Baaghi TV

Category: کراچی

  • لاپتہ افرادکی بازیابی کیلیے اقدامات ہی نہیں کیے تو لکھنے کیا ضرورت ہے؟عدالت

    لاپتہ افرادکی بازیابی کیلیے اقدامات ہی نہیں کیے تو لکھنے کیا ضرورت ہے؟عدالت

    سندھ ہائیکورٹ، ریٹائرڈ ایف آئی اے افسرسمیت 10 سے زائد لاپتہ افراد کی بازیابی کی درخواستوں پر سماعت ہوئی،

    سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے سماعت کی ،درخواست گزار کے وکیل، سرکاری وکیل اور پولیس حکام عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق پولیس کی روایتی کارروائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیریو ٹائپ رپورٹ کاپی پیسٹ کرکے عدالت میں جمع کرادی جاتی ہیں، جب لاپتہ افرادکی بازیابی کے لیے اقدامات ہی نہیں کیے تو لکھنے کیا ضرورت ہے؟ گمشدہ شہری ارسلان کے اہلخانہ کو معاوضہ ادا کر دیا گیا؟ سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ ارسلان کی جبری گمشدگی کا تعین نہیں ہوا، جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب معاوضہ نہیں دینا تو رپورٹ میں کیوں لکھا گیا؟

    ایک اور لاپتہ کیس میں پولیس افسر نے جواب دیا کہ بوٹ بیسن سے حیدر از خود لاپتا ہوگیا، اسے کسی ادارے نے حراست میں نہیں لیا، عدالت نے کہا کہ اگر کوئی خود لاپتا ہوگیا ہے تو بھی تلاش کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، ریاست اپنی ذمہ داری سے منہ نہیں موڑ سکتی ،عدالت نے ایف آئی اے کے ریٹائرڈ افسر کا سراغ لگانے کے لیے بھی فوری جے آئی ٹی اجلاس بلانے کا حکم دے دیا،عدالت نے دیگر لاپتہ افرادکی بازیابی سے متعلق تین ہفتوں میں رپورٹس طلب کرلیں، عدالت نے لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے وفاقی اورصوبائی حکومت کو مؤثر اقدامات کرنے کا حکم بھی دیا.

    فسادات مجھے برطانیہ چھوڑنے پر مجبور کر سکتے ہیں،حمزہ یوسف

    برطانیہ میں نسل پرستی کی لہر: اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ

    برطانیہ میں دوبارہ ہنگامہ: فاشسٹ گروپوں کی جانب سے عمارتوں کو نذر آتش ، لوٹ مار کی گئی

    برطانیہ کے شہر لیڈز میں ہنگامہ آرائی میں ملوث متعدد افراد گرفتار

  • کراچی کی خوشحالی پاکستان کی ترقی کی ضمانت ہے: ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

    کراچی کی خوشحالی پاکستان کی ترقی کی ضمانت ہے: ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

