Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی میں اسکول وین حادثے کا شکار

    کراچی میں اسکول وین حادثے کا شکار

    اب سے کچھ دیر پہلے کراچی میں آج ایک اور اسکول وین حادثے کا شکار ہوگئی حادثہ شاہراہِ فیصل پر پیش آیا جہاں اسکول کی وین میں آگ لگ گئی، حادثہ عائشہ باوانی اسکول کی وین میں رونما ہوا .پی ٹی آئی رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر جائے حادثہ پر موجود تھے ایم پی اے راجہ اظہر نے کال کرکے فوری طور پر فائربریگیڈ کی گاڑیوں کو حادثہ کی جگہ پہنچنے کی ہدایت کی،راجہ اظہر کی دی ہدایت پر فائربریگیڈ کی گاڑی فوری پہنچ گئی۔اور اسکول وین میں لگی آگ بھجانے کا کام شروع کردیا۔

  • مسلم لیگ (ق)  نے این اے 249 کے انتخابات میں ابتک کسی جماعت کی حمایت نہیں کی

    مسلم لیگ (ق) نے این اے 249 کے انتخابات میں ابتک کسی جماعت کی حمایت نہیں کی

    پاکستان مسلم لیگ (ق) سندھ کے رکن صادق شیخ نے کہا کہ این اے 249 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ق) نے پی ایسں پی سمیت کسی جماعت کی ابتک حمایت نہیں کی. مسلم لیگ (ق) کی کوئی ایسی کمیٹی نہیں جو اسطرح کے فیصلے کرئے. مزید تصیلات کے مطابق این اے 249 کے انتخابات میں جو بھی فیصلہ کیا جائے گا وہ مسلم لیگ (ق) سندھ کے صدر محمد طارق حسن کرینگے ۔مسلم لیگ (ق) سندھ کے صدر محمد طارق حسن سے مختلف جماعتوں نے رابطہ کیا ہے ابتک کسی جماعت کی حمایت کا فیصلہ نہیں کیا اس حوالے سے فیصلہ مرکزی صدر چوہدری شجاعت حسین و سیکرٹیری جنرل طارق بشیر چیمہ کی مشاورت سے کئے جائیں گے . انھوں نے مزید کہا کہ پی ایسں پی کی جانب سے حمایت کی خبریں ڈس انفارمیشن ہیں .

  • کراچی سمیت سندھ بھر میں پولیو مہم کا افتتاح کردیا

    کراچی سمیت سندھ بھر میں پولیو مہم کا افتتاح کردیا

    وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کراچی سمیت سندھ بھر میں پولیو مہم کا افتتاح کردیا۔وزیر صحت نے ای پی آئی ہال میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے اور تحفے تقسیم کیے۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ صوبے بھرمیں 90 لاکھ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے، 90 لاکھ میں سے 20 لاکھ بچے کراچی میں رہائش پذیر ہیں، جولائی 2020سےاب تک سندھ میں ایک بھی پولیو کا کیس سامنے نہیں آیا۔دوسری جانب ترجمان ایمرجنسی آپریشن سیل کا کہنا ہے کہ پولیو رضا کار گھر گھر جا کر بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائیں گے، انسداد پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ انسداد پولیو مہم میں کورونا ایس او پیزکا بھی خیال رکھا جارہا ہے۔

  • شب برات گناہوں سے توبہ اور مغفرت کی رات ہے، علامہ رضی حسینی

    شب برات گناہوں سے توبہ اور مغفرت کی رات ہے، علامہ رضی حسینی

    تحریک لبیک پاکستان کراچی ڈویژن کے امیر علامہ رضی حسینی نے شب برات کے خوبصورت موقع پر کراچی میں تحریکی ذمہ داران سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کہ شب برات گناہوں سے سچی توبہ اور اللّہ کے حضور گڑ گڑا کر گناہوں کی معافی مانگنے کی رات ہے۔ اللّہ عز و جل اپنے بندوں کی بے حساب مغفرت فرماتا ہے۔مزید انہوں نے کہا کہ شب برات اللّہ عزو جل کا ایک نہایت خوبصورت اور بابرکت تحفہ ہے۔امّت مسلمہ کو چاہئے کہ اللّہ عزوجل سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں۔ تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے مساجد میں اس بابرکت رات میں خصوصی محافل اور اجتماعات منعقد کئے جارہے ہیں۔جب کہ کراچی بھر میں تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے شب برات اسلامی جوش وجذبے اور عقیدت واحترام کے ساتھ منائی جارہی ہے۔شہر کے مختلف قبرستانوں میں عوام کی سہولت کے لئے رکنیت سازی کیمپ لگائے جارہے ہیں واضح رہے کہ کراچی کے ضلع غربی میں لگائے جانے والے کیمپوں کی تعداد 28 ، ضلع ملیر میں 14،ضلع کورنگی میں 12، ضلع شرقی میں 13، ضلع وسطی میں 14اور ضلع جنوبی میں 25 کیمپ لگائے جا رہے ہیں۔
    اسطرح ٹی ایل پی کراچی ڈویژن کے تمام کیمپوں کی کل تعداد 100 سے زائد ہے۔امیر کراچی علامہ رضی حسینی کی اپیل پر شب برات کی محافل میں علماء کرام کی جانب سے اہل ایمان کو تحفظ ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وحساسیت کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے گی اور اسلام کی سر بلندی پاکستان کے استحکام کے لئے دعائیں بھی کی جائیں گی۔

  • کراچی پولیس بھی شہریوں کو لوٹنے لگی

    کراچی پولیس بھی شہریوں کو لوٹنے لگی

    سندھ پولیس کے اہلکاروں نے بھی شہریوں کا جینا دوبھر کردیا، پولیس میں چھپی کالی بھیڑوں نے بھی سرعام شہریوں کو لوٹنا شروع کردیا، 5 اسٹار چورنگی پر پولیس اہلکار کی شہری سے مبینہ طور پر موٹر سائیکل چھیننے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔ متاثرہ شہری نے شور مچایا تو عوام کا رش لگ گیا، جس کی وجہ سے شہری کی موٹرسائیکل چھننے سے بچ گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس اہلکار مبینہ طور پر اپنے ساتھی کے ساتھ موٹر سائیکل چین رہا تھا اور مسلح پولیس اہلکار نے شناخت چھپانے کےلیے نیلا اپر پہن رکھا تھا۔ شہریوں نے چورنگی پر موجود ٹریفک اہلکار کو بھی مدد کےلیے طلب کیا سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں پولیس اہلکار کا ساتھی نظر آرہا ہے جبکہ متاثرہ شہر بار بار اہلکار کی پستول اور پولیس موٹر سائیکل کی نشاندہی کرتا رہا مذکورہ واقعے پر پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ اہلکار کون تھا اور کیا کررہا تھا جاننے کی کوشش کررہے ہیں۔

  • آرٹس کونسل کراچی میں حسینہ معین کی یاد میں تقریب،ملک کی نامور ادبی شخصیات اور فنکاروں کی شرکت

    آرٹس کونسل کراچی میں حسینہ معین کی یاد میں تقریب،ملک کی نامور ادبی شخصیات اور فنکاروں کی شرکت

    کراچی : آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں چند روز قبل وفات پانے والی معروف ڈراما نویس اور آرٹس کونسل کراچی کی نائب صدر حسینہ معین کی یاد میں تعزیتی اجلاس جون ایلیاء لان میں منعقد کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلا ت کے مطابق گزشتہ روز اجلاس میں ادیب و دانشور انور مقصود، افتخار عارف، کشور ناہید، حارث خلیق، منور سعید، ارشد محمود، اداکار شکیل، ساجد حسن، خالد انعم، مہتاب اکبر راشدی، سمیت معروف علمی و ادبی شخصیات اور ٹی وی کے نامور ستاروں نے خطاب کیا۔

