Baaghi TV

Category: کراچی

  • معروف شاعر سید اعجاز علی رحمانی

    معروف شاعر سید اعجاز علی رحمانی

    کبھی نصیب ہو فرصت تو اس کو پڑھ لینا
    وہ ایک خط جو ترے نام چھوڑ آیا ہوں

    نام سید اعجاز علی رحمانی اور تخلص اعجاز ہے۔ 12 فروری 1940ء کو علی گڑھ میں پید اہوئے۔ آپ کے والدہ اور والد کا کم عمری میں انتقال ہوگیا ، اس وجہ سے پرائمری اور دینی تعلیم علی گڑھ میں حاصل کرسکے۔ 1954ء میں پاکستان آگئے۔ کراچی آنے کے بعد ادیب اور ادیب فاضل کے امتحانات پاس کیے اور ابراہیم انڈسٹری ، عثمان آباد کراچی میں ملازم ہوگئے۔

    اپنے ایک عزیز فضا جلالوی کے ایما پر قمر جلالوی کے شاگرد ہوگئے۔ مقامی روزنامے میں روزانہ قطعات لکھتے رہے۔ ایک نعت گو کی حیثیت سے انھیں نمایاں مقام حاصل ہے۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’اعجاز مصطفی‘‘، ’’پہلی کرن آخری روشنی‘‘(نعتیہ مجموعے)، ’’کاغذ کے سفینے‘‘، ’’افکار کی خوشبو‘‘، ’’غبار انا‘‘، ’’لہو کا آبشار‘‘، ’’لمحوں کی زنجیر‘‘(غزلوں کے مجموعے)، ’’چراغ مدحت‘‘، ’’جذبوں کی زبان‘‘، ’’خوشبو کا سفر‘‘۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:311،26 اکتوبر 2019ء کو کراچی میں وفات پا گئے-

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گا
    سورج کو سمندر میں اترنا ہی پڑے گا
    فطرت کے تقاضے کبھی بدلے نہیں جاتے
    خوشبو ہے اگر وہ تو بکھرنا ہی پڑے گا
    پڑتی ہے تو پڑ جائے شکن اس کی جبیں پر
    سچائی کا اظہار تو کرنا ہی پڑے گا
    ہر شخص کو آئیں گے نظر رنگ سحر کے
    خورشید کی کرنوں کو بکھرنا ہی پڑے گا
    میں سوچ رہا ہوں یہ سر شہرِ نگاراں
    یہ اس کی گلی ہے تو ٹھہرنا ہی پڑے گا
    اب شانۂ تدبیر ہے ہاتھوں میں ہمارے
    حالات کی زلفوں کو سنورنا ہی پڑے گا
    اک عمر سے بے نور ہے یہ محفلِ ہستی
    اعجازؔ کوئی رنگ تو بھرنا ہی پڑے گا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
    دیا جلا کے سر شام چھوڑ آیا ہوں
    کبھی نصیب ہو فرصت تو اس کو پڑھ لینا
    وہ ایک خط جو ترے نام چھوڑ آیا ہوں
    ہوائے دشت و بیاباں بھی مجھ سے برہم ہے
    میں اپنے گھر کے در و بام چھوڑ آیا ہوں
    کوئی چراغ سر رہ گزر نہیں نہ سہی
    میں نقش پا کو بہر گام چھوڑ آیا ہوں
    ابھی تو اور بہت اس پہ تبصرے ہوں گے
    میں گفتگو میں جو ابہام چھوڑ آیا ہوں
    یہ کم نہیں ہے وضاحت مری اسیری کی
    پروں کے رنگ تہہ دام چھوڑ آیا ہوں
    وہاں سے ایک قدم بھی نہ جا سکی آگے
    جہاں پہ گردشِ ایام چھوڑ آیا ہوں
    مجھے جو ڈھونڈھنا چاہے وہ ڈھونڈھ لے اعجازؔ
    کہ اب میں کوچۂ گمنام چھوڑ آیا ہوں

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    ابھی سے پاؤں کے چھالے نہ دیکھو
    ابھی یارو سفر کی ابتدا ہے

    تالاب تو برسات میں ہو جاتے ہیں کم ظرف
    باہر کبھی آپے سے سمندر نہیں ہوتا

    وہ ایک پل کی رفاقت بھی کیا رفاقت تھی
    جو دے گئی ہے مجھے عمر بھر کی تنہائی

    گزر رہا ہوں میں سودا گروں کی بستی سے
    بدن پہ دیکھیے کب تک لباس رہتا ہے

    فطرت کے تقاضے کبھی بدلے نہیں جاتے
    خوشبو ہے اگر وہ تو بکھرنا ہی پڑے گا

    جہاں پہ ڈوب گیا میری آس کا سورج
    اسی جگہ وہ ستارہ شناس رہتا ہے

  • خواتین کے قومی دن پر وفاقی وزیرشیری رحمان کا پیغام

    خواتین کے قومی دن پر وفاقی وزیرشیری رحمان کا پیغام

    خواتین کے قومی دن پر وفاقی وزیرشیری رحمان نے خواتین کو خراج تحسین پیش کیا ہے-

    باغی ٹی وی:ہر سال 12 فروری کو پاکستانی خواتین کاقومی دن منایا جاتا ہے اسی مناسبت سے وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی اور سینیٹر شیری رحمان نے جاری پیغام میں کہا کہ ملک کی تمام باہمت، محنتی اور بہادر خواتین کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں، ملک کی 49 فیصد آبادی عورتوں پر مشتمل ہے-

    وزیر اعلی بلوچستان کے استعفی بارے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا

    رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہماری جرات مند عورتیں ہی پاکستان کی دستاویزی اور غیر دستاویزی معیشت کا پہیہ چلاتی ہیں،ہماری عورتیں ملک کا سرمایہ ہی نہیں سہارا بھی ہیں، لیڈی ہیلتھ ورکرز ہو یا بی آئی ایس پی ، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوامی اور انقلابی منصوبوں کا آغاز کیا-

    شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام کے ذریعے صوبہ سندھ کی خواتین ترقی کی نئی مثال قائم کر رہی ہیں،ہماری خواتین ایک خود کفیل معاشرے کی بنیاد ڈال رہی ہیں-

    واضح رہے کہ 12 فروری 1983 کو لاہور ہائیکورٹ کے سامنے خواتین، وکلا، اساتذہ، ادیب، شعرا اور انسانی حقوق کے کارکنوں اور خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے ضیا الحق کے نافذ کر دہ مار شل لا کے خلاف جلوس نکالا۔ یہ احتجاجی جلوس اس وقت پاکستان میں لگی ہوئی جبری پابندیوں، حدود آرڈیننس اور عورتوں کے خلاف امتیازی قوانین مثلاً قانون شہادت کے خلاف نکالا گیا۔ اس پُر امن مظاہرے پر پنجاب پولیس اور خفیہ اہلکاروں نے بھرپور تشدد کیا اور نہتے عوام پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ خواتین کو متحد ہونے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کیا تاکہ وہ اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے جدو جہد کر سکیں۔

    سندھ اسمبلی میں نجی طور پر سود کے کاروبار کیخلاف بل پیش کردیا گیا

    عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ویمن ایکشن فورم نے قانون شہادت میں ترمیم کے خلاف 12 فروری 1983 کو جلوس نکالنے کا اعلان کیا۔ لاہور کی عورتوں نے پنجاب اسمبلی کے مقابل فری میسن بلڈنگ کے سامنے جمع ہونا تھا۔ یہاں سے انہیں چند سو گز کے فاصلے پر لاہور ہائی کورٹ جا کر چیف جسٹس کو ایک یاد داشت پیش کرنا تھی۔ اس مظاہرے پر حکومتی اہلکاروں کی طرف سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ عوامی شاعر حبیب جالب بھی ان کےساتھ تھے، جنہوں نے اس موقع پر خواتین کےلیے ایک نظم بھی پڑھ کر سنائی۔ پولیس نے ان خواتین پر لاٹھی چارج کر دیا، حبیب جالب کا سر پھٹ گیا۔ تقریباً پچاس خواتین کو گرفتار کر لیا گیا۔ اب اس واقعہ کی یاد میں ہر سال 12 فروری کو پاکستانی عورتوں کا قومی دن منایا جاتا ہے۔

    پاکستان پہلا ملک ہے جس نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کو سب سے پہلے تسلیم کیا۔ وزیر…

  • اے این ایف کی منشیات کیخلاف مختلف شہروں میں  کارروائیاں

    اے این ایف کی منشیات کیخلاف مختلف شہروں میں کارروائیاں

    کراچی:اے این ایف نے منشیات کیخلاف مختلف شہروں میں کارروائیاں کیں-

    باغی ٹی وی: ترجمان اے این ایف کے مطابق راولپنڈی کوریئرآفس سے لندن بھیجے جانیوالے پارسل سے 386 نشہ آور گولیاں برآمد کیں،پشاور کارخانو مارکیٹ کے قریب خیبر کے رہائشی ملزم سے 1 کلو آئس برآمد کی-

    علاوہ ازیں اے این ایف اور ایف سی نے خیبر میں مشترکہ کارروائی میں پاک افغان بارڈر پر 33 کلو چرس برآمد کی،ایک اور کارروائی میں نوکنڈی کے صحرائی علاقے میں زمین کے اندر چھپائی گئی 91 کلو چرس برآمد ہوئی،وندر لسبیلہ کے قریب دوران کارروائی 9 کلو 20 گرام آئس برآمد کی-

    ترجمان اے این ایف کے مطابق گرفتار مُلزمان کیخلاف انسدادِ منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے-

  • بالآخرپیپلزپارٹی ایم کیو ایم کےمطالبات ماننے کو تیارہوہی گئی

    بالآخرپیپلزپارٹی ایم کیو ایم کےمطالبات ماننے کو تیارہوہی گئی

    کراچی:پیپلزپارٹی نے ایم کیو ایم کے مطالبات ماننے کا فیصلہ کرلیا ہے، اور اس کے بدلے ایم کیو ایم قیادت سے دھرنا مؤخر کرنے کی درخواست کی جائے گی۔ پیپلزپارٹی وفاقی میں اپنی اتحادی ایم کیو ایم کے مطالبات ماننے کو تیار ہوگئی ہے، اس حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آگئی ہے۔

    شیخ رشید راہداری ریمانڈ پر مری پولیس کے حوالے

    ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنرسندھ کامران ٹیسوری آج ایم کیوایم بہادرآباد مرکزجائیں گے، جہاں وہ ایم کیو ایم قیادت کو پیپلز پارٹی کا پیغام پہنچائیں گے، اور 12 فروری کو شیڈول دھرنا مؤخر کرنے کی درخواست کریں گے۔ذرائع نے بتایا کہ اس سے قبل صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ، مرتضیٰ وہاب اور سعید غنی پر مشتمل پیپلزپارٹی کے وفد نے ایم کیو ایم کے سینیئر ڈپٹی کنوینر مصطفیٰ کمال، فاروق ستار، امین الحق اور خواجہ اظہار الحسن سے ملاقات کی تھی۔

    شیخ رشید ضمانت کیس:عمران خان کو شامل تفتیش کرنے کی استدعا

    ذرائع کے مطابق یہ ملاقات صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ کے گھر میں ہوئی، جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور ایم کیو ایم کے مطالبات پر پیپلزپارٹی رہنماؤں نے وقت مانگا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نے کراچی میں 53 یوسیز میں اضافہ کرنے اور حیدرآباد میں دیہی علاقوں کو شہری علاقوں میں شامل کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، جس پر پیپلزپارٹی کی قیادت نے ان کے مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

    واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے 15 جنوری کو کراچی اور حیدرآباد میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، تاہم سندھ ہائی کورٹ نے دونوں شہروں میں بلدیاتی انتخابات کا حکم دیا تھا۔

    فونز کے پاسورڈ پولیس کو دے دیئے،ہمدردی نہیں بدلوں گا، شیخ رشید

    کراچی اور حیدر آباد میں بلدیاتی انتخابات کے بعد ایم کیو ایم نے بھرپور احتجاج کیا اور وفاق سے علیحدہ ہونے کی بھی قیاس آرائیاں سامنے آئیں، تاہم ایم کیو ایم کی اعلیٰ قیادت نے اپنا احتجاج دھرنے کی صورت ریکارڈ کرنے کا عندیہ دیا اور 5 فروری کو سربراہ ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی نے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک ہفتے کےلیے پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کو الٹی میٹم دے رہے ہیں، کراچی کا ایوان اگلے اتوار سے فوارہ چوک پر لگے گا، اور فیصلہ ہوگا کون ایم این اے اور کون میئر ہوگا۔

  • کراچی:ضمنی الیکشن کیلئے مصطفیٰ کمال کےکاغذات نامزدگی منظور

    کراچی:ضمنی الیکشن کیلئے مصطفیٰ کمال کےکاغذات نامزدگی منظور

    کراچی:قومی اسمبلی کےحلقہ این اے 256 میں ضمنی الیکشن کے لیےمتحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کےامیدوارمصطفیٰ کمال کےکاغذات نامزدگی منظور کرلیےگئے۔ان کے علاوہ این اے 256 میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے امیدوار عماد الدین کےکاغذات نامزدگی بھی منظور کرلیےگئے۔

    دوسری جانب این اے 247 میں ضمنی الیکشن کے لیے تحریک انصاف کے آفتاب صدیقی کےکاغذات نامزدگی بھی منظور کرلیےگئے۔

    ادھراس سے پہلےاین اے 62 ( NA-62 ) راول پنڈی کے ریٹرنگ افسر نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کے کاغذات نامزدگی آج بروز ہفتہ 11 فروری کو منظور کرلیے گئے ہیں۔

    محکمہ سیاحت میں آسیہ گل کی تین ماہ کی خدمات قابل ستائش تاریخی اور یادگار

    سربراہ عوامی مسلم لیگ کو جیل حکام نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ریٹرنگ افسر کے سامنے پیش نہیں کیا گیا، جب کہ شیخ رشید کی جانب سے نمائندہ اسکروٹنی کے عمل میں شریک ہوا۔

    بارش،برفباری:مظفرآباد اورمری میں ٹریفک جام،سیاح پھنس گئے

    شیخ رشید کو اسکروٹنی کيلئے ريٹرننگ افسر کے دفتر پيش نہيں کيا جا سکا ، تاہم ان کے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے گئے ہیں۔ جیل حکام نے ریٹرننگ افسر کو خط کے ذريعے آگاہ کيا کہ شیخ رشید کو سیکيورٹی خدشات پر آر او دفتر نہیں لا سکتے۔

    شیخ رشید احمد کے نمائندے نے اسکروٹنی کے عمل میں شرکت کی۔ ریٹرننگ افسر نے شیخ رشید کو کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی کيلئے آج طلب کيا تھا۔خیال رہےکہ یہ تمام نشستیں تحریک انصاف کے ممبران قومی اسمبلی کی جانب سے استعفوں کے بعد خالی ہوئی ہیں۔

  • سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح:سیدہ فرحت کی بولتی شاعری

    سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح:سیدہ فرحت کی بولتی شاعری

    سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا
    صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح

    سیدہ فرحت

    یوم وفات: 11؍فروری 2003

    اصل نام کرامت فاطمہ اور تخلص سیدہ فرحت تھا۔
    یکم؍اپریل 1938ء کو بھوپال مدھ پردیش میں پیدا ہوئیں۔ آٹھویں کلاس تک بھوپال میی سلطانیہ اسکول میں تعلیم پائی جہاں ان کے والد محکمہ پولیس کی ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھے۔ ان کے انتقال کے بعد اپنے ماموں ڈاکٹر عابد حسین کے پاس جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی آگئیں اور ان کی نگرانی میں گھر پر ہی تعلیم حاصل کی۔ بارہ سال کی عمر سے شاعری شروع کی، جعفر علی خاں اثر سے کلام پر کچھ عرصے تک اصلاح لی۔ ان کا کلام ماہنامہ ’’شاہراہ‘‘، ’’نئ روشنی‘‘، ’’آجکل‘‘ آور دیگر رسائل میں شائع یوتا رہا۔
    جب جامعہ ملیہ میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی شاخ قائم ہوئ تو اس کی ممبر بنیں۔ شادی کے بعد علی گڑھ منتقل ہوگئیں۔ وہاں 1962ء میں خواتین کی ادبی انمجمن ’’بزم ادب‘‘ قائم کی جو آج بھی فعال ہے۔ فلاحی کاموں میں بھی سرگرم رہیں۔
    11؍فروری 2003ء کو علی گڑھ میں انتقال کر گئیں۔
    ان کے دو شعری مجموعے ’’بزم خیال‘‘ اور’’سازحیات‘‘ ہیں اور بچوں کے لئے نظموں کی کتاب ’’بچوں کی مسکان‘‘ہے۔ ان کی بیٹی نے سن 2016ء میں’’کلیات سیدہ فرحت‘‘ شائع کی۔

    بحوالہ ریختہ ڈاٹ کام

    سیدہ فرحتؔ صاحبہ کی شاعری سے انتخاب

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بحر ہستی میں تلاطم کبھی ایسا تو نہ تھا
    خیر و شر کا یہ تصادم کبھی ایسا تو نہ تھا

    کھوجتا رہتا تھا انسان وہ گم گشتہ بہشت
    خود بناتا ہے جہنم کبھی ایسا تو نہ تھا

    بھیجے ہر دور میں جس نے کہ پیمبر اپنے
    وہ خدا ذہنوں سے گم ہے کبھی ایسا تو نہ تھا

    ساز دل جو کبھی نغمات طرب گاتا تھا
    اب ہے محروم ترنم کبھی ایسا تو نہ تھا

    علم کے گوہر نایاب جو دیتا تھا کبھی
    اب ہے خوناب وہ قلزم کبھی ایسا تو نہ تھا

    قتل انسان تو اب روز کا معمول ہوا
    دل سے مفقود ترحم کبھی ایسا تو نہ تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نہ فرش خاک پہ ٹھہریں گے نقش پا کی طرح
    رواں دواں ہیں فضاؤں میں ہم ہوا کی طرح

    پکار وقت کی نزدیک تھی مگر ہم نے
    سنا ہے دور سے آتی ہوئی صدا کی طرح

    سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا
    صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح

    خدا کرے تجھے احساس درد و غم نہ رہے
    دعائے خیر وہ دیتے ہیں بد دعا کی طرح

    نہ ہو سخن میں جو شان پیمبری ممکن
    خموش رہ کے بھی دیکھیں ذرا خدا کی طرح

    جھلک دکھائے کہیں تو امید کا سورج
    ہجوم یاس ہے امڈی ہوئی گھٹا کی طرح

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سوز دل پاس وفا درد جگر ہے کہ نہیں
    جو تھا مسجود ملائک وہ بشر ہے کہ نہیں

    فرش گیتی سے سر عرش پہنچنے والے
    کوچۂ دل سے تری راہ گزر ہے کہ نہیں

    گرم بازار ہے ہر سمت ہوس خیزی کا
    جذبۂ عشق کا بھی دل پہ اثر ہے کہ نہیں

    جس میں ہو جلوہ فگن کون و مکاں کی وسعت
    اہل دانش میں وہ انداز نظر ہے کہ نہیں

  • پی ایس ایل8: مارٹن گپٹل پہلی مرتبہ پاکستان میں کھیلنے کیلئے پر جوش

    پی ایس ایل8: مارٹن گپٹل پہلی مرتبہ پاکستان میں کھیلنے کیلئے پر جوش

    کراچی:پاکستان سپرلیگ کی ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں شامل نیوزی لینڈ کے اوپننگ بیٹر مارٹن گپٹل کا کہنا ہے کہ وہ پہلی مرتبہ پاکستان میں کھیلنے کے چیلنج کیلئے تیار ہیں۔ اس حوالے سے کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان سپر لیگ کے آٹھویں ایڈیشن کیلئے پرجوش ہیں۔

    36 سالہ مارٹن گپٹل ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں تجربہ کار ترین اور کامیاب ترین کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں، وہ 2021 میں کراچی کنگز کی جانب سے کووڈ سے متاثرہ پی ایس ایل کا ابو ظہبی مرحلہ کھیل چکے ہیں اس بار وہ کوئٹہ کی جانب سے پاکستان میں میچز کھیلیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کیلئے ایک بہترین جگہ ہے، وہ نئی ٹیم کی جانب سے کھیلنے کو تیار ہیں، یہاں نئے دوست بھی بنائیں گے اور اچھا کھیلنے کی کوشش کریں گے تاکہ ٹیم کیلئے اپنا کردار ادا کرسکیں۔

    دنیا کی مختلف لیگز میں 305 ٹی ٹوئنٹی اننگز کھیل کر 8 ہزار 734 رنز بنانے والے گپٹل کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل کا معیار کافی اچھا ہے تاہم وہ اس لیگ کا کسی دوسری لیگ سے موازنہ نہیں کریں گے کیوں کہ ایسا کرنا ان کیلئے ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں اچھی فاسٹ بولنگ، اچھا اسپن اٹیک اور بہترین بیٹنگ سب ہی کچھ ہے۔

    بین کٹنگ کو پاکستان کی کونسی چیز سب سے زیادہ اچھی لگتی ہے؟اس حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی چیمپئنز لیگ ایک اچھا ٹورنامنٹ تھا لیکن اب اتنی کرکٹ ہوگئی ہے کہ چیمپئنز لیگ کو دوبارہ بحال کیا جائے تو یہ کیلینڈر کو مزید مصروف کر دے گا لیکن اگر ایسا ہوا تو وہ ضرور اس ٹورنامنٹ کو ایک بار پھر کھیلنا چاہیں گے۔

    مارٹن گپٹل نے پاکستانی پیسرز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ شاہین آفریدی، حارث رؤف، نسیم شاہ اور محمد حسنین کے ہوتے ہوئے پاکستان کا بولنگ اٹیک کافی زبردست ہے، ایسے بولرز کی موجودگی میں پاکستانی فاسٹ بولنگ کا مستقبل کافی روشن اور مضبوط دکھائی دے رہا ہے۔

  • گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی مرحوم سابق صدر پرویز مشرف کی رہائش گاہ آمد

    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی مرحوم سابق صدر پرویز مشرف کی رہائش گاہ آمد

    کراچی:گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری سابق صدر مملکت جنرل (ر) پرویز مشرف کی رہائش گاہ گئے۔کامران ٹیسوری نے جنرل (ر) پرویز مشرف کی وفات پر بیگم صہبا مشرف اور صاحبزادے بلال مشرف سے اظہار تعزیت کیا، سابق صدر کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔

    گورنر سندھ نے کہا کہ ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے جنرل (ر) پرویز مشرف کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، شہر قائد کے انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لئے ان کی کاوشیں لائق تحسین ہیں، سب سے پہلے پاکستان کے نعرے پر ان کا غیر متزلزل یقین تھا۔

     

    کامران خان ٹیسوی نے کہا کہ پرویز مشرف نے اس نعرے کو آخری سانس تک نبھایا، بھارتی اور دیگر غیر ملکی ٹیلی ویژن چینلز پر پاکستان کے دفاع میں انہوں نے بڑھ چڑھ کا حصہ لیا۔

    یاد رہے کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو کراچی میں فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کی نمازِ جنازہ ملیر کینٹ کراچی کے پولو گراؤنڈ میں ادا کی گئی جس کے بعد تدفین کے لیے ان کی میت سخت سیکیورٹی میں گورا قبرستان سے متصل سی ایس ڈی قبرستان لائی گئی جہاں انہیں سپردِ خاک کیا گیا۔

    جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی نمازِ جنازہ میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد، سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ، جنرل ریٹائرڈ اشفاق پرویز کیانی، ن لیگی رہنما امیر مقام، ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال، فاروق ستار، فروغ نسیم، فیصل سبزواری، امین الحق اور دیگر نے شرکت کی۔

    واضح رہے کہ 5 فروری کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف 79 برس کی عمر میں دبئی کے امریکی اسپتال میں انتقال کر گئے تھے۔
    گزشتہ شب سابق صدر پرویز مشرف کی میت کو لے کر خصوصی طیارہ دبئی سے کراچی پہنچا تھا۔سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف دبئی میں انتقال کرگئےپرویز مشرف کی میت ایئر پورٹ سے ملیر کینٹ پہنچائی گئی تھی۔

  • تین روزہ کراچی لٹریچر فیسٹول 17 فروری سے شروع ہوگا

    تین روزہ کراچی لٹریچر فیسٹول 17 فروری سے شروع ہوگا

    کراچی: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے تحت 17 سے 19 فروری تک کراچی لٹریچر فیسٹیول منعقد کیا جائے گا جس میں پینل ڈسکشن،کتاب رونمائی اور تصویری نمائش سمیت دیگر ادبی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے گا۔ آرٹس کونسل میں 14 ویں کراچی ادبی میلے کے انعقاد کے حوالے سے پریس کانفرنس منعقد کی گئی جس میں مینیجنگ ڈائریکٹر آکسفورڈ یونیورسٹی پریس علی ارشد ، مجاہد بریلوی، ماہر معاشیات قیصر بنگالی اور سابق وزیر خزانہ شبر زیدی سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

    تین روزہ کراچی لٹریچر فیسٹیول 17 سے 19 فروری تک کراچی کے مقامی ہوٹل میں سجایا جائے گا اور رواں برس کے ایل ایف کا تھیم ’لوگ، زمین، اور امکانات‘ ہے جو پاکستان کو درپیش موجودہ اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی چیلنجز اور پاکستان میں تباہ کن سیلاب اور ترکی اور شام میں حالیہ زلزلوں کے نتیجے میں آنے والے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

    رواں برس کراچی ادبی میلے میں 200 سے زائد مقررین ہوں گے جن میں پاکستان، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، جرمنی اور فرانس کے 10 بین الاقوامی مقررین شامل ہیں، 60 سے زائد سیشنز ہوں گے جن میں اردو اور انگریزی دونوں کے امتزاج کے ساتھ 24 کتابوں کی رونمائی بھی شامل ہے۔ تمام سیشنز آکسفوڈر یونیورسٹی کے سوشل میڈیا چینلز پر پوری دنیا میں براہ راست نشر کیے جائیں گے۔
    اس سال پہلی بار دو بکر انعام یافتہ مصنفین، ڈیمن گالگٹ(2021) اور شیہان کروناتیلاکا (2022) بھی شامل ہوں گے،افتتاحی تقریب میں پاکستانی مصنفین کے لیے کل 7 ادبی ایوارڈز کا اعلان کیا جائے گا۔ یہ انعامات اردو نثر اور شاعری اور انگریزی فکشن میں نمایاں کام کو تسلیم کریں گے۔

    مینیجنگ ڈائریکٹر آکسفورڈ یونیورسٹی پریس علی ارشد نے کہا کہ آج کل مختلف چیلنجز پاکستان کو درپیش ہیں، ہم نے بہت سے مسائل دیکھ لیے ہیں جو پاکستان کی آبادی کو متاثر کررہے ہیں،ہمارا عنوان پیپل ،پلینٹ اور پاسیبیلیٹی ہے،سیشنز کے ذریعے مسائل کے حل پر بات کی جائے گی،ترکی سمیت دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے مسائل پر بات کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر ادیب رضوی ہوں گے اور اس موقع پر ان کی سروس اور کاوشوں کو سراہا جائے گا،اس تقریب میں کوئی سیاسی شخصیت مہمان خصوصی نہیں ہے۔

    مجاہد بریلوی نے کہا کہ ہمارے یہاں بدقسمتی سے شخصیات ادارے بناتی ہیں، یہ میلہ چودہ سال مکمل کرچکے ہے،تربت اور لاہور سمیت اب دیگر شہروں میں بھی ادبی میلے کو فروع دیا جارہا ہے،کراچی ادبی میلے کا شہریوں کو انتظار رہتا ہے۔ماہر معاشیات قیصر بنگالی نے اظہار خیال کیا کہ او یو پی روح کی غذا کی فراہم کے لیئے اقدامات کرتا ہے کیوں کہ ادب ،موسیقی اور رقص روح کی غذا ہے،تربت سمیت دیگر شہریوں میں اس کا رجحان بڑھ گیا ہے،میں تربت جارہا ہوں،اس میلے میں بچوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے،جس سے انسان نہ چاہتے ہوئے بھی لطف اندوز ہوتا ہے۔

    ماہر معاشیات سابق وزیر خزانہ شبر زیدی نے کہا کہ کراچی میں بہت غیر ادبی ماحول پیدا ہوگیا تھا لیکن کے ایل ایف ایک امید کی مانند دکھ رہی موجود ہے،اس میلے کے کچھ روز لطف کے لمحات دے جاتے ہیں،میری بچے بھی اس کو پسند کرتے ہیں،ان کی خواہش ہے کہ وہ اس فیسٹیول میں شرکت کریں،کے ایل ایف ایک روایت بن گئی ہے،جو کہ کراچی کے پریشان کن مسائل کو حل کرنے میں مدد گار ثابت ہورہی ہے۔

  • پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز

    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز

    کراچی:پاکستان کے معروف سائنسدان اور ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمان کو دنیا کی معروف ”وال آف سائنٹسٹ“ میں شامل کرلیا گیا۔سوئٹزر لینڈ میں ’’وال آف سائنٹسٹ‘‘ مشہور انجینئرنگ یونیورسٹی ’’سوئس فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘‘ کی جانب سے بنائی گئی ہے۔

    بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے ترجمان کے مطابق پروفیسر عطاء الرحمان مسلم دنیا سے پہلے سائنسدان ہیں، جن کو ’’وال آف سائنٹسٹ‘‘ میں شامل کیا گیا ہے، اس میں صرف دنیا کے نمایاں سائنسدانوں کو ہی شامل کیا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ ’’سوئس فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘‘ دنیا میں صفِ اول کی جامعات کی فہرست میں 12 ویں نمبر پر ہے۔

    شیخ الجامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی اور آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے پروفیسر عطاء الرحمن کو اس اچیومنٹ پر مبارکباد دیتے ہوئے جامعہ کراچی اور پوری قوم کیلئے اعزاز قرار دیا ہے۔

    واضح رہے کہ پروفیسر عطاء الرحمان رائل اسلامک اسٹریٹجک اسٹڈیز سینٹر کی جانب سے دنیا کے 500 بااثر ترین مسلمانوں کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔

    پروفیسر عطاء الرحمان چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان اور وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے مناصب پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، جبکہ کئی مرتبہ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے صدر بھی رہے ہیں۔ڈاکٹر عطاء الرحمان مسلم دنیا سمیت کئی دیگر ممالک کی اکیڈمی آف سائنسز کے صدر بھی رہ چکے ہیں، اس کے علاوہ چین اور ملائیشیا میں ان کے نام سے متعدد تحقیقی اور تعلیمی ادارے قائم کئے جاچکے ہیں۔

    ڈاکٹر عطاء الرحمان نے اپنی گراں قدر خدمات کے باعث ناصرف ملکی بلکہ متعدد بین الاقوامی ایوارڈز بھی حاصل کئے ہیں، چینی صدر ژی جن پنگ نے انہیں چین کے سب سے اعلیٰ ’’سائنٹیفک ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا تھا۔ڈاکٹر عطاء الرحمان کو فیلو آف رائل سوسائٹی (لندن) کا اعزاز بھی حاصل ہے، انہیں ’دی ورلڈ اکیڈمی آف سائنس (ٹی ڈبلیو اے ایس)‘ ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