Baaghi TV

Category: کراچی

  • کیپٹن کرنل شیر خان شہید کے مزار پر یوم دفاع کے موقع پرپروقارتقریب کا انعقاد

    کیپٹن کرنل شیر خان شہید کے مزار پر یوم دفاع کے موقع پرپروقارتقریب کا انعقاد

    ملک بھر میں یومِ دفاع آج بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے۔

    آج مسلح افواج کے غازیوں اور شہدا کو سلام اور خراجِ عقیدت پیش کیا جارہا ہے کراچی میں مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پُروقار تقریب ہوئی، اس کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی تقریبات منعقد ہوئیں۔

    کیپٹن کرنل شیر خان شہید کے مزار پر یوم دفاع کے موقع پرایک پروقارتقریب کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پرپاک فوج کے چاک و چوبند دستے نے شہید کے مزار کو سلامی دی اورمیجر جنرل عمر بشیر نے شہید کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی

    پاک فوج قومی فوج کی حقیقی عکاس

    تبدیلی گارڈز کی تقریب میں پاک فضائیہ کے 60 مرد اور 5 خواتین کیڈٹس شامل تھیں، پاکستان ائیرفورس اصغر خان اکیڈمی کے چاق وچوبند دستے نے مزار پر اعزازی گارڈز کے فرائض سنبھالے۔تقریب کے مہمان خصوصی ایئر وائس مارشل محمد قیصر جنجوعہ تھے ائیر وائس مارشل قیصر جنجوعہ نے مزار قائد پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی مہمان خصوصی ایئر وائس مارشل محمد قیصر جنجوعہ نے پریڈ کا معائنہ کیا۔

    یوم دفاع و شہدا کی مناسبت سے مزار اقبال پر پاکستان رینجرز پنجاب کے زیر اہتمام تقریب منعقد کی گئی۔ ڈائریکٹر جنرل پاکستان رینجرز پنجاب میجر جنرل سید آصف حسین نے مزار اقبال پر حاضری دی۔ڈائریکٹر جنرل نے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی اور ساتھ ہی مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کیے ڈی جی رینجرز نے شہدا کی قربانیوں پر روشنی ڈالی اور علامہ اقبال کو خراج تحسین پیش کیا۔

    شمالی وزیرستان میں آپریشن،پاک فوج کے 5 سپوت مادروطن پر قربان

    پوری قوم کو اپنی افواج پر فخر ہے ،چیئرمین سینیٹ
    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے یوم دفاع پاکستان کے موقع پر قوم کے نام پیغام میں کہا ہے کہ 6 ستمبریوم دفاع پاکستان دشمن کے عزائم کو خاک میں ملانے اورقومی جرات و بہادری کا دن ہے۔6 ستمبر کو دشمن ملک کی افواج نے بین الاقوامی سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آدھی رات کو مملکت پاکستان پر حملہ کر دیا تھا۔افواج پاکستان اور بہادر عوام ملک کے تحفظ و سلامتی اور آزادی کے لئے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر بھارتی افواج کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئے اور دشمن ملک کے تمام ناپاک عزائم خاک میں ملا دیئے۔ پاکستان کی فوج دنیا کی بہادر،جرات مند اور مضبوط ترین افواج میں شمار ہوتی ہے جو نہ صرف اپنے ملک بلکہ اقوام عالم کے امن مشن اور انسانیت کی بھلائی کیلئے متعدد بار اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہے۔

    محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ پوری قوم کو اپنی افواج پر فخر ہے جس نے دہشت گردی کی لعنت کو نیست و نابود کرنے کا نہ صرف عزم کر رکھا ہے بلکہ اس کیلئے ضرب عضب اور ردالفساد جیسے آپریشن شروع کر کے دہشت گردوں کو تباہ و برباد کیا۔ ملک کے امن اور سلامتی کیلئے بے شمار جوانوں نے اپنی زندگیوں کا نذرانہ پیش کیا جسے پوری قوم قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ملک کی بہادر افواج نے نہ صرف ملکی سلامی اور تحفظ کو یقینی بنایا ہے بلکہ ہر مشکل وقت میں اپنی قوم کی بھر پور معاونت کی ہے۔ماضی میں زلزلے اور بارشوں اور حالیہ دنوں میں سیلاب کی صورتحال میں پاک فوج کی امداد ی سرگرمیاں فقیدالمثال ہیں جس کیلئے پاک فوج کی موجودہ قیادت اور جوان خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ جس طرح پوری قوم ملکی دفاع کیلئے مسلح افواج کے ساتھ ہے اُسی طرح پاک فوج نے اپنے ہم وطنوں کی ہمیشہ ہر مشکل وقت میں بھر پور مدد کی ہے۔

    چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ حکومت اورافواج پاکستان مسئلہ کشمیر اور دہشت گردی کے خلاف ایک صفحے پر ہیں۔افواج پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اور پاک سر زمین کے تحفظ کیلئے جتنی قربانیاں دیں اس کی اقوام عالم میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب فوج کے سپوتوں کو ان کی قربانیوں اور جرات و بہادری پر سلام پیش کرتے ہیں اور آج کے دن کی مناسبت سے ہمیں اتحاد و یگانگت کا عزم کرنا ہوگا اور بانی پاکستان محمد علی جناح کے افکار کے مطابق ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی اور سالمیت کیلئے ہمیں یک جان ہو کر کام کرنا ہوگا اور ملک کے مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینا ہوگی تاکہ ملک ترقی و خوشحالی راہ پر گامزن ہو سکے۔

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے بھی اس موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پوری قوم کو اپنی افواج پر فخر ہے۔ پاک فوج نے ملکی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے احسن اقدامات اٹھائے۔ زلزلے اور بارشوں و دیگر آفات کے دنوں میں پاک فوج کی عوام کیلئے خدمات قابل تحسین ہے

