Baaghi TV

Category: کراچی

  • صارم قتل کیس: مجرم اب تک کیوں نہیں پکڑا جاسکا ؟ اب تک کی پیش رفت

    صارم قتل کیس: مجرم اب تک کیوں نہیں پکڑا جاسکا ؟ اب تک کی پیش رفت

    صارم قتل کیس میں پولیس نے تفتیش کے دوران بچوں کے معلم کے کمرے سے ملنے والی چیزوں کے حوالے سے بڑا انکشاف کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پولیس کی جانب سے یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ بچوں کے معلم کے کمرے سے کچھ ادویات ملی ہیں اور فارنزک کے دوران موبائل سے نازیبا ویڈیوز بھی ملی ہیں، جو اس نے خود اپنے موبائل فون سے بنائی تھی۔دوسری جانب زیرحراست تمام افراد سے مستقل تفتیش کا عمل جاری ہے اور کوشش ہے جلد ڈی این اے رپورٹ ملے تو کیس فائنل کیا جائے گا۔

    کیس میں اب تک کی پیش رفت

    تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش کے دوران 200 سے زائد گھروں کو چیک کیا گیا، مشتبہ افراد کے ڈی این اے ہو چکے ہیں، کسی کا بھی نتیجہ نہیں آیا، ڈی این اے کے رزلٹ آنے میں مزید ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ 9 افراد ایسے ہیں جن پر زیادہ شک ہے، صارم قتل کیس پر چار ٹیمیں کام کر رہی ہیں، اے وی سی سی، سی پی ایل سی، ٹیم تفتیش کر رہی ہے۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی ویسٹ کی خصوصی ٹیم، ایس ایچ او کی ٹیم تفتیش میں مصروف ہے، رات گئے خصوصی ٹیم نے فلیٹس میں سرچنگ کی، مزید شواہد اکھٹا کرنے کی کوشش کی، ابھی تک کی تفتیش میں کسی باہر کے افراد کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

    واضح رہے کہ نارتھ کراچی میں 7 سالہ صارم کیس ڈی این اے اور فارنزک رزلٹ تاخیر کا شکارہوگیا ہے، پولیس حکام نے بتایا کہ فارنزک لیب کی جانب سے مزید وقت مانگ لیا گیا ہے۔ 7سالہ صارم کے قتل کی تحقیقات میں تفتیشی حکام پریشانی کا شکار ہیں۔تفتیشی حکام نے بتایا کہ پانی میں ڈوبے رہنے کے وجہ سے لاش خراب ہوگئی تھی اور لاش سے لیا جانے والا ڈی این اے بھی خراب ہوگیا تھا۔ ڈی این اے خراب ہونے کی وجہ سے میچنگ میں مشکلات کا سامناہے، اب تک قاتل کے پکڑے نہ جانے کی اہم وجہ بھی ڈی این اے کا میچ نہ ہونا ہے۔تفتیشی حکام نے کہا کہ ڈی این اے بہتر کرنے کیلئے خصوصی ماہرین کی خدمات لینے پر غور کررہے ہیں۔

    حکام نے مزید بتایا تھا کہ ڈی این اے کے علاوہ دیگر ٹیکنکل شواہدپرکام تیزکردیاگیاہے اور ہیومن انٹیلی جنس سمیت دیگر طریقوں سےکوشش جاری ہے۔اس سے قبل ایس ایس پی سینٹرل نارتھ کراچی میں صارم کے گھر پہنچ گئے، ایس ایس پی سینٹرل نے جائے وقوعہ کا ایک بار پھر دورہ کیا تھا۔پولیس حکام نے اہل خانہ سے ملاقات کی اور کیس کی پیش رفت سے آگاہ کیا، حکام نے بتایا تھا کہ صارم کیس میں تفتیش کےدوران اہم شواہد ملے ہیں، جلد ملزم کوگرفتار کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائیں گی۔

    خیال رہے صارم کے قاتل کی تلاش کے لئے تفتیش میں بڑے بریک تھرو کیلئے پولیس کو کیمیائی تجزیہ کی رپورٹ کا انتظار ہیں۔ خصوصی تفتیشی ٹیم نے مرحلہ وار تمام شواہد اکٹھا کرلئے، تفتیش میں پیشرفت فارنزک، کیمیائی تجزِیہ، ڈی این اے رپورٹ کے بعد ہوگی۔کیمیائی تجزیے کی رپورٹ کے بعد پولیس کوحتمی پوسٹمارٹم رپورٹ بھی موصول ہوگی ، شواہد کی فارنزک رپورٹس، حتمی پوسٹمارٹم رپورٹ کو ملا کر جائزہ لیاجائے گا۔پولیس حکام نے کہا کہ فرانزک رپورٹس کی بنیاد پر زیرحراست افراد سے ایک بار پھر پوچھ گچھ ہوگی۔

    یاد رہے 7سالہ صارم قتل کیس میں واقعاتی شواہد اور ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بہت کم مماثلت سامنے آئی تھی اور ٹیم کو ابتدائی پوسٹ مارٹم کے نکات غیر تسلی بخش ہونے کا شبہ ہے۔تحقیقاتی ذرائع نے بتایا تھا کہ میڈیکل لیگل آفیسر کو سوالا نامہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ، سوالنامہ ڈی این اے،کیمیکل ایگزامن رپورٹ آنے کے بعد بھیج دیا جائے گا۔تحقیقاتی ٹیم کو ٹینک سے صارم کی مدرسہ کی ٹوپی اورگیند بھی مل گئی، ٹیم کو ملنے والے اہم شواہد کوصارم کے والدین نےبھی شناخت کرلیا۔ذرائع نے مزید کہا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم نے ڈاکٹروں کا خصوصی میڈیکل بورڈ بنانے کیلئے اعلیٰ حکام کو مشورہ دیا۔تحقیقاتی ذرائع کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے ڈاکٹرز سے ملاقات کی تھی۔

    واقعے کیسے پیش آیا؟

    کراچی میں نارتھ کراچی کے علاقے میں 11 روز سے لاپتا 7 سالہ بچے صارم کی لاش گھر کے قریب زیرزمین پانی کے ٹینک سے برآمد ہوئی تھی، پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہے کہ بچے خود ٹینک میں گرا یا کسی نے اسے گرایا۔ 7 سالہ صارم 11 روز قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہوا تھا، پولیس اور اہلخانہ اس کی بازیابی کے لیے کوششیں کررہے تھے۔اہل علاقہ کے مطابق پانی کے وال مین نے بدبو آنے پر بچے کی لاش کی اطلاع یونین کو دی، ننھے صارم کی لاش زیرزمین ٹینک سے نکال لی گئی، یونین نے ٹینک کو گتے سے ڈھکا ہوا تھا اور کوئی احتیاطی تدبیر اختیار نہیں کی تھی، اس سے قبل پولیس نے ٹینک کو چیک کیا تھا تاہم اس وقت لاش کے شواہد نہیں ملے تھے۔اہل علاقہ نے بتایا بچے کی لاش 11 دن بعد ملی ہے لیکن لاش پرانی نہیں لگتی، بچہ جس وقت اغوا ہوا اس وقت بجلی نہیں تھی اور اب بھی بجلی نہیں ہے۔

    ایس پی انویسٹی گیشن سینٹرل کنور آصف کا کہنا ہے کہ ابھی کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہے، لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل ہوگا اس کے بعد ہی کچھ کہا جاسکتا ہے، اس معاملے میں تحقیقات کررہے کہ واقعہ حادثہ ہے یا بچے کو قتل کیا گیا ہے۔ایس پی نے مزید بتایا کہ بچہ جن کپڑوں میں لاپتہ ہوا تھا انہی کپڑوں اور جوتوں میں ملا ہے، لاش کی حالت اچھی نہیں ہے، جِلد اتر رہی ہے، پوسٹ مارٹم میں ڈاکٹر سے پوچھا ہے کہ لاش کتنی پرانی ہے، جسم پر تشدد کے نشانات ہیں یا نہیں، پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد حقائق سامنے آسکیں گے۔

    بچے کی لاش ملنے کے بعد والدین غم سے نڈھال ہیں اور فلیٹس کے مکین بھی افسردہ نظر آئے۔کرائم سین یونٹ نے جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کرلیے ہیںپولیس کے مطابق تحقیقات کی جارہی ہیں کہ بچہ حادثاتی طور پر ٹینک میں گرا یا کسی نے اسے گرایا،مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔واضح رہے کہ صارم کی گمشدگی کا معاملہ سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آیا تھا جس کے بعد گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بچے کے گھر جاکر والدین سے اظہار یکجہتی بھی کیا تھا۔

  • سندھ ہائیکورٹ کے12 نئے ایڈیشنل ججز نےعہدے کا حلف اٹھا لیا

    سندھ ہائیکورٹ کے12 نئے ایڈیشنل ججز نےعہدے کا حلف اٹھا لیا

    سندھ ہائیکورٹ کے 12 نئے ایڈیشنل ججز نےعہدے کا حلف اٹھا لیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق نئے ایڈیشنل ججز کی حلف برداری کی تقریب کا انعقاد سندھ ہائیکورٹ کے کمیٹی روم میں ہوا، حلف برداری کی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا،تقریب حلف برداری میں ججز کی فیملی بار کے عہدیداران سمیت وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس محمد شفیع صدیقی نے نئے ایڈیشنل ججز سے حلف لیا،نئے ایڈیشنل ججز میں جسٹس میراں محمد شاہ، جسٹس تسنیم سلطانہ، جسٹس ریاضت علی سحر ،جسٹس محمد حسن اکبر، جسٹس خالد حسین شاہانی، جسٹس عبدالحامد بھرگڑی اور سید فیاض الحسن شاہ، جسٹس جان علی جونیجو، نثار احمد بھمرو شامل ہیں جبکہ نئے ایڈیشنل ججز میں جسٹس علی حیدر (ادا)، محمد عثمان علی ہادی اور محمد جعفر رضا بھی شامل تھے۔نئے ایڈیشنل ججز کے حلف اٹھانے کے بعد سندھ ہائیکورٹ میں ججز کی تعداد 40 ہوگئی ہے۔

    ٖ چینی کمپنی کی پاکستان میں 340 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری

  • ٖ چینی کمپنی کی پاکستان میں 340 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری

    ٖ چینی کمپنی کی پاکستان میں 340 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری

    پاکستانی معیشت کے لئے اچھی خبر ،چینی گروپ نے پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ اور چارجنگ پلانٹس میں 340 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ کے توانائی کے وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت چینی کمپنی کو ہر قسم کی سہولت فراہم کرے گی،اگر چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں بناتی ہے تو سندھ حکومت کراچی میں لگنے والے پلانٹ سے 20 فیصد سے زائد گاڑیاں سندھ حکومت اپنی خریداری کے لے گی۔انہوں نے یہ بات مقامی ہوٹل میں تقریب کے چیئرمین ملک گروپ اورچائنا کی کمپنی اے ڈی این گروپ کے مشترکہ چارجنگ اسٹیشنزکے منصوبے کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں میڈیا سے گفتگو میں کہی۔اس موقع پر ملک گروپ کے چیئرمین ملک خدا بخش اور اے ڈی این گروپ کے سی ای او یاسر بھمبانی نے بھی اظہار خیال کیا جبکہ تقریب میں معروف سرمایہ کار عارف حبیب،ممتاز صنعتکار زبیرطفیل،خالدتواب،حنیف گوہر،عبدالسمیع خان،مظہر علی ناصر،مرزا اشتیاق بیگ،عبدالحسیب خان اوردیگر بھی موجود تھے۔
    ناصر حسین شاہ نے کہا کہ چارجنگ پلانٹس کے لئے بھی سندھ حکومت جگہ اور ہر قسم کی سہولت دینے کو تیار ہے۔

    صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت غیر ملکی کمپنی کو ملک میں سرمایہ کاری کو ہر قسم کی سہولت فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ چینی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان میں رواں سال کے اخر تک چھوٹی الیکٹرک گاڑیاں ،منی ٹرکس ،ایس یو ویز بنانے شروع کردیں گے، چینی کمپنی اگر مقامی طور پر بننے والی گاڑیوں کو رعایتی طور پر سندھ حکومت کو دے تو وہ سندھ حکومت کی لئے گاڑیوں کی خریداری کا بیس فیصد ان سے لے گی۔

    پاکستان میں چینی گروپ کے پارٹنر ملک خدا بخش نے کہا کہ چین سے 30 چارجنگ پلانٹس مزید دس روز میں پاکستان پہنچ جائیں گے جو پورے ملک میں لگنا شروع ہوجائیں گے ،،امید ہے کہ رواں سال کے اخر تک ہم ملک بھر میں الیکڑک چارجنگ پلانٹس مطلوبہ تعداد میں لگا لیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلا چارجنگ اسٹیشن کراچی میں لگا لیا ہے اوردوسرا چارجنگ اسٹیشنز جمعرات کو لاہور میں لگے گا۔

