Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی میں 10 ستمبر سےاورنج لائن بس سروس شروع کرنے کا اعلان

    کراچی میں 10 ستمبر سےاورنج لائن بس سروس شروع کرنے کا اعلان

    کراچی: صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کراچی میں اورنج لائن بس سروس شروع کرنے کی تاریخ کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ پر جاری بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ اورنج لائن بس سروس 10 ستمبر سے کراچی کے شہریوں کے لیے شروع کردی جائے گی۔

    منچھر جھیل پر پانی کا شدید دباؤ،پانی کا رساؤ شروع،لوگ نقل مکانی کرنے لگے


    صوبائی وزیر نےکہاکہ اورنج لائن بی آر ٹی (عبدالستار ایدھی لائن) اب کراچی کے شہریوں کے لیے تیار ہے اورنج لائن پراجیکٹ کی 100 فی صد فنڈنگ حکومت سندھ نے کی ہےجبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں یہ کراچی کے لوگوں کے لیے ایک اور تحفہ ہے-

    بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک میں24 گھنٹے کے دوران مزید 57 افراد جاں بحق


    انہوں نے بتایا کہ اورنج لائن کی ٹیسٹ ڈرائیو کا آج سے آغاز کردیا گیا ہ اور 10 ستمبر سے اورنج لائن کراچی کے عوام کے لیے کھول د ی جائے گی اورنج لائن سے اورنگی، بنارس اور نارتھ ناظم آباد سمیت اطراف کے شہریوں کو محفوظ سفری سہولت میسر آسکے گی۔

    امریکی ارکان کانگریس پاکستان میں سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کیلئے روانہ

    اورنج لائن بس سروس اورنگی ٹاؤن اور ملحقہ علاقوں کے شہریوں کو محفوظ اور آرام دہ سفر کی سہولت فراہم کرے گی اس کا ایک ایلیوی ٹڈ ا سٹیشن ہےاورتین گریڈ اسٹیشنوں پر10 ایکسلریٹر ہیں 16 پلیٹ فارم اسکرین ڈورز نصب ہیں۔یہ مکمل طورپرسندھ حکومت کی مالی اعانت سے چلنے والا منصوبہ ہے جو سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی ادارے کے تحت چلایا جائے گا۔

    سندھ حکومت نے ورنج لائن منصوبےکےلیے 20 بسوں کی خریداری کی رقم ادا کر چکی ہےاورنج لائن منصوبے کا 99 فیصد انفراسٹرکچر مکمل ہوچکا ہے (اورنگی ٹاؤن سے میٹرک بورڈ آفس)۔ اورنج لائن کے لیے کوریڈور کے اندر کامیاب ٹیسٹ ڈرائیو شروع ہو گئی ہے۔

    سوات میں سیلاب مگرپی ٹی آئی ارکان اسمبلی ابھی تک غائب ہیں‌

    64 سے زیادہ مسافر ایک وقت میں ایک بس میں سفر کریں گے 31 نشست اور تقریباً 34 معاون ہینڈلز کے ساتھ کھڑے اور معذور افراد کے لیے دو نشستیں رکھی گئی ہیں۔ یہ بسیں بین الاقوامی سطح کے مطابق ہیں جن میں وائی فائی اور موبائل چارجنگ پورٹس سمیت تمام سہولیات موجود ہیں اورنج بس ریپڈ ٹرانزٹ کو عبدالستار ایدھی کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔

    متوقع سواریوں کی تعداد 24,000 یومیہ ہوگی لیکن یہ نظام یومیہ 30,000 مسافروں کو پورا کرتا ہے۔اورنج لائن بس سروس کا منصوبہ ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشن آفس (اورنگی ٹاؤن) سےجناح یونیورسٹی برائےخواتین کراچی (نزد میٹرک بورڈ آفس) تک 3.88 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گا جس میں 4 بی آر ٹی اسٹیشنز اور 1 ڈپو (پاپوش قبرستان سے ملحق) شامل ہیں اس منصوبےکےتحت کل 20 بسیں چلیں گی اور 40 ڈرائیور دو شفٹوں میں اپنے فرائض سرانجام دیں گے۔

    خاندان کے بیشتر افراد کھو دینے والی بچی سے وزیراعظم کی ملاقات

  • منچھر جھیل پر پانی کا شدید دباؤ،پانی کا رساؤ شروع،لوگ نقل مکانی کرنے لگے

    منچھر جھیل پر پانی کا شدید دباؤ،پانی کا رساؤ شروع،لوگ نقل مکانی کرنے لگے

    منچھر جھیل پر پانی کا دباؤ بڑھنے کے بعد دانستر نہر پر بھی پانی کا دباؤ ، نہرکا دروازہ ٹوٹ گیا-

    باغی ٹی وی :ریسکیو ذرائع کے مطابق منچھر جھیل میں پانی کے دباؤ کے نتیجے میں دانستر نہر کے دروازوں کے اوپر سے پانی اوور فلو ہونے لگا اور دروازوں سے اوور فلو ہونے والا پانی دانستر نہر میں داخل ہو رہا ہے۔

    نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیر

    ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ جھیل کے سطح 22 فٹ سے زائد ہونے کے باوجود پانی گیٹ کے اوپر سے اوور فلو ہو رہا ہے اور دانستر نہر کے دروازوں پر پانی کا دباؤ بڑھنےکےباعث نہر کا دروازہ ٹوٹنےکےبعد دانستر واہ سے پانی کا رساؤ شروع ہوگیا ہےخوف و ہراس پھیلنے کے بعد منچھر جھیل کے قریبی دیہات سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی۔

    ضلع میرپور خاص کے علاقے نوکوٹ کے سیم نالے کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا جس سے نوکوٹ شہر کو شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہے قریبی دیہات سے لوگوں نےنقل مکانی شروع کردی ہے۔ نوکوٹ شہر کو بچانے کیلئے پشتوں پر ریت کی بوریوں سے بند باندھنے کا کام شروع کردیا گیا۔

    منچھر جھیل سے ملحقہ دانستر واہ کا دروازہ آر ڈی 62 کے مقام پر پانی کے دباؤ کے باعث ٹوٹ گیا جس کے بعد وہاں سے پانی کا رساؤ شروع ہوگیا ہے اور بوبک شہر اور سیہون ائیر پورٹ کے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔

    ملک بھرمیں سیلاب اور بارشوں سےجاںبحق افراد کی تعداد 1 ہزار 208 ہوگئی

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یونین کونسل بوبک، جعفر آباد ، واہڑ ، آئل ریفائنری سمیت سیکڑوں دیہاتوں کے بھی زیر آب آنے کا خطرہ ہے۔

    خوف وہراس پھیلنے کے باعث مقامی آبادی نے محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی شروع کردی ہے ۔ڈپٹی کمشنر جامشورو فرید مصطفیٰ کا کہناہے کہ ٹوٹے دروازے کی مرمت کا کام جاری ہے-

    منچھر کنٹرول روم کےمطابق پہاڑی ندی نالوں کا پانی شامل ہونے کےبعد منچھر جھیل کی سطح میں 6 فٹ اضافہ ہوا۔ جھیل میں پانی کا ڈیڈ لیول 120 فٹ تک ہے جبکہ منچھر جھیل میں پانی کی موجودہ سطح 116.8 ہے۔

    واضح رہے کہ دانستر نہر کا ایک دروازہ 2020 میں ٹوٹ گیا تھا، اس وقت نیا دروازہ نہ ملنے پر ایک استعمال شدہ دروازہ نصب کر دیا گیا تھا ریسکیو ذرائع کے مطابق نصب شدہ گیٹ کی لمبائی کی سائیز 18 تھی اور گیٹ پر 4 فٹ کی لوہے کی چادر نصب کی گئی تھی۔

    ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت منچھر جھیل میں پانی کی سطح 122 آرایل سے زائد ہے اور دانستر گیٹ کی لمبائی لوہے کی نصب شدہ چادر کے ساتھ 22 فٹ ہے۔

    نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیر

  • نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیر

    نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیر

    نواب شاہ:نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیر،اطلاعات کے مطابق سندھ کے باسی کئی محاذوں پر لڑرہے ہیں ایک طرف سیلاب کی تباہ کاریاں ہیں تو دوسری طرف حکومت کی بے رحمانہ پالیسیاں اورطاقتوروں ،وڈیروں کی خواہشات کا شکار ہورہے ہیں اس اثنا میں اگران پرکوئی اورظلم زیادتی یا تکلیف آجائے تو وہ کدھر جائیں گے

    نواب شاہ سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیرہےاوران کوکوئی پوچھنے والا نہیں مریض تڑپ رہے ہیں

    اس سلسلے میں‌ سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج کے بعد نواب شاہ،متاثرین میں خواتین اوربچوں سمیت 20 افراد کوہسپتال منتقل کردیاگیا ہے ، جہاں ان کی حالات خراب بتائی جاتی ہے ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ کھانا سندھ حکومت کی طرف سے فراہم کیا گیاتھا ، لیکن کھانا باسی تھا اورپھرناقص بھی جس کی وجہ سے کھانا کھانے والے سب بیمار ہوگئے

     

     

    ادھروزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ صوبہ بھر میں 30 لاکھ کچے مکانات تباہ ہوگئے، سیکڑوں پکے مکانات بھی رہنے کے قابل نہیں، ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگ بے گھر ہوچکے، 470 اموات ہوئیں، 8 ہزار سے زائد زخمی ہوگئے، ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اس کی تیاری کرسکیں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ 2010ء کے بعد یہ سب سے بڑا سیلاب ہے، گزشتہ 12 سے 13 روز میں 27 اضلاع کی حقیقت دیکھی، ابھی جیک آباد، گھوٹکی اور کشمور میں نہیں گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ سیلاب میں 470 افراد جاں بحق اور 8 ہزار 314 زخمی ہیں، 30 لاکھ سے زیادہ کچے مکانات تھے، جو نہیں بچے، اگر کوئی مکان گرا نہیں ہے تو وہ رہنے کے قابل نہیں رہا، پکے مکانات بھی کئی جگہوں پر ایسے ہیں جو رہنے کے قابل نہیں، ڈیڑھ کروڑ لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کا کہنا ہے کہ کہیں کوئی کٹ لگانا ہو یا پانی نکالنا ہوگا اس کا فیصلہ محکمہ آبپاشی کریگا، سب سے درخواست کرتا ہوں صبر سے کام لیں، پانی قدرتی گزر گاہوں سے سمندر تک جائے گا۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر وزیر اپنے اپنے ضلع میں گیا ہے، کوئی ایک کونا نہیں سندھ میں جہاں ہمارا منتخب نمائندہ نہیں پہنچا، جو اپنے گھر سے نکلے گا اس کی کیا کیفیت ہوگی، لوگوں نے غصے کا اظہار کیا لیکن جائز کیا۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ میں 16 اگست کے بعد جو بارش ہوئی تھی اُس کی تیاری نہیں تھی، ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اس کی تیاری کرسکیں، میڈیا نے دکھانا شروع کیا تب لوگوں کو احساس ہوا کہ حالات واقعی خراب ہیں۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ جس قسم کی صورتحال ہے میڈیا چینل اب تک وہ نہیں دکھا رہے، میڈیا کو بہت زیادہ درخواست کی تھی تب جاکر کچھ دکھانا شروع کیا، پورا سندھ دریا بنا ہوا ہے، ہر شہر میں دریا کی صورتحال ہے، کئی مقامات پر میری گاڑی روکی گئی لیکن ہم نے لوگوں کو چھوڑا نہیں، جتنا بڑا نقصان ہوا اس میں ہمارے پاس جو سامان تھا ختم ہوگیا۔

    انہوں نے کہا اگست میں معمول سے 700 گنا زیادہ بارش ہوئی، این ڈی ایم اے نے سندھ حکومت کو صرف 8 ہزار ٹینٹ دیئے، ایک لاکھ 10 ہزار ٹینٹ سندھ حکومت تقسیم کرچکی ہے، ہم نے مزید 3 لاکھ ٹینٹ کا آرڈر دیا ہے، اسٹاک میں موجود 20 ہزار ترپال تقسیم کرچکے، 30 لاکھ مچھر دانیوں کی ضرورت ہے، انشاء اللہ مچھر دانیوں کی تعداد پوری ہوجائے گی۔

  • کراچی یونیورسٹی میں لیب کی چھت گر گئی

    کراچی یونیورسٹی میں لیب کی چھت گر گئی

    کراچی :کراچی یونیورسٹی میں لیب کی چھت گر گئی، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم کمپیوٹر اور دیگر سامان مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق جامعہ کراچی کے سوشیالوجی ڈپارٹمنٹ کی لیب کی گارڈر اور سلیب سے بنی چھت گر گئی۔

    وائس چانسلر خالد عراقی کا کہنا ہے کہ لیب کی چھت گرنے سے سامان کا نقصان ہوا ہے تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
    رپورٹ کے مطابق واقعے میں دو سے 3 اسپلٹ ایئر کنڈیشن، 24 سے زائد کمپیوٹر اور دیگر سامان مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔

    ادھر دوسری طرف وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ صوبہ بھر میں 30 لاکھ کچے مکانات تباہ ہوگئے، سیکڑوں پکے مکانات بھی رہنے کے قابل نہیں، ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگ بے گھر ہوچکے، 470 اموات ہوئیں، 8 ہزار سے زائد زخمی ہوگئے، ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اس کی تیاری کرسکیں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ 2010ء کے بعد یہ سب سے بڑا سیلاب ہے، گزشتہ 12 سے 13 روز میں 27 اضلاع کی حقیقت دیکھی، ابھی جیک آباد، گھوٹکی اور کشمور میں نہیں گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ سیلاب میں 470 افراد جاں بحق اور 8 ہزار 314 زخمی ہیں، 30 لاکھ سے زیادہ کچے مکانات تھے، جو نہیں بچے، اگر کوئی مکان گرا نہیں ہے تو وہ رہنے کے قابل نہیں رہا، پکے مکانات بھی کئی جگہوں پر ایسے ہیں جو رہنے کے قابل نہیں، ڈیڑھ کروڑ لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کا کہنا ہے کہ کہیں کوئی کٹ لگانا ہو یا پانی نکالنا ہوگا اس کا فیصلہ محکمہ آبپاشی کریگا، سب سے درخواست کرتا ہوں صبر سے کام لیں، پانی قدرتی گزر گاہوں سے سمندر تک جائے گا۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر وزیر اپنے اپنے ضلع میں گیا ہے، کوئی ایک کونا نہیں سندھ میں جہاں ہمارا منتخب نمائندہ نہیں پہنچا، جو اپنے گھر سے نکلے گا اس کی کیا کیفیت ہوگی، لوگوں نے غصے کا اظہار کیا لیکن جائز کیا۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ میں 16 اگست کے بعد جو بارش ہوئی تھی اُس کی تیاری نہیں تھی، ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اس کی تیاری کرسکیں، میڈیا نے دکھانا شروع کیا تب لوگوں کو احساس ہوا کہ حالات واقعی خراب ہیں۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ جس قسم کی صورتحال ہے میڈیا چینل اب تک وہ نہیں دکھا رہے، میڈیا کو بہت زیادہ درخواست کی تھی تب جاکر کچھ دکھانا شروع کیا، پورا سندھ دریا بنا ہوا ہے، ہر شہر میں دریا کی صورتحال ہے، کئی مقامات پر میری گاڑی روکی گئی لیکن ہم نے لوگوں کو چھوڑا نہیں، جتنا بڑا نقصان ہوا اس میں ہمارے پاس جو سامان تھا ختم ہوگیا۔

