Baaghi TV

Category: کراچی

  • سرکاری کتابیں ردی میں فروخت کرنےوالےمحکمہ تعلیم سندھ کےافسران معصوم عن الخطا قرار دیئے گئے

    سرکاری کتابیں ردی میں فروخت کرنےوالےمحکمہ تعلیم سندھ کےافسران معصوم عن الخطا قرار دیئے گئے

    کراچی: گھوٹکی میں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی سرکاری کتابیں فروخت ہونے کے معاملہ پر سندھ حکومت کی تحقیقات ٹیم نے محکمہ تعلیم کے افسران کو کلین چٹ دے دی۔محکمہ تعلیم سندھ کےافسران معصوم عن الخطا قرار دیئے گئے

    ذرائع کے مطابق سندھ کے شہر گھوٹکی میں کتابیں فروخت ہونے کے معاملہ پر محکمہ تعلیم کے افسران کو کلین چٹ مل گئی، اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہے کہ اس واقعہ کا تعلق 2016 سے 2020 کے درمیاں 150 من سرکاری کتابوں کو ردی میں فروخت کرنے کا معاملے سے تھا

    اسلام آباد:کرپشن کے بے تاج بادشاہ،کام تو جان چکے ،اب نام بھی جان لیں کہ یہ مافیا…

     

    کراچی سے آنے اطلاعات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سندھ حکومت کی تحقیقاتی ٹیم نے جاری رپورٹ میں محکمہ تعلیم کے افسران کو معاملے سے بری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ ٹیکسٹ بُک بورڈ کے کتابیں فروخت نہیں کی گئیں۔انکوائری رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کباڑے میں فروخت کتابیں نجی پبلشر کی ہیں جب کہ یہ کتابیں سیمی گورنمنٹ ادارے چھپواتے ہیں۔

    لاہور میں کروڑوں روپے کی جعلی کرنسی پکڑی گئی

    انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ کتابیں فروخت کرنے والا شخص محکمہ تعلیم کا ملازم نہیں، تفتیش کے دوران تعلقہ ایجوکیشن افسر نے سرکاری اسکول دی گئی تمام کتابوں کا ریکارڈ دکھایا جب کہ پولیس تفتیش میں بھی محکمہ تعلیم کا عملہ ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملے۔

    ٹھٹھہ : ایس ایس پی کے حکم پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں-نجم…

    یاد رہے کہ گھوٹکی میں سرکاری کتابوں کو ردی میں فروخت کرنے کا معاملہ سامنے آیا تھا، جس پر سندھ ہائی کورٹ نے بھی نوٹس لے رکھا ہے جب کہ سندھ حکومت نے افسراں کو کلیں چٹ دے دی ہے۔

  • کراچی:لڑکی سے زیادتی کے الزام میں 3 افراد گرفتار

    کراچی:لڑکی سے زیادتی کے الزام میں 3 افراد گرفتار

    کراچی:شہر قائد میں جرائم پیشہ افراد نے ادھوم مچا رکھا ہے، پولیس کی طرف سے جاری کی گئی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ کراچی  ڈیفنس میں نوجوان لڑکی کوزیادتی کانشانہ بنایا گیا ہے اور پھر پولیس نے ان درندوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے،کراچی پولیس ڈیفنس ملزمان کے خلاف مقدمہ ساحل تھانے میں درج کرکے انہیں باضابطہ گرفتارکرلیا گیا۔

     

    ڈیرہ غازی خان : تھانہ گدائی چوکی لاری اڈا،پائیگاں اور خیابان سرور میں اے ایس پی…

    پولیس کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ کل گزرے ہوئے دن یعنی منگل کی شب ڈیفنس فیز8 میں پولیس نے نوجوان لڑکی کو زیادتی کا نشانے بناتے ہوئے 3 ملزمان ناصر،عتیق مزمل احمد کوحراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا تھا جبکہ متاثرہ لڑکی کواسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

    اسلام آباد:کرپشن کے بے تاج بادشاہ،کام تو جان چکے ،اب نام بھی جان لیں کہ یہ مافیا…

    لڑکی سے زیادتی اور مجرمون کی گرفتاری کے حوالے سے جاری بیان میں ایس ایچ او ساحل شاہد نے بتایا کہ اس متاثرہ لڑکی عمر 14 سال ہے اوروہ موسیٰ کالونی ناظم آباد کی رہائشی ہے اور متاثرہ لڑکی کو گرفتارملزم مزمل نے بلایا تھا اور لڑکی کونشہ آورچیز پلا کربے ہوش کر دیا تھا اورملزمان لڑکی کو گاڑی میں ڈیفنس فیز 8 لے گئے تھے جہاں گرفتار ملزم ناصر متاثرہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا

     

     

     

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس لڑکی سے جنسی زیادتی بھی ثابت ہوگئی ہے ،

