Baaghi TV

Category: کراچی

  • گل پلازہ آتشزدگی: مزید 5 افراد کی لاشیں، ہلاکتیں کی تعداد 33 ہوگئی

    گل پلازہ آتشزدگی: مزید 5 افراد کی لاشیں، ہلاکتیں کی تعداد 33 ہوگئی

    ‎کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع تجارتی مرکز گل پلازہ میں پیش آنے والی آتشزدگی میں مزید 5 افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد ہو گئی ہیں، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 33 تک پہنچ گئی ہے۔
    ‎ریسکیو ذرائع کے مطابق عمارت میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم ملبے میں آکسیجن کی کمی کے باعث ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ جاں بحق افراد کی شناخت کے لیے 50 لاپتہ افراد کے اہلخانہ کے نمونے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں۔
    ‎بم ڈسپوزل اسکواڈ نے عمارت کا جائزہ لیا، اور ابتدائی تفتیش میں تخریب کاری کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ ریسکیو ٹیمیں ملبے میں پھنسے افراد کی تلاش میں مسلسل کام کر رہی ہیں۔
    ‎عمارت میں آگ لگنے کے بعد ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں بروقت پہنچیں اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا، تاہم حادثے کی شدت کے باعث امدادی کارروائیاں مشکل ثابت ہو رہی ہیں۔

  • ‎کراچی میں پیش امام کے گھر بڑی چوری، کروڑوں روپے کا سونا اور 90 لاکھ نقدی غائب

    ‎کراچی میں پیش امام کے گھر بڑی چوری، کروڑوں روپے کا سونا اور 90 لاکھ نقدی غائب

    
کراچی کے علاقے شرف آباد میں واقع عالمگیر ہائٹس میں پیش امام کے گھر چوری کی بڑی واردات سامنے آئی ہے، جہاں نامعلوم ملزمان کروڑوں روپے مالیت کا سونا اور 90 لاکھ روپے نقدی لے کر فرار ہو گئے۔
    ‎پولیس کے مطابق متاثرہ شخص نے نیو ٹاؤن تھانے میں مقدمہ درج کراتے ہوئے بتایا کہ 18 جنوری کی شام وہ اہلِ خانہ کے ہمراہ دھورا جی میں اپنی والدہ سے ملنے گئے تھے۔ رات ایک بجے کے بعد گھر واپس آئے تو پڑوسی نے اطلاع دی کہ فلیٹ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔
    ‎متاثرہ شخص کے مطابق گھر کے تمام تالے درست حالت میں تھے، تاہم کمرے میں سامان بکھرا پڑا تھا اور دو ہینڈ بیگز خالی حالت میں موجود تھے۔ الماریوں اور دیگر جگہوں کی تلاشی کے بعد معلوم ہوا کہ امانتاً رکھے گئے 90 لاکھ روپے نقد اور تقریباً 48 تولہ سونے کے زیورات غائب ہیں۔
    ‎پیش امام نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تفتیش کر کے ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔
    ‎دوسری جانب کراچی میں ایک مندر میں چوری کی واردات میں ملوث ایک ملزم کو پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کر لیا ہے، جبکہ اس کا ساتھی فرار ہو گیا۔ پولیس کے مطابق 14 جنوری کو ڈولی کھاتہ پیر ٹول مندر میں دو ملزمان نے مورتیاں، پوجا کا سامان، چاندی کی جیولری اور دیگر قیمتی اشیاء چوری کی تھیں۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کے قبضے سے لوٹا گیا سامان برآمد کر لیا گیا ہے جبکہ فرار ملزم کی تلاش جاری ہے۔

  • 
گل پلازہ کی ایک دکان سے بڑی تعداد میں انسانی اعضاء برآمد

    
گل پلازہ کی ایک دکان سے بڑی تعداد میں انسانی اعضاء برآمد

    سانحہ گل پلازہ میں جاری سرچ آپریشن کے دوران ایک دل دہلا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق عمارت کی ایک دکان کے ملبے سے بڑی تعداد میں انسانی اعضا برآمد ہوئے ہیں۔
    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت دکان نمبر 144 میں خواتین سمیت 17 افراد کی موجودگی کا امکان تھا۔ ملبے سے اب تک 10 افراد کی باقیات مل چکی ہیں جبکہ مزید افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎ریسکیو آپریشن جاری ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ ملبہ مکمل طور پر ہٹائے جانے کے بعد ہی درست تعداد سامنے آ سکے گی۔