    انہوں نے کہا اگست میں معمول سے 700 گنا زیادہ بارش ہوئی، این ڈی ایم اے نے سندھ حکومت کو صرف 8 ہزار ٹینٹ دیئے، ایک لاکھ 10 ہزار ٹینٹ سندھ حکومت تقسیم کرچکی ہے، ہم نے مزید 3 لاکھ ٹینٹ کا آرڈر دیا ہے، اسٹاک میں موجود 20 ہزار ترپال تقسیم کرچکے، 30 لاکھ مچھر دانیوں کی ضرورت ہے، انشاء اللہ مچھر دانیوں کی تعداد پوری ہوجائے گی۔

  • سیلاب سے سندھ کے 9 اضلاع میں آثارقدیمہ کے18 مقامات کونقصان:پاکستان ریلوے بھی مشکلات میں گھرگیا

    سیلاب سے سندھ کے 9 اضلاع میں آثارقدیمہ کے18 مقامات کونقصان:پاکستان ریلوے بھی مشکلات میں گھرگیا

    کراچی :بارشوں کے باعث سندھ کے 9 اضلاع میں آثارقدیمہ کے 18 مقامات کوبھی نقصان پہنچا ہے۔اطلاعات کے مطابق سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ آثارقدیمہ کے مقامات کی مرمت کیلئےٹھیکیداروں کو بغیر ٹینڈر کام کرنےکی پیشکش کی گئی ہے۔

    محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ حیدرآباد کا پکاقلعہ،میاں غلام شاہ کلہوڑو،میاں غلام نبی کلہوڑوکےمقبرےمتاثر ہوئے ہیں۔

    عمران خان کی سابق اہلیہ بھی پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مددکےلیے میدان میں آگئیں‌

    بارشوں سےٹنڈوفضل کےقدیمی مقبروں اورمسجدوں کوبھی نقصان پہنچا ہے۔ کوٹ ڈیجی کا قلعہ،مومل کی ماڑی، بھنبھور، سکھرکاساتواں آستانہ بھی متاثرہوا ہے۔

    اس کےعلاوہ آمری میوزیم، رنی کوٹ کے آثارقدیمہ اور خدا آباد کی جامع مسجد میں بھی دراڑیں پڑگئی ہیں۔سیکریٹری آرکیالوجی نے بتایا ہے کہ ان مقامات کی مرمت کیلئے سیپرا قوانین پر عمل کریں گے تو دیرہوجائےگی۔

     

    سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پرستمبرکا مہینہ بھاری :دومرتبہ اسٹیج سے گرگئے

    ادھرملک میں بدترین سیلابی صورت حال اور ریلوے ٹریک پانی میں ڈوبے جانے کے باعث کراچی سے چلنے والی ٹرینیں تاحال معطل ہے جس کی وجہ سے محکمے کو کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

     

     

    ذرائع کے مطابق کراچی سے ٹرین آپریشن مزید ایک ہفتے بند رہے گا جبکہ بلوچستان کا ٹرین آپریشن مزید ایک ماہ بند رہے گا، کراچی سے ملک کے دیگر شہروں کو 24 ٹرینیں یومیہ روانہ ہوتی ہیں

     

     

    ذرائع نے بتایا کہ کراچی سے مسافر ٹرین آپریشن بند ہونے سے 30 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے جبکہ کراچی سے گڈز ٹرینیں بند ہونے سے 20 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔کراچی سے ملتان تک مسافر ٹرین آپریشن مکمل بند ہے جبکہ ملتان سے پشاور کے درمیان خیبر میل کا ٹرین ہے۔اس حوالے سے ترجمان پاکستان ریلویز کا کہنا ہے کہ پاکستان ریلویز کا ٹرین آپریشن بند ہونے اور ٹریک متاثر ہونے سے مجموعی طور پر 10 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔

    کوئٹہ: لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹوں تک پہنچ گیا:

    ترجمان نے بتایا کہ پاکستان ریلویز کے ٹریک کتنا متاثر ہوا ہے، اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے، ریلوے ٹریک پر تاحال پانی جمع ہے اس لیے جائزہ لینے میں مشکلات درپیش ہیں۔

