Baaghi TV

Category: کراچی

  • ریلوے اور سندھ حکومت ملکر کونسا کام کریں گے؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    ریلوے اور سندھ حکومت ملکر کونسا کام کریں گے؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    ریلوے اور سندھ حکومت ملکر کونسا کام کریں گے؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ہدایت کی ہے.

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ چیف منسٹر سندھ کی ٹیم ملکر فیصلہ کرے گی کہ ہم نے کس طرح کام کرنا ہے، صوبائی حکومت اور ریلوے ملکر کام کریں گے،کے سی آر منصوبے پر کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں

    شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ہدایت کی،کے یو ٹی سی سندھ حکومت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے متاثرین کو ریلوے کی مناسب جگہ دیں گے،سرکلر ریلوے کا 40کلومیٹر میں سے 38 کلومیٹر ٹریک خالی ہوچکا ،ریلوے اور سندھ حکومت مل کر متاثرین کو بحال کریں گے،

    70 آدمیوں کے جلنے کا حساب آپ سے کیوں نہ لیا جائے، چیف جسٹس کا شیخ رشید سے مکالمہ کہا آپ کو تو استعفیٰ دینا چاہئے تھا

    شیخ رشید نے عدالت سے مانگی مہلت،چیف جسٹس نے کہا لوگ آپکی باتیں سنتے ہیں لیکن ادارہ نااہل

    اسد عمر حاضر ہو، شیخ رشید کے بعد سپریم کورٹ نے اسد عمر کو بھی طلب کر لیا

    سانحہ تیزگام بارے کیا کرنے جا رہے ہیں؟ آڈٹ رپورٹ کس کی عدالت پیش کی گئی؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    شیخ رشید احمد نے مزید کہا کہ کے سی آر کے مسئلے پر کوئی رکاوٹ نہیں، ہم سب ملکر رکاوٹوں کو ختم کریں گے.

    اس موقع پر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت ریلوے کے ساتھ تعاون کرے گی، سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کریں گے.

    کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی، شیخ رشید کی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات

  • کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی، شیخ رشید کی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات

    کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی، شیخ رشید کی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات

    کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی، شیخ رشید کی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر ریلوے شیخ رشید کی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں سرکلر ریلوے کی بحالی سے متعلق بات چیت کی گئی،

    چیف سیکریٹری ،مشیر قانون ،سیکریٹری ٹرانسپورٹ اورکمشنر کراچی بھی ملاقات میں شریک ہوئے،

    70 آدمیوں کے جلنے کا حساب آپ سے کیوں نہ لیا جائے، چیف جسٹس کا شیخ رشید سے مکالمہ کہا آپ کو تو استعفیٰ دینا چاہئے تھا

    شیخ رشید نے عدالت سے مانگی مہلت،چیف جسٹس نے کہا لوگ آپکی باتیں سنتے ہیں لیکن ادارہ نااہل

    اسد عمر حاضر ہو، شیخ رشید کے بعد سپریم کورٹ نے اسد عمر کو بھی طلب کر لیا

    اس موقع پر وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سرکلر ریلوے اورفریٹ ٹرین منصوبے کو سی پیک کےساتھ جوڑا گیا ،چاروں صوبوں کے ہیڈ کوراٹرز میں فریٹ ٹرین کے دفاتر بنانے کا پلان ہے،سرکلر ریلوے کا 40کلومیٹر میں سے 38 کلومیٹر ٹریک خالی ہوچکاہے متاثرین کو ریلوے کی مناسب جگہ پر گھر بنا کر دیئے جائیں گے،

     

    سانحہ تیزگام بارے کیا کرنے جا رہے ہیں؟ آڈٹ رپورٹ کس کی عدالت پیش کی گئی؟ شیخ رشید نے بتا دیا

  • کراچی اورحیدرآباد میں پاک سرزمین کے تربیتی اجتماع ، مصطفیٰ کمال کی شرکت اورخطاب

    کراچی اورحیدرآباد میں پاک سرزمین کے تربیتی اجتماع ، مصطفیٰ کمال کی شرکت اورخطاب

    کراچی :کراچی اورحیدرآباد میں پاک سرزمین کے تربیتی اجتماع ، مصطفیٰ کمال کی شرکت اورخطاب،اطلاعات کےمطابق آج پاک سرزمین پارٹی کے اٹھائیسویں تربیتی اجتماع کے سلسلے میں‌ کراچی اورحیدرآباد میں تقریبات میں چیئرمین پارٹی مصطفیٰ کمال نے شرکت بھی اورخطاب بھی کیا ،