    اے ڈی این گروپ کے سی ای او یاسر بھمبانی نے کہا کہ دوسرا لاہور میں لگنے جارہا ہے ،ان کی کمپنی پاکستان میں 90 ملین یو ایس ڈالر کی سرمایہ کاری سے ملک بھر میں 3 ہزار چارجنگ اسٹیشن لگائے گی ،جبکہ 240 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے گاڑیوں کا مینوفیکچرنگ پلانٹ لگائے گی۔انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس سال کے اخر تک ملک بھر میں ایک ہزار چارجنگ اسٹیشنز لگ جائیں گے جس کے بعد دسمبر تک پاکستان میں الیکڑک گاڑیاں بننا شروع ہوجائیں گی۔چینی کمپنی نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ وہ پاکستان میں سالانہ 72 ہزار الیکڑک گاڑیاں مینوفیکچر کریں گے ،،ساتھ ہی وہ پاکستان سے ان گاڑیوں کو مڈل ایسٹ ،سری لنکا اور بنگلہ دیش بھی ایکسپورٹ کریںگے۔

    جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے روسی صدر کے قتل کی سازش کا انکشاف

  • میڈیا سے تعمیری اور مثبت معاشرتی بیانیہ تشکیل دے سکتے ہیں،شرجیل میمن

    میڈیا سے تعمیری اور مثبت معاشرتی بیانیہ تشکیل دے سکتے ہیں،شرجیل میمن

    کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت کنٹینٹ اور پروڈکشن اوور سائیٹ بورڈ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف پروڈکشن ہاؤسز نے امن، رواداری، سماجی ہم آہنگی اور ثقافتی ورثے کو فروغ دینے کے لیے اپنے خیالات پیش کیے۔ اجلاس میں سندھ حکومت کے اعلیٰ حکام اور میڈیا کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔

    اجلاس میں سیکریٹری اطلاعات ندیم الرحمان میمن، ڈی جی اطلاعات سلیم خان، ڈائریکٹر فلمز حزب اللہ میمن، سارنگ لطیف چانڈیو کے علاوہ بورڈ کے ممبران قاضی اسد عابد، وردہ سلیم، اذان سمیع خان، نمرہ ملک اور حسن اصغر نقوی بھی موجود تھے۔اجلاس میں انتہا پسندی اور منفی عناصر کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک تعمیری بیانیہ کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ شرجیل انعام میمن نے اجلاس کے دوران کہا کہ "میڈیا انڈسٹری کا ایک طاقتور کردار ہے جس سے ہم ایک تعمیری اور مثبت معاشرتی بیانیہ تشکیل دے سکتے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں مؤثر اور ذمہ دارانہ مواد کی تخلیق کے ذریعے شدت پسندانہ بیانیے اور منفی خیالات کا فعال طور پر مقابلہ کرنا ہے۔” شرجیل انعام میمن نے یہ بھی کہا کہ "ہمارا مقصد سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرہ بننے والے تفرقہ انگیز عناصر کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے اتحاد، حب الوطنی اور ثقافتی بیداری کو فروغ دینا ہے۔”انہوں نے اجلاس کے شرکاء کو سندھ کے ثقافتی تنوع اور ورثے کو فلموں، ڈراموں اور ڈیجیٹل مواد کے ذریعے اجاگر کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ "سندھ کی ثقافتی وراثت کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے ہمیں فلموں اور دیگر مواد کے ذریعے اس کو نمایاں کرنا چاہیے۔”

    آخر میں شرجیل انعام میمن نے یہ بھی کہا کہ سندھ حکومت کا مقصد مثبت پیغام رسانی کے فروغ کے لیے میڈیا ہاؤسز، فلم سازوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا ہے۔ اس طرح کے اقدامات نہ صرف سندھ کی ثقافتی شان کو اجاگر کریں گے بلکہ ایک مثبت اور ترقی پسند معاشرتی ماحول کی تشکیل میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔

    ایئر انڈیا کے مسافر طیارے کی جانب سے ہائی جیکنگ کا سگنل،بھارت میں ریڈ الرٹ

    بھارت،کمبھ میلے میں بھگدڑ،40 افراد ہلاک ، متعدد زخمی

    مفت بجلی کا فی سرکاری ملازم کا خرچہ 6 ہزار روپے ہے،وزیر توانائی

  • عدالتوں کو ہی انصاف کی فراہمی کا واحد ذمہ دار نہیں سمجھنا چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ

    عدالتوں کو ہی انصاف کی فراہمی کا واحد ذمہ دار نہیں سمجھنا چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ

    کراچی: سپریم کورٹ کے سینئیر جج جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالتوں کو ہی انصاف کی فراہمی کا واحد ذمہ دار نہیں سمجھنا چاہیئے ، پاکستان میں انصاف کی فراہمی میں تاخٰر سے نمٹنے کیلئے ایک متبادل حل کی ضرورت ہے۔

    باغی ٹی و ی: سپریم کورٹ کے سینئیر جج جسٹس منصور علی شاہ نے کراچی میں انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) میں تنازعات کے متبادل حل کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں تنازعات کے متبادل حل کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں ملک میں انصاف کی فراہمی، عدالتی نظام میں تاخیر، اور تنازعات کے متبادل حل پر تفصیلی گفتگو کی۔

    انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت 24 لاکھ کیسز زیر التوا ہیں، جن میں سے 86 فیصد کیسز ضلعی عدالتوں میں ہیں، ملک میں ایسا رجحان عام ہے کہ جب بھی کسی کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے، وہ فوراً عدالت سے رجوع کرلیتا ہے اور اسٹے آرڈر حاصل کرلیتا ہے، جس سے عدالتی نظام پر دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس، مشعال یوسفزئی کے عدالت داخلے پر پابندی

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عوام کو آگاہی دینا ضروری ہے کہ عدالتوں کے علاوہ بھی ثالثی (Mediation) اور مصالحت کے ذریعے تنازعات حل کیے جا سکتے ہیں تنازعات کے حل کے لیے فوری طور پر عدالت آنے کے بجائے پہلے ثالثی کی کوشش کرنی چاہیے اور اگر یہ طریقہ کارگر نہ ہو، تب عدالت کا رخ کرنا چاہیے دنیا میں اوسطاً 90 ججز فی ملین افراد کے لیے موجود ہیں، جبکہ پاکستان میں یہ تعداد صرف 13 ججز فی ملین ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے عدالتی نظام پر کس قدر دباؤ ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالتوں پر مقدمات کی بھرمار ہونے کے باعث معمولی نوعیت کے کیسز بھی تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں ، جس سے سائلین کو بروقت انصاف نہیں مل پاتا لاہور سمیت دیگر شہروں میں بھی فیملی اور سول سروس سے متعلق معاملات تاخیر کا شکار ہیں عدالتی نظام میں بہتری لانے کے لیے ضروری ہے کہ متبادل تنازعاتی حل کے ادارے قائم کیے جائیں تاکہ صلح اور مصا لحت کی روایت کو فروغ دیا جا سکے۔

    ملک بھر میں انسداد اسمگلنگ آپریشنز جاری، کروڑوں روپے مالیت کی منشیات برآمد

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر ہر شخص عدالت سے اسٹے آرڈر لے گا تو ملک کی معیشت کیسے چلے گی؟ ان کے مطابق، حکم امتناع اور ضمانتوں پر انحصار کر کے قومیں ترقی نہیں کرتیں، بلکہ انہیں دیرپا اور مؤثر انصاف کی فراہمی کے لیے منظم عدالتی نظام تشکیل دینا ہوتا ہے،عدالتوں میں وکلاء کی ہڑتالیں اور تاخیری حربے انصاف میں تاخیر کا سبب بنتے ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے زور دیا کہ عدالتوں کو ہی انصاف کی فراہمی کا واحد ذمہ دار نہیں سمجھنا چاہیے انصاف کی بروقت اور مؤثر فرا ہمی کے لیے ضروری ہےکہ میڈیئشن، آربٹریشن اور دیگر متبادل طریقے اپنائےجائیں، تاکہ عدالتوں پر بوجھ کم ہو اور عوام کو جلد انصاف مل سکے، ثالثی اور مصالحتی نظام کو فروغ دینے سے عدالتی نظام میں بہتری آئے گی اور عوام کو غیر ضروری قانونی پیچیدگیوں سے نجات ملے گی۔

    مفت بجلی کا فی سرکاری ملازم کا خرچہ 6 ہزار روپے ہے،وزیر توانائی

    تقریب سے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جواد حسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں تنازعات کے متبادل حل کا باضابطہ قانون موجود ہے پاکستان دنیا کے تین ممالک میں شامل ہے جہاں ثالثی کے حوالے سے عدالتی احکامات جاری کیے جا چکے ہیں، جو کہ تنازعات کے جلد اور مؤثر حل کے لیے اہم پیشرفت ہے دنیا بھر میں ثالثی عموماً رضاکارانہ بنیادو ں پر کی جاتی ہے، اور پاکستان میں بھی اس رجحان کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

    جسٹس جواد حسن نے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے تنازعات کے متبادل حل پر اپنی تفصیلی تحقیق اور عدالتی فیصلوں پر روشنی ڈالی ہے ثالثی کو فروغ دے کر عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے اور سائلین کو جلد اور مؤثر انصاف فراہم کیا جا سکتا ہے آئین کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات ملک کی تمام ماتحت عدالتوں پر لاگو ہوتے ہیں، لہٰذا ثالثی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تمام عدالتی سطحوں پر اس کے فروغ کی ضرورت ہے۔

    امریکا کے جدید ترین فائٹر جیٹ ایف 35 کو خوفناک حادثہ،پائلٹ محفوظ

    جسٹس جواد حسن نے زور دیا کہ پاکستانی عدالتوں کو چاہیے کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو غیر ضروری قانونی کارروائیوں سے بچاتے ہوئے ثالثی کے عمل کے ذریعے ان کا اعتماد بحال کریں اس طریقے سے کاروباری برادری اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے۔

    سیمینار کے دوران ماہرین قانون نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تنازعات کے متبادل حل کے طریقے جیسے کہ ثالثی، مصالحت اور آربٹریشن (Arbitration) کو زیادہ فعال بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ عدالتی نظام پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کیا جا سکے اور عوام کو فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

    سیکیورٹی فورسز نے قلعہ عبداللہ میں چوکی پر حملے کی کوشش ناکام بنادی، پانچوں دہشتگرد ہلاک

  • پاکستانی نوجوان کی محبت میں کراچی آنے والی امریکی خاتون کا  ائرپورٹ پر ہنگامہ

    پاکستانی نوجوان کی محبت میں کراچی آنے والی امریکی خاتون کا ائرپورٹ پر ہنگامہ

    کراچی: ایک امریکی خاتون نے پاکستانی نوجوان سے محبت کی خاطر امریکا سے کراچی آنے کے بعد، واپس جانے سے انکار کر دیا اور ائرپورٹ پر ہنگامہ آرائی شروع کر دی، جس کی وجہ سے حکام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    امریکی خاتون، جس کا نام اونیجا اینڈریو رابنس ہے، 11 اکتوبر 2024 کو کراچی پہنچی تھی۔ ذرائع کے مطابق، اس نے کراچی کے علاقے گارڈن ویسٹ کے 19 سالہ نوجوان ندال میمن سے سوشل میڈیا کے ذریعے تعلق قائم کیا تھا اور دونوں میں محبت ہوگئی تھی۔ یہ محبت ایسی تھی کہ خاتون اپنے دو بچوں کے ساتھ کراچی آ گئیں، تاہم نوجوان کی طرف سے شادی کی پیشکش کے باوجود، اس کے خاندان نے انکار کر دیا۔

    امریکی خاتون کی آمد کے بعد، جب اس کے واپس امریکا جانے کا وقت آیا تو وہ واپس جانے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون نے پہلے امیگریشن کی کارروائی کرنے سے انکار کیا اور پھر ڈیپارچر لاؤنج میں جہاز میں سوار ہونے سے بھی گریز کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ خاتون نے کئی حیلے بہانے کیے اور واپس امریکا جانے کی کوشش سے بچنے کی کوشش کی۔

    کراچی ائرپورٹ پر موجود پولیس اور ایئرپورٹ سکیورٹی فورسز نے خاتون کو انضباطی کارروائی کے تحت حفاظتی تحویل میں لیا اور ڈیپارچر لاؤنج تک پہنچایا۔ اس کے باوجود، خاتون مسلسل جہاز میں سوار ہونے سے انکاری رہی۔ ایئرلائن ذرائع نے بتایا کہ خاتون کو پرواز میں سوار کرانے کے لیے ایئرپورٹ سٹاف اور حکام نے کوششیں کیں، جس کی وجہ سے پرواز میں 36 منٹ کی تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مزید بتایا کہ سکیورٹی ایس او پیز کے مطابق مسافر کو زبردستی پرواز میں سوار نہیں کرایا جا سکتا تھا۔ اس صورت حال میں خاتون کو آخرکار قطر ائر کی 10 بجے کی پرواز پر واپس بھیجنے کا انتظام کیا گیا۔ تاہم، خاتون نے واپس جانے سے انکار کیا اور پرواز تقریباً ساڑھے 10 بجے روانہ ہوئی۔

    اس کے علاوہ، امریکی قونصل خانے سے بھی پولیس نے رابطہ کیا تھا تاکہ خاتون کو واپس بھیجا جا سکے، مگر قونصل خانے نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

    واضح رہے کہ خاتون کے پاکستان آنے کی وجہ پاکستانی نوجوان سے محبت تھی، مگر اس کے خاندان نے اس شادی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ وزارت داخلہ نے خاتون کے لیے ٹکٹ کا انتظام کیا تھا تاکہ وہ واپس امریکا جا سکے،

    اوور بلنگ،نیب نے لیسکو حکام کو طلب کر لیا

    پیکا ایکٹ،صحافیوں کی درخواست پر مولانا کا صدر مملکت سے رابطہ،صدر کی یقین دہانی

  • سندھ ہائیکورٹ کا بھکاریوں ،خواجہ سراؤں کے خلاف کارروائی کا حکم

    سندھ ہائیکورٹ کا بھکاریوں ،خواجہ سراؤں کے خلاف کارروائی کا حکم

    سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے شہر بھر کے ٹریفک سگنلز پر بھکاریوں اور خواجہ سراؤں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے پولیس کو سخت احکامات جاری کر دیے ہیں۔ یہ حکم عدالت میں دائر ایک درخواست پر سنایا گیا جس میں ٹریفک سگنلز پر بھیک مانگنے والے افراد کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

    عدالتی حکم میں کہا گیا کہ شہر کے کسی بھی سگنل پر خواجہ سرا، مرد، خواتین یا بچے نہیں ہونے چاہئیں۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ ٹریفک سگنلز پر بھیک مانگنے والے افراد نہ صرف شہریوں کو پریشان کرتے ہیں بلکہ انہیں ہراساں بھی کرتے ہیں۔ اس پر فوری طور پر پولیس کو حکم دیا گیا کہ وہ ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرے جو شہریوں کو ذہنی اذیت کا سامنا کروا رہے ہیں۔عدالت نے اپنے حکم میں مزید کہا کہ بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کی طرف سے شہریوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ یہ فیصلہ شہر میں عوامی سہولت کو بہتر بنانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

    پولیس کو تاکید کی گئی کہ وہ اس سلسلے میں متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کرے اور ایسے افراد کو قانون کے دائرے میں لائے۔ اس حکم کے بعد پولیس نے کارروائی شروع کر دی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ ٹریفک سگنلز پر بھیک مانگنے والوں کی تعداد میں کمی واقع ہوگی، جس سے شہریوں کو راحت ملے گی۔

    کرم میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کا مسئلہ برقرار

  • اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے ریٹ 281 روپے سے نیچے آگئے

    اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے ریٹ 281 روپے سے نیچے آگئے

    انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں اضافہ اور اوپن مارکیٹ میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق شرح سود میں مرحلہ وار کمی سے معیشت میں میں طلب بڑھنے، ماہوار درآمدات 5ارب ڈالر سے بڑھنے کی پیش گوئی جیسے عوامل کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں منگل کو بھی ڈالر کی پیش قدمی برقرار رہی،اس کے برعکس اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا جس سے ڈالر کے اوپن ریٹ 281روپے سے نیچے آگئے۔اس طرح سے انٹربینک اور اوپن مارکیٹ ایک دوسرے کی مخالف سمت پر گامزن رہیں۔انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری دورانیے کے دوران ڈالر کی قدر ایک موقع پر 12پیسے کی کمی سے 278روپے 71پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی۔

    کاروباری دورانیے کے وسط میں بیرونی ادائیگیوں کے دبا اور ذخائر مستحکم رکھنے کی غرض سے متعلقہ ریگولیٹر کی طلب بڑھنے، درآمدی ضروریات کے لیے خریداری سرگرمیاں بڑھنے سے انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر نے یوٹرن لیا اور پیش قدمی شروع ہوئی جس کے نتیجے میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 09پیسے کے مزید اضافے سے 278روپے 92پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔ اس کے برعکس اوپن کرنسی مارکیٹ میں سپلائی کے مقابلے میں ڈیمانڈ محدود ہونے سے ڈالر کی قدر 13پیسے کی کمی سے 280روپے 91پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

    کراچی،لڑکی کی نازیبا تصاویر، ملزم کو 6 سال قید کی سزا

    امریکی صدارتی ناشتے میں شرکت ،بلاول اچانک واپس

    میری خالد مقبول سے کوئی لڑائی نہیں، مصطفی کمال کا موقف

    تحریک انصاف اور جے یو آئی(ف) میں رابطے،کمیٹی قائم

    مائیکروسافٹ کا ٹک ٹاک خریدنے میں دلچسپی کا اظہار

  • کراچی،لڑکی کی نازیبا تصاویر، ملزم کو 6 سال قید کی سزا

    کراچی،لڑکی کی نازیبا تصاویر، ملزم کو 6 سال قید کی سزا

    لڑکی کی نازیبا تصاویر اس کے منگیتر کو بھیجنے پر ملزم انس کو 6 سال قید کی سزا سنادی گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے لڑکی کی نازیبا تصاویر اس کے منگیتر کو بھیجنے کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر عدالت نے سزا سنائی۔جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے 6 سال قید کے ساتھ 90 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔متاثرہ لڑکی کا موقف تھا کہ ملزم انس سے 4 سال تعلقات رہے، تعلقات کے دوران مطالبے پر نازیبا تصویریں سینڈ کی تھیں، گھر والوں نے میرا رشتہ کہیں اور کیا تو ملزم نے تصاویر منگیتر کو بھیج دیں۔پراسکیویشن کے مطابق ایف آئی اے نے شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو ستمبر 2021 میں کورنگی سے گرفتار کیا تھا۔

    میری خالد مقبول سے کوئی لڑائی نہیں، مصطفی کمال کا موقف

    تحریک انصاف اور جے یو آئی(ف) میں رابطے،کمیٹی قائم

    مائیکروسافٹ کا ٹک ٹاک خریدنے میں دلچسپی کا اظہار

    مائیکروسافٹ کا ٹک ٹاک خریدنے میں دلچسپی کا اظہار

  • امریکی صدارتی ناشتے میں شرکت ،بلاول اچانک واپس

    امریکی صدارتی ناشتے میں شرکت ،بلاول اچانک واپس

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی ناشتے میں شرکت کے لیے روانگی کے لیے کراچی ائیرپورٹ پہنچنے کے بعد اچانک واپس بلاول ہاؤس روانہ ہوگئے۔

    باغی ٹی وی کو ذرائع نے بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری کو امریکا جانے کے لیے بذریعہ دبئی روانہ ہونا تھا اور اس کے لیے بلاول بھٹو زرداری اور ان کے سیکیورٹی اسٹاف کی بورڈنگ بھی ہوچکی تھی۔ بلاول بھٹو زرداری نے دبئی جانے کا پروگرام اچانک ملتوی کردیا ہے اور وہ ائیرپورٹ سے واپس بلاول ہاؤس پہنچ گئے۔قبل ازیں ذرائع نے بتایا تھا کہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری امریکا روانہ ہوگئے اور وہ براستہ دبئی وہاں پہنچیں گے اور وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی ناشتے میں شرکت کریں گے۔

    پی پی پی ذرائع نے بتایا تھا کہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کراچی میں اپنے گھر بلاول ہاؤس سے دورہ امریکا کے لیے روانہ ہوگئے ہیں اور دبئی میں قیام کے بعد امریکا روانہ ہوں گے۔ بلاول بھٹو زرداری خصوصی دعوت پر امریکا کے لیے روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی ناشتے میں شرکت کریں گے۔تاہم اب ذرائع نے بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری نے دبئی جانے کا اپنا پروگرام ملتوی کردیا ہے تاہم واضح نہیں ہے کہ وہ امریکا جائیں گے یا ٹرمپ کے صدارتی ناشتے میں شرکت نہیں کریں گے۔

    میری خالد مقبول سے کوئی لڑائی نہیں، مصطفی کمال کا موقف

    تحریک انصاف اور جے یو آئی(ف) میں رابطے،کمیٹی قائم

    مائیکروسافٹ کا ٹک ٹاک خریدنے میں دلچسپی کا اظہار

    سونے کی فی تولہ قیمت میں 2700روپے کمی