    ان کے ساتھ صدر آرٹس کونسل احمد شاہ، سیکرٹری پروفیسر اعجاز احمد فاروقی، سید اسجد بخاری، گورننگ باڈی کے رکن طلعت حسین، ڈاکٹر قیصر سجاد، کاشف گرامی، قدسیہ اکبر، محمد اقبال لطیف، سید سعادت علی جعفری، عنبرین حسیب عنبر، ڈاکٹر ایوب شیخ، نصرت حارث، بشیر خان سدوزئی، عظمیٰ الکریم، شکیل خان، اخلاق احمد اور عرفان اللہ خان نے بھی شرکت کی۔

    اس تعزیتی اجلاس کی نظامت کے فرائض ہما میر نے انجام دیئے، تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے کیا گیا۔

    رپورٹس کے مطابق اس موقع پر معروف ادیب و دانشور انور مقصود نے کہا کہ حسینہ کمال کی خاتون تھیں وہ مجھ سے یونیورسٹی میں سینئر تھیں، ان سے جب آخری ملاقات ہوئی تو انہوں نے ایک نظم سنائی تھیں ’آخر کہ تئیں ہنس اکیلا ہی سدھارا‘۔ انور مقصود نے یہ بھی کہا کہ کیوں نہ حسینہ کو ہنس کر یاد کیا جائے۔

    صدر آرٹس کونسل نے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں سے ہمارا ان سے گہرا تعلق تھا، حسینہ آپا ہماری گورننگ باڈی کی ممبر رہیں اور پھر نائب صدر بنیں۔

    احمد شاہ نے مزید کہا کہ ان کے آخری الفاظ تھے احمد کو فون کرو، میری بیٹی کی شادی میں انہوں نے بالکل گھر کے بزرگ کی طرح اسے رخصت کیا۔

    انہوں نے کہا کہ حسینہ آپا کے جانے سے ہمارا ذاتی نقصان ہوا ہے، وہ ہماری ماں اور سربراہ تھیں، ہم آرٹس کونسل کے ہال کا نام حسینہ معین ہال رکھ رہے ہیں ان کا نام یہاں ہمیشہ باقی رہے گا۔

    صدر آرٹس کونسل نے یہ بھی کہا کہ حسینہ آپا جیسے لوگوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کو زینت بخشی، انہوں نے 23 مارچ کے پروگرام میں آخری تقریر کی اور کہا کی میں چلتی ہوں اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے چلی گئیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ہندوستان سمیت دنیا کے ادیبوں اور فنکاروں نے تعزیت کے لیے آرٹس کونسل فون کیا ہے، میں ان سب کا شکر گزار ہوں۔

    کشور ناہید نے کہا کہ میرے اور حسینہ کے مضمون الگ تھے، میں شاعری لکھتی تھی اور وہ ڈرامہ، لیکن ایک موقع پر آکے ہمارا سنگم ہوتا ہے، اس نے مجھے آخری سیڑھی پر نہیں چڑھنے دیا اور مجھ سے پہلے چلی گئی۔

    افتخار عارف نے کہا کہ میری پہلی دفعہ ان سے ملاقات ہوئی جب وہ بچوں کے لیے خاکے لکھا کرتی تھیں پھر ٹی وی پر انہوں نے بے شمار کامیاب سیریل لکھنے کا سلسلہ شروع کیا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی حسینہ معین سے زندگی کی شکایت نہیں سنی، انہوں نے کبھی کسی سے شکوہ نہیں کیا، وہ ڈرامے اپنی مرضی سے لکھا کرتی تھی پر جب اسکرپٹز تیار کرتی تھیں تو پروڈیوسرز کے ساتھ بیٹھ کر لکھتی تھیں۔

    افتخار عارف نے مزید کہا کہ میں نے احمد شاہ سے درخواست کی ہے کہ حسینہ آپا کے ڈراموں کی کوئی کلیات شائع کردیں تا کہ وہ ہمیشہ باقی رہیں ٹیلی ویژن کی حد تک کوئی دوسری خاتون ایسی نہیں ہیں جنہوں نے سوشل اسٹبلیش منزمنٹز کے خلاف لکھا اور شہرت پائی۔

    اداکار طلعت حسین نے کہا کہ حسینہ آپا نے ہمیں چلنا سکھایا مجھے بتایا کہ ڈرامہ کیا ہے کیسے بنتا ہے، ان کے بہت سے ڈراموں میں کام کیا اور کامیابی سے ہمکنار ہوا مجھے اپنے مخصوص انداز میں ڈانٹا بھی کرتی تھیں انہوں نے ہر موڑ پر میری بہت مدد کی۔

    اداکارہ ثانیہ سعید نے کہا کہ حسینہ آپا سے میرا دلچسپ رشتہ تھا، پچھلے چند سالوں میں ان کے ساتھ سفر کا بھی موقع ملتا رہا جب مجھے ”آہٹ“ آفر ہوا تھا تو حسینہ آپا کو میں خاص پسند نہیں آئی تھی پر بعد میں ہمارا ایک گہرا تعلق قائم ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ دوسروں کے نقطہ نظر کو آپا بہت اہمیت دیتی اور وہ روایت توڑنے والوں میں سے تھیں لوگ کہتے ہیں فنکار کیا کرسکتے ہیں، دوسرے ممالک میں پاکستان کو تھوڑا زندہ رکھتے ہیں جیسے حسینہ آپا نے اپنی تحریروں سے کیا۔

    بہروز سبزواری نے کہا کہ وہ بہت دھیمے مزاج کی خاتون تھیں، وہ سینز لکھ کر لاتی تھیں اور پھر پروڈیوسرز کے ساتھ مل کر انہیں مکمل کرتی تھیں، میں ان کا بہت چہیتا تھ ساری زندگی وہ اکیلی رہی ہیں اور اکیلی ہی رخصت ہوگئیں میں ان کیلئے دعاگو ہوں اللہ ان کو غریقِ رحمت کرے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جہاں بھی اُردو بولی اور سمجھی جاتی ہے وہاں حسینہ کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔

    اداکار شکیل نے کہا کہ بات کرنی کبھی اتنی مشکل نہ تھی جتنی آج لگ رہی ہے، میری ان سے آخری ملاقات نہ ہو پائی میں بہت خوش قسمت ہوں کہ حسینہ کے ساتھ کام کرنے کا سب سے زیادہ مجھے موقع ملا۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارا ٹیلی ویڑن کا سفر ایک ساتھ شروع ہوا، مجھے یہ راستہ انہوں نے ہی دکھایا تھا، میری ٹیلی ویژن کی پہچان میں حسینہ کا نمایاں کردار تھا۔

    ارشد محمود نے کہا کہ ’اَن کہی‘ کے وقت میری ان سے پہلی ملاقات ہوئی، اس کے بعد ہمارا ایک گہرا تعلق بن گیا، انہوں نے جتنے بھی ڈرامے لکھے تھے، ان میں کسی نہ کسی حوالے سے میرا تعلق رہا، ہم انہیں ہمیشہ یاد کرتے رہیں گے۔

    اس موقع پر سیاسی رہنما تاج حیدر نے کہا کہ جس دور میں وہ لکھ رہی تھیں وہ جبر کا دور تھا جو صدیوں سے چل رہا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ جو آرٹ سوالات نہ اٹھائے جس میں جہد نہ ہو وہ آرٹ نہیں ہوتا، حسینہ نے جبر کے دور میں سوالات اٹھائے پیغامات دیئے۔

    تاج حیدر نے مزید کہا کہ انہوں نے جو حوصلہ اُس وقت دیا عورتوں پر اس کے اثرات آج بھی ہیں، ہر ایک نے کہا وہ چلی گئیں، جسمانی طور پر وہ نہیں ہیں، لیکن سچی بات یہ ہے کہ وہ ہم میں موجود ہیں اور رہیں گی۔

    مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ جو کردار حسینہ نے اپنے ڈراموں میں تخلیق کیے وہ کردار ان کے اپنے جذبات تھے، وہ خود کسی سے نہیں لڑتی تھیں، پر ان کے کردار بہت بولڈ ہوتے تھے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ حسینہ معین نے اپنے کرداروں کے عمل سے دکھایا کہ خواتیں کو کیسا ہونا چاہیے آج ہم ان کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

    اس موقع پر اسد محمد خاں، حارث خلیق، منور سعید، ڈاکٹر فاطمہ حسن، مصباح خالد، عمرانہ مقصود، ساجد حسن، ایم ظہیر خان، ڈاکٹر عالیہ امام نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    ان کی زندگی میں لکھے گئے ڈراموں پر مبنی ڈاکومینٹری فلم دکھائی گئی،آخر میں اقبال لطیف نے دُعائے مغفرت کرائی۔

  • شہر قائد میں موسم گرما کا آغاز ہوچکا ہے

    شہر قائد میں موسم گرما کا آغاز ہوچکا ہے

    شہر قائد میں موسم گرما کا آغاز ہوچکا ہے، محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں ہواوٗں کا رخ تبدیل ہوچکا ہے جس کے باعث شہر میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آج موسم گرم اور مرطوب رہے گا جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39 ڈگری تک جانے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں سمندری ہوائیں بند ہونے سے حبس میں بھی اضافہ ہوگا، تاہم شام تک سمندری ہوائیں دوبارہ بحال ہوں گی۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آج کراچی کی ہوا میں نمی کا تناسب 81 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

  • ایس پی گلشن معروف عثمان صاحب کے زیرے صدارت بینظیر لاٸبرری میں کھلی کچھری کا انعقاد

    ایس پی گلشن معروف عثمان صاحب کے زیرے صدارت بینظیر لاٸبرری میں کھلی کچھری کا انعقاد

    ایس ایس پی ایسٹ کی ہدایت پر ایس پی گلشن معروف عثمان صاحب کے زیرے صدارت امروز تھانہ سچل بمقام بینظیر لاٸبرری میں کھلی کچھری کا انعقاد ہوا کھلی کچھری میں ہیڈ محرران انٹیلیجنس افسران , ایس ایچ او سچل , ایس ایچ او مبینہ ٹاٶن اور ایس ڈی پی او سچل نے شرکت کی کھلی کچھری میں سیکڑوں کی تعداد میں عوام اور معززین شہرین کاروباری حضرات اور میڈیا پرسنز نے شرکت کی جس میں شہریوں نے شرکت کر کے اپنے مساٸل پولیس کی اچھاٸیاں اور خامیاں ایس پی صاحب کے سامنے پیش کی ایس پی صاحب گلشن نے حدود میں رھائشی معزز شہریوں کے مسائل و شکایاتیں سنیں اور پولیس کو ان مساٸل کے حل کے لیۓ احکامات بھی جاری کیٸے اور ایس ایچ اوز کو ہدایت کی کے ایف آئی آر کی مفت رجسٹریشن کریں ایس پی صاحب نے ایس ڈی پی او اور ایس ایچ اوز کو احکامات جاری کیے کہ وہ 15 دن کے اندر تمام شکایتوں کا ازالہ کریں اور فوری رپورٹ دیں گے. اس پی صاحب نے حکم دیا کہ جرائم اور مسائل میں مبتلا لوگوں کی ہر ممکن مدد کی جائے اور فرض میں کوتاہی ھرگز برداشت نہیں کی جائیگی ایس پی صاحب نے عوام سے مخاطب ہو کر کہا کے منشیات و دیگر جراٸم کی نشاندھی کریں اور سی سی ٹیوی کیمروں کے ذریعے تحفظ کو یقینی بناٸیں اپنے اپنے گھروں اور دکان میں کیمرے لگواٸیں تاکے جراٸم پیشہ عناصر کی باآسانی نشاندہی ہوسکے و دیگر اینٹی انکروچمنٹ کے دوران بھی پولیس کے ساتھ تعاون کریں ایس پی صاحب نے مزید عوام اور پولیس سے مخاطب ہوکر کہا کے سکیورٹی گارڈ اور گھروں میں ماسیوں کو تصدیق کرنے کے بعد ملازمت پر رکہا جاٸے جوکے تصدیق اپلیکشن کے باری میں بھی تفصیل بتایہ گیا ہے پولیس کو حکم جاری کیا کے ہم عوام کے جان اور مال کے لیٸے خدمت گار ہیں اور انکا تحفظ ہماری اولین ترجیع ہے عوام اور معززین شہریوں نے ایس ایس پی ایسٹ اور ایس پی صاحب گلشن کا شکریہ ادا کیا اور دعاٸیں دی شہریوں نے مزید کہا ایس ایس پی ایسٹ ساجد سدوزٸی کے آنے کے بعد ضلع ایسٹ میں جراٸم پر کنٹرول ہوا ہے اور ایس پی گلشن ڈویزن معروف عثمان صاحب نوجوان آفیسر ہیں بہت محنت کرتے ہیں ایسے آفیسرز شہریوں کا سہارہ اور مسیحا کے طور پر آتے ہیں ایس پی صاحب نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوٸے کہا کے کھلی کچہری کا مقصد عوام کو ان کے گھر کی دہلیز پر انصاف پہنچانا ہے. بعد ازاں ایس پی صاحب نے مزید کہا کہ میری آفیس کے دروازے عوام کیلئے ہمیشہ کھلے ہوئے ہیں عوام کسی بھی وقت میری آفس میں آکر اپنے مسائل سے آگاہ کریں تاکہ ان کے فوری حل کیلئے اقدامات کئے جاسکیں پولیس عوام کی محافظ ہے ، عوام اور پولیس کے تعاون سے ہی جرائم کو جڑ سے ختم کیا جاسکتا ہے.

  • ‘حقوق کراچی تحریک ‘ کے سلسلے میں ‘حق دو کراچی ریلی’

    ‘حقوق کراچی تحریک ‘ کے سلسلے میں ‘حق دو کراچی ریلی’

    جماعت اسلامی کی جانب سے کراچی کے مسائل کے حل اور تین کروڑ سے زائد شہریوں کے جائز اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے جاری ‘حقوق کراچی تحریک ‘کے سلسلے میں شارع فیصل پر قائد آباد تا گورنر ہاؤس ‘حق دو کراچی ریلی’ نکالی گئی۔ گورنر ہاؤس کے سامنے ریلی کے شرکاء سے خطاب میں امیر جماعت اسلامی پاکستان  سراج الحق نےکہا کہ کراچی کی درست مردم شماری کی جائےاورکوٹہ سسٹم ختم کیا جائے۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ کراچی کو حقیقی قیادت سے محروم کیا گیا اور مصنوعی قیادت دی گئی, مصنوعی قیادت نےکراچی کو کچھ نہیں دیا۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ تبدیلی کے نعرے والوں نے پلٹ کر کراچی کو پوچھا بھی نہیں، شہر کی آبادی کو آدھا گنا گیا، پی ٹی آئی اورایم کیو ایم نے اسے تسلیم کرلیا، کوٹہ سسٹم کراچی کے نوجوانوں کے ساتھ ظلم ہے۔ حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ  کراچی دشمنی میں سب حکمران پارٹیاں ملی ہوئی ہیں،5 سال سے کے الیکٹرک کے خلاف عدالت سے رجوع کر رکھا ہے،چیف جسٹس سے مطالبہ ہے کہ کیس کو آگے بڑھایا جائے،کے الیکٹرک کو گیس سستی دی جاتی ہے اور کے الیکٹرک شہریوں کو بجلی مہنگی فروخت کرتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں،کراچی کو بااختیار شہری حکومت ملنی چاہیے،میئر براہ راست منتخب کیا جائے۔

  • اسٹیل مل کی مختلف مصنوعات کو اوپن نیلامی میں خریدنے والے ڈیلر پریشان

    اسٹیل مل کی مختلف مصنوعات کو اوپن نیلامی میں خریدنے والے ڈیلر پریشان

    کراچی۔اسٹیل مل کی مختلف مصنوعات کو اوپن نیلامی میں خریدنے والے ڈیلر پریشانی کا شکار ہوگئے۔اسٹیل مل کو ٹیکس کے ساتھ 27 کروڑ روپے دینے والے ڈیلروں کو پولیس نے خام مال اٹھانے سے روک دیا۔ بن قاسم پولیس نے اسٹیل مل کے معاملات سنبھالتے ہوئے ٹینڈر وں سے خریدیے گئے مال کے 6 ڈمپر تھانے میں کھڑے کردئے۔ کنویٹر سلیگ اور بولڈر سلیگ سے بھرے 6 ڈمپر چار دنوں سے بغیر کسی مقدمے کے باوجود تھانے پر کھڑے ھیں۔ 27 کروڑ روپے دیکر مختلف مصنوعات خریدنے والے ڈیلروں سے مل انتظامیہ نے بھی آنکھیں پھیر لیں۔ مل کا سی۔ ای۔ او۔ جنرل مینجر سیکورٹی نے ڈیلروں کی پولیس کے معاملے میں مدد کرنے سے انکار کردیا۔مل کی مصنوعات انتظامیہ نے فروخت کی ھیں۔ باقی پولیس جانے اور ڈیلر جانیں۔ مل انتظامیہ کا ڈیلروں کو جواب۔ پولیس نے بھی ڈیلروں کو ڈمپر چھوڑنے سے انکار کردیا۔ مل انتظامیہ نے اوپن نیلامی میں ٹیکس سمیت 27 کروڑ وصول کئے اب ڈیلروں کی مدد نہیں کی جارہی۔ بن قاسم پولیس کو اوپن نیلامی اور اسٹیل مل کے تمام کاغذات بھی دئیے ھیں۔ پولیس اور اسٹیل مل کے آپس میں اختلافات کی وجہ سے ڈیلر پریشانی کا سامنا کررھے ھیں۔ اسٹیل مل کے معاملات میں پولیس کی مداخلت سمجھ سے بالاتر ھے۔ اسٹیل مل کے ڈیلروں نے وفاقی وزیر پیداوار۔ آء جی سندھ۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی۔ ڈی آئی جی ایسٹ اور ایس ایس پی ملیر سے انصاف کی اپیل کردی ایس ایس پی ملیر عرفان بھادر ایک ایماندار آفیسر ھیں اور ھم ٹیکس پیڈ ڈیلروں کی جائز مدد کریں۔ ڈیلروں کی اپیل۔اسٹیل مل انتظامیہ ڈیلروں سے زیادتی کررھی ھے۔ اسٹیل مل نے کروڑوں روپے ھم سے لئے ھیں۔ انتظامیہ پولیس سے جان چھڑائے۔ ملازمین کو فارغ کرنے کے بعد مل سے چوری کی ذمے داری انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ رجسٹرڈ ڈیلروں کو پریشان نہ کیا جائے۔ کنوینر ممریز خان۔اگر ھمارے ڈمپر پولیس نے نھیں چھوڑیے اور مل انتظامیہ نے ڈیلروں کی مدد نہیں کی تو بھرپور احتجاج کرینگے۔ کنوین