    کیا اگلی باری بھارت کی ہے یا پھرٹال مٹول:ایف اے ٹی ایف کے صدرنے بیان دے کربھارت کے حواس باختہ کردیئے

    ایف اے ٹی ایف کے پلیٹ فارم پر بھارت کا چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے، حماد اظہر

    ایف اے ٹی ایف،پاکستان جب تک یہ کام نہیں کریگا وائیٹ لسٹ میں نہیں آ سکتا،مبشر لقمان کا خوفناک انکشاف

    قریشی نے سعودی عرب کو دھمکی دے کر احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا،وزارت چھوڑ کرگدی نشینی کا کام کریں، ساجد میر

    اسلام آباد سمیت ملک بھر میں یوم دفاع جوش وجذبے کے ساتھ منایا جارہا

  • منچھر جھیل میں بند پر مزید دو کٹ لگا دیئے گئے

    منچھر جھیل میں بند پر مزید دو کٹ لگا دیئے گئے

    سندھ کے محکمہ آبپاشی کے مطابق منچھر جھیل میں بند پر مزید دو کٹ لگا دیے گئے۔ کٹ آر ڈی 50 اور آر ڈی 52 پر لگائے گئے ہیں۔ سیہون کے قریب منچھر جھیل میں آرڈی 55 پر لگائے گئے شگاف سے پانی نکلنے لگا ہے۔

    مقامی افراد کے مطابق آر ڈی 55 جھیل کا نشیبی حصہ ہے، آر ڈی 55 پر کٹ لگانے سے جھیل سے پانی کا اخراج تیزی سے ہوگا۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ شگاف لگانے کی اصل جگہ یہی تھی۔ آرڈی 55 پر شگاف پہلے لگا دیتے تو صورتحال اتنی خراب نہیں ہوتی.

    اس سے قبل پاکستان کی سب سے بڑی منچھر جھیل پر کٹ لگانے کے بعد سیہون شریف کے متعدد دیہات زیر آب آ گئے۔منچھر جھیل پر کٹ لگانے سے دیہات زیر آب آگئےجھیل کا سیلابی پانی تیزی سے مزید دیہاتوں کی طرف بڑھ رہا ہے،باغ یوسف کے مقام سے کٹ لگانے کے بعد سیلابی ریلے قریبی بستوں تک پہنچ گئے یونین کونسل بوبک، آراضی اور یونین کونسل چنا کے بھی سیکڑوں دیہات ڈوب گئے۔

    باجارا شہر اور جہانگارا شہر بھی مکمل طور پر زیر آب آ گئے علاقہ مکینوں نے کشتیوں کے ذریعے نقل مکانی شروع کر دی۔ کئی مقامات پر موٹرسائیکلیں اور گاڑیاں سیلابی ریلے میں پھنس گئیں منچھر کو کٹ لگانے کے باوجود بھی جھیل سے پانی کا دباؤ کم نہ ہوسکا پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق بوبک بند پر دانستر نہر کے گیٹ بھی کمزور ہوگئے ہیں۔ بوبک بند کو نقصان پہنچا تو ایک لاکھ سے زائد آبادی متاثر ہونے کا خدشہ ہےماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بند ٹوٹنے سے 300 سے زائد دیہات زیر آب آ سکتے ہیں-

    باغ یوسف آر ڈی 14 سےکٹ لگانے سے منچھر جھیل سے پانی کا دباؤ کم نہیں ہوا، آر ڈی 55 اور آر ڈی 80 سےکٹ لگایا جاسکتا ہے محکمہ آبپاشی ذرائع کے مطابق بوبک میں آرڈی 62 سے دانستر ریگولیٹر کے گیٹ سے پانی اوور فلو ہو رہا ہے۔

  • ملک بھرمیں بارشوں اورسیلا ب سے مزید 24 افراد  جاں بحق

    ملک بھرمیں بارشوں اورسیلا ب سے مزید 24 افراد جاں بحق

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے دیگرعلاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق خیبرپختو نخوا، کشمیر، پنجاب اور گلگت بلتستان میں مزید بارش کا امکان ہے اسلام آباد میں تیز ہواؤ ں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش متوقع ہے ،میانوالی، خوشاب،سرگودھا، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین اور جھنگ مزید بارش کا امکان ہے-

    منچھرجھیل پر کٹ،پانی کا دباؤ کم نہ ہو سکا،مزید دو کٹ لگانے کا فیصلہ

    محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ کے ساحلی علاقوں میں مطلع جزوی ابر آلود رہے گا،فیصل آباد میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے ،خطہ پوٹھو ہار ، سیالکوٹ، نارووال، لاہور، گوجرانوالہ،گجرات اورشیخوپورہ میں بارش متوقع ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق وزیرستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے بونیر، باجوڑ ، مہمند، خیبر، پشاور، مردان، صوابی ،نوشہرہ ، کرم اور کوہاٹ میں بارش متوقع ہے جبکہ دیر، سوات،کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، مالاکنڈ میں بارش کا امکان ہے-

    دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنت اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے سیلاب اور بارشوں کے باعث نقصانات کے تازہ اعدادو شمار جاری کر دیئے ہیں این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں 3 کروڑ 30 لاکھ 46 ہزار 329 افراد بارشوں سے متاثر ہوئے،ملک بھر میں سیلا ب سے جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 314 ہو گئی ہے-

    این ڈ ی ایم اے کے مطابق ملک بھرمیں بارشوں اور سیلا ب سے مزید 24 افراد جاں بحق ہوئے ،بارشوں اور سیلا ب سے سندھ میں مزید 19 افراد جاں بحق ہوئے،خیبر ختونخوا میں بارشوں اور سیلا ب سےمزید3 افراد جاں بحق ہوئے ،بارشوں اور سیلا ب سے سندھ میں 511 افراد جاں بحق ہوئے-

