Baaghi TV

Category: کراچی

  • کمزوری معذوری میں نہیں، معاشرے کی بے حسی میں ہوتی ہے،شازیہ مری

    کمزوری معذوری میں نہیں، معاشرے کی بے حسی میں ہوتی ہے،شازیہ مری

    مرکزی ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز شازیہ مری نے خصوصی افراد کے عالمی دن پر پیغام میں کہا ہے کہ ہر معذور فرد ہمارے معاشرے کا برابر کا حصہ ہے،

    شازیہ مری کا کہنا تھا کہ معذوری ان کی کمزوری نہیں، ان کی طاقت کو پہچاننا ہم سب کا فرض ہے،انہیں ہمدردی نہیں، سہولت اور مضبوط سپورٹ چاہیے، معذور افراد اپنے خوابوں کے ساتھ کھڑے ہیں، ہمیں بس راستے آسان بنانے ہیں،کمزوری معذوری میں نہیں، معاشرے کی بے حسی میں ہوتی ہے، ہمدردی نہیں، حقیقی مدد اور سہولیات مہیا کریں، معذوری کوئی رکاوٹ نہیں، رکاوٹ ہمارا رویہ بنتا ہے، محبت، سہولت اور احترام ہی ان کی اصل ضرورت ہیں، معذور افراد کو سہارا دیں، ترس نہیں، یہی اصل شمولیت ہے، ہمیں معذور افراد کی معاشرے میں شمولیت کے لیے سہولتیں فراہم کرنی ہوں گی،

  • کاشتکاروں کو فوری معاونت فراہم کرنا ضروری ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    کاشتکاروں کو فوری معاونت فراہم کرنا ضروری ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم کاشت کاروں کے امدادی پروگرام کا جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس میں وزیر زراعت سردار محمد مخش خان مہر، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری وزیراعلیٰ عبد الرحیم شیخ، سیکریٹری زراعت محمد زمان ناریجو اور سندھ بینک کے صدر انور شیخ نے شرکت کی، وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ کا کہنا تھا کہ کاشتکاروں کو فوری معاونت فراہم کرنا ضروری ہے،سندھ بینک کھاتے کھولنے، فنڈز کی منتقلی اور تصدیقی عمل میں تیزی برقرار رکھے، فنڈز کی تاخیر سے کئی کاشت کار پہلے ہی بوائی کا اہم وقت گنوا چکے ہیں، پروگرام کے تحت صوبے بھر میں 400,875 کاشتکار رجسٹر کیے گئے ہیں،رجسٹرڈ کسان 1 سے 25 ایکڑ کے درمیان زمین کے مالک ہیں، 338192رجسٹریشنز کی منظوری دی جا چکی ہے،نومبر کے اختتام تک ہزاروں کھاتے کامیابی کے ساتھ فعال کیے جا چکے ہیں، کھاتے کھولنے اور فنڈز کی منتقلی میں تیزی لائی جائے، مستفید ہونے والے کاشتکاروں کو فوری آگاہ کیا جائے،بینکوں اور محکمہ زراعت محکمہ کے درمیان روزانہ ڈیٹا شیئرنگ کا عمل متعارف کرایا گیا ہے،

    وزیراعلیٰ نے حقیقی وقت کے مانیٹرنگ ڈیش بورڈ کا جائزہ لیا،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پروگرام پر عملدرآمد کی ذاتی نگرانی کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ پروگرام کا مقصد کاشتکاروں کو بوائی کے دوران کھاد خریدنے میں سہولت فراہم کرنا ہے، پروگرام کے تمام متعلقہ ذمہ داروں کو بروقت پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی

  • بچے کے گٹر میں گرنے کا واقعہ،تحقیقاتی رپورٹ تیار

    بچے کے گٹر میں گرنے کا واقعہ،تحقیقاتی رپورٹ تیار

    شہر قائد کراچی کے علاقے گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب نجی اسٹور کے سامنے بچے کے گٹر میں گرنے کے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ کے ایم سی نے سیکریٹری محکمہ بلدیات کو بھجوا دی ہے۔