  • کراچی،مندر سے مورتیاں، چاندی اور نقدی چرانے والا ملزم گرفتار، لوٹا ہوا سامان برآمد

    کراچی،مندر سے مورتیاں، چاندی اور نقدی چرانے والا ملزم گرفتار، لوٹا ہوا سامان برآمد

    پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مندر سے مورتیاں، چاندی اور نقدی چرانے والے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق جدید تفتیشی ذرائع اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کو صدر کے علاقے سے حراست میں لیا گیا، جب کہ اس کے قبضے سے واردات میں لوٹا گیا سامان بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق ڈولی کھاتہ پیر ٹول مندر میں 14 جنوری کو چوری کی واردات پیش آئی تھی، جس میں دو ملزمان مندر میں داخل ہوئے اور وہاں سے 5 قیمتی مورتیاں، پیتل اور تانبے کے برتن، زیورات کے ڈبے چرا کر فرار ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ مندر میں موجود چندہ بکس سے تقریباً 75 ہزار روپے نقدی بھی غائب پائی گئی تھی، جس پر مندر انتظامیہ نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔

    واقعے کے بعد پولیس نے مندر اور اطراف کے علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز کا تفصیلی جائزہ لیا، جس کی بنیاد پر ایک ملزم کی شناخت ممکن ہوئی۔ پولیس نے کامیاب چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو صدر کے علاقے سے گرفتار کیا اور اس کے قبضے سے چوری شدہ مورتیاں، چاندی، برتن اور نقدی برآمد کرلی۔پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے، جس کے دوران اہم انکشافات متوقع ہیں۔ پولیس کے مطابق واردات میں ملوث ملزم کا ایک ساتھی تاحال فرار ہے، جس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور تلاش کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔

  • حکومت کا پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کا اعلان

    حکومت کا پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کا اعلان

    وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت قومی صنعتی اداروں کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے، تاکہ ملکی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔

    اسلام آباد میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ہارون اختر نے بتایا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے مختلف آپشنز پر کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیل ملز میں سرمایہ کاری کے لیے صرف روس ہی نہیں بلکہ چار مختلف بین الاقوامی پارٹیز نے دلچسپی ظاہر کی ہے، جن کے ساتھ مشاورت اور ابتدائی بات چیت کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت شفافیت اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔ہارون اختر نے کہا کہ اسٹیل ملز کی بحالی سے نہ صرف صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ان کے مطابق بند پڑے صنعتی یونٹس کو دوبارہ چلانا حکومت کی صنعتی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔

    میڈیا بریفنگ کے دوران معاونِ خصوصی نے اعلان کیا کہ حکومت جلد نیو انرجی وہیکل (NEV) پالیسی متعارف کرانے جا رہی ہے، جس کا مقصد ماحول دوست گاڑیوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ مقامی آٹو انڈسٹری کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے تحت الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کی تیاری اور استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ہارون اختر نے مزید بتایا کہ حکومت ویکسین پالیسی اور سولر پالیسی بھی لا رہی ہے، تاکہ صحت اور توانائی کے شعبوں میں خود کفالت حاصل کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ سولر انرجی کے فروغ سے نہ صرف بجلی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ صنعتی لاگت میں بھی کمی آئے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت پیداواری شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اسی سلسلے میں یہ بھی غور کیا جا رہا ہے کہ ہوم اپلائنسز کی تیاری پاکستان میں ہی کی جائے، تاکہ درآمدات پر انحصار کم ہو اور مقامی صنعت کو فروغ ملے۔

  • سانحہ گل پلازہ: مزید 3 افراد کی لاشوں کی شناخت، رمپا پلازہ غیرمحفوظ قرار

    سانحہ گل پلازہ: مزید 3 افراد کی لاشوں کی شناخت، رمپا پلازہ غیرمحفوظ قرار

    سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق مزید 3 افراد کی لاشوں کی شناخت کرلی گئی ہے، جبکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے خاکستر گل پلازہ سے متصل عمارت رمپا پلازہ کوغیرمحفوظ قرار دے دیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق مزید 3 افراد کی لاشوں کی شناخت کے بعد ہولناک آتشزدگی کے اس سانحے میں شناخت شدہ لاشوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے،لاشوں کی شناخت محمد شہروز، محمد رضوان اور مریم کے نام سے ہوئی جن کی میتیں اہل خانہ نے وصول کیں، ان کے علاوہ دیگر جاں بحق افراد میں کاشف، مصباح، عامر، فراز، فاروق، فرقان، محمد علی، تنویر شامل ہیں۔

    واضح رہےکہ سانحے میں اب تک 28 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور17 لاشیں ناقابل شناخت ہیں، شناخت کے لیے 50 فیملیز کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے موصول ہوچکے ہیں،چیف فائر آفیسر کے مطابق گل پلازہ کے تہہ خانے کے اوپن ایریا کی مکمل تلاشی لے لی گئی ہے تاہم وہاں سے کوئی لاش برآمد نہیں ہوئی، تہہ خانے کا وہ حصہ جو ملبے تلے دبا ہوا ہے، تاحال سرچ کیا جانا باقی ہے، جبکہ عمارت کی دوسری اور تیسری منزل کو کلیئر کردیا گیا ہے۔

    خلیل الرحمان قمر نازیبا ویڈیو کیس: ملزمہ آمنہ عروج کی ضمانت منظور

    گل پلازہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران ڈپٹٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ پلازہ کا سالم حصہ بھی سرچ کیا جا رہا ہے لیکن فی الحال عمارت کے گرے ہوئے حصے کی طرف توجہ ہے، عمارت کے درمیان میں جانے کا راستہ بنایا جا رہا ہے، جب سب مکمل ہو جائے گا تب پوری عمارت کو گرا کر ملبہ اٹھا لیا جائے گاپہلے دن سے انفارمیشن ڈیسک قائم کر دی تھی اور تمام سہولیات دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ گرے ہوئے حصے میں مشکل پیش آرہی ہے، اندر ابھی بھی دھواں اور گرمائش ہے تاہم کولنگ بھی کی جا رہی ہے، جہاں تک پہنچ سکتے ہیں وہاں سرچ کیا گیا ہے۔ بلڈنگ پر موجود بھاری سامان اتار لیا گیا ہے، اس وقت مشین سے اور مینولی بھی کام کیا جا رہا ہے 28 لاشیں نکالی گئی ہیں جن میں سے 11 شناخت ہو چکی ہیں جبکہ 85 شہری لاپتا افراد کی فہرست میں ہیں، کچھ نام ڈبل ہوگئے ہیں جن کی جانچ کی جا رہی ہے۔ کوشش ہے جلد از جلد لاشوں کی شناخت بھی ممکن ہو۔

    سوشل میڈیا پر ایک غلط کلک یا غیر محتاط پوسٹ جیل پہنچا سکتی ہے،این سی سی آئی اے

    جاوید نبی کھوسو کا کہنا تھا کہ عارضی طور پر ساتھ والے رمپا پلازہ کو سیل کیا گیا ہے، ایس بی سی اے کی رپورٹ کے بعد کہا جا سکے گا کہ رمپا پلازہ خطرناک ہے یا نہیں۔ کسی قسم کی جلد بازی نہیں کی جا رہی ہے کیونکہ انسانی زندگیوں کا مسئلہ ہے ہمارے پاس تکنیکی ٹیم موجود ہے جو اس حوالے سے مکمل جانچ کر رہی ہے اور تکنیکی معاملات کو مدنظر رکھے ہوئے ریسکیو اینڈ سرچ آپریشن جاری ہےایک سوال کے جوان میں ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ غائب ہونے والے دو ڈمپر کے حوالے سے پولیس تفتیش کر رہی ہے۔

    دوسری جانب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے گل پلازہ سے متصل عمارت رمپا پلازہ کا ابتدائی معائنہ مکمل کرنے کے بعد اسے غیر محفوظ قرار دے دیا ہے،حکام کے مطابق گل پلازہ میں تیسرے درجے کی شدید آتشزدگی کے باعث رمپا پلازہ کے ستونوں کو شدید نقصان پہنچا ہےاس صورتحال کے پیش نظر رمپا پلازہ کی انتظامیہ اور دکان مالکان کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ پلازہ کے خطرناک حصوں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے رمپا پلازہ میں کسی بھی غیرقانونی یا غیر اجازت شدہ سرگرمی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

    دوسری جانب ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے کہا ہے کہ 3 روز میں کراچی کی تمام عمارتوں میں فائر سیفٹی آلات نصب کرنا ممکن نہیں،ان کے مطابق اس ضمن میں اس وقت مطلوبہ آلات دستیاب ہی نہیں ہیں۔

    ملک شفیع کھوکھر کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری

    منگل کی شام جاری کی گئی فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ کی تفصیلات بھی منظر عام پر آ گئی ہیں،رپورٹ میں جن عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں سے متعدد عمارتیں 30 سے 35 سال پرانی ہیں، انہوں نے کہا کہ آباد کے اراکین کی جانب سے گزشتہ 15 سے 20 برسوں میں تعمیر کی گئی بیشتر عمارتوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات موجود ہیں تاہم اس سے قبل تعمیر ہونے والی عمارتوں کے بلڈرز کو فائر سیفٹی اقدامات پر عملدرآمد کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کراچی بھر کی عمارتوں میں 3 روز کے اندر فائر سیفٹی سسٹم نصب کرنے کا الٹی میٹم جاری کیا تھ،لاپتا افراد کے لواحقین کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ اتوار کے دن سے ملبہ اٹھایا جانا شروع کیا گیا، ملبے میں کہیں انسانی باقیات تو نہیں جا رہی، ہمیں شک ہے کہیں ایسا نہ ہو۔

    غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت:بحرین نے بھی امریکی دعوت قبول کر لی

  • سانحہ گل پلازہ:سندھ ہائیکورٹ نے حکومت، کمشنر کراچی، کے ایم سی و دیگر کو نوٹس جاری کردئیے

    سانحہ گل پلازہ:سندھ ہائیکورٹ نے حکومت، کمشنر کراچی، کے ایم سی و دیگر کو نوٹس جاری کردئیے

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے سانحہ گل پلازہ کیخلاف درخواستوں پر سندھ حکومت، کمشنر کراچی، کے ایم سی و دیگر کو نوٹس جاری کردئیے۔

    ہائیکورٹ میں سانحہ گل پلازہ کیخلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی درخواستگزاروں کے وکیل ندیم شیخ ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ گل پلازہ شاپنگ مال کراچی کا مصروف کمرشل سینٹر ہے گل پلازہ سانحے میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے سانحہ کے ذمہ داروں کوتعین کرکے کارروائی کا حکم دیا جائے۔

    درخواست گزار بیرسٹر حسن نے موقف دیا کہ سانحہ اداروں کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے حکومت کو نقصان کا تخمینہ کرکے ازالہ کرنے کا حکم دیا جائے واقعے کی مکمل انکوائری کراکے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے عدالت نے سندھ حکومت، کمشنر کراچی، کے ایم سی و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کمشنر کراچی سے 10 فروری تک تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

    امریکا: برفانی طوفان کے باعث 100 سے زائد گاڑیوں کے درمیان تصادم

    درخواستوں میں موقف اپنایا گیا ہے کہ یہ سانحہ صرف ایک حادثہ نہیں تھا بلکہ انتظامیہ کی براہ راست سنگین غفلت، معائنہ میں ناکامی، حفاظتی قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے کا نتیجہ ہے فائر سیفٹی اور بلڈنگ قوانین کو نافذ کرنے میں ناکامی نے انسانی جانوں کو براہ راست خطرے میں ڈالا اور اس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں شفاف انکوائری کے ذریعے غفلت برتنے والے افسران کی معطلی کا حکم دیا جائے۔

