Baaghi TV

Category: کراچی

  • میئر کراچی سے امریکہ کی پرنسپل سیکریٹری آف اسٹیٹ کی ملاقات

    میئر کراچی سے امریکہ کی پرنسپل سیکریٹری آف اسٹیٹ کی ملاقات

    میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب سے امریکہ کی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ الزبتھ ہورسٹ اور قونصل جنرل اسکاٹ اربوم نے جمعرات کے روز بلدیہ عظمیٰ کراچی کے صدر دفتر میں ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا،.

    باغی ٹی وی کے مطابق میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے امریکہ کی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ اور قونصل جنرل کو کے ایم سی صدر دفتر آمد پر خوش آمدید کہا اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی۔میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے امریکی وفد کو کراچی کی تاریخی حیثیت اور عمارات سے متعلق آگاہ کیا اور بتایا کہ کراچی میں ٹیکس کے نظام کو بہتر اور شفاف کیا ہے جس سے آمدنی میں اضافہ ہوا ہے، کراچی پاکستان کا معاشی، صنعتی، تجارتی اور فنانشل حب ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کچی آبادیوں میں پروجیکٹ بنائے جاسکتے ہیں، حکومت سندھ نے پانی و سیوریج کی پرانی لائنوں کو تبدیل کرنے کے لئے مالی مدد فراہم کی ہے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی پاکستان کا اقتصادی مرکز اور سب سے بڑا شہر ہے، وقت گزرنے کے ساتھ کراچی کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے،کراچی کو دنیا کے تمام بڑے میٹروپولیٹن شہروں کی طرح متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، ترجیحی مسائل میں فراہمی و نکاسی آب، صحت و صفائی اور انفراسٹرکچر کی ترقی شامل ہیں جن کے حل پر موجودہ حکومت بھرپور توجہ دے رہی ہے اور کراچی کے مختلف اضلاع میں ترقیاتی کاموں کا سلسلہ جاری ہے، انہوں نے کہاکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کو مستحکم ادارہ بنانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں تاکہ شہریوں کو بہتر اور معیاری بلدیاتی سہولیات فراہم کی جاسکیں، انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت سے عمدہ ورکنگ ریلیشن شپ کے باعث کراچی کے کئی ترقیاتی منصوبوں میں صوبائی حکومت مدد کررہی ہے، میئر کراچی نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی معیشت کی بہتری چاہتی ہے اور لبرل سوچ کی حامل سیاسی جماعت ہے جسے عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے، امریکہ کی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ الزبتھ ہورسٹ نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے دوستانہ تعلقات ہیں، متعدد شعبوں میں امریکہ پاکستان کو بھرپور معاونت فراہم کررہا ہے ، تو قع ہے کہ مستقبل میں دونوں ملکوں کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور باہمی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ امریکی قونصلیٹ کے ساتھ رابطہ اور تعاون جاری رہے گا، امریکہ کی پرنسپل ڈپٹی اسٹیٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ الزبتھ ہورسٹ (Elizabeth Horst) اور قونصل جنرل Scott Urbom کو میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کے ایم سی کی یادگاری شیلڈ پیش کی۔

    ڈی جی آڈٹ سندھ نے ماسٹر پلان اتھارٹی کو غیر قانونی قرار دے دیا

    کراچی سے حوالہ ہنڈی کا بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا

    طیارہ حادثہ کیس، کور ٹ کا مختلف اداروں کو جواب داخل کرنے کا حکم

  • کراچی : ڈکیتی کی منصوبہ بندی، خفیہ اطلاع پر 3 ملزمان گرفتار

    کراچی : ڈکیتی کی منصوبہ بندی، خفیہ اطلاع پر 3 ملزمان گرفتار

    ڈکیتی کی منصوبہ بندی کرنے والے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ، ملزمان سے 2 پستول ایک موٹر سائیکل، 5 موبائل فونز برآمد ہوئے.

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی کے علاقے شاہ لطیف سیکٹر 22 میں پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے تین ملزمان کو اسلحے سمیت گرفتار کرلیا۔پولیس نے بتایا کہ پولیس ٹیم اطلاع پر شاہ لطیف میں واقع ہوٹل پہنچی تو ملزمان کھانا کھا رہے تھے، پولیس دیکھ کرملزمان نے فرارکی کوشش کی۔،ایس ایس پی ملیر کاشف عباسی کا کہنا تھا کہ ملزمان ڈکیتی کی منصوبہ بندی کررہے تھے، ملزمان میں فضل،قاسم،عظمت شامل ہیں۔کاشف عباسی نے کہا کہ ملزمان سی2پستول ایک موٹرسائیکل،5موبائل فونزبرآمدہوئے تاہم ملزمان کامجرمانہ ریکارڈچیک کیاجارہاہے اور تفتیش کاعمل جاری ہے۔یاد رہے رواں ماہ کے آغاز میں کراچی میں ناظم آباد پولیس اور شاہین فورس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نجی اسپتال کی لیبارٹری میں ڈکیتی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا.

    ڈی جی آڈٹ سندھ نے ماسٹر پلان اتھارٹی کو غیر قانونی قرار دے دیا

    کراچی سے حوالہ ہنڈی کا بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا

    طیارہ حادثہ کیس، کور ٹ کا مختلف اداروں کو جواب داخل کرنے کا حکم

  • دکھلائے گا یہ وقت کرشمے نئے نئے

    دکھلائے گا یہ وقت کرشمے نئے نئے

    ہے گرم انتخاب کا بازار دیکھنا
    اہل ہوس کے بکنے کی رفتار دیکھنا

    غزل جعفری

    اصل نام :نکہت یاسمین

    تاریخ پیدائش:14 نومبر 1960ء
    جائے پیدائش:کراچی

    تصنیفات
    ایک شعری مجموعہ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ” میں غزل ہوں ” سال اشاعت 1995

    مستقل پتا: گلشنِ اقبال، کراچی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہے گرم انتخاب کا بازار دیکھنا
    اہل ہوس کے بکنے کی رفتار دیکھنا

    ہوں گے ستم کے ہاتھوں گرفتار بے گناہ
    توہین عدل بر سر دربار دیکھنا

    تاریخ اپنے خون سے لکھیں گے پھر ہمیں
    پیدا ہوئے ہیں پھر وہی آثار دیکھنا

    میرے وطن کی آن پہ آنے نہ دے گا آنچ
    کوئی تو ہوگا صاحب کردار دیکھنا

    دکھلائے گا یہ وقت کرشمے نئے نئے
    انسان کو پرکھنے کا معیار دیکھنا

    ہم چاہتے ہیں بزم میں ایسی جگہ ملے
    ممکن ہو تیری سمت لگاتار دیکھنا

    حق بات کہہ گئی ہے بھری بزم میں غزلؔ
    اس دور میں یہ جرأت اظہار دیکھنا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کبھی جو خط مجھے لکھنا محبتیں لکھنا
    برا شگون ہے ہر دم شکایتیں لکھنا
    یہ زیست اور بھی نکھرے گی پیار کرنے سے
    جو میرے ہجر میں گزریں قیامتیں لکھنا
    تقاضہ تم سے کروں گی تو روٹھ جاؤ گے
    پسند کب ہے مجھے بھی شکایتیں لکھنا
    تم آتے جاتے رہو یہ بہت ہے میرے لئے
    نہ آ سکو جو کبھی تم قباحتیں لکھنا
    تم اپنے شعروں میں وہ زندہ لفظ لکھو غزلؔ
    محبتوں سے ہوں پیدا کرامتیں لکھنا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تم جان آرزو ہو نشاط خیال ہو
    کیا دوں بھلا مثال کہ تم بے مثال ہو
    دیکھا ہے جب سے تم کو عجب حال ہے مرا
    لگتا ہے جیسے تم ہی مرے ہم خیال ہو
    ملنے کی آرزو میں کبھی اس طرح ملیں
    دنیا کرے جدا تو بچھڑنا محال ہو
    لائیں کہاں سے جرأت اظہار مدعا
    ایسے میں جبکہ اپنی ہی حالت نڈھال ہو
    میں پھر رہی ہوں سائے کے پیچھے یہ سوچ کر
    شاید کہ اس طرح سے طبیعت بحال ہو
    خود کو غزلؔ اکیلی سمجھتی ہو کس لئے
    یہ کون جانے تم بھی کسی کا خیال ہو

    منقول

  • وزیراعلیٰ سندھ سے اماراتی قونصل جنرل کی ملاقات،قومی دن کی دعوت

    وزیراعلیٰ سندھ سے اماراتی قونصل جنرل کی ملاقات،قومی دن کی دعوت

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے متحدہ عرب امارات کے قونصل جنرل بخیت عتیق الرومیتی نے ملاقات کی اور انہیں یو اے ای کے قومی دن کی دعوت دی۔

    سی ایم ہائوس سے جاری اعلامیے کے مطابق قونصل جنرل نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اپنے قومی دن پر سندھ کی ثقافت کا دن بھی منائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی میں مختلف منصوبوں میں یو اے ای کی کمپنیز کی سرمایہ کاری پر بھی بات چیت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج انویسٹمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور متحدہ عرب امارات کے متعلقہ افسران کی ملاقات طے کروائی ہے،یو اے ای کی کمپنیاں کراچی میں ڈی سیلینیشن پلانٹ، ٹرانسپورٹ ، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں.واضح رہے 2 دسمبر 1971 کو متحدہ عرب امارات قائم ہوئی تھی جس میں تمام ریاستیں جن میں ابوظبی ، دبئی ، شارجہ ، عجمان ، ام القوین ، راس الخیمہ اورفجیرہ متحد ہوئی تھیں جس کے بعد ان ریاستوں کو متحدہ عرب امارات کا نام دیا گیا۔

    کراچی سے حوالہ ہنڈی کا بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا

    طیارہ حادثہ کیس، کور ٹ کا مختلف اداروں کو جواب داخل کرنے کا حکم

    ایک سال میں ساڑھے سات لاکھ افغان مہاجر ملک بدر

  • قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سندھ کا  اجلاس، آئی جی کی بریفنگ

    قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سندھ کا اجلاس، آئی جی کی بریفنگ