    سینئر ڈائریکٹر میونسل سروسز عمران راجپوت کا کہنا ہے کہ میئر کراچی کے حکم پر میونسپل سروسز نے بچے کی تلاش کا آپریشن شروع کیا،رپورٹ کے متن میں کہا گیا ہے کہ گلشن ٹاؤن کے لنک نالے سے بچے کی لاش برآمد ہوئی، معائنے میں ثابت ہوا حادثے کی وجہ بی آر ٹی تعمیرات تھیں، بی آر ٹی کھدائی نے نالے کا پورا نکاسی نظام شدید نقصان پہنچایا،عارضی دو فٹ کے کور لگا کر گٹروں کو بند کرنے کی کوشش کی گئی تھی، ریڈ لائن منصوبے کی جانب سے ایک جگہ مین ہول کھلا رہنے سے سانحہ ہوا، یہ طریقہ کار اور غیرمعیاری ڈھکن کبھی کے ایم سی نے استعمال نہیں کیے،بی آر ٹی نے کام شروع کرنے سے پہلے کے ایم سی کو آگاہ نہیں کیا، کھدائی بی آر ٹی نے کی اور بعد میں صورتِ حال کو نظر انداز کیا، نجی اسٹور انتظامیہ اور بی آر ٹی کی مشترکہ وجہ سے بچہ گٹر میں گرا، افسران کی نگرانی میں کھدائی شدہ تمام حصے بھر دیے گئے۔

    واضح رہے کہ اتوار کی شب 10 بجے کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب واقع ڈپارٹمیٹل اسٹور سے 3 سالہ بچہ ابراہیم والدین کے ہمراہ نکل کر مین ہول پر کھڑا ہو گیا تھا جس کا ڈھکن نہ ہونے کی وجہ سے عارضی طور پر اسے گتے کی مدد سے بند کیا گیا تھا،اس موقع پر گتہ بچے کا وزن برداشت نہ کر سکا جس کے بعد ابراہیم مین ہول میں گر کر لاپتہ ہوگیا تھا، کھلے مین ہول میں گرنے والے بچے کی لاش 15 گھنٹے بعد ایک کلو میٹر دور نالے سے ملی تھی

  • سندھ ہائی کورٹ،میر مرتضٰی بھٹو قتل کیس کی اپیلوں پرسماعت ملتوی

    سندھ ہائی کورٹ،میر مرتضٰی بھٹو قتل کیس کی اپیلوں پرسماعت ملتوی

    سندھ ہائی کورٹ،میر مرتضٰی بھٹو قتل کیس کی اپیلوں کی سماعت ہوئی

    عدالت میں رپورٹ جمع کروائی گئی بتایا گیا کہ کیس میں متعدد ملزمان انتقال کرچکے ہیں،شاہد حیات، شبیر احمد قائمخانی، آغا محمد جمیل، مسعود شریف کا انتقال ہوچکا ہے، وکیل اپیل کنندہ نے کہا کہ کیس میں نامزد محروم پولیس افسر شاہد حیات کی اپیل میں منسلک دستاویزات پڑھنے کے قابل نہیں ہیں،عدالت نے درست دستاویزات اپیل کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کردی

    مرتضیٰ بھٹو کو 20 ستمبر 1996 میں دو تلوار کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا،واقعے کے دو مقدمات درج کیے گئے تھے ،ایک مقدمہ سرکار جبکہ دوسرا مقدمہ مرتضیٰ بھٹو کے اہلخانہ کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا،ٹرائل کورٹ نے دونوں مقدمات میں تمام ملزمان کو بری کردیا تھا،عدالت نے وکلا کی استدعا پر اپیل کی سماعت 27 جنوری 2026 تک ملتوی کردی

  • مفتی منیب الرحمان کو ڈینگی ہو گیا،ہسپتال داخل

    مفتی منیب الرحمان کو ڈینگی ہو گیا،ہسپتال داخل

    معروف عالم دین اور سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان ڈینگی میں مبتلا ہوگئے۔

    مفتی منیب الرحمان کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج ہیں،مفتی عبدالرزاق نقشبندی کا بتانا ہے کہ اب مفتی منیب کی طبیعت قدرے بہتر ہے اور انہوں نے اسپتال میں نمازیں بھی ادا کیں،مفتی عبدالرزاق نقشبندی کے مطابق ڈاکٹرز نے مفتی منیب کو مکمل آرام کا مشورہ دیاہے، امید ہے کہ ڈاکٹرز مفتی صاحب کو ایک دو دن میں اسپتال سے گھر منتقل ہو نے کی اجازت دے دیں گے،اہلخانہ نے مفتی منیب الرحمان کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔

  • کراچی امتحانات: دفعہ 144 نافذ، غیر متعلقہ افراد  پر پابندی

    کراچی امتحانات: دفعہ 144 نافذ، غیر متعلقہ افراد پر پابندی

    اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت انٹر کے ضمنی امتحانات کے دوران امتحانی مراکز کے اطراف غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    کمشنر کراچی نے دفعہ 144 کے تحت نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بغیر ایڈمٹ کارڈ کے کسی بھی شخص کو امتحانی مرکز میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ مراکز کے دو سو گز کے اندر فوٹو اسٹیٹ مشین چلانا بھی ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق امتحانی اوقات میں موبائل فون اور دیگر برقی آلات کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی۔ امتحانی مراکز کے اطراف غیر ضروری اجتماع اور ہجوم کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔

    سرکاری اعلامیہ میں بتایا گیا کہ کمشنر کراچی نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی پر متعلقہ افراد کے خلاف سیکشن 188 کے تحت مقدمات درج کیے جائیں

    میانمار میں کریک ڈاؤن: 38 پاکستانیوں سمیت سینکڑوں غیر ملکی بازیاب

    واشنگٹن حملہ، امریکا کا 30 ممالک پر سفری پابندیوں پر غور

    سری لنکن صدر کا شہباز شریف سے رابطہ

    سندھ، بلوچستان ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ میں اہم تقرریوں کی منظوری

  • سندھ، بلوچستان ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ میں اہم تقرریوں کی منظوری

    سندھ، بلوچستان ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ میں اہم تقرریوں کی منظوری

    جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے سندھ ہائیکورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ میں مستقل جج کی تقرری کے لیے اہم ناموں کی منظوری دے دی ہے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت کمیشن کے پہلے اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری پر غور کیا گیا، جہاں قائم مقام چیف جسٹس جسٹس ظفر احمد راجپوت، جسٹس اقبال کلہوڑو اور جسٹس محمود اے خان کے نام زیرِ بحث آئے۔ ذرائع کے مطابق کمیشن نے جسٹس ظفر احمد راجپوت کے نام کی منظوری دے دی۔دوسرے اجلاس میں بلوچستان ہائیکورٹ کے مستقل چیف جسٹس کی تقرری کے لیے جسٹس کامران خان ملاخیل، جسٹس اقبال احمد کانسی اور جسٹس شوکت علی درخشانی کے ناموں پر غور کیا گیا، اور ذرائع کے مطابق جسٹس کامران خان ملاخیل کو چیف جسٹس نامزد کر دیا گیا۔

    تیسرے اجلاس میں سپریم کورٹ کے مستقل جج کی تعیناتی پر مشاورت ہوئی، جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین سینئر ججز کے نام شامل تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے ایکٹنگ جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو مستقل جج کے طور پر منظور کر لیا گیا۔کمیشن کے تینوں اجلاسوں کا باضابطہ اعلامیہ جلد جاری کیے جانے کی توقع ہے

