Baaghi TV

Category: کراچی

  • نجی ائیرلائن اور ایف آئی اے امیگریشن کو نوٹس جاری

    نجی ائیرلائن اور ایف آئی اے امیگریشن کو نوٹس جاری

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے شہری کو کراچی کے بجائے جدہ پہنچانے پر نجی ائیرلائن اور ایف آئی اے امیگریشن کو نوٹس جاری کردیا۔

    سندھ ہائیکورٹ میں نجی ائیرلائن کی جانب سے شہری کو کراچی کے بجائے جدہ لے جانے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، سماعت سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس ذوالفقار سانگی نےکی ،سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے درخواست گزار کے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی ہے، کیا ائیرلائن کے خلا ف کوئی انکوائری ہورہی ہے؟ اس پر وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ انکوائری کے معاملے کا علم نہیں ہے۔

    عدالت نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں ہمیں یہاں سے انصاف نہیں ملتا، ہم صبح سے کیسز کی سماعت کےلیے بیٹھتےہیں، 100، 100 کیسز روزسنتے ہیں، اس کے باوجود لوگ سمجھتے ہیں ان کے ساتھ انصاف نہیں ہورہا،بعد ازاں عدالت نے نجی ائیرلائن اور ایف آئی اے امیگریشن حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیا۔

    واضح رہے کہ 7 جولائی 2025 کو نجی ائیرلائن نے مسافر کو لاہور سے کراچی کے بجائے جدہ پہنچا دیا تھا۔

  • اداکارہ حمیرا اصغر قتل کیس ، نئے انکشافات، موت کے بعد موبائل فون استعمال ہوتا رہا

    اداکارہ حمیرا اصغر قتل کیس ، نئے انکشافات، موت کے بعد موبائل فون استعمال ہوتا رہا

    کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں معروف اداکارہ اور ماڈل حمیرا اصغر کے قتل کیس میں اداکارہ حمیرا اصغر قتل کیس سامنے آ گئے ہیں، جس نے کیس کو مزید پراسرار اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔

    اداکارہ کے قریبی دوست اور ہئیر اسٹائلسٹ دانش مقصود نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حمیرا کی موت کے بعد بھی ان کا موبائل فون استعمال کیا جاتا رہا، جبکہ واٹس ایپ اکاؤنٹ پر ڈی پی اور لاسٹ سین کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان کے فون تک کسی کو مسلسل رسائی حاصل تھی۔دانش مقصود کے مطابق 5 فروری 2025 تک حمیرا اصغر کے واٹس ایپ پر ڈی پی (پروفائل تصویر) اور لاسٹ سین نظر آ رہا تھا، حالانکہ ان کی موت اکتوبر 2024 میں ہو چکی تھی۔

    انہوں نے بتایا کہ واٹس ایپ پر لاسٹ سین کی آخری تاریخ 7 اکتوبر 2024 ہے، جبکہ ڈی پی 5 فروری 2025 کو تبدیل ہوئی، جو کہ موبائل کے فعال ہونے کا واضح ثبوت ہے۔دانش مقصود نے انکشاف کیا کہ 5 فروری کو انہوں نے حمیرا کی گمشدگی سے متعلق سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی، جس کے بعد حمیرا کی واٹس ایپ ڈی پی غائب ہو گئی اور لاسٹ سین بھی نظر آنا بند ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ "ڈی پی ہٹ جانا اور لاسٹ سین بند ہونا ممکن نہیں جب تک کوئی موبائل کو استعمال نہ کر رہا ہو”۔

    دانش مقصود کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے دستیاب تمام تفصیلات پولیس کو فراہم کر دی ہیں، اور امید ظاہر کی ہے کہ ان حقائق کی روشنی میں کیس میں پیش رفت ممکن ہو گی۔ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق، پولیس نے دانش مقصود سے رابطہ کر کے تمام دستیاب معلومات حاصل کر لی ہیں، اور ان معلومات کو تحقیقات کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اب کیس کی تفتیش کو ڈیجیٹل ڈیٹا کی روشنی میں مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

    یاد رہے کہ اداکارہ حمیرا اصغر کی پر اسرار موت کا واقعہ اکتوبر 2024 میں سامنے آیا تھا، جس پر ابتدا میں گمشدگی کا شبہ ظاہر کیا گیا، بعد ازاں یہ کیس قتل میں تبدیل ہوا۔نئے انکشافات سے کیس کے کئی پوشیدہ پہلو سامنے آنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

  • کراچی: شوہر کے ہاتھوں زندہ جلائی گئی رابعہ برنس وارڈ میں دم توڑ گئی

    کراچی: شوہر کے ہاتھوں زندہ جلائی گئی رابعہ برنس وارڈ میں دم توڑ گئی

    کراچی کے علاقے کورنگی مہران ٹاؤن میں گھریلو جھگڑے کے دوران شوہر کے ہاتھوں جھلسنے والی 23 سالہ رابعہ سول اسپتال کے برنس وارڈ میں دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئی۔

    رابعہ کے لواحقین کے مطابق 14 مارچ کو گھریلو تنازع پر شوہر وقاص نے مبینہ طور پر اسے آگ لگا دی تھی۔ واقعہ کے بعد رابعہ کو تشویشناک حالت میں سول اسپتال کے برنس سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں وہ کئی روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہی۔برنس سینٹر کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ رابعہ کے جسم کا 50 فیصد حصہ جھلس چکا تھا جبکہ چہرہ اور سینہ بری طرح متاثر ہوئے تھے، جس کے باعث اس کی حالت مسلسل تشویشناک رہی۔

    پولیس کے مطابق واقعے کے بعد شوہر وقاص کو فوری طور پر گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا تھا، اور اسے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ اب رابعہ کی موت کے بعد کیس میں قتل کی دفعہ بھی شامل کی جا رہی ہے تاکہ ملزم کو سخت سے سخت سزا دی جا سکے۔پوسٹ مارٹم اور دیگر قانونی کارروائی کے بعد رابعہ کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ گھریلو تشدد اور خواتین کے خلاف سنگین جرائم کی ایک اور ہولناک مثال ہے، جس نے شہریوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو شدید غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ رابعہ کو انصاف دلانے کے لیے کیس کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔

    کابل میں محسن نقوی اور سراج الدین حقانی کی اہم ملاقات

    تبت میں چین کے میگا ڈیم کا سنگِ بنیاد، بھارت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی

    پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کا قتل ،سیاسی و مذہبی رہنماؤں کا شدید ردعمل

  • کراچی میں حساس اداروں کی کارروائی، دوخطرناک دہشتگرد  ہلاک، تفصیلات آگئیں

    کراچی میں حساس اداروں کی کارروائی، دوخطرناک دہشتگرد ہلاک، تفصیلات آگئیں

    کراچی کے علاقے موچکو میں 17 جولائی کو کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور حساس اداروں کی مشترکہ کارروائی میں دو خطرناک دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے۔ کارروائی کے دوران خودکش جیکٹ، اسلحہ اور دیگر دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کر لیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق ہلاک دہشتگردوں میں سے ایک کی شناخت طاہر کے نام سے ہوئی ہے، جو بم اور خودکش جیکٹ تیار کرنے کا تربیت یافتہ ماہر تھا۔ سی ٹی ڈی حکام کے مطابق طاہر خیبرپختونخوا میں متعدد دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے اور اس کی گرفتاری پر کے پی حکومت کی جانب سے 20 لاکھ روپے انعام بھی مقرر کیا گیا تھا۔ طاہر کا تعلق کالعدم تنظیم فتنہ الخوارج سے بتایا گیا ہے۔سی ٹی ڈی انچارج کے مطابق دوسرے ہلاک ہونے والے دہشتگرد کا نام کاشف ہے، جس کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہوئے حیران کن انکشاف ہوا کہ وہ پہلے ہی افغانستان میں ہلاک ہو چکا ہے، تاہم اس کا قومی شناختی کارڈ پاکستان میں اب بھی استعمال کیا جا رہا تھا۔

    سی ٹی ڈی حکام نے کاشف کی فیملی سے رابطہ کیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ وہ بھی فتنہ الخوارج کا رکن تھا اور اس کی تدفین افغانستان میں کی گئی تھی۔ اس کے شناختی کارڈ کے پاکستان میں استعمال کی تحقیقات جاری ہیں، اور اس کی مکمل شناخت کے لیے دیگر صوبوں سے بھی مدد طلب کی گئی ہے۔ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ کارروائی انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی، جس میں دہشتگردوں کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا۔ کارروائی کے دوران دہشتگردوں کی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا گیا جس کے نتیجے میں دونوں مارے گئے۔ جائے وقوعہ سے ایک خودکش جیکٹ، دستی بم، خودساختہ دھماکہ خیز مواد اور جدید اسلحہ بھی برآمد ہوا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق کراچی میں دہشتگردی کی روک تھام کے لیے یہ کارروائی اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، جب کہ سی ٹی ڈی اور حساس ادارے دیگر ممکنہ سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے مزید چھاپے بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    آر ایس ایس سے منسلک کانوریوں کا بھارتی فوجی پر بہیمانہ تشدد، مودی حکومت خاموش

    بلوچستان میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کا سفاکانہ قتل، ویڈیو وائرل

  • کراچی کی کچی آبادیوں میں غیرقانونی بلند عمارتوں پرکے ایم سی متحرک

    کراچی کی کچی آبادیوں میں غیرقانونی بلند عمارتوں پرکے ایم سی متحرک

    کراچی شہر کی کچی آبادیوں میں بغیر منظوری کے بلند و بالا عمارتوں کی بھرمار پر بلدیہ عظمیٰ کراچی نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو فوری کارروائی کے لیے خط لکھ دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، کے ایم سی کی جانب سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو بھیجے گئے خط میں کچی آبادیوں میں غیرقانونی طور پر تعمیر کی گئی ہائی رائز بلڈنگز پر فوری ایکشن لینے کی درخواست کی گئی ہے۔ خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ان عمارتوں کا کوئی باقاعدہ نقشہ موجود نہیں، جس سے شہریوں کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔سینیئر ڈائریکٹر ے ایم سی کے مطابق صرف زمین کا قبضہ ریگولرائز کیا جا سکتا ہے، لیکن بغیر نقشے کے بلند عمارتیں تعمیر کرنا خطرناک اور غیرقانونی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمارتیں انسانی جانوں کے لیے براہ راست خطرہ بن چکی ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں گنجائش سے زیادہ تعمیرات کی جا چکی ہیں۔

    خط میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بلند عمارتوں کے نقشے کی منظوری دینا صرف سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا اختیار ہے، اس لیے ایسے تمام غیرقانونی منصوبوں کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی جائے۔ذرائع کے مطابق کے ایم سی نے اپنے افسران کو بھی ہدایت جاری کر دی ہے کہ وہ ان تعمیرات کی نشاندہی کریں تاکہ سندھ حکومت کی ہدایت پر شہر بھر میں خطرناک اور غیرقانونی عمارتوں کے خلاف یکساں کارروائی کی جا سکے۔

    سینیٹ انتخابات: ناراض امیدواروں کی ضد سے ہارس ٹریڈنگ کا خدشہ بڑھ گیا

    پاکستانیوں کی آن لائن شاہ خرچیاں: 2023 میں 10.42 ارب ڈالر خرچ

    پاکستانیوں کی آن لائن شاہ خرچیاں: 2023 میں 10.42 ارب ڈالر خرچ

  • پاکستانیوں کی آن لائن شاہ خرچیاں: 2023 میں 10.42 ارب ڈالر خرچ

    پاکستانیوں کی آن لائن شاہ خرچیاں: 2023 میں 10.42 ارب ڈالر خرچ

    ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی تازہ رپورٹ نے ای کامرس پر 10 ارب 42 کروڑ ڈالر خرچ کی 2023 میں ہونے والی آن لائن شاہ خرچیوں کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستانیوں نے ایک سال میں ای کامرس پر 10 ارب 42 کروڑ ڈالر خرچ کیے، جن میں الیکٹرانکس، ہوائی سفر، فیشن اور سبسکرپشن سروسز شامل ہیں۔ پاکستانی صارفین نے ای کامرس پر خرچ کیے گئے مجموعی رقم میں سے 5 ارب 45 کروڑ ڈالر مصنوعات پر جبکہ 4 ارب 38 کروڑ ڈالر خدمات پر صرف کیے۔ میڈیا سبسکرپشنز پر 59 کروڑ ڈالر خرچ کیے گئے، جو ڈیجیٹل مواد کی بڑھتی ہوئی طلب کو ظاہر کرتا ہے۔پاکستانیوں کی شاہ خرچیاں عروج پر رہیں۔ آن لان شاپنگ پر تھوڑے بہت نہیں، پورے 10 ارب 42 کروڑ ڈالر خرچ کر ڈالے۔

    ای کامرس پر خرچ کئے تقریباً ساڑھے 10 ارب ڈالر میں 5 ارب 45 کروڑ ڈالر کی منصوعات جبکہ 4 ارب 38 کروڑ ڈالر خدمات پر خرچ کیے گئے۔ سبسکرپشن میڈیا پر پاکستانیوں نے سال 2023 میں 59 کروڑ ڈالر خرچ کیے ہیں۔مصنوعات خریداری میں سرفہرست الیکٹرانکس مصنوعات رہیں، سال 2023 میں جن کی خریداری سوا 3 ارب ڈالر رہیں۔ فیشن پر ایک ارب 6 کروڑ ڈالر، بیوٹی مصنوعات پر 32 کروڑ ڈالر، تقریباً 17 کروڑ ڈالر کھانے پر، 11 کروڑ دواؤں پر خرچ کیے گئے۔

    خدمات خریداری میں میں 2 ارب 30 کروڑ ڈالر ہوائی جہاز کے ٹکٹ، ساڑھے 24 کروڑ ڈالر کے ٹرین ٹکٹ، پونے 29 کروڑ ڈالر کرائے کی گاڑیوں پر اور 69 کروڑ ڈالر ہوٹلز پر اور 62 کروڑ ڈالر پیکج ہالیڈے پر خرچ کیے ہیں۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان میں 90 فیصد سے زائد ای کامرس لین دین "کیش آن ڈیلیوری” (COD) پر ہوتا ہے، جس کی وجہ خریداروں کا مرچنٹس پر اعتماد نہ ہونا بتایا گیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈیجیٹل ادائیگیوں کا اعتماد بحال کیا جائے تو پاکستان کا ای کامرس سیکٹر مزید تیزی سے ترقی کر سکتا ہے، جس سے معیشت میں ڈیجیٹل انضمام کو فروغ ملے گا۔

    یہی وہ روشنی ہے

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو 32 ٹیموں تک وسعت دینے کی تجویز

  • کراچی: 43 رہائشی عمارتیں خطرناک قرار، ہزاروں مکین متاثر

    کراچی: 43 رہائشی عمارتیں خطرناک قرار، ہزاروں مکین متاثر

    شہر قائد کے علاقے گلستان جوہر میں 43 رہائشی عمارتوں کو خطرناک قرار دے دیا گیا ہے، ان عمارتوں میں سیکڑوں فلیٹس اور ہزاروں افراد اپنے اہل خانہ کے ہمراہ رہائش پذیر ہیں۔

    خطرناک قرار دی گئی عمارتیں گلستان جوہر کے مختلف بلاکس میں واقع ہیں۔ مکینوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ حکام کی جانب سے کسی فوری انخلاء یا متبادل رہائش کے اقدامات کے حوالے سے کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا۔اس حوالے سے چیئرمین ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) حسن بخشی کا کہنا ہے کہ رہائشی عمارتوں کی تکنیکی سروے رپورٹ آباد کو فراہم کی جائے تاکہ درست اور سائنسی بنیادوں پر جانچ ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی رپورٹس صرف اندازوں پر نہیں بلکہ ٹیکنیکل ٹولز کی مدد سے تیار کی جانی چاہئیں۔

    مکینوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اگر عمارتیں واقعی خطرناک ہیں تو فوری انخلاء کے ساتھ متبادل رہائش کا بندوبست کیا جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔یاد رہے کہ کراچی میں ناقص تعمیرات اور غیر معیاری بلڈنگ میٹریل کے باعث رہائشی عمارتوں کے گرنے کے متعدد واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں، جن میں جانی نقصان بھی ہوا ہے۔

    یاسمین بخاری سے ملاقات،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

  • کراچی،فش ہاربر میں ایکوا کلچر پارک قائم کرنے کا اعلان

    کراچی،فش ہاربر میں ایکوا کلچر پارک قائم کرنے کا اعلان

    وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کورنگی فش ہاربر میں 3 ارب روپے کی لاگت سے ایک جدید ’ایکوا کلچر پارک‘ کے قیام کا اعلان کر دیا، جس کا مقصد پاکستان کی بلیو اکانومی کو فروغ دینا اور سمندری خوراک کی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔

    کراچی میں وفاقی وزیر کی زیر صدارت بلیو اکانومی کے فروغ کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں گوادر پورٹ، کورنگی فش ہاربر، میرین فشریز اور بلوچستان چیمبر آف کامرس کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں 120 ایکڑ رقبے پر مشتمل ایکوا کلچر پارک کے قیام کا اعلان کیا گیا، جو عوامی و نجی شراکت داری (PPP) کے تحت تعمیر کیا جائے گا۔وفاقی وزیر جنید انور چوہدری کا کہنا تھا کہ ایکوا کلچر اور بندرگاہی انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساحلی پانی ایکوا کلچر کے لیے نہایت موزوں ہیں اور کراچی کے بعد بلوچستان میں بھی اس ماڈل کو وسعت دی جائے گی۔

    اس موقع پر انہوں نے کورنگی فش ہاربر اتھارٹی کو 10 روز کے اندر منصوبے سے متعلق تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت جاری کی۔وفاقی وزیر نے میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ کا سب آفس گوادر پورٹ اتھارٹی میں منتقل کرنے کا فیصلہ بھی کیا تاکہ ادارہ جاتی ہم آہنگی اور فیصلوں پر عمل درآمد کو مؤثر بنایا جا سکے۔

    ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف برآمدات بڑھانے میں مدد دے گا بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا، جو ساحلی معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    اسحاق ڈار امریکا روانہ، سلامتی کونسل اجلاس کی صدارت کریں گے

    پنجاب پولیس میں مینیول ڈاک سسٹم ختم، آن لائن رابطہ کاری شروع

    بھارت کی ایک اور ضد،ایشیا کپ 2025 کے بائیکاٹ کی دھمکی دے دی

  • مختلف شہروں میں  نئے ٹیکس قوانین کے خلاف تاجروں کی ہڑتال جاری

    مختلف شہروں میں نئے ٹیکس قوانین کے خلاف تاجروں کی ہڑتال جاری

    ملک کے مختلف شہروں میں ایف بی آر کے نئے ٹیکس قوانین کے خلاف تاجروں کی ہڑتال جاری ہے۔

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو کےاختیارات میں توسیع پر وفاقی حکومت نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس کے ساتھ کامیاب مذاکرات کرلیے تھے، تاہم کراچی اور لاہور چیمبرز کی جانب سے آج ہڑتال کی کال برقرار رکھی گئی تھی،تاجروں کی ہڑتال کے باعث کراچی، لاہور اور حیدرآباد میں کاروباری مراکز بند ہیں جب کہ کراچی میں بولٹن مارکیٹ اور الیکٹرانکس مارکیٹ سمیت مختلف چھوٹی بڑی مارکیٹیں بند ہیں۔

    ادھر حیدرآباد میں کلاتھ مارکیٹ، اناج منڈی، لوہا مارکیٹ، شاہی بازار، الیکٹرونکس مارکیٹ اور موبائل مارکیٹ بھی بند ہیں اسی طرح لاہور میں چیمبر آف کامرس کی اپیل پر شہر میں تاجر برادری نے ہڑتال کرتے ہوئے مال روڈ اور اس سے ملحقہ تمام مارکیٹیں بند کردیں،بادامی باغ آٹو پارٹس مارکیٹ اور لوہا مارکیٹ بھی بند ہے جب کہ صدر ریڈی میڈ گارمنٹس نے بھی آج تمام مارکیٹیں بند رکھنے کا اعلان کیا۔

    پاکستان کا حالیہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس گزشتہ 22 سال میں سب سے زیادہ ہے، وزیراعظم

    کراچی چیمبر کے صدر جاوید بلوانی نے جمعہ کی شب پریس کانفرنس میں ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ایک روزہ ہڑتال پرامن ہوگی، تاہم اگر حکومت نے تحریری طور پر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

    دوسری جانب پشاور اور دیگر شہروں میں مارکیٹیں اور بازار کھلے رہے، پشاور چیمبر نے آج کی ہڑتال مؤخر کرکے 15 اگست کی تاریخ دی تھی، تاجر برادری میں ملک گیر ہڑتال کے معاملے پر گہری تقسیم دیکھنے میں آئی ہے۔

    چکوال میں شدید بارشوں سے انفراسٹرکچر تباہ، شہری مشکلات میں

    واضح رہے کہ ایف بی آر کے اختیارات میں توسیع کے معاملے پر تاجروں میں اختلافات سامنے آئے تھے، ایف پی سی سی آئی نے ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا، جب کہ کراچی اور لاہور چیمبر نے ہڑتال کی کال برقرار رکھی تھی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اختیارات میں توسیع پر حکومت نے فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس کو قائل کرلیا تھا، لیکن بڑے چیمبرز کو رام نہیں کرسکی،تاجروں نے مطالبات تسلیم کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری نہ کرنے پر ہڑتالوں کا دائرہ وسیع کرنے کا انتباہ بھی کیا ہے۔

