انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے رکن قومی اسمبلی علی وزیر و دیگر کیخلاف اشتعال انگیز تقریر سے متعلق مقدمے میں محسن داوڑ سمیت 4 ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا۔
کراچی سینٹرل جیل میں انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت کے روبرو رکن قومی اسمبلی علی وزیر و دیگر کیخلاف اشتعال انگیز تقریر سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی۔
عدالت نے محسن داوڑ سمیت چار ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا۔ مفرور قرار دیے گئے دیگر ملزمان میں محمد شفیع، ہدایت اللہ پشین اور دیگر شامل ہیں۔ عدالت نے چاروں مفرور ملزمان کا کیس داخل دفتر کردیا۔
عدالت میں مفرور ملزمان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی۔ چاروں مفرور ملزمان کے نام پر کوئی جائیداد نہیں ہے۔ رپورٹ مختیار کار سب ڈویژن کراچی، بلدیہ ٹاؤن، ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان اور ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان کیخلاف سہراب گوٹھ تھانے میں اشتعال انگیز تقریر کا کیس درج ہے۔ کیس میں علی وزیر گرفتار اور عدالتی ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔
Category: کراچی
-

کراچی میں دہشتگردی کے کیس میں محسن داوڑ، منظور پشتین اشتہاری قرار
-

عباسی شہید اسپتال کی انتظامیہ نے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب کو ماموں بنا دیا
عباسی شہید اسپتال انتظامیہ نے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب کو ماموں بنا دیا
کے ایم سی کے سب سے بڑے اسپتال عباسی شہید کا کرونا واڈ بند تالے لگا دیے گئے
کورونا کے نام پر کرپشن،،، عباسی شہید اسپتال میں کورونا کے مریضوں کیلئے خصوصی فنڈ کی منظوری
ایڈمنسٹریٹر کراچی سے کورونا وارڈز کے لیے 30 لاکھ روپے کی اضافی گرانٹ کی منظوری حاصل کرلی،
ایک طرف یہ تاثر ہےکہ ہسپتال میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ بتاتے ہوئے مریضوں کے علاج کے لیے فوری طور پر فنڈ کی ضرورت بتائی جارہی ہے
جبکہ دوسری طرف عباسی شہید اسپتال کا خصوصی کورونا وارڈ ختم کر کے تالے لگا دیے گئے
-