    ڈینگی بخار: کراچی کے اسپتال متاثرہ مریضوں سے اسپتال بھر گئے

    این ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ 24گھنٹے کےدوران سیلا ب سے ایک ہلاکت ہوئی ، خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلا ب سے 289 افراد جاں بحق ہوئے،بلوچستان 260 اور پنجاب میں 189 افراد سیلاب سے جاںبحق ہوئے،سیلاب اور بارش کے باعث گلگت بلتستان 22 اورآزاد کشمیر میں 42 افرادجاں بحق ہوئے ہیں-

    این ڈ ی ایم اے کے مطابق ملک بھرمیں بارشوں اور سیلا ب سے 115افرادزخمی ہوئے،ملک بھر میں اب تک زخمى ہونے والوں کی تعداد 12 ہزار 703 ہو گئی ،ملک بھر میں 5ہزار735 کلو میٹر سڑک بارشوں اور سيلاب سے متاثر ہوئے،ملک بھر میں 7 لاکھ 50 ہزار 405 مویشیوں کو نقصان پہنچا،ملک بھر میں 80 اضلاع بارشوں اور سیلاب سے تاحال متاثرہیں-

    جبکہ نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر(این ایف آر سی سی ) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رات گئے سیلاب سے مزید 25 افراد جاں بحق ہوگئے جن میں 12 بچے شامل ہیں یوں جون سے لے کر اب تک ہلاکتوں کی کُل تعداد ایک ہزار 290 ہوگئی ہے۔

    دوسری جانب ٹھٹھہ میں دریائے سندھ سے 5 لاکھ 70 ھزار کیوسک سے زائد سیلابی ریلہ گزر رہا ہے،دریائے سندھ میں پانی کے بہاو میں تیزی کے باعث درجنوں گاوں زیر آب آ گئے،محفوظ مقامات پر نقل مکانی کرنے والے افراد کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر ہیں-

    لاہور: سبزیوں اور پھلوں کے سرکاری ریٹ جاری

    ہالہ میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ پانی کےدباؤ کےباعث بند کےپشتےکمزورہوگئے ہیں ، سیکھاٹ اور کھنڈو کے مقام پر حفاظتی بند میں دراڑیں،تیز ہوا سے بند کو کٹاؤ کا سلسلہ جاری ہے، سعیدآباد ، ہالہ پرانا اور بھانوٹ کے مقام پر بھی بند کی پشتیں کمزور ،کٹاؤ جاری ہے-

  • ڈکیتی کی ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس ان ایکشن، ملزمان گرفتار

    ڈکیتی کی ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس ان ایکشن، ملزمان گرفتار

    سوشل میڈیا پر نارتھ ناظم آباد میں ڈکیتی کی وائرل ویڈیو پر پولیس نے ایکشن لے لیا

    شاہراہِ نور جہاں پولیس نے میٹرک بورڈ آفس کے قریب شہری سے لوٹ مار کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا ،ڈکیتی کی ویڈیو ایک شہری نے اپنے موبائل فون سے بنائی تھی جو سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہوئی البتہ کسی شہری نے اس واقعہ کی رپورٹ نہیں کروائی تھی تو بمدعیت سرکار شاہراہِ نور جہاں تھانے میں مقدمہ 553/22 درج کیا گیا ،پولیس نے تکنیکی و ہیومن انٹیلیجنس بیسڈ کاروائی کرتے ہوئے ڈکیتی میں شامل ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ،گرفتار ملزم کی شناخت سہیل مسیح ولد مورس مسیح کے نام سے ہوئی ملزم کا دوسرا ساتھی عدنان شہزاد عرف عدنان البرٹ ابھی تک فرار ہے جسکی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں

    ملزمان نے وڈیو وائرل ہونے کے بعد اپنا فون بند کردیا تھا اور مسلسل ٹکانے بدل بدل کر چھپتے پھر رہے تھے ملزمان کی گرفتاری کے لئے پولیس نے متعدد مقامات پر چھاہے مارے مگر ملزم مسلسل ٹھکانے بدل رہے تھے گرفتار ملزم سہیل مسیح ڈکیتی کی وائرل ویڈیو میں موٹر سائیکل چلا رہا تھا ملزم سہیل کے قبضے سے دورانِ گرفتاری 1 پسٹل 30 بور لوڈ میگزین، پرس، 1 موبائل فون اور 1 عدد گرینیڈ بھی برآمد کر لیا گیا ملزم کے خلاف دہشتگردی اور ڈکیتی کے مقدمات قائم کرکے پولیس نے تفتیش کا آغاز کردیا

    اچھی نوکری کا جھانسہ دے کر غیر ملکی لڑکی سے کیا گیا گھناؤنا کام

    سرگودھا سے 151 لڑکیاں بازیاب،21 قحبہ خانوں سے ملیں،ڈی پی او کا سپریم کورٹ میں بیان

    معذور لڑکی کی نعش قبر سے نکال کر بیحرمتی،ملزمان گرفتار نہ ہو سکے

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    چکوال کے علاقہ چوکی بشارت کی حدود میں انسانیت سوز  واقع پیش آیا جس نے انسانیت کو شرما کر رکھ دیا۔

    دوسری جانب عزیزآباد پولیس نے کار، موٹر سائیکل لفٹر گینگ کے خلاف بڑی کاروائی کی، کارروائی تکنیکی اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی عزیزآباد پولیس نے کار اور موٹر سائیکل لفٹنگ میں ملوث منظم گروہ کے 4 کارندے گرفتار کر لیے،ملزمان میں سجاد علی ولد انصار علی ، جنید ولد نور محمد ، فہیم ولد محمد فاروق اور جاوید ولد انور شامل ہیں، ملزمان کے قبضے سے مسروقہ 2 کاریں، 5 مسروقہ موٹر سائیکل اور چھینی، کٹر پلاس سمیت لاک کاٹنے کے اوزار برآمد کر لئے گئے،ملزمان ڈسٹرکٹ سینٹرل میں متعدد وارداتوں کا انکشاف کررہے ہیں ملزمان نے گلبرگ کے علاقے سے مہران کار جبکہ تیموریہ کی حدود سے آلٹو کار چوری کی تھی جسکا مقدمہ پہلے سے متعلقہ تھانے میں درج ہے ملزم کاریں چوری کرکے کسی برج کے نیچے یا قبرستان میں چھپا دیتے تھے بعدازاں ملزمان کاروں کو پرزہ جات میں کھول کر فروخت کرتے تھے.

  • منچھرجھیل پر کٹ،پانی کا دباؤ کم نہ ہو سکا،مزید دو کٹ لگانے کا فیصلہ

    منچھرجھیل پر کٹ،پانی کا دباؤ کم نہ ہو سکا،مزید دو کٹ لگانے کا فیصلہ

    پاکستان کی سب سے بڑی منچھر جھیل پر کٹ لگانے کے بعد سیہون شریف کے متعدد دیہات زیر آب آ گئے۔

    باغی ٹی وی : منچھر جھیل پر کٹ لگانے سے دیہات زیر آب آگئےجھیل کا سیلابی پانی تیزی سے مزید دیہاتوں کی طرف بڑھ رہا ہے،باغ یوسف کے مقام سے کٹ لگانے کے بعد سیلابی ریلے قریبی بستوں تک پہنچ گئے یونین کونسل بوبک، آراضی اور یونین کونسل چنا کے بھی سیکڑوں دیہات ڈوب گئے۔

    باجارا شہر اور جہانگارا شہر بھی مکمل طور پر زیر آب آ گئے علاقہ مکینوں نے کشتیوں کے ذریعے نقل مکانی شروع کر دی۔ کئی مقامات پر موٹرسائیکلیں اور گاڑیاں سیلابی ریلے میں پھنس گئیں منچھر کو کٹ لگانے کے باوجود بھی جھیل سے پانی کا دباؤ کم نہ ہوسکا پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق بوبک بند پر دانستر نہر کے گیٹ بھی کمزور ہوگئے ہیں۔ بوبک بند کو نقصان پہنچا تو ایک لاکھ سے زائد آبادی متاثر ہونے کا خدشہ ہےماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بند ٹوٹنے سے 300 سے زائد دیہات زیر آب آ سکتے ہیں-

    باغ یوسف آر ڈی 14 سےکٹ لگانے سے منچھر جھیل سے پانی کا دباؤ کم نہیں ہوا، آر ڈی 55 اور آر ڈی 80 سےکٹ لگایا جاسکتا ہے محکمہ آبپاشی ذرائع کے مطابق بوبک میں آرڈی 62 سے دانستر ریگولیٹر کے گیٹ سے پانی اوور فلو ہو رہا ہے۔

    سندھ بھر میں سیلابی صورتحال درپیش ہے، قمبر شہداد کوٹ کی تحصیل وارہ میں گاجی کھاوڑ کے رنگ بند میں شگاف پڑنے سے مکین اپنا سامان گھروں میں چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں –

    روجھان:پانیوں میں ڈوبتی ممتابچوں کےلیے راشن لینےآئی:راشن تونہ مل سکا جان چلی گئی

    محکمہ آبپاشی کے مطابق سکھر بیراج میں آئندہ 24 سے 36 گھنٹوں میں سیلاب، اونچے سے درمیانے درجے میں تبدیل ہوجائے گا جبکہ کچے کے زیر آب متعدد گاؤں، دیہاتوں میں اب بھی کئی خاندان پھنسے ہوئے ہیں۔

    خیرپور میں کوٹ ڈیجی میں بھی سیلابی صورتحال ہے اورشہر پانی میں ڈوبا ہوا ہے دوسری جانب ٹھٹہ میں سیلاب کے باعث کئی دیہات اور ہزاروں ایکڑ زرعی زمینیں اور فصلیں زیر آب آگئی ہیں۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نے سیہون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ منچھر جھیل کے پشتوں پر پانی کا دباؤ تھا، شہر کے ڈوبنے کا خطرہ تھا، جس کے باعث منچھر جھیل پر کٹ لگایا، کوشش ہے کہ بھان سعید آباد اور سیہون کے شہروں کو بچائیں۔

    انہوں نے بتایا کہ منچھر جھیل کے پانی کی سطح 123 آر ایل سے بڑھ گئی تھی، تیز ہوا کے باعث منچھر جھیل کے بند پر پانی کا شدید دباؤ تھا۔

    منچھرجھیل میں کٹ کےبعد پاک فوج سے مدد طلب، آرمی اور رینجرز کے جوان تعینات

  • ڈینگی بخار: کراچی کے اسپتال متاثرہ مریضوں سے اسپتال بھر گئے

    ڈینگی بخار: کراچی کے اسپتال متاثرہ مریضوں سے اسپتال بھر گئے

    کراچی میں ڈینگی بخار وبائی صورت اختیار کرنے لگا، کراچی کے اسپتال مریضوں سے بھر گئے۔

    باغی ٹی وی : کراچی میں ڈینگی کے بڑھتے کیسز اور بلڈ بینکوں میں خون کی کمی کے باعث سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی نے لوگوں سے خون کا عطیہ دینے کی ہنگامی اپیل کر دی ہے۔

