Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی؛ مختلف مقامات سے اغواء ہونے والی 4 لڑکیاں بازیاب

    کراچی؛ مختلف مقامات سے اغواء ہونے والی 4 لڑکیاں بازیاب

    کراچی کے مختلف مقامات سے اغواء ہونے والی 4 لڑکیاں بازیاب

    کراچی میں ڈسٹرکٹ جنوبی پولیس نے طارق روڈ کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے مختلف مقامات سے اغواء ہونے والی 4 لڑکیوں کو بازیاب کرالیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 16 سالہ مقدس کو ہیومین انٹیلیجنس او مغویہ ماریہ کو ٹیکنیکل ٹیم کی مدد سے بازیاب کروا لیا، جب کہ اغواء ہونے والی ایمان سید کو بھی بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

    حکام نے بتایا کہ ڈیفنس فیز 7 سے اغوا ہونے والی 22 سالہ لڑکی کو بھی طارق روڈ سے بازیاب کرالیا گیا ہے، لڑکی کے اغوا کا مقدمہ ڈیفنس تھانے میں درج تھا، لڑکی کو سی پی ایل سی کی مدد سے ڈسٹرکٹ ساوتھ پولیس نے طارق روڈ سے بازیاب کرایا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سونا ایک بار پھر مہنگا ہونے لگا
    سوات مینگورہ لینڈ سلائیڈنگ ،چار بچوں کی دب جانے کی اطلاع
    ڈالر 250 روپے کی سطح پر آنے کی پیش گوئی
    توماج صالحی کو احتجاجی مظاہرین کی حمایت پر 6 سال قید
    وفاقی وزیر کے کزن کی گاڑی پر فائرنگ، دو افراد جاں بحق

    پولیس حکام نے بتایا کہ کارروائی کے دوران ملزم قمر شہزاد اور مفرور ملزم نعیم کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جب کہ اغوا میں ملوث تیسرا ملزم سعد فرار ہے، جس کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ادھرر دوسری جانب پولیس نے کچے کے علاقے سے ایس ایچ او کشمور گل محمد اور 2 اہلکاروں سمیت چار مغوی بازیاب کرالئے۔
    4 روز قبل ایس ایچ کشمور گل محمد او اور پولیس اہلکاروں کو کشمور سے اغوا کرلیا گیا تھا، تاہم پولیس نے شکارپور کے کچے کے علاقے میں آپریشن کرکے ایس ایچ او کشمور اور 2 اہلکاروں سمیت چار مغوی بازیاب کرالئے ہیں۔

    گزشتہ روز پولیس حکام نے پولیس اہلکاروں کی بازیابی کے لئے تیغانی قبیلے کے سربراہ سردار تیغو خان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایس ایس پی عرفان سموں کا کہنا تھا کہ اہلکاروں کی بازیابی کے لیے پولیس گڑہی تیغو پہنچ گئی ہے، جب کہ گڑہی تیغو کے داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کردیا گیا ہے۔ ایس ایس پی عرفان سمو نے کہا تھا کہ یا تو مغویوں کو آزاد کریں یا پھر سردار تیغو کو گرفتار کیا جائے گا

  • پی آئی اے ائیرہوسٹس دوران ڈیوٹی  جاں بحق

    پی آئی اے ائیرہوسٹس دوران ڈیوٹی جاں بحق

    پی آئی اے کی ائیرہوسٹس دوران ڈیوٹی حادثے میں جاں بحق ہوگئیں، راشدہ مجید عید کی رات کو لاہور سے سیالکوٹ جاتے وقت ائیرلائن گاڑی کے حادثے میں شدید زخمی ہوئی تھیں جبکہ قومی ایئرلائن پی آئی اے کی ایئرہوسٹس راشدہ مجید دوران ڈیوٹی حادثے میں جاں بحق ہوگئی ہیں، وہ لاہور سے سیالکوٹ جاتے وقت ائیرلائن گاڑی کے حادثے میں شدید زخمی ہوئی تھیں۔

    عید کی رات کو لاہور سے سیالکوٹ جاتے وقت ایئر لائن کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا تھا، جس میں ائیرہوسٹس شدید زخمی ہوئی تھیں، اور انہیں لاہور کے نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں زخموں کو تاب نہ لاتے ہوئے وہ دم توڑ گئیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ایکسپریس ٹرینوں کی وقت کی پابندی 59فیصد سے کم
    عالمی ریٹنگ ایجنسی کی رپورٹ میں پی ٹی آئی احتجاج کا بھی ذکر
    سونا ایک بار پھر مہنگا ہونے لگا
    سوات مینگورہ لینڈ سلائیڈنگ ،چار بچوں کی دب جانے کی اطلاع
    ڈالر 250 روپے کی سطح پر آنے کی پیش گوئی
    دوسری جانب پیپلز یونٹی نے حادثہ کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں نہ لانے پر شدید احتجاج کیا ہے، جب کہ سی بی اے نے ملک کے تمام ائیرپورٹس پر احتجاج کی کال بھی دے دی ہے۔

  • سونا ایک بار پھر مہنگا ہونے لگا

    سونا ایک بار پھر مہنگا ہونے لگا

    ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت میں 800 روپے اضافہ ہوا جس کے بعد فی تولہ قیمت 2 لاکھ 9 ہزار روپے ہوگئی ہے 10 گرام سونا 686 روپے اضافے کے بعد ایک لاکھ 79 ہزار 184 روپے ہوگیا جبکہ عالمی صرافہ میں سونے کا بھاؤ 1925 ڈالر برقرار رہے۔

    دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا مثبت دن رہا، اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز 100 انڈیکس 341 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا تاہم کاروبار کے اختتام پر 337 پوائنٹس اضافے سے 44585 پوائنٹس پر بند ہوا۔ حصص بازارمیں 44 کروڑ شیئرز کے سودے 12 ارب روپے میں طے ہوئے اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن 61 ارب روپے بڑھ کر 6756 ارب روپے ہوگئی۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ایکسپریس ٹرینوں کی وقت کی پابندی 59فیصد سے کم
    علاوہ ازیں ایکس چینج ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئر مین ملک بوستان نے کہا ہے کہ روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں اضافہ عارضی ہے، جلد قیمت 250 روپے کی سطح پر آ جائے گی۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایکس چینج ایسوسی ایشن آف پاکستان نے آئی ایم ایف سے مطلوبہ فنڈ کے اجرا سے ڈالر کی قدر مرحلہ وار 270 روپے اور پھر اس کے بعد 250 روپے کی سطح پر آنے کی پیش گوئی کردی۔

    ملک بوستان نے کہا کہ پیر کو ڈالر کے انٹربینک ریٹ میں اضافہ خالصتاً عارضی نوعیت کا ہے، انٹربینک مارکیٹ میں طویل عرصے سے رکے ہوئے 6 ہزار درآمدی کنٹینرز کی ادائیگیوں اور درآمدات پر عائد غیر اعلانیہ پابندیاں ختم ہونے کے بعد نئی امپورٹ ایل سیز کھلنے سے ڈالر کی ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے اور مطلوبہ ڈیمانڈ پوری ہوتے ہی ڈالر دوبارہ بیک فٹ پر آجائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سے ریمی ٹینسز میں کمی پر تشویش ہے، دنیا بھر میں 10 کروڑ ہنرمند افرادی قوت کی ضرورت ہے، ملک میں ہنرمند افرادی قوت کی تیاری وقت کی اہم ضرورت ہے، اگر ہنرمندوں کو تیار کرکے انہیں بیرون ملک بھیجا جائے تو ملک میں ماہانہ ورکرز ریمی ٹینسز کی آمد کی مالیت 4 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت 250 روپے کی سطح پر آ جاتی ہے تو قوی امکان ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بھی 240 روپے سے نیچے آ جائیں گی اس کے علاوہ دیگر درآمدات کی قیمتوں میں بھی بڑی کمی متوقع ہے۔

  • کندھ کوٹ: ایک ماہ قبل اغواء ہونے والی تینوں لڑکیاں ڈاکوؤں کے چنگل سے بازیاب

    کندھ کوٹ: ایک ماہ قبل اغواء ہونے والی تینوں لڑکیاں ڈاکوؤں کے چنگل سے بازیاب

    سندھ پولیس نے کندھ کوٹ کے علاقے گڑھی تیغو میں آپریشن کرکے ایک قبل قبل اغواء ہونے والی تینوں لڑکیوں کو بازیاب کرلیا۔

    باغی ٹی وی: کندھ کوٹ کچے کے علاقے گڑھی تیغو میں پولیس نے مغویوں کی بازیابی کے لیے رات گئے آپریشن کیا ا آپریشن کےدوران جوابی فائرنگ پر ڈاکو تینوں لڑکیاں چھوڑ کر فرارہوگئےاور تینوں ٹک ٹاکر مغوی لڑکیوں کو بازیاب کرا لیا جن میں میں عارفہ، امبرین اور مسکان شامل ہیں۔

    ایس ایس پی عرفان سمو نے کہا کہ لڑکیاں ڈانسر ہیں، جنہیں ڈیڑھ ماہ قبل شادی کی تقریب کے بہانے کراچی سے لایاگیا تھا دیگر مغویوں کی بازیابی کو بھی جلد یقینی بنایا جائے بازیاب ہونے والی تینوں لڑکیاں تیغانی گینگ کے پاس تھی ڈاکوؤں کی گرفتاری کےلیے بھی علاقے میں سرچ آپریشن کیا جارہا ہے۔

    واضع رہے کہ ایک ایس ایچ او اور دو اہلکار سمیت 45 مغویوں میں سے تین لڑکیاں بازیاب ہوئی ہیں-

    دوسری جانب صادق آباد میں ڈاکوؤں نے پولیس وین پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 3 اہلکار زخمی ہوگئے،ھانہ بھونگ کی حدود میں پولیس وین پر ڈاکوؤں کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس سے تین پولیس اہلکار زخمی ہوگئے، تینوں اہلکاروں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لئے اسپتال منتقل کردیا گیا پولیس کے مطابق علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے، زخمی اہلکاروں میں کانسٹیبل الطاف، لطیف اور کانسٹیبل عدیل شامل ہیں۔

    دوسری جانب گھوٹکی میں انور آباد محلے میں نامعلوم افراد نے اندھ دھند فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق ہوگئے پولیس حکام کے مطابق گھوٹکی کے علاقے انورآباد محلے میں نامعلوم افراد کی فائرنگ میں 3 افراد جاں بحق ہوگئے، جاں بحق ہونے والوں میں 10 سالہ بچی بھی شامل ہے۔

  • پاکستان کی لیجنڈ اور نامور اداکارہ ذہین طاہرہ کا یوم وفات

    پاکستان کی لیجنڈ اور نامور اداکارہ ذہین طاہرہ کا یوم وفات

    ذہین طاہرہ پاکستان کی لیجنڈ اور نامور اداکارہ اور پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا معتبر اور مستند نام تھیں۔

    ذہین طاہرہ پاکستان ٹیلی ویژن کی ایک تجربہ کار اور اولین اداکاراؤں میں سے ایک تھیں۔ انہوں نے فلم کے لیے بھی کام کیا، اداکاری کے علاوہ ذہین طاہرہ پروڈیوسر اور ہدایتکار بھی تھیں۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان اور اسٹیج کے لیے بھی کام کیا ذہین طاہرہ 1949ء میں بھارتی شہر لکھنؤ میں پیدا ہوئیں، مرحومہ 45 برس ٹیلی ویژن سے منسلک رہیں، 700 سے زائد ڈراموں میں اداکاری کی۔

    ذہین طاہرہ پاکستان ٹیلی ویژن کی تاریخ میں انتہائی منجھی ہوئی اور اولین اداکارہ تسلیم کی جاتی تھیں۔ انہوں نے ساٹھ، ستر اور اسی کی دہائیوں میں پاکستان ٹیلی ویژن کراچی مرکز سے بے شمار ڈراموں میں انتہائی جاندار کردار ادا کیے۔ذہین طاہرہ نے سات سو ڈراما سیریز میں مرکزی اور اہم کردار ادا کیے۔

    گوگل کی جانب سے کیلینڈر ایپلی کیشن میں انتہائی اہم فیچر شامل

    انہوں نے چند ایک ٹیلی ویژن سیریز کی ہدایتکاری بھی کی۔ آخری سالوں میں انہوں نے زیادہ تر نجی ٹیلی ویژن چینلوں کے ساتھ کام کیا۔ انہوں پاکستان ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے شوکت صدیقی کے لکھے ہوئے ریکارڈ توڑ ڈرامے خدا کی بستی میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

    کراچی سے تعلق رکھنے والی بے مثال فنکارہ ذہین طاہرہ نے دہائیوں تک پی ٹی وی ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے اور دور حاضر میں وہ پی ٹی وی کی تاریخ کی سب سے سینیئر اور بزرگ اداکارہ مانی جاتی تھیں۔

    ذہین طاہرہ سیکڑوں ڈراموں میں جلوہ افروز ہو چکی ہیں، انہیں پی ٹی وی کے سب سے مقبول ترین ڈرامے ‘خدا کی بستی’ میں بھی کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔

    اس کے علاوہ ذہین طاہرہ نے ’عروسہ‘، ’دستک‘، ’دیس پریس‘، ’کالی آنکھیں‘، ’کہانیاں‘، ’وقت کا آسمان‘، ’ماسی اور ملکہ‘، ’راستے دل کے‘، ’کیسی ہیں دوریاں‘، ’شمع‘، ’دل دیا دہلیز‘، ’چاندنی راتیں‘، ’آئینہ‘، ’تجھ پے قربان‘ سمیت کئی ڈراموں میں کام کیا۔

    ورلڈ کپ ، پاک بھارت میچ کیلئے احمد آباد میں ہوٹلزکی قیمتیں آسمان کو چھونے …

    حکومت پاکستان نے شوبز انڈسٹری کے لیے لازوال خدمات کے اعتراف میں 2013ء میں انہیں تمغائے امتیاز سے بھی نوازا تھا۔ ہم ٹی وی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی 2013ء میں ملا تھا۔

    ہمارے بچپن کی یادوں سے لے کر اب تک ہر ڈرامے کی جان یہ فنکارہ بے پناہ صلاحیتوں کی حامل تھیں۔ ذہین طاہرہ کا تعلق کراچی سے تھا۔ ذہین طاہرہ پی ٹی وی کی تاریخ کی سب سے سینئر اور بزرگ اداکار تھیں جو شروع سے ہی ٹی وی اسکرینوں پر چھائی ہوئی تھیں۔

    انہوں نے تقریبا سات سو سے زائد ڈراموں میں فنکارانہ صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ انہیں پی ٹی وی کے سب سے مقبول ترین ڈرامے ‘خدا کی بستی’ میں کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ دل دیا دہلیز، انوکھا بندھن، خالہ خیرن، جینا اسی کا نام ہے، چاندنی راتیں، شمع، زینت، عروسہ، عجائب خانہ، راستے دل کے اور دیگر لاتعداد کاسیک ڈراموں میں جلوہ گر ہونے کا موقع بھی ملا۔

    اداکارہ ذہین طاہرہ عارضہ قلب کے باعث کافی عرصے سے شدید علیل تھیں۔ پھر اچانک دل کا دورہ پڑنے کے باعث کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج ہوئیں۔ طبیعت زیادہ خراب ہونے کے باعث انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا۔ 9 جولائی 2019ء کو ذہین طاہرہ کی طبیعت رات گئے انتہائی خراب ہوئی جو سنبھل ہی نہ سکی اور وہ انتقال کر گئیں۔ ان کی تدفین کراچی کے پاپوش نگر قبرستان میں کی گئی۔

    مشینی و جدید کاشتکاری اور موسمیاتی سمارٹ فارمنگ کے طریقوں پرمبنی گرین پاکستان انیشیٹیو کا …

  • تجھ سے سب کچھ کہہ کے بھی کچھ ان کہی رہ جائے گی

    تجھ سے سب کچھ کہہ کے بھی کچھ ان کہی رہ جائے گی

    حرص کے طوفاں میں ڈھہ جائیں گے سارے محل
    شہر میں درویش کی اک جھونپڑی رہ جائے گی

    خالد سہیل

    پیدائش:09 جولائی 1952ء
    کراچی، پاکستان
    شہریت:پاکستانی
    تعلیم:ایم بی بی ایس
    مادر علمی:خیبر میڈیکل کالج
    پشاور میموریل یونیورسٹی، کینیڈا
    اصناف:ماہر نفسیات، افسانہ نگاری

    نمایاں کام:
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)مذہب ، سائنس ، نفسیات
    ۔ (2)شائزو فرینیا
    ۔ (3)Love Letters to Humanity
    ۔ (4)Freedom of Religion
    ۔ (5)The art of living
    ۔ in your Green Zone

    ڈاکٹر خالد سہیل مشہور ماہرِ نفسیات، ناول نگار، افسانہ نگار، ادیب اور شاعر ہیں ۔
    حالاتِ زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر خالد سہیل 09 جولائی 1952 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پروفیسرعبدالباسط تھے۔ جو1947 میں امرتسر سے لاہور اور پھر 1954 میں لاہور سے کوہاٹ ہجرت کی۔ وہ گورنمنٹ کالج کوہاٹ میں بھی شعبہِ ریاضی کے استاد رہے۔ ڈاکٹر خالد سہیل نے ابتدائی تعلیم پشاور سے ہی حاصل کی۔ بی ایس سی مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر خالد سہیل نے 1974 میں خیبر میڈیکل کالج پشاور سے ایم بی بی ایس کیا۔

    ایک سال کے ہاؤس جاب کے بعد ایران چلے گئے۔ پھر انہوں نے 1977 میں کنیڈا کی میموریل یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ 1983 میں انہوں نے فیلو شپ ( ایف۔ آر۔ سی۔ پی ) کا امتحان پاس کیا۔ انھوں نے چند سال مختلف ہسپتالوں میں کام کیا۔ وہ 1995 سے لے کر اس وقت تک اپنی نرسوں این ہینڈرسن اور بے ٹی ڈیوس کے ساتھ اپنے(کریٹو سائیکو تھراپی کلینک )میں کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر خالد سہیل نہ صرف بہترین ماہرِ نفسیات اور ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں بلکہ انھیں اردو ادب سے بھی گہرا لگاؤ ہے اور ان کے افسانے، کالم اور شاعری اور تراجم مختلف اخبارات اور مجلوں میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر خالد سہیل کی تقریباً 66 کتب اردو اور انگریزی میں اب تک شائع ہو چکی ہیں۔ ان میں ادبی موضوعات کی بھی کتب ہیں لیکن زیادہ تر کتب نفسیاتی مسائل سے متعلق ہیں۔

    اردوتصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    شاعری
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ 1۔ تلاش(شاعری)
    ۔ 1986
    ۔ 2۔ سمندر اور جزیرے
    ۔ (شاعری)2006

    افسانے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ 1۔ ادھورے خواب
    ۔ (افسانے، مضامین)2013
    ۔ 2۔ زندگی میں خلا (افسانے)
    ۔ 1987
    ۔ 3۔ دو کشتیوں میں سوار
    ۔ (افسانے)1994
    ۔ 4۔ دھرتی ماں اداس ہے
    ۔ (افسانے)1997
    ۔ 5۔ چند گز کا فاصلہ(افسانے)
    ۔ 2013
    ۔ 6۔ ادھورے خواب
    ۔ (افسانے۔ مضامین)2013

    ناول
    ۔۔۔۔۔
    ۔ 1۔ ٹوٹا ہوا آدمی(ناول)1990
    ۔ 2۔ ورثہ(لوک کہانیاں)1993
    ۔ 3۔ دریا کے اس پار
    ۔ (ناولٹ)1997

    مضامین
    ۔۔۔۔۔
    ۔ 1۔ انفرادی اور معاشرتی نفسیات
    ۔ (مضامین اور خطوط)1991
    ۔ 2۔ پگڈنڈیوں پہ چلنے والا مسافر
    ۔ (مضامین۔ انٹرویو)1996[4]
    ۔ 3۔ میرے قبیلے کے لوگ
    ۔ (مضامین)1998

    فلسفہ
    ۔۔۔۔۔
    ۔ 1۔ بھگوان،ایمان،انسان
    ۔ (فلسفہ)1988
    ۔ 2۔ خدا، مذہب اور ہیومنزم
    ۔ (فلسفہ)2006
    ۔ 3۔ انسانی شعور کا ارتقا
    ۔ (فلسفہ)2012

    تراجم
    ۔۔۔۔۔
    ۔ 1۔ سوغات (تراجم)
    ۔ 1987
    ۔ 2۔ مغربی عورت، ادب اور زندگی
    ۔ 1988
    ۔ 3۔ کالے جسموں کی ریاضت
    ۔ (ترجمہ)1990
    ۔ ( ترجمہ خالد سہیل، جاوید دانش)
    ۔ 4۔ اک باپ کی اولاد
    ۔ (مشرقِ وسطیٰ کا ادب)1994
    ۔ 5۔ ہر دور میں مصلوب1995
    ۔ 6۔ اپنا اپنا سچ(سوانح عمری)
    ۔ 2009

    سیاست اور نفسیاتی تجزیئے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ 1۔ امن کی دیوی
    ۔ خلیج کی جنگ(1992)
    ۔ 2۔ سماجی تبدیلی(ارتقا یا انقلاب)
    ۔ 2009
    ۔ 3۔ القاعدہ، امریکا اور پاکستان
    ۔ (سیاست)2011
    ۔ 4۔ اپنا قاتل(سیریل قاتل کی نفسیات)
    ۔ 2003
    ۔ 5۔ شائزو فرینیا
    ۔ (نفسیات)1998
    ۔ 6۔ نفسیاتی مسائل اور ان کا علاج
    ۔ (از خالد سہیل، گوہر تاج) 2011
    ۔ 7۔ مذہب، سائنس، نفسیات
    ۔ 8۔ ہجرت کے دکھ سکھ
    ۔ (از خالد سہیل، گوہر تاج )2016

    آڈیو کتب
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ 1۔ تازہ ہوا کا جھونکا (شاعری)
    ۔ 2۔ چنگاریاں (افسانے)
    ۔ 3۔ دور کی آواز(نظمیں۔ آواز: ترنم ناز)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تجھ سے سب کچھ کہہ کے بھی کچھ ان کہی رہ جائے گی
    گفتگو اتنی بڑھے گی کچھ کمی رہ جائے گی
    اپنے لفظوں کے سبھی تحفے تجھے دینے کے بعد
    آخری سوغات میری خامشی رہ جائے گی
    کشتیاں مضبوط سب بہہ جائیں گی سیلاب میں
    کاغذی اک ناؤ میری ذات کی رہ جائے گی
    حرص کے طوفان میں ڈھہ جائیں گے سارے محل
    شہر میں درویش کی اک جھونپڑی رہ جائے گی
    چھوڑ کر مجھ کو چلے جائیں گے سارے آشنا
    صبح دم بس ایک لڑکی اجنبی رہ جائے گی
    رات بھر جلتا رہا ہوں میں سہیلؔ اس آس میں
    میں تو بجھ جاؤں گا لیکن روشنی رہ جائے گی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ہماری ذات کے جب در کھلے ہیں
    کبھی اندر کبھی باہر کھلے ہیں
    ہمارے گھر میں وہ اپنائیت ہے
    وہاں آ کر کئی بے گھر کھلے ہیں
    خزاؤں میں جو ڈوبے تھے تو ہم پر
    بہاروں کے حسیں منظر کھلے ہیں
    بظاہر وہ بہت ہی کم سخن تھے
    کتابوں میں مگر جوہر کھلے ہیں
    جو بالوں میں سفیدی آ گئی ہے
    تو پھر جا کر کہیں خود پر کھلے ہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سجا سجا سا نئے موسموں کا چہرہ ہے
    خزاں کا حسن بہاروں سے بڑھ کے نکھرا ہے
    رفاقتوں کے سمندر میں شہر بستے ہیں
    ہر ایک شخص محبت کا اک جزیرہ ہے
    سفر نصیب ہوا جب سے شاہراہوں پر
    تو فاصلوں کا بھی احساس مٹتا جاتا ہے
    ہمارے دور کی تاریکیاں مٹانے کو
    سحاب درد سے خوشیوں کا چاند ابھرا ہے

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    خواب نگر
    ۔۔۔۔۔
    میرا من اک خواب نگر ہے
    میرے من کی گلیوں، بازاروں اور چوراہوں میں
    لفظوں، رنگوں اور خوشبوؤں کی
    ہلکی ہلکی بارش ہوتی رہتی ہے
    میرا من اک خواب نگر ہے
    میرے من میں
    چاہ کے چشمے
    امن کی نہریں
    آس کے دریا
    پیار سمندر
    ہر سو بہتے رہتے ہیں
    جن میں نہا کر
    اپنے بھی بیگانے بھی
    دانائی کی دھوپ میں لیٹے
    سحر زدہ سے رہتے ہیں
    میرا من اک خواب نگر ہے
    میرے من میں
    درویشوں کا ڈیرا بھی ہے
    اس ڈیرے پر
    شاعر، صوفی، پاپی، دانا سب آتے ہیں
    کچھ سپنے وہ لے جاتے ہیں
    کچھ سپنے وہ دے جاتے ہیں
    ان سپنوں کی دھرتی سے جب
    غزلوں، نظموں، گیتوں کے کچھ
    پھول کھلیں تو برسوں پھر وہ
    خواب نگر کو مہکاتے ہیں
    میرا من اک خواب نگر ہے
    میرے من کی گلیوں، بازاروں اور چوراہوں پر
    لفظوں، رنگوں اور خوشبوؤں کی
    ہلکی ہلکی بارش ہوتی رہتی ہے

  • آج مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کا یوم وفات منایا جارہا ہے

    آج مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کا یوم وفات منایا جارہا ہے

    کراچی: قائداعظم محمد علی جناح کی بہن اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی 56 ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔

    باغی ٹی وی: حصولِ پاکستان کی جدوجہد میں مسلمان عورتوں میں زندگی کی نئی روح پھونکنے والی مادرِ ملت محترمہ فاطمہ کو دنیا سے رخصت ہوئے 56 سال گزر گئے، فاطمہ جناح 31 جولائی 1893 کو کراچی میں پیدا ہوئیں فاطمہ جناح بچپن سے زندگی کے آخری لمحات تک اپنے بھائی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ ساتھ رہیں اور قوم کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیامادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح 73 برس کی عمر میں 9 جولائی 1967 کو کراچی میں وفات پاگئیں، وہ اپنے عظیم بھائی کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک ہیں،جہاں‌ ہر سال ان کی برسی کے موقع پر خصوصی طور پر لوگ فاتحہ خوانی کے لیے جاتے ہیں۔

    پاکستان کی عظیم خاتون رہنماء مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی قومی خدمات کی کہیں نظیر نہیں ملتی، انہوں نے اپنے بھائی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے شانہ بشانہ وطن عزیزاور پاکستانی قوم کے لئے اپنی زندگی وقف کردی تھی،فاطمہ جناح نے قائدِاعظم کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے برصغیر کی مسلمان خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے حصولِ پاکستان کی منزل کو آسان بنایا اور ان کی گراں قدر خدمات پر انھیں مادرِ ملت کا خطاب دیا گیا-

    محترمہ فاطمہ جناح نے کراچی میں قائم قائد اعظم ہاؤس میں اپنی زندگی کے 17 برس گزارے، یہ جگہ ماضی میں فلیگ اسٹاف ہاؤس کہلاتی تھی،قائد اعظم محمد علی جناح 1944 سے تا وفات اسی میں رہائش پذیر رہے، جبکہ ان کی ہمشیرہ فاطمہ جناح یہاں 1964 تک رہائش پذیر رہیں۔ یہ عمارت حکومت پاکستان نے 1985ء میں اپنی تحویل میں لے لی،محترمہ فاطمہ جناح نے سابق صدر جنرل (ر) ایوب خان کے خلاف اسی عمارت سے الیکشن لڑا، ان کا انتخابی نشان لالٹین اب بھی یہاں محفوظ ہے۔

    ان کے ڈریسنگ روم میں آج بھی محترمہ کے زیر استعمال پرفیوم اور بیڈ روم میں ان کی چپل اور دیگرسامان بھی موجود ہے۔ جن گاڑیوں میں انہوں نے سفر کیا وہ بھی اس میوزیم میں محفوظ کی گئی ہیں۔

  • کراچی میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری،مزید بارش کی پیشگوئی

    کراچی میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری،مزید بارش کی پیشگوئی

    کراچی کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے شہر میں آج بھی وقفے وقفے سے بارش کی پیشگوئی کی ہے۔

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی شہر کا موسم آج ابر آلود رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ تیز بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات نے کراچی میں 7 سے 11 جولائی تک بارشوں کی پیشگوئی کررکھی ہے۔ آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 سے 36 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ کراچی میں گزشتہ روز سُپر ہائی وے، اسکیم 33، صفورا چورنگی اور ملحقہ علاقوں میں بارش ہوئی۔ اس کے علاوہ گرومندر، سپرہائی وے، گلشن معمار، سرجانی ٹاؤن، ملیر اور گلشن اقبال میں بھی بارش ریکارڈ کی گئی،کراچی کے مختلف علاقوں ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، ایف بی ایریا اور ملحقہ علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔ ملیر ماڈل کالونی، گلستان جوہر، سچل گوٹھ اور ائیرپورٹ کے اطراف بھی بادل برسے۔

    ماسکو سےتجارتی سامان لے کر مال بردار گاڑیاں طورخم کے راستے پاکستان میں داخل

    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے رات گئے بارش کے بعد شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ اولڈ سٹی ایریا، کلفٹن اور متصل علاقوں میں بارش کے پانی کو کلیئرکردیا گیا ہے۔ ضلع جنوبی کے بعد شہر کے مختلف علاقوں کا جائز ہ لینے نکلا ہوں میٹروپول سے ایئرپورٹ تک شاہراہ فیصل کا معائنہ کیا ہے۔ فلک ناز کا روایتی چوکنگ پوائنٹ بھی کلیئر ہے۔ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام ٹیمیں اور مشینری سڑکوں پر موجود ہے۔

    فارمولا دودھ کی فروخت ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر نہیں ہو گی،وزیر صحت سندھ

    دوسری جانب موسلادھار بارش کے باعث گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، بہاولنگر، اوکاڑہ اور زیریں سندھ میں ٹھٹھہ، بدین، تھر پارکر، نگر پارکر، اسلام کوٹ، مٹھی، چھور، حیدرآباد، جامشورو اور کراچی کے نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہےجبکہ مری، گلیات، کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ ہوسکتی ہیں تیز بارش سے کشمیر، ڈیرہ غازی خان، کوہلو، سبی اور بارکھان کے پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔

    زلفی بخاری کے وارنٹ گرفتاری جاری

  • فارمولا دودھ کی فروخت ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر نہیں ہو گی،وزیر صحت سندھ

    فارمولا دودھ کی فروخت ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر نہیں ہو گی،وزیر صحت سندھ

    وزیر صحت سندھ ڈاکٹر افضل پیچوہو نے بریسٹ فیڈنگ قانون کے مسودے میں تبدیلی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ فارمولا دودھ کی فروخت صرف میڈیکل اسٹورز پر ہوگی اور ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر نہیں ہو گی۔

    باغی ٹی وی : قانون میں ترمیم کے تحت نوزائیدہ بچوں کو فارمولا دودھ صرف ڈاکٹر کی ہدایت پر دیا جائے گا وزیر صحت سندھ نے کہا ہے کہ پروٹیکشن اینڈ پروموشن آف بریسٹ فیڈنگ اینڈ ینگ چائلڈ نیوٹریشن ایکٹ 2023 میں مجوزہ ترامیم پر قائم ہیں اس معاملے پر بے بی فوڈ انڈسٹری کے نمائندوں اور وزیر صحت کی چند روز قبل ہونے والی ملاقات بے نتیجہ رہی-

    سیالکوٹ : پولیس کی کارروائی ۔22 لاکھ روپے مالیت کی ہیروئن برآمد ، …

    قانون میں ترمیم کے تحت 36 ماہ تک کے بچوں کے دودھ کو فارمولا دودھ سمجھا جائے گا۔ نوزائیدہ بچوں کو فارمولا دودھ صرف ڈاکٹر کی ہدایت پردیا جائے گا،حکام کے مطابق پاکستان ہر سال 40 کروڑ ڈالر کا فارمولا دودھ درآمد کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ سندھ کابینہ نے کچھ روز قبل پروٹیکشن اینڈ پروموشن آف بریسٹ فیڈنگ اینڈ ینگ چائلڈ نیوٹریشن ایکٹ 2023 میں ترمیم منظور کی تھی۔

    گوجرخان: مبینہ پولیس مقابلہ ،2گرفتارڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی

    یاد رہے کہ چند سال قبل عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ایمرجنسی فنڈ برائے اطفال (یونیسیف) کی مشترکہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک دودھ پلانے کے تجویز کردہ معیار پر پورا نہیں اترتا اور 194 میں سے صرف 23 ممالک میں دودھ پلانے کی شرح 60 فیصد سے زیادہ ہے چھاتی کے دودھ پلانے کے ابتدائی آغاز میں پاکستان 18 فیصد پر ہے اور صرف 37.7 فیصد مائیں 6 ماہ تک اپنا دودھ پلاتی ہیں۔

    2017 میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے فرانس سے درآمد شدہ اور دو مقامی کمپنیوں کے ذریعے مارکیٹ میں آنے والے انتہائی نقصان دہ بچے کے دودھ کو مارکیٹ سے واپس لینے کی ہدایت کی تھی۔

    خاکروب کی معمولی غلطی سے امریکی لیبارٹری میں 20 سال کی سائنسی تحقیق ضائع

    یہ حکم اس وقت جاری کیا گیا جب فرانسیسی حکومت نے انتہائی حساس بیکٹیریا پر مشتمل دودھ کو صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا جو بچوں میں طویل ڈائریا اور پیٹ سے متعلقہ بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔

    فرانسیسی حکومت نے اپنے مینوفیکچرر کو حکم دیا تھا کہ وہ دنیا بھر سے اپنی تمام مصنوعات واپس منگوائے اور اپنے صارفین کو معاوضہ ادا کرے جو بیشتر پاکستان سمیت 7 ممالک میں ہیں۔

  • ایک طرف 15 سالہ تباہی تو دوسری جانب 4 سالہ ترقی و خوشحالی ہے،ایم کیو ایم

    ایک طرف 15 سالہ تباہی تو دوسری جانب 4 سالہ ترقی و خوشحالی ہے،ایم کیو ایم

    ایم کیو ایم پاکستان نے پیپلزپارٹی کے رہنما وقار مہدی کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں مکمل کردہ منصوبوں کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی: ترجمان ایم کیو ایم نے کہا کہ پیپلزپارٹی رہنما دنیا کے 3 کامیاب ترین میئرز میں سے ایک پر کس منہ سے تنقید کررہی ہے ، ایک طرف 15 سالہ تباہی تو دوسری جانب 4 سالہ ترقی و خوشحالی ہے، مصطفٰی کمال کے دور میں کراچی تیزی سے ترقی کر رہا تھا اس دور کے ترقی یافتہ کراچی نے پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا تھا، بدقسمتی سے 2008 کے بعد ایک نام نہاد جاگیردارانہ و سرمایہ دارانہ جمہوری دور شروع ہوا۔ 2008 کے بعد سے شروع ہونے والے اس وڈیرہ شاہی دور کی تباہ کاریاں آج تک جاری ہیں۔

    اسمبلی ختم کر دیتے تو آئی ایم ایف اور دیگر امداد کا سلسلہ رک جاتا،خواجہ …

    ترجمان نے کہا کہ فیوڈل مائنڈ سیٹ نے پھر سے سامراجی دور کا بلدیاتی نظام نافذ کرکے عوامی نمائندوں کے تمام اختیارات اور وسائل سلب کرلیے، پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے اربوں روپے کے منصوبے صرف فائلوں کی حد تک مکمل کیے پیپلزپارٹی دور میں مکمل کیے گئے تمام نام نہاد ترقیاتی منصوبوں کی شفاف انکوائری کی جانی چاہیئے، سندھ میں گزشتہ 15 برسوں میں کرپشن تمام حکومتی اداروں کو دیمک کی طرح چاٹ گئی ہے-

    ماسکو سےتجارتی سامان لے کر مال بردار گاڑیاں طورخم کے راستے پاکستان میں داخل

    قبل ازیں سید مصطفی کمال نے کہا تھا کہ شہر کو گزشتہ پندرہ برس میں پیپلز پارٹی نےتباہ وبرباد کردیا ہے، لوگ آج پینے کے صاف پانی کو ترس رہےہیں کراچی پاکستان کو ستر فیصد سے زائد ریونیو دیتا ہے، ایم کیو ایم کے دور نظامت میں کراچی میں جو ترقی ہوئی وہ پھر کبھی نا ہوسکی، ہماری نظامات کے دور میں شہر خوشحال اور سب کے معاشی حالات بہتر ہوئےاللہ پاک نے مجھ سے کراچی کو دوبارہ تیزی سے ترقی کرنے والے شہروں میں شمارکروایا ملک میں اس وقت ناامیدی کی کیفیت ہے اور بے یقینی کی وجہ سے معیشت تباہ ہورہی ہے حکمرانوں کو عوام کی کوئی فکر نہیں ہے-

    میکڈونلڈز نےبھارت میں اپنےکھانے کی تیاری میں ٹماٹرکا استعمال بند کردیا