Baaghi TV

Category: کراچی

  • کے الیکٹرک کا پاور پلانٹ بن قاسم تھری کا گیس ٹربائن دھماکے سے تباہ،کراچی اندھیرے میں ڈوب گیا

    کے الیکٹرک کا پاور پلانٹ بن قاسم تھری کا گیس ٹربائن دھماکے سے تباہ،کراچی اندھیرے میں ڈوب گیا

    کے الیکٹرک کے جدید ترین پاور پلانٹ بن قاسم تھری کا 450 میگا واٹ یونٹ نمبر ون کا گیس ٹربائن دھماکے کے بعد تباہ ہوگیا، فنی خرابی سے ٹربائن ٹرپ ہونے کے بعد اس کے تمام بلیڈ مکمل طور پر ٹوٹ گئے، یونٹ سے کراچی کو 450 میگا واٹ بجلی کی فراہمی بند ہوگئی، شہر کا 30 فیصد حصہ بجلی سے محروم ہوگیا۔

    رپورٹ کے مطابق یونٹ کی مرمت اور آپریشنل ہونے میں 3 سے 4 ماہ کا عرصہ لگے گا، بن قاسم پاور پلانٹ تھری کا یونٹ کمیشننگ اور کارکردگی ٹیسٹ کے بعد 5 جولائی سے 450 میگاواٹ بجلی پیدا کررہا تھا، گیس ٹربائن تباہ ہونے سے کے الیکٹرک کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق کے الیکٹرک کے گیس ٹربائن میں فنی خرابی آنے کے بعد بغیر کسی ایس او پی اور ورک پرمٹ کے مرمت کے کام کے دوران دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں گیس ٹربائن کے بلیڈ اور پرزے مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گیس ٹربائن کے تمام پارٹس بیرون ملک سے درآمد کئے جائیں گے، جن کی مالیت اربوں روپے ہے، مرمت کیلئے نئے آلات اور پرزہ جات بھی اربوں روپے میں خریدے جائیں گے۔

    دوسری جانب بن قاسم پاور پلانٹ یونٹ تھری بند ہونے کے بعد کے الیکٹرک نے مہنگے فرنس آئل سے چلنے والے پرانے پاور پلانٹ سے بجلی پیدا کرنا شروع کردی، کے الیکٹرک بن قاسم پاور پلانٹ ون کے تیل سے چلنے والے 2 یونٹ سے صرف 300 میگاواٹ بجلی بنا رہا ہے۔

    کراچی :کے الیکٹرک کا پاور پلانٹ بن قاسم تھری کا گیس ٹربائن دھماکے سے تباہ،کراچی اندھیرے میں ڈوب گیا،اطلاعات کے مطابق سستی گیس کا پاور پلانٹ بند ہونے کے نتیجے میں مہنگی بجلی کی پیداوار کا خمیازہ کراچی کے عوام کو بجلی کے مہنگے بلوں کی صورت میں بھگتنا ہوگا۔

    ترجمان کے الیکٹرک جاری بیان میں کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کا بن قاسم پاور اسٹیشن 3 کا یونٹ ایک فالٹ کے باعث عارضی طور پر غیرفعال ہوا ہے، اس فالٹ کی شناخت سیمینز اے جی (Siemens AG) کی جانب سے کئے جانے والے کمیشننگ فیز کے آخری مراحل کے ایک ٹیسٹ کے دوران ہوئی۔

    ترجمان کے مطابق ہاربن الیکٹرک اور سیمینز کے نمائندوں کی جانب سے ابتدائی تحقیقات کا آغاز کیا جاچکا ہے، حالانکہ پلانٹ اب بھی ٹیسٹ رن پر ہے، کے الیکٹرک کی جانب سے صورتحال کا مستقل جائزہ لیا جارہا ہے، ابتدائی تحقیقات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ فالٹ گیس ٹربائن کے ایک خاص حصے میں آیا۔

    ترجمان کے الیکٹرک کا دعویٰ ہے کہ متاثرہ یونٹ پچھلے مہینے متعدد بار مکمل لوڈ پر چل چکا ہے، شہر میں بجلی کی سپلائی ویب سائٹ پر موجود 30 جون کے شیڈول کے مطابق ہے اور لوڈ شیڈنگ میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔

  • پیپلز پارٹی نے کیا تحریک انصاف کی رجسٹریشن منسوخ کرنیکا مطالبہ

    پیپلز پارٹی نے کیا تحریک انصاف کی رجسٹریشن منسوخ کرنیکا مطالبہ

    پاکستان پیپلز پارٹی نے فارن فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی کیجانب سے الیکشن کمیشن میں جھوٹا حلف نامہ داخل کرانے پر عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

    پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کے بعد عمران خان صادق امین نہیں رہے ۔عمران خان سمیت پی ٹی آئی کو نااہل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے اور پی ٹی آئی کے بینک اکاؤنٹس سیز کئے جائیں۔ ثابت ہوچکا ہے کے عمران خان سرٹیفائیڈ چور ہے جس نے اسرائیل،انڈیا، آمریکا،کینیڈا کے ممالک سمیت دیگر 34 غیر ملکیوں سے فنڈنگ حاصل کی۔ عمران خان نے 13 بینک اکاؤنٹس چھپائے اور غیر قانونی فنڈنگ سے پاکستان میں انتشار پیدا کیا۔ عمران خان نے خیرات کے پیسوں کو بھی غیر قانونی طور پر اپنی جماعت کے لئے استعمال کرکے ملک کے خلاف سازش کی ہے۔عمران خان جھوٹا شخص ہے جس نے پوری قوم سے دھوکا کیا ہے

    نثار کھوڑو کا مزید کہنا تھا کہ ثابت ہوگیا ہے کے اسرائیل بھارت اور دیگر ممالک سے فنڈنگ کے کر عمران خان پاکستان پر غیر ملکی ایجنڈے پر مسلط کیا گیا تھا۔ امپورٹڈ کوئی اور نہیں عمران خان اور پی ٹی آئی امپورٹڈ جماعت ہے۔عمران خان کا اصل چہرہ قوم سے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے۔ دھوکے باز شخص اداروں پر دباؤ ڈال کر اپنے جھوٹ پر مزید پردہ نہیں ڈال سکتا۔الیکشن کمیشن کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جس نے پی ٹی آئی کے دباؤ کو خاطر میں نہ لاکر عمران خان کی چوری کو بے نقاب کیا

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    قبل ازیں وفاقی وزیرشازیہ مری نے کہا عمران خان جس ایجنڈے پر سیاست کررہا تھا یا اسکی فنڈنگ پربھی سوال اٹھتے ہیں ای سی پی کے فیصلے کے نتیجے میں جو کچھ عمران خان پر ثابت ہوچکا ہے وہ عوام کے سامنے ہے، الیکشن کمیشن نے عمران خان کو جھوٹا قرار دیا ہے،

  • پی آئی اے کی نجف جانے والے زائرین کیلئے آج سے 7 خصوصی پروازوں کا سلسلہ شروع ہوگیا

    پی آئی اے کی نجف جانے والے زائرین کیلئے آج سے 7 خصوصی پروازوں کا سلسلہ شروع ہوگیا

    کراچی :پی آئی اے نے اعلان کیا تھا کہ عاشورہ محرم کے موقع پر عراق کے شہر نجف جانے والے زائرین کیلئے آج سے 7 خصوصی پروازیں چلائے گا۔اس سلسلے میں عراق کے شہر نجف کےلیے پی آئی اے کی پروازیں شروع ہوگئی ہیں

    قومی ایئر لائن پی آئی اے نے محرم الحرام کے موقع پر زیارتوں کیلئے عراق جانے والے پاکستانیوں کیلئے اپنی پروازوں کے شیڈول کو حتمی شکل دے دی۔

     

    پی آئی اے کو بہت جلد عالمی معیار کی فضائی کمپنی بنادیں گے:خواجہ سعد رفیق

    شیڈول کے مطابق یہ خصوصی پروازیں کراچی سے نجف کیلئے روانہ ہوں گی، زائرین کی سہولت کیلئے دیگر شہروں سے رابطہ پروازیں بھی چلائی جائیں گی،ذرائع کے مطابق مذکورہ خصوصی پروازوں کے باقاعدہ سلسلے کا آغاز آج 2 اگست بروز منگل سے شروع ہوچکا ہے اور 7 اگست تک جاری رہے گا۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق قومی ادارہ اپنی روایات کے مطابق زائرین کو حتی الامکان تمام سہولیات فراہم کرے گا، پی آئی اے عاشورہ کے ساتھ اربعین کیلئے بھی ایک منصوبہ رکھتا ہے