    اتھارٹی کی سیکرٹری ڈاکٹردرناز جمال کا کہنا ہے کہ اس وقت کراچی بھر میں میگا یونٹس اورپلیٹ لیٹس کی شدید کمی کا سامنا ہے شہر کے بلڈ بینکوں میں میگا اور سنگل پلیٹی لیٹس یونٹس موجود نہیں ہیں اس لیے صحت مند شہری اور ڈونر قریب ترین اسپتال یا بلڈ بینک میں خون کا عطیہ دیں۔

    دوسری جانب سندھ انفیکشن اسپتال کےمیڈیکل سپرنٹنڈنٹ کےمطابق کراچی کےمختلف اسپتالوں میں ڈینگی وارڈز تیزی سے ڈینگی مریضوں سے بھرتے جا رہے ہیں۔

    دھبے دار جلد والا یہ مچھر پاکستان میں مون سون کی بارشوں کے بعد ستمبر سے لے کر دسمبر تک موجود رہتا ہےماہرین کے مطابق یہ مچھر 10 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجۂ حرارت میں پرورش پاتا ہے اور اس سے کم یا زیادہ درجۂ حرارت میں مر جاتا ہے۔

    اسلام آباد اور کے پی کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    ڈینگی مادہ مچھر کے کاٹنے سے پیدا ہوتا ہے نر سے ملاپ کے مادہ کو انڈے دینے کے لیے پروٹین کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ یہ پروٹین حاصل کرنے کے لیے انسانی خون چوستی ہے جس سے ڈینگی کا انفیکشن پھیلتا ہے۔

    ایڈیِز ایجپٹی مچھر کے انڈوں اور لاروے کی پرورش صاف اور ساکت پانی میں ہوتی ہے جس کے لیے موافق ماحول عام گھروں کے اندر موجود ہوتا ہےاس مرض کی علامات میں تیز بخار کے ساتھ جسم خصوصاً کمر اور ٹانگوں میں درد اور شدید سر درد شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ مریض کو متلی اور قے کی شکایت ہوتی ہے، جسم پر سرخ نشان پڑ جاتے ہیں اور اس کے مسوڑھوں یا ناک سے خون بھی آ سکتا ہےبخار کے دوران ڈینگی کے مریض پر غنودگی طاری ہو سکتی ہے اور ساتھ ہی اسے سانس لینے میں دشواری کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔

    ڈینگی کا وائرس خون کے بہاؤ اور دل کی دھڑکن کو بھی متاثر کرتا ہے اور اس سے فشارِ خون یا بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

    بھارت میں سکھوں سے نفرت: آصف کا کیچ کیوں چھوڑا؟ بھارتی انتہا پسندوں نے ارشدیپ سنگھ کو خالصتانی قرار…

    ڈینگی سے بچنے کیلئے روم کولر کا استعمال کم کریں اور اس میں کھڑا پانی فوری طور پر خشک کر دیا جائے۔ آرائشی گملوں، گاڑی کے خراب ٹائر، پارکس یا چھتوں پر کسی بھی برتن وغیرہ میں پانی نہ کھڑا ہونے دیا جائے بارش کا پانی کسی بھی جگہ جمع نہ ہونے دیا جائے جبکہ ایئرکنڈیشنر سے خارج ہونے والے پانی کی نکاسی کا مناسب بندوبست کیا جائے

    مچھر مار سپرے کروایا جائے خصوصی طور پر کونوں کھدروں اور فرنیچر کے نیچے سپرے لازمی کروایا جائے۔ مچھر دانیوں اور مچھر بھگانے والے لوشن کا استعمال کریں-

  • شاہ عبداللطیف بھٹائی کا سالانہ عرس مبارک: سندھ حکومت کا سرکاری تقریبات منسوخ کرنے کا فیصلہ

    شاہ عبداللطیف بھٹائی کا سالانہ عرس مبارک: سندھ حکومت کا سرکاری تقریبات منسوخ کرنے کا فیصلہ

    سندھی زبان کے عظیم صوفی بزرگ و شاعر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے تین روزہ سالانہ عرس مبارک کی تقریبات ہر سال 14 صفر سےان کی آخری آرامگاہ والےشہر بھٹ شاہ میں منعقد کی جاتی ہیں،سندھ حکومت نےحضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے سالانہ عرس مبارک کے حوالے سے سرکاری تقریبات منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے سندھ بھر میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر اس سال عرس مبارک کی سرکاری تقریبات منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    حضرت بہاؤالدین زکریا کے تین روزہ عرس کا آج سے آغاز

    ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ عرس مبارک کی تین روزہ سرکاری تقریبات کے بجائے صرف حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مزار پر چادر چڑھائی جائے گی۔

    یاد رہے کہ سرکاری تقریبات میں شاہ لطیف ادبی کانفرنس، روایتی سندھی کشتی ’’ملاکھڑو‘‘ کے مقابلے، صوفیانہ محفل موسیقی کا انعقاد، زرعی اور صنعتی نمائشیں، ثقافتی اشیاء کی تشہیر و ترویج کیلئےثقافتی ولیج کا قیام اور سندھ کے سب سے بڑے سرکاری ایوارڈ ’’شاہ لطیف ایوارڈ‘‘ کی تقریب تقسیم منعقد کی جاتی ہے۔

    شاہ عبد اللطیف بھٹائی برصغیر کے عظیم صوفی شاعر تھے۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیغام کو عام لوگوں تک پہنچایا شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے آباؤ اجداد سادات کے ایک اہم خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کا سلسلۂ نسب علی المرتضی اور رسول خدا حضرت محمد مصطفی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک پہنچتا ہے شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی ولادت 1689ء، 1101ھ میں موجودہ ضلع مٹیاری کی تحصیل ہالا میں ہوئی۔ آپ کے والد سید حبیب شاہ ہالا حویلی میں رہتے تھے۔ اور موصوف کا شمار اس علاقے کی برگزیدہ ہستیوں میں تھا۔