کراچی کے طلبا نے سستا اور جدید پورٹ ایبل انکیوبیٹر تیار کرلیا
شہر قائد کے طالب علموں نے سستا اور جدید انکیوبیٹر تیار کرلیا ہے، جس کی تجارتی بنیادوں پر تیاری سے پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں بڑی حد تک کمی لائی جاسکے گی۔
تفصیلات کے مطابق کے مطابق اس پروٹوٹائپ (عملی نمونہ) انکیو بیٹر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا آسان ہے، اور موبائل ایپلی کیشن Neox Care کی مدد سے انکیوبیٹر میں رکھے جانے والے بچے کی رئیل ٹائم نگرانی کے ساتھ ساتھ موبائل فون کے ذریعے مانیٹر اور کنٹرول کیا جاسکے گا۔
یہ کارنامہ عثمان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی شعبہ الیکٹریکل کےطلبا نے سر انجام دیا ہے۔ سید فاطمہ اعجاز، محمد احسن رضا، مرزا سمیر احمد اور عزیز ذاکر پر مشتمل طلبا کی 4 رکنی ٹیم نے اپنے اساتذہ انجینیئر ثنا سہیل اور انجینیئرعاطف فرید کی نگرانی میں جدید فیچرز سے آراستہ یہ پورٹ ایبل انکیوبیٹر تیار کیا ہے جو کم لاگت اور منفرد خصوصیات کی بنا پر پاکستان میں بچوں کی نگہداشت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
سستا اور پورٹ ایبل انکیوبیٹر بنانے والی ٹیم کی لیڈر سیدہ فاطمہ اعجاز نے ایکسپریس کو بتایا کہ ہماری ٹیم نے بچوں کی شرح اموات میں کمی لانے کے لیے مہنگے انکیوبیٹرز کی جگہ جدید اور کم لاگت کے انکیوبیٹرز بنانے کا فیصلہ کیا، یہ انکیوبیٹر خاص طور پر دور دراز اور پسماندہ علاقوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے جسے کمرشل بنیادوں پر 25 سے 30 ہزار روپے میں تیار کیا جاسکتا ہے۔
فاطمہ اعجاز کے مطابق اس انکیوبیٹر کی سب سے بڑی خوبی کم لاگت کے ساتھ اس کا پورٹ ایبل ہونا ہے، یعنی اسے آسانی کے ساتھ گاڑی، رکشہ اور ٹیکسی میں رکھ کر بھی ایک سے دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا ہے، جب کہ عام انکیوبیٹرز کے مقابلے میں طلبا کے تیار کردہ انکیوبیٹر میں ہلکی طاقت کی الٹراوائلٹ لائٹس نصب ہیں جو پیدائشی طورپر یرقان کا شکار بچوں کے علاج میں کارآمد ثابت ہوں گی۔
اس انکیوبیٹر کے ذریعے بچوں کے دل کی دھڑکن، آکسیجن کے لیول، انکیوبیٹر کے اندر نمی کے تناسب (ہیومیڈیٹی)، درجہ حرارت اور آکسیجن کی مقدار کو کنٹرول اور مانیٹر کیا جاسکتا ہے۔ انکیوبیٹر میں دو الگ الگ طرح کے سینسرز لگائے گئے ہیں جن میں سے ایک دل کی دھڑکن اور خون میں آکسیجن کی مقدار کی نگرانی کرے گا جب کہ دوسرا سینسر درجہ حرارت اورنمی کے تناسب کی نگرانی کرے گا۔
یہ تمام پیرامیٹرز وائر لیس ڈیٹا کمیونی کیشنز کی مدد سے کسی بھی جگہ سے بیٹھ کر کنٹرول اور مانیٹر کیے جاسکتے ہیں۔ انکیوبیٹر کو کنٹرول اور مانیٹر کرنے کے لیے ایک خصوصی ایپلی کیشن تیار کی گئی ہے جس کی مدد سے ان پیرامیٹرز کو رئیل ٹائم بنیادوں پر کنٹرول اور مانیٹر کیا جاسکتا ہے۔
موبائل ایپلی کیشن میں انکیوبیٹر میں رکھے جانے والے بچوں کا مکمل ریکارڈ رکھنے کے ساتھ بیک وقت کئی انکیوبیٹرز کو مانیٹراور کنٹرول کرنے کی بھی صلاحیت ہوگی جس سے بچوں کی نگہداشت پر مامور عملے اور ڈاکٹروں کے لیے آسانی پیدا ہوگی، کسی ہنگامی صورت یا پیرامیٹرز میں غیرمعمولی تبدیلی آنے پر ایپلی کیشن ہنگامی الرٹ بھی جاری کرے گی تاکہ کسی ہنگامی صورت حال سے فوری نمٹا جاسکے۔
فاطمہ اعجازکا کہنا ہے کہ انکیوبیٹر کے ہیلتھ پیرامیٹرز کی جانچ کے لیے طبی ماہرین کی مدد اور مشاورت سے کوالٹی ٹیسٹنگ کی ہے جس کے بے حد اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔ ہم نے اسپتالوں میں موجود انکیو بیٹرز کے ساتھ اس انکیوبیٹر کا موازنہ بھی کیا جو کافی حد تک درست رہا۔ اس سارے عمل میں طبی ماہرین کی مشاورت بھی شامل رہی جنہوں نے اس انکیوبیٹرکی خصوصیات کو سراہا اور نتائج کو بہترین قرار دیا۔
فاطمہ اعجاز نے بتایا کہ انکیوبیٹر کا آزمائشی نمونہ پہلے مرحلے میں تھا، دوسرے مرحلے میں اس کو اور زیادہ پورٹ ایبل بنایا جائے گا، تاہم دوسرے مرحلے کے لیے ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ (آر اینڈ ڈی) فنڈ پہلی ترجیح ہے۔ اس مرحلے میں انکیو بیٹر کو بیٹری بیک اپ سے لیس کیا جائے گا جو 20 سے 25 گھنٹے کا بیک اپ فراہم کرے گااور ایسے علاقے جہاں لوڈ شیڈنگ کی شرح زیادہ ہے وہاں بجلی کے تعطل کے دوران بھی انکیوبیٹرمیں رکھے بچے کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ اسپتالوں میں استعمال ہونے والے انکیوبیٹرز کی قیمت کم از کم 3 سے 9 لاکھ روپے تک ہوتی ہے، مہنگے ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنا دشوار ہوتا ہے۔ ان دونوں بنیادی چیلنجز کی وجہ سے ملک کے دور دراز علاقوں کے اسپتالوں میں یہ سہولت میسر نہیں ہوتی، جب کہ پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی بلند شرح اموات بھی پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں ریکارڈ کی جاتی ہے جہاں علاج کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی شرح اموات مسلسل بڑھ رہی ہے۔ -

حکومت سندھ کے گندم ریلیز کرنے کے بعد سے آٹے کی قیمتوں میں نمایاں کمی سامنے آئیگی، مکیش کمار چاو لہ
صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و انسداد منشیات اور پارلیمانی امور و خوراک مکیش کمار چاو لہ نے گورنر سندھ ڈاکٹر عمران اسماعیل کے سندھ میں آٹے کی قیمتوں پر بیان کو ان کی لاعلمی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے حکومت سندھ اکتوبر کے آخر میں گندم ریلیز کرتی ہے اور امید ہے کہ گندم کے ریلیز ہوتے ہی سندھ میں آٹے کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔
انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ آج بھی پنجاب میں ایک کلو گرام آٹا 75 روپے کا فروخت ہورہا ہے جبکہ گندم کے حساب سے پنجاب میں سب سے زیادہ گندم پیدا ہوتی ہے۔ صوبائی وزیر برائے خوراک مکیش کمار چاو لہ نے کہا کہ گورنر سندھ صاحب نے بغیر معلومات حاصل کئے بغیر اپنے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے حکومت سندھ کے خلاف بیان دے دیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے پاس اپنے عوام کی ضرورت کے مطابق گندم وافر مقدار میں موجود ہے۔صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و انسداد منشیات اور پارلیمانی آمور و خوراک مکیش کمار چاو لہ نے کہا کہ جہاں تک مہنگائی کی بات ہے تو چینی، پٹرول اور دیگر اشیاخوردونوش کی قیمتیں تو وفاقی حکومت کا شعبہ ہے کیا اس نے ان اشیاکی قیمتیں کنٹرول کر رکھی ہیں۔ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے لیکن وفاقی حکومت کو غریب عوام کی حالت زار سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
-

کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن کے وفد کی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ سے ملاقات
کیمبرج اسیسمنٹ انٹرنیشنل ایجوکیشن کی پاکستان کے لیے کنٹری ڈائریکٹر عظمی خان کی سربراہی میں تین رکنی وفد نے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ سے ان کے آفیس میں ملاقات کی اور دو طرفہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا. اس موقع پر کیمبرج وفد نے وزیر تعلیم کو بتایا کہ پورے ملک میں 730 اسکولز جبکہ صرف کراچی میں 200 اور پورے سندھ میں 230 اسکولز کیمبرج ایحوکیشن سسٹم اپنائے ہوئے ہیں.ملاقات میں محکمہ تعلیم کے حالیہ اقدامات, کریکیولم اور محکمہ تعلیم کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں ایشین ڈولپمنٹ بینک کے تعاون سے جاری انگلش میڈیم اسکولز کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی.
اس موقع پر وزیر تعلیم سید سردار علی شاھ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے سنگل نیشنل کریکیولم کا معاملا دراصل 2018 کی کہانی ہے کیونکہ یہ انکا الیکشن مینیفسٹو تھا. انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے دو ٹاسک فورسز بنائی گئی ہیں جو کہ اصل میں صوبائی سبجیکٹس ہیں. تعلیم اور سیاحت پر وفاقی حکومت کے ٹاسک فورس غیر آئینی ہیں. پاکستان ایک وفاق ہے اور یہاں صوبوں کی کثیرالجہتی اور مختلف ثقافتیں ہی دراصل ملک کے لیے خوبصورت وحدانیت کا مظہر ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنے بچوں کو اپنی تاریخی و ثقافتی پس منظر میں تعلیم دینی ہی, اور میں نے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود صاحب کو واضع کہہ دیا تھا کہ سندھی زبان پر سندھ کبھی سرینڈر نہیں کرے گا, ہم اردو سے بھی پیار کرتے ہیں لیکن اپنے بچوں کو انکی مادری زبان کی تعلیم کے حق سے محروم نہیں کرینگی. وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ 1972 میں سندھی لازمی زبان پڑھانے کا قانون پاس ہوا اور آج تک بہت سارے پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھی پڑھانے سے نالاں ہیں.
سید سردار علی شاہ نے کہا کہ سندھ سنگل نیشنل کریکیولم کو قبول نہیں کرتا, کیونکہ یہ ایک قسم کا نصابی مارشل لا ہے اور نصاب کا نفاذ نہیں ہوسکتا, انہوں نے کہا کہ ہم پھر بھی سنگل کریکیولم کے معاملے میں انگلش, سائنس اور میتھ کے مضامین پر غور کرسکتے ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ نئے اساتذہ کی بھرتیوں کے بعد انکی تربیت کے لیے نامور عالمی اداروں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں, اس سلسلے میں کیمبرج سسٹم کو بھی آگے بڑھنا چاہیے اور اس سلسلے میں اپنی تکنیکی مہارت سے ہمیں مستفیض کریں.
وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے اس موقع پر موجود ایڈیشنل سیکریٹری کریکیولم ڈاکٹر فوزیہ خان کو کیمبرج وفد کے ساتھ الگ اجلاس بلانے کی ہدایت کی جس میں صوبے میں کریکیولم پر کی جانے والی نظرثانی اور دیگر معاملات پر تفصیلی گفت و شنید کی جائے گی . -

