Baaghi TV

Category: کراچی

  • نیب کو اختیار نہیں کسی کے گھر پر سرچ وارنٹ کے بغیر چھاپہ مارے،عدالت برہم

    نیب کو اختیار نہیں کسی کے گھر پر سرچ وارنٹ کے بغیر چھاپہ مارے،عدالت برہم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں وزیرسندھ سہیل انور سیال ودیگر کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی

    صوبائی وزیر سہیل انور سیال، ظفر سیال اور جمیل سومرو کی ضمانت میں 12 نومبر تک توسیع کر دی گئی،نیب کو سہیل انور سیال اور ان کے رشتے داروں کے گھروں پر چھاپے مارنے سے روک دیا گیا،سندھ ہائیکورٹ نے آئندہ سماعت پر نیب سے پیش رفت رپورٹ طلب کرلی

    جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کو اختیار نہیں کسی کے گھر پر سرچ وارنٹ کے بغیر چھاپہ مارے،نیب کسی کے گھر جا کر بلاجواز خواتین کو ہراساں نہیں کرسکتا،نیب چھاپوں کے دوران خواتین پولیس اہلکار بھی ساتھ لے جایا کریں، نیب کو سوسائٹی اور اس کے اقدار کا بھی خیال کرنا ہوگا،

    سہیل انور سیال نے عدالت میں کہا کہ نیب جن زمین اورگھر کی بات کر رہا ہے وہ ہماری خاندانی جائیداد ہے،میں قانون کا احترام کرتا ہوں میرا حق ہے کہ میرے ساتھ انصاف کیا جائے،نیب نے بیمار والد،مرحوم چاچا اوردیگررشتے داروں کے گھروں پرچھاپے مارے،

    رانا ثناء اللہ ایک بار پھرمشکل میں پھنس گئے، حکومت نے اب کیا کیا؟ جان کر ہوں حیران

    رانا ثناء اللہ نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کوجیل سے لکھا خط، کیا کہا؟

    رانا ثناء اللہ کی ضمانت، شہر یار آفریدی میدان میں آ گئے، بڑا اعلان کر دیا

    مریم کو ذاتی حیثیت میں بلایا تھا،نیب نے ن لیگ کے خلاف بڑا فیصلہ کر لیا

    مریم نواز کی گاڑی پر پتھراؤ، شہباز شریف، بلاول بھی میدان میں آ گئے

    تمام گاڑیوں کی فوٹیجز موجود ،پتھراؤ کرنیوالوں کیخلاف کاروائی ہو گی، راجہ بشارت

    نیب دفتر کے باہر ن لیگی کارکنان کی ہنگامہ آرائی پر وزیراعلیٰ کا نوٹس، رپورٹ طلب

    ن لیگی کارکنان کے پتھراؤ سے 3 اہلکار زخمی،ن لیگی کارکنان گرفتارکر لئے گئے

    فیصل آباد سے آنے والے 3 لیگی کارکنان کے سر پھٹ گئے،کئی گرفتار، ن لیگ کا دعویٰ

    لاڑکانہ میں پیپلز پارٹی کی اہم شخصیت کے گھر نیب کا چھاپہ

     

  • لیاری میں‌ عمارت گر گئی کئی افراد دب گئے

    لیاری میں‌ عمارت گر گئی کئی افراد دب گئے

    لیاری میں‌ عمارت گر گئی کئی افراد دب گئے

    باغی ٹی وی : کراچی کے علاقے لیاری کی بہار کالونی میں کوئلہ گودام کے قریب 2 منزلہ عمارت گر گئی، جس کے ملبے کے نیچے دب کر 2 افراد جاں بحق جبکہ 12 زخمی ہو گئے۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اداروں کے اہلکار فوری موقع پر پہنچ گئے جنہوں نےعلاقہ مکینوں کی مدد سے امدادی کارروائی شروع کر دی۔ریسکیو حکام کے مطابق گرنے والی عمارت کے ملبے کے نیچے دبی ہوئی 2 لاشوں اور 12 زخمیوں کو نکال لیا گیا ہے، ملبے میں مزید افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاع ہے۔جاں بحق ہونے والے ایک شخص کی شناخت جان محمد کے نام سے ہوئی ہے جو مزدوری کرتا تھا۔