    شاہ صاحب کی پیدائش کے متعلق مشہور ہے کہ سید حبیب شاہ نے یکے بعد دیگرے تین شادیاں کیں لیکن اولاد سے محروم رہے۔ آپ نے اپنی اس محرومی کا ذکر ایک درویش کامل سے کیا، جن کا اسم گرامی عبداللطیف بتایا جاتا ہے۔ موصوف نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ آپ کی مراد بر آئے گی۔ میری خواہش ہے کہ آپ اپنے بیٹے کا نام میرے نام پر عبد اللطیف رکھیں۔ خدا نے چاہا تو وہ اپنی خصوصیات کے لحاظ سے یکتائے روزگار ہو گا۔

    سید حبیب شاہ کی پہلی بیوی سے ایک بچہ پیدا ہوا۔ درویش کی خواہش کے مطابق اس کا نام عبد اللطیف رکھا گیا۔ لیکن وہ بچپن میں ہی فوت ہو گیا۔ پھر اسی بیوی سے جب دوسرا لڑکا پیدا ہوا تو اس کا نام پھر عبد اللطیف رکھا گیا۔ یہی لڑکا آگے چل کر درویش کی پیشین گوئی کے مطابق واقِعی یگانہ روزگار ہوا ،شاہ عبد الطیف بھٹائی کو "ست سورمیون کا شاعر” بھی کہا جاتا ہے-

    پاک فضائیہ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائیاں مزید تیز کردیں

  • کراچی:دوران ڈکیتی مزاحمت پر5افراد قتل:لاہورمیں ڈاکو گھرسے20 تولہ سونا اور7لاکھ روپےلوٹ کرفرار

    کراچی:دوران ڈکیتی مزاحمت پر5افراد قتل:لاہورمیں ڈاکو گھرسے20 تولہ سونا اور7لاکھ روپےلوٹ کرفرار

    کراچی: شہر قائد کے ضلع کورنگی میں مسلح افراد نے ڈکیتی مزاحمت پر دو نوجوانوں کو گولیاں مار کر قتل جبکہ تین کو زخمی کردیا، گزشتہ 36 گھنٹوں میں شہر بھر میں بے لگام ڈاکوؤں نے مزاحمت پر پانچ شہریوں کو موت کی نیند سلادیا۔

    ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ کورنگی کے دو تھانوں ماڈل کالونی اور لانڈھی کے علاقوں میں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ڈاکوؤں مزاحمت پر مزید دو نوجوانوں کو گولیاں مار کر قتل کر دیا ، گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران بے لگام ڈاکوؤں نے 5 افراد کو قتل اور نصف درجن سے زائد افراد کو زخمی کر دیا۔

    پولیس روایتی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاحال کسی ملزم کو گرفتار نہ کرسکی جس کی وجہ سے شہریوں کا محکمے پر سے اعتبار ختم ہورہا ہے۔ماڈل کالونی کے علاقے میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے قتل کیے جانے والے عثمان کے ورثا نے پوسٹ مارٹم اور پولیس کارروائی کو بے وجہ قرار دیا اور لاش اپنے ہمراہ لے گئے ۔

    تھانہ ماڈل کالونی کی حدود ملیر کاظم آباد ہیرا مسجد کے قریب ڈاکوؤں نے ملک و بیکری شاپ میں فائرنگ کر کے دکاندار کو زخمی کر دیا اور موقع سے فرار ہوگئے ، زخمی ہونے والے شخص کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ دوران سفر وہ خون زیادہ بہہ جانے کے باعث زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔

    مقتول کی لاش جناح اسپتال منتقل کی گئی جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کر دی ، مقتول کے سینے اور بازو میں دو گولیاں ماری گئی تھیں۔

    ترجمان کراچی پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت 25 سالہ عثمان ولد مشتاق کے نام سے کی گئی ، مقتول عثمان ملیر ماڈل کالونی جعفر باغ علی چوک کے قریب کا رہائشی اور ملک و بیکری شاپ کا مالک تھا ، مقتول 3 بھائیوں میں دوسرے نمبر اور غیر شادی شدہ تھا، جس کا آبائی تعلق پنجاب کے علاقے لیہ سے تھا۔

    مقتول نے تقریباً ڈیڑھ سال قبل مذکورہ دکان کھولی تھی ، واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا گیا کہ موٹرسائیکل سوار دو مسلحہ ملزمان نے دکان میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر دکان کے مالک نے ملزمان کے ہاتھ میں اسلحہ دیکھ کر انہیں روکنے کے لیے کی کوشش کی جس پر ملزمان نے مشتعل ہو کر فائرنگ کر دی اور لوٹ مار کیے بغیر فرار ہوگئے۔

    واقعے کے بعد علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موقع پر اکھٹی ہوگئی ، اطلاع ملنے پر ماڈل کالونی تھانے کی پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی اور فارنزک ڈپارٹمنٹ کو موقع پر طلب کر لیا۔ تفتیشی پولیس اور فارنزک ڈپارٹمنٹ کے افسران نے جائے وقوعہ سے دو خول اور فنگر پرنٹ اور دیگر شواہد اکھٹے کیے دوسری طوف مقتول کے ورثا نے پوسٹ مارٹم اور پولیس کارروائی کرانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اس سے قبل بھی ان کے خاندان کے 3 افراد ڈاکوؤں کی گولیاں کا شکار بن چکے ہیں جن کے لیے پولیس نے کچھ بھی نہیں کیا۔

    خاندان کے ایک شخص کے قتل میں ملوث ڈاکوؤں کو پنجاب سے گرفتار بھی کیا گیا تاہم وہ بھی چھوڑ دیے گئے ، ماڈل کالونی تھانے کے ڈیوٹی افسر نے مقتول کے رشتے داروں کو پوسٹ مارٹم کرانے کے لیے بہت سمجھانے کی کوشش کی تاہم انہوں نے پولیس کی ایک نہ سنی اور لاش ایدھی ایمبولینس میں رکھ کر اپنے ہمراہ گھر لے گئے۔

    ڈسٹرکٹ کورنگی کے تھانہ لانڈھی کی حدود سیکٹر 36/B پیالہ ہوٹل پر ڈاکوؤں نے لوٹ مار کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر 28 سالہ نوجوان کو تیز دھار آلے کے پے در پے وار کر ہلاک کر دیا اور موقع سے فرار ہوگئے ، مقتول کی لاش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کی گئی۔

    ترجمان کراچی پولیس کے مطابق فوری طور پر مقتول کی شناخت نہیں کی جا سکی ، پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے ، لانڈھی 89 صادق میڈیکل اسٹور پر ڈاکوؤں نے لوٹ مار کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر فائرنگ کر کے ایک شخص کو زخمی کر دیا اور لوٹ مار کر کے فرار ہوگئے، زخمی ہونے والے شخص کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا ، ترجمان کراچی پولیس کے مطابق زخمی ہونے والے شخص کی شناخت 45 سالہ ذولفقار علی ولد محمد صادق کے نام سے کی گئی۔

    پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے ، منگھو پیر کے علاقے ناردرن بائی پاس کٹی پہاڑی دعا ہوٹل کے قریب ڈاکوؤں نے لوٹ مار کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر فائرنگ کر کے 2 افراد کو زخمی کر دیا ، زخمی ہونے والے افراد کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا ، ترجمان کراچی پولیس کے مطابق زخمی ہونے والے افراد کی شناخت 25 سالہ محمد ساجد ولد محمد لطیف اور 40 سالہ محمد ندیم ولد جن وڈا کے نام سے کی گئی ، پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

    ادھرلاہور کے علاقے محافظ ٹاؤن کے ایک گھر میں ڈاکو 20 تولہ سونا اور سات لاکھ روپے کیش لوٹ کر فرار ہوگئے۔

    تفصیلات کے مطابق مسلح ڈاکوؤں نے اہل خانہ کو یرغمال بنا کر لوٹ مار کی، ڈاکووں کے گھر میں داخل اور فرار ہونے کی فوٹیج منظر عام پر آگئی۔

    سی سی ٹی وی میں دیکھا گیا ہے کہ دونوں ڈاکو سفید رنگ کی کار میں سوار تھے جبکہ ڈاکوؤں نے ڈکیتی کا مال رکھنے کے لیے کار دروازے کے باہر پارک کی۔فوٹیج میں چہرے واضح ہونے کے باوجود ڈاکو گرفتار نا ہوسکے۔

  • منچھرجھیل میں کٹ کےبعد پاک فوج سے مدد طلب، آرمی اور رینجرز کے جوان تعینات

    منچھرجھیل میں کٹ کےبعد پاک فوج سے مدد طلب، آرمی اور رینجرز کے جوان تعینات

    سیہون شریف: پاکستان کی سب سے بڑی منچھر جھیل میں سیلانی پانی کا دباؤ کم کرنے کے لئے آر ڈی 14 کے مقام پر کٹ لگا دیا گیا جبکہ ہنگامی صورتحال پر قابو پانے کے لئے سول انتظامیہ کے مدد طلب کرنے پر منچھر جھیل پر فوج اور رینجرز کے جوانوں کو تعینات کردیا گیا۔

    محکمہ آبپاشی سندھ کے مطابق منچھر جھیل کو کٹ لگانے کے بعد پانی گاؤں کرن پور اور انڈس لنک کے درمیان سے ہوتا ہوا دریائے سندھ میں داخل ہوگا، کٹ کے بعد منچھر جھیل سے پانی کا دباؤ 30 فیصد کم ہو گا۔

    ڈپٹی کمشنر سہون مصطفیٰ فرید کا کہنا ہے کہ منچھر جھیل کو باغ یوسف کے قریب آر ڈی 14 کے مقام پر کٹ لگایا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ منچھر جھیل میں پانی کی سطح بلند ہونے سے بند ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا اور بند ٹوٹنے کی صورت میں سیہون کی 5 یونین کونسلیں ڈوبنے کا خدشہ تھا۔

    سیلابی صورتحال کے پیش نظر مکینوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے جبکہ میہڑ اور جوہی شہر کے رنگ بندوں پر بھی پانی کا دباؤ بڑھنے کے بعد شہری بوریوں میں مٹی بھر بھر کر بندوں کو مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔

    دوسری جانب سول انتظامیہ نے پاک فوج سے جھیل کے نازک مقامات پر بند کو مضبوط کرنے کا مطالبہ کیا جس پر پاک فوج کے انجینئر بند کے ٹوٹے حصوں کی مرمت کیلئے فوری طور پر جھیل پر پہنچ گئے، پاکستان آرمی کے انجینئرز کی جانب سے منچھر جھیل کے کناروں کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر کوششیں جاری ہیں تاکہ کسی بھی آفت سے بچا جا سکے۔

    منچھر جھیل میں کٹ کے بعد وزیراعلیٰ سندھ کی سیہون شریف پہنچے، صورتحال کا فضائی جائزہ لیا جبکہ مراد علی شاہ کے زیر صدارت اہم اجلاس میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بریفنگ بھی دی گئی۔

    صوبائی وزیر شرجیل میمن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ منچھر جھیل میں کٹ سیہون کو بچانے کیلئے لگایا گیا، ایک لاکھ 25 ہزار افراد متاثر ہونگے، لوگوں کا انخلا جاری ہے، صوبے کے سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض بڑھ رہے ہیں، زیادہ متاثرہ مقامات کے باسیوں کو پہلے ریلیف دیا جائے گا۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • مراد علی شاہ کاگاؤں سیلاب میں ڈوب گیا، سیہون بچانے کیلئے منچھر جھیل میں شگاف ڈال دیا گیا