درخواست ضمانت مسترد ہونے پر نیب کا سراج درانی کی گرفتاری کیلئے گھر پر چھاپا
احتساب بیورو (نیب) نے سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی کی گرفتاری کیلئے کراچی میں ان کے گھر پر چھاپا مارا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ سے درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد آغا سراج درانی کی گرفتاری کیلئے نیب ٹیم ان کی رہائشگاہ پہنچ گئی۔
ذرائع کے مطابق آغاسراج درانی کی گرفتاری کیلئے نیب نے دو خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔
دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ نے سراج درانی سمیت 9 ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کرنے کا تحریری فیصلے جاری کیا ہے۔
16 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس اقبال کلہوڑو نے تحریری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آغا سراج درانی کے آمدن اور اثاثوں میں فرق دستاویزات سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔
-

گرین لائن منصوبے کی مزید 40 بسیں آج کراچی پہنچیں گی
گرین لائن بس سروس کے لیے مزید 40 بسوں کی دوسری کھیپ آج کراچی پہنچے گی۔
ذرائع کے مطابق آئوی اوشین نامی جہاز آج صبح 11 بج کر 40 منٹ کراچی پورٹ پہنچے گا۔ گزشتہ ماہ 40 بسیں کراچی پہنچ چکی ہیں۔ وفاقی حکومت کے مطابق کراچی میں گرین لائن بس سروس کا آغاز آئندہ ماہ سے ہو جائے گا۔
پہلے مرحلے میں گرین لائن بس سرجانی سے نمائش تک چلائی جائے گی، بسیں مکمل ایئرکنڈیشنڈ ہوں گی جن میں 200 سے 250 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی، بس میں خواتین اور معذور افراد کے لیے نشستیں مختص ہوں گی۔
-

ملک بھر میں نابینا افراد کے لیے تشکیل کی گئی کسی پالیسی پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، مصطفی کمال
پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ملک بھر میں نابینا افراد کے لیے تشکیل کی گئی کسی پالیسی پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، نااہل اور کرپٹ حکومتیں معذور افراد کے کوٹے پر بھی جعلی بھرتیاں کررہی ہیں۔ ملک آٹو پہ چل رہا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ حکومتی بے حسی اور نااہلی نے آج معذور افراد کو بھی احتجاج پر مجبور کردیا ہے۔
پاک سر زمین پارٹی پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جو ناصرف ہر مظلوم کیساتھ کھڑی ہے، بلکہ اختیارات ملنے پر اب ٹھیک کردینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاک سر زمین پارٹی بینائی سے محروم افراد کے تمام مطالبات کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ بینائی سے محروم افراد کے مسائل کو فوری بنیادوں پر حل کیا جائے۔
5 فیصد آئینی کوٹے پر شفاف اور غیر جانبدارانہ عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلائنڈ ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نابینا افراد کے حقوق دیئے بغیر پاکستان فلاحی ریاست نہیں بن سکتا۔ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، اس صورتحال میں حکومت غریب اور خصوصا جسمانی طور پر کمزور افراد کا خیال کرے، معزور افراد کے کوٹے پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔ نابینا افراد حکومت کی جانب سے بہترین سلوک کے مستحق ہیں،حکمران اگر اس جانب توجہ دے تو نابینا افراد ملک و قوم کا اثاثہ ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ نابینا افراد میں بے پناہ صلاحیت ہوتی ہے جسے بروئے کار لا کر معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
حکومت ترجیحی بنیادوں پر نابینا افراد کے ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کرے۔ نوکریوں میں غیر مستقل آفراد کو مستقل کیا جائے۔ عمر رسیدہ اور ضرورت مندوں کا ماہانہ وظیفہ مقرر کیا جائے۔ معزور افراد کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں میں انہیں مکمل نمائندگی دی جائے تاکہ وہ اپنے مسائل حل کرنے کے لیے بااختیار ہوں۔ -

صوبائی وزیر سعید غنی نے منظور کالونی فرنیچر مارکیٹ میں فرنیچر سیل 50 فیصد تک کی افتتاحی تقریب کا افتتاح کردیا
صوبائی وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے منظور کالونی فرنیچر مارکیٹ میں 13 سے 17 اکتوبر تک لگائی جانے والی فرنیچر سیل 50 فیصد تک کی افتتاحی تقریب کا افتتاح کیا۔اس موقع پر چوہدری ذیشان شریف گجر جنرل سیکرٹری، ملک راشد، ملک اکرم چیئرمین، ایم اقبال و دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
صوبائی وزیر نے اس موقع پر مارکیٹ کا دورہ کیا اور سیل کے حوالے سے تفصیلات لیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس وقت مہنگائی کی صورتحال میں مارکیٹ کی جانب سے عوام کے لئے لگائی جانے والی سیل قابل ستائش ہے۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ اس طرح کی سیل سے جہاں غریب طبقہ کو فائدہ ہوگا وہاں متوسط اور سفید پوش طبقہ بھی اس سے مستفید ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت موجودہ نااہل اور نالائق سلیکٹیڈ حکمرانوں نے ملک کو بدترین معاشی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مارکیٹ کی انتظامیہ اور 200 سے زائد دکانداروں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اس صورتحال میں عوام کے لئے یہ سیل شروع کی ہے۔ -

سندھ اسمبلی گیٹ کے سامنے نابینا افراد کا دھرنا
سندھ اسمبلی گیٹ کے سامنے نابینا افراد کا دھرنا جاری ہے۔ سرکاری نوکریوں میں نظر انداز کرنے کے خلاف نابینا افراد نے روڈ بلاک کردیاہے۔ نابینا افراد نے ملازمتوں کیلئے سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کیا، مظاہرین نے سندھ اسمبلی میں جانے کی کوشش کی، مگر ناکامی پر نابینا افراد نے سندھ اسمبلی کے گیٹ کے سامنے دھرنا دے دیا۔
نابینا مظاہرین اندرون سندھ کے مختلف شہروں سے آئے ہیں۔ مظاہرین نے 5 فیصد معذور کوٹہ کے تحت ملازمتیں دینے کا مطالبہ کیا۔
پولیس نے نابینا افراد کو سندھ اسمبلی کے گیٹ پر روک دیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ڈی سی ساوتھ کی جانب سے مطالبات کے حوالے سے لولی پوپ دیا گیا، جب تک وزیر اعلی سندھ نہیں آئیں گے احتجاج جاری رہے گا۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ کافی عرصے سے نابینا افراد کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ ہم بھی پڑے لکھے ہیں ہمیں کیوں نظرانداز کیا جارہا ہے۔ نابینائوں کو سرکاری نوکریوں میں نظرانداز کیوں کیا جارہا ہے۔ جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہونگے ہمارا احتجاج جاری رہیگا۔ اگر ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوئے تو کل ہم سی ایم ہائوس پر دھرنا دینگے۔