    امید ہے کہ سکس ریڈ ایونٹ میں ماسٹر ایونٹ سے بھی بہتر کھیل پیش ہوگا ،محمد آصف

  • ارمغان نے مصطفیٰ کو گاڑی میں آگ لگاکر قتل کرنے کا اعتراف کرلیا

    ارمغان نے مصطفیٰ کو گاڑی میں آگ لگاکر قتل کرنے کا اعتراف کرلیا

    کراچی: انسداد دہشتگردی عدالت نے مصطفیٰ عامرقتل کیس کا چالان منظور کرلیا۔

    کراچی کے علاقے ڈیفنس میں مصطفیٰ عامر قتل کی تحقیقات جاری ہیں اور کیس سماعت کے لیے ٹرائل کورٹ منتقل کردیا گیا ہے انسداد دہشتگردی عدالتوں کے منتظم جج نے کیس کا چالان منظور کرلیا جس میں کہا گیا ہےکہ ملزم ارمغان نے مصطفیٰ عامر کو تشدد کرکے زخمی اورگاڑی میں آگ لگا کرقتل کرنے کا اعترا ف کیا ہے۔

    خیال رہے مصطفی عامر قتل کیس سال 2025 کا ہائی پروفائل کیس ہیں ، پولیس نے بتایا کہ 6 جنوری 2025 مصطفیٰ عامر کو قتل کردیا گیا تھا، مصطفی عامر کے قتل کے الزام میں ارمغان اورشیرازگرفتار ہیں۔

    مرکزی مسلم لیگ کی بارشوں سے متاثرہ اضلاع میں تیسرے روز بھی امدادی سرگرمیاں جاری

    حب پولیس کی جانب سے بارہ جنوری کو مصطفی کی لاش لاوارث قرار دے کر ایدھی حکام کے حوالے کی گئی تھی تاہم بعد زاں مصطفی کی لاش سولہ جنوری کو کیماڑی ایدھی قبرستان میں دفن کردی گئی تھی، مصطفی کی لاش حب سے ملزمان کی نشاندہی پر برآمد کی گئی تھی، ملزمان نے مصطفیٰ عامر کو قتل کرنے کے بعد حب میں جاکر لاش جلا دی تھی دونوں ملزم پولیس اور میڈیا کے سامنے مصطفیٰ عامر کو قتل کرنے کا اعتراف بھی کرچکے ہیں تاہم دونوں ملزمان نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے بیان دینے سے انکار کر دیا تھا۔

    ارمغان نے تفتیش کے دوران قتل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خیابان محافظ سے دریجی تک مصطفیٰ کی گاڑی ڈرائیو کر کے پہنچا تھا، پھر مصطفیٰ کی گاڑی کو آگ لگائی تو وہ زندہ اور نیم بے ہوشی کی حالت میں تھا، اس نے مصطفیٰ عامر کو ہاتھوں اور پیروں پر مار کر زخمی کیا تھا، رائفل سے تین فائر کیے جو مصطفیٰ کو نہیں لگے، مصطفیٰ پر فائرنگ وارننگ دینے کے لیے کیے تھے بعد ازاں آگ لگادی۔

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر اور سیکرٹری کے مالی اخراجات کا مکمل ریکارڈ طلب

    ملزم شیراز نے انکشاف کیا تھا کہ ارمغان نے مصطفیٰ کو بہانے سے اپنے گھر بلایا، جہاں تین گھنٹے تک لوہے کی راڈ سے تشدد کیا گیا۔ بعد ازاں، مصطفیٰ کی لاش کو ان کی گاڑی میں ڈال کر حب کے قریب لے جایا گیا اور آگ لگا دی گئی۔

    واضح رہے کہ ڈیفنس کا رہائشی نوجوان مصطفیٰ عامر رواں سال 6 جنوری کو لاپتا ہوا تھا، جس کے بعد اس کی والدہ کی مدعیت میں پہلے گمشدگی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، بعد ازاں 25 جنوری کو تاوان کی کال موصول ہونے کے بعد اغوا برائے تاوان اور لاش کی نشاندہی ہونے پر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    پاک بنگلہ دیش ٹی ٹوئنٹی سیریز ، ٹرافی کی رونمائی کر دی گئی