    مراد علی شاہ کاگاؤں سیلاب میں ڈوب گیا، سیہون بچانے کیلئے منچھر جھیل میں شگاف ڈال دیا گیا

    سہون شریف :منچھر جھيل ميں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی ہے، جس کے بعد حفاظتی بند کسی بھی وقت ٹوٹنے کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ وزيراعلیٰ سندھ کا آبائی گاؤں بجارا بھی پانی میں ڈوب گیا، جب کہ سیہون بھی خطرے میں پڑ گیا ہے،جہاں شہر کو بچانے کیلئے منچھر جھیل میں کٹ دے دیا گیا ہے۔ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ اس کٹ سے 5 یوسیز بری طرح متاثر ہوں گی۔

    انتظامیہ نےعلاقہ خالی کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ سیہون میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا آبائی گاؤں میں پانی میں ڈوب گیا ہے۔ جس کے بعد سیہون کو سیلاب سے بچانے کے لئے منچھر جھیل میں کٹ لگا دیا گیا۔ آرڈی چودہ کے مقام پر کٹ لگایا گیا ہے۔

    ذرائع محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ دادو اور دیگر شہروں کو بھی نقصان سے بچا لیا ہے۔ تین یونین کؤنسلر کے درجنوں دیہات رات گئے خالی کرالیے گیے تھے۔

    سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ گاؤں بجارا میں اب تک امداد نہیں پہنچی۔ زمینی حقائق کی بات کی جائے تو متاثرين کے پاس نہ راشن ہے اور نہ رہنے کے ليے ٹينٹ ہیں۔ علاقے میں چاروں طرف پانی، مگر بجارا واسی گھر چھوڑنے کو تیار نہیں۔ کشتی کی مدد سے سما کی ٹیم جب بجارا گاؤں پہنچی تو ہر طرف تباہی تھی۔ گھر برباد تو مویشی ہلاک تھے۔ جس گاؤں کو سیلابی پانی نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے وہاں امداد کا ایک دانہ تک نہیں پہنچایا جاسکا۔ مقامی رہائشی شاہنواز کی سات سال کی بیٹی سیلاب کی نذر ہوگئی۔

     

     

    ڈپٹی کمشنر کا کہناتھا کہ منچھر جھیل کی صورت حال انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے،آر ڈی 54 سے آر ڈی 58 تک منچھر جھیل کے بندپر دباؤ ہے،عوام سے انخلا اور حفاظتی اقدامات کی اپیل ہے۔ ڈپٹی کمشنر جامشورو فریدالدین مصطفی نے کہاکہ یونین کونسل واہڑ، یونین کونسل بوبک، یونین کونسل جعفرآباد، یونین کونسل چنا، یونین کونسل آراضی کی عوام کوعلاقہ خالی کرنے کی اپیل ہے،ان کا کہناتھا کہ منچھر جھیل کا بند کسی بھی وقت ٹوٹنے کا خدشہ ہے، اس لئے عوام سے انخلا کی اپیل ہے۔

    جامشورو میں یوسی چنا، یوسی بوبک، یوسی واہڑ اور یوسی جعفرآباد 60 فیصد خالی کرالیے گئے ہیں، جب کہ 40 فیصد آبادی نقل مکانی میں مصروف ہے۔

    دادو
    دریائے سندھ میں سیلاب سے متاثرہ افراد نے سڑک کنارے ڈیرے ڈال لیے۔ دادو کا یوسف نائچ گوٹھ مکمل طور پر ڈوبا ہوا ہے, جہاں کے مکین نقل مکانی کرکے اپنے مویشیوں کے ساتھ سڑک کنارے موجود ہیں۔

    مٹیاری
    مٹیاری کےعلاقے سعیدآباد بھٹ شاہ میں قومی شاہراہ پرکیمپسں تو لگادیئے گئے لیکن سیلاب متاثرین کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہیں۔ ٹریفک کے باعث خواتین اور بچے خوفزدہ ہیں۔ سیلاب سے متاثر ہزاروں کی تعداد میں افراد قومی شاہراہ پر قائم کیمپسں میں موجود ہیں۔ جس میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔

    سکھر میں بیماریاں
    سکھرمیں بارش کی تباہ کاریوں کے بعد تمام علاقوں میں گیسٹرو ، ملیریا، ڈائریا سمیت مختلف بیماریاں پھوٹ پڑی ہیں۔ سکھر میونسپل کارپوریشن کی جانب سے شہر میں میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا ہے، جہاں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹر انعم شیخ کے مطابق ان کیمپس میں سیلاب زدگان کا علاج مفت کیا جارہا ہے، گیسٹرو، ڈائریا، ملیریا اور جلد کی بیماریوں سے متاثرین کو نقصان پہنچا ہے۔

    ٹنڈو الہٰ یار
    ٹنڈوالہ یار کے دیہی علاقے ميں سیلاب سے متاثرہ گھروں میں ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ متاثرین سامان اٹھائے خشکی کی تلاش میں ہیں۔ سیلاب زدگان کا کہنا ہے کہ کھانا پانی کچھ بھی نہیں ملا۔ بلکہ لوگ بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

    فلڈ وارننگ سینٹرکے مطابق سکھر بیراج پر بھی پانی کی سطح گرنا شروع ہوگئی ہے۔ اور یہاں پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 45 ہزار کیوسک پر آ گیا، اور آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید کمی کا امکان ہے۔ دوسری جانب فلڈ وارننگ سینٹر نے بتایا ہے کہ کوٹری بیراج پر 12 سال بعد 5 لاکھ 86 ہزارکیوسک کا بڑاریلا پہنچ گیا ہے، اور پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات