Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی والوں کو گرین لائن بسوں پر سفر کیلئے مزید انتظار کرنا ہو گا

    کراچی والوں کو گرین لائن بسوں پر سفر کیلئے مزید انتظار کرنا ہو گا

    کراچی : کراچی والوں کو گرین لائن بسوں پر سفر کیلئے مزید انتظار کرنا ہو گا، 10 دسمبر کو منصوبے کے افتتاح کے اعلان کی حقیقت کچھ اور ہی نکلی۔

    تفصیلات کے مطابق ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے شہری اپنے شہر کے پہلے جدید ماس ٹرانزٹ منصوبے کے افتتاح کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں، تاکہ ان کی سفری مشکلات میں کچھ کمی آ سکے۔
    وفاقی حکومت کی جانب سے رواں ماہ کی 10 تاریخ کو گرین لائن منصوبے کے افتتاح کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم اس اعلان کی حقیقت کچھ اور نکلی ہے۔
    میڈیا رپورٹس کے مطابق گرین لائن کے بیشتر اسٹیشنز کی حالت انتہائی خراب ہے، ان کی تعمیر تاحال مکمل نہیں ہوئی۔ ایسے میں حکومت کی اعلان کردہ تاریخ پر گرین لائن بسوں کا کمرشل آپریشن شروع ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ یاد رہے کہ کراچی گرین لائن بس منصوبے کیلئے 80 جدید بسیں کراچی پہنچ چکی ہیں۔ منصوبے کیلئے چین میں تیار کی جانے والی جدید بسیں 2 علیحدہ شپ منٹس کے ذریعے کراچی پہنچائی گئیں۔
    حکام کے مطابق پہلے فیز میں گرین لائن بسیں سرجانی ٹائون سے نمائش چورنگی(گرومندر)تک چلائی جائیں گی، جہاں اب تک ٹریک مکمل ہوچکا ہے۔واضح رہے کہ یہ منصوبہ 2016 میں شروع ہوا تھا۔ کراچی گرین لائن منصوبے کے لیے بسیں فراہم کرنے والی کمپنی کے مطابق کراچی کی بسیں لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں چلنے والی بسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ جدید ہیں، یہ بسیں یورو تھری معیار کی اور ہائبرڈ ہیں ، ان میں ڈیزل کے ساتھ خودکار طریقے سے چارج ہونے والی بیٹری بھی استعمال ہوگی جس سے ایندھن کی بچت کے ساتھ ماحول کو بھی فائدہ ہوگا۔
    بسوں میں خصوصی سسٹم نصب ہے جو انجن میں آگ لگنے کی صورت میں خودکار طریقے سے آگ بجھائے گا۔18 میٹر لمبی بسوں میں 40 نشستیں ہیں۔ کھڑے ہوکر اور نشستوں پر بیک وقت 150 افراد سفر کرسکیں گے، زیادہ رش کی صورت میں 190 مسافروں کی گنجائش ہوگی۔ بسوں میں معذور افراد کے لیے جگہ خصوصی ہے اور خودکار ریمپ نصب ہے۔ ہر بس میں دو وہیل چیئرز کی جگہ مخصوص ہے۔ بسوں میں خواتین اور معذور افراد کیلئے مخصوص نشستیں ہوں گی۔ کراچی گرین لائن ٹرانسپورٹ منصوبے کے لیے بنائی گئیں ہائبرڈ بسیں چین میں تیار کی گئی ہیں۔کراچی کی روائتی لوکل بسوں کی نسبت یہ بسیں لمبی اور مکمل ایئرکنڈیشنڈ ہوں گی۔ ہر بس میں 200 سے 250 افراد کے سفر کرنے گنجائش موجود ہے۔

  • کراچی میں فالٹ لائنز کی موجودگی کا انکشاف

    کراچی میں فالٹ لائنز کی موجودگی کا انکشاف

    کراچی : کراچی میں فالٹ لائنز کی موجودگی کا انکشاف۔

    تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر محکمہ موسمیات زاہد رفیع نے بدھ کی رات کو کراچی میں آنے والے زلزلے کے بعد تشویش ناک انکشاف کیا ہے۔ زاہد رفیع کے مطابق شہر قائد کراچی میں فالٹ لائنز موجود ہیں، مطابق زلزلے کے بعد صورتحال کا تجزیہ شروع کر دیا ہے۔ ماہر موسمیات نے زلزلے کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔
    نجی ٹی وی چینل اے آر وائی سے گفتگو کرتے ہوئے زاہد رفیع نے بتایا کہ کراچی میں آنے والے زلزلے نے ہم سب کو حیران کر دیا ہے۔ زلزلے کا مرکز کراچی ہی تھا جبکہ گہرائی صرف 15 کلومیٹر تھی۔ 15 کلومیٹر کی گہرائی کم سمجھی جاتی ہے۔ کراچی میں اتنی شدت کا زلزلہ نہیں آتا۔ واضح رہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بدھ کی رات کو زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔
    گلشن اقبال، گلستان جوہر،گلشن حدید، آئی آئی چندریگر روڈ، ملیر، اسکیم33، صدر، گلزارہجری، پورٹ قاسم، ‏قائدآباد، کھوکھراپار ملیرم، لیاری، شیرشاہ، کھارادر، کیماڑی سمیت مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکوں کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا۔ زلزلے کے بعد لوگ خوف زدہ ہو کر گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے رہے۔
    بتایا گیا ہے کہ زلزلے کی شدت 4 عشاریہ 1 تھی۔ زلزلے کی زیر زمین گہرائی 15 کلومیٹر جبکہ مرکز ڈی ایچ اے کے جنوب میں 15 کلومیٹر دور کا علاقہ بتایا گیا ہے۔ زلزلے کے باعث کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں۔ یاد رہے کہ حالیہ کچھ عرصے کے دوران ملک کے کچھ علاقے مسلسل زلزلوں کی زد میں رہے ہیں۔ بلوچستان میں ہرنائی اور آس پاس کے علاقے، جبکہ خیبرپختونخواہ میں سوات ریجن میں آئے روز زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں، جس باعث ان علاقوں کے شہری مسلسل خوف کی فضاء میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

  • رات کی شفٹ میں بے وقت کھانے سے ذیابیطس اور موٹاپے کا خطرہ

    رات کی شفٹ میں بے وقت کھانے سے ذیابیطس اور موٹاپے کا خطرہ

    کراچی : جسم کی اندرونی گھڑی ہمارے سونے جاگنے اور دیگر معمولات کو طے کرتی ہے، ان میں بگاڑ سے جسم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، اب معلوم ہوا کہ رات کو جاگنے اور کھانے پینے سے ذیابیطس اور موٹاپے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    اس سے قبل رت جگوں میں کام سے جسم کے استحالے (میٹابولزم) متاثر ہونے، امراضِ قلب اور بلڈپریشر کے درمیان تعلق سامنے آچکا ہے۔ اسی طرح سونے اور جاگنے کے قدرتی دورانیے یعنی جسمانی گھڑی (سرکاڈیئن کلاک) بگڑنے سے دل پر منفی اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔
    اس کے بعد ہارورڈ میڈیکل اسکول کے سائنسدانوں نے نوجوان اور صحت مند رضا کاروں کو بھرتی کرکے انہیں دو گروہوں میں تقسیم کیا۔ ان میں سے ایک کو دن میں کام کرایا گیا اور ان ہی اوقات میں کھانا پینا فراہم کیا۔ دوسرے گروہ کو رات میں جاگنے کو کہا اور انہی اوقات میں کھانا دیا گیا۔ یہ عمل کل 14 روز تک دہرایا گیا۔
    سب سے پہلے دونوں گروہوں کے خون میں گلوکوز کی مقدار نوٹ کی گئی۔ اب جن لوگوں نے دو ہفتے شب بیداری میں گزارے اور رات کو کھانا کھایا تو پہلے کے مقابلے گلوکوز کی شرح ساڑھے چھ فیصد بڑھی ہوئی دیکھی گئی۔
    ہارورڈ کے پروفیسر فرینک اے جے ایل نے یہ تحقیق کی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہماری تحقیق سے عیاں ہے کہ بے وقت کھانے سے خون میں شکر کی مقدار بڑھتی ہے لیکن انہوں نے اس ضمن میں مزید تحقیق پر زور دیا۔
    اب بھی سائنس دانوں کا خیال ہے کہ رات کو کھانے کے بجائے رات جاگنے کا عمل زیادہ مضر ہے کیونکہ یہ پورے بدن کے نظام کو تتربتر کردیتا ہے۔

  • ہوشیار، یہ کام کرنے سے فالج کا خطرہ 60 فیصد بڑھ سکتا ہے

    ہوشیار، یہ کام کرنے سے فالج کا خطرہ 60 فیصد بڑھ سکتا ہے

    کراچی : فالج کا شدید دورہ پوری دنیا میں فوری طور پر جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے اور ہرسال ہزاروں لاکھوں افراد میں دائمی معذوری کی وجہ بھی بنتا ہے۔

    انسان کی کچھ ایسی سرگرمیاں ہیں جو محض لمحوں میں فالج کا خطرہ 60 فیصد تک بڑھاسکتی ہیں اور ان سرگرمیوں میں سرفہرست جسمانی دباؤ ہے۔
    اس ضمن میں نیشنل یونیورسٹی آف آئرلینڈ نے 2021 میں پوری دنیا میں 13 ہزار 462 کیسز کے مطالعات سے انکشاف کیا ہے کہ بھاری وزن اٹھانے اور بہت زیادہ ورزش ختم کرنے کے بعد ایک گھنٹے کے اندر اندر فالج کا خطرہ 60 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔
    اس تحقیق کی روداد امریکن جرنل آف ایپیڈیمیولوجی میں شائع ہوئی ہے۔ 390 متاثر ہونے والے افراد میں سے 21 یعنی 21 افراد نے اعتراف کیا کہ فالج سے قبل انہوں نے سخت جسمانی مشقت کی تھی۔ اس طرح کل پانچ فیصد افراد سامنے آئے جنہوں نے فالج کے دورے سے قبل سخت مشقت کی تھی یا کم ازکم 50 پاؤنڈ وزن اٹھایا تھا۔ ان تمام افرد کو اشکیمیئک اسٹروک (فالج) ہوا تھا۔
    دوسری جانب خود ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ بہت رنج و غم اور صدمے سے بھی فالج کا خطرہ 30 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ واضح رہے کہ فالج کئی طرح کے ہوتے ہیں جن میں دماغ کی باریک رگ میں خون کا لوتھڑا پھنس جانا یا پھر خون کی رگ پٹھنے سے دماغ میں خون کا بہاؤ شامل ہے۔

  • کراچی میں دودھ کی نئی سرکاری قیمت 120 روپے فی لیٹر مقرر

    کراچی میں دودھ کی نئی سرکاری قیمت 120 روپے فی لیٹر مقرر

    کراچی: شہرقائد کے عوام کے لیے دودھ کی نئی سرکاری قیمت کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق دودھ کی نئی خوردہ قیمت 120 روپے فی لیٹر ہوگی۔