    ترجمان پاکستان ریلویز کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ریلویز کو بحالی کے لیے 10 ارب روپے درکار ہے، کراچی سے ٹرین آپریشن ایک ہفتے کے اندر بحال کر دیا جائے گا جبکہ بلوچستان میں ٹرین آپریشن بحالی میں ایک ماہ سے زائد کا وقت لگے گا۔

  • خيرپور ناتھن شاہ، گاؤں ناگو شاہ اور کوٹ نواب سيلاب میں ڈوب گئے

    خيرپور ناتھن شاہ، گاؤں ناگو شاہ اور کوٹ نواب سيلاب میں ڈوب گئے

    خیرپور ناتھن شاہ سیلابی ریلے پہنچ گئے، شہر کے کئی مقامات پر پانی پہنچ گیا، شہریوں نے افراتفری میں نقل مکانی شروع کردی۔ضلع دادو میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہوچکی ہے۔ تحصیل میہڑ جو پہلے ہی ڈوب چکا تھا، اب تحصیل خیرپور ناتھن شاہ بھی ڈوب گیا، انڈس ہائی وے زیر آب آگئی، جس کے باعث میہڑ، کے این شاہ اور جوہی کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

     

     

    جوہی میں سیلابی ریلے کی آمد ہے، جو بچائو بند سے ٹکرا رہا ہے، دبائو بڑھنے کے باعث شہر کا حفاظتی بند خطرے میں پڑ گیا۔ جوہی کا ڈگری کالج بھی زیر آب آگیا۔کھوسہ کالونی کے رنگ بند میں دراڑیں پڑ گئیں، جہاں سے پانی کا رسا شروع ہوگیا۔ گورکھ ہل جانے والے راستے پانی آنے کے باعث بند ہوگئے۔خیرپور ناتھن شاہ میں ہر جگہ پانی ہی پانی آگیا۔ شہر کے کئی علاقوں میں سیلابی ریلے پہنچ گئے۔ شہری گھر سے بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ شہر میں میڈیکل، کریانہ اور سبزی کے دکانوں سمیت پیٹرول پمپ بھی بند ہوگئے۔

     

     

    نوشہرو فيروز
    نوشہرو فيروز شہر کو ڈوبنے سے بچانے کے ليے شہری خود اپنی مدد آپ کے تحت بائی پاس پر پہرا دينے لگے ہیں، جہاں شہريوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وڈيرے اپنی فصلوں کو بچانے کے ليے پانی شہر کی جانب چھوڑ رہے ہيں۔

    بھریاروڈ
    بھریاروڈ کے قریب پانی کے تیز بہاؤ سے پکا چانگ روڈ ٹوٹ گیا، جس کے باعث سیلابی ریلے سے گزرنا شہریوں کیلئے دشوار بنا ہوا ہے۔
    سیلاب کے باعث بھريا روڈ کا خيرپور اور ضلع نوشہروفيروز کے ديگر شہروں سے رابطہ تيرہويں روز بھی منقطع ہے، جب کہ سڑک دريا بن گئی ہیں جہاں عورتيں اور بچے پانی ميں ڈوبے ہوئے انتظاميہ کی راہ تک رہے ہیں۔سیلاب کے باعث راستے بحال نہ ہونے پر شہری اپنی مدد آپ کے تحت پيدل گزرنے کیلئے بانس لگا کر راستہ بنا رہے ہیں۔

     

    سانگھڑ
    سانگھڑ میں بھی صورت حال مختلف نہیں ، جہاں کوٹ نواب اکبر بگٹی مکمل سیلاب میں ڈوب گيا۔علاقے میں بارہ روز گزرنے کے باوجود کوئی حکومتی امداد آخری اطلاعات تک بھی نہ پہنچ سکی، کئی کئی فٹ جمع پرانے پانی کے باعث علاقے میں بيمارياں پھيلنے لگی ہیں۔متاثرین نے حکومت سے سوال کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ کيا ہم اس وطن کے باسی نہيں؟۔ سانگھڑ یوسی کوٹ نواب میں ایک اندازے کے مطابق سترہ گاؤں زیر آب آئے ہیں۔ سانگھڑ میں سڑک کنارے ہزاروں افراد امداد کے منتظر ہیں۔

     

     

    دادو
    دوسری جانب دادو کے علاقے جوہی سے آنے والا ریلا منچھر جھیل میں داخل ہوگیا ہے، جس سے خیرپور ناتھن شاہ سمندر کا منظر پیش کرنے لگا ہے۔شہر ميں جگہ جگہ کئی فٹ پانی کھڑا ہے۔ شہريوں کا کہنا ہے کہ مکمل تباہی سے بچانے کیلئے منچھر جھيل کا بند توڑا جائے، تاہم اس مطالبے کو پورا کرنے میں منتخب وڈيرے رکاوٹ بن گئے ہیں۔

     

    میہڑ
    اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی نے میہڑ کی جانب رخ کرلیا ہے اور پانی کا بہاؤ شہر کی جانب ہے، انڈس ہائی وے ڈوبنے سے مہڑ کا زمینی رابطہ مکمل طور پر سندھ کے دیگر شہروں سے منقطع ہے، میہڑ شہر کو بچانے کے لیے مہڑ رنگ بند کو مضبوط کرنے کا کام جاری ہے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے جوہی انڈس ہائی وے مکمل طرح ڈوب چکا ہے جبکہ پانی کا دباؤ جوہی شہر کے رنگ بند پر برقرار ہے۔

     

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جوہی شہر کا زمینی رابطہ دادو سے منقطع ہے۔اہل علاقہ نے کہا کہ دادو ضلع میں سیلابی صورتحال شدید خراب ہوتی جارہی ہے، اب تک جوہی، خیرپور ناتھن شاہ اور میہڑ تحصیلیں مکمل طور پر سیلابی پانی میں ڈوبنے کے باعث سیکڑوں لوگ پھنسے ہوئے ہیں جبکہ شہریوں کو اشیائے خورونوش کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

     

     

    مٹیاری
    مٹیاری کے قريب نیو سعیدآباد میں بارش کے پانی سے سرکاری گودام میں چالیس ہزار سے زائد گندم کی بوریاں خراب ہونے لگیں ہیں۔ سیلابی ریلے میں بھیگنے کی وجہ بوریوں سے تعفن اٹھنے لگا ہے۔ٹنڈوالہٰ یار میں بھی لوگ گھر چھوڑ کر کيمپوں ميں رہنے پر مجبور ہيں۔ حيدرآباد کے نياز اسٹيديم سے پانی نہ نکالا جاسکا، جہاں ميدان گندے جوہڑ کا منظر پيش کر رہا ہے۔واضح رہے کہ مون سون کی غیر معمولی، بد ترین بارشوں، کلاؤڈ برسٹ اور گلیشیئرز پگھلنے کے باعث آنے والے سیلاب سے ملک کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے، جب کہ 14 جون سے اب تک 399 بچوں سمیت کم از کم ایک ہزار 191 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

     

    سیلاب سے ہونے والے نقصان کی رپورٹ جاری
    وزارت منصوبہ بندی اور ترقی کی جانب سے سیلاب سے ہونے والے نقصان پر رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیلاب سے 13 ارب 57 کروڑ روپے کا نہری نظام تباہ ہوا، سندھ، کے پی، بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات میں 710 منصوبوں کو نقصان پہنچا۔ جاریرپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کے پی میں ایک ارب اور سندھ میں 8 ارب 42 کروڑ کے نہری نظام کو نقصان پہنچا۔

    وزارت منصوبہ بندی کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیلاب سے بلوچستان میں 3 ارب 87 کروڑ کا نظام آبپاشی تباہ ہوا ہے۔ قبائل علاقہ جات میں 6 کروڑ 80 لاکھ ، سندھ میں 355 منصوبے اور کے پی میں 178 منصوبے تباہ ہوئے۔سیلاب سے 12 لاکھ کے قریب مکانات متاثر بھی ہوئے، جب کہ ساڑھے 7 لاکھ کے قریب جانور ہلاک ہوئے۔ سیلاب کے باعث 243 پل اور 5063 کلومیٹر سڑکیں متاثر ہوئیں۔

     

    نوشہرہ
    خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کی چھتیس دیہی کونسلز کو مقامی انتظامیہ نے آفت زدہ قرار دے دیا ہے، جب کہ کالام کا مانکیال گاؤں پتھروں کے ڈھیرمیں تبدیل ہوگیا۔حکومت کی جانب سے یکم ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان تو کیا گیا تاہم ادارے کھلنے کے باوجود کئی اسکولوں میں صفائی کا کام جاری ہے۔ ادھر سوات میں سیلاب متاثرین تا حال امداد کے منتظر ہیں، آفت زدہ علاقوں میں پینے کا صاف پانی بھی نہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے دلاسوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔

    کالام
    کالام میں پل اور سڑکیں بہہ جانے سے وادی کالام کے قریب گاؤں سمیت بارہ بستیوں کا زمینی رابطہ شہر سے کٹ گیا۔ دریا کے دوسرے کنارے لوگ مدد کے منتظر ہیں۔ امدادی ہیلی کاپٹروں سے مدد کیلئے محصورین سرخ جھنڈیاں لگا کر علامتی ہیلی پیڈ بنائے بیٹھے ہیں۔

  • سیلاب متاثرین کے سڑک کنارے سوئے بچوں کوٹرک نے کچل دیا

    سیلاب متاثرین کے سڑک کنارے سوئے بچوں کوٹرک نے کچل دیا

    کراچی :بدين کے علاقے گولارچی ٹرالر نے سڑک کنارے سوئے ہوئے سیلاب متاثرین 3 بچوں کو کچل دیا۔پولیس کے مطابق سامان سے لدھا ہوا ٹرالر تیز رفتاری سے سڑک سے گزر رہا تھا کہ اسی دوران سڑک کے کنارے سوئے ہوئے سیلاب متاثرین کے بچوں پر چڑھ گیا۔

