سندھ کابینہ نے سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے معاوضے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں سانحہ گل پلازہ کی وجوہات، ریسکیو اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کے لیے ایک سب کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی، جو کمشنر کراچی کی انکوائری رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لے گی اور ذمہ داران کے خلاف مزید کارروائی سے متعلق سفارشات پیش کرے گی۔
ذرائع کے مطابق قائم کی گئی سب کمیٹی میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ، سعید غنی اور وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار شامل ہوں گے۔ کمیٹی آئندہ چند روز میں اپنی سفارشات وزیراعلیٰ کو پیش کرے گی۔
کابینہ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی ادائیگی کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ لواحقین کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ متاثرین کی مالی معاونت میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
واضح رہے کہ گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، جس پر صوبے بھر میں شدید غم و غصے اور تشویش کا اظہار کیا گیا۔ حکومتِ سندھ کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔
Category: کراچی

سندھ کابینہ کی گل پلازہ کے شہداء کے لواحقین کو ایک کروڑ معاوضے کی منظوری

جماعت اسلامی کا یکم فروری کو “جینے دو کراچی” مارچ کا اعلان
جماعت اسلامی نے کراچی کے مسائل کے خلاف یکم فروری کو “جینے دو کراچی” مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے سانحہ گل پلازہ پر شدید ردعمل دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ گل پلازہ کا سانحہ صوبائی حکومت کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے المناک واقعات کے بعد بھی سندھ حکومت سنجیدہ اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے، اس لیے وزیراعلیٰ سندھ کو اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے عہدے سے الگ ہو جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہر بڑے حادثے کے بعد پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان الزام تراشی اور نام نہاد سیاسی کشمکش شروع ہو جاتی ہے، لیکن اس کا خمیازہ ہمیشہ کراچی کے عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان کے مطابق کراچی کے مسائل کا حل نہ وفاق کے کنٹرول میں ہے اور نہ صوبائی اختیارات میں، بلکہ اس کا واحد حل ایک بااختیار اور خودمختار سٹی گورنمنٹ کا قیام ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ گل پلازہ میں آگ لگنے کے باوجود آگ بجھانے کا مؤثر انتظام موجود نہیں تھا، جو انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے کے بعد متاثرہ افراد اور شہری شدید بے بسی کا شکار ہیں، جبکہ حکمران طبقہ اپنی ذمہ داریوں سے مسلسل فرار اختیار کر رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی کے عوام پر کرپٹ اور نااہل حکمران مسلط کیے گئے ہیں، جو شہر کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں بھی ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ “جینے دو کراچی” مارچ کے ذریعے عوام کی آواز حکمرانوں تک پہنچائی جائے گی اور کراچی کے حق کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
ایم کیو ایم کی سیاست مردہ اور دفن ہوچکی،شرجیل میمن
شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم سے کوئی سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی، ایم کیو ایم کی سیاست مردہ اور دفن ہوچکی، ایم کیو ایم کو عوام مسترد کرچکے ہیں۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کیلئے امداد کی منظوری دے دی، انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں، دکانداروں کو متبادل جگہ دینے کی منظوری بھی دے دی گئی۔ان کا کہنا ہے کہ تمام عمارتوں میں فائر سیفٹی پر عملدرآمد کرائیں گے، حکومت سختی نہیں بلکہ عوام کا تحفظ کررہی ہے، سندھ حکومت تاجر برادری کو اکیلا نہیں چھوڑے گی، حکومت گل پلازہ کے متاثرین کے نقصان کا ازالہ کرے گی، وزیراعلیٰ سندھ کی قائم کردہ کمیٹی انکوائری کررہی ہے، سانحہ گل پلازہ سے اب تک وزیراعلیٰ ایک دن بھی آرام سے نہیں بیٹھے۔
شرجیل میمن نے مزید کہا کہ سانحہ گل پلازہ پر کچھ جماعتیں منفی سیاست کررہی ہیں، کبھی کہا گیا کراچی کو وفاق کے حوالے کردو، کبھی کہا گیا 18ویں ترمیم کو ختم کرو۔سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ ایم کیو ایم سے کوئی سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی، خالد مقبول صدیقی کو 10 سپاہی دیئے ہوئے ہیں، مصطفیٰ کمال کے پاس زیادہ سیکیورٹی موجود ہے، ایم کیو ایم کی سیاست مردہ اور دفن ہوچکی ہے، ایم کیو ایم نے بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیار کی، ایم کیو ایم کو عوام مسترد کرچکے ہیں۔

سندھ حکومت نے ایم کیو ایم رہنماؤں کو سیکیورٹی واپس کر دی
کراچی:محکمہ داخلہ سندھ نے ایم کیو ایم رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس کر دی۔
ذرائع کے مطابق خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور انیس قائم خانی کی سیکیورٹی واپس کر دی گئی،وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ایم کیو ایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول صدیقی اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں، کسی بھی سیاسی شخصیت کی سیکیورٹی واپس لینے سے متعلق کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔

ترجمان سندھ حکومت کی ایم کیو ایم وزراء کی سیکیورٹی واپس لینے کے دعوے کی تردید
ترجمان سندھ حکومت نے ایم کیو ایم وزراء کی سیکیورٹی واپس لینے کے دعوے کی تردید کردی۔
سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پھر جھوٹے بیانیے اور منفی پروپیگنڈے پر اتر آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کسی وزیر یا رہنماء سے سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی، جو افراد سیکیورٹی کے مجاز ہیں، ان کے پاس مکمل سیکیورٹی موجود ہے۔سعدیہ جاوید کا مزید کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے سیکیورٹی کے حوالے سے بے بنیاد الزامات محض سیاسی پروپیگنڈا ہیں۔
دوسری جانب آئی جی سندھ جاوید عالم نے وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال اور ڈاکٹر خالد مقبول کی سیکیورٹی واپس لینے پر لاعلمی کا اظہار کر دیا،پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات سے اسلام آباد میں ہوں، واپس جاکر دیکھوں گا۔ دونوں وزراء کو کوتھریٹ اسیسمنٹ کمیٹی کی سفارش پر سیکیورٹی دی ہے، لوگوں سے درخواست ہے کہ کسی کے جھانسے میں نہ آئیں، لوگوں کو کچے اور کشمیر سے مرد حضرات لڑکیوں کی آواز میں کال کر کے پھنساتے ہیں،مرد ڈاکوؤں کی جانب سے سستے داموں گاڑیاں اور ٹریکٹر خرید کر دینے کا جھانسا دیا جاتا ہے، جب سے عہدہ سنبھالا تب سے ان عناصر کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

نئے ڈیزائن کے بینک نوٹس کی چھپائی کا عمل کافی آگے بڑھ چکا ہے، اسٹیٹ بینک
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد دو سے تین مختلف مالیت کے نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس کی چھپائی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔
اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے پیر کو مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے کرنسی نوٹس کی تیاری کا عمل آخری مراحل میں ہے اور کابینہ کی منظوری ملتے ہی چھپائی شروع کر دی جائے گی “نئے ڈیزائن کے بینک نوٹس کی چھپائی کا عمل کافی آگے بڑھ چکا ہے، کابینہ کی منظوری کے بعد جلد چھپائی شروع کر دی جائے گی، اور دو سے تین مختلف مالیت کے نوٹس بیک وقت چھاپے جائیں گے۔”
جمیل احمد نے کہا کہ نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس فوری طور پر مارکیٹ میں نہیں آئیں گے بلکہ مرحلہ وار گردش میں لائے جائیں گے نئے نوٹس اس وقت گردش میں لائے جائیں گے جب مرکزی بینک موجودہ کرنسی نوٹس کو مرحلہ وار تبدیل کرنے کے لیے مناسب اسٹاک حاصل کر لے گا۔
تاہم گورنر اسٹیٹ بینک نے یہ واضح نہیں کیا کہ سب سے پہلے کن مالیت کے نوٹس متعارف کرائے جائیں گے۔ اس وقت ملک میں 10، 20، 50، 75، 100، 500، 1000 اور 5000 روپے کے نوٹس زیر گردش ہیں، نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس حکومت کو منظوری کے لیے بھجوا دیے گئے تھے، جنہیں بعد ازاں وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے۔

حکومت ہر صورت گل پلازہ کے متاثرین کی بحالی کو یقینی بنائے گی،وزیراعلیٰ سندھ
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری سندھ اور مختلف محکموں کے متعلقہ سیکریٹریز نے شرکت کی۔
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق کابینہ اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے کیا گیا۔ اجلاس کے آغاز میں سانحہ گل پلازہ کے شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی گئی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ نے پورے صوبے کو شدید دکھ اور صدمے سے دوچار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور سندھ حکومت ہر صورت سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی بحالی کو یقینی بنائے گی۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ انسانی جانوں کے ضیاع کا کوئی نعم البدل نہیں، تاہم حکومت اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو ریلیف فراہم کرے گی۔ ترجمان کے مطابق سندھ کابینہ نے اجلاس میں کل 19 نکات پر غور کیا اور مختلف اہم فیصلے کیے۔ کابینہ نے گزشتہ اجلاس کے منٹس کی بھی منظوری دے دی۔
اجلاس کے دوران سندھ رینیوایبل انرجی کمپنی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ یہ کمپنی 2012ء میں قائم کی گئی تھی اور اس میں اب تک 101.622 ملین روپے کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کمپنی کے تمام عملی اور انتظامی امور پہلے ہی محکمہ توانائی (انرجی ڈپارٹمنٹ) انجام دے رہا ہے، جس کے باعث کمپنی کی علیحدہ حیثیت کی عملی ضرورت باقی نہیں رہی۔کابینہ نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد سندھ رینیوایبل انرجی کمپنی کو بند کرنے کی منظوری دے دی۔
محکمہ جنگلات سے متعلق ایجنڈا آئٹم پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ڈپٹی کمشنر حیدرآباد نے درخواست کی ہے کہ دیھ بیلو میانو میں 6 ایم جی ڈی واٹر فلٹریشن پلانٹ کے قیام کے لیے 400 ایکڑ اراضی مختص کی جائے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ میئر حیدرآباد اس منصوبے کے تحت فلٹریشن پلانٹ لگانا چاہتے ہیں، جس سے شہر میں پانی کے دیرینہ مسئلے کے حل میں مدد ملے گی۔کابینہ نے تفصیلی غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا کہ 400 ایکڑ کے بجائے 100 ایکڑ جنگلاتی اراضی حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو دی جائے گی۔ مزید یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ بلدیات اس کے عوض محکمہ جنگلات کو شجرکاری کے لیے 100 ایکڑ متبادل زمین فراہم کرے گا، تاکہ ماحولیاتی توازن برقرار رکھا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ کابینہ کے تمام فیصلوں پر بروقت عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق منصوبوں میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے

سندھ حکومت نااہل،کراچی وفاق کے کنٹرول میں لیا جائے،مصطفیٰ کمال
کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے ایک بار پھر کراچی کو فوری طور پر وفاق کے کنٹرول میں لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی جیسے ملک کے سب سے بڑے اور معاشی حب شہر کو ایک نااہل صوبائی حکومت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ وفاق کے پاس آئینی اختیار موجود ہے اور وہ آرٹیکل 148 کے تحت ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کراچی کو اپنے کنٹرول میں لے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہے، یہاں کی بدانتظامی کا خمیازہ پورا ملک بھگت رہا ہے، اس لیے فوری اور ٹھوس فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں۔انہوں نے گل پلازا سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس افسوسناک واقعے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، لوگ شہید ہوئے، اور یہ محض حادثہ نہیں بلکہ سندھ حکومت کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہم نے گل پلازا کی کارکردگی اور ذمہ داران کی غفلت کو ظلم کہا اور آئندہ بھی ظلم کو ظلم کہتے رہیں گے۔ اگر سچ بولنے پر یہی رویہ اختیار کیا جائے گا تو وہ ایک بار پھر واضح کرتے ہیں کہ کراچی کو سندھ حکومت کے چنگل سے آزاد کرایا جائے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے حالیہ اقدامات نے خود ایم کیو ایم کے موقف کی تائید کر دی ہے کہ یہ حکومت نہ صرف ناکام ہوچکی ہے بلکہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں بھی بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ان سے خود بھی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، تاہم انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ سیکیورٹی واپس لے کر ہمیں ڈرایا جا سکتا ہے، لیکن وہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے مرعوب ہونے والے نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کراچی پر حکمرانی کرے اور ایسے اقدامات کے ذریعے ایم کیو ایم کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔مصطفیٰ کمال نے سندھ حکومت پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جئے سندھ کے عناصر کھلے عام شاہراہوں پر کھڑے ہو کر پاکستان توڑنے کے نعرے لگاتے ہیں، اور سندھ حکومت انہیں سیکیورٹی فراہم کرتی ہے۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل نہ صرف افسوسناک بلکہ ریاست کے لیے خطرناک ہے اور ایسے اقدامات سے ملک کو تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر وفاقی حکومت کو باقاعدہ خط بھی لکھا جا چکا ہے اور وفاقی کابینہ کے اجلاسوں میں بھی یہ مؤقف مسلسل پیش کیا جا رہا ہے۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پوری وفاقی حکومت اور ریاستی ادارے ان کے مؤقف کو سن رہے ہیں اور حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہیں۔

کاروبار کا مثبت آغاز،اسٹاک مارکیٹ میں تیزی
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ابتدائی اوقات میں 200 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔
صبح ایک موقع پر بینچ مارک انڈیکس 264.57 پوائنٹس یا 0.14 فیصد اضافے سے 188,852.23 پوائنٹس پر جاپہنچا بینکاری، آٹو موبائل اسمبلرز اور کھاد کے شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا جارہا ہے، ایچ بی ایل، ایم سی بی، میزان بینک (ایم ای بی ایل)، نیشنل بینک (این بی پی) اور یو بی ایل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔
اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ توقعات کے برعکس پیر کو سال 2026 کی پہلی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس 579.17 پوائنٹس یا 0.31 فیصد کی کمی سے 188,587.66 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر منگل کو ایشیائی حصص بازاروں میں تیزی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کار امریکی بڑی کمپنیوں کے مالی نتائج سے بہتر توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی کوریا پر نئے ٹیرف اقدامات سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے مجموعی بڑھوتری کو محدود رکھا جبکہ سونا اور چاندی کی قیمتوں کو سہارا ملا،سونے کی قیمت 1 فیصد بڑھ کر 5,066 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی جبکہ چاندی 6.4 فیصد بڑھ کر 110.60 ڈالر فی اونس ہو گئی۔

سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت پر تنقید:ایم کیو ایم کے وزراء اور اسمبلی اراکین سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی
سانحہ گل پلازہ پر تنقید کے باعث پیپلز پارٹی کی ناراضگی کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سمیت متعدد سینئر رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔
ایم کیو ایم کی اعلی قیادت خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی سمیت اراکین سندھ اسمبلی کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہےسندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرعلی خورشیدی کی بھی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، ایم کیو ایم کے وزرا، اراکین اسمبلی اور رہنماؤں نے سیکیورٹی ہٹائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ نے سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کو فوری طور پر واپس آنے کی ہدایت جاری کر دی، جس کے بعد متعلقہ موبائلز اور اہلکار واپس بلا لیے گئے، ایم کیو ایم کے وزرا، اراکین اسمبلی اور رہنماؤں نے سیکیورٹی ہٹائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہےڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے ساتھ ایک موبائل اور 8 سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے، جب کہ ڈاکٹر فاروق ستار کے پاس ایک موبائل اور 10 اہلکار موجود تھے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کے ساتھ ایک موبائل اور 8 اہلکار تعینات تھے، جنہیں واپس لے لیا گیا۔
سیکیورٹی واپس لینے کے اس اچانک اقدام پر ایم کیو ایم نے شدید ردعمل کا فیصلہ کرتے ہوئے کل شام چار بجے ہنگامی پریس کانفرنس طلب کر لی ہے، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان متوقع ہے ایم کیو ایم رہنما رکن اور قومی اسمبلی حسان صابر نے تصدیق کی کہ ایم کیو ایم کے اراکین قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی کی سیکیوریٹی واپس لے لی گئی ہے،اس دوران کسی کو بھی نقصان پہنچتا ہے تو اس کی ذمہ دار سندھ حکومت ہوگی،سندھ حکومت کی کارکردگی سب کے سامنے ہے اور یہ چاہتے ہیں کہ ان پر تنقید بھی نہ کی جائے،سیکیورٹی واپس بلانےکی وجہ نہیں بتائی گئی۔ ’ممکن ہے سانحہ گل پلازہ پر تنقید ایک وجہ ہو، کچھ بھی ہو ہم سانحہ گل پلازہ پر سوالات اٹھاتے رہیں گے-