    کراچی کو پاکستان کا چہرہ قرار دیتے ہوئے چیئرمین ایم کیو ایم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اس بات پر زور دیا کہ شہر کی ترقی اور خوشحالی پورے ملک کی ترقی کی ضمانت ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی کی اہمیت کو نظر انداز کرنا دراصل ملک کی تقدیر کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو چھپانے سے نہ صرف شہر کی پہچان مٹ جائے گی بلکہ اس کے ساتھ ملک کی ترقی کا عمل بھی متاثر ہوگا۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی کی خوشحالی پاکستان کی خوشحالی ہے اور اس کو مزید سرسبز و شاداب بنانے کے لیے اربن فاریسٹ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں کم از کم 30 کروڑ درخت لگانے کی ضرورت ہے تاکہ اسے سرسبز بنایا جا سکے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کچھ عناصر کراچی کو صحرا میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر ایم کیو ایم کا عزم ہے کہ وہ اس شہر کو سرسبز جنگل میں تبدیل کر کے رہیں گے، کیونکہ جنگل کا بھی ایک قانون ہوتا ہے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ کراچی پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جو ملک کی مجموعی آمدنی کا 97 فیصد حصہ کما کر دیتا ہے، جبکہ باقی 3 فیصد کا حصہ کہاں سے آتا ہے، اس پر کوئی وضاحت دینے کو تیار نہیں۔ اس کے باوجود ایم کیو ایم اور کراچی کے عوام بغیر کسی حکومتی مدد کے خدمت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے شجرکاری کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے درخت لگانا ضروری ہے۔ انہوں نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خدا کو خوش کرنے کا ایک راستہ شجرکاری مہم بھی ہے، اور اس سے پہلے کہ موسم ہم کو تبدیل کرے، ہمیں خود کو تبدیل کر لینا چاہیے۔
    انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا چیلنج ہے اور ہمیں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے نہ صرف قدرتی وسائل کا تحفظ کرنا ہوگا بلکہ اپنی سوچ اور طرز زندگی کو بھی بدلنا ہوگا۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی کو سرسبز اور خوشحال بنانے کے لیے ایم کیو ایم کی قیادت ہر ممکن قدم اٹھائے گی، اور عوام کی شمولیت کے بغیر یہ مقصد حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ شہر کی بہتری کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، اور ایم کیو ایم کی کوشش ہے کہ کراچی کو پاکستان کا سب سے خوبصورت اور ترقی یافتہ شہر بنایا جائے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس مشن میں ساتھ دیں اور کراچی کو دوبارہ سے روشنیوں کا شہر بنائیں۔

  • کراچی میں کانگو وائرس سے متاثرہ پہلا کیس سامنے آگیا

    کراچی میں کانگو وائرس سے متاثرہ پہلا کیس سامنے آگیا

    کراچی میں کانگو وائرس سے متاثرہ پہلا کیس سامنے آگیا ہے، جس سے شہر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق، 32 سالہ مریض کو تیز بخار اور ڈائریا کی شکایت کے باعث اسپتال لایا گیا تھا، جہاں طبی معائنے کے بعد اس کا کانگو وائرس ٹیسٹ مثبت آیا۔ مریض کو فوری طور پر اسپتال کے آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ اس کی حالت کا بغور جائزہ لیا جا سکے اور مناسب علاج فراہم کیا جا سکے۔جناح اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق، کانگو وائرس جانوروں سے انسانوں میں اور انسان سے دوسرے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی بڑے پیمانے پر آمدورفت کے دوران یہ وائرس اکثر رپورٹ ہوتا ہے، کیونکہ اس موقع پر جانوروں کے ساتھ براہ راست رابطے کی وجہ سے وائرس کے پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
    واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کراچی میں کانگو وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہوں۔ نومبر 2023 میں بھی ضلع شرقی سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ شہری میں کانگو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی، جس سے شہر میں صحت کے حوالے سے مزید احتیاطی تدابیر کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔اسپتال کی انتظامیہ اور محکمہ صحت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جانوروں کے ساتھ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی مشتبہ علامات کی صورت میں فوری طور پر قریبی طبی مراکز سے رجوع کریں۔ کانگو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت اور صحت کے اداروں کی جانب سے اقدامات جاری ہیں، تاہم شہریوں کا بھی فرض ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر پر عمل کریں تاکہ اس مہلک بیماری سے بچا جا سکے۔حالیہ کیس کے بعد محکمہ صحت نے کانگو وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر مختلف اسپتالوں میں خصوصی انتظامات کیے ہیں اور اسپتالوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ کیس کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں اور خود بھی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

  • یو اے ای قونصلیٹ کراچی میں جشن آزادی کی تقریب،آصفہ مہمان خصوصی

    یو اے ای قونصلیٹ کراچی میں جشن آزادی کی تقریب،آصفہ مہمان خصوصی

    یوم آزادی پاکستان کے موقع پر یو اے ای قونصلیٹ کراچی میں جشن آزادی کی مناسبت سے تقریب منعقد ہوئی

    تقریب میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی صاحبزادی، خاتون اوّل پاکستان آصفہ بھٹو زرداری اور ہمشیرہ فریال تالپور نے خصوصی طور پر شرکت کی،تقریب میں یو اے ای اور پاکستان کے مابین بہتر تعلقات کے فروغ میں معاون مختلف شخصیات کو اعلیٰ کارکردگی کے سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے،اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آصفہ بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے مابین دیرینہ اور انتہائی مضبوط تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔

    تقریب میں پاکستان کے جشنِ آزادی کی مناسبت سے اماراتی وزیر برائے بین المذاہب نہیان بن مبارک کا خصوصی پیغام نشر کیا گیا،تقریب میں صحت، تعلیم، کھیل، صحافت، موسمیاتی تبدیلی میں اپنا کردار ادا کرنے والوں، ہوابازی اور ثقافت سمیت مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو تعریفی اسناد دی گئیں

    یو اے ای کی ترقی میں پاکستانیوں کا کلیدی کردار ، دونوں ممالک کی دوستی تاحیات برقرار رہے گی،قونصل جنرل امارات کراچی بخیت عتیق الرومیتی
    گرین پاکستان مہم میں خاتونِ اوّل آصفہ بھٹو اور فریال تالپور نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور گرین پاکستان اینیشیٹو کے تحت یو اے ای قونصلیٹ میں پودا بھی لگایا،اس موقع پر قونصل جنرل بخیت عتیق الرومیتی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے مقابلہ کرنے کے لیے ملک بھر میں درخت لگانے چاہئیں، ہر شہری کو چاہیے کہ وہ اس مہم کا حصہ بنے اور اپنے حصے کا پودہ ضرور لگائے ،قونصل جنرل امارات کراچی بخیت عتیق الرومیتی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور یو اے ای کے مابین 6 دہائیوں سے برادرانہ تعلقات ہیں، یو اے ای کی ترقی میں پاکستانیوں کا کلیدی کردار ہے، دونوں ممالک کی دوستی تاحیات برقرار رہے گی۔

    تقریب کے دوران قرعہ اندازی بھی کی گئی، قرعہ اندازی کے لیے آصفہ بھٹو زرداری کو بلایا گیا ، انہوں نے پرچی نکالی تو وہ‌آصفہ بھٹو کے نام کی ہی نکلی،آصفہ کے ہاتھوں سے نکلنے والی پرچی پر جب ان کا اپنا ہی نام نکل آیا تو ہال قہقہوں سے گونج اُٹھا ،آصفہ نے اپنے نام کے دبئی ریٹرن ہوائی ٹکٹ کی اس پرچی کو منسوخ کر کے دوسرے مہمان کو یہ انعام لینے کا موقع دیا

    آزادی کو عزت و وقار کے ساتھ محفوظ رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں،سروسز چیفس

    یوم آزادی پاکستان،ہر طرف سبزہلالی پرچموں کی بہار

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    پاکستان کے 78ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک بھر میں جشن و مسرت کا سماں

    صدر مملکت آصف علی زرداری کا یوم آزادی پر قوم سے عزم: پاکستان کو خوشحال بنانے کا عہد

    پاکستان کے 78 ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک بھر میں جشن و مسرت کا سماں ہے۔ 14 اگست کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان کے ہر شہر، ہر گاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ملک کے طول و عرض میں سبز ہلالی پرچموں کی بہار نظر آ رہی ہے۔ عمارتوں، گھروں، دکانوں اور گاڑیوں پر قومی پرچم لہرا رہے ہیں، جو قومی یکجہتی اور وطن سے محبت کا عکاس ہیں۔یوم آزادی کے اس جشن نے ایک بار پھر پاکستانیوں کو اپنے ملک سے محبت اور اس کی آزادی کی اہمیت کا احساس دلایا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی ایک انمول نعمت ہے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا۔

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج: کاروباری ہفتے کا آغاز منفی، 100 انڈیکس میں 589 پوائنٹس کی کمی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج: کاروباری ہفتے کا آغاز منفی، 100 انڈیکس میں 589 پوائنٹس کی کمی

    کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز سرمایہ کاروں کو شدید مندی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک 100 انڈیکس میں 589 پوائنٹس کی نمایاں کمی ہوئی۔ اس کمی کے بعد 100 انڈیکس 77,980 پوائنٹس پر بند ہوا۔کاروباری دن کے دوران 100 انڈیکس نے 945 پوائنٹس کے بینڈ میں اتار چڑھاؤ کا مظاہرہ کیا، جہاں اس کی بلند ترین سطح 78,886 پوائنٹس رہی۔ تاہم، دن کے اختتام پر مندی غالب رہی اور انڈیکس میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
    حصص بازار میں 41 کروڑ 51 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے، جن کی مجموعی مالیت 22 ارب 24 کروڑ روپے رہی۔ اس کاروباری مندی کے باعث مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 101 ارب روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد مارکیٹ کیپٹلائزیشن 10,389 ارب روپے رہ گئی۔ماہرین کے مطابق، کاروباری دن کے دوران سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اپنایا، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں منفی رجحان دیکھنے میں آیا۔ عالمی اور مقامی عوامل، جیسے کہ سیاسی غیر یقینی صورتحال اور اقتصادی چیلنجز، اس مندی کا سبب بنے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والی یہ مندی آنے والے دنوں میں مارکیٹ کے استحکام کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتی ہے، اور سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ممکنہ نقصانات سے بچ سکیں۔

  • درگاہ شاہ نورانی روڈ کا پل سیلاب میں بہہ گیا، سینکڑوں زائرین پھنس گئے

    درگاہ شاہ نورانی روڈ کا پل سیلاب میں بہہ گیا، سینکڑوں زائرین پھنس گئے

    حب(باغی ٹی وی رپورٹ) بلوچستان میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ شدید بارشوں کے باعث درگاہ شاہ نورانی روڈ کا پل سیلابی ریلے میں بہہ گیا ہے۔ اس حادثے کے نتیجے میں سینکڑوں زائرین پھنس گئے ہیں اور علاقے میں معمول کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

    درگاہ کے قریب واقع آبادیوں کے مکینوں کو روزمرہ کی اشیاء تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پل کے ٹوٹنے سے علاقے میں آمدورفت مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے جس کے باعث زائرین اور مقامی لوگ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

    خیال رہے کہ درگاہ شاہ نورانی ایک معروف زیارتی مقام ہے اور ملک بھر سے ہزاروں زائرین یہاں آتے ہیں۔ تاہم، پل کے ٹوٹنے سے زائرین کی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔

    متاثرین نے ایم این اے خضدار سردار اختر جان مینگل اور ایم پی اے وڈھ میر جہانزیب مینگل سے اپیل کی ہے کہ وہ پل کی مرمت کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ علاقے میں معمول کی زندگی بحال ہو سکے۔

  • غیر قانونی بھرتی ریفرنس، شاہد خاقان عباسی سمیت  چار ملزمان چار برس بعد بری

    غیر قانونی بھرتی ریفرنس، شاہد خاقان عباسی سمیت چار ملزمان چار برس بعد بری

    احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف پی ایس او میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے کیس میں نیب کی جانب سے ریفرنس واپس لینے کی درخواست منظور کر لی ہے

    کراچی کی احتساب عدالت میں پی ایس او میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے ریفرنس پر سماعت ہوئی، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے نیب حکام کی ریفرنس واپس لینے کی درخواست منظور کرلی اور ریفرنس چیئرمین نیب کو واپس بھیجنے کا حکم دے دیا، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ،ارشد مرزا، یعقوب ستارسمیت چار افراد کو عدالت نے بری کر دیا،نیب حکام کے مطابق شاہد خاقان اور دیگر پر سابق ایم ڈی پی ایس او کی غیر قانونی تعیناتی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام تھا۔