    سکول پرنسپل کی طالبہ سے زبردستی زیادتی،پھر دی فیل اور قتل کرنیکی دھمکی

    ایس ایچ اونے بتایا کہ متاثرہ لڑکی اورگرفتارملزمان چند روز قبل ایک فوڈ فیسٹیول میں ملے جہاں ان کی دوستی ہو گئی تھی، انہوں نے بتایا کہ گرفتارملزمان ایم اے جناح روڈ پر گاڑیوں کی ڈیکوریشن کاکام کرتے ہیں اورآپس میں دوست ہیں۔یاد رہے کہ پچھلے چند دنوں سے زیادتی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور یہ کہ اس وقت علاقے میں آوارہ لڑکوں کے خوف سے ہرطرف خوف کی فضا ہے ،

  • سندھ میں مزید صوبے کی کوئی گنجائش نہیں،سوچ احمقانہ ہے، وزیراعلیٰ سندھ

    سندھ میں مزید صوبے کی کوئی گنجائش نہیں،سوچ احمقانہ ہے، وزیراعلیٰ سندھ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز ادارہ ملک کیلئے باعث فخر ہے

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز ہمارے ملک کا قدیم علمی ادارہ ہے،عالمی تحقیق پر مبنی اس ادارے سے دیگر مستفید ہوکر انکے نقش قدم پر چل رہے ہیں، پاکستان ہاریزن 1948 سے بغیر کسی وقفے کے شائع ہو رہا ہے جو قابل تعریف ہے، بدلتے ہوئے عالمی نظام کو ایک نیا توازن تلاش کرنے میں وقت لگے گاتمام مسائل اور چیلنجز کیلئے ایک مربوط حکمت عملی وقت کی ضرورت ہے، ہم چین پاکستان اقتصادی راہداری سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،سی پیک سے ہمارے ملک کو وسیع اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے،

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت خطے کے تمام اسٹیک ہولڈرلز کیلئے ایک چیلنج ہے، پاکستان کو نہ صرف سرحدی سلامتی بلکہ غذائی تحفظ کے اپنے ہی چیلنجز کا سامنا ہے، پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور عالمی سطح پر ایک فعال اور ترقی پسند قوت کا حامل ہے، پاکستان نے ہمیشہ اتفاق رائے پیدا کرنے اور ان تنظیموں میں مثبت کردار ادا کیا ، عالمی ماہرین اب موسمیاتی تبدیلی اور قومی سلامتی کے ہم آہنگی کا مطالعہ کر رہے ہیں، سیلاب سے بے گھر افراد کو بحال کرنا میری حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے، حکومت کئی شعبوں میں ترقی پسند قانون سازی کرنے میں ایک سرکردہ رہی ہے،ہم نے خواتین، اقلیتوں، پسماندہ اور بچوں کو قانونی تحفظ دیا ہے سندھ پہلا صوبہ تھا جس نے گھریلو تشدد کی روک تھام اور تحفظ 2013 قانون نافذ کیا ،

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ معاشی بحران باعث تشویش ہے ،ملک کو مشکل سے نکالنے کے لیے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا،معاشی اورسیاسی استحکام لازم و ملزوم ہے منفی سیاسی بیان بازیوں سے گریز کرنا چاہیے سب نے ساتھ مل کر ملک میں استحکام لانا ہے،توڑ تاڑ کی باتیں کر نے والوں کو اللہ ہدایت دے اعظم سواتی کو لانے کے لیے سندھ حکومت کا کوئی طیارہ استعمال نہیں ہوا،اعظم سواتی کے مقدمات عدالت میں زیر سماعت ہیں،سیلاب متاثرین بے گھر ہیں ،موسم سرد ہے ،اقدامات میں تیزی لانی ہے،گیس کی کمی سب سے بڑا مسئلہ ہے،وفاقی حکومت سے بات کروں گا،گیس نہ ہونے سے انڈسٹریز بند ہورہی ہیں، لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں،جو مثبت کام ہورہا ہے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،اگر ہم کام کریں گے تو کسی نہ کسی کو اس سے تکلیف ہوگی وہ تنقید کریں گے توڑ تاڑ کے بجائے ساتھ ملنے ملانے کی بات کریں ،اگر اسمبلیاں توڑنے کی بات کرتے ہیں تو ہم تیار ہیں،اگر اسمبلیاں نہ توڑنے کی بات کریں تو اچھا ہے ،ہم پھر بھی انتخابات کے لیے تیار ہیں ،وزیر اعلیٰ کے پاس اسمبلی توڑنے کا اختیار ہے،بنا کسی وجہ اور کسی کے کہنے پر اسمبلی کو توڑا نہیں جاتا،ایسا نہیں کہ نیند سے اٹھ گئے اور اسمبلی توڑ دی سندھ میں مزید صوبے کی کوئی گنجائش نہیں ہے،جو سندھ میں مزید صوبے کی بات کر رہا ہے اس کی سوچ احمقانہ ہے

  • معروف شاعر جون ایلیا کا یومِ پیدائش

    معروف شاعر جون ایلیا کا یومِ پیدائش

    ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کی
    ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں

    جون ایلیا 14 دسمبر، 1931ء کو امروہہ، اترپردیش کے ایک ‏نامورخاندان میں پیدا ہوئے وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب ‏سے چھوٹے تھے۔ ان کے والدعلامہ شفیق حسن ایلیا کوفن ‏اورادب سے گہرا لگاؤ تھا اس کے علاوہ وہ نجومی اور شاعر ‏بھی تھے۔ اس علمی ماحول نے جون کی طبیعت کی تشکیل ‏بھی انہی خطوط پرکی انہوں نے اپنا پہلا اردو شعر محض 8 ‏سال کی عمر میں لکھا۔ جون اپنی کتاب شاید کے پیش لفظ میں ‏قلم طرازہیں۔‏

    ‏میری عمرکا آٹھواں سال میری زندگی کا سب سے زیادہ اہم ‏اورماجرہ پرور سال تھا اس سال میری زندگی کے دو سب ‏سے اہم حادثے، پیش آئے پہلاحادثہ یہ تھا کہ میں اپنی ‏نرگسی انا کی پہلی شکست سے دوچار ہوا، یعنی ایک قتالہ ‏لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا جبکہ دوسرا حادثہ یہ تھا کہ میں ‏نے پہلا شعر کہا‏

    چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں
    دیکھ لو سرخی مرے رخسار کی

    ایلیا کے ایک قریبی رفیق، سید ممتاز سعید، بتاتے ہیں کہ ایلیا ‏امروہہ کے سید المدارس کے بھی طالب علم رہے یہ مدرسہ امروہہ میں اہل تشیع حضرات کا ایک معتبر مذہبی مرکز رہا ہے چونکہ جون ایلیا خود شیعہ تھے اسلئے وہ اپنی شاعری میں جابجا شیعی حوالوں کا خوب استعمال کرتے تھے۔

    حضرت علی کی ذات مبارک سےانہیں خصوصی عقیدت تھی اورانہیں اپنی سیادت پربھی نازتھاسعید کہتے ہیں،جون کوزبانوں ‏سے خصوصی لگاؤ تھا۔ وہ انہیں بغیر کوشش کے سیکھ لیتا تھا۔ ‏عربی اور فارسی کے علاوہ، جو انہوں نے مدرسہ میں سیکھی تھیں، ‏انہوں نے انگریزی اور جزوی طور پر عبرانی میں بہت مہارت ‏حاصل کر لی تھی۔

    جون ایلیا نے 1957ء میں پاکستان ‏ہجرت کی اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ جلد ہی وہ شہر کے ادبی ‏حلقوں میں مقبول ہو گئے۔ ان کی شاعری ان کے متنوع مطالعہ کی عادات کا واضح ثبوت تھی، جس وجہ سے انہیں وسیع مدح اور ‏پذیرائی نصیب ہوئی۔

    جون کرو گے کب تلک اپنا مثالیہ تلاش
    اب کئی ہجر گزر چکے اب کئی سال ہوگئے

    جون ایک انتھک مصنف تھے، لیکن انھیں اپنا تحریری کام شائع ‏کروانے پر کبھی بھی راضی نہ کیا جا سکا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ‏شاید اسوقت شائع ہوا جب ان کی عمر 60 سال کی تھی اس قدر تاخیر سے اشاعت کی وجہ وہ اس شرمندگی کو قرار دیتے ہیں جو ان کو اپنے والد کی تصنافات کو نہ شائع کراسکنے کے سبب تھی۔

    میں جو ہوں جون ایلیا ہوں جناب
    اس کا بے حد لحاظ کیجیے گا

    ‏نیازمندانہ کے عنوان سے جون ایلیا کے لکھے ہوئے اس کتاب کے پیش ‏لفظ میں انہوں نے ان حالات اور ثقافت کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا ‏ہے جس میں رہ کر انہیں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ ان کی ‏شاعری کا دوسرا مجموعہ یعنی ان کی وفات کے بعد 2003ء میں ‏شائع ہوا اور تیسرا مجموعہ بعنوان گمان 2004ء میں شائع ہوا۔

    جون ایلیا مجموعی طور پر دینی معاشرے میں علی الاعلان نفی ‏پسند اورفوضوی تھےان کے بڑے بھائی، رئیس امروہوی، کو ‏مذہبی انتہا پسندوں نے قتل کر دیا تھا، جس کے بعد وہ عوامی ‏محفلوں میں بات کرتے ہوئے بہت احتیاط کرنے لگے۔

    ایک سایہ میرا مسیحا تھا
    کون جانے، وہ کون تھا کیا تھا

    جون ایلیا تراجم، تدوین اور اس طرح کے دوسری مصروفیات میں بھی ‏مشغول رہے لیکن ان کے تراجم اورنثری تحریریں آسانی سے ‏دستیاب نہيں ہیں۔ انہوں اسماعیلی طریقہ کے شعبۂ تحقیق کے سربراہ کی حیثیت سے دسویں صدی کے شہرۂ آفاق رسائل اخوان الصفا کا اردو میں ترجمہ کیا لیکن افسوس کے وہ شائع نہ ہوسکے۔

    بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
    آبلے پڑ گئے زبان میں کیا

    فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، اسلامی صوفی روایات، اسلامی ‏سائنس، مغربی ادب اور واقعۂ کربلا پر جون کا علم کسی ‏انسائکلوپیڈیا کی طرح وسیع تھا۔ اس علم کا نچوڑ انہوں نے اپنی ‏شاعری میں بھی داخل کیا تا کہ خود کو اپنے ہم عصروں سے نمایاں ‏کر سکيں۔

    میں اپنے شہر کا سب سے گرامی نام لڑکا تھا
    میں بے ہنگام لڑکا تھا ‘ میں صد ہنگام لڑکا تھا
    مرے دم سے غضب ہنگامہ رہتا تھا محلوں میں
    میں حشر آغاز لڑکا تھا ‘ میں حشر انجام لڑکا تھا
    مرمٹا ہوں خیال پر اپنے
    وجد آتا ہے حال پر اپنے

    جون ایک ادبی رسالے انشاء سے بطور مدیر وابستہ رہے جہاں ان کی ‏ملاقات اردو کی ایک اور مصنفہ زاہدہ حنا سے ہوئی جن سے ‏بعد میں انہوں نے شادی کرلی۔ زاہدہ حنااپنے انداز کی ترقی ‏پسند دانشور ہیں اور مختلف اخبارات میں ‏میں حالات حاضرہ اور معاشرتی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ جون کے ‏زاہدہ سے 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ 1980ء کی دہائی کے وسط ‏میں ان کی طلاق ہو گئی۔ اس کے بعد تنہائی کے باعث جون کی ‏حالت ابتر ہو گئی۔ وہ بژمردہ ہو گئے اور شراب نوشی شروع کردی۔

    کبھی جو ہم نے بڑے مان سے بسایا تھا
    وہ گھر اجڑنے ہی والا ہے اب بھی آجاؤ
    جون ہی تو ہے جون کے درپے
    میرکو میر ہی سے خطرہ ہے

    کمال ِ فن کی معراج پرپہنچے جون ایلیا طویل علالت کے بعد 8 نومبر، 2002ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔

    کتنی دلکش ہو تم کتنا دل جو ہوں میں
    کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے

    اب تم کبھی نہ آئوگے یعنی کبھی کبھی
    رخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر

    ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کی
    ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں

    کیا تکلف کریں یہ کہنے میں
    جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں

    ناکامیوں نے اور بھی سرکش بنا دیا
    اتنے ہوئے ذلیل کہ خوددار ہو گئے

  • پاکستان کے معروف صحافی اور شاعرعارف شفیع

    پاکستان کے معروف صحافی اور شاعرعارف شفیع

    غریبِ شہر تو فاقے سے مرگیا عارفؔ
    امیرِ شہر نے ہیرے سے خود کشی کرلی

    عارف شفیق 31 اکتوبر 1956 کو کراچی میں پیدا ہوئے. عملی زندگی میں صحافت سے وابستہ رہے ان کی شاعری کے یہ مجموعے شائع ہوئے: آدھی سوچیں گونگے لفظ (1977) سیپ کے دیپ (1979) سر پھری ہوا (1985) جب زمین پر کوئی دیوار نہ تھی (1987) احتجاج (1988) یقین (1989) میں ہواؤں کا رخ بدل دوں گا (1991) مرا شہر جل رہا ہے(1997)

    ان کا کچھ کلام

    اس شخص پر بھی شہر کے کتے جھپٹ پڑے
    روٹی اٹھا رہا تھا جو کچرے کے ڈھیر سے

    عارف شفیق کوئی نہ آگے نکل سکا
    میں نے ہر آنیوالے کو خود راستہ دیا

    جو میرے گاؤں کے کھیتوں میں بھوک اگنے لگی
    مرے کسانوں نے شہروں میں نوکری کرلی

    زندگی خوف کا سفر کیوں ہے
    کاش کیوں اگر مگر کیوں ہے

    مجھے خدا نے وہ بخشا ہے شاعری کا ہنر
    جو خواب دیکھتا ہوں وہ دکھا بھی سکتا ہوں

    ہر ایک ہاتھ میں ہتھیار ہوں جہاں عارفؔ
    مجھے قلم سے وہاں انقلاب لانا ہے

    اور کچھ نہ دے سکا میں اگر ورثے میں
    اپنی اولاد کو سچائی تو دے جاؤں گا

    عارف شفیق ورثے میں اولاد کے لئے
    میں جا رھا ھوں جرآت اظہار چھوڑ کر

    اک فتویٰ پھر آیا ہے یہ غاروں سے
    کافر کہہ کر مجھ کو مارا جاسکتا ہے

    ساری دنیا ہے آشنا مجھ سے
    اجنبی اپنے خاندان میں ہوں

    آنسو پونچھے، دکھ بانٹے انسانوں کے
    میں نے بھی تو ساری عمر عبادت کی

    آنکھوں میں جاگ اٹھے ہیں تنہا شجر کے دکھ
    گلدان میں جو پھول سجے دیکھتا ہوں میں

    موم کی صورت خود ہی پگھل جائے گا اک دن
    لفظ محبت لکھ دے تو دل کے پتھر پر

    کسی کی آنکھ سے آنسو بھی پونچھ لیتا کبھی
    غرور کرتا ہے جو شخص اپنے سجدوں پر

    وہی ہیں لفظ پرانے جو لکھ رہے ہیں سب
    معانی ان میں مری شاعری اتارتی ہے

    اکثر سب کو رستہ دینے والے لوگ
    میری طرح سے خود پیچھے رہ جاتے ہیں

    شہر سارا ہی ہوگیا روپوش
    کوئی ملتا نہیں ٹھکانے پر

    یقیں اب ہوگیا میں سچ ہوں عارف
    جبھی دنیا مجھے جھٹلا رہی ہے

    سولی پہ چڑھا کر مرے چاند اور مرے سورج
    اب شہر میں مٹی کے دیے بانٹ رہا ہے

    ایسا نہ ہو وہ خود کو سمجھنے لگے خدا
    اتنا بھی جھکنا ٹھیک نہیں التماس میں

    وہاں ہر چیز تھی اک جنس وفا تھی نایاب
    خاک ڈال آیا ترے شہر کے بازاروں پر

    جب کوئی اہم فیصلہ کرنا
    اپنے بچوں سے مشورہ کرنا

    میں نے سیکھا ہے اپنے بچوں سے
    سچ کا اظہار برملا کرنا

    وقت کرتا ہے خود فیصلہ ایک دن
    اب ہمیں وقت کا فیصلہ چاہیے

    چند سکے نہ دے ہم کو خیرات میں
    اپنی محنت کا پورا صلہ چاہیے

    عارف وہ فیصلے کی گھڑی بھی عجیب تھی
    دل کو سنبھالنا پڑا میزان کی طرح

    پوچھتے ہیں لوگ مجھ سے کیوں میرا نام و نسب
    سوچ لیں پیغمبروں سے سلسلہ مل جائے گا

    تجھے میں زندگی اپنی سمجھ رہا تھا مگر
    ترے بغیر بسر میں نے زندگی کرلی

    اپنے دروازے پہ خود ہی دستکیں دیتا ہے وہ
    اجنبی لہجے میں پھر وہ پوچھتا ہے کون ہے

    کوئی لشکر یہاں سے گزرا ہے
    اتنی اُجڑی یہ رہگزر کیوں ہے

    خوب ہے تیری عاجزی لیکن
    اونچا مسجد سے تیرا گھر کیوں ہے

    کیا کبھی تُو نے سچ نہیں بولا
    تیرے شانوں پر پھر یہ سر کیوں ہے

    نظمیں

    .. رابطہ..

    اپنی ذات
    اپنے گھر
    اپنے مذہب
    اپنی تہزیب
    اور اپنے قبیلے کی
    دیواریں اتنی بھی اونچی نہ کرو
    کہ ساری دنیا سے
    تمہارا رابطہ کٹ جائے

    .. زمینی کتاب..

    اب تک آسمانوں سے
    زمین پر کتابیں اتری ہیں
    میں اس زمین کا شاعر ہوں
    میری خواہش ہے کہ
    ایک کتاب زمین سے
    آسمانوں پر بھی اترے
    کیونکہ
    آسمان والے جان سکیں
    کہ
    قیامت سے پہلے
    زمین پر کتنی قیامتیں
    گزر چکی ہیں

    .. محرومی..

    میں ماں باپ کے ہوتے ہوئے
    یتیموں کی طرح
    زندگی گزار رہا ہوں
    تنہا کھڑا
    اس کتیا کو دیکھ رہا ہوں
    جو اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہی ہے
    پیار سے ان کو چاٹ رہی ہے
    اور
    میں بیٹھا سوچ رہا ہوں
    کاش میں پلا ہی ہوتا

  • اسٹریٹ کریمنل ناجائز اسلحہ سمیت میوہ شاہ قبرستان سے گرفتار

    اسٹریٹ کریمنل ناجائز اسلحہ سمیت میوہ شاہ قبرستان سے گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کیخلاف پولیس کا آپریشن جاری ہے

    اسٹریٹ کریمنل ناجائز اسلحہ سمیت میوہ شاہ قبرستان سے گرفتار کر لیا گیا،ایس ایس پی ضلع کیماڑی فدا حسین جانوری کی سربراہی میں ضلع کیماڑی پولیس جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔گزشتہ رات ایس ایچ او تھانہ پاک کالونی سب انسپکٹر محمد اشفاق نے پولیس پارٹی کے ہمراہ خفیہ اطلاع پر کاروائی کی ،اسٹریٹ کرائم میں ملوث ملزم بنام محمد آصف ولد عبدالستار کو میوہ شاہ قبرستان سے گرفتار کر لیا۔گرفتار ملزم کے قبضہ سے بوقت گرفتاری غیرقانونی پستول بمعہ راؤنڈ برآمد ہوا۔ملزم نے دوران انٹروگیشن اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کا انکشاف کیا جبکہ ملزم اس سے قبل بھی مختلف مقدمات میں گرفتار ہو چکا ہے۔ملزم کے خلاف مقدمہ الزام نمبر 385/22 بجرم دفعہ 23(i)A سندھ آرمز ایکٹ درج کرکے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

    لانڈھی پولیس نے مضر صحت گٹکا ماوا فروشوں کے خلاف کاروائیاں تیز کردی گرفتار ملزمان سیلاب خان اور محمد دین کا نام آئی جی آفس سے جاری مطلوب ملزمان کی فہرست میں شامل ہے چھاپہ مار کاروائی کے دوران بڑی تعداد میں مضر صحت گٹکا ماوا برآمد کرلیا گیا ایس ایچ او لانڈھی راجہ تنویر کے مطابق ایس ایس پی کورنگی ساجد امیر سدوزئی نے گٹکا ماوا فروشوں کے خلاف کاروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے گرفتار ملزمان عادی جرائم پیشہ ہیں ماضی میں بھی گٹکاماوا فروشی کے جرم میں جیل جاچکے ہیں لانڈھی پولیس نے ملزمان کے خلاف گٹکا ماوا ایکٹ 2019 کے تحت مقدمہ درج کردیا ہے

    تھانہ جمشید کواٹر پولیس نے منشیات فروش ملزم کو گرفتار کرلیا۔ پولیس نے دوران گشت خفیہ اطلاع پر منشیات فروش کو گرفتار کرلیا۔ ملزم منشیات فروخت اور سپلائی کرنے میں ملوث ہے۔ گرفتار ملزم کے قبضہ سے 120 گرام منشیات ہیرون برآمد ہوئی، گرفتار ملزم کی شناخت فہاد عمران ولد عمران کے نام سے ہوئی ہے۔ ملزم کے خلاف مقدمہ الزام نمبر 672/22 بجرم دفعہ *6/9(1)6 (B) اینٹی نارکوٹکس ایکٹ کے تحت درج کرلیا گیا ہے ملزم کو مزید کارروائی کے لیے تفتیشی افسران کے حوالے کر دیا گیا ہے

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    اچھی نوکری کا جھانسہ دے کر غیر ملکی لڑکی سے کیا گیا گھناؤنا کام

    سرگودھا سے 151 لڑکیاں بازیاب،21 قحبہ خانوں سے ملیں،ڈی پی او کا سپریم کورٹ میں بیان

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    جسمانی تعلقات سے بھی کیا پھیل سکتا ہے کرونا وائرس؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

  • سندھ ہائیکورٹ کا سرکاری اسکولوں کی 150من کتابیں کباڑمیں فروخت ہونےکا نوٹس

    سندھ ہائیکورٹ کا سرکاری اسکولوں کی 150من کتابیں کباڑمیں فروخت ہونےکا نوٹس

    کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے اسکولوں کی خستہ حالی سے متعلق درخواست پر گھوٹکی میں سنڈھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی 150 من سرکاری کتابیں کباڑ میں فروخت کے انکشاف پر نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین اینٹی کرپشن کو تحقیقات کا حکم دے دیا۔

    اے این ایف کی کاروائی :ایمبولینس کے ذریعے منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام

    جسٹس صلاح الدین پہنور پر مشتمل سنگل بینچ کے روبرو اسکولوں کی خستہ حالی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ عبد الوہاب ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ ڈہرکی میں کالج کی تعمیر کے فنڈز جاری ہیں مگر ایک اینٹ تک نہیں لگائی گئی۔

     

     

    ایمبولینس کا بھاری کرایہ:باپ بیٹے کی میت بائیک پر لیجانے پر مجبور

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گھوٹکی کالج کی زمین سے تجاوزات کا خاتمہ کرائیں، سیشن جج گھوٹکی یقین بنائیں کہ کالج کی تعمیر کے کام کی سربراہی کریں۔ جسٹس صلاح الدین پہنور نے ہدایت کی کہ ڈی ایس آر رینجرز قبضہ ختم کرانے کے لیے مکمل فورس فراہم کریں۔

    ایمبولینس کو ٹول پلازہ پر خوفناک حادثہ، 4 افراد ہلاک ،ویڈیو وائرل

    دوران سماعت گھوٹکی میں سنڈھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی 150 من سرکاری کتابین کباڑ میں فروخت کا انکشاف ہوا جس کا جسٹس صلاح الدین پہنور نے نوٹس لے لیا۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ دیانت دار افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے، کمیٹی ڈیڑھ سو من کتابوں کی کباڑ میں فروخت کی تحقیقات کرے۔عدالت نے گیارہویں اور بارہویں کلاس کی کتابوں کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے چیئرمین سندھ ٹیکسٹ بورڈ کو بھی طلب کرتے ہوئے چیئرمین اینٹی کرپشن کو تحقیقات کا حکم دے دیا۔

  • سانحہ بلدیہ کیس،ملزمان کی سزاؤں کیخلاف اپیل، نوٹسز جاری

    سانحہ بلدیہ کیس،ملزمان کی سزاؤں کیخلاف اپیل، نوٹسز جاری

    سندھ ہائیکورٹ میں سانحہ بلدیہ کیس ،ملزمان کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہوئی

    سندھ حکومت کی سابق وزیر داخلہ روف صدیقی و دیگر کی بریت کے خلاف اپیل پر بھی سماعت ہوئی،سندھ حکومت کی اپیل پر رؤف صدیقی و دیگر پری ایڈمیشن نوٹسز جاری کر دیئے گئے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سانحہ بلدیہ میں 260 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ،کیس میں 6ملزمان کی جانب سے اپیلیں دائر کی گئی ہیں رحمان بھولا اور زبیر چریا نے سزا موت کے خلاف اپیل دائر کررکھی ہے چار ملزمان نے عمر قید کے خلاف درخواست دائر کررکھی ہے اپیلوں میں پراسکیوشن کے 400 گواہ شامل ہیں ،کیس میں ملزمان کی جانب سے گواہ پیش نہیں ہوئے ہیں فریقین سے گواہان کو بیجز میں تقسیم کرنے پر اتفاق ہوا ہے وقوعہ کے وقت موجود گواہوں کا الگ بیچ بنایا جائے گا لاشوں کی شناخت،پوسٹ مارٹم کرنے والوں کا الگ الگ بیچز بنائے جائیں ، عدالت نے مزید سماعت 17 جنوری تک ملتوی کردی

    سانحہ بلدیہ، تفتیشی افسر کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد

    سانحہ بلدیہ،عدالت نے فیصلہ سنا دیا،رحمان بھولا ،زبیر چریا کو سزائے موت، ایم کیو ایم رہنما بری

    سانحہ بلدیہ فیکٹری ،مجرموں نے سندھ ہائی کورٹ میں سزا چیلنج کردی

    سانحہ بلدیہ،لگتا ہے بڑی مچھلیوں کو تحفظ دیا گیا ہے، عدالت

    واضح رہے کہ 22 ستمبر کو اے ٹی سی کراچی نے سانحہ بلدیہ کیس کا فیصلہ سنایا تھا،رحمان عرف بھولا پر فیکٹری کو آگ لگانے کا الزام ثابت ہو گیا،انسداد دہشت گردی عدالت نے رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت سنا دی گئی اے ٹی سی کراچی نے ایم کیو ایم کے رہنما روَف صدیقی کو بری کردیا،سانحہ بلدیہ کیس میں 400گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے عدالت نے ادیب خانم ،علی حسن قادری ،عبد الستارکو بھی بری کردیا ،اس کے علاوہ باقی چار ملزمان کو سہولت کاری میں سزا سنائی گئی ہے،سزا پانے والے سہولت کاروں میں ارشد محمود ، فضل، شاہ رخ اورعلی احمد شامل ہیں

    اے ٹی سی کراچی نے سانحہ بلدیہ کیس کا فیصلہ 8سال بعد سنایا،آگ لگانے کی اہم وجہ فیکٹری مالکان سے مانگا گیا بھتہ تھا،رحمان عرف بھولا اورزبیر چریا پر فیکٹری کو آگ لگانے کا الزام ثابت ہوا،2014میں فیکٹری مالکان ارشد بھائیلہ،شاہد بھائیلہ اورعبدالعزیز دبئی چلے گئے

    کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاون میں 11 ستمبر 2012 کو خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 260 کے قریب ملازمین جل کر خاکستر ہوگئے تھے۔ بعد ازاں سانحہ بلدیہ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ فیکڑی میں آتشزدگی کا واقعہ پیش نہیں آیا بلکہ 20 کروڑ روپے بھتہ نہ دینے پر بلدیہ فیکٹری کو آگ لگائی گئی۔ عبدالرحمان بھولا نے اپنے بیان میں اعتراف کیا تھا کہ اس نے حماد صدیقی کے کہنے پر ہی بلدیہ فیکٹری میں آگ لگائی تھی،

  • چھ سالہ بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد کیا گیا قتل،غیرآباد گھر سے لاش برآمد

    چھ سالہ بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد کیا گیا قتل،غیرآباد گھر سے لاش برآمد

    چھ سالہ بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد کیا گیا قتل،غیرآباد گھر سے لاش برآمد

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں خواتین اور کمسن بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں کمی نہ آ سکی

    شہر قائد کراچی میں ایک اور کمسن بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا ہے، کراچی کے علاقے گلشن معمار میں افگان کیمپ پولیس چوکی کے قریب سے کمسن بچی کی لاش ملی، پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے بھجوا دیا، مبینہ طور پر کمسن بچی کے ساتھ زیادتی کی گئی تا ہم پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنے تک کچھ نہیں کہا جا سکتا

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ چھ سالہ بچی حسینہ دختر موسیٰ مغرب کے وقت سے غائب تھی، ہر جگہ تلاش کیا، نہیں ملی، پھر پولیس کو بھی اطلاع دی، تلاش کا سلسلہ جاری رکھا تو ایک گھر سے جو غیر آباد ہے، بچی کی لاش ملی ،بچی کی لاش موجود ہونے کے حوالہ سے پولیس کو اطلاع دینے والے شہری پہلوان خان کا کہنا ہے کہ لوڈشیڈنگ کے باعث علاقہ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا بچی کو ٹارچ کی روشنی میں مختلف مقامات پر تلاش کرتے رہے ، اسی اثناء میں بچی کے گھر سے کچھ فاصلے پر ایک غیر آباد گھر میں جا کر دیکھا تو اندر کمرے میں بچی کی لاش پڑی ملی جس پر فوری طور پر مدد گار 15 پر کال اور تھانے جا کر بھی پولیس کو اطلاع دی

    جس گھر سے بچی کی لاش ملی بارشوں کی وجہ سے اس کی چھت کا کچھ حصہ اور دیواریں گر گئی تھیں جس کے باعث گھر خالی تھا ،مبینہ اطلاعات کے مطابق درندہ صفت ملزم یا ملزمان نے بچی کو خالی گھر میں لے جا کر مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا اہل علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ جلد از جلد واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے قرارواقعی سزا دی جائے

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    اچھی نوکری کا جھانسہ دے کر غیر ملکی لڑکی سے کیا گیا گھناؤنا کام

    سرگودھا سے 151 لڑکیاں بازیاب،21 قحبہ خانوں سے ملیں،ڈی پی او کا سپریم کورٹ میں بیان

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    جسمانی تعلقات سے بھی کیا پھیل سکتا ہے کرونا وائرس؟

     

  • بینک ڈکیتی میں گرفتارملزم نے رہائی کے بعد پھر ڈکیتی شروع کر دی

    بینک ڈکیتی میں گرفتارملزم نے رہائی کے بعد پھر ڈکیتی شروع کر دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کیخلاف پولیس کی کاروائیاں جاری ہیں

    رضویہ سوسائٹی پولیس نے ٹیکنیکل بنیادوں پر کاروائی 2 اسٹریٹ کریمنل گرفتار کر لئے،ملزمان نے شہری آصف سے ناظم آباد نمبر 1 PSO پمپ پاس ڈکیتی کی واردات کی تھی رضویہ سوسائٹی پولیس نے ٹیکنیکل بنیادوں پر کاروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا گرفتار ملزمان کی شناخت ذیشان ولد فیض خالق اور عادل خان شہباز خان کے ناموں سے ہوئی ملزمان کے قبضے سے 1 عدد پسٹل 30 بور لوڈ میگزین، 1 عدد موبائل فون VIVO برآمد کیا گیا، ملزمان کے خلاف اسلحہ کا مقدمہ علیحدہ سے درج کیا گیا جبکہ ڈکیتی کے مقدمہ میں بھی ملزم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ، دوسری کاروائی میں رضویہ پولیس نے منشیات فروش ملزمان محمد شہریار ولد عبدالرحمن اور فرحان ولد ندیم کو گرفتار کر لیا ملزمان کے قبضے سے 170 گرام چرس اور 150 گرام چرس برآمد ہوئی ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے تفتیش کے حوالے کردیا گیا ہے

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

    حامد زمان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے تحقیقات سے متعلق رپورٹ

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    دوسری جانب پاپوشنگر پولیس کا اسٹریٹ کرمنلز کے ساتھ مقابلہ ہوا ہے، مقابلہ پاپوشنگر نگر کی حدود ناظم آباد نمبر 5 میں ہوا ،ملزمان شہریوں کو لوٹنے میں مصروف تھے کہ وہاں پولیس پہنچ گئی ،ملزمان نے پولیس کو دیکھتے ہی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی ،پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر 2 ملزمان اندھیرا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، گرفتار زخمی ملزم کی شناخت ذیشان ولد یونس کے نام سے ہوئی.جبکہ دیگر فرار ساتھیوں کی شناخت آصف پٹھان اور عارف بہاری کے ناموں سے ہوئی ملزم کے قبضے سے ایک ٹی ٹی پسٹل 30 بور لوڈ میگزین اور موٹر سائیکل برآمد کر کے قبضہ پولیس میں لے لیا گیا ہے ابتدائی انٹیروگیشن میں معلوم ہوا کہ ملزمان 2021 میں 2 منٹ چورنگی پر ایم سی بی بینک ڈکیتی کیس میں حال ہی میں جیل سے آئے ہیں ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے