Baaghi TV

Category: کراچی

  • لاہور میں ماں اور تین بچوں کے قتل کا ڈراپ سین ، بیٹا ہی قاتل نکلا

    لاہور میں ماں اور تین بچوں کے قتل کا ڈراپ سین ، بیٹا ہی قاتل نکلا

    کراچی : کاہنہ میں خاتون ڈاکٹر اور تین بچوں کے قتل کا معاملہ حل ہوگیا، واقعے میں بچ جانے والا بیٹا ہی اہل خانہ کا قاتل نکلا جو کہ آئس کا نشہ کرتا تھا۔

    تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے کاہنہ میں خاتون ڈاکٹر اور تین بچوں کے قتل کا ڈراپ سین ہوگیا، واردات میں بچ جانے والا بیٹا ہی قاتل نکلا جس نے ماں اور تین بھائی بہنوں کو قتل کیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے اور ملزم نے اعتراف جرم بھی کرلیا ہے۔

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ زین واقعے کے روز نچلی منزل پر ہونے کی وجہ سے بچ جانے کا ڈرامہ کرتا رہا تاہم معاملہ کی حقیقت سامنے آنے کے بعد ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے میں ایک گھر سے گولیوں سے چھلنی چار لاشیں ملی تھیں اور ایک ہی لڑکا بچا تھا، یہ اکیلا ہی کمرے میں رہتا تھا آئس کا نشہ کرتا تھا اور پب جی کھیلتا رہتا تھا، والدہ سے پیسے مانگتا تھا واقعے کے روز والدہ نے پیسے دینے سے انکار کردیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق ملزم نے ڈاکٹر والدہ کا ہی پستول اٹھایا، سب سے پہلے والدہ کے سر میں گولی ماری بعد ازاں ایک ایک کرکے تینوں بہن بھائیوں کو گولی مار کر قتل کردیا اور اپنے کمرے میں جاکر بیٹھ گیا۔ بعد ازاں اس نے ڈرامہ کیا کہ مجھے نہیں پتا پیچھے سے کون اہل خانہ کو مار گیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ دو تین دن تک لڑکے سے تفتیش کی گئی تو اس نے اعتراف جرم کرلیا اور اس نے کہا کہ وہ قتل کرنے کے وقت اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھا، جب پولیس نے مزید معلومات کیں تو معلوم ہوا کہ لڑکا آئس کا نشہ کرتا تھا۔

  • وقار ذکاء ہمیں ہراساں کر رہے ہیں ایف آئی اے کے بیان پر عدالت حیران

    وقار ذکاء ہمیں ہراساں کر رہے ہیں ایف آئی اے کے بیان پر عدالت حیران

    کراچی: ایف آئی اے ٹیم نے سندھ ہائی کورٹ میں بیان دیا ہے کہ وقار ذکار ہمیں ہراساں کررہے ہیں، جس پر عدالت نے حیرانگی کا اظہار کیا ہے۔

    جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی سے متعلق سماعت ہوئی۔ ایف آئی اے کی وقار ذکا کے خلاف انکوائری سے متعلق ایف آئی اے نے تحریری جواب جمع کرادیا۔

    جواب میں کہا گیا کہ وقار ذکار کے خلاف انکوائری کی جاری ہے، وقار ذکا سوشل میڈیا پر ایف آئی اے کے خلاف مسلسل ویڈیوز اپ لوڈ کررہے ہیں، وقار ذکا ایف آئی اے کو بھی ہراساں کررہے ہیں۔

    ایف آئی اے ٹیم کے جواب پر عدالت نے اظہار حیرت کیا۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ وقار ذکا ایف آئی اے کو کیسے ہراساں کرسکتے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ وقار ذکا ایف آئی اے، وزیر اعظم اور اسٹیٹ بنک کے خلاف بھی سوشل میڈیا پر ویڈیوز اپ لوڈ کررہے ہیں، وزیر اعظم اور دیگر کے اداروں کے خلاف وقار ذکا توہین آمیز مواد اپ لوڈ کررہے ہیں۔

    درخواست گزار کے وکیل مولوی اقبال حیدر نے موقف دیا کہ ایف آئی اے وقار ذکا کے گھر پر چھاپے مار رہی ہے، وقار ذکا اور ان کے والد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کردیے گئے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ اب وقار ذکا کسی اور شخصیت کے خلاف سوشل میڈیا پر مواد اپ لوڈ نہیں کریں گے، ایف آئی اے وقار ذکا اور ان کی فیملی کو ہراساں کررہی ہے۔

    عدالت نے وقار ذکا کو انکوائری میں تعاون کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ انکوائری میں طلب کرنے کے لیے پہلے وقار ذکا کو پہلے باقاعدہ نوٹس جاری کیے جائیں۔

    بعد ازاں عدالت نے ایف آئی اے کو وقار ذکا کو ہراساں نہ کرنے کے حکم امتناع میں توسیع کرتے ہوئے سماعت 17 فروری تک ملتوی کردی۔

  • حریم شاہ کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں اہم پیش رفت

    حریم شاہ کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں اہم پیش رفت

    کراچی : ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) نے حریم شاہ کے 2 بینک اکاؤنٹس فریز کرنے کے لیے لیٹرز لکھ دیے۔

    ایف آئی اے نے دونوں بینکوں کے ہیڈ کمپلائنس کو اکاؤنٹس منجمد کرنے کے لیے لیٹرز لکھے ہیں۔

    یاد رہے کہ حریم شاہ نے رواں ماہ کے آغاز ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ پہلی بار بھاری رقم لے کر لندن پہنچیں اور انہیں پاکستان کے ایئرپورٹ پر کسی نے نہیں روکا اور نہ روک سکتا ہے۔ ٹک ٹاکر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں قانون صرف غریب کے لیے ہے۔

    ٹک ٹاکر کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے حریم شاہ کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا آغاز کیا۔

    بعد ازاں حریم شاہ بھاری رقم کی لندن منتقلی سے ہی مکر گئیں اور کہا کہ میں نے وہ ویڈیو مذاق میں بنائی تھی۔

  • وزیر اعلیٰ سندھ کی پولیس تشدد سے جاں بحق ہونے والے کارکن کے گھر آمد

    وزیر اعلیٰ سندھ کی پولیس تشدد سے جاں بحق ہونے والے کارکن کے گھر آمد

    کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مبینہ طور پر پولیس تشدد سے جاں بحق ہونے والے ایم کیو ایم کے کارکن اسلم کے ورثا سے ملاقات کی اور انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں پاکستان پیپلزپارٹی کے وفد نے ایم کیو ایم کے مقتول کارکن اسلم کے ورثار سے ملاقات کی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے ورثاء سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اسلم کے انتقال پر اہل خانہ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور انہیں انصاف کی فراہمی کے لیے پُرعزم بھی ہیں ۔

    انہوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، جس کے بعد ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    پاکستان پیپلزپارٹی کے ترجمان کے مطابق سعید غنی، سید ناصر شاہ، مرتضیٰ وہاب، وقار مہدی اور ڈاکٹرعاصم بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اہل خانہ کے ساتھ مقتول کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا بھی کی۔

    یہ بھی پڑھیں: پولیس تشدد سے زخمی ایم کیو ایم پاکستان کے جوائنٹ آرگنائزر دم توڑ گئے

    سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب نے بتایا کہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے رکن اسمبلی سید صداقت کے گھر پہنچ کر عیادت کی اور اُن کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔

    دوسری جانب گورنر سندھ عمران اسماعیل نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی قیادت سے رابطہ کیا اور کارکن کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق گورنر سندھ کل محمد اسلم کے سوئم میں بھی شرکت کریں گے۔

  • کراچی پولیس نے ایم کیوایم کے جاں بحق کارکن اسلم کا موبائل فون ڈیٹا حاصل کرلیا

    کراچی پولیس نے ایم کیوایم کے جاں بحق کارکن اسلم کا موبائل فون ڈیٹا حاصل کرلیا

    کراچی : کراچی پولیس نے ایم کیوایم کے جاں بحق کارکن اسلم کا موبائل فون ڈیٹا حاصل کرلیا

    پولیس ایکشن کے وقت اسلم وزیراعلیٰ ہاؤس کے مقام پر نہیں،پولیس ایکشن تقریباً ساڑھے6 بجے شروع ہوا تو اسلم پریس کلب پر موجود تھا، اسلم کی رات8 بج کر 19 منٹ پرلوکیشن راشد منہاس روڈ پر آئی۔

    با خبر ذرائع کے مطابق گزشتہ روز وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے دوران احتجاج اور پولیس ایکشن کے وقت ایم کیوایم کارکن اسلم کی ہلاکت سے متعلق پولیس کی تفتیش جاری ہے، تفتیشی ٹیم نے اسلم کے فون کا کال ریکارڈ ڈیٹا حاصل کرلیا ہے۔
    جس سے پتا چلتا ہے کہ گزشتہ روز ایم کیوایم کے جاں بحق جوائنٹ یوسی آرگنائزر اسلم پولیس ایکشن کے وقت وزیراعلیٰ ہاؤس پر نہیں بلکہ پریس کلب کے مقام پر موجود تھا۔

    حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلم کے پورے دن کے ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ روز ایک بج کر42 منٹ پر اسلم اپنے گھر میں موجود تھا،5بج کر 10منٹ پر شارع فیصل احتجاج میں پہنچا، پھر اس کی لوکیشن 6بج کر32 منٹ پر کراچی پریس کلب پر موجودگی کی آئی، پریس کلب کے مقام پر اسلم6 بج کر32 منٹ سے لے کر7 بج کر54 منٹ تک موجود رہا۔

    جبکہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے تقریباً ساڑھے6 بجے پولیس ایکشن شروع ہوا جبکہ اس وقت اسلم پریس کلب کے مقام پر موجود تھا، بعدازاں رات 8بج کر19 منٹ پر اس کی لوکیشن راشد منہاس روڈ پر آئی جو اسلم کی واپسی بھی ہوسکتی ہے، رات 8 بج کر 42 منٹ پر اس کی لوکیشن فیڈرل بی ایریا بلاک 15 کے آئی ایچ ڈی کی آئی۔ تفتیشی حکام کے مطابق اس وقت کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزز میں اسلم کو لایا گیا تھا، رات 10بج کر29 منٹ پر اسلم کا انتقال ہوا اور رات10 بج کر33 منٹ پر اس کی موبائل لوکیشن گھر کی آئی جب میت گھر لائی جا چکی تھی۔
    اسلم کے اہلخانہ نے پوسٹ مارٹم کروانے سے بھی انکار کیا تھا۔یاد رہے کہ ایم کیوایم پاکستان نے گزشتہ روز بلدیاتی قانون کیخلاف کراچی میں احتجاجی ریلی نکالی، ریلی کے شرکاء نے وزیراعلیٰ ہاوس جانے کی کوشش کی تو انتظامیہ نے سی ایم ہاؤس جانے والا راستہ بند کردیا اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔ شرکا کو وزیراعلیٰ ہاوس کی جانب بڑھنے سے روکنے پر ایم کیوایم کارکنوں نے سندھ حکومت کےخلاف نعرے بازی کی۔

    تاہم وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب ایم کیوایم کارکن اور پولیس اہلکار آمنے سامنے آگئے، جس پر پولیس اور مظاہرین میں تصادم ہوا، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے زبردست لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی، شیلنگ میں ایک کارکن جاں بحق جبکہ ایم پی اے لیاقت اور متعدد کارکنان سمیت بچے اور خواتین بھی زخمی ہوگئے تھے ۔

  • وزیر داخلہ نے کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنوں کی ریلی پر سندھ پولیس کے لاٹھی چارج کے واقعے کا نوٹس لے لیا

    وزیر داخلہ نے کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنوں کی ریلی پر سندھ پولیس کے لاٹھی چارج کے واقعے کا نوٹس لے لیا

    کراچی : وزیر داخلہ شیخ رشید نے کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنوں کی ریلی پر سندھ پولیس کے لاٹھی چارج کے واقعے کا نوٹس لے لیا۔بدھ کو وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے چیف سیکرٹری سندھ اور آئی جی سندھ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔
    واضح رہے کہ سندھ کے بلدیاتی نظام کے خلاف ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے کراچی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کے ساتھ احتجاج کیا گیا، پولیس نے ریڈ زون کی خلاف ورزی پر احتجاجی مظاہرین پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی۔

    لاٹھی چارج کے نتیجے میں رکن سندھ اسمبلی سمیت کئی کارکنان زخمی اور گرفتار کر لئے گئے، وزیر اعلیٰ ہاؤس کے اطراف کا علاقہ میدان جنگ بنا رہا، آنسو گیس سے کئی مظاہرین کی حالت غیر ہو گئی۔ایم کیو ایم کی ریلی کے دوران ڈنڈے،لاٹھیاں،شیلنگ کے ساتھ ساتھ جو ہاتھ لگا اس کی درگت بنادی گئی، نہ رکن اسمبلی کاخیال رکھا گیا،نا خواتین کا بس ریڈ زون کو خالی کروانے کے لئِے جو بن سکا پولیس نے کیا۔

  • فواد چوہدری نے ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنوں پر شیلنگ اور لاٹھی چارج کو غنڈہ گردی قرار دیا

    فواد چوہدری نے ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنوں پر شیلنگ اور لاٹھی چارج کو غنڈہ گردی قرار دیا

    کراچی : وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنوں پر شیلنگ اور لاٹھی چارج کو غنڈہ گردی قرار دیا۔

    اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے پر امن احتجاج پر سندہ حکومت کی غنڈہ گردی کی شدید مذمت کرتے ہیں، ایسے وقت میں جب پی ایس ایل جیسا ایونٹ ہونے جا رہا ہے اس پر تشدد واقعے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

  • اب ظلم کی انتہا ہو گئی ہے ہم ظالموں کو اوقات یاد دلائیں گے : فاروق ستار

    اب ظلم کی انتہا ہو گئی ہے ہم ظالموں کو اوقات یاد دلائیں گے : فاروق ستار

    کراچی : تنظیم بحالی کمیٹی ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے پریس کلب پر میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ میں ایم کیوایم پاکستان کے رہنمائوں اور کارکنوں پر وزیراعلی ہائوس کے باہر پولیس تشدد کے واقعہ کی مذمت کرنے آیا ہوں۔اب ظلم کی انتہا ہوگئی ہے۔ہم ظالموں کی اوقات یاد دلائیں گے۔
    پیپلز پارٹی نے کراچی کہ عوام کے حقوق پر قبضہ کیا ہوا ہے۔یہ بلدیاتی قانون کالا ہے۔
    فاروق ستار نے کہا کہ مہاجروں کہ ساتھ صوبائی حکومت نے جو تشدد کیا اسکی سخت مذمت کرتا ہوں۔صوبائی حکومت نے واضع کردیا کہ بدترین آمریت قائم کردی ہے ۔آج میری ماں بہنوں کہ ساتھ ظلم کیا گیا ہے۔وزیر اعلی ہائوس کیا وائٹ ہاوس اور ایوانوں سے زیادہ مقدس ہے جہاں مظاہرہ نہیں ہوسکتا۔ایم کیوایم پاکستان والوں کاپرامن احتجاج تھا ۔آج ریاستی دہشت گردی کی گئی ہے۔ میں ایم کیو ایم پاکستان کہ ساتھیوں کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ وہ تنہا نہیں ہیں ۔فاروق ستار نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ کو پیغام دوں گا اب ظلم کی انتہا ہوگئی ہے،اب ہم احتجاج نہیں کریں گے۔ بلکہ ظالموں کے ہاتھ روکیں گے۔

  • ایم کیو ایم پاکستان کے جوائنٹ آرگنائزر انتقال کر گئے

    ایم کیو ایم پاکستان کے جوائنٹ آرگنائزر انتقال کر گئے

    کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے جوائنٹ آرگنائزر انتقال کر گئے۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی سے افسوسناک خبر موصول ہوئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کراچی میں آج کے مظاہرے کے دوران پولیس کے تشدد سے زخمی ہونے والے رہنما انتقال کر گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے جوائنٹ آرگنائزر اسلم مظاہرے کے دوران زخمی ہو گئے تھے۔
    دوسری جانب ایم کیوایم پاکستان نے کل یوم سیاہ منانے کا اعلان کردیا۔ متحدہ رہنماوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیں دوبارہ للکارا ہے، ڈاکو کراچی پر مسلط ہیں، ایم پی اے صداقت حسین پرتشدد کا حساب لیا جائے گا، ہماری ماؤں، بہنوں پر ڈنڈے برسائے گئے۔
    خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم نے وزیراعلیٰ سندھ سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ استعفیٰ دیں ورنہ شہر کے دروازے بند کردیں گے، وزیراعظم آئی جی اور ڈی آئی جی کو معطل کریں، ہم جمہوریت کو واحد راستہ سمجھتے ہیں۔

    اس سے قبل میڈیا رپورٹس کے مطابق ایم کیوایم پاکستان نے بلدیاتی قانون کیخلاف کراچی میں احتجاجی ریلی نکالی، ریلی کے شرکاء نے وزیراعلیٰ ہاوس جانے کی کوشش کی تو انتظامیہ نے سی ایم ہاؤس جانے والا راستہ بند کردیا اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔ شرکا کو وزیراعلیٰ ہاوس کی جانب بڑھنے سے روکنے پر ایم کیوایم کارکنوں نے سندھ حکومت کےخلاف نعرے بازی کی۔
    تاہم وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب ایم کیوایم کارکن اور پولیس اہلکار آمنے سامنے آگئے، جس پر پولیس اور مظاہرین میں تصادم ہوا، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے زبردست لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی، شیلنگ میں متعدد کارکنان سمیت بچے اور خواتین بھی زخمی ہوگئے۔ ایم کیوایم کے وفاقی وزیر امین الحق کا کہنا ہے کہ بغیر وارننگ ریلی پر زبردست لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی، جس میں بچے اور خواتین بھی زخمی ہوئی ہیں، ایم پی اے صداقت عباسی شدید زخمی ہوئے اور ان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
    امین الحق نے کہا کہ ریلی پر طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا، ہم مذاکرات کرنا چاہتے تھے، ہم سیاسی لوگ ہیں اور بات چیت پر یقین رکھتے ہیں، مغرب کی جماعت کھڑی کرنے کا اعلان کیا ، جس کے بعد لاٹھی چارج ہوا اور گرفتاریاں شروع کردی گئیں۔ مرکزی رہنماء ایم کیوایم خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ حکومت نے ریلی پر بدترین تشدد کیا، آج سے سندھ حکومت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا، سندھ حکومت کو تشدد کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
    وزیراطلاعات ونشریات سندھ سعید غنی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ پیپلزپارٹی کسی بھی سیاسی جماعت کے احتجاج کے خلاف نہیں ہے، جماعت اسلامی ایک مہینے سے احتجاج کررہی ہے، پی ایس ایل شروع ہونے والا ہے، پی ایس ایل کے کئی کھلاڑی وزیراعلیٰ کے اطراف ہوٹلوں میں مقیم ہیں،ایم کیوایم کی ریلی نے میٹروپول سے پریس کلب جانا تھا لیکن اچانک سی ایم ہاؤس کی طرف چل پڑی، صورتحال ایسی بن گئی کہ انتظامیہ کو ایکشن لینا پڑا۔ خبردار کیا تھا کہ سکیورٹی ایشوز کے باعث وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف مت جائیں۔

  • کراچی میں صورت حال خراب ، کئی مارکیٹس بند

    کراچی میں صورت حال خراب ، کئی مارکیٹس بند

    کراچی : کراچی میں صورتحال خراب، کئی مارکیٹس بند ۔
    تفصیلات کے مطابق سندھ پولیس کی جانب سے ایم کیو ایم کے مظاہرین پر کیے گئے تشدد کے بعد شہر میں صورتحال خراب ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نامعلوم افراد نے کئی علاقوں میں دکانین بند کروا دیں، ٹائرز جلا کر سڑکیں بلاک کر دی گئی ہیں۔
    دوسری جانب ایم کیوایم پاکستان نے کل یوم سیاہ منانے کا اعلان کردیا۔ متحدہ رہنماوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیں دوبارہ للکارا ہے، ڈاکو کراچی پر مسلط ہیں، ایم پی اے صداقت حسین پرتشدد کا حساب لیا جائے گا، ہماری ماؤں، بہنوں پر ڈنڈے برسائے گئے۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم نے وزیراعلیٰ سندھ سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ استعفیٰ دیں ورنہ شہر کے دروازے بند کردیں گے، وزیراعظم آئی جی اور ڈی آئی جی کو معطل کریں، ہم جمہوریت کو واحد راستہ سمجھتے ہیں۔
    اس سے قبل میڈیا رپورٹس کے مطابق ایم کیوایم پاکستان نے بلدیاتی قانون کیخلاف کراچی میں احتجاجی ریلی نکالی، ریلی کے شرکاء نے وزیراعلیٰ ہاوس جانے کی کوشش کی تو انتظامیہ نے سی ایم ہاؤس جانے والا راستہ بند کردیا اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔ شرکا کو وزیراعلیٰ ہاوس کی جانب بڑھنے سے روکنے پر ایم کیوایم کارکنوں نے سندھ حکومت کےخلاف نعرے بازی کی۔
    تاہم وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب ایم کیوایم کارکن اور پولیس اہلکار آمنے سامنے آگئے، جس پر پولیس اور مظاہرین میں تصادم ہوا، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے زبردست لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی، شیلنگ میں متعدد کارکنان سمیت بچے اور خواتین بھی زخمی ہوگئے۔ ایم کیوایم کے وفاقی وزیر امین الحق کا کہنا ہے کہ بغیر وارننگ ریلی پر زبردست لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی، جس میں بچے اور خواتین بھی زخمی ہوئی ہیں، ایم پی اے صداقت عباسی شدید زخمی ہوئے اور ان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
    امین الحق نے کہا کہ ریلی پر طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا، ہم مذاکرات کرنا چاہتے تھے، ہم سیاسی لوگ ہیں اور بات چیت پر یقین رکھتے ہیں، مغرب کی جماعت کھڑی کرنے کا اعلان کیا ، جس کے بعد لاٹھی چارج ہوا اور گرفتاریاں شروع کردی گئیں۔ مرکزی رہنماء ایم کیوایم خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ حکومت نے ریلی پر بدترین تشدد کیا، آج سے سندھ حکومت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا، سندھ حکومت کو تشدد کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
    وزیراطلاعات ونشریات سندھ سعید غنی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ پیپلزپارٹی کسی بھی سیاسی جماعت کے احتجاج کے خلاف نہیں ہے، جماعت اسلامی ایک مہینے سے احتجاج کررہی ہے، پی ایس ایل شروع ہونے والا ہے، پی ایس ایل کے کئی کھلاڑی وزیراعلیٰ کے اطراف ہوٹلوں میں مقیم ہیں،ایم کیوایم کی ریلی نے میٹروپول سے پریس کلب جانا تھا لیکن اچانک سی ایم ہاؤس کی طرف چل پڑی، صورتحال ایسی بن گئی کہ انتظامیہ کو ایکشن لینا پڑا۔ خبردار کیا تھا کہ سکیورٹی ایشوز کے باعث وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف مت جائیں۔