    جنوبی پنجاب کے 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد سیلاب متاثرین مختلف بیماریوں کی لپیٹ میں

    حادثے میں 3 بچے موقع پر ہی جاں بحق، جب کہ دیگر 6 افراد زخمی ہوگئے۔ لاشوں کو ضروری کارروائی اور زخمیوں کو فوری طبی امداد کیلئے تعلقہ اسپتال گولارچی منتقل کردیا گیا ہے۔

    واقعہ کے بعد ورثا کی جانب سے ڈرائیور کی گرفتاری کیلئے احتجاج بھی کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے علاقے کی ناکہ بندی کرکے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا۔

    خوفناک سیلاب سے تباہی: خیرپور میں لاش دفنانے کیلئے خشک جگہ ملنا مشکل ہوگیا

    ادھرکراچی میں ڈینگی کے مزید 65 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔محکمہ صحت سندھ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق کراچی میں ڈینگی کیسز میں ہوشربا اضافہ سامنے آیا ہے۔

    محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں سندھ میں ڈینگی کے 69 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 65 کا تعلق کراچی سے ہے۔محکمہ صحت سندھ نے بتایا کہ ضلع وسطی میں 26 ، ضلع جنوبی 10، ضلع غربی 6 ،ضلع کیماڑی 4 اور ضلع ملیر 2 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

    محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ رواں ماہ اگست میں کراچی بھر میں 1265 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ سندھ بھر میں 2 ہزار 568 کیسز رپورٹ ہوئے۔

  • خوفناک سیلاب سے تباہی: خیرپور میں لاش دفنانے کیلئے خشک جگہ ملنا مشکل ہوگیا

    خوفناک سیلاب سے تباہی: خیرپور میں لاش دفنانے کیلئے خشک جگہ ملنا مشکل ہوگیا

    سیلاب میں گھرے متاثرین کی زندگی امتحان بن گئی،سندھ کے علاقے ٹھری میرواہ خیرپور میں خوفناک سیلاب سے قبرستان بھی ڈوب گیا، خیرپور میں لاش دفنانے کیلئے خشک جگہ ملنا مشکل ہوگیا،شہری لاش کو ٹھیلے پر رکھ کر گھومتے رہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سندھ کے علاقے ٹھری میرواہ خیرپور سے خوفناک مناظر سامنے آگئے۔ لاش کو رکھنے اور دفنانے کیلئے خشک جگہ ملنا بھی مشکل ہوگیا۔

    بااثر وڈیرے اپنے گھر اور فصلیں بچانے کیلئے دوسروں کو ڈبونے لگے ہیں

    رپورٹس کے مطابق ٹھری میر واہ شہری ایک لاش کو ٹھیلے پر لیے گھوم رہے ہیں جو دو روز سے لاپتا شخص کی ہے اور پانی میں تیرتی ہوئی ملی تھی شہری لاش کو سیلاب کے پانی میں ٹھیلے پر رکھ کر خشک جگہ کی تلاش میں شہر میں گھومتے رہے۔

    سیلاب کی وجہ سے ٹھری میرواہ کا دیگر شہروں سے زمینی رابطہ کئی روز سے منقطع ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ غائب ہے نا ایمبولینس ملی ہے نا کوئی اور سہولت ہے، لاش کو ریڑھی پر رکھ کر خشک زمین ڈھونڈ رہے ہیں قبرستان میں بھی پانی آچکا ہے جس کی وجہ سے تدفین کرنا ممکن نہیں۔

    سیلاب متاثرین کی مد کیلئے امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت 7 ملکوں کی این جی…

    دوسری جانب بلوچستان میں سیلاب میں گِھرے لوگ پانی میں چل چل کر خشک جگہ پر پہنچے تو پاؤں سے خون رسنے لگا، بعض کے پاؤں سوج گئے اور بہت سوں کو چھالے پڑ گئے سیلاب متاثرین سڑک پر بنی چارپائی کی جھونپڑی میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں، معصوم بچے آلودہ ماحول اور گندگی میں مختلف بیماریوں میں بھی مبتلا ہو رہے ہیں۔

    سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ مسائل سے نمٹنا ان کے بس میں نہیں رہا، ڈيرہ اللہ یار میں بھی صورتِ حال بد سے بدتر ہے، سارا علاقہ زیرِ آب ہے اور ہر طرف گندا پانی جمع ہے، متاثرین گندا پانی پی کر اپنی سانسوں کو بحال کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں سیلاب متاثرین کے گھر، سڑکیں سب زیر آب ہیں اور مویشی بھوک اور پیاس کی وجہ سے مر رہے ہیں۔

    ملک بھرمیں سیلاب اور بارشوں سےجاںبحق افراد کی تعداد 1 ہزار 208 ہوگئی

  • 8 ستمبرکو نہال ہاشمی اور طلال چودھری کورٹ جائیں گے، محمد زبیر

    8 ستمبرکو نہال ہاشمی اور طلال چودھری کورٹ جائیں گے، محمد زبیر

    8 ستمبرکو نہال ہاشمی اور طلال چودھری کورٹ جائیں گے، محمد زبیر

    مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے کہا ہے کہ شوکت ترین کہہ رہے تھے کہ آئی ایم ایف پروگرام کو سبوتاژ کرنا ہے،آئی ایم ایف کی میٹنگ طے تھی، آپ کو پتہ تھا اس کی اہمیت کیا تھی،شوکت ترین کی گفتگو پر حیرت ہوئی ،وہ وزیرخزانہ رہ چکے ہیں،بہت سے لوگ کہتے ہیں یہ سوچ عمران خان کی ہے،

    کراچی پریس کلب میں نہال ہاشمی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ن لیگی رہنما محمد زبیر کا کہنا تھا کہ معاہدے کو سبوتاز کرنا پاکستان کے مفاد میں نہیں تھا،حکومت میں آنے کے راستے واضح ہیں، الیکشن کا انتظار کریں،سیلابی صورتحال میں 3 کروڑ لوگ متاثر ہوئے ہیں،عمران خان جلسوں میں حکومت پر حملوں کے بجائے ان کا ساتھ دیں رسیدیں دکھا دیتے ہیں تو پھر 5ارب روپےجمع کرنے کے دعوے پر یقین کریں گے 8 ستمبرکو نہال ہاشمی اور طلال چودھری اسلام آباد ہائی کورٹ جائیں گے،پی ٹی آئی کو آئی ایم ایف پروگرام پر اختلاف تھاتو کھل کر کہتے،

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    قبل ازیں ن لیگی رہنما، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ کون دیوار سے لگارہا ہے عمران خان نام بتا ہی دیں تو بہتر ہے انتظار کیوں کررہے ہیں پہلے امریکی سازش تھی پھر قتل کی دھمکی تھی اقتدار چلا جائے تو آدمی ایسی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے آپ کے پاس صوبائی حکومتیں ہیں عوام کی بہتری کیلئے کام کریں دیوار سے کون لگا رہا ہےعوام کو بتا دیں انہیں دیوار سےعوام لگائیں گے

  • سیلاب متاثرین کی مد کیلئے امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت 7 ملکوں کی این جی اوز کو کام کرنیکی اجازت

    سیلاب متاثرین کی مد کیلئے امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت 7 ملکوں کی این جی اوز کو کام کرنیکی اجازت

    حکومت نے امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت 7 ملکوں کی 15 این جی اوز کو پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق امریکی این جی او کیئر انٹرنیشنل، مرسی کور، کیتھولک ریلیف کو بھی پاکستان میں سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے ان تنظیموں میں برطانیہ کی ٹیئرفنڈ، مسلم ہینڈز، ہیلپیج انٹرنیشنل، ہیومن اپیل اور کشمیر آرفن ریلیف بھی شامل ہیں۔

    سیلاب کے باعث 400 بچوں سمیت 1200 افراد جاں بحق ہوئے،مریم اورنگزیب

    فرانس کی این جی اوز سیکیور اسلامک فرانس، ایم ایس ایف، ترکی کی معارف فاؤنڈیشن، جاپان کی اے اے آر اور کے این کے کو بھی متاثرین کی امداد کیلئے پاکستان میں کام کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

    حکومت کی جانب سے پاکستان میں سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے کام کرنے کی اجازت حاصل کرنے والی این جی اوز میں جرمنی کی لائف لائن کرسچین ڈیولپمنٹ اور سی بی ایم ای وی شامل ہیں۔

    حکومت پاکستان کی جانب سے ان این جی اوز کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کام کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ اد رہے کہ وزارت ماحولیات تبدیلی کا کہنا ہے کہ طوفانی بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب سے ملکی معیشت کو ابتدائی تخمینہ کے مطابق 10 ارب امریکی ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

    سیلاب سے متاثرہ ایک ایک خاندان جلد دوبارہ آباد ہوگا، راجہ بشارت

    وزارت ماحولیات تبدیلی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان میں سیلابی ہنگامی صورتحال نویں ہفتے بھی جاری ہے، اور ملک کا 70 فیصد حصہ زیرآب ہے، پاکستان کے جنوبی حصوں میں کئی مقامات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

    وزارت ماحولیات کا کہنا ہے کہ سیلابی صورتحال کے باعث صحت سے متعلق خدشات بھی سامنے آرہے ہیں، دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب ہیں، سیلاب سے اب تک 1200 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 3000 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلاب سے ملک کے مختلف حصوں میں 5000 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جبکہ 243 پل تباہ ہوگئے ہیں۔

    سیلاب سے 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد آبادی متاثر ہے اور 10 لاکھ سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا۔

    وزارت ماحولیاتی تبدیلی کا کہنا ہے کہ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر صوبہ سندھ ہوا ہے، سندھ کا 90 فیصد اور ملک کی کل فصلوں کا 45 فیصد حصہ زیر آب ہے

    تباہ کن سیلاب سے 30 لاکھ سے زائد پاکستانی بچے خطرات کا شکار