    پی آئی اے کے دو طیارے تصادم سے بچ گئے

    ترجمان پی آئی اے کا کہا ہے کہ قومی ادارہ اپنی روایات کے مطابق زائرین کو حتی الامکان تمام سہولیات فراہم کرے گا۔ان کا کہنا ہے کہ پروازیں کراچی تا نجف العشرف روانہ ہوں گی اور ملک کے دیگر شہروں سے آسان کنکشن فراہم کئے جائیں گے۔

    پاکستان ریلوے اور پی آئی اے کے کرایوں میں کمی کا اعلان

    ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ پی آئی اے پر سال کی طرح اس سال بھی عاشورہ کے ساتھ ساتھ اربعین کیلئے پروازیں ترتیب دے رہا ہے، پروازوں پر زائرین کی بکنگ کا آغاز کردیا گیا۔

    نجف اشرف

    نجف اشرف عراق کے اٹھارہ صوبوں میں سے ایک ہے اور ان کا مرکز نجف اشرف کا شہر ہے اس شہر کے ہر گوشہ میں دینی ثقافت کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔

    نجف اشرف عراق کے دارالحکومت بغداد سے تقریبا 116کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور سطح سمندر سے اس کی بلندی 70میٹر ہے نجف اشرف کی شمالی اور شمال مشرقی سرحد کربلا سے ملتی ہے جبکہ کربلا کا شہر نجف سے تقریبا 80کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ نجف اشرف کے جنوب اور مغرب میں خشک بحرِ نجف ہے۔

    عصر حاضر میں نجف وہ شہر ہے جو کوفہ کے ساتھ ملحق ہے پہلے پہل نجف نامی ایک قدیم عربی شہر مناذرہ کے قریب بھی ہوا کرتا تھا کہ جو حیرہ کے بادشاہوں کے زیر تسلط تھا۔ اسلامی فتوحات سے پہلے نجف میں صرف عیسائیوں کی عبادت گاہیں ہوا کرتی تھی البتہ جب سے حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی آخری آرام گاہ نجف اشرف قرار پائی ہے اس وقت سے نجف اشرف کی آبادی میں کافی اضافہ ہوا ہے اور حضرت علی علیہ السلام کی ہی برکت سے نجف اشرف ایک مقدس شہر کے طور پر پوری دنیا میں جانا جاتا ہے اور یہ بھی حضرت علی علیہ السلام کے مبارک وجود کی ہی برکت ہے کہ نجف عرصہ دراز سے دینی مرجعیت اور اہل علم کا مرکز ہے۔ نجف اشرف میں ہی کوفہ یونیورسٹی بھی ہے کہ جو عراق کی اہم ترین یونیورسٹی شمار ہوتی ہے۔

    نجف عربی کا لفظ ہے کہ جس سے مراد ایسی بلند جگہ ہے کہ جہاں پانی نہ پہنچتا ہو اور وہ جگہ پانی اور ساتھ والے مناطق کے لیے بند کا کام دے اور پانی کو ساتھ والے علاقوں میں نہ پہنچنے دے۔ عربی لغت میں نجف ٹیلے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

    روایات میں نجف کے لیے زیادہ تر جو نام استعمال ہوئے ہے وہ نجف، غری اور مشہد ہیں۔

    ایک روایت میں ہے نجف ایک بہت بڑا پہاڑ تھا اور اسی پہاڑ کے بارے میں حضرت نوح علیہ السلام کے نافرمان بیٹے نے کہا تھا کہ میں اس پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا اور طوفان سے محفوظ رہوں گا لیکن خدا کے حکم سے یہ پہاڑ ٹوٹ گیا اور باریک ریت میں تبدیل ہو گیا۔ نجف کے ساتھ موجود سمندر کو ”نے” کہا جاتا تھا لیکن بعد میں یہ سمندر خشک ہو گیا تو اسے ”نے جف” کہا جانے لگا۔ عربی میں جف خشک کو کہتے ہیں اسی وجہ سے “نے” کے خشک ہونے کے بعد اسے “نے جف” کہا جانے لگا یعنی خشک سمندر اور بعد میں یہی “نے جف” نجف میں تبدیل ہو گیا۔