    اسمبلی بلڈنگ کراچی میں قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا مختلف ایجنڈے پر اعلی سطحی اجلاس ہوا۔جسکی صدارت چیئرپرسن قائمہ کمیٹی برائے داخلہ فریال تالپور نے کی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس موقع پر کمیٹی کے ممبران میں شامل صوبائی وزیر ضیا الحسن لنجار سمیت ایڈیشنل چیف سیکریٹری برائے داخلہ،آئی جی سندھ، تمام ایڈیشنل آئی جیز، ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز نے شرکت کی۔آئی جی سندھ نے صوبے میں امن وامان کی صورتحال،اسٹریٹ کرائمز کے انسدادی اقدامات سمیت کچے کے ایریاز میں جاری پولیس آپریشن و دیگر ضروری پولیس اقدامات پر تفصیلی بریفنگ میں بتایا کہ کچے کے علاقے میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں نے اب ہنی ٹریپ کی شکل اختیار کرلی ہے تاہم پولیس شہریوں کے تحفظ کے لیئے ہمہ وقت مستعد اور الرٹ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس کے لئے جدید ہتھیاروں کی خرید اور فراہمی پر حکومت سندھ کے مشکور و ممنون ہیں۔اجلاس کو آئی جی سندھ نے مفرور و اشتہاری ملزمان و جرائم میں ملوث دیگر ملزمان کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے رنگین شیشوں،بلیو لائٹس،فیک/فینسی نمبر پلیٹس وغیرہ کے خلاف ٹریفک مہم کی تفصیلات سمیت سی ٹی ڈی کی استعداد کار کے فروغ جیسے اقدامات کے بارے میں بتایا۔آئی جی سندھ نے بتایا کہ ایس فور پروجیکٹ کے تحت 40 ٹول پلازہ پر سی سی ٹی وی کیمرے جرائم کے خلاف فعال ہیں مزید برآں انہوں نے شہریوں کے کوائف کی آن لائن تصدیق،ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا،ای ٹیگنگ،تلاش ایپ اور ہوٹل آئی جیسی سہولیات سے بھی اجلاس کو آگاہ کیا۔
    انکا کہنا تھا کہ سیف سٹی پروجیکٹ پہلے فیز میں داخل ہوچکا ہے۔اس موقع پر آئی جی سندھ نے 400 پراسیکیوٹرز کا مطالبہ کرتے ہوئے بحالی سینٹرز کی ضرورت اور اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔اجلاس میں سوالات جوابات کے سیشن میں آئی جی سندھ نے کہا کہ ایف آئی آر کا ڈیٹا رپورٹڈ ہے اور اسکا سی پی ایل سی کے ڈیٹا سے موازنہ کیا جاسکتا ہے۔چیرپرسن قائمہ کمیٹی برائے داخلہ فریال تالپور کے سوال پر آئی جی سندھ نے مزید بتایا کہ ہمارے پاس بدعنوانی کے کیسز سے نمٹنے کے لیئے شعبہ آئی اے بی انٹرنل اکانٹیبیلٹی بیورو ہے جو ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں پولیس کے خلاف موصول ہونیوالی شکایات پر انکوائری اور مرتکبین کی نشاندھی کرتا ہے۔سوالات و جوابات کے سیشن میں آئی جی سندھ نے کہا کہ کچہ ایریاز کی شاہراہوں پر اب کوئی قافلہ نہیں بنایا جاتا۔اسوقت 485 تھا نوںکو بجٹ دیا جارہا ہیاور ڈی ڈی او کی پاور متعلقہ تھانہ ایس ایچ اوز کے پاس ہے علاوہ اذیں مختص کردہ بجٹ کا آڈٹ بھی کیا جاتا ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ مفرور اور اشتہاریوں کی ای ٹیگنگ معزز عدالت کی اجازت سے مشروط کی جارہی ہے۔سندھ کے 31 تھانوں کی مرمت اور بحالی کا کام جاری ہے جبکہ مزید 50 تھانوں کی بھی جلد مرمت وبحالی کا کام کیا جائیگا۔علاوہ اذیں پولیس کے خلاف شکایات پر 1715 کام کررہا ہے جس پر ایم پی اے فریال تالپور نے کہا کہ ہم جلد ہی 1715 کو آزمائیں گے۔آئی جی سندھ نے کہا کہ پولیس 15 کے اقدامات کو مذید تقویت دی جارہی ہے جبکہ ضروری ہوگیا ہے کہ گھریلو جھگڑوں، تنازعات کی روک تھام کے لیئے قانون وضع کیا جائے۔آئی جی سندھ نے بتایا کہ 30 ہزار پولیس اہلکاروں نے پولیو ڈیوٹی انجام دی۔اجلاس سے فریال تالپور نے پے اسکیل کے حساب سے پولیس ملازمین کی تنخواہوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس ہمارا ہراول دستہ اور فرنٹ لائن فورس ہے۔فرض کی راہ میں ہمارے سپاہی شہید ہوتے ہیں اور غازی بنکر بھی واپس آتے ہیں لہذا انکی تنخواہوں میں اضافہ وقت کی ضرورت ہیایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ حکومت سندھ نے ہیلتھ انشورنس کارڈ فراہم کردیے ہیں تاہم رہائش کی فراہمی بھی اشد ضروری ہے۔حکومت سندھ پولیس کی تنخواہوں میں اضافہ چاہتی ہے جبکہ حالیہ اضافہ بھی صدر پاکستان آصف علی زرداری کی سنجیدہ احکامات کی بدولت ہی ہوا ہے۔جس پر فریال تالہورنے شاباش دی اور کہا کہ یہ ابتدا ہے اور آگے چل کر ان اقدامات کو مزید تقویت دی جائیگی۔ممبر قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سہیل انور سیال نے کہا کہ ایس فور میں نصب کیمرے سے گاڑیوں میں سوار جملہ افراد کی ڈی ٹیکشن کے اقدامات کیئے جائیں جبکہ مفرور اور اشتہاری ملزمان کی تفصیلات تمام اضلاع کو فراہم کی جائیں اور جو ملزمان فوت ہوچکے ہیں انھیں فہرست سے نکالا جائے۔چیئر پرسن فریال تالپور نے آئی جی کو جامع بریفنگ پر شاباش دی اورحکومت سندھ کی جانب سے ہر ممکن سپورٹ کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ آئندہ ہونیوالے اجلاس میں نارکوٹکس پر بات کی جائیگی۔

    کراچی سے حوالہ ہنڈی کا بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا

    طیارہ حادثہ کیس، کور ٹ کا مختلف اداروں کو جواب داخل کرنے کا حکم

    ایک سال میں ساڑھے سات لاکھ افغان مہاجر ملک بدر

  • ڈکیتی اور پاکستان مخالف ٹک ٹاک ، 3 افغان ڈکیتوں کے اہم انکشافات

    ڈکیتی اور پاکستان مخالف ٹک ٹاک ، 3 افغان ڈکیتوں کے اہم انکشافات

    شاہ لطیف سے ڈکیتی اور پاکستان مخالف ٹک ٹاک بنانے والے گرفتار تین ملزمان نے اہم انکشافات سامنے آئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی کے علاقے شاہ لطیف سے گرفتار تین افغان ڈکیتوں نے دوران تفتیش انکشافات کئے ، ملزم قسمت نے انکشاف کہ ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کیلئے کلاشنکوف اویس نامی پولیس اہلکار سے لی تھی، پولیس اہلکار اویس عوامی کالونی تھانے میں تعینات ہے۔ملزم قسمت نے بتایا کہ واردات کیلئے اشرف نامی کباڑی سے پستول لیتے تھے۔پولیس نے کہا کہ گرفتار ملزم کی ڈیفنس کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی، ویڈیو میں ملزم کو سڑک پر گاڑیاں روک کر لوٹ مار کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ تینوں ملزمان کئی سالوں سے کراچی میں رہائشی پذیر ہیں، مرکزی ملزم قسمت خان کا تعلق افغان علاقے غزنی کٹاوازسے ہے جبکہ گرفتار ملزم فضل کا تعلق افغانستان صوبے پکتیا کا رہنے والاہے اور گرفتار اعظم حسین کے مطابق مانسہرہ کا رہائشی ہے۔یاد رہے شاہ لطیف پولیس نے سیکٹر 22 میں ہوٹل سے ملزمان کو گرفتار کیا تھا، بعد ازاں پتہ چلا تھا کہ پاکستان مخالف ٹک ٹاک اور کراچی میں ڈکیتی میں ملوث شاہ لطیف پولیس کے ہاتھوں گرفتار تینوں ڈاکو افغان باشندے ہیں ، افغان ڈکیت ملیر ساوتھ اورایسٹ میں بھی وارداتیں کرچکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق گرفتار ملزمان کراچی پولیس کے لیے شدید نفرت رکھتے ہیں، ایک ویڈیو میں ملزمان نے ساتھی کو پولیس یونیفارم پہنا رکھی ہے پولیس اہلکار کو گولی مار کر بدترین تشدد بھی کیا جارہا تھا۔

    کراچی سے حوالہ ہنڈی کا بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا

    طیارہ حادثہ کیس، کور ٹ کا مختلف اداروں کو جواب داخل کرنے کا حکم

    طیارہ حادثہ کیس، کور ٹ کا مختلف اداروں کو جواب داخل کرنے کا حکم

  • ڈی جی آڈٹ سندھ نے ماسٹر پلان اتھارٹی کو غیر قانونی قرار دے دیا

    ڈی جی آڈٹ سندھ نے ماسٹر پلان اتھارٹی کو غیر قانونی قرار دے دیا

    سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں میگا سٹی کراچی کے ماسٹر پلان اتھارٹی کا ادارہ ایکٹ اور بورڈ آف گورنرز کے بغیر چلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ڈی جی آڈٹ سندھ نے ماسٹر پلان اتھارٹی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے ماسٹر پلان اتھارٹی کو فعال کرنے کے لئے اتھارٹی کا ایکٹ تیار کرنے اور بورڈ آف گورنرز تشکیل دینے کی ہدایت کردی۔سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نثار احمد کھوڑو کی صدارت میں اسمبلی کے کمیٹی روم میں ہوا۔ اجلاس میں کراچی کے ماسٹر پلان اتھارٹی کی سال 2019ع اور 2020ع کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کمیٹی کے رکن قاسم سراج سومرو سمیت ایڈیشنل چیف سیکریٹری بلدیات خالد حیدر شاہ، ڈاریکٹر ماسٹر پلان اتھارٹی،ڈی جی آڈٹ سندھ سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کے کراچی کے میگا سٹی کے متعلق ماسٹر پلان بنانے کے لئے ماسٹر پلان اتھارٹی کا ادارہ 2019ع میں قائم ہوا ہے تاہم 5 سال گذرنے کے باوجود ماسٹر پلان اتھارٹی کا کوئی بھی ایکٹ نہیں بن سکا ہے نہ ہی ماسٹر پلان اٹھارٹی کے لئے بورڈ آف گورنرز تشکیل دیا گیا ہے۔ جس پر ڈی جی آڈٹ سندھ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کے بغیر کسی ایکٹ اور بغیر کسی بورڈ آف گورنرز کے ماسٹر پلان اتھارٹی غیر قانونی اور خودمختار ادارہ نہیں ہے۔اس موقع پر محکمہ بلدیات کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری خالد حیدر شاہ نے پی اے سی کو بتایا کے جب تک ماسٹر پلان اتھارٹی کا ایکٹ بنے تب تک یہ ادارہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ماتحت کام کر رہا ہے۔ چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے ماسٹر پلان اتھارٹی کے ڈاریکٹر سے استفسار کیا کہ ماسٹر پلان اتھارٹی کے کتنے ملازمین ہیں اور ماسٹر پلان اتھارٹی کا ادارہ کیا کام کر رہا ہے۔جس پر ماسٹر پلان اتھارٹی کے ڈاریکٹر نے بتایا کہ ماسٹر پلان اتھارٹی میں گریڈ 19 سے لے کر نچلی سطح تک 50 ملازمین کام کر رہے ہیں اور اتھارٹی کراچی کے انفراسٹکچر کو مد نظر رکھ کر ماسٹر پلان کے تحت آئوٹ لائن جاری کرتا ہے اور عمارتوں کی این او سی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور واٹر بورڈ جاری کرتا ہے جن کی این او سیز کے بنیاد پر ماسٹر پلان اتھارٹی اپنی حتمی این او سی جاری کرتا ہے۔اس موقعے پر کمیٹی کے رکن قاسم سومرو نے کہا کہ کراچی میں بنا کسی پلاننگ کے بلڈرز کو این او سیز جاری کی جا رہی ہیں اور سندھ حکومت کراچی کی سڑکوں کے لئے اربوں روہے خرچ کر رہی مگر ٹینکر مافیا سڑکوں کو تباہ کر رہی ہے،عمارتوں کے نقشے تو منظور ہو رہے ہیں مگر بلڈرز انفراسٹرکچر کو نظر میں نہیں رکھ رہے جس وجہ سے گٹرز ابل رہے ہوتے ہیں۔ بغیر کسی پلاننگ کے نسلہ ٹاور بنا اور نسلہ ٹاور گرنے سے نقصان عوام کا ہوا مگر کارروائی این او سی جاری کرنے والوں کے خلاف ہونی چاہئے تھی۔چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کہ پلاننگ کے بغیر بلڈرز کو عمارتوں کے لئے این او سی جاری نہیں ہونی چاہئے۔ اور یہ کون چیک کرے گا کے بلڈرز کو عمارتوں کی تعمیر کے لئے این او سی درست طریقے سے جاری ہوئی یا نہیں چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کہ ماسٹر پلان اتھارٹی تو نوٹیفائی کی گئی مگر ماسٹر پلان کہاں ہی کراچی شہر میں آبادی کے ساتھ ساتھ عمارتوں کی تعمیر بھی بڑھ رہی ہے جس کے لئے انفراسٹرکچر کو نہیں دیکھا جا رہا ہے اور متعلقہ ادارے این او سی جاری کردیتے ہیں۔اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری بلدیات خالد حیدر شاہ نے پی اے سی کو بتایا کہ 2007ع میں جب کراچی سٹی ڈسٹرکٹ بنا تو اس وقت آخری کراچی کا ماسٹر پلان بنایا گیا تھا اس کے بعد باضابطہ کراچی کا ماسٹر پلان نہیں ہے۔ اجلاس میں پی اے سی چیئرمین نے ہدایت کی کی ماسٹر پلان اتھارٹی کا ایکٹ بنانے اور ماسٹر پلان اتھارٹی کا بورڈ آف گورنرز تشکیل دینے کا کام شروع کیا جائے اور کراچی کا ماسٹر پلان بنایا جائے۔

    کراچی سے حوالہ ہنڈی کا بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا

    میونسپل ٹیکس وصولی، سندھ ہائی کورٹ میں کے الیکٹرک کا جواب جمع

    طیارہ حادثہ کیس، کور ٹ کا مختلف اداروں کو جواب داخل کرنے کا حکم

  • طیارہ حادثہ کیس، کور ٹ کا مختلف اداروں کو جواب داخل کرنے کا حکم

    طیارہ حادثہ کیس، کور ٹ کا مختلف اداروں کو جواب داخل کرنے کا حکم

    سندھ ہائی کورٹ نے پی آئی اے طیارہ حادثہ کیس میں پائلپ کی فلائٹ سیفٹی ریگولیشن سے متعلق درخواست پر مختلف اداروں کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 28 نومبر تک ملتوی کردی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں پی آئی اے طیارہ حادثہ کیس میں پائلپ کی فلائٹ سیفٹی ریگولیشن سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔وفاقی حکومت اور پی آئی اے کی جانب سے تاحال کمنٹس جمع نہیں ہوئے۔ کمنٹس پیش نہ ہونے پر چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل پر برہمی کا اظہار کیا۔عدالت نے استفسار کیا کہ پی آئی اے 2 سال سے زائد مدت کے باوجود کیوں کمنٹس داخل نہ کرسکی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے۔ عدالت نے ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جواب نا آنے پر سیکریٹری ایویشن کو ایک بار پھر نوٹس جاری کردیئے۔ سیکریٹری کو ذاتی طور پر بھی طلب کیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے مختلف اداروں کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 28 نومبر تک ملتوی کردی۔ قومی ایئر لائن کا طیارہ 22 مئی 2020 لاہور سے کراچی آتے ہوئے ائیر پورٹ کے قریب حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔ حادثہ میں 97 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

    پڑوسی کے گھر سے سونا چرا کر خاتون عمرے پر چلی گئی

    وزیراعلی سندھ سے امریکی سیکریٹری کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال

  • ایک سال میں ساڑھے سات لاکھ افغان مہاجر ملک بدر

    ایک سال میں ساڑھے سات لاکھ افغان مہاجر ملک بدر

    ستمبر 2023 میں پاکستانی حکومت کی جانب سے افغان مہاجرین کی واپسی کا حکم نامہ جاری کرنے کے بعد اب تک کم از کم ساڑھے سات لاکھ افغان مہاجرین کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق افغانستان واپس بھیجے گئے مہاجرین کی بھاری اکثریت (88 فیصد) بلاکاغذات مہاجرین پر مبنی تھی۔واپس جانے والے افغان مہاجرین میں صرف 10 فیصد رجسٹریشن کے ثبوت اور 2 فیصد افغان شہریت کارڈ کے حامل افراد تھے۔یہ اعداد و شمار اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں (یو این ایچ سی آر) اور مہاجرت (آئی او ایم) کے امور پر شراکتی اداروں نے حال ہی میں جاری کئے ہیں۔ افغان مہاجرین کی واپسی کے ساتھ ساتھ اس رپورٹ میں ان کی گرفتاریوں اور حراست کے حوالے سے بھی اہم اعداد و شمار شامل ہیں، جن کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں پاکستانی قانون نافذ کرنے کے اداروں نے کم از کم اڑتیس ہزار سے زائد افغان مہاجرین کو گرفتار کیا۔آئی او ایم نے مہاجرین کی گرفتاریوں سے منسلک اعداد و شمار جنوری 2023 میں اکٹھا کرنا شروع کئے (اس سے پہلے ایسی گرفتاریوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا) اور ان کے مطابق گرفتار شدہ افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔افغان مہاجرین کی ملک بدری اور گرفتاریوں کا عروج ستمبر 2023 کا حکم نامہ جاری ہونے کے فورا بعد نومبر 2023 میں دیکھا گیا جب تیئس ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا اور اڑھائی لاکھ سے زیادہ مہاجرین کو ملک بدر کیا گیا۔تاہم حالیہ دو ماہ میں سات لاکھ سے زائد لوگوں کی واپسی کے بعد اس قانون کے نفاذ کو عملی طور پر روک دیا گیا ہے اور مہاجرین کو اپنی بطور مہاجر رجسٹریشن کے دستاویزی ثبوت فراہم کرنے کے لئے جون 2025 تک کا وقت دے دیا گیا ہے۔ اس وجہ سے گزشتہ دو ماہ میں مہاجرین کی ملک بدری میں 54 فیصد کے قریب کمی واقع ہوئی ہے۔

    وزیراعلی سندھ سے امریکی سیکریٹری کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال

  • میونسپل ٹیکس وصولی، سندھ ہائی کورٹ میں کے الیکٹرک کا جواب جمع

    میونسپل ٹیکس وصولی، سندھ ہائی کورٹ میں کے الیکٹرک کا جواب جمع

    سندھ ہائی کورٹ میں کے الیکٹرک نے بلوں میں میونسپل ٹیکس کی وصولی سے متعلق جواب جمع کرادیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق عدالت عالیہ سندھ میں اپوزیشن لیڈر سٹی کونسل جماعت اسلامی سیف الدین ایڈووکیٹ کی درخواست پر میونسپل ٹیکس وصولی کیس کی سماعت ہوئی۔کے الیکٹرک کے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا کہ عدالتی حکم پر عمل کردیا ہے، کے ایم سی سے طے شدہ معاہدے کا جائزہ بھی لیا ہے۔جواب میں سندھ ہائی کورٹ کو بتایا گیا کہ معاہدے کے مطابق ٹیکس کی وصول شدہ رقم کے ایم سی کو ادا بھی کردی ہے۔اس موقع پر درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور اووربلنگ سے عوام پریشان ہیں، ایسے میں بلوں میں میونسپل ٹیکس بھی شامل کردیا گیا ہے۔درخواست گزار نے مزید کہا کہ میئر کراچی نے میونسپل ٹیکس کی وصولی کیالیکٹرک کو آوٹ سورس کردی ہے، مرتضی وہاب نے معاہدہ کرنے میں اپوزیشن سے مشاورتی عمل کو بائی پاس کیا ہے۔

    وزیراعلی سندھ سے امریکی سیکریٹری کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال