Baaghi TV

Category: کراچی

  • بحریہ ٹاؤن کراچی میں دھوکہ،ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض کے وارنٹ جاری

    بحریہ ٹاؤن کراچی میں دھوکہ،ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض کے وارنٹ جاری

    کراچی: بحریہ ٹاؤن کراچی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی ریاض ملک کے عدالت نے گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔

    یہ وارنٹس اُس کیس کے سلسلے میں جاری کیے گئے ہیں جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن اپنے ایک پراجیکٹ میں دکانوں کا قبضہ دینے میں ناکام ہوئی،اکرام اللہ خان، جنہوں نے اپنے وکیل کے ذریعے براہ راست شکایت درج کروائی، نے عدالتی مجسٹریٹ ملیر کی عدالت میں کہا کہ ان کے موکل نے بحریہ ہائٹس ٹاور I میں تین دکانیں کل 20.9 ملین روپے کی قیمت پر بک کروائی تھیں۔وکیل کا کہنا تھا کہ یہ رقم قسطوں میں ادا کی جانی تھی اور دونوں فریقوں کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ جب مکمل رقم ادا ہو جائے گی تو دکانوں کا قبضہ شکایت کنندہ کو دیا جائے گا۔تاہم، وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بحریہ ٹاؤن نے 2019 سے اب تک اس معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا۔ اس کے بعد ان کے موکل کو یہ پتا چلا کہ بحریہ ٹاؤن کے سی ای او علی ریاض ملک نے اس پورے پراجیکٹ کو شاہ نواز ایاز درانی کو فروخت کر دیا، جسے پراپرٹی کی بے جا استعمال اور مجرمانہ اعتماد شکنی کے طور پر بیان کیا گیا۔

    عدالت نے شکایت اور گڈاپ پولیس اسٹیشن کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد بحریہ ٹاؤن کے سی ای او علی ریاض ملک اور شاہ نواز ایاز د رانی کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے۔ عدالت نے انہیں مقدمے کی سماعت میں شامل ہونے کی ہدایت دی اور دونوں کو 50,000 روپے کی ضمانت دینے کا حکم دیا ،عدالت نے ریمارکس دیے، "موجودہ حالات اور پیش کردہ شواہد کے پیش نظر، شکایت میں بیان کردہ دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزامات کو سنجیدگی سے لینے کے لیے کافی وجوہات ہیں۔”

    اس کے علاوہ، عدالت نے کہا کہ جو انکوائری رپورٹ پیش کی گئی ہے، اس میں فریقین کے درمیان ایک سول مقدمہ چلنے کا انکشاف ہوا ہے۔ "بحریہ ٹاؤن کے آپریشنز کے مینیجر نے اس سول مقدمے کے ہونے کا اعتراف کیا ہے لیکن دکانوں کی حیثیت یا شکایت کنندہ کی ملکیت کے بارے میں کوئی حتمی جواب نہیں دیا۔”
    عدالت نے سماعت 6 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی اور ملزمان کو آئندہ تاریخ پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

    عمران،بشریٰ نے ملک ریاض سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے

    بحریہ ٹاؤن کراچی،ملک ریاض نے ملازمین کو نکال دیا،احتجاج کرنے پر گرفتار

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    جتنا مرضی ظلم کرو، میں ظالم کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا۔ملک ریاض

    ملک ریاض کیلئے ایک اور مشکل،بحریہ ٹاؤن 76 کروڑ کا ڈیفالٹر،بجلی کٹ گئی

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

  • پیپلز پارٹی کا حکومتی پیش رفت پر عدم اطمینان کا اظہار

    پیپلز پارٹی کا حکومتی پیش رفت پر عدم اطمینان کا اظہار

    وفاق میں حکومت کی اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے مرکزی حکومت کی جانب سے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانیوں کی پیش رفت کے حوالے سے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق چیئرمین بلاول بھٹو کی زیر صدارت کراچی میں پارٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں وزرائے اعلیٰ بلوچستان اور سندھ سرفراز بگٹی، مراد علی شاہ، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے گورنرز فیصل کریم کنڈی اور سردار سلیم حیدر نے شرکت کی۔اجلاس میں پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر بھی موجود تھے، اجلاس کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، اجلاس میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کی روشنی میں اب تک کی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس کے شرکا نے چیئرمین پیپلز پارٹی کو آئندہ دنوں میں حکومت کی جانب سے کی جانے والی مجوزہ قانون سازی کے حوالے سے بریفنگ دی۔اجلاس میں شرکا نے وفاقی حکومت کی یقین دہانیوں کی پیش رفت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اس پر بلاول بھٹو نے ہدایت کی کہ حکومت کے ساتھ اپنے رابطوں کو مزید تیز کیا جائے، تاکہ جب پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کا اجلاس ہو تو اس میں ان رابطوں کا مثبت نتیجہ سامنے رکھا جاسکے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پیپلزپارٹی کو نظرانداز کر رہی ہے، طے تھا کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے انتظامی معاملات میں حصے دار ہوں گے، (ن) لیگ ہمارے گورنرز سے مشاورت نہیں کر رہی ہے۔16 نومبر کو بلاول ہاؤس کراچی میں گفتگو کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) پر 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد وعدوں سے انحراف کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کے ساتھ ناراضی کا سوال ہی نہیں ہے، ناراض ہونے پر سیاست نہیں کی جاتی، سیاست تو عزت کے لیے کی جاتی ہے، معذرت کے ساتھ اس وقت وفاق میں نہ عزت کی جاتی ہے، نہ سیاست کی جا رہی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ دنیا میں جہاں اقلیتی حکومت ہو اور ان کا اتحاد ہے کسی جماعت کے ساتھ تو اس معاہدے پر عمل درا?مد ہوتا ہے، ہم اخلاقی حمایت فراہم کرنے کے لیے حکومتی بینچ پر بیٹھے ہیں، ہم ضرور چاہیں گے کہ طے شدہ معاہدے پر عمل کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن پاکستان سے احتجاجاً علیحدہ ہوئے، آئین سازی کے وقت حکومت اپنی باتوں سے پیچھے ہٹ گئی۔انہوں نے آئندہ ماہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مرکز میں حکومتی اتحاد پر ممکنہ نظر ثانی کا بھی اشارہ دیا تھا۔لاول بھٹو نے وفاقی حکومت اور وزیر اعظم سے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی، چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ووٹرز اور صوبائی حکومتوں کی مسلم لیگ (ن) سے شکایات ہیں۔اس بیان کے بعد 17 نومبر کو وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے تحفظات دور کرنے کی ذمہ داری نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار کو سونپ دی تھی۔وزیر اعظم نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس کے اراکین میں نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام، مشیر وزیراعظم رانا ثنا اللہ، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان، سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب شامل تھے۔اس کے علاوہ سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق، گورنر بلو چستان جعفر خان مندوخیل اور بشیر احمد میمن بھی کمیٹی کے اراکین میں شامل ہیں۔

    نیب اور ایف آئی اے نےپانامہ کیسز دوبارہ کھول دئیے گئے

    مبینہ نفرت پھیلانے پرلطیف کھوسہ کیخلاف مقدمہ درج

    بھارتی پارلیمنٹ کا ہنگامہ خیز سیشن ختم

  • کے الیکٹرک کا 6 سے 10 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کرنے کا اعلان

    کے الیکٹرک کا 6 سے 10 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کرنے کا اعلان

    کے الیکٹرک نے شہر میں 6 سے 10 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کرنے کا اعلان کر دیا۔

    ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ لوڈ شیڈنگ جاری رکھنے کا فیصلہ لائن لاسز اور بل ریکوری کا سہ ماہی جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔ مجموعی طور پر 70 فیصد حصہ بدستور لوڈ شیڈنگ سے مستثنٰی ہے۔انہوں نے کہا کہ 30 فیصد نیٹ ورک میں بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 6 سے 10 گھنٹے ہے۔ لوڈشیڈنگ کرنے کا فیصلہ اور دورانیے کا انحصار چوری اور عدم ادائیگی کی شرح پر ہوتا ہے۔سال کے آغاز سے اب تک بجلی چوری کو روکنے کیلئے21ہزار سے زائد کارروائیاں کی گئیں۔ کارروائیوں کے دوران 2 لاکھ 20 ہزار کلو غیر قانونی تاریں ضبط کی گئیں۔واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک کے ملٹی ائیر ٹیرف تجویز کی سخت مخالفت کی ہے اور اسے کراچی کے بجلی صارفین پر غیر ضروری، بے بنیاد بوجھ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاگت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے۔حکومت نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو سفارش کی ہے کہ کے الیکٹرک کے مجوزہ ملٹی ائیر بیس ٹیرف کو 44.69 روپے فی یونٹ سے کم کر کے 34.87 روپے فی یونٹ کیا جائے جس کے لیے متعدد ہدفی لاگت ایڈجسٹمنٹس کی تجویز دی گئی ہے۔پاور ڈویژن نے نیپرا کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک نے اپنے اخراجات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے، غیر حقیقی سرمایہ کاری کا تخمینہ لگایا ہے اور پرانے مالیاتی مفروضوں پر اپنی حساب کتاب کی بنیاد رکھی ہے۔دستاویزات کے مطابق کے ای کی درخواست کو اس کی آپریشنل صلاحیت کو متاثر کیے بغیر کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

    نیب اور ایف آئی اے نےپانامہ کیسز دوبارہ کھول دئیے گئے

    مبینہ نفرت پھیلانے پرلطیف کھوسہ کیخلاف مقدمہ درج

    بھارتی پارلیمنٹ کا ہنگامہ خیز سیشن ختم

    بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان

  • وزیراعلیٰ سندھ سے سابق آئی جیز کی ملاقات، پولیس اصلاحات پر تبادلہ خیال

    وزیراعلیٰ سندھ سے سابق آئی جیز کی ملاقات، پولیس اصلاحات پر تبادلہ خیال

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ کی فراہمی، جدید آلات اور خصوصی تربیت کے ذریعے پولیس کو مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سابق آئی جیز کی تنظیم اے ایف آئی جی پی کے وفد سے خطاب کر رہے تھے۔ وفد کی قیادت تنظیم کے سربراہ افضل شگری کر رہے تھے۔ ملاقات میں وزیرداخلہ ضیاالحسن لنجار، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف اور آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے شرکت کی۔ مجموعی طور پر ملاقات خوشگوار رہی، انتظامی بہتری، احتساب اور محکمے کے اندر اتنظامی خودمختاری پر بات کی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ میں اضافے، جدید آلات کی فراہمی اور خصوصی ٹریننگ پروگرامز کے ذریعے پولیس کو مستحکم کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے احتساب اور دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے عوام کے اعتماد کی بحالی پر زور دیا، پولیس کے اندرونی تنازعات سے بچنے کےلیے انتظامی خود مختاری پر زور دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 2002 کے بعد پولیس اور سول سروس کے درمیان طاقت کا توازن تبدیل ہوگیا ہے اس لیے تمام سروسز کے درمیان بہتر تعاون کی ضرورت ہے۔ سابق آئی جیز نے کانسٹیبلز کو تعلیمی قابلیت، لکھنے کی صلاحیت اور آئی ٹی اسکلز کے ذریعے بااختیار بنانے اور تحقیقات کا آغاز کانسٹیبل لیول سے کرنے کی تجویز دی۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے مالیاتی اختیارات تھانے کی سطح تک منتقل کردیے ہیں لیکن کانسٹیبل کو بااختیار بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ سابق آئی جیز نے وزیراعلیٰ سندھ سے اپیل کی کہ شکایات کے اندراج اور نگرانی کےلیے سیںٹرلائزڈ ریسورس منجمنٹ سسٹم ( آر ایم ایس) قائم کیا جائے۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آر ایم ایس کمپلیمنٹ سیل بنانے کی ضرورت ہے جہاں شکایات درج کرنے کےلیے پولیس کے علاوہ لوگ تعینات کیے جائیں۔ اس موقع پر اسکاٹ لینڈ یارڈ کی طرز پر اربن پولیسنگ کا ماڈل اختیار کرنے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جرائم کی کھوج لگانے اور متاثرین کے تحفظ کے نظام پر بھی بات کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے سابق آئی جیز سے کہا کہ اس سلسلے میں وہ اپنی تجاویز ارسال کریں۔ ملاقات میں پولیس کو 1972 میں حیدرآباد میں الاٹ کی گئی 150 ایکڑ زمین کے جاری تنازعے پر بھی تبادلہ خیال گیا۔ اس موقع پر کراچی میں ٹریفک کے انتظام میں بہتری اور سی پی ایل سی کو دیگر شہروں تک پھیلانے پر بھی بات کی گئی۔ سابق آئی جیز نے پولیس افسران اور ان کی فیملیز کےلیے حکومت سندھ کے حال میں میں متعارف کرائے گئے میڈیکل انشورنس کی تعریف کی اور اس کو پورے ملک کےلیے ایک مڈال اقدام قرار دیا۔ ملاقات کا اختتام اصلاحات کےلیے تعاون بڑھانے کے عزم پر کیا گیا۔ افضل شگری نے دعوت دینے پر وزیراعلیٰ سندھ کا شکریہ ادا کیا۔ تعاون کی یہ سوچ پبلک سیفٹی میں اضافے اور سندھ پولیس میں اعتماد کی بحالی کی جانب اہم قدم ہے۔

    نیب اور ایف آئی اے نےپانامہ کیسز دوبارہ کھول دئیے گئے

    نیب اور ایف آئی اے نےپانامہ کیسز دوبارہ کھول دئیے گئے

    بھارتی پارلیمنٹ کا ہنگامہ خیز سیشن ختم

    چیٹ جی پی ٹی بھی واٹس ایپ پر آگیا، نمبر جاری

  • ججز تقرریوں میں سیاسی مداخلت کیخلاف درخواست، عدالت نے سوالات اٹھا دیے

    ججز تقرریوں میں سیاسی مداخلت کیخلاف درخواست، عدالت نے سوالات اٹھا دیے

    سندھ ہائیکورٹ کے ججز کی تقرریوں میں سیاسی مداخلت روکنے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے بینچ کے دائرہ اختیار سے متعلق دلائل طلب کرلیے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں دوران سماعت جسٹس جنید غفار نے کہا کہ یہ درخواست ہمارے پاس کیوں آئی ہی آئینی بینچ میں جانی چاہیے، درخواست میں کیا استدعا کی گئی ہی ۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کا جاری کردہ نوٹیفکیشن غیر آئینی قرار دیا جائے۔عدالت نے کہا کہ درخواست گزاروں کے 2 الگ وکیل کیوں ہیں ہم ایک درخواست میں ایک ہی وکیل کو سنیں گے، پہلے عدالت کو مطمئن کریں یہ درخواست ریگولر بینچ میں کیوں ہے آئینی بینچ میں کیوں نہیں ۔بعدازاں عدالت نے درخواست کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن میں سیاسی جماعتوں کے ارکان کے پیش کردہ ناموں کو غیر آئینی قرار دیا جائے، جوڈیشل کمیشن میں سیاسی جماعتوں کے ارکان کی تعداد زیادہ ہے۔درخواست کے مطابق سیاسی جماعتیں ججز کی تقرری میں عدلیہ پر اثر انداز ہوسکتی ہیں، ججز تقرری کے لیے صرف عدلیہ سے تعلق رکھنے والے ارکان کے پیش کردہ نام زیرِ غور لائے جائیں۔

    مرحوم ملازمین کی اولاد کیلئے ملازمت کا کوٹہ ختم

    وزیر اعلیٰ سندھ سے پنجاب و خیبر پختونخواہ گورنرز کی ملاقات

    لیبیا کشتی حادثے میں ملوث زمانہ اشتہاری ملزم گرفتار

  • مرحوم ملازمین کی اولاد کیلئے ملازمت کا کوٹہ ختم

    مرحوم ملازمین کی اولاد کیلئے ملازمت کا کوٹہ ختم

    سپریم کورٹ کے حکم پر سندھ کابینہ نے کی اولاد کے لیے ملازمت کا کوٹہ ختم کرنے کی منظوری دے دی .

    باغی ٹی وہ کے مطابق اس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس کے تحت سندھ میں فوتگی کوٹے پر مزید بھرتیاں نہیں ہوں گی۔ یاد رہے کہ رواں سال پنجاب حکومت بھی یہی فیصلہ کر چکی ہے جس کے تحت دورانِ سروس وفات پانے والے سرکاری ملازمین کے بچوں کے لیے کوٹے سے متعلق رول 17 اے ختم کر دیا گیا تھا، جبکہ دورانِ سروس وفات پانے والے سرکاری ملازمین کے بیٹے، بیٹی یا بیوہ کو سرکاری نوکری دی جاتی تھی، اس حوالے سے حکومتِ پنجاب نے جولائی میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ سندھ کابینہ کی جانب سے اس فیصلے سے قبل صوبے بھر میں انتقال کر جانے والے سرکاری ملازمین کے بچوں یا شریک حیات کو ملازمت دی جاتی تھی۔سپریم کورٹ نے اکتوبر کے مہینے میں جنرل پوسٹ آفس (جی پی او) کی اپیل منظور کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کے بچوں سے متعلق تمام پالیسز، پیکیجز اور کوٹے کو غیر آئینی قرار دے دیا تھا۔سپریم کورٹ کے جسٹس نعیم افغان نے کیس کا 11 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کا 2021 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔

    وزیر اعلیٰ سندھ سے پنجاب و خیبر پختونخواہ گورنرز کی ملاقات

    لیبیا کشتی حادثے میں ملوث زمانہ اشتہاری ملزم گرفتار

    ڈی جی رینجرز سندھ کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

  • وزیر اعلیٰ سندھ سے پنجاب و  خیبر پختونخواہ گورنرز کی ملاقات

    وزیر اعلیٰ سندھ سے پنجاب و خیبر پختونخواہ گورنرز کی ملاقات

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے گورنرز نے ملاقات کی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ملاقات میں صوبائی وزراء،شرجیل انعام میمن، جام خان شورو، سعید غنی اورجام اکرام اللہ دھاریجو بھی شریک تھے۔ ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو خوش آمدید کہا۔ملاقات میں پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں پیپلز پارٹی کی مضبوطی پر بات چیت کی گئی اور دونوں صوبوں کی عوام تک چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا پیغام پہچانے پر گفتگو ہوئی۔ملاقات میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے یوم شہادت کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔وزیراعلیٰ سندھ اور دونوں گورنرز نے ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    لیبیا کشتی حادثے میں ملوث زمانہ اشتہاری ملزم گرفتار

    نئے دریافت علاقے سے تیل و گیس کی پیداواری سرگرمیاں شروع

    ڈی جی رینجرز سندھ کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

  • نئے دریافت علاقے سے تیل و گیس کی پیداواری سرگرمیاں شروع

    نئے دریافت علاقے سے تیل و گیس کی پیداواری سرگرمیاں شروع

    آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی کی جانب سے نئے دریافت شدہ علاقے سے تیل اور گیس کی پیداواری سرگرمیاں شروع کردی گئی ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق او جی ڈی سی کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کو بذریعہ خط مطلع کیا گیا ہے کہ حیدرآباد میں کنر ویل تھری سے حاصل ہونے والے گیس کی یومیہ مقدار 3.5 ایم ایم ایس سی ایف ڈی ہے۔اس کنوئیں سے حاصل ہونے والی گیس کی پیداوار کا عمل 1200 فلوئنگ پریشر سے شروع ہوگیا ہے۔کنوئیں سے ایل پی جی کے 3.8میٹرک ٹن یومیہ پیداوار کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے اور کنر مائننگ سے حاصل ہونے والے گیس کو سوئی سدرن گیس کمپنی کے سسٹم میں شامل کردیا گیا۔خط میں کہا گیا ہے کہ مائننگ سے ہلکے تیل کے ذخائر یومیہ 30 بیرل کی مقدار میں حاصل ہوئے ہیں۔

    ڈی جی رینجرز سندھ کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

    چیمپئنز ٹرافی 2025: ہائبرڈ ماڈل کے اضافی اخراجات پی سی بی نے مانگ لئے

    دھی رانی پروگرام جلد شروع ہو جائیگا،عظمٰی بخاری

    بینکوں کو 11 ہزار 179 ارب روپے مارکیٹ آپریشن میں جاری

  • ڈی جی رینجرز سندھ کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

    ڈی جی رینجرز سندھ کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

    وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد میجر جنرل محمد شمریز خان کو ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ تعینات کردیا گیا ۔

    اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق میجرجنرل محمد شمریز خان کو وفاقی حکومت کی منظوری کے ساتھ جے ایس آئی 4/8 اور پاکستان رینجرز آرڈیننس 1959 کے تحت ڈی جی رینجرز سندھ تعینات کردیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق تعیناتی کا اطلاق فوری ہوگا اور تاحکم ثانی جاری رہے گا۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد شمریز کی تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق میجر جنرل محمد شمریز کی تقرری بمطابق مروجہ قواعد وضوابط سیکنڈمنٹ کی بنیاد پر کی گئی،میجر جنرل محمد شمریز نے گزشتہ ماہ 8 نومبر کو ڈی جی رینجرز سندھ کا عہدہ سنبھالا ہے۔

    دھی رانی پروگرام جلد شروع ہو جائیگا،عظمٰی بخاری

  • بینکوں کو 11 ہزار 179 ارب روپے مارکیٹ آپریشن میں جاری

    بینکوں کو 11 ہزار 179 ارب روپے مارکیٹ آپریشن میں جاری

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے روایتی اور اسلامی بینکوں کو مارکیٹ آپریشن کے لیے فراہم کی گئی فنڈنگ کی رپورٹ جاری کر دی۔

    باغی ٹی وی کے مطاقب اسٹیٹ بینک کی جانب سے روایتی اور اسلامی بینکوں کو 11 ہزار 179 ارب روپے 7 اور 28 روزہ مارکیٹ آپریشن میں فراہم کیے گئے ہیں۔روایتی بینکوں کو 7 روزہ مارکیٹ آپریشن میں 2956 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں،یہ فنڈنگ 13.05 فیصد سالانہ شرحِ سود پر کی گئی ہے۔روایتی بینکوں کو 28 روزہ مارکیٹ آپریشن میں 7707 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، انہیں یہ فنڈنگ 13.04 فیصد سالانہ شرحِ سود پر کی گئی ہے۔اسلامی بینکوں کو 7 دن کے لیے 410 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، انہیں یہ فنڈنگ 13.09 فیصد سالانہ شرحِ منافع پر کی گئی ہے۔اسلامی بینکوں کو 28 روزہ مارکیٹ آپریشن میں 106 ارب روپے کی فنڈنگ 13.09 فیصد سالانہ شرح سود پر کی گئی ہے۔

    سونے کی قیمتوں میں آج بھی بڑی کمی

    اسلام آباد،بلوچستان کے اسکول اور کالجز میں تعطیلات کا اعلان

    کراچی :جماعت اسلامی کا پانی کے بحران پر احتجاج کااعلان