    باغی ٹی وی کےمطابق چئیرمین پاک سرزمیں پارٹی سید مصطفی کمال اور نیشنل کونسل ممبر قمر اختر نقوی کا اٹھائیسویں تربیتی اجتماع سے خطاب، کراچی اور حیدرآباد میں تربیتی اجتماع بیک وقت سنا گیا

    یاد رہےکہ سندھ میں پاک سرزمین پارٹی کے تربیتی اجتماعات جاری ہیں جن میں مصطفیٰ کمال اورانیس قائم خانی سمیت اہم رہنما شرکت کرکے کارکنوں کی ملکی سیاست میں خدمات کے حوالے سے تربیت کررہےہیں

  • مصطفیٰ‌کمال کی امیراہلسنت الیاس قادری سے ملاقات اوران کی ہمشیرہ کی وفات پرتعزیت

    مصطفیٰ‌کمال کی امیراہلسنت الیاس قادری سے ملاقات اوران کی ہمشیرہ کی وفات پرتعزیت

    کراچی :مصطفیٰ‌کمال کی امیراہلسنت الیاس قادری سے ملاقات اوران کی ہمشیرہ کی وفات پرتعزیت،اطلاعات کےمطابق پاک سر زمین پارٹی کے چئیرمین سیدمصطفئ کمال کی بانی دعوت اسلامی امیر اہلسنت مولانا الیاس قادری عطاری سے ملاقات اور انکی ہمشیرہ کی وفات پر تعزیت کی

    باغی ٹی وی کےمطابق بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری کی چھوٹی ہمشیرہ چند دن قبل قضائے الٰہی سے وفات پاگئیں تھیں ۔ مرحومہ کی نمازِ جنازہ عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں امیر اہلسنت الیاس قادری نے پڑھائی اورمرحومہ کی تدفین صحرائے مدینہ میں کی گئی

    ذرائع کے مطابق پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے اس موقع پرامیر اہلسنت سے تعزیت کرتے ہوئے مرحومہ کی مغفرت اوردرجات کی بلندی کےلیے دعا کی اورلواحقین کوصبرکرنے کی نصیحت کی

  • گٹکا مافیا کے خلاف عدالت جانے والا شہری چل بسا

    گٹکا مافیا کے خلاف عدالت جانے والا شہری چل بسا

    گٹکا مافیا کے خلاف عدالت جانے والا شہری چل بسا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں گٹکا مافیاکے خلاف پٹیشن داخل کرنے والا نسیم حیدر والد کوثر حسین کا گٹکا کھانے سے کینسر کی وجہ سے آج یکم فروری کو کراچی میں وفات پا گیا

    نسیم نے گٹکا مافیا کے خلاف 15 جولائی کو گزشتہ برس تھانہ زمان ٹاؤن میں مقدمہ درج کروایا تھا کہ وہ تین سال سے کینسر کے مرض میں مبتلا ہے،نسیم کو کافی عرصہ سے منہ کا کنسر تھا اور ایک جبڑا خراب ہو چکا تھا جس کی وجہ سے وہ کچھ کھا نہیں سکتا تھا آج اس کی وفات ہوئی ہے

    سندھ ہائی کورٹ نے گٹکا مافیا کے خلاف مقدمات میں دفعہ 337-J کا اضافہ کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد ملزمان کے خلاف درج مقدمات میں ناقابل ضمانت دفعہ کا اضافہ کردیا گیا ہے۔

    گٹکا مافیا کے خلاف ناقابل ضمانت دفعہ لگنے کے بعدگٹکے کے کیس میں 160 سے زائد ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کردی گئیں۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ایسٹ نے 80 ملزمان کی ضمانتیں مسترد کیں جب کہ ضلع ویسٹ کی عدالتوں نے 50، سینٹرل اور ساؤتھ کی عدالتوں نے 15،15 ملزمان کی ضمانتیں مسترد کریں۔

    گٹکا مافیا کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے عدالت نے واضح کیا کہ کینسر جیسی خطرناک بیماری کا سبب بننے والے ضمانتوں کے حقدار نہیں، خطرناک اشیا فروخت کرنے والوں کو 10 سے 14 سال قید بامشقت ہوسکتی ہے

     

    قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبائی پبلک سیفٹی اینڈ پولیس کمپلینٹس کمیشن کا اجلاس ہوا،

    بھارتی گٹکا بیچنے پر انوکھی سزا جان کر حیران ہوں جائیں

    ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق کمیشن کے ایجنڈہ میں پانچ ائٹم شامل تھے، اجلاس میں گٹکے، مین پوری اور منشیات کی اسمنگلنگ کے خلاف کارروائی کی رپورٹ پیش کی گئی،

