیادہ تر اپریل کی توانائی کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے، جس سے ایندھن کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے اور مناسب بچت و سختی کے اقدامات کے ساتھ معاشی سرگرمیوں کو مستحکم رکھنے میں مدد مل رہی ہے۔

    ماہرین کے مطابق، بیرونی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود، مضبوط میکرو اقتصادی بنیادیں ملک کو مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے بہتر بفرز اور مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہیں-

    ابوظہبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک پاکستانی جاں بحق

  • سپریم کورٹ نے قتل اور دہشتگردی کےمقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو بری کردیا

    سپریم کورٹ نے قتل اور دہشتگردی کےمقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو بری کردیا

    سپریم کورٹ نے پنڈی گھیب حملے کے مقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو بری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا۔

    عدالتِ عظمیٰ کے جج جسٹس اشتیاق ابراہیم کی جانب سے اپیلوں پر جاری کردہ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف ٹھوس اور آزادانہ شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا،عدالت نے ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے، ملزمان ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھے اور ان کی شناخت کا عمل بھی مشکوک ہے، گواہان کا موقع پر موجود ہونا اور اتنے بڑے حملے میں کسی قسم کی چوٹ نہ آنا غیر فطری امر ہے۔

    مزید برآں، ملزمان کی مشترکہ شناخت پریڈ کو قانونی طور پر ناقابلِ قبول اور غیر محفوظ قرار دیا گیا، جبکہ یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ شناخت پریڈ سے قبل ہی ملزمان کی شناخت پولیس پر ظاہر ہو چکی تھی،عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ پولیس کے مطابق ملزمان نے ایک دوسرے مقدمے کی تفتیش کے دوران پنڈی گھیب واقعے کا اعتراف کیا تھا، تاہم جس مقدمے میں اعتراف کیا گیا، اس میں ملزمان پہلے ہی بری ہو چکے ہیں اس بنا پر عدالت نے قرار دیا کہ پہلے کیس میں بریت کے بعد مبینہ اعتراف اپنی قانونی حیثیت کھو چکا ہے۔

    واضح رہے کہ یہ واقعہ یکم مئی 2011 کو پنڈی گھیب میں پیش آیا تھا، جہاں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی تھی۔

    ابوظہبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک پاکستانی جاں بحق

    کراچی: سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، بی ایل اے کے 4 دہشتگرد ہلاک

    17 مارچ سے 20 مارچ تک پنجاب بھر میں بارشیں، الرٹ جاری