    جن ممالک کے نظام کو دیکھ کر مثالیں دی جاتی ہیں وہاں تین 4 دنوں میں فیصلے ہو جاتے ہیں،شاہد خاقان عباسی
    شاہدخاقان عباسی نے کہا ہے کہ جتنی جلدی نیب کو ختم کیا جائے اتنا بہتر ملک کیلئے ہوگا،چار سال دو ماہ کے بعد نیب نے یہ کہا کہ ہم ریفرنس واپس لیتے ہیں، جج نے چار ملزموں کو بری کر دیا، اس عرصے میں ایک گواہ آیا جو نیب لے کر آئی، اس شخص نے کوئی بات ہمارے خلاف نہیں کی بلکہ جب جج نے پوچھا تو گواہ نے کہا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا،واضح ہو گیا ہے کہ پولیٹیکل انجئنرنگ کے لئے اس طرح کے کیسز شروع کئے جاتے ہیں،جن ممالک کے نظام کو دیکھ کر مثالیں دی جاتی ہیں وہاں تین 4 دنوں میں فیصلے ہو جاتے ہیں،یہ کرپشن نہیں اختیارات کے غلط استعمال کاکیس تھا،عدالت نے فیصلے میں لکھا یہ کیس غلط ہے،4سال 2ماہ بعد نیب نے کہاکہ ریفرنس واپس لیتے ہیں،یہ بھی مہربانی ہے ہمارے نظام کی،آج بھی کامران مائیکل سے یہاں ملاقات ہوئی انکے خلاف بھی اسی طرح کا ریفرنس ہے،جتنی جلدی نیب کو ختم کیا جائے اتنا بہتر ملک کیلئے ہوگا، پہلے بھی میرے اوپر نیب کا ایک کیس نو سال چلتا رہا، جو وکیل اس وقت تھے آج بھی وہی وکیل ہیں وہ بھی بغیر فیس کے، ہم کہتے ہیں کہ نیب ختم کریں ورنہ ملک نہیں چلے گا، عدالت کا ،حکومت کا وقت ضائع ہوتا ہے، حاصل کچھ نہیں ہوتا ،کامران مائیکل کے کیس میں جج نے باربار نیب سے پوچھا کہ کیا جرم ہے،نیب کے پاس کوئی جواب نہیں تھا.

    اداروں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کریں گے تو ملک میں تباہی ہو گی.شاہد خاقان عباسی
    شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو بیٹھ کر تمام معاملات کو دیکھنا ضروری ہے، ہم نے آگے کے معاملات کو بہتر کرنے کیلئے پروگرام شروع کیا ہے ،ہمارے کیسوں میں عمران خان نے دعویٰ کیا کہ لوگوں کو اندر کرا رہا ہوں، وکٹیں گرا رہا ہوں، انکے وزرا بھی یہی کہتے تھے،بعد میں عمران خان نے کہا کہ یہ میں نے نہیں باجوہ نے کروایا، باجوہ کہتے ہیں میں نے نہیں عمران نے کروایا، شہزاد اکبر ملک سے بھاگا اور لندن میں رہ رہا ہے، بھگت تو ہم رہے ہیں، فیصلہ کر لیں کیس کس نے بنائے؟ اگر اس طرح کے معاملات ہوں گے اداروں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کریں گے تو ملک میں تباہی ہو گی.معشیت اس وقت خراب ہوتی ہے جب الیکشن چوری کیے جاتے ہیں۔

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

  • سعودی عرب جانے والی پرواز سے عمرہ زائرین کے بھیس میں 11 مبینہ بھکاری گرفتار

    سعودی عرب جانے والی پرواز سے عمرہ زائرین کے بھیس میں 11 مبینہ بھکاری گرفتار

    ایف آئی اے نے کراچی ایئرپورٹ پر سعودی عرب جانے والی پرواز سے عمرہ زائرین کے بھیس میں 11 مبینہ بھکاریوں کو اتار لیا ہے

    ایف آئی اے حکام کے مطابق 8 خواتین سمیت 11 افراد پر مشتمل گروہ ابتدائی طور پر جعلی ریٹرن ٹکٹ اور ہوٹل بکنگ پر عمرہ ویزوں پر سفر کر رہا تھا،ایف آئی اے حکام نے امیگریشن کے عمل کے دوران مسافروں سے پوچھ گچھ کی جنہوں نے اعتراف کیا کہ وہ بھیک مانگنے کے لئے سعودی عرب جا رہے تھے،ایف آئی اے کراچی سرکل نے مسافروں کو مزید پوچھ گچھ اور قانونی کارروائی کے لیے گرفتار کر لیا۔

    یہ معاملہ سینیٹ تک بھی جا پہنچا، جہاں اوورسیز پاکستانیوں کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں گرفتار پیشہ ور بھکاریوں میں سے 90 فیصد کا تعلق پاکستان سے ہے۔ پاکستانی شہری بھی غیر متناسب طور پر چھوٹے جرائم میں ملوث ہیں، جیسے کہ جیب کتری، سامان چوری کرنے میں ملوث ہوتے ہیں، بھیک مانگتے ہیں، غیرقانونی کام کرتے ہیں، سعودی حکومت نے کئی بار یہ معاملہ پاکستان کے ساتھ اٹھایا ہے.

    گزشتہ سال پیش آنے والے اسی طرح کے ایک واقعے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ملتان ایئرپورٹ پر سعودی عرب جانے والی پرواز سے عمرہ زائرین کے بھیس میں 24 مبینہ بھکاریوں کو اتار لیا تھا، گزشتہ دنوں وزیر داخلہ محسن نقوی نے سعودی سفیر کو بھکاریوں کو سعودیہ بھجوانے والوں کیخلاف کاروائی کی یقین دہانی بھی کروائی تھی، اور بتایا کہ تھا ایف آئی اے کو بھکاریوں کو سعودیہ بھجوانے میں ملوث مافیا کے خلاف بھی ملک بھر میں کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مافیا پاکستان کے امیج کو خراب کر رہا ہے۔

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    مساج سنٹر پر جعلی صحافیوں کے چھاپے اور بلیک میلنگ کے حوالہ سے درخواست پر سماعت

    حیدرآباد پولیس نے بھتہ خوری میں ملوث جعلی صحافی کو بے نقاب کردیا

     شہر قائد کراچی میں جعلی صحافیوں کا ٹولہ جرائم اور چوری میں ملوث نکلا

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

  • کراچی : اٹھائیسویں چیف آف دی نیول اسٹاف اوپن گالف چیمپئن شپ

    کراچی : اٹھائیسویں چیف آف دی نیول اسٹاف اوپن گالف چیمپئن شپ

    رائل پام گالف کلب کے احمد بیگ نے 28ویں چیف آف دی نیول اسٹاف (سی این ایس) اوپن گالف چیمپئن شپ میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پروفیشنل کیٹیگری میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔ احمد بیگ نے 12 انڈر پار کے ساتھ اپنی فتح کو یقینی بنایا، جس نے انہیں اس سال کے چیمپئن کا اعزاز دلایا۔ترجمان پاک بحریہ کے مطابق، مرگلہ گرینز گالف کلب کے شبیر اقبال، جو دفاعی چیمپئن بھی تھے، 9 انڈر پار کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ شبیر اقبال نے اپنے اعزاز کا دفاع کرنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن احمد بیگ کی غیر معمولی کارکردگی کے سامنے کامیاب نہ ہوسکے۔پاکستان نیوی کے محمد عالم نے بھی شاندار کھیل پیش کیا اور 8 انڈر پار کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔
    چیمپئن شپ کے دیگر کیٹیگریز میں بھی سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ امیچرز گراس کیٹیگری میں عمر خالد نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان مارلیا۔ جبکہ سینئر امیچرز گراس کا ٹائٹل اظہر عباس نے اپنے نام کیا۔اسلام آباد کے محمد طارق نے سینئر پروفیشنل کیٹیگری میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ جونئیر پروفیشنل کیٹیگری میں محمد اشاس نے کامیابی حاصل کی اور اپنی محنت اور مہارت سے سب کو متاثر کیا۔چیمپئن شپ کی مجموعی انعامی رقم ایک کروڑ اکیس لاکھ روپے تھی، جس نے اس ایونٹ کو نہ صرف کھلاڑیوں کے لیے بلکہ گالف کے شائقین کے لیے بھی ایک یادگار تجربہ بنا دیا۔ سی این ایس اوپن گالف چیمپئن شپ ہر سال پاک بحریہ کے زیر اہتمام منعقد کی جاتی ہے اور اس کا شمار پاکستان کے بڑے گالف ایونٹس میں ہوتا ہے۔

  • "عوامی پاکستان پارٹی کا نیا منشور: ملکی ترقی کے لیے جامع حکمت عملی کا اعلان”

    "عوامی پاکستان پارٹی کا نیا منشور: ملکی ترقی کے لیے جامع حکمت عملی کا اعلان”

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے موجودہ سیاسی اور معاشی حالات پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی لیڈرشپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل کا حل نکالیں، اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک میں بجلی، گیس، پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی شدید قلت ہے، اور اگر فوری طور پر ان مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو پاکستان کو پانی کے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکمران عوام کی خدمت کے بجائے اقتدار کے حصول کے لیے کوشاں ہیں، جو کہ ایک بدقسمتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کے بنیادی حقوق کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے، اور اگر حکومت عوام کو ان کے حقوق نہیں دے سکتی تو عوام کا اس پر اعتماد اٹھ جاتا ہے۔
    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں پانی کی شدید قلت ہے، اور کراچی جیسے شہر میں پانی کی فراہمی کے لیے ٹینکر مافیا سرگرم ہے، جو کہ ایک بڑی ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پانی کی پائپ لائن بچھائے تاکہ عوام کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کیے جا سکیں۔اس موقع پر عوام پاکستان پارٹی نے اپنا "وژن ڈاکیومنٹ” بھی پیش کیا، جس میں ملک کے تمام بنیادی مسائل کے حل کے لیے ایک جامع حکمت عملی پیش کی گئی ہے۔ اس ویژن ڈاکیومنٹ میں آئین اور قانون کی بالادستی، انسانی حقوق، اور عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر زور دیا گیا ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب کا قانون انتہائی ناقص ہے، جسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں احتساب کے نظام کو بہتر بنایا جانا چاہیے تاکہ عوام کو انصاف مل سکے اور کرپشن کا خاتمہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ عوام پاکستان پارٹی ملک کے ہر شہری کو ذمہ دار بنانے کے لیے شناختی کارڈ کا بہترین نظام استعمال کرے گی، تاکہ ٹیکس کی وصولی کو بہتر بنایا جا سکے اور ملک کو مالی استحکام حاصل ہو۔ان کے خطاب کے بعد تقریب کے شرکاء نے عوام پاکستان پارٹی کے ویژن ڈاکیومنٹ کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ ویژن ملک کے مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوگا۔
    اس موقع پرجماعت کے تنظیمی سیکرٹری مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستانیوں کو دباؤ میں رکھ کر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کے پنجاب میں کردار پر تنقید کی۔مفتاح اسماعیل نے زور دیا کہ ملک میں ایک مساوی قانون ہونا چاہیے جو سب پر یکساں طور پر لاگو ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہر ادارے کا تعلق آئین سے ہونا ضروری ہے۔ آئی پی پیز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ معاہدوں کی تفصیلات کا جائزہ لینا چاہیے، لیکن حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔بجلی کے بلوں کے حوالے سے انہوں نے تجویز دی کہ حکومت ٹیکس کم کرے تو بلوں میں کمی آ سکتی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو مشورہ دیا کہ پی ایس ڈی پی میں کٹوتی سے ترقیاتی منصوبوں پر خاص اثر نہیں پڑے گا۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان میں انسانی وسائل ایک بڑا اثاثہ ہیں اور قومی ترقی کا انحصار لوگوں پر ہے۔ انہوں نے اپنی جماعت کے نظریے کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام ملک کے لیے موزوں نہیں ہے۔ریلوے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کا نقصان عوام کے بجائے ملازمین اور افسران کے فائدے کے لیے برداشت کیا جاتا ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ ایسا نظام لائیں گے جو عوام کے لیے فائدہ مند ہو۔تعلیم کے شعبے پر بات کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ملک میں لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں اور بڑی تعداد میں طلبہ بنیادی خواندگی سے محروم ہیں۔ انہوں نے اساتذہ کی تقرری کے طریقہ کار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اگر آج سائنس کا امتحان لیا جائے تو بہت سے اساتذہ ناکام ہو جائیں گے۔