    اسمبلی میں بیٹھے لوگوں کو سب معلوم ہے کہ یہ چیز کہاں تیار ہوتی ہے؟ نصرت سحر عباسی نے کیا بڑا انکشاف

    اجلاس میں آئی جی سندھ نے گٹکا ،مین پوری بنانے اور منشیات اسمنگلرز کے خلاف کارروائی کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گٹکا، مین پوری کے مقدموں میں 5714 ایف آئی آر رجسٹر کہ گئی ہیں، 6995 ملزماں کو گرفتار کیا گیا ہے، 3526470 کلوگرام گٹکا اور مین پوری برآمد کیا گیا ہے، 206 فیکٹریز / بنانے کے یونٹس کو سیل کیا گیا ہے، 5561 کیس چالان کیے گئے ہیں،

    گٹکا بنانےاورفروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی،عدالت نے کب تک مہلت دیدی؟

    آئی جی سندھ نے اجلاس میں مزید بتایا کہ اس وقت 1650 ملزمان جیل میں ہیں، 3467 ضمانت اور 1291 کو سزا ہوئی ہے جبکہ 552 بری ہوئے ہیں،

  • آئی جی سندھ کا تبادلہ کیوں نہیں ہو رہا؟ وزیراعلیٰ سندھ نے پھر لکھا وزیراعظم کو خط

    آئی جی سندھ کا تبادلہ کیوں نہیں ہو رہا؟ وزیراعلیٰ سندھ نے پھر لکھا وزیراعظم کو خط

    آئی جی سندھ کا تبادلہ کیوں نہیں ہو رہا؟ وزیراعلیٰ سندھ نے پھر لکھا وزیراعظم کو خط

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئی جی سندھ کلیم امام کے تبادلے کے حوالہ سے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعظم عمران خان کو ایک اور خط لکھ دیا.

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ کلیم امام کوآئی جی سندھ کے عہدے سے ہٹایا جائے، سندھ میں آئی جی پولیس کی تبدیلی کا معاملہ وفاقی کابینہ کو بھیجا گیا اور وفاقی کابینہ کا آئی جی سے متعلق فیصلہ 1993کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اب تو کلیم امام نے کھلے عام سندھ حکومت کا مذاق اڑانا شروع کردیا ہے، کلیم امام کا رویہ سندھ میں نفرتوں کا سبب بن رہا ہے، وہ غیر سنجیدہ اور غیر مہذب رویئے سے صوبائی حکومت کی توہین کررہے ہیں

    وزیراعلیٰ سندھ نے خط میں صوبائی حکومت کے پانچ ناموں میں سے کسی ایک افسر کو آئی جی مقرر کرنے کا اصرار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کے مشورے پرہی آئی جی پولیس کی تبدیلی کا عمل شروع کیا گیا، ٹھوس وجوہات ہونے کے باوجود ایک ماہ سے آئی جی پولیس کو ہٹانے کا معاملہ التوا کا شکار ہے۔

    واضح رہے کہ تین روز قبل وزیراعظم عمران خان کی آئی جی سندھ کلیم امام سے اہم ملاقات ہوئی ہے،ذرائع کے مطابق ملاقات میں آئی جی سندھ سے اپنے اوپر لگنے والے الزامات اور سازش کو وزیراعظم کے سامنے رکھا

    آئی جی سندھ نے وزیراعظم کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا.آئی جی سندھ کلیم امام نے ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم عمران خان کو صوبہ سندھ میں امن و امان کی موجودہ صورتِ حال اور اہم امور پر بریفنگ دی۔

    آئی جی نےسندھ حکومت سے متعلق شکایات کے بارے میں بھی بتایا،آئی جی نےسندھ حکومت کی جانب سے محکمہ پولیس میں مداخلت سے متعلق بھی آگاہ کیا،آئی جی سندھ نے وزیراعظم کو بتایا کہ سندھ حکومت کے من پسند ایس ایچ اوزاورڈی ایس پیز لگانے سے انکارکیا،سندھ حکومت کے خلاف ضابطہ اقدامات ماننے سے انکار کیا،محکمہ پولیس کےلیے مختص فنڈز دیگر محکموں میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی،جرائم پیشہ افراد کی سیاسی پشت پناہی کرنے والوں کورعایت نہیں دی،سندھ حکومت نےانتقامی کارروائی کےطورپرمحکمہ پولیس کے بجٹ میں کٹوتی کی،سندھ حکومت کے کچھ ارکان اسمبلی اراضی پرقبضے کرنے والوں کی پشت پناہی کررہے تھے،

    سندھ حکومت کے آئی جی سندھ پر الزامات کے بعد کلیم امام بھی میدان میں آ گئے، کیا کہا؟

    آئی جی سندھ کے تبادلے پر وزیراعلیٰ سندھ نے دیا اسمبلی میں اہم بیان، کیا کہا؟

    سندھ حکومت کی خواہش رہی ادھوری، میں کہیں نہیں جا رہا، آئی جی سندھ نے کیا اعلان

    آئی جی سندھ کلیم امام کے تقریب سے خطاب کرنے کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنما بھی میدان میں آ گئے،سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا کہ آئی جی سندھ کے خلاف کوئی سازش نہیں ہوئی،کلیم امام کے دور میں کراچی میں وارداتوں میں اضافہ ہوا،

    سعیدغنی کا مزید کہنا تھا کہ کلیم امام کے دور میں وزرا پر سنگین الزامات عائد کیے گئے،کلیم امام کے دور میں سندھ میں صورتحال مزید خرا ب رہے ۔ کلیم امام کی سندھ میں کارکردگی اطمینان بخش نہیں تھی،

    مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کل وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ 24 گھنٹے میں آئی جی سندھ تبدیل ہوں گے، وفاقی حکومت کا استحقاق ہے کہ ان کو کہیں بھی تعینات کرے۔ آئی جی سندھ کا کام پولیسنگ کرنا ہے، وہ بیانات دے رہے ہیں.آئی جی سندھ کیسے اس طرح کی بات کرسکتے ہیں

    آئی جی سندھ کلیم امام کی ایک سال میں شاندار کارکردگی رپورٹ سامنے آ گئی

  • راؤ انوار کے لئے ایک بار پھر بڑی مشکل پیدا ہونے کا امکان

    راؤ انوار کے لئے ایک بار پھر بڑی مشکل پیدا ہونے کا امکان

    راؤ انوار کے لئے ایک بار پھر بڑی مشکل پیدا ہونے کا امکان
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق ایس پی ملیر ملزم راؤ انوار کے گرد گھیرا تنگ ہونے کا امکان ہے،نقیب اللہ محسود و دیگر افراد کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ملزم راؤ انوار کی ضمانت منسوخی کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا گیا۔

    سندھ ہائی کورٹ میں بیرسٹر فیصل صدیقی کی جانب سے درخواست دائر کی گئی ہے جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ملزم راؤ انوار کی ضمانت کو منسوخ کیا جائے۔ ملزم راؤ انوار نے جعلی انکاؤنٹر میں بے قصور نقیب اللہ محسود کا قتل کیا۔ ملزم راؤ انوار کی وجہ سے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلا۔

    عدالت نے درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے 13 فروری کے لیے مقرر کردی۔

    دوسری جانب سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر محکمہ داخلہ سندھ سے سکیورٹی مانگ لی۔ انہوں نے محکمہ داخلہ سندھ سے سکیورٹی کی درخواست کی ہے۔ راؤ انوار نے محکمہ داخلہ کے حکام سے ملاقات کی اور بتایا کہ جان کو خطرات لاحق ہیں، اس لئے پولیس سکیورٹی فراہم کی جائے،

    سابق پولیس آفیسر راؤ انوار نے سکیورٹی فراہم کرنے کیلئے درخواست بھی جمع کرائی۔ صوبائی محکمہ داخلہ نے راؤ انوار کی درخواست منظوری کیلئے کمیٹی کو ارسال کر دی ہے، محکمہ داخلہ سندھ کے حکام نے کہا ہے کہ کمیٹی کی منظوری سے راؤ انوار کو پولیس سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

    دوسری جانب نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق ایس پی راؤ انوار نے پولیس سروس ميں واپسی کےلیے محکمہ داخلہ سندھ میں دستاویزات جمع کرا دیں۔ نقيب اللہ قتل کيس کے مرکزی ملزم اور سابق ايس ايس پی ملير راؤ انوار نے موقف اپنايا کہ پولیس کا ملازم ہوں، ریٹائر ہوا اور نہ ریٹائرمنٹ کا نوٹیفیکشن جاری ہوا۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ معطلی کے دوران ریٹائرمنٹ کا نوٹیفیکشن نہیں ہوسکتا۔ جتنا عرصہ معطل رہا اُتنی ہی سروس کرنے کی اجازت دی جائے۔ راؤ انوار نے سیکرٹری داخلہ سندھ عثمان چاچڑ سے ملاقات کی اور کہا کہ اُن خلاف اب تک کوئی الزام بھی ثابت نہیں ہوا ہے

    واضح رہے کہ نقیب اللہ قتل کیس میں 13 پولیس اہلکار و افسران عدالتی ریمانڈ پر جیل میں ہیں جب کہ راؤ انوار، ڈی ایس پی قمر سمیت 5 ملزمان ضمانت پر رہا ہیں۔

    انسانی حقوق کے عالمی دن پر امریکا نے مختلف ممالک کی 18 شخصیات پرپابندی لگائی، 18 شخصیات میں سابق ایس ایس پی راؤانواربھی شامل ہیں،جن پرداخلے پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں برما،  لیبیا، سلواکیا، ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو اورجنوبی سوڈان کی شخصیات شامل ہیں.

    امریکی محکمہ خزانہ کی پریس ریلیزکے مطابق راؤانوارنے جعلی پولیس مقابلے کیے. امریکی محکمہ خزانہ نے کہا کہ راؤ انوار نے 190 سے زائد پولیس مقابلوں میں ملوث اور 400 سے زائد افراد کے قتل میں ملوث تھا،نقیب اللہ محسود سمیت پولیس اہلکاروں کی موت کا زمہ دار بھی امریکہ نے راؤ انوار کو ٹھہرایا

    اپنے ہی شوہر کے گھر ڈاکہ ڈالنے والی خاتون مبینہ آشنا سمیت گرفتار

    لاہور میں بھی بچوں کے اغوا کا سلسلہ رک نہ سکا

    علی وزیر اور محسن داوڑمیرا بھائی ،پرویز خٹک اور میں رابطے میں تھے، شہریارآفریدی

    فارم ہاؤس میں ڈانس پارٹی میں لڑکی کی موت، دو دوست گرفتار

    واضح رہے کہ نقیب اللہ محسود کا قتل 13 جنوری 2017ء کو شہر قائد کراچی میں پولیس افسر راؤ انوار کے پولیس انکاؤنٹر کی وجہ سے ہوا،نقیب اللہ محسود پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس کے کالعدم تنظیموں سے تعلقات ہیں،نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا تھا،نقیب اللہ کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔ 24 جنوری 2019ء کو پاکستان کی انسداد دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ اور تین دوسرے افراد کو معصوم قرار دیا۔

    نقیب اللہ محسود کے والد چند روز قبل بیماری کے باعث وفات پا چکے ہیں.

  • آئی جی سندھ کلیم امام کی ایک سال میں شاندار کارکردگی رپورٹ سامنے آ گئی

    آئی جی سندھ کلیم امام کی ایک سال میں شاندار کارکردگی رپورٹ سامنے آ گئی

    آئی جی سندھ کلیم امام کی ایک سال میں شاندار کارکردگی رپورٹ سامنے آ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور سابقہ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے صوبہ سندھ میں انسانی حقوق کے تحفظ، پاسداری اور صوبائی سطح پر ماڈل کورٹس کے حوالے سے غیرمعمولی اقدامات اٹھانے اور لائق ستائش کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر آئی جی سندھ ڈاکٹر سیدکلیم امام کو تعریفی سند پیش کی ھے اور اپنی جانب سے نیک خواہشات کا اظہارکیا ھے-

    31 جنوری 2019 سے لیکر31 جنوری 2020 کے دوران سندھ میں ماڈل کورٹس میں قتل کے5522,جبکہ منشیات کے 8988 مقدمات کی سماعت کے دوران پولیس نے 65950 گواہان کو باقاعدہ ماڈل کورٹس میں حاضر کرواکر کر بیانات ریکارڈ کرواکر یہ مقدمات فائنل کروائے۔ سنگیں مقدمات میں اتنے فیصلے پہلی مرتبہ ماڈل کورٹس کی بدولت ھوئے ہیں۔

    انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرسال2019 کے دوران سندھ پولیس اقدامات/کارکردگی کی تفصیلات بھی سامنے آ گئی ہیں،

    غیرت کے نام پر قتل کے 108 مقدمات کا اندراج کیا گیا جن میں سے 126ملزمان کو گرفتار کیا گیا، 81 کا چالان پیش کر دیا گیا، 32 زیر سماعت ہیں،73 کیس خارج ہو چکے ہیں.

    ایک سال میں خواتین کے اغوا کے 1158 مقدمات درج ہوئے، 550 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، 301 کا چالان عدالت میں پیش کیا گیا، 466 زیر تفتیش اور 358 زیر سماعت ہیں. خواتین/لڑکیوں کے قتل کے 132مقدمات کا اندراج کیا گیا جس میں 174 گرفتاریاں ہوئیں، 87 کا چالان پیش کر دیا گیا،42 زیر تفتیش اور 75 زیر سماعت ہیں،خواتین/لڑکیوں پر تشدد پر128 مقدمات کا اندراج کیا گیا جس میں 136 گرفتاریاں کی گئیں، 72 کیسز میں چالان پیش کر دیا گیا 45 زیر تفتیش ہیں،اور 64 زیر سماعت ہیں.

    بچیوں سے زیادتی پر06 مقدمات کا اندراج کیا گیا جس میں 11 گرفتاریاں ہوئی، 4 کسیز کا چالان پیش کر دیا گیا، 1 زیر تفتیش اور 2 زیر سماعت ہیں،زبردستی شادی پر01 کیس کااندراج ہوا،ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا اور کیس کا چالان عدالت میں پیش کر دیا گیا ،تیزاب گردی پر03 مقدمات کا اندراج کر کے 2 ملزمان کو گرفتار کر کے کیس کا چالان پیش کر دیا گیا .اسٹوو سے برننگ ودیگر پر35مقدمات کا اندراج کا کیا گیا، جن میں 19 گرفتاریاں ہوئی، 22 کیس کا چالان ،5 زیر تفتیشن اور 23 زیر سماعت ہیں.

    خواتین سے زیادتی پر95 مقدمات کا اندراج کیا گیا، جس میں 92 گرفتاریاں ہوئیں، 42 کیسز کا چالان پیش کر دیا گیا، 40 زیر تفتیش ہیں،37 زیر سماعت ہیں ،اجتماعی زیادتی کے07 مقدمات کا اندراج کیا گیا جس میں 9 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، 4 کا چالان عدالت میں پیش کر دیا گیا،3 زیر تفتیش ہیں.

    کام کے مقامات پر جسمانی وجنسی ہراسگی پر35مقدمات کا اندراج کر کے 37 ملزمان کو گرفتار کیا گیا،15 کا چالان عدالت پیش کر دیا گیا،2 زیر تفتیش اور 14 زیر سماعت ہیں. اسکولز/مدارس/وغیرہ میں بچوں پر جسمانی تشدد پر06مقدمات کا اندراج کیا گیا جس میں 7 ملزمان کو گرفتار کیا گیا،

    مذہبی مقامات پر اقلیتوں پر تشددکے03 مقدمات کا اندراج کیا گیا، اور اس میں ملوث 4 ملزمان کو گرفتار کیا گیا،جبری مشقت پر06 مقدمات کا اندراج کر کے 19 میں سے 6 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، 3 کا چالان پیش کر دیا گیا،2 زیر تفتیش ہیں.

    چائلڈ لیبر پر02 مقدمات کا اندراج کر کے 7 ملزمان کو گرفتارکیا گیا،بچوں کے اغواء پر66 مقدمات کا اندراج کر کے 64 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جس میں سے 14 کیسز کا چالان پیش کر دیا گیا اور 41 زیر تفتیش، 17 زیر سماعت ہیں.

    بچوں سے زیادتی پر41 مقدمات کا اندراج کیا گیا، 58 ملزمان کو گرفتار کیا گیا،بچوں کی کم عمری میں شادی پر09 مقدمات کا اندراج کیا گیا، اور 19 ملزمان کو گرفتار کیا گیا.بچوں کے جنسی استحصال پر39مقدمات کا اندراج کیا گیا، 33 گرفتاریاں ہوئیں اور 26 کا چالان عدالت مین پیش کر دیا گیا،بچوں کے قتل پر دہشت گردی کے تحت01 کیس درج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا.

    فرقہ وارانہ تشدد کے 06 مقدمات کا اندراج کر کے 4 افراد کو گرفتار کیا گیا،

    سندھ حکومت کے آئی جی سندھ پر الزامات کے بعد کلیم امام بھی میدان میں آ گئے، کیا کہا؟

    آئی جی سندھ کے تبادلے پر وزیراعلیٰ سندھ نے دیا اسمبلی میں اہم بیان، کیا کہا؟

    سندھ حکومت کی خواہش رہی ادھوری، میں کہیں نہیں جا رہا، آئی جی سندھ نے کیا اعلان

    انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق مذکورہ مختلف النوعیت کے جرائم کی مجموعی تعداد گذشتہ ایک سال کے دوران 2093 مقدمات درج ہوئے، گرفتار ملزمان کی تعداد 2115 رہی

    اسی طرح چالان کیئے گئے مقدمات 735, ذیرتفتیش مقدمات 863, اورزیرسماعت مقدمات 749 تھے۔ علاوہ اذیں 53, 29 اور313 کیسز کو بالترتیب اے،بی اور سی کلاس اور16کیسز کو خارج کیا گی.

    وزیراعظم سے آئی جی سندھ کی ملاقات، کیا ہوئی بات؟ اہم خبر

  • فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی. سیشن جج جنوبی کراچی نے سماعت کی، ایس پی ساوتھ کی جانب سے رپورٹ عدالت میں جمع کرادی گئی .

    پولیس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ درخواست گزار نے مقدمہ کے اندراج کے لیے رابط نہیں کیا،عدالت نے ایس ایچ او میٹھادر کو درخواست گزار کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دے دیا ،عدالت نے حکم دیا کہ درخواست گزار کے بیان کے بعد اگر مقدمہ بنتا ہے تو درج کیا جائے

    عدالت نے قادر مندوخیل ایڈوکیٹ کی درخواست نمٹادی ،درخواست پپلزپارٹی رہنما قادر خان مندو خیل کی جانب سے دائر کی گئی ہے

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے 14 جنوری کو نجی ٹی وی چینل کے شو میں سینٹر جاوید عباسی کے خلاف غیر پارلیمانی گفتگو کی فیصل واوڈا نے شو کے دوران بوٹ اٹھا کر ٹیبل پر رکھا دیا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حق میں ووٹ دینا پر پپلزپارٹی پر بے بنیاد الزامات لگائے فیصل واوڈا نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی سیاسی سرگرمیوں کے پیچھے آرمی کا ہاتھ ہے .

    درخواست گزار نے مزید کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حق میں اپوزیشن نے دباو پر دیا ہے فیصل واوڈا نے پیمرا رولز کی خلاف ورزی کی اور آرمی کا تقدس پامال کیا ہے لہذا پولیس کو میرا بیان ریکارڈ کرنے اور فیصل واوڈا کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے

    واجح رہے کہ پولیس نے قادر مندوخیل کی درخواست پر فیصل واوڈا کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا تھا ،قادر خان مندوخیل نے فیصل واوڈا کے خلاف این اے 249 سے جنرل الیکشن میں حصہ لیا تھا

    فیصل واوڈا کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست بھی درخواست زیر سماعت ہے جس پر عدالت نے فریقین سے جواب طلب کر رکھا ہے، فیصل واوڈا کے خلاف الیکشن کمیشن اور لاہور کی سیشن کورٹ میں بھی درخواست زیر سماعت ہے.

    وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے خلاف کا نوٹس لیتے ہوئے ان پر ٹاک شوز میں شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    نواز شریف کے ساتھ کتنے میں ڈیل ہوئی؟ مریم نواز کو جانے دیا جائیگا یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    نواز شریف کی طبیعت کیسی؟ کہاں سے علاج کروانا چاہتے ہیں، مریم نے اظہار کر دیا

    نواز شریف کی جان خطرے میں ، مریم اورنگزیب کی حکومت کی منتیں

    نواز شریف کی بیماری، ڈاکٹر یاسمین راشد نے کیے اہم انکشافات

    اس حوالہ سے وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری پیغام میں بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر فیصل واوڈا سے نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں ان کے رویے پر وضاحت طلب کرتے ہوئے ان کی کسی بھی ٹاک شو پر آئندہ دو ہفتوں کیلئے شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    فیصل واوڈا جو بوٹ لے کر گئے وہ میرے بچوں کا ہے، خاتون کا سینیٹ میں دعویٰ

    واضح رہے کہ منگل کی رات 8 بجے براہ راست نشر ہونے والے پروگرام ’آف دی ریکارڈ‘ میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا اپنے ساتھ ایک بوٹ لے کر آئے تھے جو انہوں نے پروگرام کے دوران میز پر رکھ دیا تھا. فیصل واوڈ کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن اور بالخصوص مسلم لیگ ن نے لیٹ کر اس بُوٹ کو عزت دی ہے اور اس بُوٹ کو انہوں نے زبان سے چمکایا ہے. اس پروگرام میں شریک دیگر دو مہمان پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر جاوید عباسی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ احتجاجاً اٹھ کر چلے گئے تھے

  • سندھ میں صوبائی محتسب زرداری کا بہنوئی قبول نہیں، آئی جی نہیں چیف سیکرٹری کو جانا ہو گا، فردوس شمیم

    سندھ میں صوبائی محتسب زرداری کا بہنوئی قبول نہیں، آئی جی نہیں چیف سیکرٹری کو جانا ہو گا، فردوس شمیم

    سندھ میں صوبائی محتسب زرداری کا بہنوئی قبول نہیں، آئی جی نہیں چیف سیکرٹری کو جانا ہو گا، فردوس شمیم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ بارہا ہم کہہ چکے ہیں صوبائی فنانس کمیشن کے لیے ایک بل میں پراپرٹی ٹیکس وصولی کا اختیار اربن رورل ایریا کو دیئے جائیں گے ہم وفاق سے اس طرح کی قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہیں اگر پی ایف سی صوبہ نہیں دیتا تو وفاق یہ پیسے خود رکھ کر اضلاع کو تقسیم کرے.

    فردوس شمیم نقوی نے مزید کہا کہ سندھ میں جب بھی عہدوں کی بات ہوتی ہے تو تنازعہ کھڑا ہوجاتا ہے حکومت نہ اپوزیشن اور نہ مرکز سے بات کرنا پسند کرتی ہے پیر کے روز صوبائی محتسب کا خالی ہونے جارہا ہے اس عہدے کے ذمہ دار کو نیب سے استثنی حاصل ہوتا اور ایسا شخص لانے کی کوشش کیا جارہا ہے زرداری کے بہنوئی فضل اللہ پیچوہو کا نام سامنے آیا ہے ہم ایسا کوئی نام قبول نہیں کریم گے جس پر کرپشن کے الزام ہوں ایس شخص متعین ہوسکتا ہے جس کا کردار صاف ہو

    فردوس شمیم نقوی کا مزید کہنا تھا کہ حکومت سندھ کی کارکردگی بتائی جائے کیا کیا بھتر ہوا ہے نااہلی کی بات کی جائے تو دو لوگ ذمہ دار ہوتے ہیں ایک وزیر اعلی یا وزیر جو کچھ کرتے ہی نہیں دوسرا چیف سیکریٹری آئے دن سیکریٹری تبدیل کرتے رہتے ہیں اہم محکمے دیکھیں چیف سیکریٹری کی کمر میں ہڈی ہے ہی نہیں کیا افسر متعین ہی نہیں ہوتے تبدیلی کی ہوا چل رہی ہے تو زیر اعظم کے سامنے اس پر آواز اٹھائیں گے ہم سمجھتے ہیں اس چیف سیکریٹری کو جانا چاہیئے ،ایسا چیف سیکریٹری ہونا چاہیئے جس سے عوام کے مسائل حل ہوں.

    فردوس شمیم نقوی کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی محتسب شفاف کردار کا ہونا چاہیئے ،محتسب کا تقرر کا اختیار گورنر سے لے لیا گیا ،گورنر کے پاس یہ اختیار ٹیکنیکلی اب بھی ہے وہ شام تک تقرر کر سکتے ہیں، سندھ میں اب پیپلز پارٹی نہیں ہے تحریک انصاف ہے ہم ایسا عمل نہیں کریں گے ،ایسے جیسے پولیس افسر حکم نہ مانے تو صوبہ بدر کیا جائے ،ہم سعید غنی اور امتیاز شیخ کے لیے وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ سے ان کے خلاف انکوائری کا مطالبہ کرتے ہین

    فردوس شمیم نقوی کا مزید کہنا تھا کہ وفاق کا حق ہے کہ تین نام تجویز کرے وزیر اعلی ان میں سے ایک چنے اس کو کلی طور مانتے ہیں، وزیراعلٰی کو آئین کے تحت بل کے تحت آئی جی کو تین سال مقرر ہونا چاہیے یہ صرف سندھ نہیں تمام صوبوں کے لیے ہونا چاہیئے قانون تو یہ کہتا ہے اخلاقیات کے تحت پریس کانفرنس نہیں کی جاتی سعید غنی نے حق کا دعوی کیا ،گورنر سندھ ریاست کے نمائندے ہیں صدر کے نمائندے ہیں وزیر اعظم نے ان کو اتفاق رائے کے لیے کہا وہ اتفاق وفاق اور صوبے کے علاوہ جی ڈی اے، ایم کیو ایم اور ہم سے بھی اتفاق کرائے وہ یہ دکھا رہے ہیں کہ ان کو یہ قبول نہیں اور آئی جیوں سے نمبر بنائے جارہے ہیں یہ اصل میں گورنر کے ساتھ نہیں وزیر اعظم کے ساتھ زیادتی کی ہے