    درخواست گزاروں نے کہا کہ ریاستی ذمہ داری کے اصول کے تحت متوفی متاثرین کے خاندانوں کو مناسب معاوضے کی براہ راست ادائیگیاں دی جائیں، مالی نقصانات کے لئے تاجروں اور دکانداروں کو براہ راست ریاستی فنڈ سے معاوضہ دینے کا حکم دیا جائے کراچی بھر کی کمرشل عمارتوں کی فائر سیفٹی کی تعمیل کا حکم دیا جائے عدالتی تحقیقات کروائی جائے اور آئندہ اس طرح کے سانحات سے بچنے کے لئے سندھ فائر سیفٹی ایکٹ 2016 کا سختی سے نفاذ کا بھی حکم دیا جائے۔

    پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر نے برآمدات میں نئی تاریخ رقم کر دی

    درخواستوں میں چیف سیکریٹری، سندھ، ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے ، میئر، کراچی، چیف فائر آفیسر، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، ڈائریکٹر جنرل سندھ ایمرجنسی ریسکیو سروس ریسکیو 1122، ڈپٹی کمشنر، ضلع جنوبی، ڈائریکٹر جنرل محکمہ داخلہ کو فریق بنایا گیا تھا۔

  • گل پلازہ میں 75 افراد کے لاپتا ہونے کی تصدیق ہے، ڈپٹی کمشنر  کراچی

    گل پلازہ میں 75 افراد کے لاپتا ہونے کی تصدیق ہے، ڈپٹی کمشنر کراچی

    کراچی:ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو کا کہنا ہے گل پلازہ میں آگ لگنے کے فوری بعد15 سے 20 منٹ میں ہم نے تین جگہوں سے داخل ہونے کی کوشش کی لیکن آگ میں اتنی شدت تھی کہ کوئی قریب نہیں جا پا رہا تھا-

    گل پلازہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ صبح تیسری اور چوتھی منزل پر ریسکیو اہلکاروں کو بھیجا گیا، تفصیلی سروے کیا ہے لیکن ہمیں کوئی لاش نہیں ملی،گل پلازہ میں آگ لگنے کے فوری بعد15 سے 20 منٹ میں ہم نے تین جگہوں سے داخل ہونے کی کوشش کی لیکن آگ میں اتنی شدت تھی کہ کوئی قریب نہیں جا پا رہا تھا ایم اے جناح روڈ سے ریسکیو اہلکاروں نے داخل ہونے کی کوشش کی اور وہاں سے کچھ لوگوں کو ریسکیو بھی کیا جبکہ اس دوران ہمارے ریسکیو اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

    ڈی سی نے کہا کہ جہاں جہاں سے ہم داخل ہونے کی کوشش کر سکتے تھے وہاں سے داخل ہونے کی کوشش کی گئی، جہاں سے ریسکیو کر سکتے تھے وہاں سے پھنسے ہوئے لوگوں کو ریسکیو کیا،ہمیں شک ہے کہ گل پلازہ عمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی، وہاں راستہ بنا کر ٹیمیں بھیجیں گے، اللہ کرے ہمیں راستہ مل جائے،آگ کی شدت بہت زیادہ اور تیز تھی، اسی وجہ سے یہ مسئلہ درپیش آیا آگ کی شدت کے باعث ریسکیو اہلکار گل پلازہ میں داخل نہیں ہو پا رہا تھا، ہم نے 32 مرتبہ عمارت میں جانے کی کوشش کی ہے۔

    سانحہ گل پلازہ :وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ سندھ کو تعزیتی خط

    ڈی سی کا کہنا تھا کہ ہم نے4 پوائنٹ کی نشاندہی کرکے وہاں ہولز بھی بنائے، بندے بھی بھیجے اور کچھ حد تک اندر بھی گئے لیکن آگ کی شدت کی وجہ سے بندے زیادہ اندر نہیں جا سکےبلڈنگ کا 40 فیصد حصہ گر چکا ہے، ایس بی سی اے کے ماہرین نے معائنے کے بعد بتایا ہے کہ دیگر حصے بھی انتہائی کمزور ہے تاجروں سے گزارش ہے کہ ہم سے تعاون کریں اور ریڈ زون سے دور رہیں۔

    ڈی سی کا کہنا تھا کہ عمارت کے اندر داخل ہوکر سرچنگ کی جائے گی، لاپتا افراد کی فہرست میں 83 نام شامل ہیں جبکہ بعض نام دو بار شامل کر لیے گئے اس لیے 75 افراد کے لاپتا ہونے کی تصدیق ہے، 39 افراد کی لوکیشن گل پلازہ آئی ہے ایس بی سی اے کی ڈی مولش ٹیم ہمارے ساتھ موجود ہے، جو وقتاً فوقتاً ہمیں بتا رہی ہے کہ ہمیں کس طرح آپریشن کرنا ہے چھت پر موجود گاڑیاں اتار کر مالکان کے حوالے کر دی گئی ہیں، کچھ موٹر سائیکلیں موجود ہیں انہیں بھی اتروا لیا جائے گا۔

    بلوچ ماں کے آنسوؤں سے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا پردہ چاک

  • کراچی: نیو سبزی منڈی میں آگ لگ گئی، متعدد دکانیں متاثر

    کراچی: نیو سبزی منڈی میں آگ لگ گئی، متعدد دکانیں متاثر

    کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ کے قریب واقع نیو سبزی منڈی میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں منڈی کے اندر قائم متعدد دکانیں آگ کی لپیٹ میں آ گئیں۔ آگ لگنے کے واقعے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ دھوئیں کے بادل دور دور تک نظر آئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ اور ریسکیو کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے کی کارروائی شروع کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ نے تیزی سے پھیل کر کئی دکانوں کو متاثر کیا، جس کے باعث تاجروں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، تاہم خوش قسمتی سے واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔فائر بریگیڈ حکام کے مطابق بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، جبکہ متاثرہ علاقے میں کولنگ کا عمل جاری ہے تاکہ دوبارہ آگ بھڑکنے کے امکانات کو ختم کیا جا سکے۔ آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی، تاہم ابتدائی طور پر شارٹ سرکٹ یا کسی آتش گیر مواد کے باعث آگ لگنے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • گل پلازہ آتشزدگی ،مفتی تقی عثمانی کا سخت ردعمل، فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    گل پلازہ آتشزدگی ،مفتی تقی عثمانی کا سخت ردعمل، فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    کراچی: ممتاز عالمِ دین مفتی محمد تقی عثمانی نے کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے پوری قوم کے لیے نہایت شرمناک اور سوالیہ نشان قرار دیا، کہا کہ کراچی جیسے بڑے اور اہم شہر میں آگ پر بروقت قابو نہ پایا جانا ایک سنگین انتظامی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔

    ایک بیان میں مفتی تقی عثمانی نے سوال اٹھایا کہ گل پلازہ کے واقعے میں بروقت امدادی کارروائیاں کیوں نہ ہو سکیں اور متاثرین تک فوری مدد کیوں نہیں پہنچ پائی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سانحے کی غیر جانبدار، بے لاگ اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ اصل حقائق قوم کے سامنے آ سکیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ چند ہی گھنٹوں کے دوران قیمتی انسانی جانیں بے بسی اور بے چارگی کی حالت میں ضائع ہو گئیں، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ مفتی تقی عثمانی کے مطابق اس حادثے میں نہ صرف درجنوں خاندان اجڑ گئے بلکہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بے شمار تاجروں کو اربوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جس نے انہیں معاشی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا۔مفتی تقی عثمانی نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ شہری مراکز، خاص طور پر تجارتی عمارتوں میں حفاظتی انتظامات کو فوری طور پر مؤثر، مضبوط اور جدید تقاضوں کے مطابق بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت ناقابلِ معافی ہے۔تاہم انہوں نے ان افراد اور اداروں کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا جنہوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر آخرکار متاثرہ افراد کی جانیں بچانے کی کوشش کی اور امدادی خدمات انجام دیں۔ مفتی تقی عثمانی نے دعا کی کہ اللّٰہ تعالیٰ اس سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کو اعلیٰ درجات عطا فرمائے اور متاثرہ خاندانوں اور تاجروں کو اس عظیم نقصان کا بہتر نعم البدل عطا کرے۔