    کمشنر کراچی محمد اقبال میمن نے دودھ کی نئی سرکاری قیمت کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق کراچی میں دودھ کی نئی خوردہ قیمت 120 روپے فی لیٹر ہوگی۔ نئی قیمت کا فیصلہ ڈیری فارمرز اور ہول سیلرز، صارفین کی انجمنوں اور متعلقہ سرکاری محکموں کے نمائندوں پر مشتمل اجلاس میں کیا گیا اور ڈپٹی کمشنر ملیر کی سربراہی میں قائم جائزہ کمیٹی کو بنیاد بناکر خوردہ قیمت 94 روپے لیٹر سے بڑھاکر 120روپے لیٹر کردی گئی اس طرح دودھ کی قیمت میں یک دم 26روپے لیٹر کا اضافہ کردیا گیا۔
    نوٹٰی فکیشن کے مطابق نئی قیمت پر 9 دسمبر سے عملدرآمد ہو گا۔ دودھ کی ڈیری فارمرز کی قیمت 105 اور تھوک قیمت 110 روپے فی لیٹر ہوگی۔ اجلا س نے ہر تین ماہ بعد دودھ کی قیمت کا جائزہ لینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
    دودھ کی سرکاری قیمت میں یکدم 26 روپے اضافے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں نے کہا کہ کمشنر کراچی کے نوٹی فکیشن سے قبل ہی ڈیری مافیا دودھ کی قیمت میں اضافہ کرچکی ہے اور کراچی میں دودھ پہلے ہی 140روپے لیٹر فروخت ہورہا ہے۔ کمشنر کراچی نے ڈیری مافیا کی من مانی اور غیرسرکاری قیمت کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے دودھ کی قیمت میں اضافہ کردیا اور دودھ کی قیمت غیرقانونی طور پر بڑھانے والی انجمنوں سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی اور نہ ہی ان سے 120روپے لیٹر پر عمل درآمد کی کوئی یقین دہانی حاصل کی گئی۔
    مسابقتی کمشین کی رپورٹ کے مطابق ڈیری سیکٹر کا کارٹل کراچی کے شہریوں سے سالانہ اربوں روپے غیرقانونی قیمت کی شکل میں وصول کررہا ہے۔ دودھ کی قیمت مقرر کرنے کے لیے بھی ان ہی تنظیموں سے مشاورت کی گئی جنہیں کارٹل کا حصہ قرار دیا گیا۔

  • کراچی والے 11 ماہ میں 47148 موٹر سائیکلوں اور 23124 موبائل فونز سے محروم

    کراچی والے 11 ماہ میں 47148 موٹر سائیکلوں اور 23124 موبائل فونز سے محروم

    کراچی: شہر قائد کے باسی 11 ماہ میں 47 ہزار 148 موٹر سائیکلوں اور 23 ہزار 124 موبائل فونز سے محروم ہوگئے۔

    سی پی ایل سی کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے 11 ماہ کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں سے مجموعی طور پر شہریوں کو ایک ہزار 917 گاڑیوں سے محروم کر دیا گیا، جس میں 215 گاڑیاں چھینی جب کہ 1702 گاڑیاں چوری کرلی گئیں۔
    گزشتہ 11 ماہ کے دوران مجموعی طور پر شہریوں کو 47 ہزار 148 موٹر سائیکلوں سے ہاتھ دھونا پڑا، جس میں 4145 موٹر سائیکلیں چھینی جبکہ 43 ہزار 3 موٹر سائیکلوں کو چوری کرلیا گیا۔
    اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کے دوران شہر کے مختلف علاقوں سے مجموعی طور پر 23 ہزار 124 موبائل فونز شہریوں سے چھین لیے گئے، رواں سال کے 11 ماہ کے دوران اغوا برائے تاوان کے 15 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ بھتہ خوری کے بھی 23 واقعات سامنے آئے ، شہر میں جاری قتل و غارت گری کے واقعات میں مجموعی طور پر 442 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جبکہ رواں سال کے دوران بینک ڈکیتی کی 2 وارداتیں رونما ہوئیں۔
    نئے کراچی پولیس چیف عمران یعقوب منہاس نے رواں سال مئی میں اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا اور اس موقع پر انھوں نے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا تاہم ان کی تعیناتی کے 7 ماہ کے دوران شہری مجموعی طور پر 1281 گاڑیوں ، 30 ہزار 669 موٹر سائیکلوں اور 14 ہزار 953 موبائل فونز سے محروم کر دیئے جب کہ اسی دوران شہر کے مختلف علاقوں میں ڈاکوؤں نے مزاحمت پر درجنوں شہریوں کو نہ صرف مزاحمت پر فائرنگ کر کے زخمی کر دیا بلکہ کئی شہریوں کو ابدی نیند بھی سلا دیا۔
    ترجمان کراچی پولیس کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر ملزمان کی گرفتاریوں کے دعوؤں کے باوجود شہر میں اسٹریٹ کرائمز ، دکانوں میں گھس کر اسلحے زور پر لوٹ مار ، گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں اور موبائل فونز چھیننے کی وارداتیں عروج پر رہیں جس سے پولیس کی کارکردگی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

  • کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    کراچی: شہر کے مختلف علاقوں میں زلزلے کےجھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔ زلزلے کے جھٹکے ملیر، صدر، شاہ فیصل کالونی، گلشن حدید، قائدآباد ، گلستان جوہر ، پہلوان گوٹھ، سعدی ٹاون، گلشن حدید اور گڈاپ میں محسوس کئے گئے۔ زلزلے سے ابتدائی طور پر کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    محکمہ موسمیات کے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کے جھٹکے رات 10 بج کر 16 منٹ پر محسوس کئے گئے، زلزلے کا مرکز ڈی ایچ اے کراچی سے 15 کلومیٹر شمال میں تھا، جب کہ اس کی گہرائی 15 کلومیٹر اور شدت ریکٹر اسکیل پر 4.1 ریکارڈ کی گئی ہے۔

  • بلاتفریق رنگ و نسل اور مذہب انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانا اولین ترحیح ہے : سریندر ولاسائی

    بلاتفریق رنگ و نسل اور مذہب انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانا اولین ترحیح ہے : سریندر ولاسائی

    کراچی : وزیر اعلی سندھ کے معاون خصوصی برائے انسانی حقوق سریندر ولاسائی نے کہا ہے کہ بلاتفریق رنگ و نسل اور مذہب ہر فرد کو انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانا سندھ حکومت کی اولین ترحیح ہے۔ یہ بات انہوں نے محکمہ انسانی حقوق کے زیر انتظام عالمی یوم انسانی حقوق کی مناسبت سے منعقدہ تقریری مقابلے کے شرکاسے گفتگو کے دوران کہی۔
    سریندر ولاسائی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سندھ کمیشن آن دی اسٹیٹس آف وومن اور سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی قائم کی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں سے تعلیم حاصل کی اس کالج میں بحیثیت مہمان خصوصی آنا ان کے لیے باعث فخر ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ ایس ایم سائنس کالج کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کی بنیاد بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے ہاتھوں سے رکھی گئی۔
    اس ضمن میں کالج کی بلڈنگ کو نیشنل ہیریٹیج ڈکلیئرڈ کروانے کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اس سے قبل "مہذب معاشرے میں انسانی حقوق کا کردار” کے عنوان پر طلبہ و طالبات نیاردو، سندھی اور انگریزی زبان میں تقریر کیں۔ اس تقریری مقابلے میں کراچی کے مختلف سرکاری اسکولز اور کالجز کے 50 سے زائد طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ تقریب میں صوبائی ہیومن رائٹس ویجیلینس کمیٹی کے ممبران ایوب کھوسہ، قیصر نظامانی ، ڈاکٹر راکیش موتیلانی، پرنسپل ایس ایم سائنس کالج بیم راج کالانی، سابق پرنسپل ایس ایم سائس کالج حافظ فصیح نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ آخر میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات میں سرٹیفیکیٹ تقسیم کئے گئے

  • تحریک انصاف کی آل اسٹیک ہولڈرز کانفرنس کیلئے سیاسی،سماجی تنظیموں سے رابطے تیز

    تحریک انصاف کی آل اسٹیک ہولڈرز کانفرنس کیلئے سیاسی،سماجی تنظیموں سے رابطے تیز

    کراچی : پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر خرم شیر زمان کی سربراہی میں وفد نے گزشتہ روز نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹریز (نکاٹی) کا دورہ کیا اس موقع پر خرم شیر زمان نے نکاٹی ممبران کو آل اسٹیک ہولڈرز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی، ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کو کالے قانون کے خلاف ایک پیج پر لا رہے ہیں ترمیم کے بعد میئر کے پاس شہر کو چلانے کا کوئی نظام نہیں ہوگاایک غیر منتخب میئر شہر کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔
    اس موقع پر وفد میں اراکین اسمبلی سعید آفریدی، ریاض حیدر، ڈاکٹر عمران علی شاہ، سدرہ عمران، شہزاد قریشی، ڈاکٹر سیما ضیاء، پی ٹی آئی رہنما فراز لاکھانی، نواز مندوخیل، فضہ ذیشان، شیراز ناگانی موجود تھے،پی ٹی آئی رہنماء خرم شیرزمان نے نکاٹی ممبران کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پی پی نے نئے بلدیاتی بل میں مقامی حکومتوں کو بے اختیار کردیا ہے، ہمیں ہر صورت پیپلز پارٹی کو روکنا ہیاگر اس قانون کے تحت بلدیاتی انتخابات ہوئے تو مزید تباہی آئے گی، اس کالے قانون کے خلاف مہم میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر لائیں گیخرم شیر زمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے کہ ہم 4 سال یہی کہتے رہیں کہ ہمیں کرنا کیا ہے نکاٹی ممبران کے ہمارے موقف کو سراہا ہے،کاروباری برادری شہر کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں،شہر کے آنے والے میئر کے پاس ٹرانسپورٹ، پانی، بلڈنگ کنٹرول، صحت، تعلیم کا نظام نہیں ہوگا،ترمیمی بل کے اندر میئر چور دروازے سے سیکریٹ بیلٹ کے ذریعے آئے گاشہر کا میئر منتخب نہیں ہوگا،سندھ حکومت کی چھوٹی سوچ کی وجہ سے صوبے کا حال برا ہے،جو ڈیمانڈ ہم کررہے ہیں، وہ ہم نے اپنی صوبائی حکومتوں میں دیے ہیں دیگر صوبوں کے شہروں میں میئر با اختیار ہونگیہم نے نکاٹی کو آل اسٹیک ہولڈرز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے، سندھ میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے شہر کی بڑی بڑی سڑکیں وزیراعظم بنارہے ہیں کے سی آر وزیراعظم بنانے جارہے ہیں کووڈ کی ویکسین وزیراعظم نے دی،سندھ حکومت نے کیا کیا ہم اس کالے قانون کیخلاف یہاں آئین ہیں اس کالے قانون کے خلاف سب کو ایک ہونا ہوگا،پہلی مرتبہ اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لیا جارہا ہے دوسری جانب بلدیاتی آرڈیننس کیخلاف خرم شیر زمان کی سربراہی میں وفدآل پاکستان میمن فیڈریشن ایسوسیشن اور سربراہ پاکستان سنی تحریک ثروت اعجاز قادری سے ملاقات کیلئیپہنچا خرم شیر زمان نے رہنماؤں کو آل پاکستان اسٹیک ہولڈرز کانفرنس کی دعوت پیش کی اس موقع پر آل پاکستان میمن فیڈریشن ایسوسیشن کے صدر حنیف موٹلانی نے وفد کی آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں نہ سڑکیں صحیح ہیں،نہ یہاں کاروبار صحیح ہے، ہم کراچی کے مسائل کے حل کی بات کرتے ہیں، مئیر پہلے بھی بیاختار تھا آئندہ بھی بیاختار ہوگا، ہم کراچی کی بہتری کیلئے آواز اٹھانے والوں کا ساتھ دیں گے، عہدے آتے اور جاتے ہیں،ہمیں جواب رب کو دینا ہے، ایم پی ایز کو ہم نے منتخب کیا، چاہتے ہیں عوامی نمائندے کام کریں،ہم بلدیاتی قانون کو پڑھیں گی ۔
    ساتھ ہی ساتھ پی ٹی آئی رہنماء خرم شیرزمان نے سربراہ پاکستان سنی تحریک ثروت اعجاز قادری کو بلدیاتی ترمیمی آرڈیننس کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سنی تحریک کا کراچی میں اپنا اسٹیک و اہم کردار ہیسنی تحریک نے کراچی کے حق کیلئے شانہ بشانہ آواز بلند کی ہے، کراچی کی تمام جمہوریت پسند جماعتیں پی پی کے کالے قانون کے مخالف ہیں 12 دسمبر کو آل کراچی اسٹیک ہولڈرز کانفرنس میں پاکستان سنی تحریک کے سربراہ کی نمائندگی و ساتھ کی ضرورت ہے۔

    علاوہ ازیں پی ٹی آئی رہنماء خرم شیر زمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سندھ کابینہ کی فائننس کمیٹی کا اجلاس بیمعنی،صرف خانہ پوری کے کچھ نہیں، اجلاس میں اپنی اپنی کرپشن کی داستان ایک وزیر دوسرے وزیر کو سُنائیگا،بغیر اپوزیشن نمائندگان کے اہم اجلاس نہ دنیا میں کہیں دیکھینہ کہیں سنے گئے کابینہ کے اجلاس میں بات ہوگی کے کون کتنا بڑا نااہل وزیر ہے،اجلاس میں کرپشن کا نیا لائحہ عمل تیار کیا جائیگا،اپوزیشن کے کسی نمائندے کو اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی ممبرشب نہ دینے کے پیچھے کالی سوچ ہے، اجلاس میں کیا ہی اچھا ہو اگر پینشن، زکوٰة،ڈیسکوں کی خریداری،منی لانڈرنگ و دیگر پر بات کی جائے،سندھ کو لوٹ کر کھانے والے ظالم حکمرانوں کو عوام کبھی معاف نہیں کریں گیفائننس کمیٹی کا اجلاس ڈرامیبازی اور عوام کے دلوں پر نمک پاشی کے مترادف ہیہمیں یقین ہے ان اجلاسوں میں نہ پہلے عوامی مفاد کا سوچا گیا نہ آئیندہ سوچا جائے گا ۔

  • سراج درانی کی پروڈکشن آرڈر پر اسمبلی آمد، اجلاس کی صدارت

    سراج درانی کی پروڈکشن آرڈر پر اسمبلی آمد، اجلاس کی صدارت

    کراچی : سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا ہے کہ اسمبلی قوانین کے مطابق چلتی ہے کسی کو اعتراض ہے تو عدالت سے رجوع کیا جانا چاہیے، انہوں نے اپنے کیسز پر بات کرنے سے انکار کر دیا۔اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی فنانس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے پروڈکشن آرڈرز پر سندھ اسمبلی پہنچے اور اجلاس کی صدارت کی ۔
    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آغا سراج درانی نے کہا کہ وہ کیس سے متعلق ابھی کچھ بھی نہیں کہہ سکتے اور نہ کورٹ کے خلاف میں کوئی بات کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سندھ اسمبلی چلانے کا آئینی طریقہ کار ہے اسی پر چلتے ہیں، اگر اپوزیشن کو اعتراض ہے تو عدالتوں میں جائیں۔اسپیکر سندھ اسمبلی نے کہا کہ جب ہم نے کمیٹیوں کے الیکشن کرائے تو اپوزیشن نے شرکت نہیں کی، اب ان کے کمیٹیوں کے حوالے سے اعتراضات درست نہیں۔بلدیاتی ایکٹ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سراج درانی کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایکٹ ابھی پڑھا نہیں ہے