    8 جنگیں رکوائیں، روس۔یوکرین جنگ نویں ہوگی،ٹرمپ کا دعویٰ

    یورپی رہنماؤں کی یوکرین کے بغیر امن معاہدے کی تجویز مسترد

    لندن میں ایمبولینس کالز میں ریکارڈ اضافہ، فلو سیزن بدترین قرار

    الیکشن کمیشن، طلال چوہدری کے خلاف کیس کا حکم نامہ جاری

  • مین ہول میں گرکر بچے کی موت،میئر کراچی سمیت دیگر کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    مین ہول میں گرکر بچے کی موت،میئر کراچی سمیت دیگر کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    کراچی کی سیشن عدالت میں نیپا چورنگی کے قریب مین ہول میں گرکر 3 سالہ بچے ابراہیم کے جاں بحق ہونے کے معاملے پر میئر کراچی، ٹاؤن چیئرمین، ایم ڈی واٹر کارپوریشن اور بی آر ٹی کنٹریکٹر و دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی تین مختلف درخواستیں دائر کردی گئیں۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی میں نیپا فلائی اوور کے قریب مین ہول میں گر کر تین سالہ ابراہیم کے جاں بحق ہونےکے معاملے پر تینوں درخواستیں کراچی کے وکلا کی جانب سے دائر کی گئی ہیں،درخواستوں میں مؤقف اپنایا گیا ہےکہ ایدھی فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق رواں سال 23 شہری گٹر میں گرکر جاں بحق ہوئےہیں۔ حالیہ واقعے میں ریسکیو آپریشن روکا گیا، شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہیوی مشینری منگوا کر دوبارہ آپریشن شروع کرایا،درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ نامزد ملزمان کے خلاف قتل بالسبب کا مقدمہ درج کیا جائے، پولیس نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کر رہی ہے، معاملے کی تحقیقات کے لیے ایس پی رینک کے افسر کو مقرر کیا جائے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ اتوار کی رات گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب 3 سال کا بچہ کھلے مین ہول میں گرگیا تھا جس کے بعد ریسکیو اہلکاروں نے بچے کی تلاش شروع کی تاہم وہ ناکام رہے اور ریسکیو آپریشن کو عارضی طور پر روک دیاگیا، ریسکیو آپریشن رکنے کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کےتحت ہیوی مشینری منگوائی اور جائے وقوعہ پر کھدائی کی گئی،کھلے مین ہول میں گرنے والے بچےکی شناخت 3 سال کے ابراہیم ولد نبیل کےنام سے ہوئی، ابراہیم فیملی کے ہمراہ ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں شاپنگ کرنے آیا تھا۔

  • نیپا واقعہ،جس کی بھی ذمہ داری تھی اگر پوری نہیں کی تو سزا ملنی چاہیے،شرجیل میمن

    نیپا واقعہ،جس کی بھی ذمہ داری تھی اگر پوری نہیں کی تو سزا ملنی چاہیے،شرجیل میمن

    صوبائی وزیر شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سیاست آنے جانی والی چیز ہے، انسانی جان زیادہ قیمتی ہے، جس نے غفلت برتی اس کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

    سندھ اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر بچے کے جاں بحق ہونے سے متعلق صوبائی وزیر شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ جس کی بھی ذمہ داری تھی اگر پوری نہیں کی تو سزا ملنی چاہیے، اگر میری ذمہ داری تھی تو مجھے بھی سزا ملنی چاہیے،لواحقین سے اظہار تعزیت کرتا ہوں ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں، ریسکیو کی ٹیمیں وہاں پہنچی تھیں، میئر کراچی بھی گئے تھے، افسوس ہوتا ہے ایسے موقع پر الزامات ایک دوسرے پر لگائے جاتے ہیں، یہ انسانی جانوں کا مسئلہ ہے اس سے بڑھ کر کچھ نہیں، اگر افسران اپنا کام صحیح نہیں کرتے تو پھر ہم ان کو قانون کے دائرے میں سخت سے سخت سزا دیں گے، پندرہ منٹ سے آدھا گھنٹے بعد ریسیکو کا کام شروع کردیا گیا تھا، میئر کراچی بھی پہنچے اور وزیر اعلی نے بھی نوٹس لیا، جس کی بھی ذمہ داری تھی اس کو سزا ملنی چاہیے، یہ مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے،یقین دلاتا ہوں واقعے کے ذمہ داروں کا تعین ہوگا اور ان کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔

  • کراچی میں رینجرز کی تعیناتی میں ایک سال کی توسیع

    کراچی میں رینجرز کی تعیناتی میں ایک سال کی توسیع

    کراچی: سندھ کابینہ نے صوبے کے سب سے بڑے شہر کراچی میں رینجرز کی تعیناتی مزید ایک سال کے لیے بڑھانے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

    یہ فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں کیا گیا، جس میں صوبائی وزرا، مشیروں اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران امن و امان کی مجموعی صورتحال، دہشت گردی کے خطرات اور شہر میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کابینہ کو بتایا کہ رینجرز کی موجودگی سے کراچی میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ اہم کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردی اور سنگین جرائم کے نیٹ ورک کو کمزور کیا گیا ہے۔

    ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق رینجرز انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت اختیارات کے ساتھ پولیس کی معاونت جاری رکھے گی۔رینجرز کو سی ٹی ڈی اور سندھ پولیس کے ساتھ مشترکہ آپریشنز کی مکمل اجازت ہوگی تاکہ شہر میں قیامِ امن کا سلسلہ برقرار رہے۔رینجرز کی تعیناتی کی نئی مدت 9 دسمبر 2025 سے مؤثر ہوگی، یعنی موجودہ تعیناتی ختم ہونے کے بعد فوراً نئی مدت کا آغاز ہوجائے گا۔