کراچی: ممتاز عالمِ دین مفتی محمد تقی عثمانی نے کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے پوری قوم کے لیے نہایت شرمناک اور سوالیہ نشان قرار دیا، کہا کہ کراچی جیسے بڑے اور اہم شہر میں آگ پر بروقت قابو نہ پایا جانا ایک سنگین انتظامی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔
ایک بیان میں مفتی تقی عثمانی نے سوال اٹھایا کہ گل پلازہ کے واقعے میں بروقت امدادی کارروائیاں کیوں نہ ہو سکیں اور متاثرین تک فوری مدد کیوں نہیں پہنچ پائی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سانحے کی غیر جانبدار، بے لاگ اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ اصل حقائق قوم کے سامنے آ سکیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ چند ہی گھنٹوں کے دوران قیمتی انسانی جانیں بے بسی اور بے چارگی کی حالت میں ضائع ہو گئیں، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ مفتی تقی عثمانی کے مطابق اس حادثے میں نہ صرف درجنوں خاندان اجڑ گئے بلکہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بے شمار تاجروں کو اربوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جس نے انہیں معاشی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا۔مفتی تقی عثمانی نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ شہری مراکز، خاص طور پر تجارتی عمارتوں میں حفاظتی انتظامات کو فوری طور پر مؤثر، مضبوط اور جدید تقاضوں کے مطابق بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت ناقابلِ معافی ہے۔تاہم انہوں نے ان افراد اور اداروں کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا جنہوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر آخرکار متاثرہ افراد کی جانیں بچانے کی کوشش کی اور امدادی خدمات انجام دیں۔ مفتی تقی عثمانی نے دعا کی کہ اللّٰہ تعالیٰ اس سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کو اعلیٰ درجات عطا فرمائے اور متاثرہ خاندانوں اور تاجروں کو اس عظیم نقصان کا بہتر نعم البدل عطا کرے۔