    مسلمانوں کے نزدیک نجف ایک مقدس شہر ہے خاص طور پر شیعہ مسلمان اس شہر کو بہت ہی احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ اس شہر میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور بہت سے انبیاءعلیھم السلام دفن ہیں۔

    نجف. نسبتا ایک بڑا شہر ہے کہ جو ایک وسیع ریگستان کے بلند حصہ پر واقع ہے نجف کے شمال مشرقی حصہ میں گنبدوں اور قبور پر مشتمل وسیع و عریض قبرستان ہے، جبکہ مغربی حصہ میں خشک سمندر ہے۔ نجف آنے والے کو دور سے ہی حضرت رضی اللہ عنہ کے روضہ مبارک کا گنبد نظر آتا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مرقد پرانے شہر کے درمیان واقع ہے پرانے شہر میں ہی حوزہ علمیہ، بہت سی لائبریریاں اور کتابوں کی دکانیں ہیں اور یہیں پر ہی سوق کبیر نامی قدیمی بازار بھی ہے کہ جو شہر کی پرانی حدود کے اعتبار سے شہر کی بیرونی مشرقی دیوار سے شروع ہو کر حرم سے جا ملتا ہے اس بازار میں سونے چاندی کے زیورات، جوہرات، کپڑے اور مٹھاہیوں کی دکانیں ہیں

  • عمران خان پر پابندی لگنی چاہیے،شرجیل میمن

    عمران خان پر پابندی لگنی چاہیے،شرجیل میمن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ آج کے فیصلے کی روح میں عمران خان پر پابندی لگنی چاہیے،

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی بننی چاہیے اور قانون کی گرفت میں لایا جائے ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھےچیف الیکشن کمشنر کو عمران خان نے خود تعینات کیا

    وفاقی وزیر شازیہ مری کا کہنا تھا کہ عمران نیازی اپنی جماعت کو ممنوعہ فنڈنگ سے چلاتا رہا برسوں پہلے ایک شخص نے اپنی ہی جماعت کی فارن فنڈنگ کو چیلنج کیا عمران خان صادق ہے نہ امین یہ سب سے بڑا چور ہے وہ ممنوعہ فنڈنگ سے کس بنا پر ملک میں سیاست کر رہا تھا 34بھارتی صنعت کاروں سے عمران نیازی نے پیسے لیے،عارف نقوی کے ذریعے انہیں ممنوعہ فنڈنگ آئی پی ٹی آئی والے پھر بھی ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ وہ سچے تھےدیکھا جائے گا کہ فیصلے کے خدوخیال کیا ہے ؟ جو صادق اور امین کے سرٹیفکیٹس عمران نیازی لہرا رہا تھا وہ سب جھوٹے تھے عمران خان صادق اور امین نہیں رہا ، فیصلہ آگیا ہے تم صریحاً مجرم ثابت ہوئے ہو، کیا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہو، یہ کیوں اتنا لاڈلا ہے کہ اس کے فیصلے سنائے نہیں جاتے کیا عمران خان نے عوام سے پوچھ کر بھارتی شہریوں سے پیسے لیے؟تھوڑی سی منی لانڈرنگ کی اس کے دوست نے،

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    فارن فنڈنگ کیس،اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ میں معلومات قابل تصدیق نہیں ،وکیل

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

  • پیپلزبس سروس کے روٹس پر تمام سڑکوں کی مرمت فوری شروع کی جائے:وزیراعلیٰ سندھ

    پیپلزبس سروس کے روٹس پر تمام سڑکوں کی مرمت فوری شروع کی جائے:وزیراعلیٰ سندھ

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پیپلز بس سروس کے ساتوں روٹس پر تمام سڑکوں کے مرمتی کام فوری شروع کئے جائیں۔

    تفصیلات کے مطابق مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت پیپلز بس سروس کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن، وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری سہیل راجپوت، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری فیاض جتوئی، سیکریٹری بلدیات نجم شاہ، سیکریٹری ٹرانسپورٹ حلیم شیخ، کمشنر کراچی اقبال میمن، کے ایم سی، کے ڈی اے، کراچی ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے سربراہاں نے شرکت کی۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی مراد پوری نہ ہوسکی:

    وزیر اعلیٰ سندھ کو وزیر بلدیات اور وزیر ٹرانسپورٹ نے بریفنگ دی، بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ماڈل کالونی، ریگل چوک کے علاقے جی بس روٹ نمبر 1 ہے اس پر اسفالٹ کام کی ضرورت ہے، ملیر ہالٹ، ایف ٹی سی، آرام باغ کے علاقوں میں فرش کا کام ہونا ہے، روٹ نمبر 1 ملیر ہالٹ سے آرام باغ تک سیوریج لائن کی لیکیجز کے مسائل ٹھیک ہونا ہیں۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ روٹ نمبر 1 کے جو مرمت اور مینٹیننس کے کام ہیں ان کو فوری شروع کیا جائے، پیپلز بس سروس شہر کیلئے اہم ہے اس کے تمام مسائل حل کئے جائیں۔

    مراد علی شاہ کی نااہلی کیلئے نظرثانی درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    بریفنگ میں کہا گیا کہ روٹ نمبر 2 نارتھ کراچی سے انڈس اسپتال تک ہے، اس روٹ پر شفیق موڑ، سہراب گوٹھ، شاہ فیصل برج کے علاقوں میں اسفالٹ کے کام کی ضرورت ہے، گلشن، شاہ فیصل میں فرش کے کام کی ضرورت ہے، ان علاقوں میں سیوریج اور ڈرینج کا کام بھی ہونا ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے روٹ نمبر 2 کے تمام کام ڈیڑھ ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی، ان کا کہنا تھا کہ پیپلز بس سروس کے ساتوں روٹس پر تمام سڑکوں کی مرمتی کام فوری شروع کئے جائیں۔

    کراچی میں پیپلز بس سروس کا کیا بلاول نے افتتاح

    انہوں نے ان بسز کے روٹس پر بریکرز رموو کرنے کی ہدایت کی، وزیراعلیٰ سندھ نے پیپلز بس سروس کے بس اسٹاب بھی بنانے کی ہدایت دیدی، ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ہر طرح کی سہولت ہو، پیپلز بس سروس کے 387 بس اسٹاپ بنائے ہیں۔

  • حب ڈیم سے اضافی پانی کو اسپل ویز کے ذریعے محفوظ طریقے سےخارج کیا جا رہا ہے

    حب ڈیم سے اضافی پانی کو اسپل ویز کے ذریعے محفوظ طریقے سےخارج کیا جا رہا ہے

    واپڈا کے جی ایم پراجیکٹس کا کہنا ہے کہ حب ڈیم مکمل طور پر محفوظ ہے-

    باغی ٹی وی : جی ایم پراجیکٹس کا کہنا ہے کہ حب ڈیم پر واپڈا کی ٹیم چوکس ہے اور آنے والے پانی کو مانیٹر کر رہی ہے حب ڈیم مکمل طور پر محفوظ ہے اور ڈیم میں آنے والے اضافی پانی کو محفوظ طریقے سے خارج کیا جا رہا ہے۔

    خیال رہے کہ کراچی اور بلوچستان کے علاقوں کو پانی فراہم کرنے والے بلوچستان کے حب ڈیم میں پانی کی سطح مکمل بھر جانے کے نمبر 339 فٹ سے بھی ساڑھے 3 فٹ بلند ہو گئی۔

    واپڈا ذرائع کے مطابق پیر کی رات حب ڈیم میں سطح آب 342 سے 343 فٹ کے درمیان تھی، یہی وجہ ہے کہ اسپل ویز سے پانی کافی تیزی سے خارج ہو رہا ہے اور ندی میں سیلابی صورتحال ہے، اسپل ویز سے پانی کے اخراج کے باعث حب ندی کے اطراف کی آبادیوں سے لوگوں کا انخلا کرنا پڑا۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے آج سندھ سمیت پنجاب اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آج کراچی، سکھر، لاڑکانہ اور جیکب آباد میں بارش کا امکان ہےاس کے علاوہ اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بادل برس سکتے ہیں اسلام آباد اور راولپنڈی کے ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقے زیرآب آنے کا خطرہ ہے۔

    محکمہ موسمیات نے ہدایت کی ہے کہ مسافر اور سیاح موسمی حالات کومدنظررکھ کرسفرکریں اورسفرکے دوران مزید محتاط رہیں۔

    دوسری جانب بلوچستان میں وقفے وقفے سے موسلا دھار بارشیں جاری ہیں جس کی وجہ سے ندی نالوں میں طغیانی ہے سیلابی ریلوں سے بیشتر رابطہ سڑکیں بہہ گئی ہیں جبکہ اہم شاہراہیں متاثر ہوئی ہیں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 127 ہوگئی ہے۔

  • ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

    ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے آج سندھ سمیت پنجاب اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

    باغی ٹی وی: کراچی کے مختلف علاقوں میں صبح سویرے ہلکی بارش ہوئی ہے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آج کراچی، سکھر، لاڑکانہ اور جیکب آباد میں بارش کا امکان ہےاس کے علاوہ اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بادل برس سکتے ہیں اسلام آباد اور راولپنڈی کے ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقے زیرآب آنے کا خطرہ ہے۔

    محکمہ موسمیات نے ہدایت کی ہے کہ مسافر اور سیاح موسمی حالات کومدنظررکھ کرسفرکریں اورسفرکے دوران مزید محتاط رہیں۔

    دوسری جانب بلوچستان میں وقفے وقفے سے موسلا دھار بارشیں جاری ہیں جس کی وجہ سے ندی نالوں میں طغیانی ہے سیلابی ریلوں سے بیشتر رابطہ سڑکیں بہہ گئی ہیں جبکہ اہم شاہراہیں متاثر ہوئی ہیں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 127 ہوگئی ہے۔

    صوبے میں موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے ساڑھے 13 ہزار مکانات متاثر ہوئے جبکہ بجلی کے 140 کھمبے گرچکے ہیں طوفانی بارشوں سے قلعہ سیف اللہ اور لسبیلہ میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی، جہاں بارشوں کا 30 سال کاریکارڈ ٹوٹ گیا۔

    رپورٹس کے مطابق بلوچستان میں اس مرتبہ 100 گنا زیادہ بارشیں ہوئیں، اوتھل میں سیلابی ریلے مکانوں کو تنکوں کی طرح بہا لے گئے توبہ اچکزئی، مستونگ، خضدار اور کوئٹہ میں باغات اجڑنے سے کاشت کار عمر بھر کی جمع پونچی سے محروم ہوگئے۔

    آواران، واشک، بسیمہ سمیت مختلف علاقوں میں موبائل فون سروس متاثر ہے جس کے باعث متاثرین کو مواصلاتی رابطوں میں بھی مشکلات کا سامنا ہےببارشوں کے باعث کوئٹہ تفتان ریلوے سیکشن کی مرمت کا کام تین روز بعد بھی شروع نہ ہوسکا۔

    ادھر امریکی ریاست کینٹکی میں بارشوں سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی، حادثات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 25 ہوگئی ہے۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے سڑکیں اور گلیاں زیر آب آگئیں، انتظامیہ کی جانب سے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں تیز بارشوں سے کینٹکی کے مشرقی حصے کی 13 کاؤنٹیز بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

  • رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید اور جماعت اسلامی کارکنان کیخلاف مقدمہ درج

    رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید اور جماعت اسلامی کارکنان کیخلاف مقدمہ درج

    کراچی :جماعت اسلامی کے قائدین کے خلاف مقدمے درج،اطلاعات کے مطابق پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی اور ہنگامہ آرائی کے الزام میں جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید سمیت اور دیگر کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    کراچی کے علاقے لیاری میں جماعت اسلامی کے دھرنے کے دوران ہنگامہ آرائی اور پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی کا مقدمہ چاکیواڑہ تھانے میں درج کرلیا گیا۔

     

     

    پولیس کی جانب سے درج مقدمے میں جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید اور دیگر کو نامزد کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ نامزد ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

    اس سے قبل ایس ایس پی سٹی نے جماعت اسلامی کے رکن صوبائی اسمبلی عبدالرشید پر پُرتشدد احتجاج کا الزام لگایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی سٹی آفس کے سامنے دھرنا دينے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی۔

    ایس ایس پی نے مزید کہا کہ رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید چند روز سے پُرتشدد احتجاج کررہے ہیں جو ناقابل معافی ہے، ایم پی اے کے ہمراہ کارکنان سے اسلحہ بھی برآمد ہوا تھا۔

    ترجمان سٹی پولیس نے الزام لگایا کہ رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید لیاری میں خونریزی کروانا چاہتے تھے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید کو کئی کارکنان سمیت حراست میں لیا گیا تھا۔

    جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان بھی لیاری دھرنے میں پہنچ گئے۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہماری پُرامن جدوجہد کو پُرتشدد ميں تبديل کيا جارہا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ جھوٹی ايف آئی آر کی مذمت کرتا ہوں، ہمارے پُرامن کارکنوں پر پوليس نے تشدد کيا، پوليس کسی پارٹی کی ترجمان نہ بنے، عبدالرشيد اور کارکنان کے خلاف مقدمہ واپس ليا جائے۔

  • کراچی:میٹرک جنرل گروپ کے نتائج کا اعلان کردیا گیا

    کراچی:میٹرک جنرل گروپ کے نتائج کا اعلان کردیا گیا

    کراچی :ثانوی تعلیمی بورڈ نے دہم جماعت جنرل گروپ (ریگولر و پرائیویٹ) اور سماعت و گویائی سے محروم طلباء و طالبات کے سالانہ امتحانات نہم و دہم 2022ء کے نتائج کا اعلان کر دیا۔

    ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین سید شرف علی شاہ کی خصوصی ہدایات اور قائم مقام سیکریٹری بورڈ سید محمد علی شائق کی بھرپور معاونت وماہرانہ مشاورت سے قائم مقام ناظم امتحانات عمران طارق نے طلباء و طالبات کے وسیع تر مفاد کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے صوبہ سندھ کے تمام تعلیمی بورڈز میں سب سے پہلے جماعت دہم جنرل گروپ ریگولر و پرائیویٹ اور سماعت و گویائی سے محروم طلباء و طالبات کے سالانہ امتحانات نہم و دہم برائے سال 2022ء کے نتائج کے اجراء کا اعلان کر دیا۔

    اعلامیے کے مطابق نتائج ثانوی بورڈ کی ویب سائٹ www.bsek.edu.pk پر اور ایس ایم ایس سروس bsekلکھ کر اسپیس دیں اور اپنا رول نمبر لکھ کر 8583 پر بھیج کر دیکھے جاسکتے ہیں۔

    جنرل گروپ ریگولر اور پرائیویٹ کے امتحانات میں 16 ہزار 880 امیدوار رجسٹرڈ ہوئے اور 16 ہزار 454 امیدوار امتحانات میں شریک ہوئے۔ نتائج کے مطابق جنرل گروپ میں باغِ ہالار گرلز سیکنڈری اسکول نشتر روڈ کی مدحت بنت محمد اسلم رول نمبر 554226 نے 92 فیصد نمبرز حاصل کے ساتھ پہلی، ٹریو گائیڈ گرامر سیکنڈری اسکول لیاری کی حافظہ منہال اعجاز پاریکھ بنت اعجاز رو ل نمبر 556222 نے 91.63 فیصد نمبرز حاصل کرکے دوسری جبکہ سٹیزن سیکنڈری اسکول گرلز کیمپس باتھ آئی لینڈ کی حبا ضیاء بنت محمد ضیاء الرحمٰن رول نمبر 554268 نے 91.27 فیصد نمبرز کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔

    جنرل گروپ ریگولر میں 11 ہزار 258 امیدوار رجسٹرڈ ہوئے، جن میں 2976 طلباء اور 8282 طالبات شامل ہوئے جبکہ کامیابی کا تناسب 76.72 فیصد رہا۔ کامیاب امیدواروں میں 255 اے ون گریڈ، 1438 اے گریڈ، 2563 بی گریڈ، 2781 سی گریڈ، 1363 ڈی گریڈ اور 68 نے ای گریڈ حاصل کیا۔

    پرائیویٹ جنرل گروپ میں 5622 امیدوار رجسٹرڈ ہوئے اور 5417 امیدوار امتحانات میں شریک ہوئے، جن میں 3912 طلباء اور 1710 طالبات شامل ہیں۔ پرائیویٹ گروپ میں کامیابی کا تناسب 55.34 فیصد رہا۔ کامیاب امیدواروں میں 36 اے ون گریڈ، 233 اے گریڈ، 824 بی گریڈ، 1137 سی گریڈ، 586 ڈی گریڈ اور 30 نے ای گریڈحاصل کیا۔

    میٹرک امتحانات میں تمام جنرل ریگولر اور پرائیویٹ میں مجموعی کامیابی کا تناسب 69.69 فیصد رہا۔

    ثانوی بورڈ کے مطابق سماعت و گویائی سے محروم خصوصی طلباء و طالبات میں کمل کمار ولد اشوک کمار نے 90.8 فیصد نمبرز کے ساتھ پہلی، مریم عزیز بنت عزیز احمد نے 89 فیصد نمبرز کے ساتھ دوسری جبکہ فرح بنت اسرار احمد نے 88.8 فیصد نمبرزکے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی، تینوں پوزیشن ہولڈرز کا تعلق ابصاء اسکول ڈیفنس کورنگی روڈ سے ہے۔

    صوبہ بھر میں قلیل مدت میں سب سے پہلے نتائج کے اجراء پر چیئرمین بورڈ سید شرف علی شاہ نے ناظم امتحانات کی شب و روز محنت اور قائم مقام سیکریٹری بورڈ سید محمد علی شائق کی ماہرانہ مشاورت کو سراہتے ہوئے تعریفی کلمات ادا کئے جبکہ رزلٹ کمیٹی کے تمام اراکین نے قائم مقام ناظم امتحانات عمران طارق کیلئے تعریفی سند بھی جاری کی۔

  • سندھ :مون سون بارشوں کی دوران جاں بحق افراد کی 100 ہوگئی

    سندھ :مون سون بارشوں کی دوران جاں بحق افراد کی 100 ہوگئی

    کراچی :سندھ میں حالیہ مون سون سیزن کے دوران ہونے والی بارشوں کے دوران 100 افراد لقمہ اجل بنے ہیں۔پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سندھ کی جانب سے اجری رپورٹ کے مطابق 20 جون سے 29 جولائی تک صوبے بھر میں ہونے والی بارشوں کے دوران حادثات و واقعات میں 100 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بارشوں کے نتیجے میں پیش آنے والے واقعات میں جاں بحق ہونے والوں میں 51 بچے، 43 مرد اور 6 خواتین شامل ہیں۔
    سندھ میں ہونے والی ہلاکتوں میں سے 41 کراچی میں ہوئیں جب کہ 10 کا تعلق ملیر سے تھا۔

    رواں برس مون سون سیزن کے دوران اب تک سندھ میں خلاف توقع کئی 500 فیصد زائد بارش ریکارڈ ہوئی ہے، صرف کراچی میں جولائی کے مہینے میں بارش کا 55 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔کراچی کے کئی علاقوں میں صرف ایک ماہ کے دوران 400 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگست کے مہینے میں بھی مون سون بارشوں کے کچھ اسپیل آئیں گے۔ 6 اگست کو بارش برسانے کا طاقتور سسٹم سندھ میں داخل ہوگا جو ناصرف سندھ بلکہ بلوچستان میں بھی شدید بارشوں کا باعث بن سکتا ہے۔

    وزیراعظم سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کیلئے بلوچستان روانہ

    ادھر ملک کے مختلف علاقوں میں مون سون بارشوں کے طوفانی اسپیل اور سیلاب نے تباہی مچا دی، بلوچستان اور پنجاب کے کئی علاقوں سے ہزاروں افراد متاثر ہو گئے، فصلیں تباہ، بستیاں اجڑ گئیں۔

    بلوچستان میں بارشیں اور سیلاب نے ہر طرف تباہی مچادی، لسبیلہ شدید متاثر، سینکڑوں مکانات زمین بوس، چاغی ، احمد وال، دالبندین میں سلابی ریلے سے مزید کئی فٹ ریلوے ٹریک بہہ گیا، پاک ایران ٹرین سروس معطل، حب ندی میں پھنسے 3 افراد کو بچالیا گیا، پاک فوج کا متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    یرہ غازی خان ۔ ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار سیلاب زدگان سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ…

    ادھر مسلسل طوفانی بارشوں سے دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے پر ملتان میں قاسم بیلہ کی متعدد بستیاں زیر آب آگئیں، سیکڑوں ایکڑ پر فصلوں اور آم کے باغات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، اوچ شریف میں بھی دریائے چناب میں پانی کی سطح میں اضافہ ہونے سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں، متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اہلکار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہے ہیں۔

    سیلاب ریلوے ٹریک بہا لے گیا، پاک ایران ٹرین سروس معطل

    راجن پور میں حالیہ طوفانی بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، 75 سے زائد مواضعات متاثر ہوئے ،ایک ہزار سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا، 27 ہزار ایکڑ پر کاشت کی گئی فصلیں بھی تباہ ہوگئیں۔