    ریسکیو اداروں اور علاقہ مکینوں کی جانب سے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔علاقہ مکینوں کے مطابق گرنے والی عمارت سے متصل ایک عمارت تعمیر کی جا رہی تھی جس کے لیے شاؤل چلنے کی وجہ سے گرنے والی عمارت کی بنیادیں مخدوش ہو گئیں۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ عمارت گرنے کے بعد ٹھیکیدار اور شاؤل ڈرائیور فوری طور پر موقع سے فرار ہو گئے۔

  • علامہ ضمیر اختر نقوی  چل بسے

    علامہ ضمیر اختر نقوی چل بسے

    علامہ ضمیر اختر نقوی انتقال کر گئے
    مایہ ناز مذہبی اسکالر علامہ ضمیر اختر نقوی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے، ان کی عمر 76 برس تھی۔

    قریبی رفقاء کے مطابق علامہ ضمیر اختر نقوی کو رات گئے نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ انتقال کر گئے۔مرحوم علامہ ضمیر اختر نقوی کی میت کراچی کی انچولی امام بارگاہ منتقل کی جائے گی۔

    علامہ ضمیر اختر نقوی 24 مارچ 1944ء کو بھارت کے شہر لکھنو میں پیدا ہوئے ، مرحوم ایک پاکستانی عالم، مذہبی رہنما، خطیب اور اردو شاعر کے طور پر جانے جانے تھے ۔ ان کے والد کا نام سید ظہیر حسن نقوی تھا جب کہ ان کی والدہ کا نام سیدہ محسنہ ظہیر نقوی تھا ، پیدائش کے وقت نام ظہیر رکھا گیا تھا ، 1967ء میں وہ نقل مکانی کر کے پاکستان آ گئے اور کراچی شہر میں سکونت اختیار کیے ، تعلیمی اعتبار سے وہ لکھنؤ کے حسین آباد اسکول سے میٹرک پاس کیے اور گورنمنٹ جوبلی کالج لکھنؤ سے انٹرمیڈیٹ مکمل کیے۔

    انہیں گریجویشن کی سند شیعہ کالج لکھنؤ سے حاصل ہوئی ۔ مرحوم نے بے شمار کتابیں بھی لکھیں جن میں تاریخ مرثیہ نگاری میر انیس، زندگی اور شاعری ، مرزا دبیر حالاتِ زندگی اور شاعری ، جوش ملیح آبادی کے مرثیے ، شعرائے اردو اور عشق علی ، اردو مرثیہ پاکستان میں(1982ء) ، خاندان میرانیس کے نامور شعرا ، اردو ادب پر واقع کربلا کے اثرات ، دبستان ناسخ ، تذکرہ شعرائے لکھنؤ ، اقبال کا فلسفہ عشق ، شعرائے اردو کی ہندی شاعری، ابن صفی کی ناول نگاری ، شعرائے مصطفی آباد ، میر انیس (ہر صدی کا شاعر) ، میر انیس کی شاعری میں رنگوں کا استعمال ، میرانیس بحیثیت ماہرِ علمِ حیوانات ، نوادرات مرثیہ نگاری(دو جلدیں) ، The Study of Elegies Mir Anis ، اردو غزل اور کربلا سمیت کئی درجنوں‌کتب تریر کیں . ان کا اردو ادب میں گراں‌ قدر حصہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا.

  • سندھ کے میرپور خاص ڈویژن میں بارش نے تباہی مچادی، 6 ہزار بستیاں اجڑ گئیں

    سندھ کے میرپور خاص ڈویژن میں بارش نے تباہی مچادی، 6 ہزار بستیاں اجڑ گئیں

    سندھ کے میرپور خاص ڈویژن میں بارش نے تباہی مچادی، 6 ہزار بستیاں اجڑ گئیں

    باغی ٹی وی :بارش نے جہاں‌کراچی سمیت پورے سندھ می‌تباہی مچائی وہاں حالیہ سیلابی بارشوں نے سندھ کے میرپور خاص ڈویژن میں زیادہ تباہی مچائی۔ پی ڈی ایم اے سندھ کی رپورٹ کے مطابق وہاں دو لاکھ ایکڑز پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، 6 ہزار بستیاں اجڑ گئیں اور متاثرین کا کوئی پرسان حال نہیں۔

    برساتی ریلا میرپور خاص کے کسان جیوا کا صرف گھر ہی نہیں اچھے دنوں کے خواب بھی اپنے ساتھ لے گیا۔ آشیانہ ڈوبنے کے غم سے بیوی ہوش و حواس کھو بیٹھی تو جیوا خود بچوں کو دلاسے دینے لگا۔ یہ کہانی صرف جیوا کی نہیں اس علاقے کے لاکھوں سیلاب متاثرین خاندانوں کی ہے، ہزاروں بستیاں اجڑ گئی ہیں اور لوگ بے کسی اور بے بسی کی حالت میں سڑک پر پڑے ہیں۔ لاکھوں ایکڑز پر کھڑی زرعی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں اور جانور مرچکے ہیں، کاشتکار برباد ہو گئے ۔

    فصلیں اگا کر دوسروں کا پیٹ بھرنے والے آج خود ایک وقت کی روٹی کے منتظر ہیں، پینے کے لیے فراہم کیے جانے والے پانی کا رنگ انتظامیہ کا گدلا پن ظاہر کررہا ہے، بے کسوں کے بارے سوال کیا تو مقامی انتظامیہ بھی اپنی بے بسی ظاہر کرنے لگی۔قدرتی آفت کے شکار یہ بے بس لوگ اب انسانی بے حسی کا شکار ہو رہے ہیں۔ متاثرین منتظر ہیں کہ کب متعلقہ سرکاری ادارے اور این جی اوز ان کی داد رسی کو پہنچیں گے۔

    واضح‌ رہے کہ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہم نے 20 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا،بحالی کے لیے سندھ میں اربوں کی ضرورت ہے، کراچی سمیت 20 اضلاع میں بحالی کےکام کی ضرورت ہے،وفاقی حکومت سے 4 لاکھ خاندانوں کو فی کس ایک لاکھ دینے کی درخواست کی۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ میں بارشوں کے باعث حادثات میں 137 افراد انتقال کرگئے،صرف کراچی میں 64 لوگ جاں بحق ہوئے،سندھ میں 11 لاکھ ایکڑ کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ 15 ہزار233 دیہات شدید متاثر ہوئے،77 ہزار 342 گھرگرگئے،بارشوں کے باعث صوبے میں مویشی بھی بڑی تعداد میں مرگئے، ایسے خاندانوں کی بحالی کے لیے مویشی بھی دینے ہوں گے۔

  • آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں عوامی تھیٹر فیسٹیول کا انعقاد

    آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں عوامی تھیٹر فیسٹیول کا انعقاد

    آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں ثقافتی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہوگیا-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں ثقافتی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہوگیا صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے عوامی تھیٹر فیسٹیول کی تاریخ کا اعلان کردیا۔ پہلا عوامی تھیٹر فیسٹیول 18 ستمبر 2020 کو رات 8 بجے پیش کیا جائے گا۔

    صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کراچی آرٹس کونسل میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی تھیٹر فیسٹیول کے ڈراموں میں دکھایا جائے گا کہ پاکستان کو کیسا ہونا چاہیے تمام زبان کے بولنے والوں کو اکٹھا کرنے کوشش کی ہے پچھلی مرتبہ بھی تمام فیملی ڈرامے تھے جس کو خوب پذیرائی ملی تھی-

    اس مرتبہ عوامی تھیٹرفیسٹیول بھی منفرد انداز کا ہوگا س مرتبہ فنکاروں کے لیے دگنا پیکیج رکھا گیا ہے خاص بات یہ ہے کہ ڈراموں میں دوسری اور تیسری نسل بھی میدان میں آگئی ہے۔

    محمد احمد شاہ نے کہا کہ آرٹس کونسل کراچی کا مقصد لاک ڈاؤن کی وجہ سے پریشان فنکاروں کی مدد ہے آرٹس کونسل کراچی فنکاروں کے ساتھ میک اَپ آرٹسٹ سیٹ اور لائٹس سمیت ہر چیز میں تعاون کررہا ہے –

    انہوں نے کہا کہ 6 ماہ سے جو صورتحال رہی اس سے سب واقف ہی ہیں لوگ ڈپریشن کا شکار رہے مگر اب ہم چاہتے ہیں کہ لوگ آرٹس کونسل کراچی سے اپنے چہروں پر خوشی لے کر جائیں۔

    معروف اداکار طلعت حسین نے کہا کہ انگلستان روس اور فرانس تک آرٹس کونسل کے چرچے ہیں احمد شاہ نے چند سال میں آرٹس کونسل کے لیے جو کام کیا وہ سب کے سامنے ہے ہمیں اور آپ لوگوں کو مل کر آرٹس کونسل کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

    سیکریٹری آرٹس کونسل اعجاز احمد فاروقی نے کہاکہ آرٹس کونسل آرٹسٹوں کے دم سے ہے عوامی تھیٹر فیسٹیول 18ستمبرکو شروع ہوگا اور 4 اکتوبر 2020 تک جاری رہے گا جس میں ممبران کا داخلہ فری ہوگا۔

    انہوں نے بتایا کہ تھیٹر میں خالہ خیالوں میں، ایسا بھی ہوتا ہے، بہو ہو بہو، نوچانس، تگڑم، کھٹی آئیو خیرساں، ادھورے خواب، مسٹر کراچی، دنیا دونمبری، گھبرائیں جو نائے، اوپرا، شرارت، ہوا کی چیخ، شادی نہ کرنا یارو، بیٹی رانی اور یہی سچ ہے شامل ہیں۔

    ڈراموں میں شکیل صدیقی، رؤف لالہ، پرویز صدیقی، ذاکر مستانہ، شکیل شاہ، نذر حسین، زاہد شاہ، آدم راٹھور، الیاس ندیم، حمید راٹھور، الطاف سومرو، عابد نوید، جمیل راہی، آفتاب کامدار، ظہور ملک، محمد علی نقوی، ریاض مخدوم، عرفان ملک اور علی حسن بھی اس کا حصہ ہیں۔ ڈرامہ روزانہ شب 8 بجے اوپن ایئر تھیٹر میں ہوگا۔

  • زیادتی کے مجرموں کیلئے سرعام پھانسی کی سزا کیلئے آواز اٹھائی ہے،فیصل واوڈا

    زیادتی کے مجرموں کیلئے سرعام پھانسی کی سزا کیلئے آواز اٹھائی ہے،فیصل واوڈا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ میں نے زیادتی کے مجرموں کیلئے سرعام پھانسی کی سزا کیلئے آواز اٹھائی ہے

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ سی سی پی او لاہور نے اپنے بیان کی وضاحت پیش کی ہے ،خاتون سے زیادتی کرنیوالے ملزم 48 گھنٹوں کےاندر پکڑے جائیں گے،زیادتی کے واقعات کی روک تھام کیلئےقانون سازی کریں گے،

    فیصل واوڈا کا مزید کہنا تھا کہ سب سے گزارش ہو گی کہ بچوں کو باہر چیز لینے بھی نہ بھیجیں ،ایسا قانون بنانا ہے کہ کیس کا فیصلہ ایک ماہ کے اندر ہی ہو،بے شرم سیاستدان سیکھ لیں،ہمیں معاشرے کودرندوں سے پاک کرناہے،تکلیف کے وقت انسان کی تکلیف دورکرنےکی بات کی جاتی ہے،پارلیمنٹیرینز اور پاکستانیوں سے کہتا ہوں سب اکٹھے ہوجائیں، ایسے تو جانور کو بھی نہیں مارا جاتا جس طرح بچی کو مارا گیا،

    فیصل واوڈا کا مزید کہنا تھا کہ ہم قانون سازی کرکے آگے بڑھیں گے،قوم سے اپیل ہے ہماری مددکرے،مروہ،زینب سب ہمارے بچے ہیں، 35 سال میں بدقسمتی سے کراچی میں ڈی این اے لیب بھی نہ بن سکیں،مجرم کو بھی اپیل کے لیے صرف دو ہفتے ملنے چاہیے،ہم سب ماؤں ،بہنوں ،بیٹیوں والے ہیں،میں بل لےکراسمبلی جارہا ہوں،مجھے ماؤں،بہنوں ،بیٹیوں کی خاطرپاؤں پکڑنے پڑے توپکڑلوں گا،

    طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

    لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

    پولیس ناکے پر 100روپے کے تنازعے پر دو پولیس اہلکار آپس میں لڑ پڑے

    خاتون کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنیوالا ملزم لاڑکانہ سے گرفتار

    موٹروے کے قریب خاتون سے مبینہ زیادتی ،پولیس کی 20 ٹیمیں تحقیقات میں مصروف

    ‏موٹروے پر اجتماعی زیادتی کا سن کر دل دہل گیا ، ملوث تمام افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، مریم نواز

    موٹر وے کے قریب خاتون سے اجتماعی زیادتی،سراج الحق کا ملزمان کی گرفتاری کیلئے 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم

    درندہ صفت مجرمان کو پھانسی کی سزا دی جائے۔ دردانہ صدیقی

    زیادتی کے مجرموں کو خصوصی عدالت کے ذریعے فی الفور سزا دی جائے،کل مسالک علماء بورڈ

    آبروریزی کے بڑھتے واقعات کسی بڑی تباہی کی نشاندہی کر رہے ہیں، علامہ عبدالخالق اسدی

    پنجاب پولیس کی اعلیٰ کارکردگی،موٹروے زیادتی کیس کے ملزم تیسرے روز بھی گرفتار نہ ہو سکے

    موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی، واحد عینی شاہد نے کیا منظر دیکھا؟ بتا دیا

    قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا سی سی پی او لاہور کی برطرفی کا مطالبہ

    سی سی پی او لاہور کو نشان عبرت بنایا جائے،اسکے ہوتے ہوئے عورت محفوظ نہیں رہ سکتی، مریم اورنگزیب

    واضح رہے کہ دو روز قبل لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا۔ دو افراد نے موٹر وے پہ ایک گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور ان کے بچوں کو باہر نکالا جس کے بعد انہیں قریبی جھاڑیوں میں لے جا کر خاتون کو بچوں کے سامنے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون لاہور سے گوجرانوالا جارہی تھی، کار کا پٹرول ختم ہونے کے باعث موٹروے پر گاڑی روک کر شوہر کا انتظار کر رہی تھی، پہلے خاتون نے اپنے ایک رشتے دار کو فون کیا، رشتے دار نے موٹر وے پولیس کو فون کرنے کا کہا۔

    موٹروے ہیلپ لائن پر خاتون کو جواب ملا کہ گجر پورہ کی بِیٹ ابھی کسی کو الاٹ نہیں ہوئی اور موٹر وے پولیس بھی نہیں آئی۔ رشتے داروں کے پہنچنے سے پہلے ہی دو افراد نے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا، ملزمان خاتون سے ایک لاکھ روپے نقد، سونے کے زیورات اور اے ٹی ایم کارڈز بھی لے گئے۔

    خاتون سے زیادتی کے بعد پولیس کو ہوش آ گیا،لاہور سیالکوٹ موٹروے پر پولیس تعینات

  • ڈی جی بیورو اینڈ سپلائی کی 10 سال سے عدم تعیناتی پر عدالت کا شدید برہمی کا اظہار

    ڈی جی بیورو اینڈ سپلائی کی 10 سال سے عدم تعیناتی پر عدالت کا شدید برہمی کا اظہار

    ڈی جی بیورو اینڈ سپلائی کی 10 سال سے عدم تعیناتی پر عدالت کا شدید برہمی کا اظہار
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں ملک میں آٹے ،چینی سمیت دیگر اشیاء ضروری کے بحران کے معاملے کو لیکر گراں فروشی،زخیرہ اندوزی کے قوانین پر عملدرآمد اور اسپیشل ججز کی تعیناتی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی

    سماعت کے دوران ڈی جی بیورو اینڈ سپلائی کی 10 سال سے عدم تعیناتی پر عدالت نے سندھ حکومت پرشدید برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے سیکرٹری ایگری کلچر بیورو اینڈ سپلائی کو ذاتی حیثیت سے طلب کرلیا اور حکم دیا کہ سیکرٹری ایگری کلچر 13 اکتوبر کو خود پیش ہوکر وضاحت کریں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دئے کہ 2010 سے ڈی جی بیورو اینڈ سپلائی تعینات نہیں کیا گیا، کیا سندھ میں کوئی قابل افسر نہیں ہے جسے ڈی جی بیورو اینڈ سپلائی تعینات کیا جائے۔ شہر یار مہر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت نے ایڈیشنل ڈی جی تعینات کردیا ہے جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ قانون میں جب لکھ دیا گیا ہے تو اب تک مستقل ڈی جی تعینات کیوں نہیں کیا گیا، جب ادارہ بنا دیا گیا ہے تو اس سربراہ بھی تو لگاو، سربراہ کے بغیر ادارہ کام کیسے کرے گا۔

    درخواست گزار طارق منصور ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ محکمہ بیورو اینڈ سپلائی 1163 ملازمین کا 62 کروڑ روپے بجٹ رکھا جاتا ہے۔ اپنی درخواست میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ غیر قانونی زخیرہ اندوزی کے قانون پر عملدرآمد نہ ہونے سے ملک میں اشیاء خوردونوش کا بحران آتا ہے، رمضان سے قبل بھی گراں فروشوں نے اشیاء خوردونوش کی زخیرہ اندوزی شروع کردی، غیر قانونی زخیرہ اندوزی سے ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہوتا ہے۔

    سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ ہورڈنگ اینڈ بلیک مارکیٹنگ 1948 ایکٹ زخیرہ اندوزی،اسپیشل ججز کی تعیناتی سے متعلق بنایا گیا، جس میں غیر قانونی زخیرہ اندوزی پر سزاؤں کا تعین کیا گیا تھا ,1953 میں کراچی ایسنشئیل آرٹیکلز  پراسیسنگ پروفیٹینگ اینڈ ہوڈنگ ایکٹ کراچی ڈویژن کے لئے نافذ کیا مگر عملدرآمد نہ ہوا، اس کے علاوہ گوڈاون کی ریجسٹریشن کے لئے سندھ گوڈاون ریجسٹریشن ایکٹ 1996 لایا گیا مگر بے سود ثابت ہوا۔ اپنی درخواست میں انہوں نے اسشدعا کی کہ ایکٹس کو نافذ کرکے عوام کو زخیرہ اندوزوں سے نجات دلائی جائے

  • بانی پاکستان کی برسی،صدر مملکت کی گورنر، وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ مزار قائد پر حاضری

    بانی پاکستان کی برسی،صدر مملکت کی گورنر، وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ مزار قائد پر حاضری

    بانی پاکستان کی برسی،صدر مملکت کی گورنر، وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ مزار قائد پر حاضری
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی 72 ویں برسی کے موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مزار قائد پر حاضری دی، پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔

    پاک بحریہ کے بگلرز نے ماتمی دھن بجا کر عظیم قائد کو خراج عقیدت پیش کیا اور سلامی دی۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مہمانوں کی کتاب میں تاثرات بھی قلمبند کیے۔

    تقریب کے بعد صدر مملکت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کورونا وائرس کے دوران ڈاکٹروں اور مخیر حضرات نے بیڑہ اٹھایا، حکومتوں نے غریبوں کی احساس پروگرام کے ذریعے فکر کی، علماء، میڈیا سب مل کر قوم کو کورونا وائرس سے متعلق آگاہی دیتے رہے، قوم نے ڈسپلن کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کیا۔

    وبا کے کامیاب طریقہ علاج کی طرف پیشرفت، مبشر لقمان کے اہم انکشافات

    عمران خان نے اسمبلیاں توڑنے کے لئے سمری صدر کو کیوں بھیجی؟ سیاسی میدان میں بڑی ہلچل

    ناامیدی کفر ہے، مشکل حالات میں امید کی کرن…مبشر لقمان کی تازہ ترین ویڈیو لازمی دیکھیں

    امریکہ. سپر پاور نہیں رہے گا.؟ مبشر لقمان کی زبانی سنیں اہم انکشافات

    مفتی عبدالقوی کا نیا چیلنج، دیکھیے خصوصی انٹرویو مبشر لقمان کے ہمراہ

    دعا کریں،پنجاب حکومت کو عقل آجائے، بزدار سرکار پر مبشر لقمان پھٹ پڑے

    سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

    جنات کے 11 گروہ کون سے ہیں؟ حیرت انگیز اور دلچسپ معلومات سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    صدرمملکت عارف علوی کا مزید کہنا تھا کورونا پر قابو پانا بھی قوم کی انوکھی کامیابی ہے، تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان سے متعلق کہا جا رہا کہ اس قوم سے کچھ سیکھا جاسکتا ہے، دنیا کی بہتر قوموں میں اپنا نام لکھوانے کیلئے پاکستانی قوم بالکل تیار ہے۔

    صدر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ قائد کے فرمودات پر عمل کر کے ہم ہر مشکل سے عہدہ برا ہوسکتے ہیں، عالمی برادی میں اپنا مقام بنانے کیلئے ہمیں محمد علی جناح کے افکار پر عمل کرنا ہوگا۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کو 72 سال مکمل ہوگئے ہیں ، اس دن کی مناسبت سے ملک بھر میں مختلف سیاسی و سماجی جماعتوں کے زیر اہتمام تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے، سیمینارز اور کانفرنسز منعقد ہوتی ہیں جبکہ قائد کی مغفرت کیلیے مل بھر میں فاتحہ خوانی کی جاتی ہے۔

    قائد اعظم محمدعلی جناح ؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کی کوششوں سے پاکستان معرض وجود میں آیا، قائد اعظم قیامِ پاکستان کے بعد 11 ستمبر 1948 کو اپنی وفات تک ملک کے پہلے گورنر جنرل رہے۔ آج کا دن ایک ایسے عظیم قائد کی یاد دلاتا ہے کہ جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک نصب العین دیا۔

  • کراچی میں  چار منزلہ رہائشی عمارت گر گئی، 5 زخمیوں کو نکال لیا گیا

    کراچی میں چار منزلہ رہائشی عمارت گر گئی، 5 زخمیوں کو نکال لیا گیا

    کراچی: چار منزلہ رہائشی عمارت گر گئی، 5 زخمیوں کو نکال لیا گیا

    باغی ٹی وی : کورنگی اللہ والا ٹاؤن میں 4 منزلہ رہائشی عمارت گر گئی، عمارت کے ملبے سے 5 زخمیوں کو نکال لیا گیا جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    عمارت گرنے سے ملبہ سڑک پر پھیل گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق ملبے تلے کتنے افراد ہے کچھ نہیں کہا جاسکتا، عمارت کے ساتھ ملحقہ دوسری عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے، کئی لوگوں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔جیسے جیسے اطلاعات آئیں گی اپ ڈیٹ کردیا جائے گا.

  • مروہ قتل کیس:شوبز فنکاروں کا ملک میں مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کے قانون کا مطالبہ

    مروہ قتل کیس:شوبز فنکاروں کا ملک میں مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کے قانون کا مطالبہ

    پاکستانی شوبز فنکاروں نے کراچی میں 5 سالہ ننھی بچی مروہ سے جنسی تشدد کے بعد اندوہناک قتل پر آواز اٹھاتے ہوئے وزیراعظم عمران خان سے ملک میں مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کے قانون کے نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : دو روز قبل ‏کراچی کے علاقے پرانی سبزی منڈی میں معصوم مروہ کو اغوا کیا گیا جس کو تشدد کا نشانہ بنا کر اور اس کے جسم کو جلا کرکراچی کے علاقے عیسیٰ نگری کے قریب خالی پلاٹ میں کچرے میں پھینک دیاگیا بعد ازاں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق بھی ہوگئی تھی۔

    ننھی مروہ کے ساتھ اتنے بہیمانہ سلوک اور بے رحمی سے قتل کرنے کے واقعے نے جہاں عوام کو دُکھی کر دیا ہے وہیں شوبز فنکاروں نے بھی ننھی مروہ کے لیے آواز اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم کو بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے کے بعد انہیں قتل کرنے والے ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کے قانون کا نفاذ کرنا چاہیئے تاکہ بچوں کے ساتھ بہیمانہ سلوک کرنے والے ملزمان عبرت کا نشان بن سکیں۔

    اسلام کی خاطر شوبز کو خیر باد کہہ دینے والی رابی پیرزادہ نے کہا کہ ‏کتنے سالوں سے کہہ رہی ہوں جب تک عبرت نہیں بنائو گے یہ وحشی نہیں رکیں گے، اللہ کی قسم میں ایسے لوگوں کی کھال اتار کر چوک پر لٹکا دوں اور اس بچی کو ماں کو آگ دوں کہ جلائو زندہ اسے جیسے اس نے تمہاری بچی کو جلایا، عورت مارچ والوں اس پر مارچ بنتی ہے۔
    https://twitter.com/yumnazaidiactor/status/1303056184451239937?s=19
    اس حوالے سے اداکارہ یمنیٰ زیدی نے مروہ کی تصویر شئیر کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ایک اور زینب،بس بہت ہو گیا اس کو ختم کرنے کے لئے آواز بلند کریں-

    اداکارہ ثنا جاوید نے مروہ کی تصویر شیئر کی اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ایک اور 5 سال کی معصوم بچی کے ساتھ ظلم برپا ہوگیا۔ اس طرح کے واقعات اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک پاکستان میں عوامی سطح پر بچوں کے ساتھ زیادتی کے مرتکب افراد کو پھانسی دینے کا فیصلہ نہیں کیا جاتا۔

    ثنا جاوید نے وزیراعظم سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کے قانون کا نفاذ کیا جائے۔


    اداکار عاصم اظہر نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں اعلیٰ حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ایک کام کرتے ہیں سب پر پابندی لگادیتے ہیں لیکن ان ملزمان کو پھانسی نہیں دینا بس۔ بہت اعلیٰ۔


    عاصم اظہار نے مزید لکھا کہ مروہ کی طرح اور کتنی ننھی پریوں کے ساتھ یہ حادثات ہونے کے بعد ہم جاگیں گے انہوں نے مروہ سے معافی مانگتے ہوئے کہا ہمیں معاف کردو مروہ کیونکہ یہاں یہ زیادہ ٹینشن ہے کہ کون کیسے کپڑے پہن رہا ہے، کون کیسے شادی کررہا ہے۔ کون شیعیہ ہے کون سُنی – بس کچھ نہیں ہے تو وہ انسانیت۔
    https://twitter.com/ArmeenaRK/status/1302634957060419587?s=19
    اداکارہ ارمینا خان نے بھی ننھی مروہ کی مسکراتی ہوئی تصویر شیئر کی اور لکھا کہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا۔ میں نے بچی کی جلی ہوئی لاش کی تصویر دیکھی ہے اور یہ منظر خوفناک ہے آخر کب یہ سب ختم ہوگا؟

    اس سے قبل اداکارہ اُشنا شاہ کا کہنا تھا کہ 5 سالہ بچی سے جنسی تشدد کے بعد اندوہناک قتل پر مجرموں کیلئے پھانسی کی سزا کافی نہیں ہےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اُشنا شاہ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ 5 سالہ بچی کے قاتل جنونیوں کی شناخت کیلئے تفتیشی اور فارنسک جانچ کا ہر ذریعہ استعمال کیا جانا چاہئے جبکہ اِس بار صرف پھانسی کی سزا کافی نہیں مجرموں کو سرِ عام اور غیر انسانی سزا ہونی چاہئے۔

    جنسی زیادتی میں ملوث افراد کو سرعام پھانسی دینی چاہئیے تاکہ انہیں دوسروں کے لیے مثال بنایا جاسکے اقرا عزیز

    5 سالہ بچی کے قاتلوں کے لئے صرف پھانسی کی سزا کافی نہیں اُشنا شاہ